Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

At-Tariq

سورة الطارق

(86:1)

وَالسَّمَآءِ وَالطَّارِقِ 

قسم ہے آسمان کی اور رات کو نمودار ہونے والے کی

(86:2)

وَمَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الطَّارِقُ 

اور تم کیا جانو کہ وہ رات کو نمودار ہونے والا کیا ہے؟

(86:3)

النَّجْمُ الثَّاقِبُ 

چمکتا ہوا تارا

(86:4)

اِنْ كُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَیْهَا حَافِظٌ ؕ

کوئی جان ایسی نہیں ہے جس کے اوپر کوئی نگہبان نہ ہو۔1

حاشیہ نمبر: 1

نگہبان سے مراد خود اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو زمین  و آسمان کی ہر چھوٹی بڑی مخلوق کی دیکھ بھال اور حفاظت کر رہی ہے، جس کے وجود میں لانے سے ہر شے وجود میں آئی ہے، جس کے باقی رکھنے سے ہر شے باقی ہے، جس کے سنبھالنے سے ہر شے اپنی جگہ سنبھلی ہوئی ہے، اور جس نے ہر چیز کو اس کی ضروریات بہم پہنچانے اور اُسے ایک مدت مقررہ تک آفات سے بچانے کا ذمّہ لے رکھا ہے۔ اس بات پر آسمان کی اور رات کی تاریکی میں نمو دار ہونے والے ہر ستارے اور سیارے کی قسم کھائی گئی ہے(النجم الثاقب کا لفظ اگرچہ لغت کے اعتبار سے واحد ہے، لیکن مراد اُس سے ایک ہی تارا نہیں بلکہ تاروں کی جنس ہے)۔یہ قسم اِس معنی میں ہےکہ رات کو آسمان میں یہ بے حدوحساب تارے اُس سیارے  جو چمکتے ہوئے نظر آتے ہیں ان میں سے ہر ایک کا وجود اس امر کی شہادت دے رہا ہے کہ کوئی ہے جس نے اُسے بنایا ہے، روشن کیا ہے، فضا میں معلق رکھ چھوڑا ہے، اور اس طرح اس کی حفاظت و نگہبانی کر رہا ہے کہ نہ وہ اپنے مقام سے گرتا ہے، نہ بے شمار تاروں کی گردش کے دوران میں وہ کسی سے ٹکراتا ہے اور نہ کوئی دوسرا تارا  اس سے ٹکراتا ہے۔

(86:5)

فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَ ؕ

پھر ذرا انسان یہی دیکھ لے کہ وہ کِس چیز سے پیدا کیا گیا ہے۔2

حاشیہ نمبر: 2

عالمِ بالا کی طرف توجہ دلانے کے بعد اب انسان کو دعوت دی جا رہی ہے کہ وہ خود ذرا اپنی ہستی ہی پر غور کر لے کہ وہ کس طرح پیدا کیا گیا ہے۔ کون ہے جو باپ کے جسم سے خارج ہونے والے اربوں جرثوموں میں سے ایک جر ثومے اور ماں کے اندر سے نکلنے والے بکثرت بیضوں میں سے ایک بیضے کا انتخاب کر کے دونوں کو کسی وقت جوڑ دیتا ہے اور اس سے ایک خاص انسان کا استقرارِ حمل واقع ہو جاتا ہے؟ پھر کون ہے جو استقرار حمل کے بعد سے ماں کےپیٹ میں درجہ بدرجہ اُسے نشونما دے کراُسے اس حد کو پہنچاتا ہے کہ وہ ایک زندہ بچے کی شکل میں پیدا ہوتا، پھر کون ہے جو رجم مادر ہی میں اس کے جسم کی ساخت اور اس کی جسمانی و ذہنی صلاحیتوں کا تناسب قائم کرتا ہے؟ پھر کون ہے جو پیدائش سے لے کر موت کے وقت تک اس کی مسلسل نگہبانی کرتا رہتا ہے؟ اسے بیماریوں سے بچاتا ہے۔ حادثات سے بچاتا ہے۔ طرح طرح کی آفات سے بچا تا ہے۔ اس کے لیے زندگی کے اتنے ذرائع بہم پہنچاتا ہے جن کا شمار نہیں ہو سکتا۔ اور اس کے لیے ہر قدم پر دنیا میں باقی رہنے کے  وہ مواقع فراہم کرتا ہے جن میں سے اکثر کا اُسے شعور تک نہیں ہوتا کجا کہ وہ انہیں خود فراہم کرنے پر قادر ہو۔ کیا یہ سب کچھ ایک خدا کی تدابیر اور نگرانی کے بغیر وہ رہا ہے؟

(86:6)

خُلِقَ مِنْ مَّآءٍ دَافِقٍ 

ایک اچھلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا ہے

(86:7)

یَّخْرُجُ مِنْ بَیْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَآىِٕبِ ؕ

جو پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتا ہے۔3

حاشیہ نمبر: 3

اصل میں صُلب اور تَرائب کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ صُلب ریڑھ کی ہڈی کو کہتے ہیں، اور تَرائب کے معنی ہیں سینے کی ہڈیاں ، یعنی پسلیاں ۔ چونکہ عورت اور مرد  دونوں کے مادہ تولید انسا ن کے اُس دھڑ سے خارج ہوتے  ہیں جو صُلب اور سینے کے درمیان واقع ہے، اس لیے فرمایا گیا کہ انسان اُس پانی سے پیدا کیا گیا ہے جو پیٹھ اور سینے کے درمیان سے نکلتا ہے۔ یہ مادّہ اُس صورت میں بھی پیدا ہوتا ہے بکہ ہاتھاور پاوں کٹ جائیں، اس لیے یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ یہ انسان کے پورے جسم سے خارج ہوتا ہے۔ درحقیقت جسم کے اعضاء رئیسہ اِس کے ماخذ ہیں ، اور وہ سب آدمی کے دھڑ میں واقع ہیں۔ دماغ کا الگ ذکر اس لیے نہیں کیا گیا کہ صُلب دماغ کا وہ حصہ ہے جس کی بدولت ہی جسم کے ساتھ دماغ کا تعلق قائم ہوتا ہے (نیز ملاحظہ ہو ضمیمہ نمبر4،صفحہ نمبر583)۔

(86:8)

اِنَّهٗ عَلٰی رَجْعِهٖ لَقَادِرٌ ؕ

یقیناً وہ (خالق) اُسے دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے۔4

حاشیہ نمبر: 4

یعنی جس طرح وہ انسان کو وجود میں لاتا ہے اور استقرارِ حمل کے وقت سے مرتے دم تک اس کی نگہبانی کرتا ہے ، یہی اس بات کا کھلا ہوا ثبوت ہے کہ وہ اُسے موت کے بعد پلٹا کر پھر وجود میں لا سکتا ہے ۔ اگر وہ پہلی چیز پر قادر تھا اور اُسی قدرت کی بدولت انسان دنیا میں زندہ موجود ہے، تو آخر کیا معقول دلیل یہ گمان کرنے کے لیے پیش کی جا سکتی ہے کہ دوسری چیز پر وہ قادر نہیں ہے۔ اِس قدرت کا انکار کرنے کے لیے آدمی کو سرے سے  اِس بات کا انکار کرنا ہوگا کہ خدا اُسے وجود میں لایا ہے، اور جو شخص اس  کا انکار کرئے اس سے کچھ بعید نہیں کہ ایک روز اُس کے دماغ کی خرابی اُس سے یہ دعوٰی بھی کرادے کہ دنیا کی  تمام کتابیں ایک حادثہ کے طور پر چھپ گئی ہیں، دنیا کے تمام شہر ایک حادثہ کے طور پر بن گئے ہیں ، اور زمین پر کوئی اتفاقی حادثہ ایسا ہو گیا تھا جس سے تمام کار خانے بن کر خود بخود چلچے لگے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی تخلیق اور اس کے جسم کی بناوٹ اور اس کے اندر کام کرنے والی قوتوں اور صلاحیتوں کا پیدا ہونا اور اس کا ایک زندہ ہستی کی حیثیت سے باقی رہنا اُن تمام کاموں سے بدر جہا زیادہ پیچیدہ عمل ہے جو انسان کے ہاتھوں دنیا میں ہوئے اور ہو رہے ہیں۔ اتنا بڑا پیچیدہ عمل اِس حکمت اور تناسُب اور تنظیم کے ساتھ اگر اتفاقی حادثہ کے طور پر ہو سکتا ہو تو پھر کونسی چیز ہے جسے ایک دماغی مریض حادثہ نہ کہہ سکے؟

(86:9)

یَوْمَ تُبْلَی السَّرَآىِٕرُ 

جس روز پوشیدہ اسرار کی جانچ پڑتال ہوگی5

حاشیہ نمبر: 5

پوشیدہ اُسرا ر سے مراد ہر شخص کے وہ اعمال بھی ہیں جو دنیا میں ای راز بن کر رہ گئے، اور وہ معاملات بھی ہیں جو اپنی ظاہری صورت میں تو دنیا  کے سامنے آئے مگر اُن کے پیچھے جو نیتیں اور اغراض اور خواہشات کام کر رہی تھیں، اور ان کے جو باطنی محرکات تھے اُن کا حال لوگوں سے چھپا رہ گیا۔ قیامت کے روز یہ سب کچھ کھل کر سامنے آجائے گا اور جانچ پڑتال صرف اِسی بات کی نہیں ہوگی کہ کس شخص نے کیا کچھ کیا، بلکہ اس بات کی بھی ہوگی کہ کس وجہ سے کیا، کس غرض اور کس نیت اور کس مقصد سے کیا۔ اسی طرح یہ بات بھی ساری دنیا سے، حتٰی کہ  خود ایک فعل کرنے والے انسان سے بھی مخفی رہ گئی ہے کہ جو فعل اس نے کیا اُس کے کیا اثرات دنیا میں ہوئے، کہاں کہاں پہنچے، اور کتنی مدت  تک چلتے رہے۔ یہ راز بھی قیامت ہی کے روز کُھلے گا اور اِس کی پوری جانچ پڑتال ہو گی کہ جو بیج کوئی شخص دنیا میں بوگیا تھا اس کی فصل کس کس شکل میں کب تک کٹتی رہی اور کون کون اسے کاٹتا رہا۔

(86:10)

فَمَا لَهٗ مِنْ قُوَّةٍ وَّلَا نَاصِرٍ ؕ

اُس وقت انسان کے پاس نہ خود اپنا کوئی زور ہوگا اور نہ کوئی اس کی مدد کرنے والا ہوگا

(86:11)

وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجْعِ 

قسم ہے بارش برسانے والے آسمان کی6

حاشیہ نمبر: 6

آسمان کے لیے ذات الرجع کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ رَجع کے لُغوی معنی تو پلٹنے کے ہیں، مگر مجاز اً عربی زبان میں یہ لفظ بارش کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، کیونکہ وہ بس ایک ہی دفعہ بر س کر نہیں رہ جاتی بلکہ بار بار اپنے موسم میں اور کبھی خلافِ موسم پلٹ پلٹ کرآتی ہے اور وقتاً فوقتاً برستی رہتی ہے۔ ایک اور درجہ بارش کو رجع کہنے کی یہ بھی ہے کہ زمین کے سمندروں سے پانی بھاپ بن کر اٹھتا ہے اور پھر پلٹ کر زمین ہی پر برستا ہے۔

(86:12)

وَالْاَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ 

اور (نباتات اگتے وقت) پھٹ جانے والی زمین کی

(86:13)

اِنَّهٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌ 

یہ ایک جچی تلی بات ہے

(86:14)

وَّمَا هُوَ بِالْهَزْلِ ؕ

ہنسی مذاق نہیں ہے۔7

حاشیہ نمبر: 7

یعنی جس طرح آسمان سے بارشوں کا برسنا اور زمین کا شق ہو کر نباتات اپنے اندر سے اُگلنا کوئی مذاق نہیں ہے بلکہ ایک سنجیدہ حقیقت ہے، اُسی طرح قرآن مجید جس چیز کی خبر دے رہا ہے کہ انسان کو پھر اپنے خدا کی طرف پلٹنا ہے، یہ بھی کوئی ہنسی مذاق کی بات نہیں ہے بلکہ ایک دو ٹوک بات ہے، ایک سنجیدہ حقیقت ہے، ایک اٹل قولِ حق ہے جسے پورا ہو کر رہنا ہے۔

(86:15)

اِنَّهُمْ یَكِیْدُوْنَ كَیْدًا 

یہ لوگ کچھ چالیں چل رہے ہیں8

حاشیہ نمبر: 8

یعنی یہ کفار اِ س قران کی دعوت کو شکست دینے کے لیے طرح طرح کی چالیں چل رہے ہیں۔ اپنی پھونکیوں سے اِس چراغ کو بجھانا چاہتے ہیں۔ ہر قسم کے شبہات لوگوں کے دلوں میں ڈال رہےہیں۔ ایک سے ایک جھوٹا الزام تراش کر اِس کے پیش کرنے والے نبی پر لگا رہے ہیں تا کہ دنیا میں اُس کی بات چلنے نہ پائے اور کفر و جاہلیت کی وہی تاریکی چھائی رہے جسے چھانٹنے کی وہ کوشش کر رہا ہے۔

(86:16)

وَّاَكِیْدُ كَیْدًا 

اور میں بھی ایک چال چل رہا ہوں۔9

حاشیہ نمبر: 9

یعنی میں یہ تدبیر کر رہا ہوں کہ اِن کی کوئی چال کامیاب نہ ہونے پائے، اور یہ آخر کار منہ کی کھا کر رہیں، اور وہ نور پھیل کر رہے جسے یہ  بجھانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔

(86:17)

فَمَهِّلِ الْكٰفِرِیْنَ اَمْهِلْهُمْ رُوَیْدًا 

پس چھوڑ دو اے نبیؐ ، اِن کافروں کو اِک ذرا کی ذرا اِن کے حال پر چھوڑ دو۔10

حاشیہ نمبر: 10

یعنی انہیں ذرا مہلت دو کہ جو کچھ یہ کرنا چاہیں کر دیکھیں۔ زیادہ مدت نہ گزرے گی کہ نتیجہ اِن کے سامنے خود آجائے گا اور انہیں معلوم ہو جائے گا کہ میری تدبیر کے مقابلہ میں اِن کی چالیں کتنی کار گر ہوئیں۔

Read Maududi
Read • Reflect • Reform

Your Complete Learning App

A complete experience—reading, tafseer, audio, and more, all in one app. Available on iOS and Android.

Get the app

Frequently asked questions FAQs

Yes, you can download content and access it anytime without an internet connection.