Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

An-Nazi'at

سورة النازعات

(79:1)

وَالنّٰزِعٰتِ غَرْقًا 

قسم ہے اُن (فرشتوں کی) جو ڈوب کر کھینچتے ہیں

(79:2)

وَّالنّٰشِطٰتِ نَشْطًا 

اور آہستگی سے نکال لے جاتے ہیں

(79:3)

وَّالسّٰبِحٰتِ سَبْحًا 

اور (اُن فرشتوں کی جو کائنات میں) تیزی سے تیرتے پھرتے ہیں

(79:4)

فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًا 

پھر (حکم بجا لانے میں) سبقت کرتے ہیں

(79:5)

فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًا 

پھر (احکامِ الٰہی کے مطابق)معاملات کا انتظام چلاتے ہیں۔1

حاشیہ نمبر: 1

یہاں پانچ اَوصاف رکھنے والی ہستیوں کا قسم جس بات پر کھائی گئی ہے اس کی وضاحت نہیں کی گئی ۔ لیکن بعد کا مضمون اِس امر پر خود دلالت کرتا ہے کہ یہ قسم اِس بات پر کھائی گئی ہے کہ قیامت ضرور آئے گی اور تمام مرے ہوئے انسان ضرور از سرِ نو زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے۔ اِس کی وضاحت بھی نہیں کی گئی کہ یہ پانچ اوصاف کن ہستیوں کے ہیں، لیکن صحابہ اور تابعین کی بڑی تعداد نے اور اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ ان سے مراد فرشتے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود، حضرت عبداللہ بن عباس، مسرق، سعید بن جُبَیر، ابو صالح، ابو الضُّحٰی اور سُدِّی کہتے ہیں کہ ڈو ب کر کھینچنے والوں اور آہستگی سے نکال لے جانے والوں سے مُراد وہ فرشتے ہیں جو موت کے وقت انسان کی جان کو اس کے جسم کی گہرایوں تک اُتر کر اور اس کی رگ رگ سے کھینچ کر نکالتے ہیں۔ تیزی سے تیرتے  پھرنے والوں سے مراد بھی حضرت علی، حضرت ابن مسعود، مجاہد، سعید بن جُبَیر اور ابو صالح نے فرشتے ہی لیے ہیں جو احکامِ الہٰی کی تعمیل میں اِس طرح تیزی سے رواں دواں رہتے ہیں جیسے کہ وہ فضا میں تیر رہے ہوں۔ یہی مفہوم” سبقت کرنے والوں“کا حضرت علی، مجاہد، مسروق ، ابو صالح اور حسن بصری نے لیا ہے اور سبقت کرنے سے مراد یہ ہے کہ حکمِ الہٰی کا اشارہ پاتے ہی اُن میں سے ہر ایک اس کی تعمیل کے لیے دوڑ پڑتا ہے۔”معاملات کا انتظام چلانے والوں“ سے مراد بھی فرشتے ہیں، جیسا کہ حضرت علی، مجاہد، عطاء، ابو صالح، حسن بصری، قَتادَہ، ربیع بن انس، اور سُدِّی سے منقول ہے۔ بالفاظِ دیگر یہ سلطنتِ کائنات کے وہ کارکن ہیں جن کے ہاتھوں دنیا کا سارا انتظام اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق چل رہا ہے۔ اِن آیات کے یہ معنی اگرچہ کسی صحیح حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول نہیں ہوئے ہیں، لیکن چندا کابر صحابہ نے، اور اُن تابعین نے جو صحا بہ ہی کے شاگرد تھے، جب ان کا یہ مطلب بیان کیا ہے تو گمان یہی ہوتا ہے کہ علم حضورؐ ہی سے حاصل کیا گیا ہوگا۔           اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وقوعِ قیامت اور حیات بعد الموت پر اِن فرشتوں کی قسم کس بنا پر کھائی گئی ہے جبکہ یہ خود بھی اُسی طرح غیر محسوس ہیں جس طرح وہ چیز غیر محسوس ہے جس کے واقع ہونے پر ان کو بطور شہادت اور بطورِ استدلال پیش کیا گیا ہے۔ ہمارے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے ، واللہ اعلم، کہ اہلِ عرب فرشتوں کی ہستی کے منکر نہ تھے۔ وہ خود اِس بات کو تسلیم کرتے تھے کہ موت کے وقت انسان کی جان فرشتے ہی نکالتے ہیں۔ ان کا یہ عقیدہ بھی تھا کہ فرشتوں کی حرکت انتہائی تیز ہے، زمین سے آسمان تک آناً فاناً وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جاتے ہیں اور ہر کام جس کا انہیں حکم دیا جائے بلا تاخیر انجام دیتے ہیں۔ وہ یہ بھی مانتے تھے کہ یہ فرشتے حکم الہٰی کے تابع ہیں اور کائنات کا انتظام اللہ تعالیٰ ہی کے امر سے چلاتے  ہیں، خود مختار اور اپنی مرضی کے مالک نہیں ہیں۔ جہالت کی بنا پر وہ ان کو اللہ کی بیٹیاں ضرور کہتے  تھے اور اُن کو معبود بھی بنائے ہوئے تھے، لیکن اُن کا یہ عقیدہ نہیں تھا کہ اصل اختیارات انہی کے ہاتھ میں ہیں۔ اس لیے یہاں وقوعِ قیامت اور حیات بعد الموت پر اُن کے مذکورہ بالا اوصاف سے استدلال اس بنا پر کیا گیا ہے کہ جس خدا کے حکم سے فرشتے تمہاری جان نکالتے ہیں اسی کے حکم سے وہ دوبارہ جان  ڈال بھی سکتے ہیں۔ اور جس خدا کے حکم سے  وہ کائنات کا انتظام چلا رہے  ہیں اسی کے حکم سے ، جب بھی اُس کا حکم ہو، اِس کائنات کو وہ درہم برہم بھی کر سکتے ہیں، اور ایک دوسری دنیا بنا بھی سکتے ہیں۔ اُس کے حکم کی تعمیل میں ان کی طرف سے ذرّہ برابر بھی سُستی یا لمحہ بھر کی تاخیر بھی نہیں ہو سکتی۔

(79:6)

یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ 

جس روز ہلا مارے گا زلزلے کا جھٹکا

(79:7)

تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ ؕ

اور اس کے پیچھے ایک اور جھٹکا پڑے گا،2

حاشیہ نمبر: 2

پہلے جھٹکے سے مراد وہ جھٹکا ہے جو زمین اور اس کی ہر چیز کو تباہ کر دے گا اور دوسرے جھٹکے سے مراد وہ جھٹکا ہے جس  کے بعد تمام مُردے زندہ ہو کر زمین سے نکل آئیں گے ۔ اِسی کیفیت کو سُورہ زُمَر میں یوں بیان کیا گیا ہے”اور صور پُھونکا جائے گا تو زمین اور آسمان میں جو بھی ہیں وہ سب مر کر گر جائیں گے سوائے اُن  کے جنہیں  اللہ(زندہ رکھنا)چاہے۔ پھر ایک دوسرا صُور پھونکا جائے گا تو یکایک وہ سب اُٹھ کر دیکھنے لگیں گے“۔(آیت۶8)

(79:8)

قُلُوْبٌ یَّوْمَىِٕذٍ وَّاجِفَةٌ 

کچھ دل ہوں گے جو اُس روز خوف سے کانپ رہے ہوں گے،3

حاشیہ نمبر: 3

”کچھ دل“کے الفاظ اس لیے استعمال کیے گئے ہیں کہ قرآن مجید کی رو سے  صرف کفار و فُجّار اور منافقین ہی پر قیامت کے روز ہوَل طاری ہو گا۔ مومنینِ صالحین اُس ہول سے محفوظ ہوں گے۔ سورہ انبیاء میں ان کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ ”وہ انتہائی گھبراہٹ کا وقت اُن کو ذرا پریشان نہ کرے گا اور ملائکہ بڑھ کر اُن کو ہاتھوں ہاتھ لیں گے کہ یہ تمہارا وہی دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا“(آیت1۰3)

(79:9)

اَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌ 

نگاہیں اُن کی سہمی ہوئی ہوں گی

(79:10)

یَقُوْلُوْنَ ءَاِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِی الْحَافِرَةِ ؕ

یہ لوگ کہتے ہیں "کیا واقعی ہم پلٹا کر پھر واپس لائے جائیں گے؟

(79:11)

ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً ؕ

کیا جب ہم کھوکھلی بوسیدہ ہڈیاں بن چکے ہوں گے؟"

(79:12)

قَالُوْا تِلْكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ 

کہنے لگے”یہ واپسی تو پھر بڑے گھاٹے کی ہوگی!“4

حاشیہ نمبر: 4

یعنی جب اُن کو جواب دیا گیا کہ ہاں ا یسا ہی ہوگا تو وہ مذاق کے طور پر آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے یا رو، اگر واقعی ہمیں پلٹ کر دوبارہ زندگی کی حالت میں واپس آنا پڑا تب تو ہم مارے گئے، اس کے بعد تو پھر ہماری خیر نہیں ہے۔

(79:13)

فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ 

حالانکہ یہ بس اتنا کام ہے کہ ایک زور کی ڈانٹ پڑے گی

(79:14)

فَاِذَا هُمْ بِالسَّاهِرَةِ ؕ

اور یکایک یہ کُھلے میدان میں موجود ہوں گے۔5

حاشیہ نمبر: 5

یعنی یہ لوگ اسے ایک امِر محال سمجھ کر اس کی ہنسی اڑا رہے ہیں، حالانکہ اللہ کے لیے یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے جس کو  انجام دینے کے لیے کچھ بڑی لمبی چوڑی تیاریوں کی ضرورت ہو۔ اِس کے لیے صرف ایک ڈانٹ یا جھڑ کی کافی ہے جس کے ساتھ ہی تمہاری خاک یا راکھ، خواہ کہیں پڑی ہو ، ہر فرف سے سمٹ کر ایک جگہ  جمع ہو جائے گی اور تم یکایک اپنے آپ کو زمین کی پیٹھ پر زندہ موجود پاؤ گے۔ اِس واپسی کو گھاٹے کی واپسی سمجھ کر چاہے تم اِس سے کتنا ہی فرار کرنے کی کوشش کرو، یہ تو ہو کر رہنی ہے  ، تمہارے انکار یا فرار یا تمسخر سے یہ رُک نہیں سکتی۔

(79:15)

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰی 

6 کیا تمہیں مُوسیٰؑ کے قصّے کی خبر پہنچی ہے؟

حاشیہ نمبر: 6

pچونکہ کفّار ِ مکّہ کا قیامت اور آخرت کو نہ مانن اور اس کا مذاق اُڑانا در اصل کسی فلسفے کو رد کرنا نہیں تھا بلکہ اللہ کے رسول کو جھٹلانا تھا، اور جو چالیں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف چل رہے تھے وہ کسی عام آدمی کے خلاف نہیں بلکہ اللہ کے رسول کی دعوت کو زک دینے کے لیے تھیں، اس لیے وقوعِ آخرت کے مزید دلائل دینے سے پہلے اُن کو حضرت موسٰی اور فرعون کا قصّہ سنا یا جا رہا ہے تا کہ وہ خبر دار ہو جائیں کہ رسالت سے ٹکرانے اور رسول کے بھیجنے والے خدا کے مقابلے میں سر اٹھانے کا انجام کیا ہوتا ہے۔/p

(79:16)

اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًی 

جب اس کے ربّ نے اُسے طُویٰ کی مقدّس وادی7 میں پُکارا تھا

حاشیہ نمبر: 7

وادی مقدّسِ طُویٰ کے معنی بالعموم مفسّرین نے یہ بیان کیے ہیں کہ ”وہ مقدّس وادی جس کا نام طُویٰ تھا “۔ لیکن اس کے علاوہ اس کے دو منی اور بھی بیان کیے گئے ہیں ۔ ایک یہ کہ”وہ وادی جو دومرتبہ مقدّس کی گئی“، کیونکہ ایک دفعہ اُسے اُس وقت مقدس کیا گیا جب پہلی مرتبہ اللہ تعالیٰ نے وہاں حضرت موسیٰ کو مخاطب فرمایا، اور دوسری دفعہ اسے تقدیس کا شرف اُس وقت بخشا گیا جب حضرت موسیٰ مصر سے بنی اسرائیل کو نکال کر اس وادی میں لائے ۔ دوسرے یہ کہ ”رات کے وقت وادی مقدس میں پُکارا“۔ عربی میں محاورہ ہے جاءَ بعد طُوی، یعنی فلاں شخص میرے پا س رات کا کچھ حصّہ گزرنے کے بعد آیا۔

(79:17)

اِذْهَبْ اِلٰی فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰی ؗ

کہ "فرعون کے پاس جا، وہ سرکش ہو گیا ہے

(79:18)

فَقُلْ هَلْ لَّكَ اِلٰۤی اَنْ تَزَكّٰی 

اور اس سے کہہ کیا تو اِس کے لیے تیار ہے کہ پاکیزگی اختیار کرے

(79:19)

وَاَهْدِیَكَ اِلٰی رَبِّكَ فَتَخْشٰی 

اور میں تیرے ربّ کی طرف تیری رہنمائی کروں تو (اُس کا)خوف تیرے اندر پیدا ہو؟“8

حاشیہ نمبر: 8

یہاں چند باتیں اچھی طرح سمجھ لینی چاہییں: (1)      حضرت موسیٰ کو منصبِ نبوت پر مقرر کرتے وقت جو باتیں اُن کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ہوئی تھیں اُن کو قرآن مجید میں حسبِ موقع کہیں مختصر اور کہیں مفصّل بیان کیا گیا ہے ۔ یہاں موقع اختصار کا طالب تھا، اس لیے اُن کا صرف خلاصہ بیان کیا گیا ہے۔ سورہ طٰہٰ، آیات9 تا 48، سورہ شعراء ، آیات1۰تا17، سورہ نمل، آیات7تا 12، اور سورہ قصص، آیات29تا 35 میں ان کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔ (2)      فرعون کی جس سرکشی کا یہاں ذکر کیا گیا ہے اس سے مراد بندگی کی حد سے تجاوز کر کے خالق اور خلق ،دونوں کے مقابلے میں سرکشی کرنا ہے ۔ خالق کے مقابلے میں اُس سرکشی کا ذکر تو آگے آرہا ہے کہ اس نے اپنی رعیت کو جمع کر کے اعلان کیا کہ” میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں۔“۔ اور خلق کے مقابلے میں اس کی سرکشی یہ تھی کہ اس نے اپنی مملکت کے باشندوں کو مختلف گروہوں اور طبقوں میں بانٹ رکھا تھا، کمزور طبقوں پر وہ سخت ظلم و ستم ڈھا رہا تھا، اور اپنی پوری قوم کو بیوقوف بنا کر اس نے غلام بنا رکھا تھا ، جیسا کہ سُورہ قصص آیت4 اور سُورہ زُخْرُف آیت 54 میں بیان کیا گیا ہے۔ (3)     حضرت موسیٰ ؑ کو ہدایت فرمائی گئی تھی کہ فَقُوْ لَا لَہُ قَوْلاً لَّیِّنًا لَّعَلَّہٗ یَتَذَکَّرُ اَوْ یَخْشیٰ،”تم اور ہارون دونو ں بھائی اُس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا  ، شاید کہ وہ نصیحت قبول کر ے او خدا سے ڈرے“(القَصَص، آیت44) اِس نرم کلام کا ایک نمونہ تو اِن آیات میں دیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مبلّغ کو کسی بگڑے ہوئے آدمی کی ہدایت کے لیے کس حکمت کے ساتھ تبلیغ کرنی چاہیے۔ دوسرے نمونے سورہ طٰہٰ، آیات49تا52، الشعراء،23تا28، اور القصص، آیت 37 میں دیے گئے ہیں۔ یہ منجملہ اُن آیات کے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حکمت ِ تبلیغ کی تعلیم دی ہے۔ (4)     حضرت موسٰی صرف بنی اسرائیل کی رہائی کےلیے ہی فرعون کے پاس نہیں بھیجے گئے تھے، جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے ، بلکہ ان کی بِعثت کا پہلا مقصد فرعون اور اس کی قوم کو راہ راست دکھانا تھا، اور دوسرا مقصد یہ تھا کہ اگر وہ راہ راست قبول نہ کرے تو بنی اسرائیل کو ( جو اصل میں ایک مسلمان قوم تھے) اُس کی غلامی سے چُھڑا کر مصر سے  نکال لائیں۔ یہ بات اِن آیات سے بھی ظاہر ہوتی ہے، کیونکہ اِن میں سرے سے بنی اسرائیل کی رہائی کا ذکر ہی نہیں ہے بلکہ  حضرت موسیٰ کو فرعون کے سامنے سے صرف حق کی تبلیغ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور اُن مقامات سے بھی ا س کا ثبوت ملتا ہے حہاں حضڑت موسیٰ نے تبلیغ اسلام بھی کی ہے اور بنی اسرائیل کی رہائی کا مطالبہ بھی فرمایا ہے۔ مثلاً ملا حظہ ہو ( الاَعراف، آیات1۰4۔1۰5۔طٰہٰ، آیات47 تا 52۔ الشعراء، آیات1۶۔17و23 تا28۔(مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد دوم، یونس، حاشیہ74)۔ (5)      یہاں پاکیزگی (تَزَ کِّی) اختیار کرنے کا مطلب عقیدے اور اخلاق اور اعمال کی پاکیزگی اختیار کانا، یا دوسرے الفاظ میں اسلام قبول کر لینا ہے۔ ابن زید کہتے ہیں کہ قرآن مجید جہاں بھی تز کِّی کا لفظ استعمال ہوا ہے وہاں اس سے مراد اسلام قبول کرنا ہی ہے۔ چنانچہ وہ مثال میں قرآن مجید کی حسبِ ذیل تین آیات کو پیش کرتے ہیں۔ وَ ذٰ لِکَ جَزَآ ؤُ مَنْ تَزَکّٰی، ” اور یہ جزا ہے اس کی جو پاکیزگی اختیار کرے“۔ یعنی اسلام لے آئے۔ وَمَا یُدْ رِیْکَ لَعَلَّہُ یَزَّکّٰی، اور ”تمہیں کیا خبر شاید کہ وہ پاکیزگی اختیار کرے“، یعنی مسلمان اسلام لے آئے۔ وَمَا  عَلَیْکَ اَلَّا یَزَّکّٰی،” اور تم پر کیا ذمہ داری ہے اگر وہ پاکیزگی اختیار نہ کرے“یعنی مسلمان نہ ہو(ابن جریر)۔ (۶)      یہ ارشاد کہ ”میں تیرے رب کی طرف تیری رہنمائی کروں تو (اس کا خوف)تیرے دل میں پیدا ہو“، اس کا مطلب یہ  ہے کہ جب تو اپنے رب کو پہچان لے گا اور تجھے معلو م ہو جائے گا تو  اُس کا بندہ ہے، مردِ آزاد نہیں ہے، تو لازماً تیرے دل میں اُس کا خوف پیدا ہوگا، اور خوفِ خدا ہی وہ چیز ہے جس پر دنیا میں آدمی کے رویّے کے صحیح ہونے کا انحصار ہے۔ خدا کی معرفت اور اس کے خوف کے بغیر کسی پاکیزگی کا تصوّر نہیں کیا جا سکتا۔

(79:20)

فَاَرٰىهُ الْاٰیَةَ الْكُبْرٰی ؗ

پھر موسیٰؑ نے (فرعون کے پاس جا کر)اُس کی بڑی نشانی دکھائی،9

حاشیہ نمبر: 9

بڑی نشانی سے مراد عصا کا اژدہا بن جانا ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں متعدد مقامات پر کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے بڑی نشانی اور کیا ہو سکتی ہے کہ ایک بیجان لاٹھی سب دیکھنے والوں کی آنکھوں کے سامنے عَلانیہ اژدہا بن جائے، جادوگر اُس کے مقابلے میں لاٹھیوں اور رسیّوں کے جو مصنوعی اژدھے بنا کر دکھائیں ان سب کو وہ نگل جائے، اور پھر حضرت موسیٰ جب اس کو پکڑ کر اٹھالیں تو وہ پھر لاٹھی کی لاٹھی بن کر رہ جائے۔ یہ اس بات کی صریح علامت تھی کہ وہ اللہ رب العالمین ہی ہے جس کی طرف سے حضرت موسیٰ بھیجے گئے ہیں۔

(79:21)

فَكَذَّبَ وَعَصٰی ؗ

مگر اُس نے جھٹلا دیا اور نہ مانا

(79:22)

ثُمَّ اَدْبَرَ یَسْعٰی ؗ

پھر چالبازیاں کرنے کے لیے پلٹا10

حاشیہ نمبر: 10

اس کی تفصیل دوسرے مقامات پر قرآن مجید میں یہ بیان کی گئی ہے کہ اس نے تمام مصر سے ماہر جادوگروں کو بلوایا اور ایک مجمع عام میں ان سے لاٹھیوں اور رسیّوں کے اژدہے بنوا کر دکھائے تا کہ لوگوں کو یقین آجائے کہ موسیٰ علیہ السلام کوئی نبی نہیں بلکہ ایک جادوگر ہیں، اور لاٹھی کا اژدہا بنانے کو جو کرشمہ انہوں نے دکھایا ہے وہ دوسرے جادوگر بھی دکھا سکتے ہیں۔ لیکن اس کی یہ چال اُلٹی پڑی اور جادوگروں نے شکست کھا کر خود تسلیم کر لیا کہ موسٰی علیہ السلام نے جو کچھ دکھا یا ہے وہ جادو نہیں بلکہ معجزہ ہے۔

(79:23)

فَحَشَرَ فَنَادٰی ؗ

اور لوگوں کو جمع کر کے اس نے پکار کر کہا

(79:24)

فَقَالَ اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰی ؗ

میں تمہارا سب سے بڑا ربّ ہوں“11

حاشیہ نمبر: 11

فرعون کا یہ دعویٰ کئی مقامات پر قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے۔ ایک موقع پر اس نے حضرت موسیٰ سے کہا کہ”اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو خدا بنا یا تو میں تمہیں قید کر دوں گا“(الشعراء، آیت29)۔ ایک اور موقع پر اس نے اپنے دربار میں لوگوں کو خطاب کرکے کہا” اے سردار انِ قوم ، میں نہیں جانتا کہ میرے سوا تمہارا کوئی اور خدا بھی ہے“(القصص،آیت38)۔ ان ساری باتوں سے فرعون کا یہ مطلب نہ تھا، اور نہیں ہو سکتا تھا کہ وہی کائنات کا خالق ہے اور اسی نے یہ دنیا پیدا کی ہے۔ یہ مطلب بھی نہ تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ہستی  کا منکر اور خود رب العالمین ہونے کا مدعی تھا۔ یہ مطلب بھی نہ تھا کہ وہ صرف اپنے آپ ہی کو مذہبی معنوں میں لوگوں کا معبود قرار دیتا تھا۔قرآن مجید ہی میں اِس بات کی شہادت موجود ہے کہ جہاں تک مذہب کا تعلق ہے وہ خٔد دوسرے معبُودوں کی پرستش کرتا تھا، چنانچہ اس کے اہلِ دربار ایک موقع پر اس کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ ”کیا آپ موسیٰ اور اس کی قوم کو یہ آزادی دیتے چلے جائیں گے کہ وہ ملک میں فساد پھیلائیں اور آپ کو  اور آپ کے معبودوں کو چھوڑ دیں“؟(الاعراف، آیت127)۔ اور قرآن میں فرعون کا یہ قول بھی نقل کیا گیا ہے کہ اگر موسیٰ خدا کا بھیجا ہوا ہوتا تو کیوں نہ اس پر سونے کے کنگن اتارے گئے؟ یا اس کے ساتھ ملائکہ اس کی اردلی میں کیوں نہ آئے؟(الزخرف،آیت53)۔ پس درحقیقت وہ مذہبی معنی میں میں بلکہ سیاسی معنی میں اپنے آپ کو الٰہ اور ربِّ اعلیٰ کہتا تھا، یعنی اس کا مطلب یہ تھا کہ اقتدارِ اعلیٰ کا مالک میں ہوں، میرے سوا کسی کو میری مملکت میں حکم چلانے کا حق نہیں ہے، اور میرے اوپر کوئی بالا تر طاقت نہیں ہے جس کا فرمان یہاں جاری ہو سکتا ہو(مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو ،تفہیم القرآن،جلد دوم، الاعراف، حاشیہ85۔جلد سوم،طٰہٰ، حاشیہ21۔الشعراء، حواشی2۶،24۔القصص، حواشی52۔53۔جلد چہارم،الزخرف، حاشیہ49)۔

(79:25)

فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَالْاُوْلٰی ؕ

آخرکار اللہ نے اسے آخرت اور دنیا کے عذاب میں پکڑ لیا

(79:26)

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰی ؕ

در حقیقت اِس میں بڑی عبرت ہے ہر اُس شخص کے لیے جو ڈرے۔ 12

حاشیہ نمبر: 12

یعنی خدا کے رسول کو جُھٹلانے کے اُس انجام سے ڈر ے جو فرعون دیکھ چکا ہے۔

(79:27)

ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآءُ ؕ بَنٰىهَا 

13 کیا تم لوگوں کی تخلیق زیادہ سخت کام ہے یا آسمان کی؟14 اللہ نے اُس کو بنایا

حاشیہ نمبر: 13

pاب قیامت  اور حیات بعد الموت کے ممکن اور مقتضائے حکمت ہونے کے دلائل بیان کیے جا رہے ہیں۔/p

حاشیہ نمبر: 14

pتخلیق سے مراد انسانوں کی دوبارہ تخلیق ہے اور آسمان سے مراد وہ پُورا عالمِ بالا ہے جس میں بے شمار ستارے اور سیّارے ، بے حدوحساب شمسی نظام اور اَن گنت کہکشاں پائے جاتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تم جو موت کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کو کوئی بڑا ہی امرِ محال سمجھتے ہو، اور بار بار کہتے ہو کہ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ جب ہماری ہڈیاں تک بوسیدہ ہو چکی ہوں گی اُس حالت میں ہمارے پر اگندہ اجزائے جسم پھر سے جمع کر دیے جائیں اور ان میں جان ڈال دی جائے، کبھی اس بات پر بھی غور کرتے ہو کہ اِس عظیم کائنات کا بنا نا زیادہ سخت کام ہے یا تمہیں ایک مرتبہ پیدا کر چکنے کے بعد دوبارہ اِسی شکل میں پیدا کردینا؟ جس خدا کے لیے وہ کوئی مشکل کام نہ تھا اس کے لیے آخر یہ کیوں ایسا مشکل کام ہے کہ وہ اِس پر قادر نہ ہوسکے؟ حیات بعد الموت پر یہی دلیل قرآن مجید میں متعدد مقامات پر دی گئی ہے ۔ مثلاً سورہ یٰس میں ہے”اور کیا وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو بنایا اِس پر قادر نہیں ہے کہ اِن جیسوں کو (پھر سے ) پیدا کردے ؟ کیوں نہیں ، وہ تو بڑا زبردست خالق ہے، تخلیق کے کام کو خوب جانتا ہے“(آیت81)۔ اور سُورہ مومن میں فرمایا۔”یقیناً آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنا انسانوں کو پیدا کرنے سے زیادہ بڑا کام ہے ، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں“(آیت57)۔/p

(79:28)

رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوّٰىهَا 

اُس کی چھت خوب اونچی اٹھائی پھر اُس کا توازن قائم کیا

(79:29)

وَاَغْطَشَ لَیْلَهَا وَاَخْرَجَ ضُحٰىهَا ۪

اور اُس کی رات ڈھانکی اور اُس کا دن نکالا۔15

حاشیہ نمبر: 15

رات اور دن کو آسمان کی طرف منسوب  کیا گیا ہے ، کیونکہ آسمان کا سورج غروب ہونے سے ہی رات آتی ہے اور اسی کے طُلوع ہونے سے  دن نکلتا ہے۔ رات کے لیے ڈھانکنے کا لفظ اس معنی میں  استعمال کیا گیا ہے کہ سورج غروب ہونے کے بعد رات کی  تاریکی اس طرح زمین پر چھا جاتی ہے جیسے اُوپر سے اس پر پردہ ڈال کر ڈھانک دیا گیا ہو۔

(79:30)

وَالْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَا ؕ

اِس کے بعد زمین کو اس نے بچھایا،16

حاشیہ نمبر: 16

”اس کے بعد زمین کو بچھانے“کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آسمان کی تخلیق کے بعد اللہ تعالیٰ نے زمین پیدا کی، بلکہ یہ ایسا ہی طرز بیان ہے جیسے ہم ایک بات کا ذکر کرنے کے بعد کہتے ہیں”پھر یہ بات غور طلب ہے“۔اس سے مقصود ان دونوں باتوں کے درمیان واقعاتی ترتیب بیان کرنا نہیں ہوتا کہ پہلے یہ بات ہوئی اور اس کے بعد دوسری بات، بلکہ مقصود ایک بات  کے بعد دوسری بات کی توجہ دلا نا ہوتا ہےاگر چہ دونوں ایک ساتھ پائی جاتی  ہوں۔ اِس طرز بیان کی متعدد نظیریں خود قرآن میں موجود ہیں۔ مثلاً سُورہ قلم میں فرمایا عُتُلٍّ بَعْدَ ذٰ لِکَ زَنِیْمٌ”جفا کار ہے اور اس کے بعد بد اصل“۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ پہلے وہ جفا کار بنا اور اس کے بعد بد اصل ہوا، بلکہ مطلب یہ ہے کہ وہ شخص جفا کار ہے اور اس پر مزید یہ کہ بد اصل بھی ہے ۔ اسی طرح سورہ بلد میں فرمایا فَکُ رَقَبَۃٍ.....ثُمَّ کَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْ۔” غلام آزاد کرے...... پھر ایمان لانے والوں میں سے ہو“۔ اس کا بھی یہ مطلب نہیں ہے کہ پہلے وہ نیک اعمال کرے، پھر ایمان لائے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ اُن نیک اعمال کے ساتھ ساتھ اس میں مومن ہونے کی صفت بھی ہو۔ اِ س مقام پر یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ قرآن میں کہیں زمین کی پیدائش کا ذکر پہلے اور زمین کی پیدائش کا ذکر بعد میں، جیسے سورہ بقرہ آیت29 میں ہے، اور کسی جگہ آسمان کی پیدائش کا ذکر پہلے اور زمین کی پیدائش کا ذکر بعد میں کیا گیا ہے، جیسے اِن آیات میں دیکھ رہے ہیں۔ یہ دراصل تضاد نہیں ہے۔ اِن  مقامات میں سے کسی جگہ بھی مقصود کلام یہ بتانا نہیں ہے کہ کسے پہلے بنا یا گیا اور کسے بعد میں بلکہ جہاں موقع و محل یہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ  کی قدرت کے کمالات کو نمایاں کیا جائے وہاں آسمانوں کا ذکر پہلے کیا گیا ہے اور زمین کا بعد میں ، اور جہاں سلسلہ کلام  اِس بات کاتقاضا کرتا ہے کہ لوگوں کو اُن نعمتوں کا احساس دلایا جائے جو انہیں زمین پر حاصل ہو رہی ہیں وہاں زمین کے ذکر کو آسمانوں کے ذکر پر مقدم رکھا گیا ہے( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد چہارم، حٰم السجّدہ، حواشی13۔14)۔

(79:31)

اَخْرَجَ مِنْهَا مَآءَهَا وَمَرْعٰىهَا ۪

اُس کے اندر اُس کا پانی اور چارہ نکالا،17

حاشیہ نمبر: 17

چارہ سے مراد اِس جگہ صرف جانوروں کا چارہ نہیں ہے بلکہ وہ تمام نباتات مراد ہیں جو انسان اور حیوان دونوں کی غذا کے کام آتے ہیں۔ رَعی اور تُع اگرچہ بالعموم عربی زبان میں جانوروں کے چَرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں مگر کبھی کبھی انسان کے لیے بھی استعمال کر لیے جاتے ہیں، مثلاً سورہ یوسف میں آیا ہے کہ حضرت یوسف کو ہمارے ساتھ بھیج دیں  کہ کچھ چَر چُگ لے اور کھیلے“(آیت12)۔یہاں بچے کے لیے چَرنے(رَتُع) کا لفظ جنگل میں چل پھر کر پھل توڑنے اور کھانے کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔

(79:32)

وَالْجِبَالَ اَرْسٰىهَا 

اور پہاڑ اس میں گاڑ دیے

(79:33)

مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِاَنْعَامِكُمْ ؕ

سامانِ زیست کے طور پر تمہارے لیے اور تمہارے مویشیوں کے لیے۔18

حاشیہ نمبر: 18

ان آیات میں قیامت اور حیات بعد الموت کے لیے دو حیثیتوں سے استد لال کیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ اُس خدا کی قدرت سے اِن کا برپا کرنا ہر گز بعید نہیں ہے جس نے یہ وسیع و عظیم کائنات اِس حیرت انگیز توازن کے ساتھ اور یہ زمین اِس سرو سامان کے ساتھ بنائی ہے۔ دوسرے یہ کہ اللہ کے کمالِ حکمت کے جو آثار اِس کائنات اور اِس زمین میں صریحاً نظر آرہے ہیں وہ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ یہاں کوئی کام بے مقصد نہیں ہو رہا ہے۔ عالمِ بالا میں بے شمار ستاروں اور سیاروں اور کہکشانوں کے درمیان جو توازُن قائم ہے وہ شہادت دے رہا ہے کہ یہ سب کچھ الل ٹب نہیں ہو گیا ہے بلکہ کوئی بہت سوچا سمجھا منصوبہ اِس کے پیچھے کار فرما ہے۔ یہ رات اور دن کا باقاعدگی سے آنا اس بات پر گواہ ہے کہ زمین کو آباد کرنے کے لیے یہ نظم کمال درجہ دانائی کے ساتھ قائم کیا گیاہے۔ خود اسی زمین پر وہ خطے بھی موجود ہیں۔ جہاں 24 گھنٹے کے اندردن اور رات کا الٹ پھیر ہو جاتا ہے اور وہ خطّے بھی موجود ہیں جہاں بہت لمبی راتیں ہوتی ہیں۔ زمین کی آبادی کا بہت بڑ ا حصّہ پہلی قسم کے  خطّوں میں ہے، اور جہاں رات اور دن جتنے زیادہ لمبے ہوتے جاتے ہیں وہاں زندگی زیادہ سے زیادہ دشوار اور آبادی کم سے کم ہوتی چلی جاتی ہے، یہاں تک کہ ۶ مہینے کے دن اور ۶ مہینے کی راتین رکھنے والے علاقے آادی کے بالک قابل نہیں ہیں۔ یہ دونوں نمونے اِسی زمین پر دکھا کر اللہ تعالیٰ نے اِس حقیقت کی شہادت پیش کر دی ہے کہ رات اور دن کی آمد ورفت کا یہ باقاعدہ انتظام کچھ اتفاقاً نہیں ہو گیا ہے بلکہ یہ زمین کو آبادی کے قابل بنانے کے لیے بڑی حکمت کے ساتھ ٹھیک ٹھیک ایک اندازے کے مطابق کیا گیا ہے ۔ اِسی طرح زمین کو اس طرح بچھانا کہ وہ قابلِ سکونت بن سکے، اِس میں  وہ پانی پیدا کرنا جو انسان اور حیوان کے لیے پینے کے قابل اور نباتات کے لیے روئیدگی کے قابل ہو، اِس میں پہاڑوں کاجمانا اور وہ تمام چیزیں پیدا کرنا جو انسان اور ہر قسم کے حیوانات کے لیے زندگی بسر کرنے کے ذریعہ بن سکیں،یہ سارے کام اس بات کی صریح علامت ہیں کہ یہ اتفاقی حوادث یا کسی کھلنڈر ے کے بے مقصد کام نہیں ہیں، بلکہ ان میں سے ہر کام ایک بہٹ بڑی حکیم و دانا ہستی نے بامقصد کیا ہے۔ اب یہ ہر صاحبِ عقل آدمی کے خود سوچنے کی بات ہے کہ آیا آخرت کا ہونا حکمت کا تقاضا ہے یا نہ ہونا؟ جو شخص اِن ساری چیزوں کو دیکھنے کے با وجود یہ کہتا ہے کہ آخرت نہیں ہو گی وہ گویا یہ کہتا ہے کہ یہاں اور سب کچھ تو حکمت اور مقصد یت کے ساتھ ہو رہا ہے، مگر زمین پر انسان کو ذی ہوش اور با اختیار بنا کر پیدا کرنا بے مقصد اور بے حکمت بات نہیں ہوسکتی کہ اِس زمین میں تصرّف کے وسیع اختیارات دے کر انسان کو یہاں ہر طرح کے اچھے اور برے کام کرنے کا موقع تو دے دیا جائے مگر کبھی اس کا محاسبہ نہ کیا جائے۔

(79:34)

فَاِذَا جَآءَتِ الطَّآمَّةُ الْكُبْرٰی ؗ

پھر جب وہ ہنگامہٴِ عظیم برپا ہوگا،19

حاشیہ نمبر: 19

اس سے مراد ہے قیامت اس کے لیے الطَّآمَّۃُ الْکُبْریٰ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ طامّہ بجائے خود کسی ایسی بڑی آفت کو کہتے ہیں جو سب پر چھا جائے۔ اس کے بعد اس کے لیے کُبّریٰ کا لفظ مزید استعمال کیا گیا ہے جس سے خود بخود یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی شدت کا تصور دلانے کے لیے محض لفظ طامّہ بھی کافی نہیں ہے۔

(79:35)

یَوْمَ یَتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ مَا سَعٰی 

جس روز انسان اپنا سب کیا دھرا یاد کرے گا،20

حاشیہ نمبر: 20

یعنی جب انسان دیکھ لے گا وہی محاسبہ کا دن آگیا ہے جس کی اُسے دنیا میں خبر دی جا رہی تھی، تو قبل اس کے کہ اُس کا نامہ اعمال اس کےہاتھ میں دیا جائے، اسے ایک ایک کر کے اپنی وہ سب حرکتیں یا دآنے لگیں گی جو وہ دنیا میں کر کے آیا ہے۔ بعض لوگوں کو یہ  تجربہ خود اِس دنیا میں بھی ہوتا ہے کہ اگر یکایک کسی وقت وہ کسی ایسے خطرے سے دو چار ہوجاتے ہیں جس میں مَوت ان کو بالکل قریب کھڑی نظر آ نے لگتی ہے تو اپنی پُوری زندگی کی فلم اُن کی چشمِ تصوّر کے سامنے یک لخت پھر جاتی ہے۔

(79:36)

وَبُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِمَنْ یَّرٰی 

اور ہر دیکھنے والے کے سامنے دوزخ کھول کر رکھ دی جائے گی

(79:37)

فَاَمَّا مَنْ طَغٰی 

تو جس نے سرکشی کی تھی

(79:38)

وَاٰثَرَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا 

اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی تھی

(79:39)

فَاِنَّ الْجَحِیْمَ هِیَ الْمَاْوٰی ؕ

دوزخ ہی اس کا ٹھکانا ہوگی

(79:40)

وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَنَهَی النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰی 

اور جس نے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف کیا تھا اور نفس کو بری خواہشات سے باز رکھا تھا

(79:41)

فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِیَ الْمَاْوٰی ؕ

جنّت اس کا ٹھکانا ہوگی۔21

حاشیہ نمبر: 21

یہاں چند مختصر الفاظ میں بتا دیا گیا ہے کہ آخرت میں اصل فیصلہ کس چیز پر ہونا ہے۔  دنیا میں زندگی کا  ایک رویّہ ہے کہ آدمی بندگی کی حد سے تجاوز کرکے اپنے خدا کے مقابلے میں سر کشی کر ے اور یہ طے کر لے کہ اِسی دنیا کے فائدے اور لذتیں اُسے مطلوب ہیں خواہ کسی طرح بھی وہ حاصل ہوں۔ دوسرا  رویّہ یہ ہے کہ یہاں زندگی بسر کرتے ہوئے آدمی اِس  بات کو پیشِ نظر رکھے کہ آخر کار ایک دن اسے اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونا ہے ، اور نفس کی بُری خواہشات کو پُورا کرنے سے اِس لیے باز رہے کہ اگر یہاں اُس نے اپنے نفس کا کہا مان کر کوئی نا جائز فائدہ کما لیا یا کوئی نا روالذت حاصل کرلی تو اپنے رب کو کیا جواب دے گا۔ آخرت میں فیصلہ اِس بات پر ہونا ہے کہ انسان نے اِن دونوں میں سےکونسا رویّہ دنیامیں اختیار کیا۔ پہلا رویّہ اختیار کیا ہو تو اس کا مستقل ٹھکانا دوزخ ہے، اور دوسرا رویّہ اختیار کیا ہو تو اس کی مستقل جائے قیام جنّت۔

(79:42)

یَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَا ؕ

یہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ”آخر وہ گھڑی کب آکر ٹھہرے گی؟“22

حاشیہ نمبر: 22

کُفّارمکّہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال بار بار کرتے تھے اور اس سے مقصود قیامت کی آمد کا وقت اور اس کی تاریخ معلوم کرنا نہیں ہوتا تھا بلکہ اس کا مذاق اڑانا ہوتا تھا(مزید تشریح کے لیے ملاحظ ہو، تفہیم القرآن ،جلد ششم، تفسیرسورہ ملک، حاشیہ35)۔

(79:43)

فِیْمَ اَنْتَ مِنْ ذِكْرٰىهَا ؕ

تمہارا کیا کام کہ اس کا وقت بتاؤ

(79:44)

اِلٰی رَبِّكَ مُنْتَهٰىهَا ؕ

اس کا علم تو اللہ پر ختم ہے

(79:45)

اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرُ مَنْ یَّخْشٰىهَا ؕ

تم صرف خبردار کرنے والے ہو ہر اُس شخص کو جو اُس کا خوف کرے

(79:46)

كَاَنَّهُمْ یَوْمَ یَرَوْنَهَا لَمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا عَشِیَّةً اَوْ ضُحٰىهَا 

جس23 روز یہ لوگ اُسے دیکھ لیں گے تو انہیں یوں محسوس ہو گا کہ (یہ دنیا میں یا حالتِ موت میں) بس ایک دن کے پچھلے پہر یا اگلے پہر تک ٹھہرے ہیں۔24

حاشیہ نمبر: 23

اِس کی تشریح بھی ہم تفسیر سُورہ ملک، حاشیہ 3۶ میں کر چکے ہیں۔ رہا یہ ارشاد کہ تم ہر اُس شخص کو خبر دار کردینے والے ہو جو اس کا خوف کر ے، تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خوف نہ کرنے والوں کو خبر دار کرنا تمہارا کام نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے خبر دا کرنے کا فائدہ اسی کو پہنچے گا جو اُس دن کے آنے کا خوف کرے۔

حاشیہ نمبر: 24

یہ مضمون اس سے پہلے کئی جگہ قرآن میں بیان ہو چکا ہے اور ہم اس کی تشریح کر چکے ہیں۔ ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد دو، یونس، حاشیہ53۔بنی اسرائیل، حاشیہ5۶۔جلد سوم،طٰہٰ، حاشیہ8۰۔ المومنون،حاشیہ1۰1۔ الروم،حواشی81۔82۔جلد چہارم ،یٰس،حاشیہ48۔اس کے علاوہ یہ مضمون سورہ احقاف آیت 35 میں بھی گزر چکا ہے جس کی تشریح ہم نے وہاں نہیں کی کیونکہ  پہلےکئی جگہ تشریح ہو چکی تھی۔

Read Maududi
Read • Reflect • Reform

Your Complete Learning App

A complete experience—reading, tafseer, audio, and more, all in one app. Available on iOS and Android.

Get the app

Frequently asked questions FAQs

Yes, you can download content and access it anytime without an internet connection.