الٓمّٓ
الف۔ل۔م۔
Al-'Ankabut
سورة العنكبوت
سورة العنكبوت
الٓمّٓ
الف۔ل۔م۔
اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَهُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ
کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ بس اِتنا کہنے پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ ”ہم ایمان لائے“ اور ان کو آزمایا نہ جائے گا؟1
جن حالات میں یہ بات ارشاد فرمائی گئی ہے وہ یہ تھے کہ مکہ ٔ معظمہ میں جو شخص اسلام قبول کرتا تھا اس پر آفات اور مصائب اور مظالم کا ایک طوفان ٹوٹ پڑتا تھا ۔ کوئی غلام یا غریب ہوتا تو اس کو بری طرح مارا پیٹا جاتا اور سخت ناقابل برداشت اذیتیں دی جاتیں۔ کوئی دوکاندار یا کاریگر ہوتا تو اس کی روزی کے دروازے بند کر دیے جاتے یہاں تک کہ بھوکوں مرنے کی نوبت آجاتی۔ کوئی کسی با اثر خاندان کا آدمی ہوتا تو اس کے اپنے خاندان کے لوگ اس کو طرح طرح سے تنگ کرتے اور اس کی زندگی اَجیرن کر دیتے تھے۔ ان حالات نے مکّے میں ایک سخت خوف اور دہشت کا ماحول پیدا کر دیا تھا جس کی وجہ سے بہت سے لوگ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے قائل ہو جانے کے باوجود ایمان لاتے ہوئے ڈرتے تھے ، اور کچھ لوگ ایمان لانے کے بعد جب دردناک اذیتوں سے دوچار ہوتے تو پست ہمت ہو کر کفار کے آگے گھٹنے ٹیک دیتے تھے۔ ان حالات نے اگرچہ راسخ الایمان صحابہ کے عزم و ثبات میں کوئِ تزلزل پیدا نہ کیا تھا، لیکن انسانی فطرت کے تقاضے سے اکثر ان پر بھی ایک شدید اضطراب کی کیفیت طاری ہو جاتی تھی۔ چنانچہ اسی کیفیت کا ایک نمونہ حضرت خَبّاب بن اَرَت کی وہ روایت پیش کرتی ہے جو بخاری، ابوداؤد اور نسائی نے نقل کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ جس زمانے میں مشرکین کی سختیوں سے ہم بری طرح تنگ آئے ہوئے تھے، ایک روز میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کی دیوار کے سائے میں تشریف رکھتے ہیں۔ میں نے حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ، آپ ہمارے لیے دعا نہیں فرماتے؟ یہ سُن کر آپ کا چہرہ جو ش اور جذبے سے سُرخ ہو گیا اور آپؐ نے فرمایا تم سے پہلے جو اہلِ ایمان گزر چکے ہیں ان پر اس سے زیادہ سختیاں توڑی گئی ہیں۔ ان میں سے کسی کو زمین میں گڑھا کھود کر بٹھایا جاتا اور اس کے سر پر آرہ چلا کر اس کے دو ٹکڑے کر ڈالے جاتے۔ کسی کے جوڑوں پر لوہ کے کنگھے گھسے جاتے تھے تا کہ وہ ایمان سے باز آجائے۔ خدا کی قسم، یہ کام پورا ہو کر رہے گا یہاں تک کہ ایک شخص صَنعاء سے حضر موت تک بے کھٹکے سفر کرے گا اور اللہ کے سوا کوئی نہ ہو گا جس کا وہ خوف کرے۔ اس اضطرابی کیفیت کو ٹھنڈے صبر و تحمل میں تبدیل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ اہلِ ایمان کو سمجھاتا ہے کہ ہمارے جو وعدے دنیا اور آخرت کی کامرانیوں کے لیے ہیں، کوئی شخص مجرّد زبانی دعوائے ایمان کر کے ان کا مستحق نہیں ہو سکتا ، بلکہ ہر مدعی کو لازماً آزمائشوں کی بھٹی سے گزرنا ہو گا تا کہ وہ اپنے دعوے کی صداقت کا ثبوت دے۔ ہماری جنت اِتنی سستی نہیں ہے ، اور نہ دنیا ہی میں ہماری خاص عنایات ایسی ارزاں ہیں کہ تم بس زبان سے ہم پر ایمان لانے کا اعلان کرو اور ہم وہ سب کچھ تمہیں بخش دیں۔ ان کے لیے تو امتحان شرط ہے۔ ہماری خاطر مشقتیں اُٹھانی ہوں گی۔ جان و مال کا زیاں برداشت کرنا ہو گا۔ طر ح طرح کی سختیاں جھیلنی ہوں گی ۔ خطرات ، مصائب اورمشکلات کا مقابلہ کرنا ہو گا ۔ خوف سے بھی آزمائے جاؤگے اور لالچ سے بھی۔ ہر چیز جسے عزیز و محبوب رکھتے ہو، ہماری رضا پر اسے قربان کرنا پڑے گا، اور ہر تکلیف جو تمہیں ناگوار ہے ، ہمارے لیے برداشت کرنہ ہو گی۔ تب کہیں یہ بات کھلے گی کہ ہمیں ماننے کا جو دعویٰ تم نے کیا تھا وہ سچا تھا یا جھوٹا۔ یہ بات قرآن مجید میں ہر اُس مقام پر کہی گئی ہے جہاں مصائب و شدائد کے ہجوم میں مسلمانوں پر گھبراہٹ کا عالم طاری ہُوا ہے۔ ہجرت کے بعد مدینے کی ابتدائی زندگی میں جب معاشی مشکلات، بیرونی خطرات ، اور یہود و منافقین کی داخلی شرارتوں نے اہلِ ایمان کو سخت پریشان کر رکھا تھا، اس وقت فرمایا: اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوْ ا الْجَنَّۃَ وَلَمَّا یَاْتِکُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْ ا مِنْ قَبْلِکُمْ ، مَّسَّتْہُمُ الْبَاْ سَآ ءُ وَالضَّرَّآءُ وَزُلْزِ لُوْا حَتّٰی یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ مَتٰی نَصْرُ اللہِ ط اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللہِ قَرِیْب ٌo کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ ابھی تم پر وہ حالات نہیں گزرے جو تم سے پہلے گزرے ہوئے (اہلِ ایمان) پر گزر چکے ہیں؟ ان پر سختیاں اور تکلیفیں آئیں اور وہ بلا مارے گئے۔ یہاں تک کہ رسول اور اور اس کے ساتھ ایمان لانے والے لوگ پکار اُٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی(تب انہیں مژدہ سنایا گیا) کہ خبر دار رہو ، اللہ کی مدد قریب ہے۔ اِسی طرح جنگِ اُحُد کے بعد جب مسلمانوں پر پھر مصائب کا ایک سخت دور آیا تو ارشاد ہوا: اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوْ ا الْجَنَّۃَ وَلَمَّا یَعْلَمِ اللہُ الَّذِیْنَ جَا ھَدُوْ ا مِنْکُمْ وَیَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ o کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ جنت میں داخل ہو جاؤ گے ، حالانکہ ابھی اللہ نے یہ تو دیکھا ہی نہیں کہ تم میں سے جہاد میں جان لڑانے والے اور پا مردی دکھانے والے کون ہیں؟ قریب قریب یہی مضمون سورۂ آلِ عمران ، آیت 179۔ سورۂ توبہ آیت1۶ اور سورۂ محمدؐ ، آیت 31 میں بھی بیان ہُوا ہے ۔ ان ارشادات سے اللہ تعالیٰ نے یہ حقیقت مسلمانوں کے ذہن نشین فرمائی ہے کہ آزمائش ہی وہ کسوٹی ہے جس سے کھوٹا اور کھرا پرکھا جاتا ہے ، کھوٹا خود بخود اللہ تعالیٰ کی راہ سے ہٹ جاتا ہے ، اور کھرا چھانٹ لیا جاتا ہے تا کہ اللہ کے اُن انعامات سے سرفراز ہو جو صرف صاد ق الایمان لوگوں کا ہی حصّہ ہیں۔
وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَلَیَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِیْنَ
یعنی یہ کوئی نیا معاملہ نہیں ہے جو تمہارے ساتھ ہی پیش آرہا ہو۔ تاریخ میں ہمیشہ یہی ہوا ہے کہ جس نے بھی ایمان کا دعویٰ کیا ہے اسے آزمائشوں کی بھٹی میں ڈال کر ضرور تپایا گیا ہے۔ اور جب دوسروں کو امتحان کے بغیر کچھ نہیں دیا گیا تو تمہاری کیا خصوصیت ہے کہ تمہیں صرف زبانی دعوے پر نواز دیا جائے۔
اصل الفاظ ہیں فَلَیَعْلَمَنَّ اللہُ ، جن کا لفظی ترجمہ یہ ہو گا ”ضرور ہے اللہ یہ معلوم کرے۔ اس پر ایک شخص یہ سوال کرتا ہے کہ اللہ کو تو سچے کی سچائی اور جھوٹے کا جھوٹ خود ہی معلوم ہے، آزمائش کر کے اسے معلوم کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جب تک ایک شخس کے اندر کسی چیز کی صرف صلاحیت اور استعداد ہی ہوتی ہے ، عملاً اس کا ظہور نہیں ہو جاتا ، اس وقت تک ازروئے عدل و انصاف نہ تو وہ کسی جزاء کا مستحق ہو سکتا ہے نہ سزا کا۔ مثلاً ایک آدمی میں امین ہونے کی صلاحیت ہے اور ایک دوسرے میں خائن ہونے کی صلاحیت۔ ان دونوں پر جب تک آزمائش نہ آئے اور ایک سے امانت داری کا اور دوسرے سے خیانت داری کا عملاً ظہور نہ ہو جائے ، یہ بات اللہ کے انصاف سے بعید ہے کہ وہ محض اپنے علمِ غیب کی بنا پر ایک کو امانت داری کا انعام دے دے اور دوسرے کو خیانت کی سزا دے ڈالے۔ اس لیے وہ علمِ سابق جو اللہ کو لوگوں کے اچھے اور بُرے اعمال سے پہلے اُن کی صلاحیتوں کے بارے میں اور اِن کے آئندہ طرزِ عمل کے بارے میں حاصل ہے ، انصاف کے اغراض کے لیے کافی نہیں ہے ۔ اللہ کے ہاں انصاف اِس علم کی بنیاد پر نہیں ہوتا کہ فلاں شخص چوری کا رحجان رکھتا ہے اور چورے کرے گا یا کرنے والا ہے، بلکہ اِس علم کی بنیاد پر ہوتا ہے کہ اس شخص نے چوری کر ڈالی ہے۔ اسی طرح بخششیں اور انعامات بھی اس کے ہاں اِس علم کی بنا پر نہیں دیے جاتے کہ فلاں شخص اعلیٰ درجے کا مومن و مجاہد بن سکتا ہے یا بنے گا، بلکہ اِس علم کی بنا پر دیے جاتے ہیں کہ فلاں شخص نے اپنے عمل سے اپنا صادق الایمان ہونا ثابت کر دیا ہے اور اللہ کی راہ میں جان لڑا کر د کھا دی ہے۔ اسی لیے ہم نے آیت کے ان الفاظ کا ترجمہ ”اللہ کو تو ضرور یہ دیکھنا ہے“ کیا ہے۔
اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّسْبِقُوْنَا ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ
اس سے مراد اگرچہ تمام وہ لوگ ہو سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانیاں کرتے ہیں، لیکن یہاں خاص طور پر روئے سخن قریش کے اُن ظالم سرداروں کی طرف ہے جو اسلام کی مخالفت میں اور اسلام قبول کرنے والوں کو اذیتیں دینے میں اُس وقت پیش پیش تھے۔ مثلاً وَلِید بن مُغِیرہ، ابو جہل، عُتبَہ، شَیبہ، عُقْبہ بن ابی مُعَیط، اور حَنظلہ بن دائِل وغیرہ سِیاق و سباق خود یہاں تقاضا کر رہا ہے کہ مسلمانوں کو آزمائشوں کے مقابلے میں صبر و ثبات کی تلقین کرنے کے بعد ایک کلمۂ زجر و توبیخ اُن لوگوں کو خطاب کر کے بھی فرمایا جائے جو ان حق پرستوں پر ظلم ڈھا رہے تھے۔
یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ ”ہماری گرفت سے بچ کر کہیں بھاگ سکیں گے۔“ اصل الفاظ ہیں یَسْبِقُوْنَا یعنی ہم سے سبقت لے جائیں گے۔ اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ جو کچھ ہم کرنا چاہتے ہیں (یعنی اپنے رسول کے مشن کی کامیا بی) وہ تو نہ ہو سکے اور جو کچھ یہ چاہتے ہیں( یعنی ہمارے رسول کو نیچا دکھانا ) وہ ہو جائے ۔ دوسرا یہ کہ ہم ان کی زیادتیوں پر انہیں پکڑنا چاہتے ہوں اور یہ بھاگ کر ہماری دست رس سے دور نکل جائیں۔
مَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ اللّٰهِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ لَاٰتٍ ؕ وَهُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ
یعنی جو شخص حیاتِ اخروی کا قائل ہی نہ ہو اوور یہ سمجھتا ہو کہ کوئی نہیں ہے جس کے سامنے ہمیں اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی ہو اور کوئی وقت ایسا نہیں آنا ہے جب ہم سے ہمارے کارنامۂ زندگی کا محاسبہ کیا جائے ، اس کا معاملہ تو دوسرا ہے۔ وہ اپنی غفلت میں پڑا رہے اور بے فکری کے ساتھ جو کچھ چاہے کرتا رہے۔ اپنا نتیجہ اپنے اندازوں کے خلاف وہ خود دیکھ لے گا۔ لیکن جو لوگ یہ توقع رکھتے ہیں کہ ایک وقت ہمیں اپنے خدا کے حضور حاضر ہونا ہے اور اپنے اعمال کے مطابق جزا و سزا بھی پانی ہے، انہیں اِس غلط فہمی میں نہ رہنا چاہیے کہ موت کا وقت کچھ بہت دور ہے۔ ان کو تو یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ بس قریب ہی آلگا ہے اور عمل کی مہلت ختم ہوا ہی چاہتے ہے۔ اس لیے جو کچھ بھی وہ اپنی عاقبت کی بھلائی کے لیے کر سکتے ہوں کر لیں۔ طولِ حیات کے بے بنیاد بھروسے پر اپنی اصلاح میں دیر نہ لگائِں۔
یعنی اُن کو اس غلط فہمی میں بھی نہ رہنا چاہیے کہ ان کا سابقہ کسی شِہ بے خبر سے ہے۔ جس خدا کے سامنے انہیں جواب دہی کے لیے حاضر ہونا ہے وہ بے خبر نہیں بلکہ سمیع و علیم خدا ہے، ان کی کوئی بات بھی اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔
وَمَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا یُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ
”مجاھدہ“ کے معنی کسی مخالف طاقت کے مقابلہ میں کشمکش اور جدو جہد کرنے کے ہیں، اور جب کسی خاص مخالف طاقت کی نشان دہی نہ کی جائے بلکہ مطلقًا مجاھدہ کا لفظ استعمال کیا جائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ ایک ہمہ گیر اور ہر جہتی کش مکش ہے۔ مومن کو اِس دنیا میں جو کش مکش کرنی ہے اس کی نوعیت یہی کچھ ہے۔ اسے شیطان سے بھی لڑنا ہے جو اس کو ہر آن نیکی کے نقصانات سے ڈراتا اور بدی کے فائدوں اور لذتوں کا لالچ دلاتا رہتا ہے۔ اپنے نفس سے بھی لڑنا ہے جو اسے ہر وقت اپنی خواہشات کا غلام بنانے کے لیے زور لگاتا رہتا ہے۔ اپنے گھر سے لے کر آفاق تک کے اُن تمام انسانوں سے بھی لڑنا ہے جن کے نظریات، رُحْجانات ، اُصُولِ اخلاق، رسم و رواج، طرز تمدّن اور قوانینِ معیشت و معاشرت دینِ حق سے متصادم ہوں۔ اور اُس ریاست سے بھی لڑنا ہے جو خدا کی فرمانبرداری سے آزاد رہ کر اپنا فرمان چلائے اور نیکی کے بجائے بدی کو فروغ دینے میں اپنی قوتیں صرف کرے۔ یہ مجاہدہ ایک دن دو دن کا نہیں عمر بھر کا ، اور چوبیس گھنٹوں میں سے ہر لمحہ کا ہے۔ اور کسی ایک میدان میں نہیں زندگی، کے ہر پہلو میں ہر محاذ پر ہے۔ اسی کے متعلق حضرت حسن بصری فرماتے ہیں ان الرجل لیجاھد و ما ضرب یو ما من الدھر بسیف۔ ”آدمی جہاد کرتا ہے خوا ہ کبھی ایک دفعہ بھی وہ تلوار نہ چلائے۔“
یعنی اللہ تعالیٰ اِ س مجاہدہ کا مطالبہ تم سے اس لیے نہیں کر رہا ہے کہ اپنی خدائی قائم کرنے اور قائم رکھنے کے لیے اسے تمہاری کسی مدد کی ضرورت ہے اور تمہاری کسی مدد کی ضرورت ہے اور تمہاری اس لڑائی کے بغیر اس کی خدائی نہ چلے گی۔ بلکہ وہ اس لیے تمہیں اس کش مکش میں پڑنے کی ہدایت کرتا ہے کہ یہی تمہاری ترقی کا راستہ ہے۔ اسی ذریعہ سے تم بدی اور گمراہی کے چکر سے نکل کر نیکی اور صداقت کی راہ پر بڑھ سکتے ہو۔ اسی سے تم میں یہ طاقت پیدا ہو سکتی ہے کہ دنیا میں خیر و صلاح کے علمبردار اور آخرت میں خدا کی جنت کے حق دار بنو۔ تم یہ لڑائی لڑ کر خدا پر کوئی احسان نہ کرو گے ، اپنا ہی بھلا کر و گے۔
وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَلَنَجْزِیَنَّهُمْ اَحْسَنَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ
اور جو لوگ ایمان لائیں گے اور نیک اعمال کریں گے اُن کی برائیاں ہم ان سے دُور کر دیں گے اور انہیں اُن کے بہترین اعمال کی جزا دیں گے۔10
ایمان سے مراد ان تمام چیزوں کو سچے دل سے ماننا ہے جنہیں تسلیم کرنے کی دعوت اللہ کے رسول اور اس کی کتاب نے دی ہے۔ اور عمل صالح سے مراد اللہ اور اس کے رسول کی ہدایت کے مطابق عمل کرنا ہے۔ دل و دماغ کا عملِ صالح یہ ہے کہ آدمی کی فکر اور اس کے خیالات اور ارادے درست اور پاکیزہ ہوں ۔ زبان کا عمل صالح یہ ہے کہ آدمی برائی پر زبان کھولنے سے بچے اور جو بات بھی کرے حق و انصاف اور راستی کے مطابق کرے۔ اور اعضا و جوارح کا عمل صالح یہ ہے کہ آدمی کی پوری زندگی اللہ کی اطاعت و بندگی میں ، اور اس کے احکام و قوانین کی پابندی میں بسر ہو۔ اس ایمان و عمل صالح کے دو نتیجے بیان کیے گئے ہیں: ایک یہ کہ آدمی کی برائیاں اس سے دور کر دی جائیں گی۔ دوسرا یہ کہ اس کے بہترین اعمال کی، اور اس کے اعمال سے بہتر جزا دی جائے گی۔ برائیاں دور کرنے سے مراد کئی چیزیں ہیں۔ ایک یہ کہ ایمان لانے سے پہلے آدمی نے خواہ کیسے ہی گناہ کیے ہوں، ایمان لاتے ہی وہ سب معاف ہو جائیں گے۔ دوسرے یہ کہ ایمان لانے کے بعد آدمی نے بغاوت کے جذبے سے نہیں بلکہ بشری کمزوری سے جو قصور کیے ہوں، اس کے نیک اعمال کا لحاظ کر کے اُن سے در گزر کیا جائے گا۔ تیسرے یہ کہ ایمان و عمل صالح کی زندگی اختیار کرنے سے آدمی کے نفس کی اصلاح آپ سے آپ ہو گی اور اس کی بہت سی کمزوریاں دور ہو جائیں گی۔ ایمان و عمل صالح کی جزاء کے متعلق جو فقرہ ارشاد فرمایا گیا ہے وہ ہے لَنَجْزِ یَنَّھُمْ اَحْسَنَ الَّذِیْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۔ اس کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی کے نیک اعمال میں سے جو اعمال سب سے زیادہ اچھے ہوں گے ان کو ملحوظِ خاطر رکھ کر اس کے لیے جزا تجویز کی جائے گی۔ دوسرے یہ کہ آدمی اپنے عمل کے لحاظ سے جتنی جزاء کا مستحق ہو گا، اس سے زیادہ اچھی جزاء اُسے دی جائے گی۔ یہ بات دوسرے مقامات پر بھی قرآن میں فرمائی گئی ہے۔ مثلاً سورۂ انعام میں فرمایا مَنْ جَآءَ بِا الْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَا لِھَا (آیت1۶۰) ۔ ” جو نیکی لے کر آئے گا اس کو اس سے دس گنا اجر دیا جائے گا۔“ اور سورۂ قَصص میں فرمایا مَنْ جَآءَ بِا الْحَسَنَۃِ فَلَہٗ خَیْرٌ مِّنْھَا (آیت 84)۔ ” جو شخص نیکی لے کر آئیگا اس کو اس سے بہتر اجر دیا جائے گا۔“ اور سورۂ نساء میں فرمایا اِنَّ اللہَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ وَّاِنْ تَکُ حَسَنَۃٌ یُّضَا عِفْھَا (آیت 4۰)۔ ”اللہ ظلم تو ذرہ برابر نہیں کرتا ، اور اگر نیکی ہو تو اس کو کئی گنا بڑھاتا ہے۔“
وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ حُسْنًا ؕ وَاِنْ جَاهَدٰكَ لِتُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا ؕ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ
اس آیت کے متعلق مسلم ، ترمذی، احمد، ابو داؤد، اور نَسائی کی روایت ہے کہ یہ حضرت سعد بن ابی وَقَّاص ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ وہ 19-18 سال کے تھے جب انہوں نے اسلام قبول کیا۔ ان کی ماں حَمْنَہ بنت سُفیان بن اُمَیَّہ (ابو سفیان کی بھتیجی) کو جب معلوم ہُوا کہ بیٹا مسلمان ہو گیا ہے تو اس نے کہا کہ جب تک تُو محمدؐ کا انکار نہ کرے گا میں نہ کھاؤں گی نہ پیوں گی، نہ سائے میں بیٹھوں گی ۔ ماں کا حق ادا کرنا تو اللہ کا حُکم ہے۔ تو میری بات نہ مانے گا تو اللہ کی بھی نافرمانی کرے گا۔ حضرت سعد اس پر سخت پریشان ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر ماجرا عرض کیا ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ممکن ہے کہ ایسے ہی حالات سے دوسرے وہ نوجوان بھی دوچار ہوئے ہوں جو مکہ معظمہ کے ابتدائی دور میں مسلمان ہوئے تھے۔ اسی لیے اس مضمون کو سورۂ لقمان میں بھی پورے زور کے ساتھ دوہرایا گیا ہے (ملاحظہ ہو آیت 15)۔ آیت کا منشا یہ ے کہ انسان پر مخلوقات میں سے کسی کا حق سب سے بڑھ کر ہے تو وہ اس کے ماں باپ ہیں، لیکن ماں باپ بھی اگر انسان کو شرک پر مجبور کریں تو ان کی بات قبول نہ کرنی چاہیے ، کجا کہ کسی اور کے کہنے پر آدمی ایسا کرے۔ پھر الفاظ یہ ہیں کہ وَاِنْ جَاھَدَ اکَ۔ ” اگر وہ دونوں تجھے مجبور کرنے کے لیے اپنا پورا زور بھی لگادیں۔“ اس سے معلوم ہوا کہ کم تر درجے کا دباؤ ، یا ماں باپ میں سے کسی ایک زور دینا تو بدرجہ اَولیٰ رد کر دینے کے لائق ہے۔ اس کے ساتھ مَا لَیْسَ لَکَ بِہ عِلْمٌ (جسے تو میرے شریک کی حیثیت سے نہیں جانتا) کا فقرہ بھی قابلِ غور ہے۔ اس میں اُن کی بات نہ ماننے کے لیے ایک معقول دلیل دی گئی ہے۔ ماں باپ کا یہ حق تو بے شک ہے کہ اولاد ان کی خدمت کرے ، ان کا ادب و احترام کرے، ان کی جائز باتوں میں ان کی اطاعت بھی کرے۔ لیکن یہ حق ان کو نہیں پہنچتا کہ آدمی اپنے علم کے خلاف ان کی اندھی تقلید کرے۔ کوئی وجہ نہیں ہے کہ ایک بیٹا یا بیٹی صرف اس بنا پر ایک مذہب کی پیروی کیے جائے کہ یہ اس کے ماں باپ کا مذہب ہے۔ اگر اولاد کو یہ علم حاصل ہو جائے کہ والدین کا مذہب غلط ہے تو اسے اس مذہب کو چھوڑ کر صحیح مذہب اختیار کرنا چاہیے اور ان کے دباؤ ڈالنے پر بھی اس طریقے کی پیروی نہ کرنی چاہیے جس کی گمراہی اس پر کھل چکی ہو۔ اور یہ معاملہ جب والدین کے ساتھ ہے تو پھر دنیا کے ہر شخص کے ساتھ بھی یہی ہونا چاہیے ۔ کسی شخص کی تقلید بھی جائز نہیں ہے جب تک آدمی یہ نہ جان لے کہ وہ شخص حق پر ہے۔
یعنی یہ دنیا کی رشتہ داریاں اور اِن کے حقوق تو بس اسی دنیا کی حد تک ہیں۔ آخر کار ماں باپ کو بھی اور اولاد کو بھی اپنے خالق کے حضور پلٹ کر جانا ہے ، اور وہاں ہر ایک کی باز پرس اس کی شخصی ذمہ داری کی بنیاد پر ہونی ہے۔ اگر ماں باپ نے اولاد کو گمراہ کیا ہے تو وہ پکڑے جائیں گے۔ اگر اولاد نے ماں باپ کی خاطر گمراہی قبول کی ہے تو اسے سزا ملے گی ۔ اور اگر اولاد نے راہ راست اختیار کی اور ماں باپ کے جائز حقوق ادا کرنے میں بھی کوتاہی نہ کی، لیکن ماں باپ نے صرف اس قصور پر اسے ستایا کہ اس نے گمراہی میں ان کا ساتھ کیوں نہ دیا، تو وہ اللہ کے مواخذے سے بچ نہ سکیں گے۔
وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِی الصّٰلِحِیْنَ
اور جو لوگ ایمان لائے ہوں گے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے ہوں گے اُن کو ہم ضرور صالحین میں داخل کریں گے
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ فَاِذَاۤ اُوْذِیَ فِی اللّٰهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللّٰهِ ؕ وَلَىِٕنْ جَآءَ نَصْرٌ مِّنْ رَّبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ ؕ اَوَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِمَا فِیْ صُدُوْرِ الْعٰلَمِیْنَ
لوگوں میں سے کوئی ایسا ہے جو کہتا ہے کہ ہم ایمان لائے اللہ پر۔13 مگر جب وہ اللہ کے معاملہ میں ستایا گیا تو اس نے لوگوں کی ڈالی ہوئی آزمائش کو اللہ کے عذاب کی طرح سمجھ لیا۔14 اب اگر تیرے ربّ کی طرف سے فتح و نصرت آگئی تو یہی شخص کہے گا کہ”ہم تو تمہارے ساتھ تھے“15 کیا دنیا والوں کےدلوں کا حال اللہ کو بخوبی معلوم نہیں ہے؟
کہنے والا ایک شخص ہے، مگر ”میں ایمان لایا“ کہنے کے بجائے کہہ رہا ہے ”ہم ایمان لائے۔“ امام رازی نے اس میں ایک لطیف نکتے کی نشاندہی کی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ منافق اپنے آپ کو ہمیشہ زمرۂ اہل ایمان میں شامل کرنے کی کی کوشش کرتا ہے اور اپنے ایمان کا ذکر اس طرح کرتا ہے کہ گویا وہ بھی ویسا ہی مومن ہے جیسے دوسرے ہیں۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بزدل اگر کسی فوج کے ساتھ گیا ہے اور اس فوج کے بہادر سپاہیوں نے لڑ کر دشمنوں کو مار بھگا دیا ہے ، تو چاہے اس نے خود کوئی کارنامہ انجام نہ دیا ہو ، مگر وہ آکر یوں کہے گا کہ ہم گئے اور ہم خوب لڑے اور ہم نے دشمن کو شکست فاش دے دی۔ گویا آپ بھی انہی بہادروں میں سے ہیں جنہوں نے داد شجاعت دی ہے۔
یعنی جس طرح اللہ کے عذاب سے ڈر کر کفر و معصیت سے باز آنا چاہیے ، یہ شخص بندوں کی دی ہوئی تکلیفوں سے ڈر کر ایمان اور نیکی سے باز آگیا۔ ایمان لانے کے بعد کفار کی دھمکیوں اور مار پیٹ اور قید و بند سے جب اسے سابقہ پیش آیا تو اس نے سمجھا کہ اللہ کی وہ دوزخ بھی بس اتنی ہی کچھ ہو گی جس سے مرنے کے بعد کفر کی پاداش میں سابقہ پیش آنا ہے۔ اس لیے اس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ عذاب تو بعد میں بھگت لوں گا، یہ نقد عذاب جو اَب مل رہا ہے اِس سے بچنے کے لیے مجھے ایمان چھوڑ کر پھر زمرۂ کفار میں جا ملنا چاہیے تا کہ دنیا کی زندگی تو خیریت سے گزر جائے۔
یعنی آج تو وہ اپنی کھال بچانے کےلیے کفاروں میں جا ملا ہے اور اہلِ ایمان کا ساتھ اس نے چھوڑ دیا ہے، کیونکہ دینِ حق کو فروغ دینے کے لیے وہ اپنی نکسیر تک پُھڑوانے کو تیار نہیں ہے ۔ مگر جب اِس دین کی خاطر سر دھڑ کی بازی لگا دینے والوں کو اللہ تعالیٰ فتح و کامرانی بخشے گا تو یہ شخص فتح کے ثمرات میں حصّہ بٹانے کے لیے آموجود ہو گا اور مسلمانوں سے کہے گا کہ دل سے تو ہم تمہارے ہی ساتھ تھے، تمہاری کامیابی کے لیے دعائیں مانگا کرتے تھے، تمہاری جانفشانیوں اور قربانیوں کی بڑی قدر ہماری نگاہ میں تھی۔ یہاں اتنی بات اور سمجھ لینی چاہیے کہ ناقابلِ برداشت اذیت یا نقصان ، یا شدید خوف کی حالت میں کسی شخص کا کلمۂ کفر کہہ کر اپنے آپ کو بچا لینا شرعًا جائز ہے بشرطیکہ آدمی سچے دل سے ایمان پر ثابت قدم رہے۔ لیکن بہت بڑا فرق ہے اُس مخلص مسلمان میں جو بحالتِ مجبوری جان بچانے کے لیے کفر کا اظہار کرے ، اور اُس مصلحت پر ست انسان میں جو نظریہ کے اعتبار سے اسلام ہی کو حق جانتا اور مانتا ہو مگر ایمانی زندگی کے خطرات و مہالک دیکھ کر کفار سے جا ملے۔ بظاہر ان دونوں کی حالت ایک دوسرے سے کچھ زیادہ مختلف نظر نہیں آتی۔ مگر در حقیقت جو چیز ان کے درمیان زمین و آسمان کا فرق کر دیتی ہے وہ یہ ہے کہ مجبوراً کفر ظاہر کرنے والا مخلص مسلمان نہ صرف عقیدے کے اعتبار سے اسلام کا گرویدہ رہتا ہے، بلکہ عملاً بھی اس کی دلی ہمدردیاں دین و اہل ِ دین کے ساتھ رہتی ہیں۔ ان کی کامیابی سے وہ خوش اور ان کو زک پہنچنے سے وہ بے چین ہو جاتا ہے۔ مجبوری کی حالت میں بھی وہ مسلمانوں کا ساتھ دینے کے ہر موقع سے فائدہ اُٹھاتا ہے ، اور اس تاک میں رہتا ہے کہ جب بھی اس پر سے اعدائے دین کی گرفت ڈھیلی ہو وہ اپنے اہلِ دین کے ساتھ جا ملے۔ اس کے بر عکس مصلحت پر ست آدمی جب دین کی راہ کٹھن دیکھتا ہے ، اور خوب ناپ تول کر دیکھ لیتا ہے کہ دینِ حق کا ساتھ دینے کے نقصانات کفار کے ساتھ جا ملنے کے فوائد سے زیادہ ہیں، تو وہ خالص عافیت اور منفعت کی خاطر دین اور اہلِ دین سے منہ موڑ لیتا ہے ، کفاروں سے رشتہ ٔ دوستی استوار کرتا ہے اور اپنے مفاد کی خاطر ان کی کوئی ایسی خدمت بجا لانے سے بھی باز نہیں رہتا جو دین کے سخت خلاف اور اہلِ دین کے لیے نہایت نقصان دہ ہو۔ لیکن اس کے ساتھ وہ اِس امکان سے بھی آنکھیں بند نہیں کر لیتا کہ شاید کسی وقت دینِ حق ہی کا بول بالا ہو جائے۔ اس لیے جب کبھی اسے مسلمانوں سے بات کرنے کا موقع ملتا ہے ، وہ ان کے نظریے کو حق ماننے اور ان کے سامنے اپنے ایمان کا اقرار کرنے اور راہِ حق میں ان کی قربانیوں کو خراجِ تحسین ادا کرنے میں ذرّہ برابر بُخل نہیں کرتا، تاکہ یہ زبانی اعترافات سند رہیں اور بوقتِ ضرورت کام آئیں۔ قرآن کریم ایک دوسرے موقع پر ان منافقین کی اسی سوداگرانہ ذہنیت کو یوں بیان کرتا ہے: اَلَّذِیْنَ یَتَرَ بَّصُوْنَ بِکُمْ فَاِنْ کَانَ لَکُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللہِ قَالُوْآ اَلَمْ نَکُنْ مَّعَکُمْ وَاِنْ کَانَ لِلْکَافِرِیْنَ نَصِیْبٌ قَالُوْآ اَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَیْکُمْ وَنَمْنَعْکُمْ مِّنَ الْمُؤْ مِنِیْنَ o (النساء۔ آیت141) ”یہ وہ لوگ ہیں جو تمہارے معاملے میں انتظار کرہے ہیں (کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے) ۔ اگر اللہ کی طرف سے فتح تمہاری ہوئی تو آکر کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے؟ اور اگر کافروں کا پلہ بھاری رہا تو ان سے کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے خلاف لڑنے پر قادر نہ تھے اور ہم نے پھر بھی تمہیں مسلمانو ں سے بچایا؟“
وَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ
اور اللہ کو تو ضرور یہ دیکھنا ہی ہے کہ ایمان لانے والے کون ہیں اور منافق کون۔16
یعنی اللہ آزمائش کے مواقع اسی لیے بار بار لاتا ہے تا کہ مومنوں کے ایمان اور منافقوں کے نفاق کا حال کھل جائے اور جس کے اندر جو کچھ بھی چھپا ہو ا ہے وہ سامنے آجائے۔ یہی بات سورۂ آل ِ عمران میں فرمائی گئی ہے کہ مَا کَانَ اللہُ لِیَذَرَ الْمُؤْ مِنِیْنَ عَلیٰ مَآ اَنْتُمْ عَلَیْہ حَتّٰی یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ (آیت 179)۔ ”اللہ مومنوں کو ہر گز اس حالت میں رہنے دینے والا نہیں ہے جس میں تم اِس وقت ہو (کہ صادق الایمان اور منافق سب ملے جلے ہیں)۔ وہ پاک لوگوں کو ناپاک لوگوں سے الگ نمایاں کر کے رہے گا۔“
وَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبِعُوْا سَبِیْلَنَا وَلْنَحْمِلْ خَطٰیٰكُمْ ؕ وَمَا هُمْ بِحٰمِلِیْنَ مِنْ خَطٰیٰهُمْ مِّنْ شَیْءٍ ؕ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ
ان کے اس قول کا مطلب یہ تھا کہ اول تو زندگی بعد موت اور حشر و نشر اور حساب و جزا ء کی یہ باتیں سب ڈھکوسلا ہیں۔ لیکن اگر بالفرض کوئی دوسری زندگی ہے اور اس میں کوئی باز پرس بھی ہونی ہے ، تو ہم ذمہ لیتے ہیں کہ خدا کے سامنے ہم سارا عذاب ثواب اپنی گردن پر لے لیں گے۔ تم ہمارے کہنے سے اس نئے دین کو چھوڑ دو اور اپنے دین آبائی کی طرف واپس آجاؤ۔ روایات میں متعدد سردارانِ قریش کے متعلق یہ مذکور ہے کہ ابتداءً جو لوگ اسلام قبول کرتے تھے ان سے مل کر یہ لوگ اسی طرح کی باتیں کیا کرتے تھے ۔ چنانچہ حضرت عمر ؓ کے متعلق بیان کیا گیا ہے کہ جب وہ ایمان لائے تو ابو سفیان اور حرب بن اُمیّہ بن خَلف نے ان سے مل کر بھی یہی کہا تھا۔
یعنی اول تو یہی ممکن نہیں ہے کہ کوئی شخص خدا کے ہاں کسی دوسرے کی ذمہ داری اپنے اوپر لے لے اور کسی کے کہنے سے گناہ کرنے والا خود اپنے گناہ کی سزا پانے سے بچ جائے، کیونکہ وہاں تو ہر شخص اپنے کیے کا آپ ذمہ دار ہے۔ لَا تَزِرُوَ ازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی۔ لیکن اگر بالفرض ایسا ہو بھی تو جس وقت کفر و شرک کا انجام ایک دھکتی ہوئی جہنم کی صورت میں سامنے آئے گا اس وقت کس کی یہ ہمت ہے کہ دنیا میں جو وعدہ اس نے کیا تھا اس کی لاج رکھنے کے لیے یہ کہہ دے کہ حضور، میرے کہنے سے جس شخص نے ایمان کو چھوڑ کر ارتداد کی راہ اختیار کی تھی، آپ اسے معاف کر کے جنت میں بھیج دیں، اور میں جہنم میں اپنے کفر کے ساتھ اس کے کفر کی سزا بھی بھگتنے کے لیے تیار ہوں۔
وَلَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ وَاَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ ؗ وَلَیُسْـَٔلُنَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ
یعنی وہ خدا کے ہاں اگرچہ دوسروں کا بوجھ تو نہ اٹھائیں گے ، لیکن دوہرا بوجھ اُٹھانے سے بچیں گے بھی نہیں۔ ایک بوجھ ان پر خود گمراہ ہونے کا لدے گا، اور دوسرا بوجھ دوسروں کو گمراہ کرنے کا بھی ان پر لادا جائے گا۔ اس بات کو یوں سمجھیے کہ ایک شخص خود بھی چوری کرتا ہے اور کسی دوسرے شخص سے بھی کہتا ہے کہ وہ اس کے ساتھ چوری کے کام میں حصہ لے۔ اب اگر وہ دوسرا شخص اس کے کہنے سے چوری کرے گا تو کوئی عدالت اسے اس بنا پر نہ چھوڑدے گی کہ اس نے دوسرے کے کہنے سے جرم کیا ہے۔ چوری کی سزا تو بہرحال اسے ملے گی اور کسی اصولِ انصاف کی رو سے بھی یہ درست نہ ہو گا کہ اسے چھوڑ کر اس کے بدلے کی سزا اس سے پہلے چور کو دے دی جائے جس نے اسے بہکا کر چوری کے راستے پر ڈالا تھا۔ لیکن وہ پہلا چور اپنے جرم کے ساتھ اِس جرم کی سزا بھی پائے گا کہ اس نے خود چوری کی سو کی، ایک دوسرے شخص کو بھی اپنے ساتھ چور بنا ڈالا۔ قرآن مجید میں ایک دوسرے مقام پر اس قاعدے کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: لِیَحْمِلُوْآ اَوْزَادَھُمْ کَا مِلَۃً یَّوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَمِنْ اَوْزَارِ الَّذِیْنَ یُضِلُّوْ نَھُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ (النحل۔ آیت 25)۔ ” تا کہ وہ قیامت کے روز اپنے بوجھ بھی پورے پورے اٹھائیں اور اُن لوگوں کے بوجھوں کا بھی ایک حصّہ اٹھائیں جن کو وہ علم کے بغیر گمراہ کرتے ہیں۔“ اور اسی قاعدے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں بیان فرمایا ہے کہ من دعا الیٰ ھدی کان لہ من الاجر مثل اجور من تبعہ لا ینقص ذٰلک من اجورھم شیًٔا و من دعا الیٰ ضلالۃ کان علیہ من الاثم مثل اٰثام من تبعہ لا ینقص ذٰلک من اٰثامھم شیًٔا۔ (مسلم) ”جس شخص نے راہِ راست کی طرف دعوت دی اس کو ان سب لوگوں کے اجر کے برابر اجر ملے گا جنہوں نے اس کی دعوت پر راہِ راست اختیار کی بغیر اس کے کہ اُن کے اجروں میں کوئی کمی ہو۔ اور جس شخص نے گمراہی کی طرف دعوت دی اس پر ان سب لوگوں کے گناہوں کے برابر گناہ ہو گا جنہوں نے اس کی پیروی کی بغیر اس کے کہ اُن کے گناہوں میں کوئی کمی ہو۔“
”افترا پردازیوں“ سے مراد وہ جھوٹی باتیں ہیں جو کفار کے اِس قول میں چھپی ہوئی تھیں کہ ”تم ہمارے طریقے کی پیروی کرو اور تمہاری خطاؤں کو ہم اپنے اوپر لے لیں گے۔“ دراصل وہ لوگ دو مفروضات کی بنیاد پر یہ بات کہتے تھے۔ ایک یہ کہ جس مذہبِ شرک کی وہ پیروی کر رہے ہیں وہ بر حق ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مذہبِ توحید غلط ہے، اس لیے اُس سے کفر کرنے میں کوئی خطا نہیں ہے۔ دوسرا مفروضہ یہ تھا کہ کوئی حشر نہیں ہونا ہے اور یہ حیاتِ اُخروی کا تخیّل ، جس کی وجہ سے ایک مسلمان کفر کرتے ہوئے ڈرتا ہے، بالکل بے اصل ہے۔ یہ مفروضات اپنے دل میں رکھنے کے بعد وہ ایک مسلمان سے کہتے تھے کہ اچھا اگر تمہارے نزدیک کفر کرنا ایک خطا ہی ہے ، اور کوئی حشر بھی ہونا ہے جس میں اِس خطا پر تم سے باز پرس ہو گی ، تو چلو تمہاری اس خطا کو ہم اپنے سر لیتے ہیں، تم ہماری ذمہ داری پر دینِ محمدؐ کو چھوڑ کر دینِ آبائی میں واپس آجاؤ۔ اس معاملہ میں پھر مزید دو جھوٹی باتیں شامل تھیں۔ ایک ان کا یہ خیا ل کہ جو شخص کسی کے کہنے پر جرم کرے وہ اپنے جرم کی ذمہ داری سے بَری ہو سکتا ہے اور اس کی پوری ذمہ داری وہ شخص اُٹھا سکتا ہے جس کے کہنے پر اس نے جرم کیا ہے۔ دوسرا ان کا یہ جھوٹا وعدہ کہ قیامت کے روز وہ اُن لوگوں کی ذمہ داری واقعی اُٹھا لیں گے جو ان کے کہنے پر ایمان سے کفر کی طرف پلٹ گئے ہوں۔ کیونکہ جب قیامت فی الواقع قائم ہو جائے گی اور ان کی امیدوں کے خلاف جہنّم ان کی آنکھوں کے سامنے ہو گی اُس وقت وہ ہر گز تیار نہ ہوں گے کہ اپنے کفر کا خمیازہ بھگتنے کے ساتھ اُن لوگوں کے گناہ کا بوجھ بھی پورا کا پورا اپنے اوپر لے لیں جنہیں وہ دنیا میں بہکا کر گمراہ کرتے تھے۔
وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰی قَوْمِهٖ فَلَبِثَ فِیْهِمْ اَلْفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمْسِیْنَ عَامًا ؕ فَاَخَذَهُمُ الطُّوْفَانُ وَهُمْ ظٰلِمُوْنَ
تقابل کے لیے ملاحظہ ہو آلِ عمران، آیات 34-33۔ النساء، 1۶3۔ الانعام، 84۔ الاعراف، 59 تا ۶4۔ یونس 73-71۔ ہود، 48-25۔ الانبیاء، 77-7۶۔ المومنون، 3۰-23۔ الفرقان، 37۔ الشعراء، 1۰5 تا 123۔ الصافات، 82-75۔ القمر 15-9۔ الحاقہ، 12-11۔ نوح ،مکمل۔ یہ قصّے یہاں جس مناسبت سے بیان کیے جارہے ہیں اس کو سمجھنے کے لیے سورہ کی ابتدائی آیات کو نگا ہ میں رکھنا چاہیے ۔ وہاں ایک طرف اہلِ ایمان سے فرمایا گیا ہے کہ ہم نے اُن سب اہلِ ایمان کو آزمائش میں ڈالا ہے جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں۔ دوسری طرف ظالم کافروں سے فرمایا گیا ہے کہ تم اس غلط فہمی میں نہ رہو کہ تم ہم سے بازی لے جاؤ گے اور ہماری گرفت سے بچ نکلو گے ۔ انہی دو باتوں کو ذہن نشین کرنے کےلیے یہ تاریخی واقعات بیان کیے جا رہے ہیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حضرت نوحؑ کی عمر ساڑھے نو سو سال تھی۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ نبوت کے منصب پر سرفراز ہونے کے بعد سے طوفان تک پورے ساڑھے نو سو برس حضرت نوحؑ اس ظالم و گمراہ قوم کی اصلاح کے لیے سعی فرماتے رہے ، اور اتنی طویل مدت تک ان کی زیادتیاں برداشت کرنے پر بھی انہوں نے ہمت نہ ہاری ۔ یہی چیز یہاں بیان کرنی مقصود ہے۔ اہل ِ ایمان کو بتایا جا رہا ہے کہ تم کو تو ابھی پانچ سات برس ہی ظلم و ستم سہتے اور ایک گمراہ قوم کی ہٹ دھرمیاں برداشت کرتے گزرے ہیں ۔ ذرا ہمارے اس بندے کے صبر و ثبات اور عزم و استقلال کو دیکھو جس نے مسلسل ساڑھے نو صدیوں تک ان شدائد کا مقابلہ کیا۔ حضرت نوحؑ کی عمر کے بارے میں قرآن مجید اور بائیبل کے بیانات ایک دوسرے سے مختلف ہیں ۔ بائیبل کا بیان ہے کہ ان کی عمر ساڑھے نو سو سال تھی ۔ وہ چھ سو برس کے تھے جب طوفان آیا۔ اور اس کے بعد ساڑھے تین سو برس اور زندہ رہے ( پیدائش ، باب 7۔ آیت ۶۔ باب 9۔ آیت 28- 29)۔ لیکن قرآن کے بیان کی روسے ان کی عمر کم از کم ایک ہزار سال ہونی چاہیے کیونکہ ساڑھے نو سو سال تو صرف وہ مدت ہے جو نبوت پر مامور ہونے کے بعد سے طوفان برپا ہونے تک انہوں نے دعوت و تبلیغ میں صرف کی۔ ظاہر ہے کہ نبوت انہیں پختہ عمر کو پہنچنے کے بعد ہی ملی ہو گی۔ اور طوفان کے بعد بھی وہ کچھ مدت زندہ رہے ہوں گے۔ یہ طویل عمر بعض لوگوں کے لیے ناقابلِ یقین ہے۔ لیکن خدا کی اِس خدائی میں عجائب کی کمی نہیں ہے ۔ جس طرف بھی آدمی نگاہ ڈالے ، اُس کی قدرت کے کرشمے غیر معمولی واقعات کی شکل میں نظر آجاتے ہیں۔ کچھ واقعات و حالات کا معمولاً ایک خاص صورت میں رونما ہوتے رہنا اس بات کے لیے کوئی دلیل نہیں ہے کہ اس معمول سے ہٹ کر کسی دوسری غیر معمولی صورت میں کوئی واقعہ رونما نہیں ہو سکتا ۔ اس طرح کے مفروضات کو توڑنے کے لیے کائنات کے ہر گوشے میں اور مخلوقات کی ہر صنف میں خلافِ معمول حالات و واقعات کی ایک طویل فہرست موجود ہے۔ خصوصیت کے ساتھ جو شخص خدا کے قادرِ مطلق ہونے کا واضح تصوّر اپنے ذہن میں رکھتا ہو وہ تو کبھی اس غلط فہمی میں نہیں پڑ سکتا کہ کسی انسان کو ایک ہزار برس یا اس سے کم و بیش عمر عطا کر دینا اُس کے خدا کے لیے بھی ممکن نہیں ہے جو موت و حیات کا خالق ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی اگر خود چاہے تو ایک لمحہ کے لیے بھی زندہ نہیں رہ سکتا ۔ لیکن اگر خدا چاہے تو جب تک وہ چاہے اسے زندہ رکھ سکتا ہے۔
یعنی طوفان ان پر اس حالت میں آیا کہ وہ اپنے ظلم پر قائم تھے۔ دوسرے الفاظ میں ، اگر وہ طوفان آنے سے پہلے اپنے ظلم سے باز آجاتے تو اللہ تعالیٰ ان پر یہ عذاب نہ بھیجتا۔
فَاَنْجَیْنٰهُ وَاَصْحٰبَ السَّفِیْنَةِ وَجَعَلْنٰهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ
یعنی ان لوگوں کو جو حضرت نوحؑ پر ایمان لائے تھے اور جنہیں کشتی میں سوار ہونے کی اللہ تعالیٰ نے اجازت دی تھی۔ سُورۂ ہود میں اس کی تصریح ہے: حَتّٰیٓ اِذَا جَآ ءَ اَمْرُنَا وَفَا رَ التَّنُّوْرُ قُلْنَا احْمِلْ فِیْھَا مِنْ کُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَاَھْلَکَ اِلَّا مَنْ سَبْقَ عَلَیْہِ الْقَوْلُ وَ مَنْ اٰ مَنَ وَمَآ اٰمَنْ مَعَہٗٓ اِلَّا قَلِیْلٌ (آیت 4۰)۔ ”یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا اور تنور اُبل پڑا تو ہم نے کہا کہ (اے نوحؑ) اِس کشتی میں سوار کر لے ہو قسم (کے جانوروں) میں سے ایک ایک جوڑا، اور اپنے گھر والوں کو سوائے اُن کے جنہیں ساتھ نہ لینے کا پہلے حکم دیا گیا ہے، اور اُن لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں، اور اُس کے ساتھ بہت ہی کم لوگ ایمان لائے تھے۔“
اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس ہولناک عقوبت کو یا اس عظیم الشان واقعہ کو بعد والوں کے لیے نشانِ عبرت بنا دیا گیا۔ لیکن یہاں اور سورۂ قمر میں یہ بات جس طریقہ سے بیان فرمائی گئی ہے اس سے متبادر یہی ہو تا ہے کہ وہ نشانِ عبرت خود وہ کشتی تھی جو پہاڑ کی چوٹی پر صدیوں موجود رہی اور بعد کی نسلوں کو خبر دیتی رہی کہ اس سرزمین میں کبھی ایسا طوفان آیا تھا جس کو بدولت یہ کشتی پہاڑ پر جا ٹِکی ہے۔ سورۂ قمر میں اس کے متعلق فرمایا گیا ہے: وَحَمَلْنَا ہُ عَلیٰ ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّ دُسُرٍo تَجْرِیْ بَاَ عْیُنِنَا جَزَآءٍ لِّمَنْ کَانَ کُفِرَ o وَلَقَدْ تَّرَکْنٰھآ اٰیَۃً فَھَلْ مِنْ مُّدَّ کِرٍo (آیات 15-13)۔ ” اور ہم نے نوح ؑ کو سوار کیا تختوں اور میخوں والی (کشتی) پر ، وہ چل رہی تھی ہماری نگرانی میں اُس شخص کے لیے جزاء کے طور پر جس کا انکار کر دیا گیا تھا، اور ہم نے اُسے چھوڑ دیا ایک نشانی بنا کر ، پس ہے کوئی سبق لینے والا؟“ سورۂ قمر کی اِس آیت کی تفسیر میں ابن جریر نے قتادہ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ عہدِ صحابہ میں جب مسلمان الجزیرہ کے علاقہ میں گئے تو انہوں نے کوہِ جودی پر (اور ایک روایت کی رُو سے باقِرویٰ نامی بستی کے قریب) اس کشتی کو دیکھا ہے۔ موجودہ زمانہ میں بھی وقتاً فوقتاً یہ اطلاعات اخبارات میں آتی رہتی ہیں کہ کشتی نوحؑ کو تلاش کرنے کے لیے مہمات بھیجی جا رہی ہیں۔ اور اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ بسا اوقات ہوائی جہاز جب کوہستان اراراط پر سے گزرے ہیں تو ایک چوٹی پر انہوں نے ایسی چیز دیکھی ہے جو ایک کشتی سے مشابہ ہے۔ (مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد دوم، الاعراف، حاشیہ 47۔ ہود ، حاشیہ 4۶)۔
وَاِبْرٰهِیْمَ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاتَّقُوْهُ ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ
تقابل کے لیے ملاحظہ ہو البقرہ ، رکوع 35-1۶-15۔ آل عمران 7۔ الانعام 9۔ ہود 7۔ ابراہیم ۶۔ الحجر 4۔ مریم 3۔ الانبیاء 5۔ الشعراء 5۔ الصافات 3۔ الزخرف 3۔ الذاریات 2۔
یعنی اُس کے ساتھ شرک اور اس کی نافرمانی کرنے سے ڈرو۔
اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا وَّتَخْلُقُوْنَ اِفْكًا ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَمْلِكُوْنَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰهِ الرِّزْقَ وَاعْبُدُوْهُ وَاشْكُرُوْا لَهٗ ؕ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ
یعنی تم یہ بُت نہیں گھڑ رہے ہو بلکہ ایک جھوٹ گھڑ رہے ہو۔ ان بتوں کا وجود خود ایک جھوٹ ہے ۔ اور پھر تمہارے یہ عقائد کہ یہ دیویاں اور دیوتا ہیں ، یا خدا کے اوتار یا اس کی اولاد ہیں، یا خدا کے مقرب اور اس کے ہاں شفیع ہیں، یا یہ کہ ان میں سے کوئی شفا دینے والا اور کوئی اولاد بخشنے والا اور کوئی روزگار دلوانے والا ہے، یہ سب جھوٹی باتیں ہیں جو تم لوگوں نے اپنے وہم و گمان سے تصنیف کرلی ہیں۔ حقیقت اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ یہ محض بُت ہیں بے جان ، بے اختیار اور بے اثر۔
ان چند فقروں میں حضرت ابراہیمؑ نے بُت پرستی کے خلاف تمام معقول دلائل سمیٹ کر رکھ دیے ہیں ۔ کسی کو معبود بنانے کے لیے لا محالہ کوئی معقول وجہ ہونی چاہیے۔ ایک معقول وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ اپنی ذات میں معبودیت کا کوئی استحقاق رکھتا ہو۔ دوسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ وہ آدمی کا خالق ہو اور آدمی اپنے وجود کے لیے اس کا رہینِ منت ہو۔ تیسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ وہ آدمی کی پرورش کا سامان کرتا ہو اور اسے رزق ، یعنی متاعِ زیست بہم پہنچاتا ہو۔ چوتھی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ آدمی کا مستقبل اس کی عنایات سے وابستہ ہو اور آدمی کو اندیشہ ہو کہ اس کی ناراضی مول لے کر وہ اپنا انجام خراب کر لے گا ۔ حضرت ابراہیمؑ نے فرمایا کہ ان چاروں وجوہ میں سے کوئی وجہ بھی بت پرستی کی حق میں نہیں ہے بلکہ ہر ایک خالص خدا پرستی کا تقاضا کرتی ہے۔ ” یہ محض بُت ہیں“ کہہ کر اُنہوں نے پہلی وجہ کو ختم کر دیا، کیونکہ جو نِرا بُت ہو اس کو معبود ہونے کا آخر کیا ذاتی استحقاق حاصل ہو سکتا ہے۔ پھر یہ کہہ کر کہ ” تم ان کے خالق ہو“ دوسری وجہ بھی ختم کر دی ۔ اس کے بعد تیسری وجہ کو یہ فرما کر ختم کیا کہ وہ تمہیں کسی نوعیت کا کچھ بھی رزق نہیں دے سکتے۔ اور آخری بات یہ ارشاد فرمائی کہ تمہیں پلٹنا تو خدا کی طرف ہے نہ کہ اِن بتوں کی طرف، اس لیے تمہارا انجام اور تمہاری عاقبت سنوار نا یا بگاڑنا بھی اِن کے اختیار میں نہیں صرف خدا کے اختیار میں ہے۔ اس طرح شرک کا پورا ابطال کر کے حضرت والا نے یہ بات ان پر واضح کر دی کہ جتنے وجوہ سے بھی انسان کسی کو معبود قرار دے سکتا ہے وہ سب کے سب اللہ وحدہٗ لاشریک کے سوا کسی کی عبادت کے مقتضی نہیں ہیں۔
وَاِنْ تُكَذِّبُوْا فَقَدْ كَذَّبَ اُمَمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ ؕ وَمَا عَلَی الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ
اور اگر تم جھُٹلا تے ہو تو تم سے پہلے بہت سی قومیں جھُٹلا چکی ہیں،30 اور رسُولؐ پر صاف صاف پیغام پہنچا دینے کے سوا کوئی ذمّہ داری نہیں ہے۔“
یعنی اگر تم میری دعوتِ توحید کو اور اس خبر کو کہ تمہیں اپنے ربّ کی طرف پلٹنا اور اپنے اعمال کا حساب دینا ہے ، جھٹلاتے ہو تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ تاریخ میں اس سے پہلے بھی بہت سے نبی (مثلاً نوحؑ، ہودؑ، صالح علیہ السلام وغیرہ) یہی تعلیم لے کر آچکے ہیں اور ان کی قوموں نے بھی ان کو اسی طرح جھٹلایا ہے۔ اب تم خود دیکھ لو کہ انہوں نے جھٹلا کر ان نبیوں کا کچھ بگاڑا یا اپنا انجام خراب کیا۔
اَوَلَمْ یَرَوْا كَیْفَ یُبْدِئُ اللّٰهُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَی اللّٰهِ یَسِیْرٌ
pیہاں سے لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ (ان کے لیے دردناک سزا ہے) تک ایک جملۂ معترضہ ہے جو حضرت ابراہیمؑ کے قصّے کا سلسلہ توڑ کر اللہ تعالیٰ نے کفار ِ مکہ کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا ہے۔ اس اعتراضی تقریر کی مناسبت یہ ہے کہ کفارِ مکّہ ، جنہیں سبق دینے کے لیے یہ قصّہ سنایا جارہا ہے ، دو بنیادی گمراہیوں میں مبتلا تھے۔ ایک شرک و بت پرستی ۔ دوسرے انکارِ آخرت۔ ان میں سے پہلی گمراہی کا رد حضرت ابراہیمؑ کی اس تقریر میں آچکا ہے جو اوپر نقل کی گئی ہے۔ اب دوسری گمراہی کے رد میں یہ چند فقرے اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے ارشاد فرما رہا ہے تا کہ دونوں کی تردید ایک ہی سلسلہ کلام میں ہو جائے۔/p
pیعنی ایک طرف بے شمار اشیاء عدم سے وجود میں آتی ہیں، اور دوسری طرف ہر نوع کے افراد کے مٹنے کے ساتھ پھر ویسے ہی افراد وجود میں آتے چلے جاتے ہیں۔ مشرکین اس بات کو مانتے تھے کہ یہ سب کچھ اللہ کی صفتِ خلق و ایجاد کا نتیجہ ہے۔ انہیں اللہ کے خالق ہونے سے انکار نہ تھا ، جس طرح آج کے مشرکین کو نہیں ہے۔ اس لیے ان کی اپنی مانی ہوئی بات پر یہ دلیل قائم کی گئی ہے کہ جو خدا تمہارے نزدیک اشیاء کو عدم سے وجود میں لاتا ہے ، اور پھر ایک دفعہ تخلیق کر کے نہیں رہ جاتا بلکہ تمہاری آنکھوں کے سامنے مٹ جانے والی اشیاء کی جگہ پھر ویسی ہی اشیاء پے در پے وجود میں لاتا چلا جاتا ہے، اس کے بارے میں آخر تم نے یہ کیوں سمجھ رکھا ہے کہ تمہارے مر جانے کے بعد وہ تمہیں دوبارہ زندہ کر کے اٹھا کھڑا نہیں کر سکتا ۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ نمل، حاشیہ نمبر 8۰)۔/p
قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ بَدَاَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللّٰهُ یُنْشِئُ النَّشْاَةَ الْاٰخِرَةَ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ
ان سے کہو کہ زمین میں چلو پھرو اور دیکھو کہ اُس نے کس طرح خلق کی ابتدا کی ہے ، پھر اللہ بار دیگر بھی زندگی بخشے گا۔ یقیناً اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔33
یعنی جب خد ا کی کاریگری سے بارِ اول کی تخلیق کا تم خود مشاہدہ کر رہے ہو تو تمہیں سمجھنا چاہیے کہ اسی خدا کی کاریگری سے بارِ دیگر بھی تخلیق ہو گی۔ ایسا کرنا اس کی قدرت سے باہر نہیں ہے اور نہ ہو سکتا ہے۔
یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَیَرْحَمُ مَنْ یَّشَآءُ وَاِلَیْهِ تُقْلَبُوْنَ
جسے چاہے سزا دے اور جس پر چاہے رحم فرمائے، اُسی کی طرف تم پھیرے جانے والے ہو
وَمَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَآءِ ؗ وَمَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلَا نَصِیْرٍ
یعنی تم کسی ایسی جگہ بھاگ کر نہیں جا سکتے جہاں اللہ کی گرفت سے بچ نکلو۔ خواہ تم زمین کی تہوں میں کہیں اتر جاؤ یا آسمان کی بلندیوں میں پہنچ جاؤ، بہر حال تمہیں ہر جگہ سے پکڑ لایا جائے گا اور اپنے ربّ کے سامنے تم حاضر کر دیے جاؤ گے ۔ یہی بات سُورۂ رحمٰن میں جِنوں اور انسانوں کو خطاب کرتے ہوئے چیلنج کے انداز میں بیان فرمائی گئی ہے کہ تم خدا کی خدائی سے اگر نکل سکتے ہو تو ذرا نِکل کر دکھاؤ، اس سے نکلنے کے لیے زور چاہیے ، اور وہ زور تمہیں حاصل نہیں ہے، اس لیے تم ہرگز نہیں نِکل سکتے۔ یَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْقُذُوْا مِنْ اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَا نْفُذُوْ ا لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ o (آیت 33)۔
یعنی نہ تمہارا اپنا زور اتنا ہے کہ خد اکی پکڑ سے بچ جاؤ، اور نہ تمہارا کوئی ولی و سرپرست یا مددگار ایسا زورآور ہے کہ خدا کے مقابلے میں تمہیں پناہ دے سکے اور اس کے مواخذے سے تمہیں بچا لے۔ ساری کائنات میں کسی کی یہ مجال نہیں ہے کہ جن لوگوں نے کفر و شرک کی ارتکاب کیا ہے ،جنہوں نے احکام خداوندی کے آگے جھکنے سے انکار کیا ہے، جنہوں نے جرأت و جسارت کے ساتھ خدا کی نافرمانیاں کی ہیں اور ا س کی زمین میں ظلم و فساد کے طوفان اُٹھائے ہیں ان کا حمایتی بن کر اُٹھ سکے اور خدا کے فیصلۂ عذاب کو ان پر نافذ ہونے سے روک سکے، یا خدا کی عدالت میں یہ کہنے کی ہمت کر سکے کہ یہ میرے ہیں اس لیے جو کچھ بھی انہوں نے کیا ہے اسے معاف کر دیا جائے۔
وَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَلِقَآىِٕهٖۤ اُولٰٓىِٕكَ یَىِٕسُوْا مِنْ رَّحْمَتِیْ وَاُولٰٓىِٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ
جن لوگوں نے اللہ کی آیات کا اور اس سے ملاقات کا انکار کیا ہے وہ میری رحمت سے مایوس ہو چکے ہیں36 اور ان کے لیے دردناک سزا ہے
یعنی ان کو کوئی حصّہ میری رحمت میں نہیں ہے ۔ ان کے لیے کوئی گنجائش اس امر کی نہیں ہے کہ وہ میری رحمت میں سے حصہ پانے کی امید رکھ سکیں ۔ ظاہر بات ہے کہ حب انہوں نے اللہ کی آیات کو ماننے سے انکار کیا تو خود بخود اُن وعدوں سے فائدہ اُٹھانے کے حق سے بھی وہ دست بر دار ہو گئے جو اللہ تعالیٰ نے ایمان لانے والوں سے کیے ہیں۔ پھر جب انہوں نے آخر ت کا انکار کیا اور یہ تسلیم ہی نہ کیا کہ انہیں کبھی اپنے خدا کے حضور پیش ہونا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ انہوں نے خداکی بخشش و مغفرت کے ساتھ کوئی رشتۂ امید سرے سے وابستہ ہی نہیں کیا ہے۔ اس کے بعد جب اپنی توقعات کے خلاف وہ عالمِ آخرت میں آنکھیں کھولیں گے اور اللہ کی اُن آیات کو بھی اپنی آنکھوں سے سچا اور برحق دیکھ لیں گے جنہیں وہ جھٹلا چکے تھے تو کوئی وجہ نہیں کہ وہاں وہ رحمتِ الہٰی میں سے کوئی حصّہ پانے کے امید وار ہو سکیں۔
فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا اقْتُلُوْهُ اَوْ حَرِّقُوْهُ فَاَنْجٰىهُ اللّٰهُ مِنَ النَّارِ ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ
pیہاں سے پھر سلسلۂ کلام حضرت ابراہیمؑ کے قصّے کی طرف مُڑتا ہے۔/p
pیعنی حضرت ابراہیمؑ کے معقول دلائل کا کوئی جواب ان کے پاس نہ تھا۔ ان کا جواب اگر تھا تو یہ کہ کاٹ دو اُس زبان کو جو حق بات کہتی ہے اور جینے نہ دو اس شخص کو جو ہماری غلطی ہم پر واضح کرتا ہے اور ہمیں اس سے باز آنے کے لیے کہتا ہے۔ ”قتل کر دو یا جلا ڈالو“ کے الفاظ سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ پورا مجمع اس بات پر تو متفق تھا کہ حضرت ابراہیمؑ کو ہلاک کر دیا جائے، البتہ ہلاک کرنے کے طریقے میں اختلاف تھا۔ کچھ لوگوں کی رائے یہ تھی کہ قتل کیا جائے ، اور کچھ کی رائے یہ تھی کہ زندہ جلا دیا جائے تا کہ ہر اُس شخص کو عبرت حاصل ہو جسے آئندہ کبھی ہماری سرزمین میں حق گوئی کا جنون لاحق ہو۔/p
pاس فقرے سے خود بخود یہ بات نکلتی ہے کہ ان لوگوں نے آخر کار حضرت ابراہیمؑ کو جلانے کا فیصلہ کیا تھا اور وہ آگ میں پھینک دے گئے تھے ۔ یہاں بات صرف اتنی کہی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو آگ سے بچا لیا۔ لیکن سورۃ الانبیاء میں صراحت کے ساتھ فرمایا گیا ہے کہ آگ اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت ابراہیمؑ کے لیے ٹھنڈی اورغیر مضر ہو گئی، قُلْنَا یٰنَا رُکُوْنِیْ بَرْدًا وَّسَلَا مًا عَلیٰٓ اِبْرَاھِیْمَ (آیت ۶9)۔ ” ہم نے کہا کہ اے آگ ٹھنڈی ہو جا اور سلامتی بن جا ابراہیمؑ پر۔“ ظاہر ہے کہ اگر اُن کو آگ میں پھینکا ہی نہ گیا ہو تو آگ کو یہ حکم دینے کے کوئِ معنی نہیں ہیں کہ تو ان پر ٹھنڈی ہو جا اور ان کے لیے سلامتی بن جا۔ اس سے یہ بات صاف طور پر ثابت ہوتی ہے کہ تمام اشیاءکی خاصیتیں اللہ تعالیٰ کے حکم پر مبنی ہیں، اور وہ جس وقت جس چیز کی خاصیت کو چاہے بدل سکتا ہے ۔ معمول کے مطابق اگ کا عمل یہی ہے کہ وہ جلائے اور ہر آتش پذیر چیز اس میں پڑ کر جل جائے۔ لیکن آگ کا یہ معمول اس کا اپنا قائم کیا ہوا نہیں ہے بلکہ خدا کا قائم کیا ہوا ہے۔ اور اس معمول نے خدا کو پابند نہیں کر دیا ہے کہ وہ اس کے خلاف کوئی حکم نہ دے سکے۔ وہ اپنی آگ کا مالک ہے۔ کی وقت بھی وہ اسے حکم دے سکتا ہے کہ وہ جلا نے کا عمل چھوڑ دے۔ کسی وقت بھی وہ اپنے ایک اشارے سے آتش کدے کو گلزار میں تبدیل کر سکتا ہے۔ یہ غیر معمولی خَرقِ عادت اس کے ہاں روز روز نہیں ہوتے۔ کسی بڑی حکمت اور مصلحت کی خاطر ہی ہوتے ہیں۔ لیکن معمولات کو ، جنہیں روز مرّہ دیکھنے کے ہم خوگر ہیں، اس بات کے لیے ہر گز دلیل نہیں ٹھیرایا جا سکتا کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اُن سے بندھ گئی ہے اور خلافِ معمول کوئی واقعہ اللہ کے حکم سے بھی نہیں ہو سکتا۔/p
pیعنی اہلِ ایمان کے لیے نشانیاں ہیں اس بات میں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خاندان، قوم اور ملک کے مذہب کی پیروی کرنے کے بجائے اس علمِ حق کی پیروی کی جس کی رو سے انہیں معلوم ہو گیا تھا کہ شرک باطل ہے اور توحید ہی حقیقت ہے۔ اور اِس بات میں کہ وہ قوم کی ہٹ دھرمی اور اس کے شدید تعصب کی پروا کیے بغیر اس کو باطل سے باز آجانے اور حق قبول کر لینے کے لیے پیہم تبلیغ کرتے رہے۔ اور اس بات میں کہ وہ آگ کی ہولناک سزا برداشت کرنے کے لیے تیار ہو گئے مگر حق و صداقت سے منہ موڑنے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ اور اِس بات میں کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام تک کو آزمائشوں سے گزارے بغیر نہ چھوڑا۔ اور اس بات میں کہ جب حضرت ابراہیم ؑ اللہ کے ڈالے ہوئے امتحان سے کامیابی کے ساتھ گزرے گئے تب اللہ کی مدد ان کے لیے آئی اور ایسے معجزانہ طریقہ سے آئی کہ آگ کا الاؤ ان کے لیے ٹھنڈا کر دیا گیا۔/p
وَقَالَ اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا مَّوَدَّةَ بَیْنِكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّیَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ؗ وَّمَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ
سلسلۂ کلام سے مترشح ہوتا ہے کہ یہ بات آگ سے بسلامت نِکل آنے کے بعد حضرت ابراہیمؑ نے لوگوں سے فرمائی ہو گی۔
یعنی تم نے خدا پرستی کے بجائے بُت پرستی کی بنیا د پر اپنی اجتماعی زندگی کی تعمیر کر لی ہے جو دنیوی زندگی کی حد تک تمہارا قومی شیرازہ باندھ سکتی ہے ۔ ا س لیے کہ یہاں کسی عقیدے پر بھی لوگ جمع ہو سکتے ہیں ، خواہ حق ہو یا باطل۔ اور ہر اتفاق و اجتماع ، چاہے وہ کیسے ہی غلط عقیدے پر ہو، باہم دوستیوں، رشتہ داریوں، برادریوں، اور دوسرے تمام مذہبی، معاشرتی و تمدنی اور معاشی و سیاسی تعلقات کے قیام کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
یعنی عقیدۂ باطلہ پر تمہاری یہ ہیئتِ اجتماعی آخرت میں بنی نہیں رہ سکتی۔ وہاں آپس کی محبت، دوستی، تعاون، رشتہ داری، اور عقیدت و ارادت کے صرف وہی تعلقات برقرار رہ سکتے ہیں جو دنیا میں خدائے واحد کی بندگی اور نیکی و تقویٰ پر قائم ہوئے ہوں ۔ کفر و شرک اور گمراہی و بدراہی پر جُڑے ہوئے سارے رشتے وہاں کٹ جائیں گے ، ساری محبتیں دشمنی میں تبدیل ہو جائیں گی ، ساری عقیدتیں نفرت میں بدل جائیں گی، بیٹے اور باپ، شوہر اور بیوی، پیر اور مرید تک ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے اور ہر ایک اپنی گمراہی کی ذمہ داری دوسرے پر ڈال کر پکارے گا کہ اِس ظالم نے مجھے خراب کیا اس لیے اسے دوہرا عذاب دیا جائے۔ یہ بات قرآن مجید میں متعدد مقامات پر فرمائی گئی ہے۔ مثلاً سورۂ زُخرف میں فرمایا اَلْاَ خِلَّآ ءُ یَوْمَئِذٍ بَعْضُہُمْ لَبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَ (آیت ۶7)۔ ” دوست اس روز ایک دوسرے کے دشمن ہو جائیں گے ا، سوائے متقین کے ۔“ سورۂ اعراف میں فرمایا: کُلَّمَا دَخَلْتَ اُمَّۃٌ لَّعَنَتْ اُخْتَھَا حَتّٰیٓ اِذَا ادَّا رَکُوْا فِیْھَا جَمِیْعًا قَالَتْ اُخْرٰھُمْ لِاُ و لٰھُمْ رَبَّنَا ھٰٓؤُ لَآءِ اَضَلُّوْ نَا فَاٰ تِھِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ (آیت 38)۔” ہر گروہ جب جہنم میں داخل ہو گا تو اپنے پاس والے گروہ پر لعنت کرتا ہوا داخل ہوگا حتٰی کہ جب سب وہاں جمع ہو جائیں گے تو ہر بعد والا گروہ پہلے والے گروہ کے حق میں کہے گا کہ اے ہمارے ربّ، یہ لوگ تھے جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا، لہٰذا انہیں آگ کا دوہرا عذاب دے۔“ اور سُورۂ احزاب میں فرمایا وَقَالُوْا رَبَّنَآ اِنَّآ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَکُبَرَآ ءَ نَا فَاَ ضَلُّوْنَا السَّبِیْلَا رَبَّنَآ اٰتِھِمْ ضِعْفَیْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَالْعَنْھُمْ لَعْنًا کَبِیْرًا o (آیات ۶8-۶7)۔ ”اور وہ کہیں گے اے ہمارے ربّ، ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کی اطاعت کی اور انہوں نے ہم کو راہ سے بے راہ کر دیا، اے ہمارے ربّ تو انہیں دوہری سزا دے اور ان پر سخت لعنت فرما۔“
فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ وَقَالَ اِنِّیْ مُهَاجِرٌ اِلٰی رَبِّیْ ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ
ترتیب کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب حضرت ابراہیم ؑ آگ سے نکل آئے اور انہوں نے اوپر کے فقرے ارشاد فرمائے اس وقت سارے مجمع میں صرف ایک حضرت لوطؑ تھے جنہوں نے آگے بڑھ کر اُن کو ماننے اور اُن کی پیروی اختیار کرنے کا اعلان کیا۔ ہو سکتا ہے کہ اس موقع پر دوسرے بہت سے لوگ بھی اپنے دل میں حضرت ابراہیمؑ کی صداقت کے قائل ہو گئے ہوں۔ لیکن پوری قوم اور سلطنت کی طرف سے دین ابراہیمؑ کے خلاف جس غضب ناک جذبے کا اظہار اُس وقت سب کی آنکھوں کے سامنے ہوا تھا اُسے دیکھتے ہوئے کوئی دوسرا شخص ایسے خطرناک حق کو ماننے اور اس کا ساتھ دینے کی جرأت نہ کر سکا۔ یہ سعادت صرف ایک آدمی کے حصّے میں آئی اور وہ حضرت ابراہیمؑ کے بھتیجے حضرت لوطؑ تھے جنہوں نے آخرکار ہجرت میں بھی اپنے چچا اور چچی (حضرت سارہ) کا ساتھ دیا۔ یہاں ایک شبہہ پیدا ہوتا ہے جسے رفع کردینا ضروری ہے۔ ایک شخص سوال کر سکتا ہے کہ کیا اس واقعہ سے پہلے حضرت لوطؑ کافر و مشرک تھے اور آگ سے حضرت ابراہیمؑ کے بسلامت نکل آنے کا معجزہ دیکھنے کے بعد انہیں نعمتِ ایمان میسر آئی؟ اگر یہ بات ہے تو کیا نبوت کے منصب پر کوئی ایسا شخص بھی سرفراز ہو سکتا ہے جو پہلے مشرک رہ چکا ہو؟ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن نے یہاں فَاٰمَنَ لَہٗ لُوْطٌ کے الفاظ استعمال کیے ہیں جن سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس سے پہلے حضرت لوطؑ خداوندِ عالم کو نہ مانتے ہوں، یا اس کے ساتھ دوسرے معبودوں کو شریک کرتے ہوں۔ بلکہ ان سے صرف یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس واقعہ کے بعد انہوں نے حضرت ابراہیمؑ کی رسالت کی تصدیق کی اور ان کی پیروی اختیار کر لی۔ ایمان کے ساتھ جب لام کا صلہ آتا ہے تو اس کے معنی کسی شخص کی بات ماننے اور اس کی اطاعت کرنے کے ہوتے ہیں۔ ممکن ہے کہ حضرت لوطؑ اس وقت ایک نو عمر لڑکے ہی ہوں اور اپنے ہوش میں ان کو پہلی مرتبہ اس موقع پر ہی اپنے چچا کی تعلیم سے واقف ہونے اور ان کی شانِ رسالت سے آگاہ ہونے کا موقع ملا ہو۔
یعنی اپنے ربّ کی خاطر ملک چھوڑ کر نکلتا ہوں، اب جہاں میرا ربّ لے جائے گا وہاں چلا جاؤں گا۔
یعنی وہ میری حمایت و حفاظت پر قادر ہے اور میرے حق میں اس کا جو فیصلہ بھی ہو گا حکمت پر مبنی ہو گا۔
وَوَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ وَجَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ وَاٰتَیْنٰهُ اَجْرَهٗ فِی الدُّنْیَا وَاِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ
حضرت اسحاقؑ بیٹے تھے اور حضرت یعقوبؑ پوتے۔ یہاں حضرت ابراہیمؑ کے دوسرے بیٹوں کا ذکر اس لیے نہیں کیا گیا ہے کہ اولادِ ابراہیمؑ کی مدیانی شاخ میں صرف حضرت شعیبؑ مبعوث ہوئے، اور اسماعیلی شاخ میں سرکار رسالت مآب محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک دھائی ہزار سال کی مدت میں کوئی نبی نہیں آیا۔ اس کے برعکس نبوت اور کتاب کی نعمت حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک مسلسل اُس شاخ کو عطا ہوتی رہی جو حضرت اسحاق علیہ السلام سے چلی تھی۔
اس میں وہ تمام انبیاء آگئے جو نسلِ ابراہیمی کی سب شاخوں میں مبعوث ہوئے ہیں۔
مقصود بیان یہ ہے کہ بابِل کے وہ حکمراں اور پنڈت اور پروہت جنہوں نے ابراہیم علیہ السلام کی دعوت کو نیچا دکھانا چاہا تھا ، اور اس کے وہ مشرک باشندے جنہوں نے آنکھیں بند کر کے ان ظالموں کی پیروی کی تھی، وہ تو دنیا سے مٹ گئے اور ایسے مٹے کہ آج دنیا میں کہیں ان کا نام و نشان تک باقی نہیں ۔ مگر وہ شخص جسے اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے جرم میں ان لوگوں نے جلا کر خاک کر دینا چاہا تھا ، اور جسے آخر کار بے سروسامانی کے عالم میں وطن سے نِکل جانا پڑا تھا، اس کو اللہ تعالیٰ نے یہ سرفرازی عطا فرمائی کہ چار ہزار برس سے دنیا میں اس کا نام روشن ہے اور قیامت تک رہے گا۔ دنیا کے تمام مسلمان ، عیسائی اور یہودی اُس خلیل ِ ربّ العالمین کو بالاتفاق اپنا پیشوا مانتے ہیں۔ دنیا کو ان چالیس صدیوں میں جو کچھ بھی ہدایت کی روشنی میسر آئی ہے اسی ایک انسان اور اس کی پاکیزہ اولاد کی بدولت میسّر آئی ہے۔ آخر ت میں جو اجر ِ عظیم اس کو ملے گا وہ تو ملے گا ہی ، مگر اِس دنیا میں بھی اس نے وہ عزّت پائی جو حصُولِ دنیا کے پیچھے جان کھپانے والوں میں سے کسی کو آج تک نصیب نہیں ہوئی۔
وَلُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ ؗ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ
50اور ہم نے لُوطؑ کو بھیجا جبکہ اُس نے اپنی قوم سے کہا”تم تو وہ فحش کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا والوں میں سے کسی نے نہیں کیا ہے
pتقابل کے لیے ملاحظہ ہو الاعراف ، رکوع 1۰۔ ہود، 7۔ الحجر، 5-4۔ الانبیاء، 5۔ الشعراء، 9۔ النمل، 4۔ الصافات، 4۔ القمر، 2۔/p
اَىِٕنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ وَتَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ ۬ وَتَاْتُوْنَ فِیْ نَادِیْكُمُ الْمُنْكَرَ ؕ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ
یعنی ان سے شہوت رانی کرتے ہو، جیسا کہ سورۂ اعراف میں ہے اِنَّکُمْ لَتَاْ تُوْنَ الرِّجَالَ شَھْوَ ۃً مِنْ دُوْنِ النِّسَآ ءِ۔ ”تم خواہش ِ نفس پوری کر نے کے لیے عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس جاتے ہو۔“
یعنی فحش کام چھپ کر بھی نہیں کرتے بلکہ عَلانیہ اپنی مجلسوں میں ایک دوسرے کے سامنے اس کا ارتکاب کرتے ہو۔ یہی بات سورۂ نمل میں فرمائی ہے اَتَاْ تُوْنَ الْفَاحِشَۃَ وَاَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ۔”کیا تم ایسے بگڑ گئے ہو کہ دیکھنے والی آنکھوں کے سامنے فحش کاری کرتے ہو۔“
قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ عَلَی الْقَوْمِ الْمُفْسِدِیْنَ
لوطؑ نے کہا "اے میرے رب، اِن مفسد لوگوں کے مقابلے میں میری مدد فرما"
وَلَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰی قَالُوْۤا اِنَّا مُهْلِكُوْۤا اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ اِنَّ اَهْلَهَا كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ
سورۂ ہود اور سورۂ حِجر میں اس کی تفصیل یہ بیان ہوئی ہے کہ جو فرشتے قومِ لُوطؑ پر عذاب نازل کرنے کے لیے بھیجے گئے تھے وہ پہلے حضرت ابراہیمؑ کے پاس حاضر ہوئے اور انہوں نے آنجناب کو حضرت اسحاقؑ کی اور ان کے بعد حضرت یعقوبؑ کی پیدائش کی بشارت دی ، پھر یہ بتایا کہ ہمیں قومِ لُوط کو تباہ کر نے کے لیے بھیجا گیا ہے۔
”اِس بستی“ کا اشارہ قومِ لوطؑ کے علاقے کی طرف ہے ۔ حضرت ابراہیم ؑ اس وقت فلسطین کے شہر حَبْرون (موجودہ الخلیل) میں رہتے تھے۔ اس شہر کے جنوب مشرق میں چند میل کے فاصلے پر بحیرہ مردار (Dead Sea ) کا وہ حصّہ واقع ہے جہاں پہلے قومِ لوطؑ آباد تھی اور اب جس پر بحیرہ کا پانی پھیلا ہوا ہے۔ یہ علاقہ نشیب میں واقع ہے اور حبرون کی بلند پہاڑیوں پر سے صاف نظر آتا ہے۔ اسی لیے فرشتوں نے اس کی طرف اشارہ کر کے حضرت ابراہیم ؑ سے عرض کیا کہ ” ہم اِس بستی کو ہلاک کرنے والے ہیں۔“(ملاحظہ ہو سورۂ شعراء حاشیہ 114)۔
قَالَ اِنَّ فِیْهَا لُوْطًا ؕ قَالُوْا نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَنْ فِیْهَا ؗۥ لَنُنَجِّیَنَّهٗ وَاَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ ؗ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ
”سُورۂ ہُود میں اس قصّے کا ابتدائی حصّہ یہ بیا ن کیا گیا ہے کہ سب سے پہلے حضرت ابراہیمؑ فرشتوں کو انسانی شکل میں دیکھ کر ہی گھبرا گئے، کیونکہ اس شکل میں فرشتوں کا آنا کسی خطرناک مہم کا پیش خیمہ ہُوا کرتا ہے۔ پھر جب انہوں نے آپ کو بشارت دی اور آپ کی گھبراہٹ دور ہو گئی اور آپ کو معلوم ہُوا کہ یہ مہم قومِ لوطؑ کی طرف جارہی ہے تو آپ اس قوم کے لیے بڑے اصرار کے ساتھ رحم کی درخواست کرنے لگے ( فَلَمَّا ذَھَبَ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ الرَّوْعُ وَجَآ ءَ تْہُ الْبُشْرٰی یُجَا دِلُنَا فِیْ قَوْمِ لُوْطٍ اِنَّ اِبْرَاھِیْمَ لَحَلِیْمٌ اَوَّاہٌ مُّنِیْبٌ)۔ مگر یہ درخواست قبول نہ ہوئی اور فرمایا گیا کہ اس معاملہ میں اب کچھ نہ کہو، تمہارے رب کا فیصلہ ہو چکا ہے اور یہ عذاب اب ٹلنے والا نہیں ہے (یآِٰ بْرٰ ھِیْمُ اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَآ اِنَّہٗ قَدْ جَآءَ اَمْرُ رَبِّکَ وَاَنَّھُمْ اٰتِیْھِمْ عَذَابٌ غَیْرُ مَرْدُوْدٍ)۔ اس جواب سے جب حضرت ابراہیمؑ کو یہ امید باقی نہ رہی کہ قومِ لوطؑ کی مہلت میں کوئی اضافہ ہو سکے گا، تب انہیں حضرت لوطؑ کی فکر لاحق ہوئی اور انہوں نے وہ بات عرض کی جو یہاں نقل کی گئی ہے کہ ”وہاں تو لوطؑ موجود ہے۔“ یعنی یہ عذاب اگر لوطؑ کی موجودگی میں نازل ہوا تو وہ اور اُن کے اہل و عیال اس سے کیسے محفوظ رہیں گے۔
اس عورت کے متعلق سورۂ تحریم (آیت 1۰) میں بتایا گیا ہے کہ یہ حضرت لوطؑ کی وفادار نہ تھی، اِسی وجہ سے اس کے حق میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ وہ بھی، ایک نبی کی بیوی ہونے کے باوجود، عذاب میں مبتلا کر دی جائے ۔ اغلب یہ ہے کہ حضرت لوطؑ ہجرت کے بعد جب اُردن کے علاقے میں آکر آباد ہوئے ہوں گے تو انہوں نے اسی قوم میں شادی کر لی ہو گی۔ لیکن ان کے صحبت میں ایک عمر گزار دینے کے بعد بھی یہ عورت ایمان نہ لائی اور اس کی ہمدردیاں اور دلچسپیاں اپنی قوم ہی کے ساتھ وابستہ رہیں۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں رشتہ داریاں اور برادریاں کوئی چیز نہیں ہیں، ہر شخص کے ساتھ معاملہ اس کے اپنے ایمان و اخلاق کی بنیاد پر ہوتا ہے ، اس لیے پیغمبر کی بیوی ہونا اس کے لیے کچھ بھی نافع نہ ہو سکا اور اس کا انجام اپنے شوہر کے ساتھ ہونے کے بجائے اپنی اُس قوم کے ساتھ ہُوا جس کے ساتھ اس نے اپنا دین و اخلاق وابستہ کر رکھا تھا۔
وَلَمَّاۤ اَنْ جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّقَالُوْا لَا تَخَفْ وَلَا تَحْزَنْ ۫ اِنَّا مُنَجُّوْكَ وَاَهْلَكَ اِلَّا امْرَاَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ
اس پریشانی اور دل تنگی کی وجہ یہ تھی کہ فرشتے بہت خوبصورت نوخیز لڑکوں کی شکل میں آئے تھے۔ حضرت لوطؑ اپنی قوم کے اخلاق سے واقف تھے، اس لیے ان کے آتے ہی وہ پریشان ہو گئے کہ میں اپنے اِن مہمانوں کو ٹھیراؤں تو اس بد کردار قوم سے ان کو بچانا مشکل ہے، اور نہ ٹھیراؤں تو یہ بڑی بے مروّتی ہے جسے شرافت گوارا نہیں کرتی۔ مزید برآں یہ اندیشہ بھی ہے کہ اگر میں ان مسافروں کو اپنی پناہ میں نہ لوں گا تو رات انہیں کہیں اور گزارنی پڑے گی اور اس کے معنی یہ ہوں گے کہ گویا میں نے خود انہیں بھیڑیوں کے حوالہ کیا۔ اس کے بعد کا قصہ یہاں بیان نہیں کیا گیا ہے۔ اس کی تفصیلات سورۂ ہُود ، الحجر اور القمر میں بیان ہوئی ہیں کہ ان لڑکوں کی آمد کی خبر سُن کر شہر کے بہت سے لوگ حضرت لُوطؑ کے مکان پر ہجوم کر کے آگئے اور اصرار کرنے لگے کہ وہ اپنے ان مہمانوں کو بدکاری کے لیے ان کے حوالے کر دیں۔
یعنی ہمارے معاملہ میں نہ اس بات سے ڈرو کہ یہ لوگ ہمارا کچھ بگاڑ سکیں گے اور نہ اس بات کے لیے فکر مند ہو کہ ہمیں ان سے کیسے بچایا جائے۔ یہی موقع تھا جب فرشتوں نے حضرت لوطؑ پر یہ راز فاش کیا کہ وہ انسان نہیں بلکہ فرشتے ہیں جنہیں اس قوم پر عذاب نازل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے ۔ سورۂ ہُود میں اس کی تصریح ہے کہ جب لوگ حضرت لوطؑ کے گھر میں گھسے چلے آرہے تھے اور آپ نے محسوس کیا کہ اب آپ کسی طرح بھی اپنے مہمانوں کو ان سے نہیں بچا سکتے تو آپ پریشان ہو کر چیخ اُٹھے کہ لَوْ اَنَّ لِیْ بِکُمْ قُوَّۃً اَوْ اٰوِیْٓ اِلیٰ رُکْنٍ شَدِیْدٍ، ”کاش میرے پاس تمہیں ٹھیک کردینے کی طاقت ہوتی یا کسی زور آور کی حمایت میں پا سکتا۔“ اس وقت فرشتوں نے کہا یَا لُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّکَ لَنْ یَّصِلُوْٓا اِلَیْکَ، ”اے لوط، ہم تمہارے ربّ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں ، یہ تم تک ہر گز نہیں پہنچ سکتے۔“
اِنَّا مُنْزِلُوْنَ عَلٰۤی اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ
ہم اس بستی کے لوگوں پر آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں اُس فسق کی بدولت جو یہ کرتے رہے ہیں"
وَلَقَدْ تَّرَكْنَا مِنْهَاۤ اٰیَةً بَیِّنَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ
اس کھلی نشانی سے مراد ہے بحیرۂ مردار جسے بحر لوط بھی کہا جاتا ہے ۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر کفار ِ مکّہ کو خطاب کر کے فرمایا گیا ہے کہ اس ظالم قوم پر اس کے کرتوتوں کی بدولت جو عذاب آیا تھا اس کی ایک نشانی آج بھی شاہراہِ عام پر موجود ہے جسے تم شام کی طرف اپنے تجارتی سفروں میں جاتے ہوئے شب و روز دیکھتے ہو۔ وَاِنَّھَا لَبِسَبِیْلٍ مُّقِیْمٌ (الحجر) اور وَاِنَّکُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَیْہِمْ مُّصْبِحِیْنَ وَ بِا لَّیْلِ (الصّافّات)۔ موجودہ زمانے میں یہ بات قریب قریب یقین کے ساتھ تسلیم کی جارہی ہے کہ بحیرۂ مردار کا جنوبی حصّہ ایک ہولناک زلزلہ کی وجہ سے زمین میں دھنس جانے کی بدولت وجود میں آیا ہے اور اسی دھنسے ہوئے حصّے میں قومِ لوط کا مرکزی شہر سدوم(Sodom ) واقع تھا۔ اس حصّے میں پانی کے نیچے کچھ ڈوبی ہوئی بستیوں کے آثار بھی پائے جاتے ہیں۔ حال میں جدید آلاتِ غوطہ زنی کی مدد سے یہ کوشش شروع ہوئی ہے کہ کچھ لوگ نیچے جا کر ان آثار کی جستجو کریں۔ لیکن ابھی تک ان کوششوں کے نتائج سامنے نہیں آئے ہیں۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ شعراء، حاشیہ 114)۔
عملِ قوم ِ لوط کی شرعی سزا کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد دوم، الاعراف، حاشیہ ۶8۔
وَاِلٰی مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَارْجُوا الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَلَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ
تقابل کے لیے ملاحظہ ہو الاعراف، رکوع 11۔ ہود8۔ الشعراء 1۰۔
اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ۔ ایک یہ کہ آخرت کے آنے کی توقع رکھو ، یہ نہ سمجھو کہ جو کچھ ہے بس یہی دنیوی زندگی ہے اور کوئی دوسری زندگی نہیں ہے جس میں تمہیں اپنے اعمال کا حساب دینا اور جزا و سزا پانا ہو۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ کام کرو جس سے تم آخرت میں انجام بہتر ہونے کی امید کر سکو۔
فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ ؗ
یعنی اس بات کو تسلیم نہ کیا کہ حضرت شعیب ؑ اللہ کے رسول ہیں، اور یہ تعلیم جو وہ دے رہے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، اور اس کو نہ ماننے کا نتیجہ انہیں عذاب ِ الہٰی کی شکل میں بھگتنا ہو گا۔
گھر سے مراد وہ پورا علاقہ ہے جس میں یہ قوم رہتی تھی۔ ظاہر ہے کہ جب ایک پوری قوم کا ذکر ہو رہا ہو تو اس کا گھر اس کا ملک ہی ہو سکتا ہے۔
وَعَادًا وَّثَمُوْدَاۡ وَقَدْ تَّبَیَّنَ لَكُمْ مِّنْ مَّسٰكِنِهِمْ ۫ وَزَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَكَانُوْا مُسْتَبْصِرِیْنَ
عرب کے جن علاقوں میں یہ دونوں قومیں آباد تھیں ان سے عرب کا بچہ بچہ واقف تھا۔ جنوبی عرب کا پورا علاقہ جو اَب اَحقاف، یمن اور حضر موت کے نام سے معروف ہے، قدیم زمانہ میں عاد کا مسکن تھا اور اہلِ عرب اس کو جانتے تھے۔ حجاز کے شمالی حصہ میں رابِعْ سے عَقَبہ تک اور مدینہ و خیبر سے تَیما اور تَبوک تک کا سارا علاقہ آج بھی ثمود کے آثار سے بھر ا ہوا ہےاور نزول قرآن کے زمانہ میں یہ آثار موجودہ حالت سے کچھ زیادہ ہی نمایاں ہوں گے۔
یعنی جاہل و نادان نہ تھے۔ اپنے اپنے وقت کے بڑے ترقی یافتہ لوگ تھے۔ اور اپنی دنیا کے معاملات انجام دینے میں پوری ہوشیاری اور دانائی کا ثبوت دیتے تھے۔ اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ شیطان ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر اور ان کی عقل سلب کر کے انہیں اپنے راستے پر کھینچ لے گیا۔ نہیں، انہوں نے خوب سوچ سمجھ کر آنکھوں دیکھتے شیطان کے پیش کیے ہوئے اُس راستے کو اختیار کیا جس میں انہیں بڑی لذتیں اور منفعتیں نظر آتی تھیں اور انبیاء کے پیش کیے ہوئے اس راستے کو چھوڑ دیا جو انہیں خشک اور بدمزہ اور اخلاقی پابندیوں کی وجہ سے تکلیف دہ نظر آتا تھا۔
وَقَارُوْنَ وَفِرْعَوْنَ وَهَامٰنَ ۫ وَلَقَدْ جَآءَهُمْ مُّوْسٰی بِالْبَیِّنٰتِ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ وَمَا كَانُوْا سٰبِقِیْنَ
اور قارون و فرعون و ہامان کو ہم نے ہلاک کیا۔ موسیٰؑ اُن کے پاس بیّنات لے کر آیا مگر انہوں نے زمین میں اپنی بڑا ئی کا زعم کیا حالانکہ وہ سبقت لے جانے والے نہ تھے۔67
یعنی بھاگ کر اللہ کی گرفت سے بچ نکلنے والے نہ تھے۔ اللہ کی تدبیروں کو ناکام کردینے کی طاقت نہ رکھتے تھے۔
فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِ حَاصِبًا وَمِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّیْحَةُ وَمِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ وَمِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَلٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ
یعنی عاد، جن پر مسلسل سات رات اور آٹھ دن تک سخت ہوا کا طوفان برپا رہا۔ (سورۂ الحاقہ ، آیت 7)۔
یعنی ثمود۔
یعنی قارون۔
یعنی فرعون اور ہامان۔
یہ تمام قصے جو یہاں تک سنائے گئے ہیں ، ان کا روئے سخن دو طرف ہے۔ ایک طرف یہ اہلِ ایمان کو سنائے گئے ہیں تا کہ وہ پست ہمت اور دل شکستہ و مایوس نہ ہوں اور مشکلات و مصائب کے سخت سے سخت طوفان میں بھی صبر و استقلال کے ساتھ حق و صداقت کا عَلم بلند کیے رکھیں ، اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں کہ آخر کار اس کی مدد ضرور آئے گی اور وہ ظالموں کو نیچا دکھائے گا اور کلمہ ٔ حق کو سربلند کر دے گا۔ دوسری طرف یہ اُن ظالموں کو بھی سنائے گئے ہیں جو اپنے نزدیک تحریک ِ اسلامی کا بالکل قلع قمع کر دینے پر تلے ہوئے تھے۔ ان کو متنبہ کیا گیا ہے کہ تم خدا کے حِلم اور اس کی بردباری کا غلط مطلب لے رہے ہو ۔ تم نے خدا کی خدائی کو اندھیر نگری سمجھ لیا ہے ۔ تمہیں اگر بغاوت و سرکشی اور ظلم و ستم اور بداعمالیوں پر ابھی تک نہیں پکڑا گیا ہے اور سنبھلنے کے لیے محض ازراہِ عنایت لمبی مہلت دی گئی ہے تو تم اپنی جگہ یہ سمجھ بیٹھے ہو کہ یہاں کوئی انصاف کر نے والی طاقت سرے سے ہے ہی نہیں اوراس زمین پر جس کا جو کچھ جی چاہے بلا نہایت کیے جا سکتا ہے۔ یہ غلط فہمی آخر کا تمہیں جس انجام سے دوچار کر کے رہے گی وہ وہی انجام ہے جو تم سے پہلے قومِ نوحؑ اور قومِ لوطؑ اور قومِ شعیبؑ دیکھ چکی ہے، جس سے عاد و ثمود دوچار ہو چکے ہیں ، اور جسے قارون و فرعون نے دیکھا ہے۔
مَثَلُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ كَمَثَلِ الْعَنْكَبُوْتِ اِتَّخَذَتْ بَیْتًا ؕ وَاِنَّ اَوْهَنَ الْبُیُوْتِ لَبَیْتُ الْعَنْكَبُوْتِ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ
جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسرے سرپرست بنا لیے ہیں اُن کی مثال مکڑی جیسی ہے جو اپنا ایک گھر بناتی ہے اور سب گھروں سے زیادہ کمزور گھر مکڑی کا گھر ہی ہوتا ہے۔ کاش یہ لوگ علم رکھتے۔73
اوپر جتنی قوموں کا ذکر کیا گیا ہے وہ سب شرک میں مبتلا تھیں اور اپنے معبودوں کے متعلق ان کا عقیدہ یہ تھا کہ یہ ہمارے حامی و مددگار اور سرپرست (Guardians ) ہیں، ہماری قسمتیں بنانے اور بگاڑنے کی قدرت رکھتے ہیں ، ان کی پوجا پاٹ کر کے اور انہیں نذر و نیاز دے کر جب ہم ان کی سر پرستی حاصل کر لیں گے تو یہ ہمارے کام بنائیں گے اور ہم کو ہر طرح کی آفات سے محفوظ رکھیں گے۔ لیکن جیسا کہ اوپر کے تاریخی واقعات میں دکھایا گیا ہے ، ان کے یہ تمام عقائد و اوہام اُس وقت بالکل بے بنیاد ثابت ہو ئے جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی بربادی کا فیصلہ کر دیا گیا۔ اُس وقت کوئی دیوتا، کوئی اوتار، کوئی ولی، کوئی روح اور کوئی جن یا فرشتہ ، جسے وہ پوجتے تھے، ان کی مدد کو نہ آیا اور اپنی باطل توقعات کی ناکامی پر کفِ افسوس ملتے ہوئے وہ سب پیوند خاک ہو گئے۔ ان واقعات کو بیان کرنے کے بعد اب اللہ تعالیٰ مشرکین کو متنبہ کر رہا ہے کہ کائنات کے حقیقی مالک و فرمانروا کو چھوڑ کر بالکل بے اختیار بندوں اور سراسر خیالی معبودوں کے اعتماد پر جو توقعات کاگھروندا تم نے بنا رکھا ہے اس کی حقیقت مکڑی کے جالے سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ جس طرح مکڑی کا جالا ایک انگلی کی چوٹ بھی برداشت نہیں کر سکتا اسی طرح تمہاری توقعات کا یہ گھروندا بھی خدا کی تدبیر سے پہلا تصادم ہوتے ہی پاش پاش ہو کر رہ جائے گا۔ یہ محض جہالت کا کرشمہ ہے کہ تم اوہام کے اس چکّر میں پڑے ہوئے ہو۔ حقیقت کا کچھ بھی علم تمہیں ہوتا تو تم ان بے بنیاد سہاروں پر اپنا نظامِ حیات کبھی تعمیر نہ کرتے۔ حقیقت بس یہ ہے کہ اختیارات کا مالک اس کائنات میں ایک ربُّ العالمین کے سوا کوئی نہیں ہے اور اسی کا سہارا ہے جس پر اعتماد کیا جا سکتا ہے۔ فَمَنْ یَّکْفُرْ بَا لطَّا غُوْتِ وَیُؤْ مِنْم بِا اللہِ فَقَدِ اسْتَمَسَکَ بِا الْعُرْ وَۃِ الْوُثْقٰی لَا انْفِصَامَ لَھَا وَاللہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌo (البقرہ۔ آیت 25۶)۔ ”جو طاغوت سے کفر کرے اور اللہ پر ایمان لائے اُس نے وہ مضبوط سہارا تھام لیا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں ہے اور اللہ سب کچھ سُننے اور جاننے والا ہے۔“
اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ ؕ وَهُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ
یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر جس چیز کو بھی پکارتے ہیں اللہ اُسے خوب جانتا ہے اور وہی زبردست اور حکیم ہے۔74
یعنی اللہ ان سب چیزوں کی حقیقت خوب معلوم ہے جنہیں یہ لوگ معبود بنائے بیٹھے ہیں اور مدد کے لیے پکارتے ہیں۔ ان کے اختیار میں کچھ بھی نہیں ہے۔ طاقت کا مالک صرف اللہ ہی ہے اور اسی کی تدبیر و حکمت اس کائنات کا نظام چلا رہی ہے۔
وَتِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ وَمَا یَعْقِلُهَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ
یہ مثالیں ہم لوگوں کی فہمائش کے لیے دیتے ہیں، مگر ان کو وہی لوگ سمجھتے ہیں جو علم رکھنے والے ہیں
خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ
یعنی کائنات کا یہ نظام حق پر قائم ہے نہ کہ باطل پر۔ اس نظام پر جو شخص بھی صاف ذہن کے ساتھ غور کرے گا اس پر یہ بات کھل جائے گی کہ یہ زمین و آسمان اوہام و تخیلات پر نہیں بلکہ حقیقت و واقعیت پر کھڑے ہیں۔ یہاں اس امر کا کوئی امکان نہیں ہے کہ ہر شخص اپنی جگہ جو کچھ بھی سمجھ بیٹھے اور اپنے وہم و گمان سے جو فلسفہ بھی گھڑلے وہ ٹھیک بیٹھ جائے۔ یہاں تو صرف وہی چیز کامیاب ہو سکتی ہے اور قرار و ثبات پا سکتی ہے جو حقیقت اور واقعہ کے مطابق ہو۔ خلاف واقعہ قیاسات اور مفروضات پر جو عمارت بھی کھڑی کی جائے گی وہ آخر کار حقیقت سے ٹکرا کر پاش پاش ہو جائے گی۔ یہ نظامِ کائنات صاف شہادت دے رہا ہے کہ ایک خدا اس کا خالق ہے اور ایک ہی خدا اس کا مالک و مدبّر ہے۔ اس امر واقعی کے خلاف اگر کوئی شخص اس مفروضے پر کام کرتا ہے کہ اس دنیا کا کوئی خدا نہیں ہے، یا یہ فرض کر کے چلتا ہے کہ اس کے بہت سے خدا ہیں جو نذر و نیاز کا مال کھا کر اپنے عقید تمندوں کو یہاں سب کچھ کرنے کی آزادی اور بخیریت رہنے کی ضمانت دے دیتے ہیں ، تو حقیقت اس کے اِن مفروضات کی بدولت ذرّہ برابر بھی تبدیل نہ ہو گی بلکہ وہ خود ہی کسی وقت ایک صدمۂ عظیم سے دوچار ہو گا۔
یعنی زمین و آسمان کی تخلیق میں توحید کی صداقت اور شرک و دہریت کے بطلان پر ایک صاف شہادت موجود ہے، مگر اس شہادت کو صرف وہی لوگ پاتے ہیں جو انبیاء علیہم السلام کی پیش کی ہوئی تعلیمات کو مانتے ہیں۔ ان کا انکار کردینے والوں کو سب کچھ دیکھنے پر بھی کچھ دکھائی نہیں دیتا۔
اُتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ ؕ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْكَرِ ؕ وَلَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُ ؕ وَاللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ
خطاب بظاہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے ، مگر دراصل مخاطب تمام اہلِ ایمان ہیں۔ ان پر جو ظلم و ستم اُس وقت توڑے جا رہے تھے ، اور ایمان پر قائم رہنے میں جن شدید حوصلہ شکن مشکلات سے ان کو سابقہ پیش آرہا تھا ، ان کا مقابلہ کرنے لیے پچھلے چار رکوعوں میں صبر و ثبات اور توکل علی اللہ کی مسلسل تلقین کرنے کے بعد اب انہیں عملی تدبیر یہ بتائی جارہی ہے کہ قرآن کی تلاوت کریں اور نماز قائم کریں ، کیونکہ یہی دو چیزیں ایسی ہیں جو ایک مومن میں وہ مضبوط سیرت اور وہ زبر دست صلاحیت پیدا کرتی ہیں جن سے وہ باطل کی بڑی سے بڑی طغیانیوں اور بدی کے سخت سے سخت طوفانوں کے مقابلہ میں نہ صرف کھڑا رہ سکتا ہے بلکہ ان کا منہ پھیر سکتا ہے۔ لیکن تلاوتِ قرآن اور نماز سے یہ طاقت انسان کو اسی وقت حاصل ہو سکتی ہے جبکہ وہ قرآن کے محض الفاظ کی تلاوت پر اکتفا نہ کرے بلکہ اس کی تعلیم کو ٹھیک ٹھیک سمجھ کر اپنی روح میں جذب کرتا چلا جائے ، اور اس کی نماز صرف حرکات بدن تک محدود نہ رہے، بلکہ اس کے قلب کا وظیفہ اور اس کے اخلاق و کردار کی قوتِ محرکہ بن جائے۔ نماز کے وصفِ مطلوب کو تو آگے کے فقرے میں قرآن خود بیان کر رہا ہے۔ رہی تلاوت تو اس کے متعلق یہ جان لینا چاہیے کہ جو تلاوت آدمی کے حلق سے تجاوز کر کے اس کے دل تک نہیں پہنچتی وہ اسے کفر کی طغیانیوں کے مقابلے کی طاقت تو درکنار خود ایمان پر قائم رہنے کی طاقت بھی نہیں بخش سکتی، جیسا کہ حدیث میں ایک گروہ کے متعلق آیا ہے کہ یَقْرَ أُ وْنَ القراٰن ولا یجاوز حنا جر ھم، یمرقون من الدین مروق السہم من الر مِیّۃ ۔ ”وہ قرآن پڑھیں گے مگر قرآن اُن کے حلق سے نیچے نہیں اُترے گا، وہ دین سے اِس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نِکل جاتا ہے۔“(بخاری، مسلم، مؤطّا)۔ درحقیقت جس تلاوت کے بعد آدمی کے ذہن و فکر اور اخلاق و کردار میں کوئی تبدیلی نہ ہو بلکہ قرآن پڑھ کر بھی آدمی وہ سب کچھ کر تا رہے جس سے قرآن منع کرتا ہے وہ ایک مومن کی تلاوت ہے ہی نہیں۔ ا س کے متعلق تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم صاف فرماتے ہیں کہ ما اٰمن بالقراٰن من استحل محارمہ، ”قرآن پر ایمان نہیں لایا وہ شخص جس نے اس کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال کر لیا۔“ (ترمذی بروایت صُہَیب رومی رضی اللہ عنہ)۔ ایسی تلاوت آدمی کے نفس کی اصلاح کرنے اور اس کی روح کو تقویت دینے کے بجائے اس کو اپنے خدا کے مقابلہ میں اور زیادہ ڈھیٹ اور اپنے ضمیر کے آگے اور زیادہ بے حیا بنا دیتی ہے اور اس کے اندر کیرکٹر نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہنے دیتی۔ کیونکہ جو شخص قرآن کو خدا کی کتاب مانے اور اسے پڑھ کر یہ معلوم بھی کرتا رہے کہ اس کے خدا نے اسے اسے کیا ہدایات دی ہیں اور پھر اس کی ہدایات کی خلاف ورزی کرتا چلا جائے اس کا معاملہ تو اس مجرم کا سا ہے جو قانون سے ناواقفیت کی بنا پر نہیں بلکہ قانون سے خوب واقف ہونے کے بعد جرم کا ارتکاب کرتا ہے۔ اس پوزیشن کو سرکار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مختصر سے فقرے میں بہترین طریقے پر یوں واضح فرمایا ہے کہ القراٰن حجّۃ لک او علیک، ”قرآن حجت ہے تیرے حق میں یا تیرے خلاف“(مسلم)۔ یعنی اگر تو قرآن کی ٹھیک ٹھیک پیروی کرتا ہے تو وہ تیرے حق میں حجت ہے۔ دنیا سے آخرت تک جہاں بھی تجھ سے باز پرس ہو ، تو اپنی صفائی میں قرآن پیش کر سکتا ہے کہ میں نے جو کچھ کیا ہے اس کتاب کے مطابق کیا ہے۔ اگر تیرا عمل واقعی اس کے مطابق ہُوا تو نہ دنیا میں کوئی قاضیٔ اسلام تجھے سزا دے سکے گا اور نہ آخرت میں داورِ محشر ہی کے ہاں اس پر تیری پکڑ ہو گی۔ لیکن اگر یہ کتاب تجھے پہنچ چکی ہو ، اور تو نے اسے پڑھ کر یہ معلوم کر لیا ہو کہ تیر ا ربّ تجھ سے کیا چاہتا ہے ، کس چیز کو تجھے حکم دیتا ہے اور کس چیز سے تجھے منع کرتا ہے، اور پھر تُو اس کے خلاف رویّہ اختیار کرے تو یہ کتاب تیرے خلاف حجت ہے۔ یہ تیرے خدا کی عدالت میں تیرے خلاف فوجداری کا مقدمہ اور زیادہ مضبوط کر دے گی۔ اس کے بعد ناواقفیت کا عذر پیش کر کے بچ جانا یا ہلکی سزا پانا تیرے لیے ممکن نہ رہے گا۔
یہ نماز کے بہت سے اوصاف میں سے ایک اہم وصف ہے جسے موقع و محل کی مناسبت سے یہاں نمایاں کر کے پیش کیا گیا ہے ۔ مکّہ کے اُس ماحول میں جن شدید مزاحمتوں سے مسلمانوں کو سابقہ درپیش تھا ان کا مقابلہ کرنے کے لیے انہیں مادّی طاقت سے بڑھ کر اخلاقی طاقت درکار تھی۔ اس اخلاقی طاقت کی پیدائش اور اس کے نشوونما کے لیے پہلے دو تدبیروں کی نشان دہی کی گئی۔ ایک تلاوتِ قرآن۔ دوسرے اقامتِ صلوٰۃ۔ اس کے بعد اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ اقامتِ صلوٰۃ وہ ذریعہ ہے جس سے تم لوگ اُن برائیوں سے پاک ہو سکتے ہو جن میں اسلام قبول کرنے سے پہلے تم خود مبتلا تھے اور جن میں تمہارے گردوپیش اہلِ عرب کی اور عرب سے باہر کی جاہلی سوسائٹی اِس وقت مبتلا ہے۔ غور کیا جائے تو یہ بات بآسانی سمجھ میں آسکتی ہے کہ اس موقع پر نماز کے اس خاص فائدے کا ذکر کیوں کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اخلاقی برائیوں سے پاک ہونا اپنے اندر صرف اتنا ہی فائدہ نہیں رکھتا کہ یہ بجائے خود اُن لوگوں کے لیے دنیا و آخرت میں نافع ہے جنہیں یہ پاکیزگی حاصل ہو، بلکہ اس کا لازمی فائدہ یہ بھی ہے کہ اس سے اُن کو اُن سب لوگو ں پر زبردست برتری حاصل ہو جاتی ہے جو طرح طرح کی اخلاقی برائیوں میں مبتلا ہوں اور جاہلیت کے اُس ناپاک نظام کو، جو اُن برائیوں کو پرورش کرتا ہے، برقرار رکھنے کے لیے اِن پاکیزہ انسانوں کے مقابلہ میں ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہوں۔ فحشاء اور منکر کا اطلاق جن برائیوں پر ہوتا ہے انہیں انسان کی فطرت بُرا جانتی ہے اور ہمیشہ سے ہر قوم اور ہر معاشرے کے لوگ، خواہ وہ عملًا کیسے ہی بگڑے ہوئے ہوں، اصولًا ان کو بُرا ہی سمجھتے رہے ہیں۔ نزولِ قرآن کے وقت عرب کا معاشرہ بھی اس عام کلیے سے مستثنیٰ نہ تھا۔ اس معاشرے کے لوگ بھی اخلاق کی معروف خوبیوں اور برائیوں سے واقف تھے، بدی کے مقابلے میں نیکی کی قدر پہچانتے تھے، اور شاید ہی ان کے اندر کوئی ایسا شخص ہو جو برائی کو بھلائی سمجھتا ہو یا بھلائی کو بُری نگاہ سے دیکھتا ہو۔ اس حالت میں اس بگڑے ہوئے معاشرے کے اندر کسی ایسی تحریک کا اُٹھنا جس سے وابستہ ہو تے ہی اُسی معاشرے کے افراد اخلاقی طور پر بدل جائیں اور اپنی سیرت و کردار میں اپنے ہم عصروں سے نمایاں طور پر بلند ہو جائیں ، لا محالہ اپنا اثر کیے بغیر نہ رہ سکتا تھا۔ ممکن نہ تھا کہ عرب کے عام لوگ برائیوں کو مٹانے والی اور نیک اور پاکیزہ انسان بنانے والی اس تحریک کا اخلاقی وزن محسوس نہ کرتے اور اس کے مقابلے میں محض جاہلی تعصبات کے کھوکھلے نعروں کی بنا پر اُن لوگوں کا ساتھ دیے چلے جاتے جو خود اخلاقی برائیوں میں مبتلا تھے اور جاہیت کے اُس نظام کو قائم رکھنے کے لیے لڑ رہے تھے جو اُن برائیوں کو صدیوں سے پرورش کر رہا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے اس موقع پر مسلمانوں کو مادی وسائل اور طاقتیں فراہم کرنے کے بجائے نماز قائم کرنے کی تلقین کی تا کہ یہ مٹھی بھر انسان اخلاق کی وہ طاقت اپنے اندر پیدا کر لیں جو لوگوں کے دل جیت لے اور تیر و تفنگ کے بغیر دشمنوں کو شکست دیدے۔ نماز کی یہ خوبی جو اس آیت میں بیان کی گئی ہے ، اس کے دو پہلو ہیں۔ ایک اس کا وصفِ لازم ہے ، یعنی یہ کہ وہ فحشاء اور منکر سے روکتی ہے ، اور دوسرا اس کا وصفِ مطلوب ہے ، یعنی یہ کہ اس کا پڑھنے والا واقعی فحشاء اور مُنکر سے رُک جائے۔ جہاں تک روکنے کا تعلق ہے ، نماز لازماً یہ کام کرتی ہے ۔ جو شخص بھی نماز کی نوعیت پر ذرا سا غور کرے گا وہ تسلیم کرے گا کہ انسان کو بُرائیوں سے روکنے کے لیے جتنے بریک بھی لگا نے ممکن ہیں ان میں سب سے زیادہ کاریگر بریک نماز ہی ہو سکتی ہے۔ آخر ا سے بڑھ کر مؤثر مانع اور کیا ہو سکتا ہے کہ آدمی کو ہر روز دن میں پانچ وقت خدا کی یاد کے لیے بلایا جائے اور اس کے ذہن میں یہ بات تازہ کی جائے کہ تُو اِس دنیا میں آزاد و خود مختار نہیں ہے بلکہ ایک خدا کا بندہ ہے، اور تیرا خدا وہ ہے جو تیرے کھلے اور چھپے تمام اعمال سے، حتیٰ کہ تیرے دل کے ارادوں اور نیتوں تک سے واقف ہے، اور ایک وقت ضرور ایسا آنا ہے جب تجھے اُس خدا کے سامنے پیش ہو کر اپنے اعمال کی جواب دہی کر نی ہو گی۔ پھر اس یاددہانی پر بھی اکتفا نہ کی جائے بلکہ آدمی کو عملاً ہر نماز کے وقت اِس بات کی مشق کرائی جاتی رہے کہ وہ چھُپ کر بھی اپنے خدا کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہ کرے۔ نماز کے لیے اُٹھنے کے وقت سے لے کر نماز ختم کرنے تک مسلسل آدمی کو وہ کام کرنے پڑتے ہیں جن میں اس کے اور خدا کے سوا کوئی تیسری ہستی یہ جاننے والی نہیں ہوتی کہ اس شخص نے خدا کے قانون کی پابندی کی ہے یا اسے توڑ دیا ہے۔ مثلاً اگر آدمی کا وضو ساقط ہو چکا ہو اور وہ نماز پڑھنے کھڑا ہو جائے تو اس کے اور خدا کے سوا آخر کسے معلوم ہو سکتا ہے کہ وہ وضو سے نہیں ہے۔ اگر آدمی نماز کی نیت ہی نہ کرے اور بظاہر رکوع و سجود اور قیام و قعود کرتے ہوئے اذکارِ نماز پڑھنے کے بجائے خاموشی کے ساتھ غزلیں پڑھتا رہے تو اس کے اور خدا کے سوا کس پر یہ راز فاش ہو سکتا ہے کہ اس نے دراصل نماز نہیں پڑھی ہے۔ اس کے باوجود جب آدمی جسم اور لباس کی طہارت سے لے کر نماز کے ارکان اور اذکار تک قانونِ خداوندی کی تمام شرائط کے مطابق ہر روز پانچ وقت نماز ادا کرتا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس نماز کے ذریعہ سے روزانہ کئی کئی بار اس کے ضمیر میں زندگی پیدا کی جارہی ہے ، اس میں ذمہ داری کا احساس بیدا کیا جا رہا ہے، اسے فرض شناس انسان بنایا جا رہا ہے، اور اس کو عملاً اس بات کی مشق کرائی جا رہی ہے کہ وہ خود اپنے جذبۂ اطاعت کے زیر اثر خفیہ اور عَلانیہ ہر حال میں اُس قانون کی پابندی کرے جس پر وہ ایمان لایا ہے، خواہ خارج میں اس سے پابندی کرانے والی کوئی طاقت موجود ہو یا نہ ہو اور خواہ دنیا کے لوگوں کو اس کے عمل کا حال معلوم ہو یا نہ ہو۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ ماننے کے سوا چارہ نہیں ہے کہ نماز صرف یہی نہیں کہ آدمی کو فحشاء و منکر سے روکتی ہے بلکہ درحقیقت دنیا میں کوئی دوسرا طریقِ تربیت ایسا نہیں ہے جو انسان کو برائیوں سے روکنے کے معاملہ میں اس درجہ مؤثر ہو۔ اب رہا یہ سوال کہ آدمی نماز کی پابندی اختیار کرنے کے بعد عملاً بھی برائیوں سے رُکتا ہے یا نہیں، تو اس کا انحصار خود اس آدمی پر ہے جو اصلاحِ نفس کی یہ تربیت لے رہا ہو۔ وہ اس سے فائدہ اُٹھانے کی نیت رکھتا ہو اور اس کی کوشش کرے تو نماز کے اصلاحی اثرات اس پر مترتب ہوں گے، ورنہ ظاہر ہے کہ دنیا کی کوئی تدبیر اصلاح بھی اس شخص پر کارگر نہیں ہوکستی جو اس کا اثر قبول کرنے کے لیے تیار ہی نہ ہو، یا جان بوجھ کر اس کی تاثیر کو دفع کرتا رہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے غذا کی لازمی خاصیت بدن کا تغذیہ اور نشوونما ہے، لیکن یہ فائدہ اسی صورت میں حاصل ہو سکتا ہے جبکہ آدمی اسے جزو بدن بننے دے۔ اگر کوئی شخص ہر کھانے کے بعد فوراً ہی قے کر کے ساری غذا باہر نکا لتا چلا جائے تو اس طرح کھانا اس کے لیے کچھ بھی نافع نہیں ہو سکتا۔ جس طرح ایسے شخص کی نظیر سامنے لا کر آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ غذا موجب ِ تغذیۂ بدن نہیں ہے کیونکہ فلاں شخص کھانا کھانے کے با وجود سوکھتا چلا جا رہا ہے ،اسی طرح بد عمل نمازی کی مثال پیش کر کے آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ نماز برائیوں سے روکنے والی نہیں ہے کیونکہ فلاں شخص نماز پڑھنے کے باوجود بد عمل ہے۔ ایسے نمازی کے متعلق تو یہ کہنا زیادہ صحیح ہے کہ وہ در حقیقت نماز نہیں پڑھتا جیسے کھانا کھا کر قے کر دینے کے متعلق یہ کہنا زیادہ صحیح ہے کہ وہ در حقیقت کھانا نہیں کھاتا۔ ٹھیک یہی بات ہے جو متعدد احادیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور بعض اکابر صحابہ و تابعین سے مروی ہوئی ہے۔ عِمْران بن حُصَین کی روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا : من لم تنھہ صلاتہ عن الفحشاء و المنکر فلا صلاۃ لہُ، ” جسے اس کی نماز نے فحش اور بُرے کاموں سے نہ روکا اس کی نماز نہیں ہے۔“ (ابن ابی حاتم)۔ ابن عباس حضور ؐ کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں: من لم تنھہ صلوٰتہ عن الفحشاء و المنکر لم یزددبھا من اللہ الّا بعد ا، ”جس کی نماز نے اسے فحش اور بُرے کاموں سے نہ روکا اس کو اس کی نماز نے اللہ سے اور زیادہ دُور کر دیا۔“ (ابن ابی حاتم۔ طَبَرانی)۔ یہی مضمون جناب حسن بصریؒ نے بھی حضورؐ سے مرسلاً روایت کیا ہے (ابن جریر۔ بیہقی)۔ ابن مسعود ؓ سے حضورؐ کا یہ ارشاد مروی ہے: لا صلوٰۃ لمن لم یطع الصلوۃ وطاعۃ الصلوٰۃ ان تنہی عن الفحشاء و المنکر، ” اس شخص کی کوئی نماز نہیں ہے جس نےنماز کی اطاعت نہ کی ، اور نماز کی اطاعت یہ ہے کہ آدمی فحشاء و منکر سے رُک جائے“(ابن جریر، ابن ابی حاتم)۔ اسی مضمون کے متعدد اقوال حضرات عبد اللہ بن مسعود، عبد اللہ بن عباس، حسن بصری، قتادہ اور اَعْمَش وغیرہم سے منقول ہیں۔ امام جعفر صادق فرماتے ہیں ، جو شخص یہ معلوم کرنا چاہے کہ اس کی نماز قبول ہوئی ہے یا نہیں، اسے دیکھنا چاہیے کہ اس کی نماز نے اسے فحشاء اور منکر سے کہاں تک باز رکھا۔ اگر نماز کے روکنے سے وہ برائیاں کرنے سے رُک گیا ہے تو اس کی نماز قبول ہوئی ہے ( رُوح المعانی)۔
اس کے کئی معنی ہو سکتے ہیں: ایک یہ کہ اللہ کا ذکر (یعنی نماز) اِس سے بزرگ تر ہے۔ اُس کی تاثیر صرف سلبی ہی نہیں ہے کہ برائیوں سے روکے، بلکہ اِس سے بڑھ کر وہ نیکیوں پر ابھارنے والی اور سبقت الی الخیرات پر آمادہ کرنے والی چیز بھی ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی یاد بجائے خود بہت بڑی چیز ہے ۔ خیر الاعمال ہے۔ انسان کا کوئی عمل اس سے افضل نہیں ہے۔ تیسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا تمہیں یاد کرنا تمہارے اُس کو یاد کرنے سے زیادہ بڑی چیز ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشا د ہے کہ فَا ذْ کُرُوْنِیْٓ اَذْکُرْکُمْ (البقرہ، آیت 152)۔ ”تم مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد کروں گا۔“ پس جب بندہ نماز میں اللہ کو یاد کرے گا تو لا محالہ اللہ بھی اس کو یاد کرے گا۔ اور یہ فضیلت کہ اللہ کسی بندے کو یاد کرے، اِس سے بزرگ تر ہے کہ بندہ اللہ کو یاد کرے۔ ان تین مطالب کے علاوہ ایک اور لطیف مطلب یہ بھی ہے جسے حضرت ابوالدَّرداء رضی اللہ عنہ کی اہلیۂ محترمہ نے بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یاد نماز تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا دائرہ اس سے بہت زیادہ وسیع ہے۔ جب آدمی روزے رکھتا ہے ، یا زکوٰۃ دیتا ہے یا کوئی نیک کام کرتا ہے تو لامحالہ اللہ کو یاد ہی کرتا ہے، تبھی تو اس سے وہ عمل نیک صادر ہوتا ہے۔ اسی طرح جب آدمی کسی برائی کے مواقع سامنے آنے پر اس سے پرہیز کرتا ہے تو یہ بھی اللہ کی یاد ہی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس لیے یادِ الہٰی ایک موجن کی پوری زندگی پر حاوی ہوتی ہے۔
وَلَا تُجَادِلُوْۤا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ وَقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَاُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَاِلٰهُنَا وَاِلٰهُكُمْ وَاحِدٌ وَّنَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ
pواضح رہے کہ آگے چل کر اِسی سورہ میں ہجرت کی تلقین کی جارہی ہے۔ اُس وقت حبش ہی ایک ایسا مامن تھا جہاں مسلمان ہجرت کر کے جا سکتے تھے۔ اور حبش پر اس زمانے میں عیسائیوں کا غلبہ تھا۔ اس لیے اِن آیات میں مسلمانوں کو ہدایات دی جارہی ہیں کہ اہلِ کتاب سے جب سابقہ پیش آئے تو ان سے دین کے معاملہ میں بحث و کلام کا کیا انداز اختیار کریں۔/p
pیعنی مباحثہ معقول دلائل کے ساتھ، مہذب و شائستہ زبان میں، اور افہام و تفہیم کی اسپرٹ میں ہونا چاہیے ، تا کہ جس شخص سے بحث کی جارہی ہو اس کے خیالات کی اصلا ح ہو سکے۔ مبلّغ کو فکر اس بات کی ہونی چاہیے کہ وہ مخاطب کے دل کا دروازہ کھول کر حق بات اس میں اتار دے اور اسے راہِ راست پر لائے۔ اس کو ایک پہلوان کی طرح نہیں لڑنا چاہیے جس کا مقصد اپنے مد مقابل کو نیچا دکھانا ہوتا ہے۔ بلکہ اس کو ایک حکیم کی طرح چارہ گری کرنی چاہیے جو مریض کا علاج کرتے ہوئے ہر وقت یہ بات ملحوظ ِ خاطر رکھتا ہے کہ اس کی اپنی کسی غلطی سے مریض کا مرض اور زیادہ بڑھ نہ جائے، اور اس امر کی پوری کوشش کرتا ہے کہ کم سے کم تکلیف کے ساتھ مریض شفایاب ہو جائے۔ یہ ہدایت اس مقام پر تو موقع کی مناسبت سے اہلِ کتاب کے ساتھ مباحثہ کرنے کے معاملہ میں دی گئی ہے ، مگر یہ اہلِ کتاب کے لیے مخصوص نہیں ہے بلکہ تبلیغ دین کے باب میں ایک عام ہدایت ہے جو قرآن مجید میں جگہ جگہ دی گئی ہے مثلاً:/ppاُدْعُ اِلیٰ سِبِیْلِ رَبِّکَ بِا لْحِکْمَۃِ وَالْمَوْ عِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَا دِلْہُمْ بِا لَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ۔ (النحل۔ آیت 125)۔/pp”دعوت دو اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور عمدہ پند و نصیحت کے ساتھ۔ اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقے پر جو بہترین ہو۔“/ppوَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ وَلَا السَّیَِّٔۃُ اِدْفَعْ بِا لَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ فَاِ ذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَ نَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌo (حم السجدہ ۔ آیت 34)/pp”بھلائی اور برائی یکساں نہیں ہیں ( مخالفین کے حملوں کی) مدافعت ایسے طریقہ سے کرو جو بہترین ہو ، تم دیکھو گے کہ وہی شخص جس کے اور تمہارے درمیان عداوت تھی وہ ایسا ہو گیا جیسے گرم جوش دوست ہے۔“/ppاِدْفَعْ بِا لَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ السَّیَِّٔۃَ ط نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ o (المومنون۔ آیت 9۶)/pp”تم بدی کو اچھے ہی طریقہ سے دفع کرو ہمیں معلوم ہے جو باتیں وہ (تمہارے خلاف) بناتے ہیں۔“/ppخُذِ الْعَفْوَ و َأْ مُرْ بِا لْعُرْ فِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجَا ھِلِیْنَ o وَاِمَّا یَنْزَ غَنَّکَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَا سْتَعِذْ بِاللہِ۔ (الاعراف۔ آیات 199-2۰۰)/pp”درگزر کی روش اختیار کرو، بھلائی کی تلقین کرو ، اور جاہلوں کے منہ نہ لگو، اور اگر (ترکی بہ ترکی جواب دینے کے لیے ) شیطان تمہیں اُکسائے تو اللہ کی پناہ مانگو۔“/p
pیعنی جو لوگ ظلم کا رویّہ اختیار کریں ان کے ساتھ ان کے ظلم کی نوعیت کے لحاظ سے مختلف رویّہ بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہر وقت ہر حال میں اور ہر طرح کے لوگوں کے مقابلہ میں نرم و شیریں ہی نہ بنے رہنا چاہیے کہ دنیا داعیِٔ حق کی شرافت کو کمزوری اور مسکنت سمجھ بیٹھے۔ اسلام اپنے پیرووں کو شائستگی اور معقولیت تو ضرور سکھاتا ہے مگر عاجزی و مسکینی نہیں سکھاتا کہ وہ ہر ظاہر کے لیے نرم چارہ بن کر رہیں۔/p
pاِن فقروں میں اللہ تعالیٰ نے خود اُس عُمدہ طریقِ بحث کی طرف رہنمائی فرمائی ہے جسے تبلیغِ حق کی خدمت انجام دینے والوں کو اختیار کرنا چاہیے۔ اس میں یہ سکھایا گیا ہے کہ جس شخص سے تمہیں بحث کرتی ہو اُس کی گمراہی کو بحث کا نقطۂ آغاز نہ بناؤ، بلکہ بات اِس سے شروع کرو کہ حق و صداقت کے وہ کونسے اجزاء ہیں جو تمہارے اور اس کے درمیان مشترک ہیں۔ یعنی آغازِ کلام نکاتِ اختلاف سے نہیں بلکہ نکاتِ اتفاق سے ہونا چاہیے، پھر انہی متفق علیہ امور سے استدلال کر کے مخاطب کو یہ سمجھانے کی کوشش کرنی چاہیے کہ جن امور میں تمہارے اور ا کے درمیان اختلاف ہے ان میں تمہارا مسلک متفق علیہ بنیادوں سے مطابقت رکھتا ہے اور اس کا مسلک ان سے متضاد ہے۔/ppاس سلسلے میں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اہلِ کتاب مشرکینِ عرب کی طرح وحی و رسالت اور توحید کے منکر نہ تھے بلکہ مسلمانوں کی طرح اِن سب حقیقتوں کو مانتے تھے۔ اِن بُنیادی امور میں اتفاق کے بعد اگر کوئی بڑی چیز بنیادِ اختلاف ہو سکتی تھی تو وہ یہ کہ مسلمان ان کے ہاں آئی ہوئی آسمانی کتابوں کو نہ مانتے اور اپنے ہاں آئی ہو ئی کتاب پر ایمان لانے کی اُنہیں دعوت دیتے اور ان کے نہ ماننے پر انہیں کافر قرار دیتے۔ یہ جھگڑے کی بڑی مضبوط وجہ ہوتی۔ لیکن مسلمانوں کا موقف اس سے مختلف تھا۔ وہ تمام اُن کتابوں کو برحق تسلیم کرتے تھے جو اہلِ کتاب کے پاس موجود تھیں اور پھر اُس وحی پر ایمان لائے تھے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تھی۔ اس کے بعد یہ بتانا اہلِ کتاب کا کام تھا کہ کس معقول وجہ سے وہ خدا ہی کی نازل کردہ ایک کتاب کو مانتے اور دوسری کتاب کا انکار کرتے ہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں مسلمانوں کو تلقین فرمائی ہے کہ اہلِ کتاب سے جب سابقہ پیش آئے تو سب سے پہلے مثبت طور پر اپنا یہی موقف ان کے سامنے پیش کرو۔ ان سے کہو کہ جس خدا کو تم مانتے ہو اسی کو ہم مانتے ہیں اور ہم اس کے فرماں بردار ہیں۔ اس کی طرف سے جو احکام و ہدایات اور تعلیمات بھی آئی ہیں ان سب کے آگے ہمارا سر ِتسلیم خم ہے، خواہ وہ تمہارے ہاں آئی ہوں یا ہمارے ہاں۔ ہم تو حکم کے بندے ہیں۔ ملک اور قوم اور نسل کے بندے نہیں ہیں کہ ایک جگہ خدا کا حکم آئے تو ہم مانیں اور اُسی خدا کا حکم دوسری جگہ آئے تو ہم اس کو نہ مانیں۔ قرآن مجید میں یہ بات جگہ جگہ دہرائی گئی ہے اور خصوصًا اہلِ کتاب سے جہاں سابقہ پیش آیا ہے وہاں تو اسے زور دے کر بیان کیا گیا ہے ۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو البقرہ، آیات 4 – 13۶ – 177 – 285۔ آلِ عمران ، آیت 84۔ النساء، 13۶ – 15۰ تا 152- 1۶2 تا 1۶4، الشوریٰ 13۔/p
وَكَذٰلِكَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ ؕ فَالَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَمِنْ هٰۤؤُلَآءِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ ؕ وَمَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الْكٰفِرُوْنَ
اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ جس طرح پہلے انبیاء پر ہم نے کتابیں نازل کی تھیں اُسی طرح اب یہ کتاب تم پر نازل کی ہے۔ دوسرا یہ کہ ہم نے اِسی تعلیم کے ساتھ یہ کتاب نازل کی ہے کہ ہماری پچھلی کتابوں کا انکار کر کے نہیں بلکہ اُن سب کا اقرار کرتے ہوئے اِسے مانا جائے۔
سیاق و سباق خود بتا رہا ہے کہ اِس سے مراد تمام اہلِ کتاب نہیں ہیں بلکہ وہ اہلِ کتاب ہیں جن کو کتبِ الہٰیہ کا صحیح علم و فہم نصیب ہوا تھا، جو ”چارپائے بروکتا بے چند“ کے مصداق محض کتاب بردار قسم کے اہلِ کتاب نہیں تھے، بلکہ حقیقی معنی میں اہلِ کتاب تھے۔ اِن کےسامنے جب اللہ تعالی کی طرف سے اس کی پچھلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہوئی یہ آخری کتاب آئی تو انہوں نے کسی ضد اور ہٹ دھرمی اور تعصب سے کام نہ لیا اور اسے بھی ویسے ہی اخلاص کے ساتھ تسلیم کر لیا جس طرح پچھلی کتابوں کو تسلیم کر تے تھے۔
”اِن لوگوں “ کا اشارہ اہلِ عرب کی طرف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حق پسند لوگ ہر جگہ اس پر ایمان لا رہے ہیں خواہ وہ اہلِ کتاب میں سے ہوں یا غیر اہلِ کتاب میں سے۔
یہاں کافر سے مراد وہ لوگ ہیں جو اپنے تعصبات کو چھوڑ کر حق بات ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں، یا وہ جو اپنی خواہشات ِ نفس اور اپنی بے لگام آزادیوں پر پابندیاں قبول کرنے سے جی چراتے ہیں اور اِس بنا پر حق کا انکار کرتے ہیں۔
وَمَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّلَا تَخُطُّهٗ بِیَمِیْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ
(اے نبیؐ)تم اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے، اگر ایسا ہوتا تو باطل پرست لوگ شک میں پڑ سکتے تھے۔88
یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے ثبوت میں وہی استدلال ہے جو اس سے پہلے سورۂ یونسؑ م اور سورۂ قصص میں گزر چکا ہے۔ (ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، تفسیر سورۂ یونس حاشیہ نمبر 21 و تفسیر سورۂ قصص، حاشیہ نمبر ۶4 و نمبر 1۰9۔ اس مضمون کی مزید تشریح کے لیے تفہیم القرآن، تفسیر سورۂ نحل حاشیہ نمبر 1۰7 ، بنی اسرائیل ، حاشیہ نمبر 1۰5، المومنون، حاشیہ نمبر ۶۶، الفرقان، حاشیہ نمبر 12 اور الشوریٰ، حاشیہ نمبر 84 کا مطالعہ بھی مفید ہو گا)۔ اس آیت میں استدلال کی بنیا د یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اَن پڑھ تھے۔ آپ کے اہلِ وطن اور رشتہ و برادری کے لوگ جن کے درمیان روزِ پیدائش سے سنِ کہولت تک پہنچنے تک آپ کی ساری زندگی بسر ہوئی تھی، اس بات سے خوب واقف تھے کہ آپ نے عمر بھر نہ کبھی کوئی کتاب پڑھی، نہ کبھی قلم ہاتھ میں لیا۔ اس امر واقعہ کو پیش کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ اس بات کا کھُلا ہوا ثبوت ہے کہ کتب آسمانی کی تعلیمات، انبیاء سابقین کے حالات، مذاہب و ادیان کے عقائد، قدیم قوموں کی تاریخ، اور تمدّن و اخلاق و معیشت کے اہم مسائل پر جس وسیع اور گہرے علم کا اظہار اِس اُمّی کی زبان سے ہو رہا ہے یہ اس کو وحی کے سوا کسی دوسرے ذریعہ سے حاصل نہیں ہو سکتا تھا۔ اگر اس کو نوشت و خواند کا علم ہوتا اور لوگوں نے کبھی اسے کتابیں پڑھتے اور مطالعہ و تحقیق کرتے دیکھا ہوتا تو باطل پرستوں کے لیے یہ شک کرنے کی کچھ بنیاد ہو بھی سکتی تھی کہ یہ علم وحی سے نہیں بلکہ اخذ و اکتساب سے حاصل کیا گیا ہے۔ لیکن اُس کی اُمّیت نے تو ایسے کسی شک کے لیے برائے نام بھی کوئی بنیاد باقی نہیں چھوڑی ہے۔ اب خالص ہٹ دھرمی کے سوا اس کی نبوت کا انکار کرنے کی اور کوئی وجہ نہیں ہے جسے کسی درجہ میں بھی معقول کہا جا سکتا ہو۔
بَلْ هُوَ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ ؕ وَمَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الظّٰلِمُوْنَ
دراصل یہ روشن نشانیاں ہیں ان لوگوں کے دلوں میں جنہیں علم بخشا گیا ہے،89 اور ہماری آیات کا انکا ر نہیں کرتے مگر وہ جو ظالم ہیں
یعنی ایک اُمّی کا قرآن جیسی کتاب پیش کرنا اور یکایک اُن غیر معمولی کمالات کا مظاہرہ کرنا جن کے لیے کسی سابقہ تیاری کے آثار کبھی کسی کے مشاہدے میں نہیں آئے، یہی دانش و بینش رکھنے والوں کی نگاہ میں اس کی پیغمبری پر دلالت کرنے والی روشن ترین نشانیاں ہیں۔ دنیا کی تاریخی ہستیوں میں سے جس کے حالات کا بھی جائزہ لیا جائے ، آدمی اُس کے اپنے ماحول میں اُن اسباب کا پتہ چلا سکتا ہے کہ جو اُس کی شخصیت بنانے اور اس سے ظاہر ہونے والے کمالات کے لیے اس کو تیار کرنے میں کار فرما تھے۔ اُس کے ماحول اور اس کی شخصیت کے اجزائے ترکیبی میں ایک کھلی مناسبت پائی جاتی ہے۔ لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت جن حیرت انگیز کمالات کی مَظہَر تھی اُن کا کوئی ماخذ آپؐ کے ماحول میں تلاش نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں نہ اس وقت کے عربی معاشرے میں، اور نہ گردوپیش کے جن ممالک سے عرب کے تعلقات تھے اُن کے معاشرے میں، کہیں دور دراز سے بھی وہ عناصر ڈھونڈ کر نہیں نکالے جا سکتے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کے اجزائے ترکیبی سے کوئی مناسبت رکھتے ہوں۔ یہی حقیقت ہے جس کی بنا پر یہاں فرمایا گیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ایک نشانی نہیں بلکہ بہت سی روشن نشانیوں کا مجموعہ ہے۔ جاہل آدمی کو اس میں کوئی نشانی نظر نہ آتی ہو تو نہ نظر آئے، مگر جو لوگ علم رکھنے والے ہیں وہ ان نشانیوں کو دیکھ کر اپنے دلوں میں قائل ہو گئے ہیں کہ یہ شان ایک پیغمبر ہی کی ہو سکتی ہے۔
وَقَالُوْا لَوْلَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیٰتٌ مِّنْ رَّبِّهٖ ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ ؕ وَاِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ
یہ لوگ کہتے ہیں کہ ”کیوں نہ اُتاری گئیں اس شخص پر نشانیاں90 اس کے رب کی طرف سے“؟کہو،”نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں اور میں صرف خبر دار کرنے والا ہوں کھول کھول کر“
یعنی معجزات جنہیں دیکھ کر یقین آئے کہ واقعی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے نبی ہیں۔
اَوَلَمْ یَكْفِهِمْ اَنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ یُتْلٰی عَلَیْهِمْ ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَرَحْمَةً وَّذِكْرٰی لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ
یعنی اُمّی ہونے کے باوجود تم پر قرآن جیسی کتاب کا نازل ہونا ، کیا یہ بجائے خود اتنا بڑا معجزہ نہیں ہے کہ تمہاری رسالت پر یقین لانے کے لیے یہ کافی ہو؟ اس کے بعد بھی کسی اور معجزے کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟ دوسرے معجزے تو جنہوں نے دیکھے ا ن کے لیے وہ معجزے تھے۔ مگر یہ معجزہ تو ہر وقت تمہارے سامنے ہے۔ تمہیں آئے دن پڑھ کر سنایا جاتا ہے ۔ تم ہر وقت اسے دیکھ سکتے ہو۔ قرآن مجید کے اس بیان و استدلال کے بعد اُن لوگوں کی جسارت حیرت انگیز ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خواندہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ یہاں قرآن صاف الفاظ میں حضورؐ کے نا خواندہ ہونے کو آپ کی نبوت کے حق میں ایک طاقت ور ثبوت کے طور پر پیش کررہا ہے۔ جن روایات کا سہارا لے کر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ حضورؐ لکھے پڑھے تھے، یا بعد میں آپؐ نے لکھنا پڑھنا سیکھ لیا تھا وہ اوّل تو پہلی ہی نظر میں رد کر دینے کے لیے لائق ہیں کیونکہ قرآن کے خلاف کوئی روایت بھی قابلِ قبول نہیں ہو سکتی۔ پھر وہ بجائے خود بھی اِتنی کمزوری میں ہیں کہ ان پر کسی استد لال کی بنیاد قائم نہیں ہو سکتی۔ ان میں سے ایک ، بخاری کی یہ روایت ہے کہ صلح حدیبیہ کا معاہدہ جب لکھا جا رہا تھا تو کفارِ مکّہ کے نمائندے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کے ساتھ رسول اللہ لکھے جانے پر اعتراض کیا۔ اس پر حضورؐ نے کاتب( یعنی حضرت علی ؓ) کو حکم دیا کہ اچھا رسول اللہ کا لفظ کاٹ کر محمدؐ بن عبد اللہ لکھ دو۔ حضرت علیؓ نے لفظ رسول اللہ کاٹنے سے انکار کر دیا۔ اس پر حضورؐ نے ان کے ہاتھ سے لے کر وہ الفاظ خود کاٹ دیے اور محمدؐ بن عبد اللہ لکھ دیا۔ لیکن یہ روایت بَراء بن عازِب سے بخاری میں چار جگہ اور مسلم میں دو جگہ وارد ہوئی ہے اور ہر جگہ الفاظ مختلف ہیں: (1) بخاری کتاب الصلح میں ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: قال لعلی امحہ فقال علی ما انا بالذی امحاہ فمحاہ رسول اللہ بیدہ ۔ حضورؐ نے حضرت علیؓ سے فرمایا یہ الفاظ کاٹ دو، انہوں نے عرض کیا میں تو نہیں کاٹ سکتا۔ آخر کار حضورؐ نے اپنے ہاتھ سے انہیں کاٹ دیا۔ (2) اسی کتاب میں دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں: ثم قال لعلی امح رسول اللہ قال لا واللہ لا امحوک ابدا فاخذ رسول اللہ الکتاب فکتب ھٰذا ما قاضیٰ علیہ محمد بن عبد اللہ ۔ پھر علی ؓ سے کہا ”رسول اللہ “ کاٹ دو۔ انہوں نے کہا خدا کی قسم میں آپ کا نام کبھی نہ کاٹوں گا۔ آخر حضورؐ نے تحریر لے کر لکھا یہ وہ معاہدہ ہے جو محمدؐ بن عبد اللہ نے طے کیا۔ (3) تیسری روایت انہی براء بن عازب سے بخاری کتاب الجزیہ میں یہ ہے: وکان لا یکتب فقال لعلی امح رسول اللہ فقال علی واللہ لا امحاہ ابدًا قال فارنیہ قال فاراہ ایاہ فمحاہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم بیدہ۔ حضورؐ خود نہ لکھ سکتے تھے۔ آپ نے حضرت علیؓ سے کہا رسول اللہ کاٹ دو۔ انہوں نے عرض کیا خدا کی قسم میں یہ الفاظ ہر گز نہ کاٹوں گا۔ اس پر حضورؐ نے فرمایا مجھے وہ جگہ بتاؤ جہاں یہ الفاظ لکھے ہیں۔ انہوں نے آپ کو جگہ بتائی اور آپ نے اپنے ہاتھ سے وہ الفاظ کاٹ دیے۔ (4) چوتھی روایت بخاری کتاب المغازی میں یہ ہے: فاخذ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الکتاب ولیس یحسن یکتب فکتب ھٰذا ما قاضیٰ محمد بن عبد اللہ۔ پس حضورؐ نے وہ تحریر لے لی درآنحالیکہ آپ لکھنا نہ جانتے تھے اور آپ نے لکھا یہ وہ معاہدہ ہے جو محمدؐ بن عبد اللہ نے طے کیا۔ (5) انہی براء بن عازِب سے مسلم کتاب الجہاد میں ایک روایت یہ ہے کہ حضرت علیؓ کے انکار کرنے پر حضورؐ نے اپنے ہاتھ سے ”رسول اللہ“ کے الفاظ مٹا دیے۔ (۶) دوسری روایت اسی کتاب میں ان سے یہ منقول ہے کہ حضورؐ نے حضرت علیؓ سے فرمایا مجھے بتاؤ رسول اللہ کا لفظ کہاں لکھا ہے، حضرت علی ؓ نے آپ کو جگہ بتائی، اور آپ نے اسے مٹا کر ابن عبد اللہ لکھ دیا۔ روایات کا یہ اضطراب صاف بتا رہا ہے کہ بیچ کے رایوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے الفاظ جوں کے توں نقل نہیں کیے ہیں، اس لیے ان میں سے کسی ایک نقل پر بھی ایسا مکمل اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ یقینی طور پر یہ کہا جا سکے کہ حضورؐ نے ”محمدؐ بن عبد اللہ“ کے الفاظ اپنے دستِ مبارک ہی سے لکھے تھے۔ ہو سکتا ہے کہ صحیح صورت واقعہ یہ ہو کہ جب حضرت علیؓ نے ”رسول اللہ“ کا لفظ مٹانے سے انکار کر دیا تو آپؐ نے اس کی جگہ اُن سے پوچھ کر یہ لفظ اپنے ہاتھ سے مٹا دیا ہو اور پھر ان سے یا کسی دوسرے کاتب سے ابن عبد اللہ کے الفاظ لکھوادیے ہوں۔ دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس موقع پر صلح نامہ دو کاتب لکھ رہے تھے۔ ایک حضرت علیؓ ، دوسرے محمد بن مَسْلَمَہ (فتح الباری، جلد 5، ص 217)۔ اس لیے یہ امر بعید نہیں ہے کہ جو کام ایک کاتب نے نہ کیا تھا وہ دوسرے کاتب سے لے لیا گیا ہو ۔ تاہم اگر واقعہ یہی ہو کہ حضورؐ نے اپنا نام اپنے ہی دستِ مبارک سے لکھا ہو، تو ایسی مثالیں دنیا میں بکثرت پائی جاتی ہیں کہ ان پڑھ لوگ صرف اپنا نام لکھنا سیکھ لیتے ہیں، باقی کوئی چیز نہ پڑھ سکتے ہیں نہ لکھ سکتے ہیں۔ دوسری روایت جس کی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خواندہ ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے مجاہد سے ابن ابی شَیبَہ اور عمر بن شبہ نے نقل کی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں کہ: ما مات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حتی کتب وقرأ۔ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وفات سے پہلے لِکھنا پڑھنا سیکھ چکے تھے)۔ لیکن اوّل تو یہ سند اً بہت ضعیف روایت ہے جیسا کہ حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں فضعیف لا اصل لہ۔ دوسرے اس کی کمزوری یوں بھی واضح ہے کہ اگر حضورؐ نے فی الواقع بعد میں لکھنا پڑھنا سیکھا ہوتا تو یہ بات مشہور ہو جاتی، بہت سے صحابہ اس کو روایت کرتے اور یہ بھی معلوم ہو جاتا کہ حضورؐ نے کس شخص یا کن اشخاص سے یہ تعلیم حاصل کی تھی۔ لیکن سوائے ایک عَون بن عبد اللہ کے ، جن سے مجاہد نے یہ بات سُنی، اور کوئی شخص اسے روایت نہیں کرتا۔ اور یہ عون بھی صحابی نہیں بلکہ تابعی ہیں جنہوں نے قطعًا یہ نہیں بتایا کہ انہیں کس صحابی یا کن صحابیوں سے اس واقعہ کا علم حاصل ہوا۔ ظاہر ہے کہ ایسی کمزور روایتوں کی بنیاد پر کوئی ایسی بات قابل تسلیم نہیں ہو سکتی جو مشہور و معروف واقعات کی تردید کرتی ہو۔
یعنی بلا شبہہ اس کتاب کا نزول اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی مہربانی ہے اور یہ بندوں کے لیے بڑی پند و نصیحت پر مشتمل ہے، مگر اس کا فائدہ صرف وہی لوگ اٹھا سکتے ہیں جو اس پر ایمان لائیں۔
قُلْ كَفٰی بِاللّٰهِ بَیْنِیْ وَبَیْنَكُمْ شَهِیْدًا یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ؕ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْبَاطِلِ وَكَفَرُوْا بِاللّٰهِ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ
(اے نبیؐ) کہو کہ "میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہی کے لیے کافی ہے وہ آسمانوں اور زمین میں سب کچھ جانتا ہے جو لوگ باطل کو مانتے ہیں اور اللہ سے کفر کرتے ہیں وہی خسارے میں رہنے والے ہیں"
وَیَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ ؕ وَلَوْلَاۤ اَجَلٌ مُّسَمًّی لَّجَآءَهُمُ الْعَذَابُ ؕ وَلَیَاْتِیَنَّهُمْ بَغْتَةً وَّهُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ
ہ لوگ تم سے عذاب جلدی لانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔93 اگر ایک وقت مقرر نہ کر دیا گیا ہوتا تو ان پر عذاب آچکا ہوتا۔ اور یقیناً(اپنے وقت پر)وہ آکر رہے گا اچانک ، اس حال میں کہ انہیں خبر بھی نہ ہو گی
یعنی بار بار چیلنج کے انداز میں مطالبہ کر رہے ہیں کہ اگر تم رسول ہو اور ہم واقعی حق کو جھٹلا رہے ہیں تو ہم پر وہ عذاب کیوں نہیں لے آتے جس کے ڈراوے تم ہمیں دیا کرتے ہو۔
یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ ؕ وَاِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌ بِالْكٰفِرِیْنَ
یہ تم سے عذاب جلدی لانے کا مطالبہ کرتے ہیں، حالانکہ جہنم ان کافروں کو گھیرے میں لے چکی ہے
یَوْمَ یَغْشٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ وَیَقُوْلُ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ
(اور انہیں پتہ چلے گا) اُس روز جبکہ عذاب انہیں اُوپر سے بھی ڈھانک لے گا اور پاؤں کے نیچے سے بھی اور کہے گا کہ اب چکھو مزا ان کرتوتوں کا جو تم کرتے تھے
یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ اَرْضِیْ وَاسِعَةٌ فَاِیَّایَ فَاعْبُدُوْنِ
اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو، میری زمین وسیع ہے، پس تم میری ہی بندگی بجا لاؤ۔94
یہ اشارہ ہے ہجرت کی طرف۔ مطلب یہ ہے کہ اگر مکے میں خدا کی بندگی کرنی مشکل ہو رہی ہے تو ملک چھوڑ کر نکل جاؤ، خدا کی زمین تنگ نہیں ہے۔ جہاں بھی تم خدا کے بندے بن کر رہ سکتے ہو وہاں چلے جاؤ۔ تم کو قوم و وطن کی نہیں بلکہ اپنے خدا کی بندگی کرنی چاہیے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اصل چیز قوم، وطن اور ملک نہیں ہے بلکہ اللہ کی بندگی ہے۔ اگر کسی وقت قوم و وطن اور ملک کی محبت کے تقاضے اللہ کی بندگی کے تقاضوں سے ٹکرا جائیں تو وہی وقت مومن کے ایمان کی آزمائش کا ہوتا ہے۔ جو سچا مومن ہے وہ اللہ کی بندگی کرے گا اور قوم ، وطن اور ملک کو لات مار دیگا۔ جو جھوٹا مدعی ایمان ہے وہ ایمان کو چھوڑ دیگا اور اپنی قوم اور اپنے ملک و وطن سے چمٹا رہے گا۔ یہ آیت اس باب میں بالکل صریح ہے کہ ایک سچا خدا پرست انسان محبّ قوم و وطن تو ہو سکتا ہے مگر قوم پرست اور وطن پرست نہیں ہو سکتا ۔ اُس کے لیے خدا کی بندگی ہر چیز سے عزیز تر ہے جس پر دنیا کی ہر چیز کو وہ قربان کر دے گا مگر اسے دنیا کی کسی چیز پر بھی قربان نہ کرے گا۔
كُلُّ نَفْسٍ ذَآىِٕقَةُ الْمَوْتِ ۫ ثُمَّ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ
ہر متنفس کو موت کا مزا چکھنا ہے، پھر تم سب ہماری طرف ہی پلٹا کر لائے جاؤ گے۔95
یعنی جان کی فکر نہ کرو۔ یہ تو کبھی نہ کبھی جانی ہی ہے۔ ہمیشہ رہنے کے لیے تو کوئی بھی دنیا میں نہیں آیا ہے۔ لہٰذا تمہارے لیے فکر کے لائق مسئلہ یہ نہیں ہے کہ اس دنیا میں جان کیسے بچائی جائے ، بلکہ اصل لائق فکر مسئلہ یہ ہے کہ ایمان کیسے بچایا جائے اور خدا پرستی کے تقاضے کس طرح پورے کیے جائیں۔ آخر کار تمہیں پلٹ کر ہماری طرف ہی آنا ہے۔ اگر دنیا میں جان بچانے کے لیے ایمان کھو کر آئے تو اس کا نتیجہ کچھ اور ہو گا، اور ایمان بچانے کے لیے جان کھو آئے تو اس کا انجام کچھ دوسرا ہو گا۔ پس فکر جو کچھ بھی کرنی ہے اس بات کی کرو کہ ہماری طرف جب پلٹو گے تو کیا لے کر پلٹو گے، جان پر قربان کیا ہوا ایمان؟ یا ایمان پر قربان کی ہوئی جان؟
وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا ؕ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ
جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں ان کو ہم جنت کی بلندو بالا عمارتوں میں رکھیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، کیا ہی عمدہ اجر ہے عمل کرنے والوں کےلیے96
یعنی اگر ایمان اور نیکی کے راستہ پر چل کر بالفرض تم دنیا کی ساری نعمتوں سے محروم بھی رہ گئے اور دنیوی نقطۂ نظر سے سراسر ناکام بھی مرے تو یقین رکھو کہ اس کی تلافی بہر حال ہو گی اور نِری تلافی ہی نہ ہو گی بلکہ بہترین اجر نصیب ہو گا۔
الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَعَلٰی رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ
یعنی جو ہر طرح سے مشکلات اور مصائب اور نقصانات اور اذیتوں کے مقابلے میں ایمان پر قائم رہے ہیں۔ جنہوں نے ایمان لانے کے خطرات کو اپنی جان پر جھیلا ہے اور منہ نہیں موڑا ہے۔ ترکِ ایمان کے فائدوں اور منفعتوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور ان کی طرف ذرّہ برابر التفات نہیں کیا ہے۔ کفار و فسّاق کو اپنے سامنے پھلتے پھولتے دیکھا ہے اور ان کی دولت و حشمت پر ایک نگاہ غلط انداز بھی نہیں ڈالی ہے۔
یعنی جنہوں نے بھروسہ اپنی جائدادوں اور اپنے کاروبار اور اپنے کنبے قبیلے پر نہیں بلکہ اپنے ربّ پر کیا۔ جو اسباب ِ دنیوی سے قطع نظر کر کے محض اپنے ربّ کے بھروسے پر ایمان کی خاطر ہر خطرہ سہنے اور ہر طاقت سے ٹکرا جانے کے لیے تیار ہو گئے، اور وقت آیا تو گھر بار چھوڑ کر نِکل کھڑے ہوئے۔ جنہوں نے اپنے ربّ پر یہ اعتماد کیا کہ ایمان اور نیکی پر قائم رہنے کا اجر اس کے ہاں کبھی ضائع نہ ہو گا اور یقین رکھا کہ وہ اپنے مومن و صالح بندوں کی اِس دنیا میں بھی دستگیری فرمائے گا اور آخرت میں بھی ان کے عمل کا بہترین بدلہ دے گا۔
وَكَاَیِّنْ مِّنْ دَآبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اَللّٰهُ یَرْزُقُهَا وَاِیَّاكُمْ ؗ وَهُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ
کتنے ہی جانور ہیں جو اپنا رزق اُٹھائے نہیں پھرتے، اللہ ان کو رزق دیتا ہے اور تمہارا رازق بھی وہی ہے، وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔99
یعنی ہجرت کرنے میں تمہیں فِکر جان کی طرح فِکر روزگار سے بھی پریشان نہ ہونا چاہیے۔ آخر یہ بے شمار چرند و پرند اور آبی حیوانات جو تمہاری آنکھوں کے سامنے ہوا اور خشکی اور پانی میں پھر رہے ہیں ، ان میں سے کون اپنا رزق اُٹھائے پھرتا ہے؟ اللہ ہی تو اِن سب کو پال رہا ہے۔ جہاں جاتے ہیں اللہ کے فضل سے اِن کو کسی نہ کسی طرح رزق مل ہی جاتا ہے۔ لہٰذا تم یہ سوچ سوچ کر ہمت نہ ہارو کہ اگر ایمان کی خاطر گھر بار چھوڑ کر نِکل گئے تو کھائیں گے کہاں سے۔ اللہ جہاں سے اپنی بے شمار مخلوق کو رزق دے رہا ہے ، تمہیں بھی دے گا۔ ٹھیک یہی بات ہے جو سیّدنا حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنے حواریوں سے فرمائی تھی۔ انہوں نے فرمایا: ” کوئی آدمی دو مالکوں کی خدمت نہیں کرسکتا۔ کیونکہ یا تو ایک سے عداوت رکھے گا اور دوسرے سے محبت، یا ایک سے ملا رہے گا اور دوسرے کو ناچیز جانے گا۔ تم خدا ور دولت دونوں کی خدمت نہیں کر سکتے۔ ا س لیے میں کہتا ہوں کہ اپنی جان کی فکر نہ کرنا کہ ہم کیا کھائیں گے یا کیا پئیں گے ، اور نہ اپنے بدن کی کہ کیا پہنیں گے ۔ کیا جان خوراک سے اور بدن پوشاک سے بڑھ کر نہیں؟ ہوا کے پرندوں کو دیکھو کہ نہ بوتے ہیں نہ کاٹتے ہیں، نہ کوٹھیوں میں جمع کرتے ہیں۔ پھر بھی تمہارا آسمانی باپ ان کو کھلاتا ہے۔ کیا تم ان سے زیادہ قدر نہیں رکھتے؟ تم میں سے ایسا کون ہے جو فکر کر کے اپنی عمر میں ایک گھڑی بھی بڑھا سکے ؟ اور پوشاک کے لیے کیوں فکر کرتے ہو؟ جنگلی سوسن کے درختوں کو غور سے دیکھو کہ وہ کس طرح بڑھتے ہیں۔ وہ نہ محنت کرتے ہیں نہ کاتتے ہیں، پھر بھی میں تم سے کہتا ہوں کہ سلیمان بھی باوجود اپنی ساری شان و شوکت کے ان میں سے کسی کے مانند لمّبس نہ تھا۔ پس جب خدا میدان کی گھاس کو جو آج ہے اور کل تنور میں جھونکی جائے گی ایسی پوشاک پہناتا ہے تو اے کم اعتقادو تم کو کیوں نہ پہنائے گا۔ اس لیے فکر مند نہ ہو کہ ہم کیا کھائیں گے یا کیا پئیں گے یا کیا پہنیں گے۔ ان سب چیزوں کی تلاش میں تو غیر قومیں رہتی ہیں۔ تمہارا آسمانی باپ جانتا ہے کہ تم اِن سب چیزوں کے محتاج ہو۔ تم پہلے اس کی بادشاہی اور اس کی راست بازی کی تلاش کرو۔ یہ سب چیزیں بھی تمہیں مل جائیں گی۔ کل کے لیے فکر نہ کرو۔ کل کا دن اپنی فکر آ پ کرلے گا۔ آج کے لیے آج ہی کا دکھ کافی ہے۔“(متی۔ باب ۶۔ آیات 24 تا 34) قرآن اور انجیل کے اِن ارشادات کا پس منظر ایک ہی ہے۔ دعوتِ حق کی راہ میں ایک مرحلہ ایسا آجاتا ہے جس میں ایک حق پرست آدمی کے لیے اس کے سوا چارہ نہیں رہتا کہ عالمِ اسباب کے تمام سہاروں سے قطع نظر کر کے محض اللہ کے بھروسے پر جان جوکھوں کی بازی لگا دے۔ ان حالات میں وہ لوگ کچھ نہیں کر سکتے جو حساب لگا لگا کر مستقبل کے امکانات کا جائزہ لیتے ہیں اور قدم اٹھانے سے پہلے جان کے تحفظ اور رزق کے حصول کی ضمانتیں تلاش کرتے ہیں۔ در حقیقت اِس طرح کے حالات بدلتے ہی اُن لوگوں کی طاقت سے ہیں جو سر ہتھیلی پر لے کر اُٹھ کھڑے ہوں اور ہر خطرے کو انگیز کرنے کے لیے بے دھڑک تیار ہو جائیں۔ انہی کی قربانیاں آخر کار وہ وقت لاتی ہیں جب اللہ کا کلمہ بلند ہوتا ہے اور اس کے مقابلے میں سارے کلمے پست ہو کر رہ جاتے ہیں۔
وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ فَاَنّٰی یُؤْفَكُوْنَ
100اگر تم ان لوگوں سے پوچھوں کہ زمین اور آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے اور چاند اور سورج کو کس نےمسخر کر رکھا ہے تو ضرور کہیں گے کہ اللہ نے، پھر یہ کدھر سے دھوکا کھا رہے ہیں؟
pیہاں سے پھر کلام کا رُخ کفار مکہ کی طرف مڑتا ہے۔/p
اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَیَقْدِرُ لَهٗ ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ
اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں میں سے جس کا چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جس کا چاہتا ہے تنگ کرتا ہے، یقیناً اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے
وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ مِنْ بَعْدِ مَوْتِهَا لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ
اور اگر تم ان سے پوچھو کس نے آسمان سے پانی برسایا اور اس کے ذریعہ سےمردہ پڑی ہوئی زمین کو جِلا اُٹھایا تو وہ ضرور کہیں گے اللہ نے۔ کہو، الحمدللہ،101 مگر اکثر لوگ سمجھتے نہیں ہیں
اس مقام پر اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کا لفظ دو معنی دے رہا ہے۔ ایک یہ کہ جب یہ سارے کام اللہ کے ہیں تو پھر حمد کا مستحق بھی صرف وہی ہے ، دوسروں کو حمد کا استحقاق کہاں سے پہنچ گیا؟ دوسرے یہ کہ خدا کا شکر ہے ، اس بات کا اعتراف تم خود بھی کرتے ہو۔
وَمَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَهْوٌ وَّلَعِبٌ ؕ وَاِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَهِیَ الْحَیَوَانُ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ
یعنی اس کی حقیقت بس اتنی ہی ہے جیسے بچے تھوڑی دیر کے لیے کھیل کود لیں اور پھر اپنے اپنے گھر کو سدھار یں۔ یہاں جو بادشاہ بن گیا ہے وہ حقیقت میں بادشاہ نہیں ہے بلکہ صرف بادشاہی کا ڈراما کر رہا ہے۔ ایک وقت آتا ہے جب اس کا یہ کھیل ختم ہو جاتا ہے اور اسی بے سرو سامانی کے ساتھ وہ تخت ِ شاہی سے رخصت ہوتا ہے جس کے ساتھ وہ اس دنیا میں آیا تھا۔ اسی طرح زندگی کی کوئی شکل بھی یہاں مستقل اور پائیدا ر نہیں ہے ۔ جو جس حال میں بھی ہے عارضی طور پر ایک محدود مدت کے لیے ہے۔ اس چند روزہ زندگی کی کامرانیوں پر جو لوگ مر ے مٹتے ہیں اور انہی کے لیے ضمیر و ایمان کی بازی لگا کر کچھ عیش و عشرت کا سامان اور کچھ شوکت و حشمت کے ٹھا ٹھ فراہم کر لیتے ہیں ان کی یہ ساری حرکتیں دل کے بہلا وے سے زیادہ کچھ نہیں ہیں۔ اِن کھلونوں سے اگر وہ دس بیس یا ساتھ ستر سال دل بہلا لیں اور پھر موت کے دروازے سے خالی ہاتھ گزر کر اُس عالم میں پہنچیں جہاں کی دائمی و ابدی زندگی میں ان کا یہی کھیل بلائے بے درماں ثابت ہو تو آخر اِس طفل تسلی کا فائدہ کیا ہے؟
یعنی اگر یہ لوگ اس حقیقت کو جانتے کہ دنیا کی موجودہ زندگی صرف ایک مہلتِ امتحان ہے، اور انسان کے لیے اصل زندگی ، جو ہمیشہ ہمیشہ باقی رہنے والی ہے ، آخرت کی زندگی ہے ، تو وہ یہاں امتحان کی مدت کو اِس لہو ولعب میں ضائع کرنے کے بجائے اس کا ایک ایک لمحہ اُن کاموں میں استعمال کرتے جو اُس ابدی زندگی میں بہتر نتائج پیدا کر نے والے ہوں۔
فَاِذَا رَكِبُوْا فِی الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَی الْبَرِّ اِذَا هُمْ یُشْرِكُوْنَ
جب یہ لوگ کشتی پر سوار ہوتے ہیں تو اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے اُس سے دُعا مانگتے ہیں، پھر جب وہ اِنہیں بچا کر خشکی پر لے آتا ہے تو یکایک یہ شرک کرنے لگتے ہیں
لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ وَلِیَتَمَتَّعُوْا ۥ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ
تا کہ اللہ کی دی ہوئی نجات پر اس کا کفر ان نعمت کریں اور (حیات دنیا کے) مزے لوٹیں۔104 اچھا، عنقریب انہیں معلوم ہو جائے گا
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، سورۂ انعام حاشیہ نمبر 29 اور نمبر 41، سورۂ یونس حاشیہ نمبر 29 اور نمبر 31، سورۂ بنی اسرائیل حاشیہ نمبر84۔
اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّیُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَكْفُرُوْنَ
کیا یہ دیکھتے نہیں ہیں کہ ہم نے ایک پُر امن حرم بنا دیا ہے حالانکہ ان کے گرد وپیش لوگ اُچک لیے جاتے ہیں؟105 کیا پھر بھی یہ لوگ باطل کو مانتے ہیں اور اللہ کی نعمت کا کفران کرتے ہیں؟
یعنی کیا اِن کے شہر مکہ کو ، جس کے دامن میں انہیں کمال درجے کا امن میسّر ہے، کِسی لات یا ہُبل نے حرم بنایا ہے؟ کیا کسی دیوی یا دیوتا کی یہ قدرت تھی کہ ڈھائی ہزار سال سے عرب کی انتہائی بد امنی کے ماحول میں اس جگہ کو تمام فتنوں اور فسادوں سے محفوظ رکھتا؟ اس کی حرمت کو برقرار رکھنے والے ہم نہ تھے تو اور کون تھا؟
وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهٗ ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًی لِّلْكٰفِرِیْنَ
اس شخص سے بڑا ظالم کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا حق کو جھٹلائے جب کہ وہ اس کے سامنے آچکا ہو؟106 کیا ایسے کافروں کا ٹھکانہ جہنم ہی نہیں ہے؟
یعنی نبی نے دعوائے رسالت کیا ہے اور تم نے اسے جھٹلا دیا ہے۔ اب معاملہ دو حال سے خالی نہیں۔ اگر نبی نے اللہ کا نام لے کر جھوٹا دعویٰ کیا ہے تو اُس سے بڑا ظالم کوئی نہیں۔ اور اگر تم نے سچے نبی کی تکذیب کی ہے تو پھر تم سے بڑا ظالم کوئی نہیں۔
وَالَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَا ؕ وَاِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ
جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے،107 اور یقیناً اللہ نیکو کاروں ہی کے ساتھ ہے
”مجاھدہ“ کی تشریح اِسی سُورۂ عنکبوت کے حاشیہ نمبر 8 میں گزر چکی ہے۔ وہاں یہ فرمایا گیا تھا کہ جو شخص مجاھدہ کرے گا وہ اپنی ہی بھلائی کے لیے کرے گا (آیت نمبر ۶)۔ یہاں یہ اطمینان دلایا جا رہا ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں اخلاص کے ساتھ دنیا بھر سے کش مکش کا خطرہ مول لے لیتے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ ان کے حال پر نہیں چھوڑ دیتا، بلکہ وہ ان کی دستگیری و رہنمائی فرماتا ہے اور اپنی طرف آنے کی راہیں ان کے لیے کھول دیتا ہے ۔ وہ قدم قدم پر انہیں بتاتا ہے کہ ہماری خوشنودی تم کس طرح حاصل کر سکتے ہو۔ ہر ہر موڑ پر انہیں روشنی دکھاتا ہے کہ راہِ راست کدھر ہے اور غلط راستے کون سے ہیں۔ جتنی نیک نیتی اور خیر طلبی ان میں ہوتی ہے اتنی ہی اللہ کی مدد اور توفیق اور ہدایت بھی ان کے ساتھ رہتی ہے۔
الله کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے <<سورة العنکبوت>> نام : آیت 41 کے فقرہ <<مَثَلُ الَّذِیْنَ التَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللہِ اَوْلِیَاءَ کَمَثَلِ العَنْکَبُوْتِ>> سے ماخوذ ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ یہ وہ سورت ہے جس میں لفظ ” عنکبوت “ آیا ہے ۔ زمانہ نزول : آیات 56 تا 60 سے صاف مترشح ہوتا ہے کہ یہ سورة ہجرت حبشہ سے کچھ پہلے نازل ہوئی تھی ۔ باقی مضامین کی اندرونی شہادت بھی اسی کی تائید کرتی ہے ، کیونکہ پس منظ…