Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Al-Mutaffifin

سورة المطففين

(83:1)

وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ 

تباہی ہے ڈنڈی مارنے والوں کے لیے۔1

حاشیہ نمبر: 1

اصل میں لفظ مُطَفِّفِیْن استعمال کیا گیا ہے جو تَطْفِیْف سے مشتق ہے  عربی زبان میں طَفَیْف چھوٹی اور حقیر چیز کے لیے بولتے ہیں اور تطیف کا لفظ اصطلاحاً ناپ تول میں چوری چھپے کمی کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ، کیونکہ یہ کام کرنے والا ناپ کر یا تول کر چیز دیتے ہوئے کوئی بڑی مقدار نہیں اڑاتا بلکہ ہاتھ کی صفائی دکھا کر ہر خریدار کے حصے میں سے تھوڑا تھوڑا اڑا تا رہتا ہے اور خریدار بیچارے کو کچھ پتہ نہیں چلتا کہ تاجر اُسے کیا اور کتنا گھاٹا دے گیا ہے۔

(83:2)

الَّذِیْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَی النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ ؗ

جن کا حال یہ ہے کہ جب لوگوں سے لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں

(83:3)

وَاِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّزَنُوْهُمْ یُخْسِرُوْنَ ؕ

اور جب ان کو ناپ کو یا تول کر دیتے ہیں تو انہیں گھاٹا دیتے ہیں۔2

حاشیہ نمبر: 2

قرآن مجید میں جگہ جگہ ناپ تول میں کمی کرنے کی سخت مُذمّت اور صحیح ناپنے اور تولنے کی سخت تاکید کی گئی ہے ۔ سورہ انعام میں فرمایا”انصاف کے ساتھ پورا ناپو اور تولو، ہم کسی شخص کو اس کی مقدرت سے زیادہ کا مکلّف نہیں ٹھیراتے“(آیت152)۔ سورہ بنی اسرائیل میں ارشاد ہوا” جب ناپو تو پورا ناپو اور صحیح ترازو سے تولو“(آیت25)۔ سورہ رحمان میں تاکید کی گئی کہ ”تولنے میں زیادتی نہ کرو، ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ وزن کرو اور ترازو میں گھاٹا نہ دو“(آیات8۔9)۔ قوم ِ شعیب پر جس جرم کی وجہ سے عذاب نازل ہوا وہ یہی تھا کہ اُس کے اندر ناپ تول میں کمی کرنے کا مرض عام طور پر پھیلا ہوا تھا اور حضرت شعیب کی پے در پے نصیحتوں کے با وجود یہ قوم اِس جرم سے باز نہ آتی تھی۔

(83:4)

اَلَا یَظُنُّ اُولٰٓىِٕكَ اَنَّهُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ 

کیا یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ ایک بڑے دن3

حاشیہ نمبر: 3

روز قیامت کو بڑا دن اس بنا پر کہا گیا ہے کہ اس میں تمام انسانوں اور جنوں کو حساب خدا کی عدالت میں بیک وقت لیا جائے گا اور عذاب و ثواب کے اہم ترین فیصلے کیے جائیں گے۔

(83:5)

لِیَوْمٍ عَظِیْمٍ 

یہ اٹھا کر لائے جانے والے ہیں؟

(83:6)

یَّوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ؕ

اُس دن جبکہ سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے

(83:7)

كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْفُجَّارِ لَفِیْ سِجِّیْنٍ ؕ

ہر گز نہیں،4 یقیناً بدکاروں کا نامہٴ اعمال قیدخانے کے دفتر میں ہے۔5

حاشیہ نمبر: 4

یعنی اِ ن لوگوں کا یہ گمان غلط ہے کہ دنیا میں اِن جرائم کا ارتکاب کرنے کے بعد یہ یونہی چھوٹ جائیں گے اور کبھی اِن کو اپنے خدا کے سامنے جواب دہی کے لیے حا ضر نہ ہونا پڑے گا۔

حاشیہ نمبر: 5

اصل میں لفظ سِجِّیْن استعمال ہوا ہے جو سِجْن(جیل قید خانے ) سے ماخوذ ہے اور آگے اُس کو جو تشریح کی گئی ہے اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس سے مراد وہ رجسٹر ہے جس میں سزا کے مستحق لوگوں کے اعمال نامے میں درج کیے جا رہے ہیں۔

(83:8)

وَمَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سِجِّیْنٌ ؕ

اور تمہیں کیا معلوم کہ وہ قید خانے کا دفتر کیا ہے؟

(83:9)

كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ ؕ

ایک کتاب ہے لکھی ہوئی

(83:10)

وَیْلٌ یَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ 

تباہی ہے اُس روز جھٹلانے والوں کے لیے

(83:11)

الَّذِیْنَ یُكَذِّبُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ ؕ

جو روز جزا کو جھٹلاتے ہیں

(83:12)

وَمَا یُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍ 

اور اُسے نہیں جھٹلاتا مگر ہر وہ شخص جو حد سے گزر جانے والا بد عمل ہے

(83:13)

اِذَا تُتْلٰی عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ ؕ

اُسے جب ہماری آیات سُنائی جاتی ہیں6 تو کہتا ہے یہ تو اگلے وقتوں کی کہانیاں ہیں

حاشیہ نمبر: 6

یعنی وہ آیات جن میں روزِ جزا کی خبر دی گئی ہے۔

(83:14)

كَلَّا بَلْ ٚ رَانَ عَلٰی قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ 

ہر گز نہیں، بلکہ دراصل اِن لوگوں کے دلوں پر اِن کے بُرے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے۔7

حاشیہ نمبر: 7

یعنی جزا وسزا کو افسانہ قرار دینے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے ، لیکن جس وجہ سے یہ لوگ اسے افسانہ کہتے ہیں وہ یہ ہے کہ جن گناہوں کا یہ ارتکاب کرتے رہے ہیں ان کا زنگ اِن کے دلوں  پر پوری طرح چڑھ گیا ہے اس لیے جو بات سراسر معقول ہے وہ اِن کو افسانہ نظر آتی ہے۔ اِس زنگ کی تشریح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمائی ہے کہ بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اُس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے۔ اگر وہ توبہ کر لے تو وہ نقطہ صاف ہو جاتا ہے، لیکن اگر وہ گناہوں کا ارتکاب کرتا ہی چلا جائے تو پورے دل پر وہ چھا جاتا ہے(مسند احمد،ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، ابن جریر، حاکم، ابن ابی حاتم، ابن حِبّان وغیرہ)۔

(83:15)

كَلَّاۤ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ یَوْمَىِٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ ؕ

ہر گز نہیں، بالیقین اُس روز یہ اپنے ربّ کی دید سے محروم رکھے جائیں گے،8

حاشیہ نمبر: 8

یعنی دیدارِ الہٰی کا جو شرف نیک لوگوں کو نصیب ہو گا اس سے یہ لوگ محروم رہیں گے(مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد ششم، القیامہ،حاشیہ17)۔

(83:16)

ثُمَّ اِنَّهُمْ لَصَالُوا الْجَحِیْمِ ؕ

پھر یہ جہنم میں جا پڑیں گے

(83:17)

ثُمَّ یُقَالُ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ ؕ

پھر اِن سے کہا جائے گا کہ یہ وہی چیز ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے

(83:18)

كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْاَبْرَارِ لَفِیْ عِلِّیِّیْنَ ؕ

ہر گز نہیں،9 بے شک نیک آدمیوں کا نامہٴ اعمال بلند پایہ لوگوں کے دفتر میں ہے

حاشیہ نمبر: 9

یعنی اِن لوگوں کا یہ خیال غلط ہے کہ کوئی جزا و سزا واقع ہونے والی نہیں ہے۔

(83:19)

وَمَاۤ اَدْرٰىكَ مَا عِلِّیُّوْنَ ؕ

اور تمہیں کیا خبر کہ کیا ہے وہ بلند پایہ لوگوں کا دفتر؟

(83:20)

كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ 

ایک لکھی ہوئی کتاب ہے

(83:21)

یَّشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُوْنَ ؕ

جس کی نگہداشت مقرب فرشتے کرتے ہیں

(83:22)

اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍ 

بے شک نیک لوگ بڑے مزے میں ہوں گے

(83:23)

عَلَی الْاَرَآىِٕكِ یَنْظُرُوْنَ 

اونچی مسندوں پر بیٹھے نظارے کر رہے ہوں گے

(83:24)

تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِیْمِ 

ان کے چہروں پر تم خوشحالی کی رونق محسوس کرو گے

(83:25)

یُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِیْقٍ مَّخْتُوْمٍ 

ان کو نفیس ترین سر بند شراب پلائی جائے گی جس پر مُشک کی مُہر لگی ہوگی۔10

حاشیہ نمبر: 10

اصل الفاظ ہیں خِتٰمُہٗ مِسْکٌ۔ اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ جن برتنوں میں وہ شراب رکھی ہو گی اُن پر مٹی یا موم کے بجائے مشک کی مُہر ہوگی۔ اس مفہوم کے لحاظ سے آیت کا مطلب یہ ہے کہ یہ شراب کی ایک نفیس ترین قسم ہو گی جو نہروں میں  بہنے والی شراب سے اشرف و اعلیٰ ہوگی اور اسے جنّت کے خدام مشک کی مُہر لگے ہوئے برتنوں میں لا کر اہل جنت کو پلائیں گے ۔ دوسرا مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ شراب جب پینے والوں کے حلق سے اترے گی تو آخرت میں اُن کو مشک کی خوشبو محسوس ہوگی۔ یہ کیفیت دنیا کی شرابوں  کے بالکل بر عکس ہے جن کی بوتل کھلتے ہی بو کا ایک بھپکا ناک میں آتا ہے، پیتے ہوئے بھی ان کی بد بو محسوس ہوتی ہے، اور حلق سے جب وہ اترتی ہے تو دماغ تک اس کی سڑاند پہنچ جاتی ہے جس کی وجہ سے بد مزگی کے آثاران کے چہرے پر ظاہر ہوتے ہیں۔

(83:26)

خِتٰمُهٗ مِسْكٌ ؕ وَفِیْ ذٰلِكَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَ ؕ

جو لوگ دوسروں پر بازی لے جانا چاہتے ہوں وہ اِس چیز کو حاصل کرنے میں بازی لے جانے کی کوشش کریں

(83:27)

وَمِزَاجُهٗ مِنْ تَسْنِیْمٍ 

ں۔ اُس شراب میں تسنیم کی آمیزش ہوگی،11

حاشیہ نمبر: 11

تسنیم کے معنی  بلندی کے ہیں، اور کسی چشمے کو تسنیم کہنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ بلندی سے بہتا ہوا نیچے آرہا ہو۔

(83:28)

عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُوْنَ ؕ

یہ ایک چشمہ ہے جس کے پانی کے ساتھ مقرب لوگ شراب پئیں گے

(83:29)

اِنَّ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا كَانُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَضْحَكُوْنَ ؗ

مجرم لوگ دنیا میں ایمان لانے والوں کا مذاق اڑاتے تھے

(83:30)

وَاِذَا مَرُّوْا بِهِمْ یَتَغَامَزُوْنَ ؗ

جب اُن کے پاس سے گزرتے تو آنکھیں مار مار کر اُن کی طرف اشارے کرتے تھے

(83:31)

وَاِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤی اَهْلِهِمُ انْقَلَبُوْا فَكِهِیْنَ ؗ

پنے گھروں کی طرف پلٹتے تو مزے لیتے ہوئے پلٹتے تھے،12

حاشیہ نمبر: 12

یعنی یہ سوچتے ہوئے پلٹتے  تھے کہ آج تو مزا آگیا، میں فلاں مسلمان کا مذاق اُڑا کر اور اس پر آوازے اور پھبتیاں کس کو خوب لطف اٹھایا اور لوگوں میں بھی اس کی اچھی گت بنی۔

(83:32)

وَاِذَا رَاَوْهُمْ قَالُوْۤا اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَضَآلُّوْنَ 

اور جب انہیں دیکھتے تو کہتے تھے کہ یہ بہکے ہوئے لوگ ہیں،13

حاشیہ نمبر: 13

یعنی اِن کی عقل ماری گئی ہے، اپنے آپ کو دنیا کے فائدوں اور لذتوں سے صرف اس لیے محروم کر لیا ہے اور ہر طرح کے خطرات اور  مصائب صرف اس لیے مول لے لیے ہیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے انہیں آخرت اور جنت اور دوزخ کے چکر میں ڈال دیا ہے۔ جو کچھ حاضر ہے اسے اس مفہوم امید پر چھوڑ رہے ہیں کہ موت کے بعد کسی جنت کے ملنے کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے ، اور جو تکلیفیں آج پہنچ رہی ہیں انہیں اس خیالِ خام کی بنا پر انگیز کر رہے ہیں کہ دوسری دنیا میں کوئی جہنم ہو گی جس کے عذاب انہیں ڈرایا گیا ہے۔

(83:33)

وَمَاۤ اُرْسِلُوْا عَلَیْهِمْ حٰفِظِیْنَ ؕ

حالانکہ وہ اُن پر نگراں بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے۔14

حاشیہ نمبر: 14

اس مختصر سے فقرے میں ان مذاق اڑانے والوں کو بڑی سبق آموز تنبیہ کی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بالفرض وہ سب کچھ غلط ہے جس پر مسلمان ایمان لائے ہیں لیکن وہ تمہار کچھ نہیں بگاڑ رہےہیں ۔ جس چیز کوانہوں نے حق سمجھا ہے اس کے مطابق وہ اپنی جگہ خو دہی ایک خاص اخلاقی رویّہ اختیار کر رہے ہیں۔ اب کیا خدا نے تمہیں کوئی فوجدار بنا کر بھیجا ہے  کہ جو تمہیں نہیں چھڑ رہا اس کو تم چھیڑو، اور جو تمہیں کوئی تکلیف نہیں دے رہا ہے اسے تم خوامخواہ تکلیف دو؟

(83:34)

فَالْیَوْمَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنَ الْكُفَّارِ یَضْحَكُوْنَ 

آج ایمان لانے والے کفار پر ہنس رہے ہیں

(83:35)

عَلَی الْاَرَآىِٕكِ یَنْظُرُوْنَ ؕ

مسندوں پر بیٹھے ہوئے ان کا حال دیکھ رہے ہیں

(83:36)

هَلْ ثُوِّبَ الْكُفَّارُ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ 

مِل گیا نا کافروں کو اُن حرکتوں کا ثواب جو وہ کیا کرتے تھے۔15

حاشیہ نمبر: 15

اس فقرے میں ایک لطیف طنز ہے ۔ چونکہ وہ کفار کارِ ثواب سمجھ کر مومنوں کو تنگ کرتے تھے، اس لیے فرمایا گیا کہ آخرت میں مومن جنت میں مزے سے بیٹھے ہوئے جہنم میں جلنے والے ان کافروں کا حال دیکھیں گے اور اپنے دلوں میں کہیں گے کہ خوب ثواب انہیں  ان کے اعمال کا مل گیا۔

Read Maududi
Read • Reflect • Reform

Your Complete Learning App

A complete experience—reading, tafseer, audio, and more, all in one app. Available on iOS and Android.

Get the app

Frequently asked questions FAQs

Yes, you can download content and access it anytime without an internet connection.