Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Al-Inshiqaq

سورة الانشقاق

(84:1)

اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْ 

جب آسمان پھٹ جائے گا

(84:2)

وَاَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ 

اور اپنے ربّ کے فرمان کی تعمیل کرے گا1 اور اُس کے لیے حق یہی ہے (کہ اپنے ربّ کا حکم مانے)

حاشیہ نمبر: 1

اصل میں اَذِنَتْ لِرَبِّھَا کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جن کے لفظی معنی ہیں”وہ اپنے رب کا حکم سنے گا“۔لیکن عربی زبان میں محاورے کے طور پر اَذِنَ لَہٗ کے معنی صرف یہی نہیں ہوتے کہ اس نے حکم سُنا بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اُس نے حکم سن کر ایک تابع فرمان کی طرح اس کی تعمیل کی اور ذرا سرتابی نہ کی۔

(84:3)

وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ ؕ

اور جب زمین پھیلا دی جائے گی2

حاشیہ نمبر: 2

زمین کے پھیلا دیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ سمندر اور دریا پاٹ دیے جائے گے، پہاڑ ریزہ ریزہ کر کے بکھیر دیے جائیں گے ، اور زمین کی ساری اونچ نیچ برابر کر کے اسے ایک ہموار میدا ن بنا دیا جائے گا۔ سورہ طٰہٰ میں اس کیفیت کو یوں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ”اُسے چٹیل میدان بنا دے گا جس میں تم کو ئی بَل اور سَلُوَٹ نہ پاؤگے۔“(آیات1۰۶۔1۰7)۔ حاکم نے مُستَدْر ک میں عمدہ سند کے ساتھ حضرت جابر بن عبداللہ کے حوالہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ ”قیامت کے روز زمین ایک دسترخوان کی طرح پھیلا کر بچھا دی جائے گی، پھر انسانوں کے لیے اس پر صرف قدم رکھنے کی جگہ ہوگی“۔ اِس بات کو سمجھنے کے لیے یہ حقیقت نگاہ میں رہنی چاہیے کہ اُس دن تمام انسانوں کو جو ا ولِ روزِ آفر نیش سے قیامت تک پیدا ہوئے ہوں گے، بیک وقت زندہ کر کے عدالتِ الہٰی میں پیش کیا جائیگا۔ اتنی بڑی آبادی کو جمع کرنے کے لیے ناگزیر ہے کہ سمندر، دریا، پہاڑ، جنگل ، گھاٹیاں اور پست و بلند علاقے سب کے سب ہموار کر کے پورے کرہ زمین کو ایک میدان بنا دیا جائے تاکہ اس پر ساری نوع انسانی کے افراد کھڑے ہونے کی جگہ پاسکیں۔

(84:4)

وَاَلْقَتْ مَا فِیْهَا وَتَخَلَّتْ 

اور جو کچھ اس کے اندر ہے اُسے باہر پھینک  کر خالی ہو جائے گی3

حاشیہ نمبر: 3

مطلب یہ ہے کہ جتنے مرے ہوئے انسان اس کے اندر پڑے ہوں گے سب کو نکال کر وہ باہر ڈال دے گی، اور اسی طرح اُن کے اعمال کی جو شہادتیں اُس کے اندر موجود ہوں گی وہ سب بھی پوری کی پوری باہر آجائیں گی، کوئی چیز بھی اُس میں چھپی اور دبی ہوئی نہ رہ جائے گی۔

(84:5)

وَاَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ ؕ

اور اپنے ربّ کے حکم کی تعمیل کرے گی اور اُس کے لیے حق یہی ہے (کہ اس کی تعمیل کرے)۔4

حاشیہ نمبر: 4

یہ صراحت نہیں کی گئی کہ جب یہ  اور یہ واقعات ہوں گے تو کیا ہو گا ، کیونکہ  بعد کا یہ مضمون اُس کو آپ سے آپ ظاہر کر دیتا ہے کہ اے انسان تو اپنے رب کی طرف چلا جا رہا ہے، اُس کے سامنے حاضر ہونے والا ہے، تیرا نامہ اعمال تجھے دیا جانے والا ہے ، اور جیسا تیرا نامہ اعمال ہو گا اس کے مطابق تجھے جزا یا سزا ملنے والی ہے۔

(84:6)

یٰۤاَیُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰی رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلٰقِیْهِ 

اے انسان، تُو کشاں کشاں اپنے ربّ کی طرف چلا جا رہا ہے5 اور اُس سے ملنے والا ہے

حاشیہ نمبر: 5

یعنی وہ ساری تگ و دَو اور دوڑ دھوپ جو تو دنیا میں کر رہا ہے، اُس کے متعلق چاہے تو یہی سمجھتا ہے کہ یہ صرف دنیا کی زندگی تک ہے اور دنیوی اغراض کے یے ہے، لیکن درحقیقت تو شعوری یا غیر شعوری طور پر جا رہا ہے اپنے رب ہی کی طرف اور آخرکار وہیں تجھے پہنچ کر رہنا ہے۔

(84:7)

فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ 

پھر جس کا نامہ اعمال اُس کے سیدھے ہاتھ میں دیا گیا

(84:8)

فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًا 

اُس سے ہلکا حساب لیا جائے گا6

حاشیہ نمبر: 6

یعنی اُس سے سخت حساب فہمی نہ کی جائے گی۔ اُس سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ فلاں فلاں کام تونے کیوں کیے تھے اور تیرے پاس اُن کاموں کے لیے کیا عذر ہے۔ اُس کی بھلائیوں کے ساتھ اُس کی برائیاں بھی اُس کے نامہ اعمال میں موجود ضرور ہوں گی، مگر بس یہ دیکھ کر کہ بھلائیوں کا پلڑا برائیوں سے بھاری ہے ، اس کے قصوروں سے درگزر کیا جائےگا اور اسے معاف کر دیا جائے گا۔ قرآن مجید میں بد اعمال لوگوں سے سخت حساب فہمی کے لیے سُوءُ الْحِسابِ (بری طرح حساب لینے) کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں (الرعد، آیت18)، اور نیک لوگوں کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ”یہ وہ لوگ ہیں جن سے ہم ان کے بہتر اعمال قبول کر لیں گے اور ان کی برائیوں سے درگزر کریں گے“(الاحقاف، آیت1۶)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس کی جو تشریح فرمائی ہے اُسے امام احمد،بخاری،مسلم، ترمذی، نَسائی، ابو داؤد،حاکم ،ابن جریر، عبد بن حُمَید اور بن مردویہ نے مختلف الفاظ  میں حضرت عائشہؓ  نے نقل کی اہے ۔ ایک روایت میں ہے کہ حضورؐ نے فرمایا”جس سے بھی حساب لیا گیا وہ مارا گیا“۔حضرت عائشہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایاکہ”جس کا نامہ اعمال اس کے سیدھے ہاتھ میں دیا گیا اس سے ہلکا حساب لیا جائے گا“؟حضورؐ نے جواب دیا”وہ تو صرف اعمال کی پیشی ہے ، لیکن جس سے پوچھ گچھ کی گئی وہ مارا گیا“۔ایک اور روایت میں حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضورؐ کو نماز میں یہ دعا مانگتے ہوئے سنا کہ ”خدایا مجھ سے حساب لے“۔آپ نے جب سلام پھیرا تو میں نے اس کا مطلب پوچھا۔ آپ نے فرمایا”ہلکے حساب سے مراد یہ ہے کہ بندے کے نامہ اعمال کو دیکھا جائے گا اور اُس سے درگزر کیا جائے گا۔ اے عائشہؓ، اُس روز جس سے حساب فہمی کی گئی وہ مارا گیا“۔

(84:9)

وَّیَنْقَلِبُ اِلٰۤی اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًا ؕ

اور وہ اپنے لوگوں کی طرف خوش خوش پلٹے گا۔7

حاشیہ نمبر: 7

اپنے لوگوں سے مراد آدمی کے وہ اہل وعیال، رشتہ دار اور ساتھی ہیں جو اُسی کی طرح معاف کیے گئے ہوں گے۔

(84:10)

وَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ وَرَآءَ ظَهْرِهٖ 

رہا  وہ شخص جس کا  نامہٴ اعمال اُس کی پیٹھ کے پیچھے دیا جائے گا8

حاشیہ نمبر: 8

سورہ اَلْحَاقّہ میں فرمایاگیا ہے کہ جس کا نامہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ۔ اور یہاں ارشاد ہوا ہے اُ س کی پیٹھ کے پیچھے دیا جائے گا۔ غالبًا اِ س کی صورت یہ ہوگی کہ وہ شخص اِ س بات سے تو پہلے ہی مایوس ہوگا کہ اُسے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال ملے گا، کیونکہ اپنے کرتوتوں سے وہ خوب واقف ہوگا اور اسے یقین ہوگا کہ مجھے نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں ملنے والا ہے ۔ البتہ سار ی خلقت کے سامنے بائیں  ہاتھ میں نامہ اعمال لیتے ہوئے اُسےخِفّت محسوس ہوگی، اس لیے وہ اپنا ہاتھ پیچھے کر لے گا۔ مگر اِس تدابیر سے یہ ممکن نہ ہوگا کہ وہ اپنا کچّا چٹھا اپنے ہاتھ میں لینے سے بچ جائے۔ وہ تو بہر حال اسے پکڑا یا ہی جائے گا خواہ وہ ہاتھ آگے بڑھا کر لے یا پیٹھ کے پیچھے چھپالے۔

(84:11)

فَسَوْفَ یَدْعُوْا ثُبُوْرًا 

تو وہ موت کو پکارے گا

(84:12)

وَّیَصْلٰی سَعِیْرًا ؕ

اور بھڑکتی ہوئی آگ میں جا پڑے گا

(84:13)

اِنَّهٗ كَانَ فِیْۤ اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًا ؕ

وہ اپنے گھر والوں میں مگن تھا۔9

حاشیہ نمبر: 9

یعنی اُس کا حال خدا کے صالح بندوں سے مختلف تھا جن کے متعلق سورہ طور (آیت 2۶) میں فرمایا گیا ہے کہ وہ اپنے گھر والوں میں خدا سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتے تھے، یعنی ہر وقت اُنہیں یہ خوف لاحق رہتا تھا کہ کہیں بال بچوں کی محبت میں گرفتا ر ہو کر ہم اُن کی دنیا بنانے کےلیے اپنی عاقبت بر باد نہ کر لیں۔ اِس کے بر عکس اُس شخص کا حال یہ تھا کہ اپنے گھر میں وہ چین کی بنسری بجا رہا تھا اور خوب بال بچوں کو عیش کر ا رہا تھا، خوہ وہ کتنی ہی حرام خوریاں کر کے اور کتنے ہی لوگوں کے حق مار کر یہ سامانِ عیش فراہم کرے، اور اس لطف و لذت کے لیے خدا کی باندھی ہوئی حدوں کو کتنا ہی پامال کرتا رہے۔

(84:14)

اِنَّهٗ ظَنَّ اَنْ لَّنْ یَّحُوْرَ 

اُس نے سمجھا تھا کہ اسے کبھی پلٹنا نہیں ہے

(84:15)

بَلٰۤی اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِیْرًا ؕ

پلٹناکیسے نہ تھا، اُس کا ربّ اُس کے کرتُوت دیکھ رہا تھا۔10

حاشیہ نمبر: 10

یعنی یہ خدا کے انصاف اور اس کی حکمت کے خلاف تھا کہ جو کرتوت وہ کر رہا تھا ان کو وہ نظر انداز کر دیتا اور اسے اپنے سامنے بلا کر کوئی باز پرش اس سے نہ کرتا۔

(84:16)

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالشَّفَقِ 

پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں شفق کی

(84:17)

وَالَّیْلِ وَمَا وَسَقَ 

اور رات کی اور جو کچھ وہ سمیٹ لیتی ہے

(84:18)

وَالْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ 

اور چاند کی جب کہ وہ ماہ کامل ہو جاتا ہے

(84:19)

لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ ؕ

تم کو ضرور درجہ بدرجہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف گزرتے چلے جانا ہے۔11

حاشیہ نمبر: 11

یعنی تمہیں ایک حالت پر نہیں رہنا ہے بلکہ جوانی سے بڑھاپے ، بڑھاپے سے موت، موت سے بَرْزَخ، برزخ سے دوبارہ زندگی، دوبارہ زندگی سے میدان حشر، پھر حساب و کتاب اور پھر جزا و سزا کی بے شمار منزلوں سے لازماً تم کر گزرنا ہو گا۔ اِس بات پر تین چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے۔ سورج ڈوبنے کے بعد شفق کی سُرخی، دن کے بعد رات کی تاریکی اور اُس میں اُن بہت سے انسانوں اور حیوانات کا سمٹ آنا جو دن کے وقت زمین پر پھیلے رہتے ہیں ، اور چاند کا بلال سے درجہ بدرجہ بڑھ کر بدر کامل بننا۔ یہ گویا چند وہ چیزیں ہیں جو اس بات  کی علانیہ شہادت دے رہی ہیں کہ جس کائنات میں انسان رہتا ہے  اس  کے اندر ٹھیراؤ نہیں ہے، ایک مسلسل تغیّر اور درجہ بدرجہ تبدیلی ہر طرف پائی جاتی ہے، لہٰذا کفار کا یہ خیال صحیح نہیں ہے کہ موت کی آخری ہچکی کے ساتھ معاملہ ختم ہو جائے گا۔

(84:20)

فَمَا لَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ 

پھر اِن لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ یہ ایمان نہیں لاتے

(84:21)

وَاِذَا قُرِئَ عَلَیْهِمُ الْقُرْاٰنُ لَا یَسْجُدُوْنَ 

اور جب قرآن اِن کے سامنے پڑ ھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے؟12

حاشیہ نمبر: 12

یعنی ان کے دل میں خدا کا خوف پیدا نہیں ہوتا اور یہ اُس کے آگے نہیں جھکتے۔ اِس مقام پر سجدہ کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت ہے۔ امام مالک، مسلم اور نسائی نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے  بارے میں یہ روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے نماز میں یہ سورہ  پڑھ کر اِس مقام پر سجدہ کیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں سجدہ کیا ہے۔ بخاری، مسلم،ابو داؤد اور نسائی نے ابورافع کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ حضرت ابو ہریرہؓ نے  عشا کی نماز میں یہ سورہ پڑھی اور سجدہ کیا۔ میں نے اس کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی ہے اور حضورؐ نے اس مقام پر سجدہ کیا ہے، اس لیے میں مرتے دم تک یہ سجدہ کرتا رہوں گا۔ مسلم، ابو داؤد، ترمذی، نسائی، اور ابن ماجہ وغیرہ ہم نے ایک اور روایت نقل کی ہےجس میں حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اِس سورہ میں اور اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ میں سجدہ کیا ہے۔

(84:22)

بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُكَذِّبُوْنَ ؗ

بلکہ یہ منکرین تو الٹا جھٹلاتے ہیں

(84:23)

وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یُوْعُوْنَ ؗ

حالانکہ جو کچھ یہ (اپنے نامہٴ اعمال میں) جمع کر رہے ہیں اللہ اُسے خوب جانتا ہے۔13

حاشیہ نمبر: 13

دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اپنے سینوں میں کفر اور عناد اور عدالتِ حق اور برے ارادوں اور فاسد نیتوں کی جو گندگی انہوں نے بھر رکھی ہے اللہ اسے خوب جانتا ہے۔

(84:24)

فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ 

لہٰذا اِن کو دردناک عذاب کی بشارت دے دو

(84:25)

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ 

البتہ جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں ان کے لیے کبھی ختم نہ ہونے والا اجر ہے

Read Maududi
Read • Reflect • Reform

Your Complete Learning App

A complete experience—reading, tafseer, audio, and more, all in one app. Available on iOS and Android.

Get the app

Frequently asked questions FAQs

Yes, you can download content and access it anytime without an internet connection.