Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Al-Haqqah

سورة الحاقۃ

(69:1)

اَلْحَآقَّةُ 

ہونی شُدنی!1

حاشیہ نمبر: 1

اصل میں لفظ الحاقہ استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں وہ واقعہ جو کو لازماً پیش آکر رہنا ہے جس کا آنا برحق ہے ،جس کے آنے میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔ یامت کے لیے یہ لفظ استعمال کر نا اور پھر کلام کا آغاز ہی اس سے کرنا خود بخود یہ ظاہر کرتا ہے کہ مُخاطب وہ لوگ ہیں جو اُس کے آنے کو جھٹلا رہے تھے۔ اُن کو خطاب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ جس چیز کی تم تکذیب کر رہے ہو وہ ہونی شُدنی ہے ، تمہارے انکار سے اُس کا آنا رُک نہیں جائے گا۔

(69:2)

مَا الْحَآقَّةُ 

کیا ہے وہ ہونی شدنی؟

(69:3)

وَمَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْحَآقَّةُ ؕ

اور تم کیا جانو کہ وہ کیا ہے ہونی شُدنی؟2

حاشیہ نمبر: 2

یکے بعد دیگرے یہ دوسوالات سامعین کو چونکانے کے لیے کیے گئے ہیں تا کہ وہ بات کی اہمیت کو سمجھیں اور پوری توجہ کے ساتھ آگے کی بات سُنیں۔

(69:4)

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ وَعَادٌ بِالْقَارِعَةِ 

ثمود3 اور عاد نے اُس اچانک ٹوٹ پڑنے والی  آفت4 کو جھُٹلایا

حاشیہ نمبر: 3

کفارِ مکہ چونکہ قیامت کو جھٹلا رہے تھے اور اُس کے آنے کی خبر کو مزاق سمجھتے تھے اس لیے پہلے اُن کو خبردار کیاگیا کہ وہ تو ہونی شُدنی ہے، تم چاہے مانو یا نہ مانو، وہ بہر حال آکر رہے گی۔ اس کے بعد اب اُن کو بتایا جارہا ہے کہ یہ معاملہ صرف اتنا سادہ سا معاملہ نہیں ہے کہ کوئی شخص ایک پیش آنے والے واقعہ کی خبر کو تسلیم کرتا ہے یا نہیں، بلکہ اس کا نہایت گہرا تعلق قوموں کےاخلاق اور پھر اُن کے مستقبل سے ہے۔ تم سے پہلے گزری ہوئی قوموں کی تاریخ شاہد ہے کہ جس قوم نے بھی آخرت کا انکار کر کے اسی دنیا کی زندگی کو اصل زندگی سمجھا اور اس بات کو جھٹلا دیا کہ انسان کو آخر کار خدا کی عدالت میں اپنا حساب دینا ہوگا ، وہ سخت اخلاقی بگاڑ میں مبتلا ہوئی، یہاں تک کہ خدا کے عذاب نے آکر دنیا کو اس کے وجود سے پاک کر دیا۔

حاشیہ نمبر: 4

اصل لفظ القارعہ ہے۔ قرع عربی زبا ن میں ٹھوکنے، کوٹنے، کھڑ کھڑا دینے ، اور ایک چیز کو دوسری چیز پر مار دینے کے لیے بولا جاتا ہے۔ قیامت کے لیے یہ دوسرا لفظ اُس کی ہولناکی کا تصور دلانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

(69:5)

فَاَمَّا ثَمُوْدُ فَاُهْلِكُوْا بِالطَّاغِیَةِ 

تو ثمود ایک سخت حادثہ5 سے ہلاک کیے گئے

حاشیہ نمبر: 5

سورہ اعراف ، آیت 78 میں اس کو الرّجْفہ (زبردست زلزلہ)کہا گیا ہے۔ سورہ ہود ، آیت 67 میں اس کے لیے الصَّیْحَہ (زور کے دھماکے)کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ سورہ حٰم السجدہ، آیت ١7 میں فرمایا گیا ہے کہ ان کو صَاعِقَةُ الْعَذَاب (عذاب کے کڑکے) نے آلیا۔ اور یہاں اُسی عذاب کو الطَّاغیہ (حد سے زیادہ سخت حادثہ)سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ یہ ایک ہی واقعہ کی مختلف کیفیات کا بیا ن ہے۔

(69:6)

وَاَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِیْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِیَةٍ 

اور عاد ایک بڑی شدید طوفانی آندھی سے تباہ کر دیے گئے

(69:7)

سَخَّرَهَا عَلَیْهِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّثَمٰنِیَةَ اَیَّامٍ حُسُوْمًا فَتَرَی الْقَوْمَ فِیْهَا صَرْعٰی كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَةٍ 

اللہ تعالیٰ نے اُس کو مسلسل سات رات اور آٹھ دن اُن پر مسلط رکھا (تم وہاں ہوتے تو) دیکھتے کہ وہ وہاں اِس طرح پچھڑے پڑے ہیں جیسے وہ کھجور کے بوسیدہ تنے ہوں

(69:8)

فَهَلْ تَرٰی لَهُمْ مِّنْ بَاقِیَةٍ 

اب کیا اُن میں سے کوئی تمہیں باقی بچا نظر آتا ہے؟

(69:9)

وَجَآءَ فِرْعَوْنُ وَمَنْ قَبْلَهٗ وَالْمُؤْتَفِكٰتُ بِالْخَاطِئَةِ 

اور اِسی خطائے عظیم کا ارتکاب فرعون اور اُس سے پہلے کے لوگوں نے اور تَل پٹ ہوجانے والی بستیوں نے کیا۔6

حاشیہ نمبر: 6

ہیں قومِ لوط کی بستیاں جن کے متعلق سورہ ہود ؑ (آیت 82) اور سورہ حجز(آیت 74) میں فرمایا گیا ہے کہ ہم نے ان کو تلپٹ کر کے رکھ دیا۔

(69:10)

فَعَصَوْا رَسُوْلَ رَبِّهِمْ فَاَخَذَهُمْ اَخْذَةً رَّابِیَةً 

ان سب نے اپنے رب کے رسول کی بات نہ مانی تو اُس نے اُن کو بڑی سختی کے ساتھ پکڑا

(69:11)

اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآءُ حَمَلْنٰكُمْ فِی الْجَارِیَةِ 

جب پانی کا طوفان حد سے گزر گیا7 تو ہم نے تم کو کشتی میں سوار کر دیا تھا8

حاشیہ نمبر: 7

اشارہ ہے طوفانِ نوح کی طرف جس میں ایک پوری قوم اسی خطائے عظیم کی بنا پر غرق کر دکی گئی اور صرف وہ لوگ بچا لیے گئے جنہوں نے اللہ کے رسول کی بات مان لی تھی۔

حاشیہ نمبر: 8

اگرچہ کشتی میں سوار وہ لوگ کیے گئے تھے جو ہزاروں برس پہلے گزر چکے تھے، لیکن چونکہ بعد کی پوری انسانی نسل اُنہی لوگوں کی اولا دہے جو اُس وقت طوفان سے بچائے گئے تھے، اس لیے فرمایا کہ ہم نے تم کو کشتی میں سوار کر ادیا۔ مطلب یہ ہے کہ تم آج دنیا میں اسی لیے موجود ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اُس طوفان میں صرف مُنکر ین کو غرق کیا تھا اور ایمان لانے والوں کو بچا لیا تھا۔

(69:12)

لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَّتَعِیَهَاۤ اُذُنٌ وَّاعِیَةٌ 

کہ اِس واقعہ کو تمہارے لیے ایک سبق آموز یادگار بنادیں  اور یاد رکھنے والے کان اس کی یاد محفوظ رکھیں۔9

حاشیہ نمبر: 9

یعنی وہ کان نہیں جو سُنی اَن سنی کر دیں اور جن کے پر دے پر سے آواز اُچٹ کر گزر جائے، بلکہ وہ کان جو سُنیں اور بات کو دل تک اُتاردیں۔ یہاں بظاہر کان کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، مگر مراد ہیں سننے والے لوگ جو اس واقعہ کو سن کر اُسے یاد رکھیں ، اُس سے عبرت حاصل کریں اور اس بات کو کبھی نہ بھولیں کہ آخرت کے انکا راور خدا کے رسول کی تکذیب کا انجام کیسا ہولناک ہوتا ہے۔

(69:13)

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌ 

10 پھر جب ایک دفعہ صُور میں پھونک مار دی جائے گی

حاشیہ نمبر: 10

pآگے آنے والی آیات کو پڑھتے ہوئے یہ بات نگاہ میں رہنی چاہیے کہ قرآن مجید کہیں تو قیامت کے تین مراحل الگ الگ بیان کیےگئے ہیں جو یکے بعد دیگرے مختلف اوقات میں پیش آئیں گے ، اور کہیں گے سب کو سمیٹ کر پہلے مرحلے سے آخری مرحلے تک کے واقعات کو یکجا بیان کر دیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر سورہ نمل آیت 87 میں پہلے نفخ سور کا ذکر کیا گیا ہے جب تمام دنیا کے انسان یک لخت ایک ہولناک آواز سے گھبرا اٹھیں گے۔ اُس وقت نظام ِ عالم کے درہم برہم ہونے کی وہ کیفیات اُن کی آنکھوں کے سامنے پیش آئیں گی جو سورہ حج آیات١۔2، سور ہ یٰس آیات 49۔5۰،اور سورہ تکویر آیات ١۔6 میں بیان ہوئی ہیں۔ سورہ زُمر آیات 67 تا 7۰ میں دوسرے  اور تیسرےنفخ صور کے متعلق بتایا گیا ہے کہ ایک نفخ پر سب لوگ مر کر گر جائیں گے اور اس کے بعد جب پھر  صور پھونکا جائے گا تو سب جی اٹھیں گے اور خدا کی عدالت میں پیش ہو جائیں گے۔ سورہ طٰہٰ آیات 2۔١ تا ١١2، سورہ انبیاء آیات ١۰١ تا ١۰3، سورہ یٰس آیات5١تا53، اور سورہ ق آیات 2۰ تا 22 میں صرف تیسرے نفخ صور کا ذکر ہے(تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم،طٰہٰ حاشیہ 78۔ الحج، حاشیہ١۔ جلد چہارم، یٰس ،حواشی 46۔47)۔ لیکن یہاں اور بہت سے دوسرے مقامات پر قرآن میں پہلے نفخ صور سے لے کر جنت اور جہنم میں لوکوں کے داخل ہونے تک قیامت کے تمام واقعات کو ایک ہی سلسلے میں بیان کر دیا گیا ہے۔/p

(69:14)

وَّحُمِلَتِ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةً 

اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھا کر ایک ہی چوٹ میں ریزہ ریزہ کر دیا جائے گا

(69:15)

فَیَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ 

اُس روز وہ ہونے والا واقعہ پیش آ جائے گا

(69:16)

وَانْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَهِیَ یَوْمَىِٕذٍ وَّاهِیَةٌ 

اُس دن آسمان پھٹے گا اور اس کی بندش ڈھیلی پڑ جائے گی

(69:17)

وَّالْمَلَكُ عَلٰۤی اَرْجَآىِٕهَا ؕ وَیَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ یَوْمَىِٕذٍ ثَمٰنِیَةٌ ؕ

فرشتے اس کے اطراف و جوانب میں ہوں گے اور آٹھ فرشتے اُس روز تیرے ربّ کا عرش اپنے اُوپر اُٹھائے ہوئے ہوں گے۔11

حاشیہ نمبر: 11

یہ آیت متشابہات میں سے ہے جس کے معنی متعین کر نا مشکل ہے۔ ہم نہ یہ جان سکتے ہیں کہ عرش کیا چیز ہے اور نہ یہی سمجھ سکتے ہیں کہ قیامت کے روز آٹھ فرشتوں کے اس کو اٹھانے کی کیفیت کیا ہوگی۔ مگر یہ بات بہر حال قابل تصور نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش پر بیٹھا ہو گا اور آٹھ فرشتے اس کو عرش سمیت اٹھا ئے ہوئے ہونگے۔ آیات میں بھی یہ نہیں کہا گیا ہے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ عرش پر بیٹھا ہوا ہوگا ، اور ذات باری کا جو تصور ہم کو قرآن مجید میں دیا گیا ہے وہ بھی یہ خیال کرنے میں مانع ہے کہ وہ جسم اور جہت اور مقام سے منزہ ہستی کسی جگہ متمکن ہو اور کوئی مخلوق اُسے اٹھا ئے۔اس لیے کھوج کر ید کر کے اس کے معنی متعین کرنے کی کوشش کرنا اپنے آپ کو گمراہی کے خطرے میں مبتلا کر نا ہے۔ البتہ یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی حکومت و فرمانروائی اور اس کے معاملات کا تصور دلانے کے لیے لوگوں کے سامنے وہی نقشہ پیش کیا گیا ہے جو دنیا میں بادشاہی کا نقشہ ہوتا ہے، اور اس کے لیے وہی اصطلاحیں استعمال کی گئی ہیں جو انسانی زبانوں میں سلطنت اور اس کے مظاہر دلوازم کے لیے مستعمل ہیں، کیونکہ انسانی ذہن اسی نقشے اور انہی اصطلاحات کی مدد سے کسی حد تک کائنات کی سلطانی کے معاملات کو سمجھ سکتا ہے۔ یہ سب کچھ اصل حقیقت کو انسانی فہم سے قریب تر کرنے کے لیے ہے۔ اس کو بالکل لفظی معنوں میں لے لینا دُرست نہیں ہے۔

(69:18)

یَوْمَىِٕذٍ تُعْرَضُوْنَ لَا تَخْفٰی مِنْكُمْ خَافِیَةٌ 

وہ دن ہوگا جب تم لوگ پیش کیے جاؤ گے، تمہارا کوئی راز بھی چھپا نہ رہ جائے گا

(69:19)

فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ فَیَقُوْلُ هَآؤُمُ اقْرَءُوْا كِتٰبِیَهْ 

اُس وقت جس کا نامہٴ اعمال اُس کے سیدھے ہاتھ میں دیا جائے گا12 وہ کہے گا”لو دیکھو، پڑھو میرا نامہٴ اعمال،13

حاشیہ نمبر: 12

سیدھے ہاتھ میں نامہ اعمال کا دیا جانا ہی ظاہر کر دے گا کہ اُس کا حساب بے باق ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں مجرم کی حیثیت سے نہیں بلکہ صالح انسان کی حیثیت سے پیش ہو رہا ہے۔ اغلب یہ ہے کہ اعمال ناموں کی تقسیم کے وقت صالح انسان خود سیدھا ہاتھ بڑھا کر اپنا نامہ اعمال لے گا، کیونکہ موت کے وقت سے میدانِ حشر میں حاضری تک اُس کے ساتھ جو معاملہ پیش آیا ہوگا اس کی وجہ سے اس کو پہلے ہی  یہ اطمینان حاصل ہو چکا ہوگا کہ میں یہاں انعام پانے کے لیے پیش ہو رہا ہوں نہ کہ سزا پانے کے لیے۔ قرآن مجید  میں یہ بات جگہ جگہ بڑی صراحت کے ساتھ بتائی گئی ہے کہ موت کے وقت ہی سے یہ بات انسان پر واضح ہوجاتی ہے کہ وہ نیک بخت آدمی کی حیثیت سے دوسرے عالم میں جا رہا ہے یا بدبخت آدمی کی حیثیت سے ۔ پھر موت سے قیامت تک نیک انسان کے ساتھ مہمان کا سا معاملہ ہوتا ہے اور بد انسان کے ساتھ حوالاتی مجرم کا سا۔ اس کے بعد جب قیامت کے روز دوسری زندگی کا آغاز ہوتا ہے اسی وقت سے صالحین کی حالت و کیفیت کچھ اور ہوتی ہے اور کفار و منافقین اور مجرمین کی حالت و کیفیت کچھ اور (تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، الانفال،آیت5۰۔النحل، آیات28،32،مع حاشیہ 2۶۔بنی اسرائیل، آیت97۔ جلد سوم ، طٰہٰ، آیات1۰2،1۰3،124تا12۶،مع حواشی 8۰،79،1۰7 لانبیاء، آیت 1۰3، مع حاشیہ 98۔الفرقان،آیت24، مع حاشیہ38۔ النمل، آیت89،مع حاشیہ1۰9م جلد چہارم، سبا،آیت 51،مع حاشیہ72۔ یٰس، آیات 2۶،27،مع حواشی 22۔23۔المومن، آیات45،4۶،مع حاشیہ ۶3۔جلد پنجم، محمد ؐ ، آیت27 مع حاشیہ 37۔ق،آیات19تا23۔مع حواشی 25،23،22)۔

حاشیہ نمبر: 13

یعنی نامہ اعمال ملتے ہی وہ خوش و جائے گا اور اپنے ساتھیوں کا دکھائے گا ۔ سورہ الشقاق ، آیت 9 میں بیان ہوا ہے کہ ”وہ خوش خوش اپنے لوگوں کی طرف پلٹے گا۔

(69:20)

اِنِّیْ ظَنَنْتُ اَنِّیْ مُلٰقٍ حِسَابِیَهْ 

میں سمجھتا تھا کہ مجھے ضرور اپنا حساب ملنے والا ہے۔“14

حاشیہ نمبر: 14

یعنی وہ اپنی خوش قسمتی کی وجہ یہ بتائے گا کہ وہ دنیا میں آخرت سے غافل نہ تھا بلکہ یہ سمجھتے ہوئے زندگی بسر کرتا رہا کہ ایک روزاُسے خدا کے حضور حاضر ہونا ور اپنا حساب دینا ہے۔

(69:21)

فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍ 

پس وہ دل پسند عیش میں ہوگا

(69:22)

فِیْ جَنَّةٍ عَالِیَةٍ 

عالی مقام جنت میں

(69:23)

قُطُوْفُهَا دَانِیَةٌ 

جس کے پھلوں کے گچھے جھکے پڑ رہے ہوں گے

(69:24)

كُلُوْا وَاشْرَبُوْا هَنِیْٓـًٔا بِمَاۤ اَسْلَفْتُمْ فِی الْاَیَّامِ الْخَالِیَةِ 

(ایسے لوگوں سے کہا جائے گا) مزے سے کھاؤ اور پیو اپنے اُن اعمال کے بدلے جو تم نے گزرے ہوئے دنوں میں کیے ہیں

(69:25)

وَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖ ۬ فَیَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ كِتٰبِیَهْ 

اور جس کا نامہٴ اعمال  اُس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا15 وہ کہے گا”کاش میرا اعمال نامہ مجھے نہ دیا گیا ہوتا16

حاشیہ نمبر: 15

سورہ انشقاق میں فرمایا گیا ہے ”اور جس کا نامہ اعمال اس کی پیٹھ کے پیچھے دیا جائے گا“۔غالباً اس کی صورت یہ ہوگی کہ مجرم کو چونکہ پہلے ہی سے اپنے مجرم ہونے کا علم ہو گا اور وہ جانتا ہو گا کہ اس نامہ اعمال میں اس کا کیا کچھا چٹھا در ج ہے، اس لیے وہ نہایت بددلی کے ساتھ اپنا بایاں ہاتھ بڑھا کر اُسے لے گا اور فوراً پیٹھ کے پیچھے چھپا لے گا تا کہ کوئی دیکھنے نہ پائے۔

حاشیہ نمبر: 16

یعنی مجھے یہ نامہ اعمال دے کر میدان ِ حشر میں علانیہ سب کے سامنے ذلیل و رسوا نہ کیا جاتا اور جو سزا بھی دینی تھی دے ڈالی جاتی۔

(69:26)

وَلَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِیَهْ 

اور میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے۔17

حاشیہ نمبر: 17

یعنی مجھے نہ بتایا جاتا کہ میں دنیا میں کیا کچھ کر کے آیاہوں۔ دوسرا مطلب اس آیت  کا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ میں نے کبھی یہ نہ جانا تھا کہ حساب کیا بلا ہوتی ہے، مجھے کبھی یہ خیال تک نہ آیا تھا کہ ایک دن مجھے اپنا حساب بھی دینا ہوگا اور میرا سب کیا کرایا میرے سامنے رکھ دیا جائے گا۔

(69:27)

یٰلَیْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِیَةَ 

کاش میری وہی موت (جو دُنیا میں آئی تھی) فیصلہ کُن ہوتی۔18

حاشیہ نمبر: 18

یعنی دنیا میں مرنے کے بعد میں ہمیشہ کے لیے معدوم ہو گیا ہوتا اور کوئی دسری زندگی نہ ہوتی۔

(69:28)

مَاۤ اَغْنٰی عَنِّیْ مَالِیَهْ 

آج میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا

(69:29)

هَلَكَ عَنِّیْ سُلْطٰنِیَهْ 

میرا سارا اقتدار ختم ہوگیا۔“19

حاشیہ نمبر: 19

اصل الفاظ ہیں ھَلَکَ عَنِّی ْسُلطٰنِیَہْ۔ سلطان کا لفظ دلیل وحجت کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور اقتدار کے لیے بھی۔ اگر اُسے دلیل وحُجت کے معنی میں لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ جو دلیل باز یاں میں کیا کرتا تھا وہ یہاں نہیں چل سکتیں ، میرے پاس اپنی صفائی میں پیش کرنے کے لیے اب کوئی حجت نہیں رہی۔ اور اقتدار کے معنی میں لیا جائے تو مراد یہ ہوگی کہ دنیا میں جس طاقت کے بل بوتے پر میں اکڑتا تھا وہ یہاں ختم ہو چکی ہے۔ اب یہاں کوئی میرا لشکر نہیں، کوئی میرا حکم ماننے والا نہیں، میں ایک بے بس اور لا چار بندے کی حیثیت  سے کھڑا ہوں جو اپنے دفاع کے لیے کچھ نہیں کر سکتا ۔

(69:30)

خُذُوْهُ فَغُلُّوْهُ 

(حکم ہو گا) پکڑو اِسے اور اِس کی گردن میں طوق ڈال دو

(69:31)

ثُمَّ الْجَحِیْمَ صَلُّوْهُ 

پھر اِسے جہنم میں جھونک دو

(69:32)

ثُمَّ فِیْ سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوْهُ ؕ

پھر اِس کو ستر ہاتھ لمبی زنجیر میں جکڑ دو

(69:33)

اِنَّهٗ كَانَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ الْعَظِیْمِ 

یہ نہ اللہ بزرگ و برتر پر ایمان لاتا تھا

(69:34)

وَلَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْكِیْنِ ؕ

اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا تھا۔20

حاشیہ نمبر: 20

یعنی  خود کسی غریب کو کھانا کھلانا تو درکنار ، کسی سے یہ کہنا بھی پسند نہ کرتا تھا کہ خدا کے بھوکے بندوں کو روٹی دے دو۔

(69:35)

فَلَیْسَ لَهُ الْیَوْمَ هٰهُنَا حَمِیْمٌ 

لہٰذا آج نہ یہاں اِس کا کوئی یار غم خوار ہے

(69:36)

وَّلَا طَعَامٌ اِلَّا مِنْ غِسْلِیْنٍ 

اور نہ زخموں کے دھوون کے سوا اِس کے لیے کوئی کھانا

(69:37)

لَّا یَاْكُلُهٗۤ اِلَّا الْخَاطِـُٔوْنَ 

جسے خطا کاروں کے سوا کوئی نہیں کھاتا

(69:38)

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُوْنَ 

پس نہیں،21 میں قسم کھاتا ہوں اُن چیزوں کی بھی جو تم دیکھتے ہو

حاشیہ نمبر: 21

یعنی تم لوگوں نے جو کچھ سمجھ رکھا ہے بات وہ نہیں ہے۔

(69:39)

وَمَا لَا تُبْصِرُوْنَ 

اور اُن کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے

(69:40)

اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْمٍ 

یہ ایک رسولِ کریم کا قول ہے،22

حاشیہ نمبر: 22

یہاں رسولِ کریم سے مراد محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور سورہ تکویر(آیت 19) میں اس سے مراد جبریل علیہ السلام ہیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ یہاں قرآن کو رسولِ کریم کا قول کہنے کے بعد فرمایا گیا ہے کہ یہ کسی شاعر یا کاہن کا قول نہیں ہے ، اور ظاہر  ہے کہ کفارِ مکہ  جبریل ؑ کو نہیں بلکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو شاعر اور کاہن کہتے تھے۔ بخلاف اس کےسورہ تکویر میں قرآن کو رسولِ کریم  کا قول کہنے کے بعد فرمایا گیا ہے کہ وہ رسول بڑی قوت والا ہے، صاحبِ عرش کے ہاں بلند مرتبہ رکھتا ہے، وہاں اس کی بات مانی جاتی ہے ، وہ امانت در ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کو روشن اُفق پر دیکھا ہے۔ قریب قریب یہی مضمون سورہ نجم آیات 5 تا 1۰ میں جبریل علیہ السلام کے متعلق بیان ہوا ہے۔           یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور جبریل کا قول کس معنی میں کہا گیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ لوگ اس کوحضور ؐ کی زبان سے اور حضور ؐ اسے جبریل ؑ کی زبان سے سُن رہے تھے، اس لیے ایک لحاظ سے یہ حضور ؐ  کا قول تھا اور وہ دوسرے لحاظ سے جبریل ؑ  کا قول، لیکن آگے چل کر یہ بات واضح کر دی گئی ہے کہ فی الاصل یہ رب العالمین کا نازل کردہ ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جبریل کی زبان سے ، اور لوگوں کےسامنے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے ادا ہورہا ہے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لفظ بھی اس حقیقت پر دلالت کر تا ہے کہ یہ ان دونوں کا اپنا کلام نہیں ہے بلکہ پیغام بر ہونے کی حیثیت سے انہوں نے اس کو پیغام بھیجنے والے کی طرف سے پیش کیا ہے۔

(69:41)

وَّمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ ؕ قَلِیْلًا مَّا تُؤْمِنُوْنَ 

کسی شاعر کا قول نہیں ہے ، تم لوگ کم ہی ایمان لاتے ہو۔23

حاشیہ نمبر: 23

”کم ہی ایمان لاتے ہو“کا ایک مطلب عربی محاورے کے مطابق یہ ہو سکتا ہے کہ تم ایمان نہیں لاتے ۔ اور دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ قرآن کو سُن کر کسی وقت تمہارا دل خود پکار اُٹھتا ہے کہ یہ انسانی کلام نہیں ہو سکتا ، مگر پھر تم اپنی ضدپر اڑ جاتے اور اس پر ایمان لانے سے انکار کر دیتے ہو۔

(69:42)

وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ ؕ

اور نہ یہ کسی کاہن کا قول ہے، تم لوگ کم ہی غور کرتے ہو

(69:43)

تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ 

یہ ربّ العالمین کی طرف سے نازل ہوا ہے۔24

حاشیہ نمبر: 24

”حاصلِ کلام یہ ہے کہ جو کچھ تمہیں نظر آتا ہے اور جو کچھ تم کو نظر نہیں آتا، اُس  سب کی قسم میں اس بات پر کھاتا ہوں کہ یہ  قرآن کسی شاعر یا کاہن کا کلام نہیں ہے بلکہ رب العالمین کا نازل کردہ ہے جو ایک ایسے رسول کی زبان سے ادا ہو رہا ہے جو کریم (نہایت معزز اور شریف)ہے۔ اب دیکھیے کہ یہ قسم کس  معنی میں کھائی گئی ہے۔ جو کچھ لوگوں کو نظر آ رہا تھا وہ یہ تھا کہ:           (1)اس کلام کو ایک ایسا شخص پیش کر رہا تھا جس کا شریف النفس ہونا مکہ کے معاشرے میں کسی سے چھپا ہوا نہ تھا۔ سب جانتے تھے کہ اخلاقی حیثیت سے یہ اُن کی قوم کا بہترین آدمی ہے۔ ایسے شخص سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی تھی کہ وہ اتنا بڑا جھوٹ لے کر اٹھ کھڑا ہو گا کہ خدا پر بُہتان باندھے اور اپنے دل دے ایک بات گھڑ کر اُسے خدا وندِ عالم کی طرف منسوب کر دے۔           (2)وہ یہ بھی علانیہ  دیکھ رہے تھے کہ اس کلام کو پیش کرنے میں اپنا کوئی ذاتی مفاد اُس شخص کے پیشِ نظر نہیں ہے، بلکہ یہ کام کر کے تو اُس نے اپنے مفاد کو قربان کر دیا ہے۔ اپنی تجارت کو برباد کیا۔ اپنے عیش و آرام کو تَج دیا۔ جس معاشرے میں اسے سر آنکھوں پر بٹھا یا جاتا تھا، اُسی میں گالیاں کھانے لگا۔ اور نہ صرف خود بلکہ اپنے بال بچوں تک کو ہر قسم کے مصائب میں مبتلا کر لیا۔ ذاتی مفاد کا خواہشمند ان کانٹوں میں اپنے آپ کو کیوں  گھسیٹتا؟           (3)اُن کی آنکھیں یہ بھی دیکھ رہی تھیں کہ اُنہی کے معاشرے میں سے جو لوگ اُس شخص پر ایمان لا رہے تھے ان کی زندگی میں یک لخت ایک انقلاب بر پا ہو جاتا تھا۔ کسی شاعر یا کاہن کے کلام میں یہ تاثیر آخر کب دیکھی گئی ہے کہ وہ لوگوں میں ایسی زبردست اخلاقی تبدیلی پیدا کر دے اور اس کے ماننے والے اُس کی خاطر ہر طرح کے مصائب و آلام برداشت کرنے کے لیے تیار ہو جائیں؟           (4)اُن سے یہ بات بھی چھپی ہوئی نہ تھی کہ شعر کی زبان کیا ہوتی ہے اور کاہنوں کا کلام کیسا ہوتا ہے۔ ایک ہٹ دھرم آدمی کے سوا کون یہ کہہ سکتا تھا کہ قرآن کی زبان شاعری یا کہانت کی زبان ہے(اس پر مفصل بحث ہم تفہیم القرآن ، جلد سوم، الانبیاء، حاشیہ 7۔ جلد چہارم، الشعراء، حواشی 142 تا145۔ اور جلد پنجم، الطور حاشیہ 22 میں کر چکے ہیں۔           (5)یہ بات بھی اُن کی نگاہوں کےسامنے تھی کہ پورے عرب میں کوئی شخص ایسا فصیح و بلیغ نہ تھا جس کا کلام قرآن کے مقابلے میں لایا جا سکتا ہو۔ اُس کے برابر تو درکنار ، اس کے قریب تک کسی کی فصاحت و بلاغت نہیں پہنچتی تھی۔           (۶)ان سے یہ بات بھی پوشیدہ نہ تھی کہ خود محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان بھی اپنی ادبی شان کے لحاظ سے قرآن کی ادبی شان بہت مختلف تھی۔ کوئی اہل زبان حضور ؐ کی اپنی تقریر ، اور قرآن کو سُن کر یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ دونوں ایک ہی شخص کے کلام ہیں۔           (7)قرآن جن مضامین اور علوم پر مشتمل تھا، دعوائے نبوت سے ایک دن پہلے تک بھی مکہ کے لوگوں نے کبھی وہ باتیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے نہ سنی تھیں، او وہ یہ بھی جانتے تھے کہ ان معلومات کے حصول کا کوئی ذریعہ آپ کے پاس نہیں ہے ۔ اسی وجہ سے آپ کے مخالفین اگر یہ الزامات لگاتے   بھی تھےکہ آپ کہیں سے خفیہ طریقے پر یہ معلومات حاصل کرتے ہیں تو مکہ میں کوئی شخص اُن کو باور کرنے کے لیے تیار نہ ہوتا تھا(اس کی تشریح ہم تفہیم القرآن جلد دوم، النحل حاشیہ 1۰7، اور جلد سوم، الفرقان، حاشیہ12 میں کر چکے ہیں)۔           (8)زمین سے لے کر آسمان تک اس عظیم الشان کارخانہ ہستی کو بھی وہ اپنی آنکھوں سے چلتا ہوا دیکھ رہےتھے جس میں ایک زبردست حکیمانہ قانون اور ہمہ گیر نظم و ضبط کا ر فرما نظر آرہا تھا۔ اس کے اندر کہیں اُس شرک اور انکارِ آخرت کے لیے کوئی شہادت نہیں پائی جاتی تھی جس کے اہلِ عرب معتقد تھے، بلکہ ہر طرف توحید اور آخرت ہی کی صداقت کے شواہد ملتے تھے جسے قرآن پیش کر رہا تھا۔           یہ سب کچھ تو دیکھ رہے تھے۔ اور جو کچھ وہ نہیں دیکھ رہے تھے وہ یہ تھا کہ فی الواقع اللہ تعالیٰ ہی اس کائنات کا خالق و مالک اور فرمانروا ہے، کائنات میں سب بندے ہی بندے ہیں، خدا اُس کے سوا کوئی نہیں ہے، قیامت ضرور برپا ہونے والی ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو واقعی اللہ تعالیٰ ہی نے اپنا رسول مقرر کیا ہے، اور اُن پر اللہ ہی کی طرف سے یہ قرآن نازل ہو رہا ہے ۔ ان دونوں قسم کے حقائق کی قسم کھا کر وہ بات کہی گئی ہے جو اوپر کی آیا ت میں ارشاد ہوئی ہے۔

(69:44)

وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیْلِ 

اور اگر اس (نبی) نے خود گھڑ کر کوئی بات ہماری طرف منسوب کی ہوتی

(69:45)

لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْیَمِیْنِ 

تو ہم اِس کا دایاں ہاتھ پکڑ لیتے

(69:46)

ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِیْنَ ؗ

اور اِس کی رگ گردن کاٹ ڈالتے

(69:47)

فَمَا مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ عَنْهُ حٰجِزِیْنَ 

پھر تم میں سے کوئی (ہمیں) اِس کام سے روکنے والا نہ ہوتا۔25

حاشیہ نمبر: 25

اصل مقصود یہ بتانا ہے کہ نبی کو اپنی طرف سے وحی میں کوئی کمی بیشی کر نے کا اختیار نہیں ہے، اور اگر وہ ایسا کرے تو ہم اس کو سخت سزا دیں۔ مگر اس بات کو ایسے انداز سے بیان کیا گیا ہے جس سے آنکھوں کے سامنے یہ تصویر کھینچ جاتی ہے کہ ایک بادشاہ کا مقرر کردہ افسر اُس کے نام سے کوئی جعلسازی کرے توبادشاہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اُس کا سر قلم کر دے۔ بعض لوگوں نے اس آیت سے یہ غلط استدلال کیا ہے کہ جو شخص بھی نبوت کا دعوٰی کرے، اُس کی رگِ دل یا رگِ گردن اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے فوراً نہ کاٹ ڈالی جائے تو یہ اُس کے نبی ہونے کا ثبوت ہے۔ حالانکہ اس آیت میں جو بات فرمائی گئی ہے وہ سچے نبی کے بارے میں ہے، نبوت کے جھوٹے مدعیوں کے بارے میں نہیں ہے ۔ جھوٹے مدعی تو نبوت ہی نہیں خدائی تک کے دعوتے کرتے ہیں اور زمین پر مدتّوں دندناتے پھرتے ہیں۔ یہ اُن کی صداقت کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ اس مسئلے پر مفصل بحث ہم تفہیم القرآن، جلد دوم، تفسیر سورہ یونس حاشیہ 23 میں کر چکے ہیں۔

(69:48)

وَاِنَّهٗ لَتَذْكِرَةٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ 

درحقیقت یہ پرہیز گار لوگوں کے لیے ایک نصیحت ہے۔26

حاشیہ نمبر: 26

یعنی قرآن اُن لوگوں کے لیے نصیحت ہے جو غلط روی اور اُس کے بُرے نتائج سے بچنا چاہتے ہیں (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، البقرہ، حاشیہ3)۔

(69:49)

وَاِنَّا لَنَعْلَمُ اَنَّ مِنْكُمْ مُّكَذِّبِیْنَ 

اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے کچھ لوگ جھٹلانے والے ہیں

(69:50)

وَاِنَّهٗ لَحَسْرَةٌ عَلَی الْكٰفِرِیْنَ 

ایسے کافروں کے لیے یقیناً یہ موجبِ حسرت ہے۔27

حاشیہ نمبر: 27

یعنی آخر کار انہیں اس بات پر پچھتا نا پڑے گا  کہ انہوں نے کیوں اس قرآن کی تکذیب کی۔

(69:51)

وَاِنَّهٗ لَحَقُّ الْیَقِیْنِ 

اور یہ بالکل یقینی حق ہے

(69:52)

فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ 

پس اے نبیؐ، اپنے رب عظیم کے نام کی تسبیح کرو

Read Maududi
Read • Reflect • Reform

Your Complete Learning App

A complete experience—reading, tafseer, audio, and more, all in one app. Available on iOS and Android.

Get the app

Frequently asked questions FAQs

Yes, you can download content and access it anytime without an internet connection.