عَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَ
یہ لوگ کس چیز کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں؟
An-Naba'
سورة النبا
سورة النبا
عَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَ
یہ لوگ کس چیز کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں؟
عَنِ النَّبَاِ الْعَظِیْمِ
کیا اُس بڑی خبر کے بارے میں
الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ مُخْتَلِفُوْنَ ؕ
جس کے متعلق یہ مختلف چہ میگوئیاں کرنے میں لگے ہوئے ہیں؟1
بڑی خبر سے مراد قیامت اور آخرت کی خبر ہے جس کو اَہلِ مکہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر سنتے تھے ، پھر ہر محفل میں اس پر طرح طرح کی چہ میگوئیاں ہوتی تھیں۔ پُوچھ گچھ سے مُراد یہی چہ میگوئیاں ہیں۔ لوگ جب ایک دوسرے سے ملتے تھے تو کہتے تھے کہ بھائی، کبھی پہلے بھی تم نے سُنا ہے کہ مر کے کوئی دوبارہ زندہ ہوگا؟ کیا یہ ماننے کے قابل بات ہے کہ گل سڑکر جو ہڈیاں ریزہ ریزہ ہو چکی ہیں ان میں نئے سرے سے جان پڑے گی؟ کیا عقل میں یہ بات سماتی ہے کہ اگلی پچھلی ساری نسلیں اُٹھ کر ایک جگہ جمع ہوں گی؟ کیا یہ ممکن ہے کہ یہ بڑے بڑے جمے ہوئے پہاڑ ہوا میں روئی کے گالوں کی طرح اُڑنے لگیں گے ؟ کیا یہ ہو سکتا ہے کہ چاند سورج اور تارے سب بُجھ کر رہ جائیں اور دنیا کا یہ سارا جما جما یا نظام اُلٹ پلٹ ہوجائے؟ یہ صاحب جو کل تک اچھے خاصے دانا آدمی تھے آج انہیں یہ کیا ہو گیا ہے کہ ہمیں ایسی عجیب اَنہونی خبریں سُنارہے ہیں ۔ یہ جنّت اور یہ دوزخ آخر پہلے کہاں تھیں جن کا ذکر ہم نے کبھی اِن کی زبان سے نہ سُنا تھا؟ اب یہ ایک دم کہاں سے نکل آئی ہیں کہ اِنہوں نے اُن کو عجیب و غریب نقشے ہمارے سامنے کھینچنے شروع کر دیے ہیں؟ ھُمْ فِیْہِ مُخْتَلِفُوْنَ کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ”وہ اس کے بارے میں مختلف چہ میگوئیاں کر رہے ہیں“، دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتاہے کہ دنیا کے انجام کے بارے میں یہ لوگ خود بھی کوئی ایک متفق علیہ عقیدہ نہیں رکھتے بلکہ” ان کے درمیان اس کے متعلق مختلف خیالات پائے جاتے ہیں“۔ اُن میں سے کوئی عیسائیوں کے خیالات سے متاثر تھا اور زندگی بعدِ موت کو مانتا تھا مگر یہ سمجھتا تھا کہ وہ دوسری زندگی جسمانی نہیں بلکہ روحانی ہوگی۔کوئی آخرت کا قطعی مُنکر نہ تھا مگر اسے شک تھا کہ وہ ہو سکتی ہے یا نہیں ، چنانچہ قرآن مجید ہی میں اس خیال کے لوگوں کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ اِنْ نّظُنَّ اِلّا ظَنًّا وَّ مَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ،”ہم تو بس ایک گمان سا رکھتے ہیں ، یقین ہم کو نہیں ہے“(الجاثیہ آیت31)، او ر کوئی بالکل صاف صاف کہتا تھا کہ اِنْ ھِیَ اِلَّا حَیَا تُنَا الدُّنْیَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ، ”جو کچھ بھی ہے بس ہماری یہی دنیا کی زندگی ہے اور ہم ہر گز مرنے کے بعد دوبارہ نہ اُٹھائے جائیں گے“(الانعام۔آیت29)۔ پھر کچھ لوگ ان میں سے دہریے تھے اور کہتے تھے کہ مَا ھِیَ اِلَّا حَیَا تُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَمَا یُھْلِکْنَا اِلَّا الدَّھْرُ،”زندگی بس یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے، یہیں ہم مرتے اور جیتے ہیں اور گردشِ ایام کے سوا کوئی چیزنہیں جو ہمیں ہلاک کر تی ہو“(الجاثیہ۔24)۔ اور کچھ دوسرے لوگ دہریے تو نہ تھے مگر دوسری زندگی کو نا ممکن قرار دیتے تھے، یعنی ان کے نزدیک یہ خدا کی قدرت سے خارج تھا کہ وہ مرے ہوئے انسانوں کو پھر سے زندہ کر سکے۔ ان کا قول تھا مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَھِیَ رَمِیْمٌ،”کون اِن ہڈیوں کو زندہ کر ے گا جبکہ یہ بوسیدہ ہو چکی ہوں؟“(یٰس۔78)۔ یہ اُن کے مختلف اقوال خود ہی اس بات کا ثبوت تھے کہ ان کے پاس اِس مسئلے میں کوئی علم نہ تھا، بلکہ وہ محض گمان و قیاس کے تیر تُکّے چلا رہے تھے،ورنہ علم ہوتا تو سب کسی ایک بات کے قائل ہوتے (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد پنجم، الذاریات،حاشیہ۶)۔
كَلَّا سَیَعْلَمُوْنَ
ہر گز نہیں،2 عنقریب اِنہیں معلوم ہو جائے گا
یعنی آخرت کے متعلق جو باتیں یہ لوگ بنا رہے ہیں سب غلط ہیں ۔ جو کچھ انہوں سے سمجھ رکھا ہے وہ ہر گز صحیح نہیں ہے۔
ثُمَّ كَلَّا سَیَعْلَمُوْنَ
ہاں، ہر گز نہیں، عنقریب انہیں معلوم ہو جائے گا۔3
یعنی وہ وقت دُور نہیں ہے جب وہی چیز حقیقت بن کر اِن کے سامنے آجائے گی جس کے بارے میں یہ فضول چہ میگوئیاں کر رہے ہیں۔ اُس وقت انہیں پتہ چل جائے گا کہ رسُول نے جو خبر ان کو دی تھی وہی صحیح تھی اور قیاس وگمان سے جو باتیں یہ بنا رہے تھے ان کی کوئی حقیقت نہ تھی۔
اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِهٰدًا
کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے زمین کو فرش بنایا،4
زمین کو انسان کے لیے فرش، یعنی ایک پُرسکون قیام گاہ بنانے میں قدرت و حکمت کے جو کمالات کار فرما ہیں ان پر اس سے پہلے تفہیم القرآن متعدد مقامات پر تفصیلی روشنی ڈالی جا چکی ہے۔ مثال کے طور پر مقاماتِ ذیل ملاحظہ ہو: تفہیم القرآن، جلد سوم، النمل، حواشی73۔74۔81 ۔جلد چہارم، یٰس،حاشیہ29۔المؤمن، حواشی9۰۔91۔ الزُّخْرُف،حاشیہ7۔الجاثیہ،حاشیہ7،جلد پنجم، ق، حاشیہ18۔
وَّالْجِبَالَ اَوْتَادًا
اور پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑ دیا،5
زمین پر پہاڑ پیدا کرنے کی حکمتوں کے متعلق ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، النحل،حاشیہ12،جلد سوم، النمل،حاشیہ74۔جلد ششم،المُرسلات،حاشیہ15۔
وَّخَلَقْنٰكُمْ اَزْوَاجًا
اور تمہیں(مَردوں اور عورتوں کے) جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا،6
انسان کو مردوں اور عورتوں کے جوڑوں کی شکل میں پیدا کرنا اپنے اندر جو عظیم حکمتیں رکھتا ہے ان کی تفصیل کےلیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، الفرقان، حاشیہ۶9، الروم، حواشی28تا3۰۔ جلد چہارم،یٰس،حاشیہ31۔ الشُّوریٰ، حاشیہ77۔ الزُّخْرُف، حاشیہ12۔ جلد ششم،القیامہ،حاشیہ25۔
وَّجَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًا
اور تمہاری نیند کو باعثِ سکون بنایا،7
انسان کو دنیا میں کام کرنے کے قابل بنانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے جس حکمت کے ساتھ اس کی فطرت میں نیند کا ایک ایسا داعیہ رکھ دیا ہے جو ہر چند گھنٹوں کی محنت کے بعد اسے چند گھنٹے سونے پر مجبُور کر دیتا ہے اس کی تشریح ہم تفہیم القرآن، جلد سوم۔ الروم،حاشیہ33 میں کر چکے ہیں۔
وَّجَعَلْنَا الَّیْلَ لِبَاسًا
اور رات کو پردہ پوش
وَّجَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا ۪
اور دن کو معاش کا وقت بنایا،8
یعنی رات کو اِس غرض کے لیے تاریک بنا دیا کہ اس میں تم روشنی سے محفوظ رہ کر زیادہ آسانی کے ساتھ نیند کا سکون حاصل کر سکو، اور دن کو اِس مقصد سے روشن بنا یا کہ اس میں تم زیادہ سہولت کے ساتھ اپنی معاش کے لیے کام کر سکو، زمین پر با قاعدگی کے ساتھ مسلسل رات اور دن کا اُلٹ پھیر کرتے رہنے کے لیے بے شمار فوائد میں سے صرف اِس ایک فائدے کی طرف اشارہ یہ بتانے کے لیے کیا گیا ہے کہ یہ سب کچھ بے مقصد ، یا اتفاقاً نہیں ہو رہا ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک بڑی حکمت کام کر رہی ہے جس کا براہ راست تمہارے اپنے مفاد سے گہرا تعلق ہے۔ تمہارے وجود کی ساخت اپنے سکون و راحت کے لیے جس تاریکی کی طالب تھی وہ رات کو ، اور اپنی معیشیت کے لیے جس روشنی کی طالب تھی وہ دن کو مہیّا کی گئی ہے۔ تمہاری ضروریات کے عین مطابق یہ انتظآم خود اس بات کی شہادت دے رہا ہے کہ یہ کسی حکیم کی حکمت کے بغیر نہیں ہوا ہے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، یونس، حاشیہ۶5۔جلد چہارم،یٰس،حاشیہ32۔المومن،حاشیہ85۔الزُخْرُف، حاشیہ4)۔
وَّبَنَیْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًا
اور تمہارے اوپر سات مضبُوط آسمان قائم کیے،9
مضبوط کالفظ اِس معنی میں استعمال کیا گیا ہے کہ اُن کی سرحدیں اتنی مستحکم ہیں کہ ان میں ذرہ برابر تغیّر و تبدل نہیں ہونے پاتا اور ان سرحدوں کو پار کر کے عالمِ بالا کے بے شمار ستاروں اور سیاروں میں سے کوئی نہ ایک دوسرے سے ٹکراتا ہے نہ تمہاری زمین پر آگرتا ہے۔(مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اوّل، البقرہ، حاشیہ34۔جلد دو۔، الرعد،حاشیہ2۔1۔الحجر،حواشی12،8۔جلد سوم،المومنون، حاشیہ15۔جلد چہارم،لقمان،حاشیہ13۔یٰس،حاشیہ37۔الصّافّات،حواشی5۔۶۔المومن،حاشیہ9۰۔جلد پنجم، ق، حواشی7۔8)۔
وَّجَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا
اور ایک نہایت روشن اور گرم چراغ پیدا کیا،10
مُراد ہے سورج۔ اصل میں لفظ وَھَّاج استعمال ہوا ہے جس کے معنی نہایت گرم کے بھی ہیں اور نہایت روشن کے بھی، اس لیے ترجمہ میں ہم نے دونوں معنی درج کر دیے ہیں۔ اس مختصر سے فقرے میں اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت کے جس عظیم الشان نشان کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اُس کا قُطر زمین کے قُطر سے1۰9 گنا اور اس کا حجم زمین کے حجم سے 3لاکھ33 ہزار گنا زیادہ بڑا ہے۔ س کا درجہ حرارت ایک کروڑ چالیس لاکھ ڈگری سنٹی گریڈ ہے۔ زمین سے 9 کروڑ 3۰ لاکھ میل دُور ہونے کے باوجود اُس کی روشنی کا یہ حال ہے کہ انسان اگر برہنہ آنکھ سے اس کی طرف نظر جمانے کی کوشش کرتے تو اپنی بینائی کھو بیٹھے، اور اس کی گرمی کا حال یہ ہے کہ زمین کے بعض حصوں میں اس کی تپش کی وجہ سے درجہ حرارت 14۰ ڈگری ظاہرن ہائٹ تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ اللہ ہی کی حکمت ہے کہ اس نے زمین کو اُس سے ٹھیک ایسے فاصلے پر رکھا ہے کہ نہ اُس سے بہت قریب ہونے کے باعث یہ بے انتہا گرم ہے اور نہ بہت دُور ہونے کے باعث بے انتہا سرد، اسی وجہ سے یہاں انسان، حیوان اور نباتات کی زندگی ممکن ہوئی ہے۔ اُسی سے قوّت کے بے حساب خزانے نکل کر زمین پر پہنچ رہے ہیں جو ہمارے لیے سببِ حیات بنے ہوئے ہیں۔ اُسی سے ہماری فصلیں پک رہی ہیں اور ہر مخلوق کوغذا بہم پہنچ رہی ہے۔ اُسی کی حرارت سمندروں کے پانی کو گرم کر کے وہ بھاپیں اُٹھاتی ہے جو ہواوں کے ذریعہ سے زمین کے مختلف حصوں پر پھیلتی اور بارش کی شکل میں برستی ہیں۔ اس سُورج میں اللہ نے ایسی زبردست بھٹی سُلگا رکھی ہے جو اربوں سال سے روشنی ، حرارت اور مختلف اقسام کی شعاعیں سارے نظامِ شمسی میں پھینکے چل رہی ہے۔
وَّاَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرٰتِ مَآءً ثَجَّاجًا
اور بادلوں سے لگاتار بارش برسائی
لِّنُخْرِجَ بِهٖ حَبًّا وَّنَبَاتًا
تاکہ اس کے ذریعہ سے غلہ اور سبزی
وَّجَنّٰتٍ اَلْفَافًا ؕ
اور گھنے باغ اُگائیں؟11
زمین پر بارش کے انتظام اور نباتات کی روئیدگی میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کے جو جو حیرت انگیز کمالات کا ر فرما ہیں ان پر تفصیل کے ساتھ تفہیم القرآن کے حسبِ ذیل مقامات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔: جلد دوم، النحل،حاشیہ53الف۔جلد سوم، المومنون، حاشیہ117۔الشعراء،حاشیہ5۔الروم،حاشیہ35۔جلد چہارم،فاطر،حاشیہ19۔یٰس،حاشیہ29 ۔المومن،حاشیہ2۰۔الزُّخرف ،حواشی1۰۔ 11۔جلد پنجم،الواقعہ، حواشی28تا3۰۔ اِن آیات میں پے درپے بہت آثار و شواہد کو پیش کر کے قیامت اور آخرت کے منکرین کو یہ بتایا گیا ہے کہ اگر تم انکھیں کھول کر زمین اور پہاڑوں اور خود اپنی پیدائش اور اپنی نیند اور بیداری اور روز و شب کے اِس انتظام کو دیکھو، کائنات کے بندھے ہوئے نظام اور آسمان کے چمکتے ہوئے سورج کو دیکھو، بادلوں سے برسنے والی بارش اور اس سے پیدا ہونے والی نباتات کو دیکھو، تو تمہیں دوباتیں ان میں نمایاں نظر آئے گی۔ ایک یہ کہ یہ سب کچھ ایک زبردست قدرت کے بغیر نہ وجود میں آسکتا ہے، نہ اِس باقاعدگی کے ساتھ جاری رہ سکتا ہے۔ دوسرے یہ کہ ان میں سے ہر چیز کے اندرایک عظیم حکمت کام کر رہی ہے اور کوئی کام بھی بے مقصد نہیں ہو رہا ہے۔ اب یہ بات صرف ایک نادان ہی کہہ سکتا ہے کہ جو قدرت اِن ساری چیزوں کو وجود میں لانے پر قادر ہے وہ انہیں فنا کر دینے اور دوبارہ اور کسی صورت میں پیدا کر دینے پر قادر نہیں ہے۔ اور یہ بات بھی صرف ایک بے عقل ہی کہہ سکتا ہے کہ جس حکیم نے اس کائنات میں کوئی کام بھی بے مقصد نہیں کیا ہے اس نے اپنی دنیا میں انسان کو سمجھ بوجھ ، خیر وشر کی تمیز، طاعت و عصبان کی آزادی، اور اپنی بے شمار مخلوقات پر تصرّف کے اختیارات بے مقصد ہی دے ڈالے ہیں، انسان اُس کی دی ہوئی اِن چیزوں کو اچھی طرح استعمال کر ے یا بری طرح ، دونون صورتوں میں اس کا کوئی تمیز نہیں نکلتا ، کوئی بھلائیاں کرتے کرتے مر جائے تو بھی مٹی میں مل کر ختم ہو جائے گا اور بُرائیاں کرتے کرتے مر جائے تو بھی مٹی ہی میں مل کر ختم ہو جائے گا، نہ بھلے کوا س کی بھلائی کا کوئی اجر ملے گا، نہ بُرے سے اس کی بُرائی پر کوئی باز پرس ہوگی۔ زندگی بعد موت اور قیامت و آخرت پر یہی دلائل ہیں جو جگہ جگہ قرآن مجید میں بیان کیے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر حسبِ ذیل مقامات ملاحظہ ہوں :تفہیم القرآن، جلد دوم، الرعد،حاشیہ7۔جلد سوم۔الحج،حاشیہ9۔ الروم،حاشیہ۶۔جلد چہارم،سبا ، حواشی1۰و12۔ الصّافات، حواشی8۔9۔
اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِیْقَاتًا
بے شک فیصلے کا دن ایک مقرر وقت ہے
یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًا
جس روز صور میں پھُونک ما ر دی جائے گی، تم فوج در فوج نکل آوٴ گے۔12
اس سے مراد وہ آخری نفخِ صور ہے جس کا آوازہ بلند ہوتے ہی تمام مرے ہوئے انسان یکا یک جی اٹھیں گے ، اور تم سے مراد صرف وہی لوگ نہیں ہیں جو اس وقت مخاطب تھے، بلکہ وہ تمام انسان ہیں جوآغاز آفرنیش سے قیامت تک پیدا ہوئے ہیں(تشریح کے لیے ملاحظہ ہو، تفہم القرآن،جلد دوم،ابراہیم،حاشیہ 57۔جلد سوم،الحج،حاشیہ 1۔ جلد چہارم،یٰس ، حواشی4۶۔47۔الزمر،حاشیہ79)۔
وَّفُتِحَتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًا
اور آسمان کھول دیا جائے گا حتیٰ کہ وہ دروازے ہی دروازے بن کر رہ جائے گا
وَّسُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًا ؕ
اور پہاڑ چلائے جائیں گے یہاں تک کہ وہ سراب ہو جائیں گے۔13
اس مقام پر یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ یہاں بھی قرآن کے دوسرے بہت سی مقامات کی طرح قیامت کے مختلف مراحل کا ذکر ایک ساتھ کیا گیا ہے۔ پہلی آیت میں اس کیفیت کا ذکر ہے جو آخری نفخِ صور کے وقت پیش آئے گی ، اور بعد کی دو آیتوں میں وہ حالت بیان کی گئی ہے جو دوسرے نفخِ صور کے موقع پر رونما ہو گی۔ اس کی وضاحت ہم تفہیم القرآن،جلد ششم،تفسیر سورہ الحاقہ، حاشیہ1۰۔میں کر چکے ہیں۔ ”آسمان کھول دیا جائے گا“سے مراد یہ ہے کہ عالمِ بالا میں کوئی بندش اور رکاوٹ باقی نہ رہے گی اور ہر طرف سے ہر آفتِ سمادی اس طرح ٹوٹی پڑے ہوگی کہ معلوم ہوگا گویا اس کے آنے کے لیے سارے دروازے کھلے ہیں اور اس کو روکنے کے لیے کوئی دورازہ بھی بند نہیں رہا ہے۔ پہاڑوں کے چلنے اور سراب بن کر رہ جانے کا مطلب یہ ہے کہ دیکھتے دیکھتے پہاڑ اپنی جگہ سے اکھڑ کر اڑیں گے اور پھر ریزہ ریزہ ہو کر اس طرح پھیل جائیں گے کہ جہاں پہلے کبھی پہاڑ تھےوہاں ریت کے وسیع میدانوں کے سوا اور کچھ نہ ہوگا ۔ اسی کیفیت کو سورہ طٰہٰ میں یوں بیان کیا گیا ہے :”یہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ آخر اس دن یہ پہاڑ کہاں چلے جائیں گے ؟ اس سے کہو میرا رب ان کو دھول بنا کر اڑا دے گا اور زمین کو ایسا ہموار چٹیل میدان بنا دے گا کہ اس میں تم کوئی بل اور سلوٹ تک نہ دیکھو گے“(آیت 1۰5تا1۰7 مع حاشیہ83 )۔
اِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا
در حقیقت جہنّم ایک گھات ہے،14
گھات اس جگہ کو کہتے ہیں جو شکار پھانسنے کے لیے بنائی جاتی ہے تا کہ وہ بے خبری کی حالت میں آئے اور اچانک اس میں پھنس جائے ۔ جہنم کے لیے یہ لفظ اس لیے استعمال کی گیا ہے کہ خدا کے باغی اس سے بے خوف ہو کر دنیا میں یہ سمجھتے ہوئے اچھل کود کرتے پھر رہے ہیں کہ خدا کی خدائی ان کے لیے ایک کھلی آماجگاہ ہے، اور یہاں کسی پکڑ کا خطرہ نہیں ہے، لیکن جہنم ان کے لیے ایک چھپی ہوئی گھات ہےجس میں وہ یکایک پھنسیں گے اور بس پھنس کر ہی رہ جائیں گے۔
لِّلطَّاغِیْنَ مَاٰبًا
سرکشوں کا ٹھکانا
لّٰبِثِیْنَ فِیْهَاۤ اَحْقَابًا
جس میں وہ مُدّتوں پڑے رہیں گے۔15
”اصل میں لفظ احقاب استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی ہیں پے در پے آنے والے طویل زمانے ، ایسے مسلسل ادوار کے ایک دور ختم ہوتے ہی دوسرا دور شروع ہو جائے ۔ اس لفظ سے بعض لوگوں نے یہ استدلال کرنے کی کوشش کی ہے کہ جنت کی زندگی میں تو ہمیشگی ہو گی مگر جہنم میں ہمیشگی نہیں ہو گی کیونکہ یہ مدتیں خواہ کتنی ہی طویل ہوں، بہر حال جب مدتوں کا استعمال کیا گیا ہے تو اس سے یہی مقصود ہو تا ہے کہ وہ لا متنا ہی نہ ہوں گی بلکہ کبھی نہ کبھی جا کر ختم ہو جائیں گی۔ لیکن یہ استدلال دو وجوہ سے غلط ہے۔ ایک یہ کہ عربی لغت کے لحاظ سے حقب کے لفظ ہی میں یہ مفہوم شامل ہے کہ ایک حقب کے پیچھے دوسرا حقب ہو ، اس لیے ا حقاب لازما ایسے ادوار ہی کے لیے بولا جائے گا جو پے در پے ایک دوسرے کے بعد آتے چلے جائیں گے اور کوئی دور بھی ایسا نہ ہو جس کے پیچھے دوسرا دور نہ آئے۔ دوسرے یہ کہ کسی موضوع کے متعلق قرآن مجید کی کسی آیت میں سے کوئی ایسا مفہوم لینا اصولا غلط ہے جو اسی موضوع کے بارے میں قرآن کے دوسرے بیانات سے متصادم ہوتا ہو۔ قرآن میں 34 مقامات پر اہل جہنم کے لیے خلود(ہمیشگی )کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، تین جگہ صرف لفظ خُلُوْد ہی پر اکتفا نہیں کیا گیا ہے بلکہ اس پر ابداً(ہمیشہ ہمیشہ)کا بھی اضافہ کر دیا گیا ہے ، اور ایک جگہ صاف صاف ارشاد ہوا ہے کہ ”وہ چاہیں گے کہ جہنم سے نکل جائیں، مگر وہ اس سے ہر گز نکلنے والے نہیں ہیں اور ان کے لیے قائم رہنے والا عذاب ہے“(المائدہ،آیت37)۔ایک دوسری جگہ فرمایاگیا ہے کہ ”اسی حالت میں وہ ہمیشہ رہیں گے جب تک کہ زمین و آسمان قائم ہے الّا یہ کہ تیرا رب کچھ نہ چاہے“۔اور یہی بات اہل ِ جنت کے متعلق بھی فرمائی گئی ہے کہ ”جنت میں وہ ہمیشہ رہیں گے جب تک زمین و آسمان قائم ہیں اِلّا یہ کہ تیرا رب کچھ نہ چاہے“۔(ہود، آیات1۰7۔1۰8)۔ان تصریحات کے بعد لفظ احقاب کی بنیاد پر یہ کہنے کی آخر کیا گنجائش باقی رہ جاتی ہے کہ جہنم میں خدا کے باغیوں کا قیام دائمی نہیں ہوگا بلکہ کبھی نہ کبھی ختم ہو جائے گا؟
لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْهَا بَرْدًا وَّلَا شَرَابًا
اُس کے اندر کسی ٹھنڈک اور پینے کے قابل کسی چیز کا مزہ وہ نہ چکھیں گے
اِلَّا حَمِیْمًا وَّغَسَّاقًا
کچھ ملے گا تو بس گرم پانی اور زخموں کا دھوون،16
اصل میں لفظ غَسّاق استعمال ہوا ہے جس کا اطلاق پیپ، لہو، کچ لہو، اور آنکھوں اور کھالوں سے پینے والی اُن تمام رطوبتوں پر ہوتا ہے جو شدید تعذیب کی وجہ سے بہ نکلتی ہوں۔ اس کے علاوہ یہ لفظ ایسی چیز کے لیے بھی بولا جاتا ہے جس میں سخت تعفُّن اور سڑا ند ہو۔
جَزَآءً وِّفَاقًا ؕ
(اُن کے کرتوتوں) کا بھرپور بدلہ
اِنَّهُمْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ حِسَابًا
وہ کسی حساب کی توقع نہ رکھتے تھے
وَّكَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا كِذَّابًا ؕ
اور ہماری آیات کو انہوں نے بالکل جھُٹلا دیا تھا،17
یہ ہے وہ سبب جس کی بنا پر وہ جہنم کے اس خوفناک عذاب کے مستحق ہوں گے۔ ایک یہ کہ دنیا میں وہ یہ سمجھتے ہوئے زندگی بسر کرتے رہے کہ کبھی وہ وقت آنا ہے جب انہیں خدا کے سامنے حاضر ہو کر اپنے اعمال کا حساب دینا ہو۔ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کے ذریعہ سے اُن کی ہدایت کے لیے جو آیات بھیجی تھیں انہیں ماننے سے انہوں نے قطعی انکار کر دیا اور ان کو جھوٹ قرار دیا۔
وَكُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ كِتٰبًا
اور حال یہ تھا کہ ہم نے ہر چیز گِن گِن کر لکھ رکھی تھی۔18
یعنی اُن کے اقوال و افعال، ان کی حرکات و سکنات، حتٰی کہ ان کی نیتوں اور خیالات اور مقاصد تک کا مکمل ریکارڈ ہم تیار کرتے جا رہے تھے جس سے کوئی چیز چھوٹی ہوئی نہ تھی ،اور وہ بے وقوف اِس سے بے خبر اپنی جگہ یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ وہ کسی اندھیر نگری میں جی رہے ہیں جہاں وہ اپنی مرضی اور خواہش سے جو کچھ چاہیں کرتے رہیں ، اُس کی باز پرس کرنے والا کوئی نہیں ہے۔
فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِیْدَكُمْ اِلَّا عَذَابًا
اب چکھو مزہ، ہم تمہارے لیے عذاب کے سوا کسی چیز میں ہرگز اضافہ نہ کریں گے
اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ مَفَازًا
یقیناً متّقیوں19 کے لیے کامرانی کا ایک مقام ہے
یہاں متقیوں کا لفظ اُن لوگوں کے مقابلے میں استعمال کیا گیا ہے جو کسی حساب کی توقع نہ رکھتے تھے اور جنہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلا دیا تھا۔ اس لیے لا محالہ اس لفظ سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کی آیات کو مانا اور دنیا میں یہ سمجھتے ہوئے زندگی بسر کی کہ اُنہیں اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔
حَدَآىِٕقَ وَاَعْنَابًا
باغ اور انگور
وَّكَوَاعِبَ اَتْرَابًا
اور نوخیز ہم سن لڑکیاں،20
اس کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ وہ آپس میں ہم سن ہوں گی، اور یہ بھی کہ وہ اُن لوگوں کی ہم سن ہوں گی جن کی زوجیت میں وہ دی جائیں گی۔ سُورہ ص، آیت 52، اور سورہ واقعہ آیت37 میں بھی یہ مضمون گزر چکا ہے۔
وَّكَاْسًا دِهَاقًا ؕ
اور چھلکتے ہوئے جام
لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّلَا كِذّٰبًا
وہاں کوئی لغو اور جھُوٹی بات وہ نہ سُنیں گے۔21
قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اس بات کو جنت کی بڑی نعمتوں میں شمار کیا گیا ہے کہ آدمی کے کان وہاں بیہودہ اور جھوٹی اور گندی باتیں سننے سے محفوظ رہیں گے۔ وہاں کوئی یا وہ گوئی اور فضول گپ بازی نہ ہوگی، کوئی کسی سے نہ جھوٹ بولے گا نہ کسی کو جھٹلائے گا، دنیا میں گالم گلوچ ، بہتان، اِفرا، تُہمت اور الزام تراشیوں کا جو طوفان برپا ہے، اس کا کوئی نام و نشان وہاں نہ ہوگا(مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہوتفہیم القرآن، جلد سوم، مریم حاشیہ38۔جلد پنجم، الواقعہ، حواشی13۔14)۔
جَزَآءً مِّنْ رَّبِّكَ عَطَآءً حِسَابًا
جزا ء اور کافی انعام22 تمہارے ربّ کی طرف سے
جزا کے بعد کافی انعام دینے کا ذکر یہ معنی رکھتا ہے کہ اُن کو صرف وہی جزا نہیں دی جائے گی جس کے وہ اپنے نیک اعمال کی بنا پر مستحق ہوں گے، بلکہ اس پر مزید انعام اور کافی انعام بھی انہیں دیا جائے گا۔ اس کے بر عکس اہلِ جہنم کے بارے میں صرت اتنا فرمایا گیا ہے کہ انہیں ان کے کرتوتوں کا بھر پور بدلہ دے دیا جائے گا، یعنی نہ ان کے جرائم سے کم سزا دی جائے گی، نہ اس سے زیادہ۔ یہ بات قرآن مجید میں بہت سے مقامات پر وضاحت کے ساتھ بیان کی گئی ہے۔ مثلاً یونس، آیات2۶۔27۔ النمل،آیات89۔9۰۔ القصص، آیت84۔ سبا، آیات33 تا38۔المومن،آیت4۰۔
رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَهُمَا الرَّحْمٰنِ لَا یَمْلِكُوْنَ مِنْهُ خِطَابًا
اُس نہایت مہربان خدا کی طرف سے جو زمین اور آسمانوں کا اور ان کے درمیان کی ہر چیز کا مالک ہے جس کے سامنے کسی کو بولنے کا یارا نہیں۔23
یعنی میدانِ حشر میں دربارِ الہٰی کے رُعب کا یہ عالم ہوگا کہ اہلِ زمین ہوں یا اہلِ آسمان، کسی کی بھی یہ مجال نہ ہو گی کہ از خود اللہ تعالیٰ کے حضور زبان کھول سکے، یا عدالت کے کام میں مداخلت کر سکے۔
یَوْمَ یَقُوْمُ الرُّوْحُ وَالْمَلٰٓىِٕكَةُ صَفًّا ؕ لَّا یَتَكَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَقَالَ صَوَابًا
اہلِ تفسیر کی اکثریت کا خیال یہی ہے کہ اس سے مراد جبریل علیہ السلام ہیں اور ان کا جو بلند مرتبہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ہے اس کی وجہ سے ملائکہ سے الگ ان کا ذکر کیا گیا ہے(مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد ششم، المعارج، حاشیہ3)۔
بولنے سے مراد شفاعت ہے، اور فرمایا گیا ہے کہ وہ صرف دوشرطوں کے ساتھ ممکن ہوگی۔ ایک شرط یہ کہ جس شخص کو جس گنہگار کے حق میں شفاعت کی اجازت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملے گی صرف وہی شخص اُسی کے حق میں شفاعت کر سکے گا۔ دوسری شرط یہ کہ شفاعت کرنے والا بجا اور درست کہے، بے جا نوعیت کی سفارش نہ کرے، اور جس کے معاملہ میں وہ سفارش کر رہا ہو وہ دنیا میں کم از کم کلمہ حق کا قائل رہا ہو، یعنی محض گناہ کار ہو، کافر نہ ہو۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہوتفہیم القرآن، جلد اول ، البقرہ، حاشیہ281۔ جلد دوم، یونس، حاشیہ5۔ہود، حاشیہ1۰۶۔جلد سوم،مریم،حاشیہ52۔طٰہٰ، حواشی85۔8۶۔الانبیاء، حاشیہ27۔ جلدچہارم، سبا، حواشی4۰۔41۔ المومن،حاشیہ32۔الزّخرف،حاشیہ۶8۔جلد پنجم، النجم، حاشیہ21۔جلد ششم، المدّثّر، حاشیہ3۶)۔
ذٰلِكَ الْیَوْمُ الْحَقُّ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰی رَبِّهٖ مَاٰبًا
وہ دن برحق ہے، اب جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف پلٹنے کا راستہ اختیار کر لے
اِنَّاۤ اَنْذَرْنٰكُمْ عَذَابًا قَرِیْبًا ۬ یَّوْمَ یَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ وَیَقُوْلُ الْكٰفِرُ یٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ تُرٰبًا
بظاہر ایک آدمی یہ خیال کر سکتا ہے کہ جن لوگوں کو خطاب کر کے یہ بات کہی گئی تھی ان کو مرے ہوئے اب 14 سو سال گزر چکے ہیں، اور اب بھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ قیامت آئندہ کتنے سو، یا کتنے ہزار ، یا کتنے لاکھ برس بعد آئے گی۔ پھر یہ بات کس معنی میں کہی گئی ہے کہ جس عذاب سے ڈرایا گیا ہے و ہ قریب آلگا ہے؟ اور سورہ کے آغاز میں یہ کیسے کہا گیا ہے کہ عنقریب انہیں معلوم ہو جائے گا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کو وقت کا احساس صرف اُسی وقت تک رہتا ہے جب تک وہ اِس دنیا میں زمان و مکان کی حدود کے اندر جسمانی طور پر زندگی بسر کر رہاہے۔ مرنے کے بعد جب صرف روح باقی رہ جائے گی، وقت کااحساس و شُعور باقی نہ رہے گا، اور قیامت کے روز جب انسان دوبارہ زندہ ہو کر اٹھے گا اس وقت اسے یوں محسوس ہو گا کہ ابھی سوتے سوتے اسے کسی نے جگا دیا ہے ۔ اس کو یہ احساس بالکل نہیں ہوگا کہ وہ ہزار ہا سال کے بعد دوبارہ زندہ ہوا ہے(مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، النحل،حاشیہ2۶۔بنی اسرائیل، حاشیہ5۶۔جلد سوم،طٰہٰ، حاشیہ8۰۔جلد چہارم،یٰس، حاشیہ48)۔
یعنی دنیا میں پیدا ہی نہ ہوتا، یا مر کر مٹی میں مل جاتا اور دوبارہ زندہ ہو کر اٹھنے کی نوبت نہ آتی۔