Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Al-Ma'arij

سورة المعارج

(70:1)

سَاَلَ سَآىِٕلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ 

مانگنے والےنے عذاب مانگا ہے،1 (وہ عذاب)جو ضرور واقع ہونے والا ہے

حاشیہ نمبر: 1

اصل الفاظ ہیں سَاَلَ سَا ئِلٌ۔ بعض مفسرین نے یہاں سوال کو پوچھنے کے معنی میں لیا ہے اور وہ آیت کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ پوچھنے والے نے پوچھا ہے کہ وہ عذاب ، جس کی ہمیں خبر دی جا رہی ہے ، کس پر واقع ہوگا؟ اور اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ وہ کافروں پر واقع ہو گا ۔ لیکن اکثر مفسرین نے اس جگہ سوال  کو مانگنے اور مطالبہ کر نے کے معنی میں لیا ہے۔ نسائی اور دوسرے محدثین نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ روایت نقل کی ہے اور حاکم نے اس کو صحیح قرار دیا ہے کہ نَضربن حارِث بن کلدہ نے کہا تھا اَللّٰھُمَّ اِنْ کَانَ ھٰذَا ھُوَالْحَقُّ مِنْ عِنْدِکَ فَاَمْطِرْ عَلیْنَا حِجَارَةًمِّنَ السَّمَاءِ اَوِئْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ہ۔(الانفال، آیت 32)۔”خدایا اگر یہ واقعی تیری ہی طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پھتر برسا دے یا ہم پر درد ناک عذاب لے آ۔“اس کے علاوہ متعدد مقامات پر قرآن مجید میں کفارِ مکہ کے اس چیلنج کا ذکر کیا گیا ہے کہ جس عذاب سے تم ہمیں ڈراتے ہو وہ لے کیوں نہیں آتے۔ مثال کے طور پر حسبِ ذیل مقامات ملاحظہ ہوں : یونس، آیات 4۶ تا 48۔ الانبیاء، 3۶ تا 41۔ النمل، 27 تا72۔ سبا،2۶ تا 3۰۔ یٰس، 45 تا 52۔الملک،24 تا 27۔

(70:2)

لِّلْكٰفِرِیْنَ لَیْسَ لَهٗ دَافِعٌ 

کافروں کے لیے ہے، کوئی اُسے دفع کرنے والا نہیں

(70:3)

مِّنَ اللّٰهِ ذِی الْمَعَارِجِ ؕ

اُس خدا کی طرف سے ہے جو عروج کے زینوں کا مالک ہے۔2

حاشیہ نمبر: 2

اصل میں لفظ ذِی المَعَارِجِ استعمال ہوا ہے ۔ معارج، معرَج کی جمع ہے جس کے معنی زینے، یا سیڑھی، یا ایسی چیز کے ہیں جس کے ذریعے سے اوپر چڑھا جائے۔ اللہ تعالیٰ کو معارِج والا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی ذات بہت بالا و بر تر ہے اور اس کے حضور باریاب ہونے کے لیے فرشتوں کو پے در پے بلندیوں سے گزرنا ہوتا ہے، جیسا کہ بعد والی آیت میں بیان فرمایا گیا ہے۔

(70:4)

تَعْرُجُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَالرُّوْحُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَةٍ 

ملائکہ اور رُوح3 اُس کے حضور چڑھ کر جاتے ہیں4 ایک ایسے دن میں جس کی مقدار  پچاس ہزار سال ہے۔5

حاشیہ نمبر: 3

روح سے مراد جبریل علیہ السلام ہیں اور ملائکہ سے الگ اُن کا ذکر  اُن کی عظمت پر دلالت کرتا ہے۔ سورہ شُعراء میں فرمایا گیا ہے کہ نَزَّلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُ عَلیٰ قَلْبِکَ(اس قرآن کو روحِ امین لے کر تمہارے دل پر نازل ہوئے ہیں)۔ اور سورہ بقرہ میں ارشاد ہوا ہے قُلْ مَن ْکَانَ عَدُوًّالِّجبرِْیْلَ فَاِنَّہُ نَزَّلَہُ عَلیٰ قَلْبِکَ( کہو کہ جو شخص جبریل  کا اس لیے دشمن ہو کہ اس نے یہ قرآن تمہارے قلب پر نازل کیا ہے۔۔۔۔)۔ ان دونوں آیتوں کو ملا کر پڑھنے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ روح سے مراد جبریل ہی ہیں۔

حاشیہ نمبر: 4

یہ سارا مضمون متشابہات میں سے ہے جس کے معنی متعین نہیں کیے جا سکتے ۔ ہم نہ فرشتوں کی حقیقت جانتے ہیں، نہ ان کے چڑھنے کی کیفیت کو سمجھ سکتے ہیں، نہ یہ بات ہمارے ذہن کی گرفت میں آسکتی ہے کہ وہ زینے کیسے ہیں جن پر فرشتے چڑھتے ہیں ، اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں بھی یہ تصور نہیں کیا جا سکتا کہ وہ کسی خاص مقام پر رہتا ہے، کیونکہ اس کی ذات زمان و مکان کی قیود سے منزہ ہے۔

حاشیہ نمبر: 5

سورہ حج، آیت 47 میں ارشاد ہوا ہے” یہ لوگ تم سے عذاب کے لیے جلدی  مچا رہے ہیں۔ اللہ ہر گز اپنے وعدے کے خلاف نہ کرے گا، مگر تیرے رب کے ہاں کا ایک دن تمہارے شمار کے ہزار برس کے برابر ہوا کرتا ہے“۔ سورہ السجدہ، آیت 5 میں فرمایا گیا ہے” وہ آسمان سے زمین تک دنیا کے معاملات کی تدبیر کرتا ہے، پھر (اُس کی رُوداد)اوپر اُس کے حضور جاتی ہے ایک ایسے دن میں جس کی مقدار تمہارے شمارے شمار سے ایک ہزار سال ہے “  اور یہاں عذاب کے مطالبہ کے جواب میں اللہ تعالیٰ کے ایک دن کی مقدار پچاس ہزار سال بتائی گئی ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلقین کی گئی ہے کہ جو لوگ مذاق کے طور پر عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں ان کی باتوں پر صبر کریں اور اس کے بعد فرمایا گیا ہے کہ یہ لوگ اُس کو دُور سمجھتے ہیں اور ہم اُسے قریب دیکھ رہے ہیں۔ ان سب ارشادات پر مجموعی نگاہ ڈالنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ لوگ اپنے ذہن اور اپنے دائرہ فکر و نظر کی تنگی کے باعث خدا کے معاملات کو اپنے وقت کے پیمانوں سے ناپتے ہیں، اور اُنہیں سو پچاس برس کی مدت بھی بڑی لمبی محسوس ہوتی ہے ۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک ایک اسکیم ہزار ہزار سال اور پچاس پچاس ہزار سال کی ہوتی ہے۔ اور مدت بھی محض بطورِ مثال ہے، ورنہ کائناتی منصوبے لاکھوں اور کروڑوں اور اربوں سال کے بھی ہوتے ہیں۔ انہی منصوبوں میں سے ایک اہم منصوبہ وہ ہے جس کے تحت زمین پر نوعِ انسانی کو پیدا کیا گیاہے اور اس کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا گیا ہے کہ فلاں ساعتِ خاص تک یہاں اس نوع کو کام کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ کوئی انسان یہ نہیں جان سکتا  کہ یہ منصوبہ  کب شروع ہوا، کتنی مدت اس کی تکمیل کے لیے طے کی گئی ہے ، کونسی ساعت اس کے اختتام کے لیے مقرر کی گئی ہے جس پر قیامت برپا کی جائے گی، اور کونسا وقت اس غرض کے لیے رکھا گیا ہے کہ آغازِ آفرنیش سے قیامت تک پیدا ہونے والے سارے انسانوں کو بیک وقت اٹھا کر اُن کا حساب لیا جائے۔ اس منصوبے کے صرف اُس حصے کو ہم کسی حد تک جانتے ہیں جو ہمارے سامنے گزر رہا ہے یا جس کے گزشتہ ادوار کی کوئی جزوی سی تاریخ ہمارے پاس موجود ہے ۔ رہا اُس کا آغاز و انجام ، تو اسے جاننا تو درکنار، اسے سمجھنا بھی ہمارے بس سے باہر ہے، کجا کہ ہم اُن حکمتوں کو سمجھ سکیں جو اس کے پیچھے لے آیا جائے، اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا تواُسے اس بات کی دلیل قرار دیتے ہیں کہ انجام کی بات ہی سرے سے غلط ہے ، وہ درحقیقت اپنی ہی نادانی کا ثبوت پیش کرتے ہیں(مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، الحج، حواشی 92۔93۔ جلد چہارم، السجدہ، حاشیہ 9)۔

(70:5)

فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا 

پس اے نبیؐ ، صبر کرو، شائستہ صبر۔6

حاشیہ نمبر: 6

یعنی ایسا صبر جو ایک عالی ظرف انسان کے شایان شان ہے۔

(70:6)

اِنَّهُمْ یَرَوْنَهٗ بَعِیْدًا 

یہ لوگ اُسے دور سمجھتے ہیں

(70:7)

وَّنَرٰىهُ قَرِیْبًا ؕ

اور ہم اسے قریب دیکھ  رہے ہیں۔7

حاشیہ نمبر: 7

اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ یہ لوگ اُسے بعید ازامکان سمجھتے ہیں اور ہمارے نزدیک وہ قریب الوقوع ہے ۔ دوسرا مطلب  یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ لوگ قیامت کو بڑی دور کی چیز سمجھتے ہیں اور ہماری نگاہ میں  وہ اس قدر قریب ہے گویا کل پیش آنے والی ہے۔

(70:8)

یَوْمَ تَكُوْنُ السَّمَآءُ كَالْمُهْلِ 

(وہ عذاب اُس روز ہو گا)جس8 روز آسمان پگھلی ہوئی چاندی کی طرح ہو جائے گا9

حاشیہ نمبر: 8

مفسرین میں سے ایک گروہ نے اس فقرے کا تعلق فِیْ یَوْ مٍ کَانَ مِقْدَارُہٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَةٍ سے مانا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ پچاس ہزار سال کی مدت جس دن کی بتائی گئی ہے اُس سے مراد قیامت کا دن ہے۔ مسند احمد اور تفسیر ابن جریر میں حضرت ابو سعید خُدری سے روایت نقل کی گئی ہے ہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےا س آیت کے متعلق عرض کیا گیا  کہ وہ تو بڑا ہی طویل دن ہوگا ۔ اس پر آپ ؐ نے فرمایا کہ ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میرے جان ہے، دنیا میں ایک  فرض نماز پڑھتے ہیں جتنا وقت لگتا ہے مومن کے لیے وہ دن اس سے بھی زیادہ ہلکا ہوگا“۔ یہ روایت اگر صحیح سند سے منقول ہوتی تو پھر اس کے سوا اس  آیت کی کوئی دوسرے تاویل نہیں کی جا سکتی تھی۔ لیکن اس کی سند میں درّاج اور اس کے شیخ ابو الہثیم، دونوں ضعیف ہیں۔

حاشیہ نمبر: 9

یعنی بار بار رنگ بدلے گا۔

(70:9)

وَتَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ 

اور پہاڑ رنگ برنگ کے دُھنکے ہوئے اُون جیسے ہوجائیں گے۔10

حاشیہ نمبر: 10

چونکہ پہاڑوں کے رنگ مختلف ہیں، اس لیے جب وہ اپنی جگہ سے اکھڑ کر اور بے وزن ہو کر اُڑنے لگیں گے تو ایسے معلوم ہونگے جیسے رنگ برنگ کا دُھنکا ہو اون اڑ رہا ہو۔

(70:10)

وَلَا یَسْـَٔلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًا 

اور کوئی جگری دوست اپنے جگری دوست کو نہ پوچھے گا

(70:11)

یُّبَصَّرُوْنَهُمْ ؕ یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِىِٕذٍ بِبَنِیْهِ 

حالانکہ وہ ایک دُوسرے کو دکھائے جائیں گے۔11 مجرم چاہے گا کہ اس دن کے عذاب سے بچنے کے لیے اپنی اولاد کو

حاشیہ نمبر: 11

یعنی ایسا نہ ہوگا کہ وہ ایک دوسرے کو دیکھ نہیں رہے ہوں گے اس  لیے نہ پوچھیں گے نہیں،ہر ایک آنکھوں سے دیکھ رہا ہوگا کہ دوسرے پر کیا بن رہی ہے اور پھر وہ اسے نہ پوچھے گا ، کیونکہ اس کو اپنی ہی پڑی  ہو گی۔

(70:12)

وَصَاحِبَتِهٖ وَاَخِیْهِ 

اپنی بیوی کو، اپنے بھائی کو

(70:13)

وَفَصِیْلَتِهِ الَّتِیْ تُـْٔوِیْهِ 

اپنے قریب ترین خاندان کو جو اسے پناہ دینے والا تھا

(70:14)

وَمَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا ثُمَّ یُنْجِیْهِ 

اور روئے زمین کے سب لوگوں کو فدیہ میں دیدے اور یہ تدبیر اُسے نجات دلا دے

(70:15)

كَلَّا ؕ اِنَّهَا لَظٰی 

ہرگز نہیں وہ تو بھڑکتی ہوئی آگ کی لپٹ ہوگی

(70:16)

نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰی 

جو گوشت پوست کو چاٹ جائے گی

(70:17)

تَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَ وَتَوَلّٰی 

پکار پکار کر اپنی طرف بلائے گی ہر اُس شخص کو جس نے حق سے منہ موڑا اور پیٹھ پھیری

(70:18)

وَجَمَعَ فَاَوْعٰی 

اور مال جمع کیا اور سینت سینت کر رکھا۔12

حاشیہ نمبر: 12

یہاں بھی سورہ الحاقّة آیات 33۔34 کی طرح آخرت میں آدمی کے بُرے انجا م کے دو وجوہ بیان کیے گئے ہیں۔ ایک حق سے انحراف اور ایمان لانے سے انکار ۔ دوسرے دنیا  پرستی اور بخل، جس کی بنا پر آدمی مال جمع کرتا ہے اور اسے کسی بھلائی کے کام میں خرچ نہیں کرتا۔

(70:19)

اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًا 

انسان تھُڑ دِلا پیدا کیا گیا ہے،13

حاشیہ نمبر: 13

جس بات کو ہم اپنی زبان میں یوں کہتے ہیں کہ ”یہ بات انسان کی سر شت میں ہے،“ یا ”یہ انسان کی فطری کمزوری ہے،“اسی کو اللہ تعالیٰ اس طرح بیان فرماتا ہے کہ ”انسان ایسا پیدا کیا گیا ہے۔“اس مقام پر یہ بات نگاہ میں رہنی چاہیے کہ قرآن مجید میں بکثرت مواقع پر نوع انسانی کی عام  اخلاقی کمزوریوں کا ذکر کرنے کے بعد ایمان لانے والے اور راہِ راست اختیار کر لینے والے لوگوں کوا س سے مستثنٰی قرار دیا گیا ہے ، اور یہی مضمون آگے کی آیات میں بھی آرہا ہے۔ اس سے یہ حقیقت خود بخود واضح ہوجاتی ہے کہ یہ پیدائشی کمزوریاں ناقابلِ تغیُّر و تبدُّل نہیں ہیں، بلکہ انسان اگر خدا کی بھیجی ہوئی ہدایت کو قبول کر کے اپنے نفس کی اصلاح کے لیے عملاً کوشش کرے تو وہ ان کو دور کر سکتا ہے، اور اگر وہ نفس کی باگیں ڈھیلی چھوڑ دے تو یہ اُس کے اندر راسخ ہو جاتی ہیں(مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، الانبیاء، حاشیہ 41۔جلدچہارم، الزُّمر، حواشی 23۔28۔ الشوریٰ، حاشیہ 75)۔

(70:20)

اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوْعًا 

جب اس پر مصیبت آتی ہے تو گھبرا اٹھتا ہے

(70:21)

وَّاِذَا مَسَّهُ الْخَیْرُ مَنُوْعًا 

اور جب اسے خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو بخل کرنے لگتا ہے

(70:22)

اِلَّا الْمُصَلِّیْنَ 

مگر وہ لوگ (اِس عیب سے بچے ہوئے ہیں)جو نماز پڑھنے والے ہیں،14

حاشیہ نمبر: 14

کسی شخص کا نماز پڑھنا لازماً یہ معنی رکھتا ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول اور اس کی کتاب اور آخرت پر ایمان بھی رکھتا ہے اور اپنے اس ایمان کے مطابق عمل بھی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

(70:23)

الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰی صَلَاتِهِمْ دَآىِٕمُوْنَ 

جو اپنی نماز کی ہمیشہ پابندی کرتے ہیں،15

حاشیہ نمبر: 15

یعنی کسی قسم کی سُستی  اور آرام طلبی، یا مصروفیت ، یا دلچسپی اُن کی نماز کی پابندی میں مانع نہیں ہیں۔ جب نماز کا وقت آجائے تو وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اپنے خدا کی عبادت بجا لانے کے لیے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ عَلٰی صَلَاتِھِم دَآئِمُونَ کے ایک اور معنی حضرت عُقبہ بن عامر نے یہ بیان کیے ہیں کہ وہ پورے سکون اور خشوع کے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں۔ کوّے کی طرح ٹھونگیں نہیں مارتے۔ مارا مار  پڑھ کر کسی نہ کسی طرح نماز سے فارغ ہو جانے کی کوشش نہیں کرتے۔ اور نماز کے دوران میں اِدھر اُدھر التفات بھی نہیں کرتے ۔ عربی محاورے میں ٹھیرے ہوئے پانی کو ماءِ دائم کہا جاتا ہے۔ اُسی سے یہ تفسیر ماخوذ ہے۔

(70:24)

وَالَّذِیْنَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ 

جن کے مالوں میں،

(70:25)

لِّلسَّآىِٕلِ وَالْمَحْرُوْمِ 

سائل اور محروم کا ایک مقرر حق ہے،16

حاشیہ نمبر: 16

سورہ ذاریات آیت 19 میں فرمایا گیا ہے کہ ”اُن کے مالوں میں سائل اور محروم کا حق ہے۔“اور یہاں فرمایا گیا ہے کہ ”ان کے مالوں میں سائل اور محروم کا ایک مقرر حق ہے۔“بعض لوگوں نے اس سے یہ سمجھا ہے کہ مقرر حق سے مراد فرض زکوٰة ہے، کیونکہ اُسی میں نصاب اور شرح، دونوں چیزیں مقرر کر دی گئی ہیں۔ لیکن یہ تفسیر اس بنا پر قابلِ قبول نہیں ہے کہ سورہ معارج بالاتفاق مکی ہے ، اور زکوٰة ایک مخصوص نصاب اور شرح کے ساتھ مدینہ میں فرض ہوئی ہے۔ اس لیے مقرر حق کا صحیح مطلب یہ ہے کہ انہوں نے خود اپنے مالوں میں سائل اور محروم کا  ایک حصہ طے کر رکھا ہے جسے وہ اُن کا حق سمجھ کر ادا کرتے ہیں۔ یہی معنی حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت عبداللہ بن عمر، مجاہد ،شَعبِی اور ابراہیم نَخَعی نے بیان کیے ہیں۔           سائل سے مراد پیشہ ور بھیک مانگنے والا نہیں بلکہ وہ حاجت مند شخص ہے  جو کشی سے مدد مانگے۔ اور محروم سے مراد ایسا شخص ہے جو بے روزگار ہو، یا روزی کمانے کی کوشش کرتا ہو مگر اس کی ضروریات پوری نہ ہوتی ہوں، یا کسی حادثے یا آفت کا شکار ہو کر محتاج ہوگیا ہو، یا روزی کمانے کے قابل ہی نہ ہو۔ ایسے وگوں کے متعلق جب معلوم ہو جائے کہ وہ واقعی محروم ہیں تو ایک خدا پرست انسان اس بات کا انتظار نہیں کرتا کہ وہ اس سے مدد مانگیں، بلکہ اُن کی محرومی کا علم ہوتے ہی وہ خود آگے بڑھ کر ا ن کی مدد کرتا ہے۔(مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلدپنجم، تفشیر سورہ ذاریات، حاشیہ 17)۔

(70:26)

وَالَّذِیْنَ یُصَدِّقُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ 

جو روزِ جزا کو بر حق مانتے ہیں،17

حاشیہ نمبر: 17

یعنی دنیا میں اپنے آپ کو غیر ذمہ دار اور غیر جواب دہ نہیں سمجھتے، بلکہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ایک دن انہیں اپنے خدا کے حضور حاضر ہو کر اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔

(70:27)

وَالَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ عَذَابِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَ 

جو اپنے ربّ کے عذاب سے ڈرتے ہیں18

حاشیہ نمبر: 18

بالفاظ دیگر ان کا حال کفار کی طرح نہیں ہے جو دنیا میں ہر قسم کے گناہ اور جرائم اور ظلم و ستم کر کے بھی خدا سے نہیں ڈرتے، بلکہ وہ اپنی حد تک اخلاق اور اعمال میں نیک رویہ اختیار کرنے کے با وجود خدا سے ڈرتے رہتے ہیں اور یہ اندیشہ اُن کو لاحق رہتا ہے کہ کہیں خدا کی عدالت میں ہماری کوتاہیاں ہماری نیکیوں سے بڑھ کر نہ نکلیں اور ہم سزا کے مستحق نہ قرار پا جائیں(مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن،جلد سوم،المومنون،حاشیہ54۔جلد پنجم،الذاریات، حاشیہ 19)۔

(70:28)

اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَیْرُ مَاْمُوْنٍ 

کیونکہ اُن کے رب کا عذاب ایسی چیز نہیں ہے جس سے کوئی بے خوف ہو

(70:29)

وَالَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَ 

جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں19

حاشیہ نمبر: 19

شرم گاہوں کی حفاظت سے مراد زنا سے پر ہیز بھی ہے اور عریانی سے پر ہیز بھی(تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفپیم القرآن، جلد سوم ، المومنون ،حاشیہ۶۔النور،حواشی3۰۔32۔جلد چہارم،الاحزاب،

(70:30)

اِلَّا عَلٰۤی اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَ 

بجز اپنی بیویوں یا اپنی مملوکہ عورتوں کے جن سے محفوظ نہ رکھنے میں ان پر کوئی ملامت نہیں

(70:31)

فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْعٰدُوْنَ 

البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں20

حاشیہ نمبر: 20

تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن،جلدسوم،المومنون،حاشیہ7۔

(70:32)

وَالَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ 

جو اپنی امانتوں کی حفاظت  اور اپنے عہد کا  پاس کرتے ہیں،21

حاشیہ نمبر: 21

امانتوں سے مراد وہ امانتیں بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ نے بندوں کے سپرد کی ہیں اور وہ امانتیں بھی جو انسان کسی دوسرے انسان پر اعتماد کر کے اس کے حوالے کرتا ہے۔اسی طرح عہد سے مراد وہ عہد بھی ہیںجو بندہ اپنے خدا سے کرتا ہے،اور وہ عہد بھی جو بندے ایک دوسے سے کرتے ہیں۔ ان دونوں قسم کی امانتوں اور دونوں قسم کے عہد وپیمان کا پاس ولحاظ ایک مومن کی سیرت کےلازمی خصائص میں سے ہے۔حدیث میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سامنے جو تقریر بھی فرماتے اس میں یہ بات ضرور ارشاد فرمایا کرتے تھے کہ اَلا، لا ایمانَ لمن لا امانتہ لہٗ ولا دینَ لمن لاعھدَ لہٗ۔”خبردار رہو،جس میں امانت نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں، اور جو عہد کا پابند نہیں اس کا کوئی دین نہیں“(بَہیقَی فی شُعَب الایمان)۔

(70:33)

وَالَّذِیْنَ هُمْ بِشَهٰدٰتِهِمْ قَآىِٕمُوْنَ 

جو اپنی گواہیوں میں راست بازی پر قائم رہتے ہیں،22

حاشیہ نمبر: 22

یعنی نہ شہادت چھپاتے ہیں،نہ اس میں کوئی کمی بیشی کرتے ہیں۔

(70:34)

وَالَّذِیْنَ هُمْ عَلٰی صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَ ؕ

اور جو اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں۔23

حاشیہ نمبر: 23

اس سے نماز کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ جس بلند سیرت و کردار کے لوگ خدا کی جنت کے مستحق قرار دیے گئے ہیں ان کی صفات کا ذکر نماز ہی سے شروع اور اسی پر ختم کیا گیا ہے۔ نمازی ہونا اُن کی پہلی صفت ہے، نماز کا ہمیشہ پابند رہنا ا ن کی دوسری صفت، اور نماز کی حفاظت کرنا اُن کی آخری صفت ۔ نمازکی حفاظت سے بہت سی چیزیں مراد ہیں۔ وقت پر نامز ادا کرنا ۔نماز سے پہلے یہ اطمینان کر لینا کہ جسم اور کپڑے پاک ہیں۔باوضو ہونا اور وضو میں اعضاء کو اچھی طرح دھونا ۔ ارکان اور واجبات اور مستجباتِ نماز کو ٹھیک ٹھیک ادا کرنا ۔ نماز کے آداب کو پوری طرح ملحوظ رکھنا۔خدا کی نا فرمانیاں کر کےاپنی نمازوں کو ضائع نہ کرنا ۔ یہ سب چیزیں نمازکی حفاظت میں شامل ہیں۔

(70:35)

اُولٰٓىِٕكَ فِیْ جَنّٰتٍ مُّكْرَمُوْنَ ؕ

یہ لوگ عزت کے ساتھ جنت کے باغوں میں رہیں گے

(70:36)

فَمَالِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا قِبَلَكَ مُهْطِعِیْنَ 

پس اے نبیؐ، کیا بات ہے کہ یہ منکرین دائیں اور بائیں سے،

(70:37)

عَنِ الْیَمِیْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ عِزِیْنَ 

گروہ در گروہ تمہاری طرف دوڑے چلے آرہے ہیں؟24

حاشیہ نمبر: 24

یہ اُن لوگوں کا ذکر ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت و تبلیغ اور تلاوتِ قرآن کی آواز سن کر مذاق اڑانے اور آوازے کسنے کے لیے چاروں طرف سے دوڑ پڑتے تھے۔

(70:38)

اَیَطْمَعُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ اَنْ یُّدْخَلَ جَنَّةَ نَعِیْمٍ 

کیا اِن میں سے ہر ایک یہ  لالچ رکھتا ہے کہ وہ نعمت بھری جنت میں داخل کر دیا جائے گا؟25

حاشیہ نمبر: 25

مطلب یہ ہے کہ خدا کی جنت تو اُن لوگوں کے لیے ہے جن کی صفات ابھی ابھی بیان کی جا چکی ہیں۔ اب کیا یہ لوگ جو حق بات سننا تک گورار نہیں کرتے اور حق کی آواز کو دبا دینے کے لیے یوں دوڑے چلے آرہے ہیں، جنت کے امید وار ہو سکتے ہیں؟ کیا خدا نے اپنی جنت ایسے ہی لوگوں کے لیے بنائی ہے؟ اس مقام پر سورة القلم کی آیات34۔41 بھی پیش نظر رکھنی چاہییں جن میں کفارِ مکہ کو اُن کی اِس بات کا جواب دیا گیا ہے کہ آخرت اگر ہوئی بھی تو وہاں وہ اُسی طرح مزے کریں گےجس طرح دنیا میں کر رہے ہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے اُسی طرح خستہ حال رہیں گے جس طرح آج دنیا میں ہیں۔

(70:39)

كَلَّا ؕ اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّمَّا یَعْلَمُوْنَ 

ہر گز نہیں۔ ہم نے جس چیز سے اِن کو پیدا کیا اُسے یہ خود جانتے ہیں۔26

حاشیہ نمبر: 26

اس مقام پر اس فقرے کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ مضمونِ سابق کے ساتھ اس کا تعلق مانا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ جس مادے سے یہ لوگ بنے ہیں اس کے لحاظ سے تو سب انسان یکساں ہیں۔ اگر وہ مادہ ہی انسان کے جنت میں جانے کا سبب ہو تو نیک و بد،ظالم و عادل، مجرم اور بے گناہ،سب ہی کو جنت میں جانا چاہیے۔لیکن معمولی عقل ہی یہ فیصلہ کرنے کے لیے کافی ہے کہ جنت کا استحقاق انسان کے مادہ تخلیق کی بنا پر نہیں بلکہ صرف اُس کے اوصاف کے لحاظ سے پیدا ہو سکتا ہے۔ اور اگر اس فقرے کو بعد کے مضمون کی تمہید سمجھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے آپ کو ہمارے عذاب سے محفوظ سمجھ رہے ہیں اور جو شخص انہیں ہماری پکڑ سے ڈراتاہے اس کا مذاق اڑاتے ہیں، حالانکہ ہم اِن کو دنیا میں بھی جب چاہیں عذاب دے سکتے ہیں اور موت کے بعد دوبارہ زندہ کر کے بھی جب چاہیں اٹھا سکتے ہیں۔ یہ خود جانتے ہیں کہ نطفے کی ایک حقیر سی بُوند سے اِن کی تخلیق کی ابتدا کر کے ہم نے ان کو چلتا پھرتا انسان بنایا ہے۔ اگر اپنی اِس خلقت پر یہ غور کرتے تو اُنہیں کبھی یہ غلط فہمی لاحق نہ ہوتی کہ اب یہ ہماری گرفت سے باہر ہو گئے ہیں، یا ہم اِنہیں دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں ہیں۔

(70:40)

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشٰرِقِ وَالْمَغٰرِبِ اِنَّا لَقٰدِرُوْنَ 

پس نہیں،27 میں قسم کھاتا ہوں مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی،28 ہم اِس پر قادر ہیں

حاشیہ نمبر: 27

یعنی بات وہ نہیں ہے جو اِنہوں نے سمجھ رکھی ہے۔

حاشیہ نمبر: 28

یہاں اللہ تعالیٰ نے خود اپنی ذات کی قسم کھا ئی ہے۔ مشرقوں اور مغربوں کا لفظ اس بنا پر استعمال کیا گیا ہے کہ سال کے دوران میں سورج ہر روز ایک نئے زاویے سے طلوع اور نئے زاویے پر غروب ہوتا ہے۔ نیز زمین کے مختلف حصوں پر سورج الگ الگ اوقات میں پے در پے طلوع اور غروب ہوتا چلا جاتاہے۔ ان اعتبارات سے مشرق اور مغرب ایک نہیں ہیں بلکہ بہت سے ہیں۔ ایک دوسرے اعتبار سے شمالی اور جنوب کے مقابلے میں ایک جہت مشرق ہے اور دوسری جہت مغرب۔ اس بنا پر سورہ شعراء، آیت 28،اور سورہ مزمل، آیت19 میں رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ ایک اور لحاظ سے  زمین کے دو مشرق اور مغرب ہیں، کیونکہ جب زمین کے ایک نصف کُرے پر سورج غروب ہوتا ہے تو دوسرے پر طلوع ہوتا ہے۔ اس بنا پر  سورہ رحمٰن، آیت 17 میں رَبُّ الْمَشْرِقَینِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَینِ کے الفاظ استعمال فرمائے گئے ہیں(مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد پنجم، الرحمٰن، حاشیہ17)۔

(70:41)

عَلٰۤی اَنْ نُّبَدِّلَ خَیْرًا مِّنْهُمْ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَ 

کہ اِن کی جگہ اِن سے بہتر لوگ لے آئیں اور کوئی ہم سے بازی لے جانے والا نہیں ہے۔29

حاشیہ نمبر: 29

یہ ہے وہ بات جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رب المشارق و المغارب ہونے کی قسم کھائی ہے۔ اس کے معنی یہ ہے کہ ہم چونکہ مشرقوں اور مغربوں کے مالک ہیں اس لیے  پوری زمین ہمارے قبضہ قدرت میں ہے اور ہماری گرفت سے بچ نکلنا تمہارے بس میں نہیں ہے۔ ہم جب چاہیں تمہیں ہلاک کر سکتے ہیں اور تمہاری جگہ کسی دوسری قوم کو اٹھا سکتے ہیں جو تم سے بہتر ہو۔

(70:42)

فَذَرْهُمْ یَخُوْضُوْا وَیَلْعَبُوْا حَتّٰی یُلٰقُوْا یَوْمَهُمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ 

لہٰذا اِنہیں اپنی بیہودہ باتوں اور اپنے کھیل میں پڑا رہنے دو یہاں تک کہ یہ اپنے اُس دن تک پہنچ جائیں جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے

(70:43)

یَوْمَ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا كَاَنَّهُمْ اِلٰی نُصُبٍ یُّوْفِضُوْنَ 

جب یہ اپنی قبروں سے نِکل کر اِس طرح دوڑے جارہے ہوں گے جیسے اپنے بُتوں کے استھانوں کی طرف دوڑے جارہے ہوں،30

حاشیہ نمبر: 30

اصل الفاظ ہیں اِلیٰ نُصُبٍ یُّوفِضُونَ۔ نصب کے معنی ہیں مفسریں کے درمیان اختلاف ہے ۔ ان میں سے بعض نے اس سے مراد بُت لیے ہیں اور اُن کے نزدیک اِس کا مطلب یہ ہے کہ وہ داورِ محشر کی مقرر کی ہوئی جگہ کی طرف اِس طرح دوڑے جا رہے ہو نگے جیسے آج وہ اپنے بتوں کے استحصانوں کی طرف دوڑتے ہیں۔ اور بعض دوسرے مفسرین نے اس سے مراد وہ  نشان لیے ہیں جو دوڑ کا مقابلہ کرنے والوں کے لیے لگائے جاتےہیں تا کہ ہر ایک دوسرے سے پہلے مقرر نشان پر پہنچنے کی کوشش کرے۔

(70:44)

خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ ؕ ذٰلِكَ الْیَوْمُ الَّذِیْ كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ 

اِن کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی، ذلت اِن پر چھا رہی ہوگی وہ دن ہے جس کا اِن سے وعدہ کیا جا رہا ہے

Read Maududi
Read • Reflect • Reform

Your Complete Learning App

A complete experience—reading, tafseer, audio, and more, all in one app. Available on iOS and Android.

Get the app

Frequently asked questions FAQs

Yes, you can download content and access it anytime without an internet connection.