Al-'Ankabut 29:4
Verse 4 of 69
اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّسْبِقُوْنَا ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ ۟
ترجمہ
اور کیا وہ لوگ جو بُری حرکتیں کر رہے ہیں یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ وہ ہم سے بازی لے جائیں گے؟ بڑا غلط حکم ہے جو وہ لگا رہے ہیں
English translation
Do the evil-doers suppose that they will get the better of Us? How evil is their judgement!
تفہیم القرآن — حواشی
- 4
اس سے مراد اگرچہ تمام وہ لوگ ہو سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانیاں کرتے ہیں، لیکن یہاں خاص طور پر روئے سخن قریش کے اُن ظالم سرداروں کی طرف ہے جو اسلام کی مخالفت میں اور اسلام قبول کرنے والوں کو اذیتیں دینے میں اُس وقت پیش پیش تھے۔ مثلاً وَلِید بن مُغِیرہ، ابو جہل، عُتبَہ، شَیبہ، عُقْبہ بن ابی مُعَیط، اور حَنظلہ بن دائِل وغیرہ سِیاق و سباق خود یہاں تقاضا کر رہا ہے کہ مسلمانوں کو آزمائشوں کے مقابلے میں صبر و ثبات کی تلقین کرنے کے بعد ایک کلمۂ زجر و توبیخ اُن لوگوں کو خطاب کر کے بھی فرمایا جائے جو ان حق پرستوں پر ظلم ڈھا رہے تھے۔
- 5
یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ ”ہماری گرفت سے بچ کر کہیں بھاگ سکیں گے۔“ اصل الفاظ ہیں یَسْبِقُوْنَا یعنی ہم سے سبقت لے جائیں گے۔ اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ جو کچھ ہم کرنا چاہتے ہیں (یعنی اپنے رسول کے مشن کی کامیا بی) وہ تو نہ ہو سکے اور جو کچھ یہ چاہتے ہیں( یعنی ہمارے رسول کو نیچا دکھانا ) وہ ہو جائے ۔ دوسرا یہ کہ ہم ان کی زیادتیوں پر انہیں پکڑنا چاہتے ہوں اور یہ بھاگ کر ہماری دست رس سے دور نکل جائیں۔
