Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Nuh

سورة نوح

(71:1)

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰی قَوْمِهٖۤ اَنْ اَنْذِرْ قَوْمَكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ 

ہم نے نوحؑ کو اس کی قوم کی طرف بھیجا (اس ہدایت کے ساتھ)کہ اپنی قوم کے لوگوں کو خبر دارکر دے قبل اس کے کہ ان پر ایک دردناک عذاب آئے۔1

حاشیہ نمبر: 1

یعنی ان کو اس بات سے آگاہ کر دے کہ جن گمراہیوں اور اخلاقی ًخرابیوں میں وہ مبتلا ہیں وہ اُن کو خدا کے عذاب کا مستحق بنا دیں گی اگر وہ اُن سے باز نہ آئے، اور اُن کو بتا دے کہ اُس عذاب سے بچنے کے لیے انہیں کونسا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

(71:2)

قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ 

ا س نے کہا "اے میری قوم کے لوگو، میں تمہارے لیے ایک صاف صاف خبردار کردینے والا (پیغمبر) ہوں

(71:3)

اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاتَّقُوْهُ وَاَطِیْعُوْنِ 

(تم کو آگاہ کرتا ہوں)کہ اللہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو اور میری اطاعت کرو،2

حاشیہ نمبر: 2

یہ تین باتیں تھیں جو حضرت نوح ؑ نے اپنی رسالت کا آغاز کرتے ہوئے اپنی قوم کے سامنے پیش کیں، ایک اللہ کی بندگی۔ دوسرے ، تقوٰی۔ تیسرے، رسول کی اطاعت۔ اللہ کی بندگی کا مطلب یہ تھا کہ دوسروں کی بندگی و عبادت چھوڑ کر اور صرف اللہ ہی کو اپنا معبود تسلیم کر کے اُسی کی پر ستش کرو اور اُسی کے احکام بجالاؤ۔ تقویٰ کا مطلب یہ تھا کہ اُن کاموں سے پر ہیز کرو جو اللہ کی ناراضی اور اس کے غضب کے موجب ہیں، اور اپنی زندگی میں  وہ روش اختیار کرو جو خدا ترس لوگوں کو اختیار کرنی چاہیے۔ رہی تیسری بات کہ”میری اطاعت کرو“، تو اس کا مطلب یہ تھا کہ اُن احکام کی اطاعت کرو جو اللہ کا رسول ہونے کی حیثیت سے میں تمہیں دیتا ہوں۔

(71:4)

یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَیُؤَخِّرْكُمْ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی ؕ اِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ اِذَا جَآءَ لَا یُؤَخَّرُ  لَوْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ 

اللہ تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا3 اور تمہیں ایک وقتِ مقرر تک باقی رکھے گا۔4 حقیقت یہ ہے کہ اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت جب آجاتا ہے تو پھر ٹالا نہیں جاتا۔5 کاش تمہیں اِس کا علم ہو۔“6

حاشیہ نمبر: 3

اصل الفاظ ہیں یَغْفِرْ لَکُمْ مِّنْ ذُنُوْبِکُمْ۔ اس فقرے کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ تمہارے گناہوں میں سے بعض کو معاف کر دے گا، بلکہ اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ اگر تم اُن تین باتوں کو قبول کر لو جو تمہارے سامنے پیش کی جا رہی ہیں تو اب تک جو گناہ تم کر چکے ہو اُن سب سے وہ درگزر فرمائے گا۔ یہاں مِنْ تبعیض کے لیے نہیں بلکہ عَن ْکے معنی میں ہے۔

حاشیہ نمبر: 4

یعنی اگر تم نے یہ تین باتیں مان لیں تو تمہیں دنیا میں اُس وقت تک جینے کی مہلت دے دی جائے گی جو اللہ تعالیٰ نے تمہاری طبعی موت کے لیے مقر کیا ہے۔

حاشیہ نمبر: 5

اس دوسرے وقت سے مراد وہ وقت ہے جو اللہ نے کسی قوم پر عذاب نازل کرنے کے لیے مقرر کر دیا ہو۔ اس کے متعلق متعدد مقامات پر قرآن مجید میں یہ بات بصراحت بیان کی گئی ہے کہ جب کسی قوم کے حق میں نزولِ عذاب کا فیصلہ صادر ہو جاتا ہے اُس کے بعد وہ ایمان بھی لے آئے تو اسے معاف نہیں کیا جاتا۔

حاشیہ نمبر: 6

یعنی اگر تمہیں یہ بات اچھی طرح معلوم ہو جائے کہ میرے ذریعہ سے اللہ کا پیغام پہنچ جانے کے بعد اب جو وقت گزر رہا ہے  یہ دراصل ایک مہلت ہے جو تمہیں ایمان لانے کے لیے دی جارہی ہے، اور اس مہلت کی مدت ختم ہو جانے کے بعد پھر خدا کے عذاب سے بچنے کا کوئی امکان نہیں ہے، تو تم ایمان لانے میں جلدی کر و گے اور نزولِ عذاب کا وقت آنے تک اس کو ٹالتے نہ چلے جاؤ گے۔

(71:5)

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ دَعَوْتُ قَوْمِیْ لَیْلًا وَّنَهَارًا 

7 اُس نے عرض کیا”اے میرے ربّ، میں نے اپنی قوم کے لوگوں کو شب و روز پکارا

حاشیہ نمبر: 7

pبیچ میں ایک طویل زمانے کی تاریخ چھوڑ کر اب حضرت نوح ؑ کی وہ عرضداشت نقل کی جا رہی ہے جو انہوں نے اپنی رسالت کے آخری دور میں اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کی۔/p

(71:6)

فَلَمْ یَزِدْهُمْ دُعَآءِیْۤ اِلَّا فِرَارًا 

مگر میری پُکار نے اُن کے فرار ہی میں اضافہ کیا۔8

حاشیہ نمبر: 8

یعنی جتنا جتنا میں اُن کو پکارتا گیا اتنے ہی زیادہ وہ دور بھاگتے چلے گئے۔

(71:7)

وَاِنِّیْ كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوْۤا اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَاسْتَغْشَوْا ثِیَابَهُمْ وَاَصَرُّوْا وَاسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًا 

اور جب بھی میں نے اُن کو بلایا تاکہ تُو انہیں معاف کر دے،9 انہوں نے کانوں میں اُنگلیاں ٹھونس لیں اور اپنے کپڑوں سے منہ ڈھانک لیے10 اور اپنی روش پر اَڑ گئے اور بڑا تکبّر کیا۔11

حاشیہ نمبر: 9

اس میں خود بخود یہ مضمون شامل ہے کہ وہ نافرمانی کی روش چھوڑ کر معافی کے طلب گارہوں ، کیونکہ اسی صورت میں اُن کو اللہ تعالیٰ سے معافی مل سکتی تھی۔

حاشیہ نمبر: 10

منہ ڈھانکنے کی غرض یا تو یہ تھی کہ وہ حضرت نوح ؑ کی بات سننا تو درکنار، آپ کی شکل بھی دیکھنا پسند نہ کرتے تھے، یا پھر یہ حرکت وہ اس لیے کرتے تھے کہ آپ کے سامنے سے گزرتے ہوئے منہ چھپا کر نکل جائیں اور اس کی نوبت ہی نہ آنے دیں کہ آپ اُنہیں پہچان کر اُن سے بات کرنے لگیں۔ یہ ٹھیک وہی طرزِ عمل تھا جو کفار مکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اختیار کر رہے تھے۔ سورہ ہود آیت 5 میں اُن کے اِس رویے کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے۔”دیکھو یہ لوگ اپنے سینوں کو موڑتے ہیں تا کہ رسول سے چُھپ جائیں۔ خبر دار!جب یہ اپنے آپ کو کپڑوں سے ڈھانکتے ہیں تو اللہ  ان کے کھلے کو بھی جانتا ہے اور چھپے کو بھی، وہ تو دلوں کی پوشیدہ باتوں سے بھی واقف ہے، (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد دوم،ہود،حواشی5۔۶)۔

حاشیہ نمبر: 11

تکبُّر سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے حق کے آگے سر جھکا دینے اور خدا کے رسول کی نصیحت قبول کرلینے کو اپنی شان سے گری ہوئی بات سمجھا۔ مثال کے طور پر اگر کوئی بھلا آدمی کسی بگڑے ہوئے شخص کو نصیحت کرے اور وہ جواب میں جھٹک کر اٹھ کھڑا ہو اور پاؤں پٹختا ہوا نکل جائے تو یہ تکبُّر کے ساتھ کلامِ نصیحت کو رد کرنا ہوگا۔

(71:8)

ثُمَّ اِنِّیْ دَعَوْتُهُمْ جِهَارًا 

پھر میں نے ان کو ہانکے پکارے دعوت دی

(71:9)

ثُمَّ اِنِّیْۤ اَعْلَنْتُ لَهُمْ وَاَسْرَرْتُ لَهُمْ اِسْرَارًا 

پھر میں نے علانیہ بھی ان کو تبلیغ کی اور چپکے چپکے بھی سمجھایا

(71:10)

فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًا 

میں نے کہا اپنے رب سے معافی مانگو، بے شک وہ بڑا معاف کرنے والا ہے

(71:11)

یُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًا 

وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا

(71:12)

وَّیُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِیْنَ وَیَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّٰتٍ وَّیَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْهٰرًا ؕ

تمہیں مال اور اولاد سے نوازے گا، تمہارے لیے باغ پیدا کرے گا اور تمہارے لیے نہریں جاری کردے گا۔12

حاشیہ نمبر: 12

یہ بات قران مجید میں متعدد مقامات پر بیان کی گئی ہے کہ خدا سے بغاوت کی روش صرف آخرت ہی میں نہیں ، دنیا میں بھی انسان کی زندگی کو تنگ کر دیتی ہے ، اور اس کے بر عکس اگر کوئی قوم نا فرمانی کے بجائے ایمان و تقویٰ او ر احکام الہٰی کی اطاعت کا طریقہ اختیار کرلے تو یہ آخرت ہی میں نافع نہیں ہے بلکہ دنیا میں بھی اُس پر نعمتوں کی بارش ہونے لگتی ہے۔ سورہ طٰہٰ میں ارشاد ہوا ہے۔”اور جو میرے ذکر سے منہ موڑے گا اس کے لیے دنیا میں تنگ زندگی ہوگی اور قیامت کے روز ہم اسے اندھا اٹھائیں گے “۔(آیت124)۔سورہ مائدہ میں فرمایاگیا ہے”اور اگر ان اہل کتاب نے تو راة اور انجیل اور اُن دوسری کتابوں کو قائم کیا ہوتا جو ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس بھیجی گئی تھیں تو ان کے لیے اوپر سے رزق برستا، اور نیچے سے اُبلتا“(آیت۶۶)۔ سورہ اعراف میں فرمایا”اور اگربستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ کی رو ش اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے“(آیت9۶)۔سورہ ہود میں ہے کہ حضرت ہود ؑ نے اپنی قوم کو خطاب کر کے فرمایا”اور اے میری قوم  کے لوگو، اپنے رب سے معافی چاہو، پھر  اس کی طرف پلٹو، وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا اور تمہاری موجود ہ وقت پر مزید قوت پر اضافہ کرے گا“(آیت52)۔خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے بھی اسی سورہ ہود میں اہل مکہ کو مخاطب کر کے یہ بات فرمائی گئی ”اور یہ کہ اپنے رب سے معافی چاہو، پھر اس کی طرف پلٹ آؤ تو وہ ایک مقرر وقت تک تم کو اچھا سامانِ زندگی دیگا“(آیت3)۔ حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے لوگوں سے فرمایا کہ ”ایک کلمہ ہے جس کے تم قائل ہو جاؤ تو عرب و عجم کے فرمانروا ہو جاؤ گے“ ۔(تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، المائدہ، حاشیہ9۶۔جلددوم، ہود،حواشی3و57۔جلدسوم،طٰہٰ،حاشیہ1۰5۔جلد چہارم،دیباچہ سورہ ص)۔           قرآن مجید کی اسی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے ایک مرتبہ قحط کے موقع پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بارش کی دعا کرنے کے لیے نکلے اور صرف استغفار پر اکتفا فرمایا۔ لوگوں نے عرض کیا، امیر المومنین آپ نے بارش کے لیے تو دعا کی ہی نہیں۔ فرمایا، میں نے آسمان کے اُن دروازوں کو کھٹکھٹا دیا ہے جہاں سے بارش نازل ہوتی ہے، اور پھر سورہ نوح ؑ کی یہ آیات لوگوں کو پڑھ کر سنا دیں (ابن جریر و ابن کثیر)۔ اسی طرح ایک مرتبہ حضرت حسن بصری کی مجلس میں ایک شخص نے خشک سالی کی شکایت کی۔ انہوں نے کہا اللہ سے استغفار کرو۔ دوسرے شخص نے تنگ دستی کی شکایت کی، تیسرے نے کہا میرے ہاں اولاد نہیں  ہوتی، چوتھے نے کہا میری زمین کی پیداوار کم ہو رہی ہے۔ ہر ایک کو وہ یہی جواب دیتے چلے گئے کے اسغفار کرو۔ لوگوں نے کہا  یہ کیا معاملہ ہے کہ آپ سب کو مختلف شکایتوں کا ایک ہی علاج بتا رہے ہیں؟ انہوں نے جواب میں سورہ نوح ؑ کی یہ آیات سنا دیں۔(کشّاف)۔

(71:13)

مَا لَكُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلّٰهِ وَقَارًا 

تمہیں کیا ہوگیا  کہ  اللہ کے لیے تم کسی وقار کی توقع نہیں رکھتے؟13

حاشیہ نمبر: 13

مطلب یہ ہے کہ دنیا کے چھوٹے چھوٹے ر ئیسوں اور سرداروں کے بارے میں تو تم یہ سمجھتے ہو کہ  ان کے وقار کے خلاف کوئی حرکت کرنا خطرناک ہے، مگر خداواندِ عالم کے متعلق تم یہ توقع  نہیں رکھتے کہ وہ کبھی کوئی باوقار ہستی ہو گا۔ اُس کے خلاف تم بغاوت کرتے ہو، اُس کی خدائی میں دوسروں کو شریک ٹھیرا تے ہو، اُس کے احکام کی نا فرمانیاں کرتے ہو، اور اس سے تمہیں یہ اندیشہ لاحق نہیں ہوتا کہ وہ اس  کی سزا دے گا۔

(71:14)

وَقَدْ خَلَقَكُمْ اَطْوَارًا 

حالانکہ اُس نے طرح طرح سے تمہیں بنایا ہے۔14

حاشیہ نمبر: 14

یعنی تخلیق کے مختلف مدارج اور اطوار سے گزارتا ہوا تمہیں موجودہ حالت پر لایا ہے۔ پہلے تم ماں اور باپ کی صُلب میں الگ الگ نطفوں کی شکل میں تھے۔ پھر خدا کی قدرت ہی سے یہ دونوں نطفے ملے اور تمہارا استقرار حمل ہوا۔ پھر نو مہینے تک ماں کے پیٹ میں بتدریج نشو و نما دے کر تمہیں پوری انسانی شکل  دی گئی اور تمہارے اندر تمام وہ قوتیں پیدا کی گئیں جو دنیا میں انسان کی حیثیت سے کام کرنے کے لیے تمہیں درکار تھیں۔ پھر ایک زندہ بچے کی صورت میں تم بطن مادر سے باہر آئے اور ہر آن تمہیں ایک حالت سے دوسری حالت تک ترقی دی جاتی رہی ، یہاں تک کہ تم جوانی اور کہولت کی عمر کو پہنچے۔ اِن تمام منازل سے گزرتے ہوئے تم  ہر وقت پُوری طرح خد ا کے بس میں تھے۔وہ چاہتا تو تمہارا استقرارِحمل ہی نہ ہونے دیتا اور تمہاری جگہ کسی اور شخص کا استقرار ہوتا۔ وہ چاہتا تو ماں کے پیٹ ہی میں تمہیں اندھا، بہرا، گونگا، یا اپاہج بنا دیتا یا تمہاری عقل میں کوئی فتور رکھ دیتا۔ وہ چاہتا تو تم زندہ بچے کی صورت میں پیدا ہی نہ ہوتے۔ پیدا ہونے کے بعد بھی  وہ تمہیں ہر وقت ہلاک کر سکتا تھا، اور اس کے ایک اشارے پر کسی وقت بھی تم کسی حادثے کے شکار ہو سکتے تھے۔ جس خدا کے بس میں تم اِس طرح بے بس ہو اُس کے متعلق تم نے یہ کیسے سمجھ رکھا ہے کہ اس کی شان میں ہر گستاخی کی جا سکتی ہے، اس کے ساتھ ہر طرح کی نمک حرامی اور احسان فرامو شی کی جا سکتی ہے، اس کے خلاف ہر قسم کی بغاوت کی جا سکتی ہے اور اِن حرکتوں کا کوئی خمیازہ تمہیں بھگتنا نہیں پڑے گا۔

(71:15)

اَلَمْ تَرَوْا كَیْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا 

کیا دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے کس طرح سات آسمان تہ بر تہ بنائے

(71:16)

وَّجَعَلَ الْقَمَرَ فِیْهِنَّ نُوْرًا وَّجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا 

اور اُن میں چاند کو نور اور سورج کو چراغ بنایا؟

(71:17)

وَاللّٰهُ اَنْۢبَتَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ نَبَاتًا 

اور اللہ نے تم کو زمین سے عجیب طرح اُگایا،15

حاشیہ نمبر: 15

یہاں زمین کے مادّوں سے انسان کی پیدائش کو نباتات کے اُگنے سے تشبیہ دی گئی ہے ۔ جس طرح کسی وقت اِس کُرے پر نباتات موجود نہ تھیں اور پھر اللہ تعالیٰ نے یہاں اُن کو اُگایا، اُسی طرح ایک وقت تھا جب روئے زمین پر انسان کا کوئی وجود نہ تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے یہاں اس کی پَود لگائی۔

(71:18)

ثُمَّ یُعِیْدُكُمْ فِیْهَا وَیُخْرِجُكُمْ اِخْرَاجًا 

پھر وہ تمہیں اِسی زمین میں واپس لے جائے گا اور اِس سے یکایک تم کو نکال کھڑا کرے گا

(71:19)

وَاللّٰهُ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ بِسَاطًا 

اور اللہ نے زمین کو تمہارے لیے فرش کی طرح بچھا دیا

(71:20)

لِّتَسْلُكُوْا مِنْهَا سُبُلًا فِجَاجًا 

تاکہ تم اس کے اندر کھلے راستوں میں چلو"

(71:21)

قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ اِنَّهُمْ عَصَوْنِیْ وَاتَّبَعُوْا مَنْ لَّمْ یَزِدْهُ مَالُهٗ وَوَلَدُهٗۤ اِلَّا خَسَارًا 

نوحؑ نے کہا، "میرے رب، اُنہوں نے میری بات رد کر دی اور اُن (رئیسوں) کی پیروی کی جو مال اور اولاد پا کر اور زیادہ نامراد ہو گئے ہیں

(71:22)

وَمَكَرُوْا مَكْرًا كُبَّارًا 

اِن لوگوں نے بڑا بھاری مکر کا جال پھیلا رکھا ہے۔16

حاشیہ نمبر: 16

مکر سے مراد اُن سرداروں اور پیشواوں کے وہ فریب ہیں جن سے وہ اپنی قوم کے عوام کو حضرت نوحؑ کی تعلیمات کے خلا ف بہکانے کی کوشش کرتے تھے۔ مثلاً وہ کہتے تھے کہ  نوحؑ تمہی جیسا ایک آدمی ہے ، کیسے مان لیا جائے کہ اس پر خدا کی طرف سے وحی آئی ہے (الاعراف ۶3۔ ہود 27)۔ نوحؑ  کی پیروی تو ہمارے اَراذِل نے بے سوچے سمجھے قبول کر لی ہے، اگر اس کی بات میں کوئی وزن ہوتا تو قوم کے اکابر اس پر ایمان لاتے(ہود27) ۔ خدا کو اگر بھیجنا ہوتا تو کوئی فرشتہ بھیجتا (المومنون24)۔ اِس شخص پر کسی جِن کا سایہ ہے جس نے اِسے دیوانہ بنا دیا ہے( المومنون 25)۔ قریب قریب یہی باتیں تھیں جن سے قریش کے سردار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف لوگوں کو بہکا یا کرتے تھے۔

(71:23)

وَقَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّلَا سُوَاعًا ۬ وَّلَا یَغُوْثَ وَیَعُوْقَ وَنَسْرًا 

اِنہوں نے کہا ہر گز نہ چھوڑو اپنے معبُودوں کو ، اور نہ چھوڑو وَدّ اور سُواع کو، اور نہ یَغُوث اور یَعُوق اور نَسر کو۔17

حاشیہ نمبر: 17

قومِ نوح کے معبودوں میں سے یہاں اُن معبودوں کے نام لیے گئے ہیں جنہیں بعد میں اہلِ عرب نے بھی پُوجنا شروع کر دیا تھا اور آغازِ اسلام  کے وقت عرب میں جگہ جگہ اُن کے مندر بنے ہوئے تھے۔ بعید نہیں کہ طوفان میں جو لوگ بچ گئے تھے ان کی زبان سے بعد کی نسلوں نے قومِ نوح کے قدیم معبودوں کا ذکر سُنا ہو گا اور جب ازسرِ نو اُن کی اولاد میں جاہلیّت پھیلی ہو گی تو انہی معبودوں کے بُت بنا کر انہوں نے پھر اُنہیں پُوجنا شروع کر دیا ہو گا۔ وَدّ قبیلہ قُضاعہ کی شاخ بنی کَلب بن دَبرَہ کا معبود تھا جس کا استھان انہوں نے دُومَةُ الجَندَل میں بنا رکھا تھا۔ عرب کے قدیم کتبات میں اس کا نام دَوَّم اَبَم (ودباپو) لکھا ہو ا ملتا ہے۔ کَلبِی کا بیا ن ہے کہ اس کا  بُت ایک نہایت عظیم الجثّہ مرد کی شکل میں بنا ہو اتھا۔ قریش کے لوگ بھی اس کو معبود مانتے تھے اور اس کا نام ان کے ہاں وُدّ تھا۔ اسی کے نام پر تاریخ میں ایک شخص کا نام عبدِ وُدّ ملتا ہے۔ سُواع قبیلہء ہُذ َیل کی دیوی تھی اور اس کا بُت عورت کی شکل میں بنایا گیا تھا۔ یَنبوع کے قریب رُہاط کے مقام پر اس کا مندر واقع تھا۔ یَغُوث قبیلہء طَے کی شاخ اَنعُم اور قبیلہء مَذ جِح کی بعض شاخوں کا معبود تھا۔ مذجح والوں نے یمن اور حجاز کے درمیان جُرَش کے مقام پر اس کا بُت نصب کر رکھا تھا جس کی شکل شیر کی تھی۔ قریش کے لوگوںمیں بھی بعض کا نام عبدِ یَغُوث ملتا ہے۔ یَعُوق یمن کے علاقہ ہَمدان میں قبیلئہ ہَمدان کی شاخ خَیوان کا معبود تھا اور اس کا بُت گھوڑے کی شکل کا تھا۔ نَسر جمیَر کے علاقے میں قبیلئہ حمیر کی شاخ آلِ ذوالکُلاع کا معبود تھا اور بَلخع کے مقام پر اس کا بُت نصب تھا جس کی شکل گِدھ کی تھی۔ سبا کے قدیم کتبوں میں اس کا نام نَسور لکھا ہوا ملتا ہے۔ اس کے مندرکو وہ لوگ بَیتِ نَسور، اور اس کے پُجاریوں کو اہلِ نَسور کہتے تھے۔ قدیم مندروں کے جو آثار عرب اور اس کے متصل علاقوں میں پائے جاتے ہیں ان میں سے بہت سے مندروں کے دروازوں پر گِدھ کی تصویر بنی ہوئی ہے۔

(71:24)

وَقَدْ اَضَلُّوْا كَثِیْرًا ۬ وَلَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا ضَلٰلًا 

انہوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کیا ہے، اور تُو بھی اِن ظالموں کو گمراہی کے سوا کسی چیز میں ترقی نہ دے۔“18

حاشیہ نمبر: 18

قومِ نوح کے معبودوں میں سے یہاں اُن معبودوں کے نام لیے گئے ہیں جنہیں بعد میں اہلِ عرب نے بھی پُوجنا شروع کر دیا تھا اور آغازِ اسلام  کے وقت عرب میں جگہ جگہ اُن کے مندر بنے ہوئے تھے۔ بعید نہیں کہ طوفان میں جو لوگ بچ گئے تھے ان کی زبان سے بعد کی نسلوں نے قومِ نوح کے قدیم معبودوں کا ذکر سُنا ہو گا اور جب ازسرِ نو اُن کی اولاد میں جاہلیّت پھیلی ہو گی تو انہی معبودوں کے بُت بنا کر انہوں نے پھر اُنہیں پُوجنا شروع کر دیا ہو گا۔ وَدّ قبیلہ قُضاعہ کی شاخ بنی کَلب بن دَبرَہ کا معبود تھا جس کا استھان انہوں نے دُومَةُ الجَندَل میں بنا رکھا تھا۔ عرب کے قدیم کتبات میں اس کا نام دَوَّم اَبَم (ودباپو) لکھا ہو ا ملتا ہے۔ کَلبِی کا بیا ن ہے کہ اس کا  بُت ایک نہایت عظیم الجثّہ مرد کی شکل میں بنا ہو اتھا۔ قریش کے لوگ بھی اس کو معبود مانتے تھے اور اس کا نام ان کے ہاں وُدّ تھا۔ اسی کے نام پر تاریخ میں ایک شخص کا نام عبدِ وُدّ ملتا ہے۔ سُواع قبیلہء ہُذ َیل کی دیوی تھی اور اس کا بُت عورت کی شکل میں بنایا گیا تھا۔ یَنبوع کے قریب رُہاط کے مقام پر اس کا مندر واقع تھا۔ یَغُوث قبیلہء طَے کی شاخ اَنعُم اور قبیلہء مَذ جِح کی بعض شاخوں کا معبود تھا۔ مذجح والوں نے یمن اور حجاز کے درمیان جُرَش کے مقام پر اس کا بُت نصب کر رکھا تھا جس کی شکل شیر کی تھی۔ قریش کے لوگوںمیں بھی بعض کا نام عبدِ یَغُوث ملتا ہے۔ یَعُوق یمن کے علاقہ ہَمدان میں قبیلئہ ہَمدان کی شاخ خَیوان کا معبود تھا اور اس کا بُت گھوڑے کی شکل کا تھا۔ نَسر جمیَر کے علاقے میں قبیلئہ حمیر کی شاخ آلِ ذوالکُلاع کا معبود تھا اور بَلخع کے مقام پر اس کا بُت نصب تھا جس کی شکل گِدھ کی تھی۔ سبا کے قدیم کتبوں میں اس کا نام نَسور لکھا ہوا ملتا ہے۔ اس کے مندرکو وہ لوگ بَیتِ نَسور، اور اس کے پُجاریوں کو اہلِ نَسور کہتے تھے۔ قدیم مندروں کے جو آثار عرب اور اس کے متصل علاقوں میں پائے جاتے ہیں ان میں سے بہت سے مندروں کے دروازوں پر گِدھ کی تصویر بنی ہوئی ہے۔

(71:25)

مِمَّا خَطِیْٓـٰٔتِهِمْ اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًا ۬ فَلَمْ یَجِدُوْا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْصَارًا 

اپنی خطاوٴں کی بنا پر ہی وہ غرق کیے گئے اور آگ  میں جھونک دیے گئے،19 پھر انہوں نے اپنے لیے اللہ سے بچانے والا کوئی مددگار نہ پایا۔20

حاشیہ نمبر: 19

یعنی غرق ہونے پر ان کا قصہ تمام نہیں ہوگیا، بلکہ مرنے کے بعد فوراً ہی ان کی روحیں آگ کے عذاب میں مبتلا کر دی گئیں۔ یہ بعینہ وہی معاملہ ہے جو فرعون اور اس کی قوم کے ساتھ کیا گیا ، جیسا کہ سورہ مومن، آیات 45۔4۶ میں بیان کیا گیا ہے(تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد چہارم، المومن، حاشیہ۶3)۔ یہ آیت بھی اُن آیات میں سے ہے جن سے بَرزَخ کا عذاب ثابت ہوتا ہے۔

حاشیہ نمبر: 20

یعنی اپنے جن معبودوں کو وہ اپنا حامی و مددگار سمجھتے تھے ان میں سے کوئی بھی انہیں بچانے کے لیے نہ آیا۔ یہ گویا تنبیہ تھی اہلِ مکہ کے لیے کہ تم بھی اگر خدا کے عذاب میں مبتلا ہوگئے تو تمہارے یہ معبود، جن پر تم بھروسا کیے بیٹھے ہو، تمہارے کسی کام نہ آئیں گے۔

(71:26)

وَقَالَ نُوْحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ دَیَّارًا 

اور نوحؑ نے کہا، "میرے رب، اِن کافروں میں سے کوئی زمین پر بسنے والا نہ چھوڑ

(71:27)

اِنَّكَ اِنْ تَذَرْهُمْ یُضِلُّوْا عِبَادَكَ وَلَا یَلِدُوْۤا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا 

اگر تو نے اِن کو چھوڑ دیا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور اِن کی نسل سے جو بھی پیدا ہوگا بدکار اور سخت کافر ہی ہوگا

(71:28)

رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیَ مُؤْمِنًا وَّلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ ؕ وَلَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا تَبَارًا 

میرے رب، مجھے اور میرے والدین کو اور ہر اس شخص کو جو میرے گھر میں مومن کی حیثیت سے داخل ہوا ہے، اور سب مومن مردوں اور عورتوں کو معاف فرما دے، اور ظالموں کے لیے ہلاکت کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہ کر"

Read Maududi
Read • Reflect • Reform

Your Complete Learning App

A complete experience—reading, tafseer, audio, and more, all in one app. Available on iOS and Android.

Get the app

Frequently asked questions FAQs

Yes, you can download content and access it anytime without an internet connection.