Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Al-Mursalat

سورة المرسلات

(77:1)

وَالْمُرْسَلٰتِ عُرْفًا 

قسم ہے اُن (ہواؤں) کی جو پے در پے بھیجی جاتی ہیں

(77:2)

فَالْعٰصِفٰتِ عَصْفًا 

پھر طوفانی رفتار سے چلتی ہیں

(77:3)

وَّالنّٰشِرٰتِ نَشْرًا 

اور (بادلوں کو) اٹھا کر پھیلاتی ہیں

(77:4)

فَالْفٰرِقٰتِ فَرْقًا 

پھر (اُن کو) پھاڑ کر جدا کرتی ہیں

(77:5)

فَالْمُلْقِیٰتِ ذِكْرًا 

پھر (دلوں میں خدا کی) یاد ڈالتی ہیں

(77:6)

عُذْرًا اَوْ نُذْرًا 

عُذر کے طور پر یا ڈراوے کے طور پر،1

حاشیہ نمبر: 1

یعنی کبھی تو ان کی آمد کے رُکنے اورقحط کا خطرہ پیدا ہونے ے دل گداز ہوتے ہیں اور لوگ اللہ سے تو بہ و استغفار کرنے لگتے ہیں۔ کبھی اُن کے باران رحمت لانے پر لوگ اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ اور کبھی ان کی طوفانی سختی دلوں میں خوف پیدا کرتی ہے اور تباہی کے ڈر سے لوگ خدا کی طرف رجوع کرتے ہیں۔(نیز ملاحظہ ہو ضمیمہ نمبر 3۔صفحہ 579)۔

(77:7)

اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَوَاقِعٌ ؕ

جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے2 وہ ضرور واقع ہونے والی ہے۔3

حاشیہ نمبر: 2

دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا  ہے کہ ”جس چیز کا تمہیں خوف دلایا جارہا ہے“۔ مراد ہے قیامت اور آخرت۔

حاشیہ نمبر: 3

یہاں قیامت کے ضرور واقع ہونے پر پانچ چیزوں کی قسم کھائی  گئی ہے۔ ایک  اَلْمُرْ سَلٰتِ عُرْفًا”پے در پے، یا بھلائی کے طور پر بھیجی جانے والیاں“۔ دوسرے ۔ العَاصِفَاتِ عَصْفًا۔”بہت تیزی اور شدّت کے ساتھ چلنے والیاں“۔ تیسرے، اَلنَّا شِرَاتِ نَشْرًا۔” خوب پھیلانے والیاں“۔ چوتھے، آلفَارِ تَاتِ فَرْقًا۔”الگ الگ کرنے والیاں“۔ پانچویں، اَلْمُلْقِیَاتِ ذِکْرًا۔” یاد کا اِتقا کرنے والیاں“۔ چونکہ اِن الفاظ میں صرف  صفات بیان کی گئی ہیں، اور یہ صراحت نہیں کی گئی ہے کہ یہ کس چیز یا کن چیزوں کی صفات ہیں، اس لیے  مفسرین کے درمیان اس امر میں اختلاف ہوا ہے کہ آیا یہ پانچوں صفات ایک  ہی چیز کی ہیں، یا الگ الگ چیزوں کی، اور وہ چیز یا چیزیں کیا ہیں۔  ایک وہ گروہ  کہتا ہے کہ پانچوں سے مراد ہوائیں ہیں۔ دوسرا کہتا ہے پانچوں سے مراد فرشتے ہیں۔ تیسرا کہتا ہے پہلے تین سے مراد ہوائیں ہیں اور باقی دوسے مراد فرشتے۔ چوتھا کہتا ہے کہ پہلے دو سے مراد ہوائیں اور باقی تین سے مراد فرشتے ہیں۔ اور ایک گروہ کی رائے یہ بھی ہے کہ پہلے سے مراد ملائکہ رحمت، دورے سے مراد ملائکہ عذاب اور باقی تین سے مراد قرآن مجید کی آیات ہیں۔ ہمارے نزدیک پہلی بات تو قابلِ غور ہے جب ایک ہی سلسلہ کلام میں پانچ صفحات کا مسلسل ذکر کیا گیا ہے اور کوئی علامت بیچ میں ایسی نہیں پائی جاتی جس سے یہ سمجھا جا سکے کہ کہاں تک ایک چیز کی صفات کا ذکر ہے اور کہاں سے دوسری چیز کی صفات کا ذکر شروع ہوا ہے، تو یہ کیسے صحیح ہو سکتا ہے کہ محض کسی بے بنیا د قیاس کی بنا پر ہم یہ سمجھ لیں کہ یہاں دو یا تین مختلف چیزوں کی قسمیں کھائی گئی ہیں، بلکہ اس صور ت میں نظمِ کلام خود اس بات کا  تقاضا کرتا ہے کہ پوری عبارت کو کسی ایک ہی چیز کی صفات سے متعلق مانا جائے۔ دوسری بات یہ ہے کہ قرآن مجید میں جہاں بھی شک یا انکار کرنے والوں کو کسی حقیقتِ غیب محسوس کا یقین دلانے کے لیے کسی چیز ، یا بعض چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے وہاں قسم داصل استدلال کی ہم معنی ہوتی ہے ، یعنی اس سے مقصود یہ  بتانا ہوتا ہے کہ یہ چیز یا چیزیں  اس حقیقت کے صحیح و بر حق ہونے پر دلالت کر رہی ہے ۔ اس غرض کے لیے ظاہر ہے کہ ایک غیر مخصوص شے کے حق میں کسی دوسری  غیر محسوس شے کو بطورِ استدلال پیش کرنا درست نہیں ہو سکتا، بلکہ غیر محسوس پر محسوس سے دلیل لانا ہی موزوں اور منا سب ہو سکتا ہے۔ اس لیے ہماری رائے میں صحیح تفسیر یہی ہے کہ اس سے مراد ہوائیں ہیں، اور ان لوگوں کی تفسیر قابلِ قبول نہیں ہیں جنہوں نے ان پانچوں چیزوں سے مراد فرشتے لیے ہیں، کیونکہ وہ بھی اسی طرح غیر محسوس ہیں جس طرح قیامت کا وقوع غیر محسوس ہے۔            اب غور کیجیے کہ قیامت کے وقوع  پر ہواؤں کی یہ کیفیات کس طرح دلالت کرتی ہیں۔ زمین پر جن اسباب سے حیوانی اور نباتی زندگی ممکن ہوئی ہے ان میں سے ایک نہایت اہم سبب ہوا ہے۔ ہر نوع کی زندگی سے  اس کی صفات کا جو تعلق ہے وہ بجائے خود اس بات کی شہادت دے رہا ہے کہ کوئی قادرِ مطلق اور صانِع حکیم ہے جس نے اس کُرہ خاکی پر زندگی کو وجود میں لانے کا ارادہ کیا اور اس غرض کے لیے یہاں ایک ایسی چیز پیدا کی جس کی صفات زندہ  مخلوقات کے وجود کی ضروریات کے ساتھ ٹھیک ٹھیک مطابقت رکھتی ہیں۔ پھر اس نے صرف اتنا ہی نہیں کیا ہے کہ زمین کو ہوا کا ایک لبادہ اوڑھا کر  چھوڑ دیا ہو، بلکہ اپنی قدرت اور حکمت سے اس ہوا میں اس نے بے شمار مختلف کیفیات پیدا کی ہیں جن کا انتظام لاکھوں کروڑوں برس سے اس طرح ہو رہا ہے کہ  انہی کی بدولت موسم پیدا ہوتے ہیں، کبھی حبس ہوتا ہے اور کبھی بادِ نسیم چلتی ہے، کبھی گرمی آتی ہے اور کبھی سردی ، کبھی بادل آتے ہیں اور کبھی آتے ہوئے اڑ جاتے ہیں، کبھی نہایت خوشگوار جھونکے چلتےہیں اور کبھی انتہائی تباہ کن طوفان آجاتے ہیں، کبھی نہایت نفع بخش  بارش ہوتی ہے اور کبھی کال  پڑجاتا ہے ۔ غرض ایک ہوا نہیں بلکہ طرح طرح کی ہوائیں ہیں جو اپنے اپنے وقت پر چلتی  ہیں اور ہر ہوا کسی نہ کسی مقصد کو پورا کرتی ہیں۔ یہ انتظام ایک غالب قدرت کا ثبوت ہے جس کے لیے نہ زندگی کو وجود میں خارج از امکان ہو سکتا ہے، نہ اسے مٹا دینا ، اور نہ مٹا کر دوبارہ وجود میں لے آنا۔ اسی طرح یہ انتظام کمال درجہ حکمت و دانائی کا ثبوت بھی ہے، جس سے صرف ایک نادان آدمی ہی یہ توقع رکھ سکتا ہے کہ یہ سارا کاروبار محض کھیل کے طور پر کیا جا رہا ہو اور اس کا کوئی عظیم تر مقصد نہ ہو۔ اس حیرت انگیز انتظام کے مقابلے میں  انسان اتنا بے بس ہے کہ کبھی  وہ نہ  اپنے لیے مفید طالب ہوا چلا سکتا ہے نہ اپنے اوپر ہلاکت خیز ہوا کا طوفان آنے کو روک سکتا ہے ۔ وہ خواہ کتنی ہی ڈھٹائی اور بے شعوری اور ضد اور ہٹ دھرمی کلام لے، کبھی نہ کبھی  یہی ہوا اس کو یاد دلا دیتی ہے کہ اوپر کوئی زبر دست اقتدار کار فرما ہے جو زندگی کے اس سب سے بڑے ذریعہ کو جب چاہے اس کے لیے رحمت اورجب چاہے ہلاکت کا سبب بنا سکتا ہے، اور انسان اس کے کسی فیصلے کو بھی روک دینے کی طاقت نہیں رکھتا ۔ )مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد چہارم، الجا ثیہ، حاشیہ،7۔حوشی 1 تا4)۔

(77:8)

فَاِذَا النُّجُوْمُ طُمِسَتْ 

پھر جب ستارے ماند پڑ جائیں گے،4

حاشیہ نمبر: 4

یعنی  بے نور ہو جائیں گے اور ان کی روشنی ختم ہو جائے گی۔

(77:9)

وَاِذَا السَّمَآءُ فُرِجَتْ 

اور آسمان پھاڑ دیا جائے گا،5

حاشیہ نمبر: 5

ُحکَم پکّی اور پختہ چیز کو کہتے ہیں۔ ”آیاتِ محکمات“ سے مراد وہ آیات  ہیں، جن کی زبان بالکل صاف ہے، جن کا مفہوم متعین کرنے میں کسی اشتباہ کی گنجائش نہیں ہے، جن کے الفاظ معنی و مدّعا پر صاف اور صریح دلالت کرتے ہیں، جنہیں تاویلات کا تختہٴ    مشق بنانے کا موقع مشکل ہی سے کسی کو مِل سکتا ہے۔ یہ آیات”کتاب کی اصل بنیاد ہیں“، یعنی قرآن جس غرض کے لیے نازل ہوا ہے ، اُس غرض کو یہی آیتیں پُورا کرتی ہیں۔ اُنہی میں اسلام کی طرف دُنیا کی دعوت دی گئی ہے، اُنہی میں عبرت اور نصیحت کی باتیں فرمائی گئی ہیں، اُنہی میں گمراہیوں کی تردید اور راہِ راست کی توضیح کی گئی ہے۔ اُنہی میں دین کے بُنیادی اُصُول بیان کیے گئے ہیں۔ اُنہی میں عقائد ، عبادات، اخلاق ، فرائض اور امر و نہی کے احکام ارشاد ہوئے ہیں۔ پس جو شخص طالبِ حق ہو اور یہ جاننے کے لیے قرآن کی طرف رُجوع کرنا چاہتا ہو کہ وہ کس راہ پر چلے اور کس راہ پر نہ چلے، اس کی پیاس بُجھانے کے لیے آیات محکمات ہی اصل مرجع ہیں اور فطرةً اُنہی پر اس کی توجہ مرکوز ہو گی اور وہ زیادہ تر اُنہی سے فائدہ اُٹھانے میں مشغول رہے گا۔

(77:10)

وَاِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْ 

اور پہاڑ دھنک ڈالے جائیں گے

(77:11)

وَاِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْ ؕ

اور رسُولوں کی حاضری کا وقت آپہنچے گا6 (اس روز وہ چیز واقع ہوجائے گی)

حاشیہ نمبر: 6

قرآن کریم میں متعدد مقامات پر یہ بات بیان کی گئ ہے کہ میدانِ حشر میں جب نوعِ انسانی کا مقدمہ پیش ہو گا تو ہر قوم کے رسول کو شہادت کے لیے پیش کیا جائے گا تا کہ وہ اِس امر کی گواہی دے کہ اُ س نے اللہ کا پیغام اُن لوگوں تک پہنچا دیا تھا۔ یہ گمراہوں اور مجرموں کے خلاف اللہ کی سب سے پہلی اور سب سے بڑی حجّت ہوگی جس سے یہ ثابت کیا جائے گا کہ وہ اپنی غلط روش کے خود ذمہ دار ہیں ورنہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو خبرد ار کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی گئی تھی۔ مثال کے طور پر حسبِ ذیل مقامات ملاحظہ ہوں : تفہیم القرآن ، جلد دو۔، الاعراف، آیات 172، 173۔ حواشی 135،134۔جلد چہارم، الزُمر، آیت۶9، حاشیہ 8۰۔ جلد ششم، الملک، آیت8،حاشیہ14۔

(77:12)

لِاَیِّ یَوْمٍ اُجِّلَتْ ؕ

کس روز کے لیے یہ کام اٹھا رکھا گیا ہے؟

(77:13)

لِیَوْمِ الْفَصْلِ 

فیصلے کے روز کے لیے

(77:14)

وَمَاۤ اَدْرٰىكَ مَا یَوْمُ الْفَصْلِ ؕ

اور تمہیں کیا خبر کہ وہ فیصلے کا دن کیا ہے؟

(77:15)

وَیْلٌ یَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ 

تباہی ہے اُس دن جُھٹلانے والوں کے لیے۔7

حاشیہ نمبر: 7

یعنی اُن لوگوں کے لیے جنہوں نے اُس دن کے آنے کی خبر کو جھوٹ سمجھا اور دنیا میں یہ سمجھتے ہوئے زندگی بسر کرتے رہے کہ کبھی وہ وقت نہیں آنا ہے جب اُنہیں اپنے خدا کے سامنے حاضر ہو کر اپنے اعمال کی  جواب دہی کر نی ہو گی۔

(77:16)

اَلَمْ نُهْلِكِ الْاَوَّلِیْنَ ؕ

کیا ہم نے اگلوں کو ہلاک نہیں کیا؟8

حاشیہ نمبر: 8

یہ آخرت کے حق میں تاریخی استدلال ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خود اِسی دنیا میں اپنی تاریخ کو دیکھ لو۔ جن قوموں نے بھی آخرت کا انکار کر کے اِسی دنیا کو اصل زندگی سمجھا اور اسی دنیا میں ظاہر ہونے والے نتائج کو خیر و شر کا معیار سمجھ کر اپنا اخلاقی رویّہ متعیّن کیا، بلا استثناء وہ سب آخر کار تباہ ہو کر رہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آخرت فی الواقع ایک حقیقت ہے جسے نظر انداز کر کے کام کرنے والا اُسی طرح نقصان اٹھاتا ہے جس طرح ہر اُس شخص کو نقصان اٹھا نا پڑتا ہے جو حقائق سے آنکھیں بند کر کے چلے۔(مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم،یونس،حا شیہ12۔جدل سوم، النمل، حاشیہ 8۶۔ الرّوم، حاشیہ8۔جلدچہارم، سبا، حا شیہ25)۔

(77:17)

ثُمَّ نُتْبِعُهُمُ الْاٰخِرِیْنَ 

پھر اُنہی کے پیچھے ہم بعد والوں کو چلتا کریں گے۔9

حاشیہ نمبر: 9

یہاں فقرہ اس معنی میں ارشاد ہوا ہے کہ دنیا میں اُن کا جو انجام ہوا ہے یا آئندہ ہوگا وہ  اُن کی اصل سزا نہیں ہے، بلکہ اصلی تباہی تو اُن پر فیصلے کے دن نازل ہو گی۔ یہاں کی پکڑ تو صرف یہ حیثیت رکھتی ہے کہ جب کوئی شخص مسلسل جرائم کرتا چلا جائے اور کسی طرح اپنی بگڑی ہوئی روش سے باز نہ آئے تو آخر کار اسے گرفتار کر لیا جائے۔ عدالت، جہاں اس کے مقدمے کا فیصلہ ہونا ہے اور اسے اس کے تمام کر توتوں کی سز ا دی جانی ہے، اس دنیا میں قائم نہیں ہوگی بلکہ آخرت میں ہوگی، اور وہی اُس کی تباہی کا اصل دن ہوگا۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلددوم، الاعراف، حواشی5۔۶۔ ہود ، حاشیہ1،5)۔

(77:18)

كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ 

مجرموں کے ساتھ ہم یہی کچھ کیا کرتے ہیں

(77:19)

وَیْلٌ یَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ 

تباہی ہے اُس دن جھُٹلانے والوں کے لیے۔10

حاشیہ نمبر: 10

اصل الفاظ ہیں قَدَ رٍمَّعْلُوْمٍ۔ اس کا صرف یہی مطلب نہیں ہے کہ وہ مدّت مُقَرّر ہے ، بلکہ اس میں یہ مفہوم بھی شال ے کہ اس کی مُدّت اللہ ہی کو معلوم ہے۔ کسی بچے کے متعلق کسی زریعہ سے بھی انسان کو یہ معلوم نہیں ہو سکتا کہ وہ کتنے مہینے، کتنے دن، کتنے گھنٹے  اور کتنے منٹ اور سکنڈ ماں کے پیٹ میں رہے گا، اور اس کا ٹھیک وقت ولادت کیا ہوگا۔ اللہ ہی نے ہر بچے کے لیے ایک خاص مدّت مقرر کی ہے اور وہی اس کو جانتا ہے۔

(77:20)

اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍ 

کیا ہم نے ایک حقیر پانی سے تمہیں پیدا نہیں کیا

(77:21)

فَجَعَلْنٰهُ فِیْ قَرَارٍ مَّكِیْنٍ 

اور ایک مقرر مدت تک11

حاشیہ نمبر: 11

یعنی رحمِ مادر، جس میں استقرارِ حمل ہوتے ہی بچے کو اتنی مضبوطی کے ساتھ جما دیا جاتا ہے اور اتنے انتظامات اس کی حفاظت اور پرورش کے کیے جاتے ہیں کہ کسی شدید حادثے کے بغیر اس کا اسقاط نہیں ہو سکتا، اور مصنوعی اسقاط کے لیے بھی غیر معمولی تدابیر اختیار کرنی پڑتی ہیں جوفنِّ طب کی جدید ترقیات کے باوجود خطرے اور نقصان سے خالی نہیں ہیں۔

(77:22)

اِلٰی قَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ 

اُسے ایک محفوظ جگہ ٹھیرائے رکھا؟

(77:23)

فَقَدَرْنَا فَنِعْمَ الْقٰدِرُوْنَ 

تو دیکھو، ہم اِس پر قادر تھے ، پس ہم بہت اچھی قدرت رکھنے والے ہیں۔12

حاشیہ نمبر: 12

یہ حیات بعدِ موت کے امکان کی صریح دلیل ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ جب ہم ایک حقیر نطفے سے تمہاری ابتدا کر کے تمہیں پُورا انسان بنانے پر قادر تھے، تو آخر دوبارہ تمہیں کسی اور طرح پیدا کر دینے پر کیوں قادر نہ ہوں گے؟ ہماری یہ تخلیق، جس کے نتیجے میں تم آج زندہ موجود ہو، خود اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم بہت اچھی قدرت رکھنے والے ہیں، ایسے عاجز نہیں ہیں کہ ایک دفعہ پیدا کر کے پھر تمہیں پیدا نہ کر سکیں۔

(77:24)

وَیْلٌ یَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ 

تباہی ہے اُس روز جھُٹلانے والوں کے لیے۔13

حاشیہ نمبر: 13

یہاں فقرہ اس معنی میں ارشاد ہوا ہے کہ حیات بعدِ موت کے امکان کی یہ صریح دلیل سامنے موجود ہوتے ہوئے بھی جو لوگ اُس کو جھٹلا رہے ہیں، وہ آج اُس کا جتنا چاہیں مذاق اڑا لیں، اور جس قدر چاہیں اس کے ماننے والوں کو دقیا نوسی، تاریک خیال اور اوہام پرست قرارد یتے رہیں، مگر جب وہ دن آجائے گا جسے یہ جھٹلا رہے ہیں تو انہیں خود معلوم ہو جائے گا کہ یہ ان کے لیے تباہی کا دن ہے۔

(77:25)

اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ كِفَاتًا 

کیا ہم نے زمین کو سمیٹ کر رکھنے والی نہیں بنایا

(77:26)

اَحْیَآءً وَّاَمْوَاتًا 

زندوں کے لیے بھی اور مُردوں کے لیے بھی

(77:27)

وَّجَعَلْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ شٰمِخٰتٍ وَّاَسْقَیْنٰكُمْ مَّآءً فُرَاتًا ؕ

اور اس میں بلند و بالا پہاڑ جمائے، اور تمہیں میٹھا پانی پلایا؟14

حاشیہ نمبر: 14

یہ آخرت کے ممکن اور معقول ہونے پر ایک اور دلیل ہے ۔ یہی ایک کُرہ زمین ہے جو کڑوروں اور اربوں سال سے  بت حد و حساب مخلوقات کو اپنی گود میں لیے ہوئے ہے، ہر قسم کی نبا تات، ہر قسم کے حیوانات اور انسان اس پر جی رہے ہیں، اور سب کی ضروریات پُوری کرنے کےلیے اِس کے پیٹ میں سے طرح طرح کے اَتھاہ خزانے نکلتے چلے آرہے ہیں۔ پھر یہی زمین ہے جس پر اِن تمام اقسام کی مخلوقات کے بے شمار افرادروز مرتے ہیں، مگر ایسا بے نظیر انتظام کر دیا گیا ہے کہ سب کے لاشے اِسی زمین میں ٹھکانے لگ جاتے ہیں اور یہ پھر ہر مخلوق کے نئے افراد کے جینے اور بسنے کے لیے تیار ہو جاتی ہے۔ اِس زمین کو سپاٹ گیند کی طرح بھی بنا کر نہیں رکھ دیا گیا ہے بلکہ اس میں یہ جگہ جگہ پہاڑی سلسلے اور فلک بوس پہاڑ قائم کیے گئے ہیں جن کا موسموں کے تغیرات میں، بارشوں کے برسنے میں، دریاؤں کی پیدائش میں ، زرخیز وادیوں کے وجود میں ، بڑے بڑے شہتیر فراہم کر نے والے درختوں کے اُگنے میں ، قسم قسم کے معدنیات اور طرح طرح کے پھتروں کی فراہمی میں  بہت بڑا دخل ہے۔ پھر اس زمین کے پیٹ میں  میٹھا پانی پیدا کیا گیا  ہے، اِس کی پیٹھ پر بھی میٹھے پانی کی نہریں بہا دی گئی ہیں، اور سمندر کے کھارے پانی سے صاف ستھرے بخارات اٹھا کر بھی نتھرا ہوا پانی آسمان سے بر سانے کا انتظام کیا گیا ہے۔ کیا یہ سب اِس بات کی دلیل نہیں ہے کہ ایک قادرِ مطلق نے یہ سب کچھ بنا یا ہے، اور وہ محض قادر ہی نہیں ہے بلکہ علیم و حکیم بھی ہے؟ اب اگر اس کی قدرت اور حکمت ہی سے یہ زمین اِس سروسامان کے ساتھ اور اِن حکمتوں کے ساتھ بنی ہے تو ایک صاحبِ عقل آدمی کو یہ سمجھنے میں کیوں مشکل پیش آتی ہے کہ اُسی قدرت اِس دنیا کی بساط لپیٹ کر پھر ایک دوسری دنیا نئے طرز پر بنا سکتی ہے، اور اُس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اِس کے بعد ایک دوسری دنیا بنائے تا کہ انسان سے اُن اعمال کا حساب لے جو اُس نے اِس دنیا میں  کیے ہیں؟

(77:28)

وَیْلٌ یَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ 

تباہی ہے اُس روز جھُٹلانے والوں کے لیے۔15

حاشیہ نمبر: 15

یہاں یہ فقرہ اس معنی میں ارشاد ہوا ہے کہ جو لوگ خدا کی قدرت اور حکمت کے یہ کرشمے دیکھ کر بھی آخرت کے ممکن اور معقول ہونے کا انکار کر رہے ہیں اور اس بات کو جُھٹلا رہے ہیں کہ خدا اِس دنیا کے بعد ایک دوسری دنیا پیدا کرے گا اور اُس میں انسان سےاُس کے اعمال کا حساب لے گا، وہ اپنی اِس خام خیالی میں مگن رہنا چاہتا ہیں تو رہیں۔ جس روز یہ سب کچھ اُن کی توقعات کے خلاف پیش آجائے گا اس روز اُنہیں پتہ چل جا ِئے گا کہ انہوں نے یہ حماقت کر کے خود اپنے لیے تباہی مول لی ہے۔

(77:29)

اِنْطَلِقُوْۤا اِلٰی مَا كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ 

16 چلو اب اُسی چیز کی طرف جسے تم جھُٹلایا کرتے تھے

حاشیہ نمبر: 16

pاب آخرت کے دلائل دینے کے بعد  یہ بتایا جا رہا ہے کہ جب وہ واقع ہو جائے گی تو وہاں اِن منکرین کا حشر کیا ہوگا۔/p

(77:30)

اِنْطَلِقُوْۤا اِلٰی ظِلٍّ ذِیْ ثَلٰثِ شُعَبٍ 

چلو اُس سائے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے،17

حاشیہ نمبر: 17

ساَئے سے مراد دھوئیں کا سایہ ہے ۔ اور تین شاخوں کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی بہت بڑا دھواں اٹھتا ہے تو اوپر جا کر وہ اکئی شاخوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔

(77:31)

لَّا ظَلِیْلٍ وَّلَا یُغْنِیْ مِنَ اللَّهَبِ ؕ

نہ ٹھنڈک پہنچانے والا اور نہ آگ کی لپٹ سے بچانے والا

(77:32)

اِنَّهَا تَرْمِیْ بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ 

وہ آگ محل جیسی بڑی بڑی چنگاریاں پھینکے گی

(77:33)

كَاَنَّهٗ جِمٰلَتٌ صُفْرٌ ؕ

(جو اُچھلتی ہوئی یُوں محسُوس ہوں گی) گویا کہ وہ زرد اُونٹ ہیں۔18

حاشیہ نمبر: 18

یعنی ہر چنگاری ایک قَصر جیسی بڑی ہو گی، اور جب یہ بڑی بڑی چنگاریاں اٹھ کر پھٹیں گی اور چاروں طرف اُڑنے لگیں گی تو یُوں محسوس ہوگا جیسے زرد رنگ کے اونٹ اُچھل کود  کر رہے ہیں۔

(77:34)

وَیْلٌ یَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ 

تباہی ہے اُس روز جھٹلانے والوں کے لیے

(77:35)

هٰذَا یَوْمُ لَا یَنْطِقُوْنَ 

یہ وہ دن ہے جس میں وہ نہ کچھ بولیں گے

(77:36)

وَلَا یُؤْذَنُ لَهُمْ فَیَعْتَذِرُوْنَ 

اور نہ اُنہیں موقع دیا جائے گا کہ کوئی عُذر پیش کریں۔19

حاشیہ نمبر: 19

یہ اُن کی آخری حالت ہو گی جو جہنم میں داخلہ کے وقت اُ ن پر طاری ہو گی۔ اُس سے پہلے میدانِ حشر میں تو یہ لوگ بہت کچھ کہیں گے، بہت سی معذرتیں پیش کریں گے، ایک دوسرے پر اپنے قصوروں کا الزام ڈال کر خود بے قُصور بننے کی کوشش کریں گے ، اپنے گمراہ کرنے والے سرداروں اور پیشواؤں کو گالیاں دیں گے، حتیٰ کہ  بعض لوگ پوری ڈِھٹائی کے ساتھ اپنے جرائم کا انکار تک کر گزریں گے، جیسا کہ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان ہوا ہے۔ مگر جب تمام شہادتوں سے اُن کا مجرم ہونا پُوری طرح ثابت کر دیا جائے گا، اور جب ان کے اپنے ہاتھ پاؤں اور اُن کے اعضاء تک اُن کے خلاف گواہی دے کر ثبوتِ جرم میں کوئی کسر نہ چھوڑیں گے، اور جب بالکل بجا اور بر حق طریقے سے عدل و انصاف کے تمام تقاضے پورے کر کے انہیں سزا سنادی جائے گی تو وہ دم بخود رہ جائیں گے اور ان کے لیے اپنی معذرت میں کچھ کہنے کی گنجائش باقی نہ رہے گی۔ عذر پیش کرنے کا موقع نہ دینے یا اس کی اجازت نہ دینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صفائی کا موقع دیے بغیر ان کے خلاف فیصلہ صادر کر دیا جائے گا۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا جرم اِس طرح قطعی ناقابلِ انکار حد تک ثابت کر دیا جائے گا کہ وہ اپنی معذرت میں کچھ نہ کہہ سکیں گے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ہم کہتے ہیں کہ میں نے اُس کو بولنے نہیں دیا، میں نے اس کی زبان بند کردی، او راس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ میں نے اس پر ایسی حجّت تمام کی  کہ اُس کےلیے زبا ن کھولنے یا کچھ بولنے کا کوئی موقع باقی نہ رہا ۔

(77:37)

وَیْلٌ یَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ 

تباہی ہے اُس دن جھٹلانے والوں کے لیے

(77:38)

هٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ جَمَعْنٰكُمْ وَالْاَوَّلِیْنَ 

یہ فیصلے کا دن ہے ہم نے تمہیں اور تم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو جمع کر دیا ہے

(77:39)

فَاِنْ كَانَ لَكُمْ كَیْدٌ فَكِیْدُوْنِ 

اب اگر کوئی چال تم چل سکتے ہو تو میرے مقابلہ میں چل دیکھو۔20

حاشیہ نمبر: 20

یعنی دنیا میں تو تم بہت مکّاریاں اور چالبازیاں کرتے رہے، اب یہاں کوئی چال چل کر میری پکڑ سے بچ سکتے ہو تو ذرا بچ دکھاؤ۔

(77:40)

وَیْلٌ یَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ 

تباہی ہے اُس دن جھٹلانے والوں کے لیے

(77:41)

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ ظِلٰلٍ وَّعُیُوْنٍ 

21 متقی لوگ آج سایوں اور چشموں میں ہیں

حاشیہ نمبر: 21

pچونکہ یہ لفظ یہاں مُکذِّ بین(جھٹلانے والوں) کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے اس لیے متقیقوں سے مراد اس جگہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آخرت کو جُھٹلانے سے پر ہیز کیا اور اُس کو مان کر دنیا میں یہ سمجھتے ہوئے زندگی بسر کی کہ ہمیں آخرت میں اپنے اقوال و افعال اور اپنے اخلاق و کردار کی جواب دہی کر نی ہوگی۔/p

(77:42)

وَّفَوَاكِهَ مِمَّا یَشْتَهُوْنَ ؕ

اور جو پھل وہ چاہیں (اُن کے لیے حاضر ہیں)

(77:43)

كُلُوْا وَاشْرَبُوْا هَنِیْٓـًٔا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 

کھاؤ اور پیو مزے سے اپنے اُن اعمال کے صلے میں جو تم کرتے رہے ہو

(77:44)

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ 

ہم نیک لوگوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں

(77:45)

وَیْلٌ یَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ 

تباہی ہے اُس روز جھُٹلانے والوں کے لیے۔22

حاشیہ نمبر: 22

یہاں یہ فقرہ اس معنی میں ارشاد ہوا ہے کہ اُن کے لیے ایک مصیبت تو وہ ہوگی جو اوپر بیان ہو چکی ہے کہ میدانِ حشر میں وہ مجرموں کی حیثیت سے کھڑے ہوں گے، علی الاعلان ان کے جرائم اِس طرح ثابت کر دیے جائیں گے کہ ان کے لیے زبان کھولنے تک کا یا رانہ رہے گے، اور آخر کار جہنم کا ایندھن بن کر رہیں گے۔ دوسری مصیبت بالائے مصیبت یہ ہوگی کہ وہی ایمان لانے والے جن سے اُن کی عمر بھی لڑائی رہی، جنہیں وہ بیوقوف اور تنگ خیال اور رجعت پسند کرتے رہے، جن کا وہ مذاق اُڑاتے رہے  اور جنہیں اپنے نزدیک حقیر و ذلیل سمجھتے رہے، انہی کو وہ جنت میں مزے اڑاتے دیکھیں گے۔

(77:46)

كُلُوْا وَتَمَتَّعُوْا قَلِیْلًا اِنَّكُمْ مُّجْرِمُوْنَ 

23 کھالو اور مزے کر لو تھوڑے دن۔24 حقیقت میں تم لوگ مجرم ہو

حاشیہ نمبر: 23

pاب کلام ختم  کرتے ہوئے نہ صرف کفّار مکّہ کو بلکہ دنیا کے تمام کفّار کو مخاطب کرتے ہوئے یہ کلمات ارشاد فرمائے جا رہے ہیں۔/p

حاشیہ نمبر: 24

pیعنی دنیا  کی اِس چند روزہ زندگی میں۔/p

(77:47)

وَیْلٌ یَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ 

تباہی ہے اُس روز جھٹلانے والوں کے لیے

(77:48)

وَاِذَا قِیْلَ لَهُمُ ارْكَعُوْا لَا یَرْكَعُوْنَ 

جب اِن سے کہا جاتا ہے کہ (اللہ کے آگے) جُھکو تو نہیں جُھکتے۔25

حاشیہ نمبر: 25

اللہ کے آگے جھکنے سے مراد صرف اس کی عبادت کرنا ہی نہیں ہے ، بلکہ  اس کے بھیجے ہوئے رسول اور اس کی نازل کر دہ کتاب  کو ماننا اور اس کے احکام کی اطاعت کرنا بھی اس میں شامل ہے۔

(77:49)

وَیْلٌ یَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ 

تباہی ہے اُس روز جھٹلانے والوں کے لیے

(77:50)

فَبِاَیِّ حَدِیْثٍ بَعْدَهٗ یُؤْمِنُوْنَ 

اب اِس (قرآن)کے بعد اورکونسا کلام ایسا ہو سکتا ہے جس پر یہ ایمان لائیں؟26

حاشیہ نمبر: 26

یعنی جو بڑی سے بڑی چیز انسان کو حق و باطل کا فرق سمجھانے والی اور ہدایت کا راستہ دکھانے والی ہو سکتی تھی وہ قرآن کی صورت  میں نازل کر دی گئی ہے۔ اس کو پڑھ کر یا سن کر بھی اگر کوئی شخص ایمان نہیں  لاتا تو اِس کے بعد پھر اور کیا چیز ایسی ہو سکتی ہے جو اس کو راہِ راست پر لا سکے؟

Read Maududi
Read • Reflect • Reform

Your Complete Learning App

A complete experience—reading, tafseer, audio, and more, all in one app. Available on iOS and Android.

Get the app

Frequently asked questions FAQs

Yes, you can download content and access it anytime without an internet connection.