Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Al-Qalam

سورة القلم

(68:1)

نٓ وَالْقَلَمِ وَمَا یَسْطُرُوْنَ 

ن۔ قسم ہے قلم کی اور اُس چیز کی جسے لکھنے والے لکھ رہے ہیں،1

حاشیہ نمبر: 1

امام تفسیر مُجاہد کہتے کہ قلم سے مراد وہ قلم ہے جس سے ذکر، یعنی قرآن لکھا جا رہا تھا۔ اِس سے خود بخود یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ وہ چیز جو لکھی جا رہی تھی اُس سے مراد قرآن مجید ہے۔

(68:2)

مَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُوْنٍ 

تم اپنے ربّ کے فضل سے مجنون نہیں ہو۔2

حاشیہ نمبر: 2

یہ ہے وہ بات جس پر قلم اور کتاب کی قسم کھائی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ قرآن جا کا تبین وحی ے ہاتھوں سے ثبت ہورہا ہے ، بجائے خود کفار کے اس بہتا ن کی تردید  کے لیے کافی ہے کہ معاذ اللہ  رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجنون ہیں۔ حضورؐ کے دعوائے نبوت سے پہلے تو اہلِ مکہ آپ  کو اپنی قوم کا بہترین آدمی مانتے تھے اور آپ کی دیانت  و امانت اور عقل و فراست ہر اعتماد  رکھتے تھے ۔ مگر جب آپ نے اُن کے سامنے قرآن  پیش کرنا شروع کیا تو وہ آپ کو دیوانہ قرار دینے لگے۔ اس کے معنی یہ تھے کہ قرآن ہی اُن کے نزدیک وہ سبب تھا جس کی بنا پر اُنہوں نے آپ پر دیوانگی کی تہمت لگائی۔ اس لیے فرمایا گیا کہ قرآن ہی اِس تُہمت کی تردید کے لیے کافی ثبوت ہے ۔ یہ اعلیٰ درجہ کا فصیح و بلیغ کلام، جو ایسے بلند پایہ مضامین پر مشتمل ہے، اِ س کا پیش کرنا تو اس بات کی دلیل ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ کا خاص فصل ہوا ہے، کجا کہ اسے اس امر کی دلیل بنا یا جائے کہ آپ معاذ اللہ دیوانے ہوگئے  ہیں۔ اس مقام پر بات نگاہ میں رہنی چاہیے کہ یہاں خطاب تو بظاہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے، لیکن اصل مقصود و کفار کو ان کی تُہمت کا جواب دینا ہے۔ لہٰذا کسی شخص کو یہ شبہ نہ ہو کہ یہ آیت حضورؐ کو یہ اطمینان دلانے کے لیے نازل ہوئی ہے کہ آپ مجنون نہیں ہیں۔ ظاہر ہے کہ حضورؐ کو اپنے متعلق تو ایسا کوئی شبہ نہ تھا کہ اسے دُور کرنے کے لیے آپ کو یہ اطمینان دلانے کی ضروت ہوتی۔ مدعا کفار سے یہ کہنا ہے کہ تم جس قرآن کی وجہ سے اُس کے پیش کرنے والے کو مجنون کہہ رہے ہو وہی تمہارے اس الزام کے جھوٹے ہونے کی دلیل ہے ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد پنجم، تفسیر سورہ طور، حاشیہ22)۔

(68:3)

وَاِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَیْرَ مَمْنُوْنٍ 

اور یقیناً تمہارے لیے ایسا اجر ہے جس کا سلسلہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔3

حاشیہ نمبر: 3

یعنی آپ کے لیے اِس بات پر بے حساب اور لازوال اجر ہے کہ آپ خلقِ خدا کی ہدایت کے لیے جو کوششیں کر رہے ہیں اُن کے جواب میں آپ کو ایسی ایسی اذیت ناک باتیں سُننی پڑ رہی ہیں اور پھر بھی آپ اپنے اِس فرض کو انجام دیے چلے جا رہے ہیں۔

(68:4)

وَاِنَّكَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ 

اور بےشک تم اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہو۔4

حاشیہ نمبر: 4

اس مقام پر یہ فقرہ دو معنی دے رہا ہے ۔ ایک یہ کہ آپ اخلاق کے بہت بلند مرتبے پر فائز ہیں اسی وجہ سے آپ ہدایتِ خلق کے کام میں یہ اذیتیں بر داشت کر رہے ہیں، ورنہ ایک کمزور اخلاق کا انسان یہ کام نہیں کر سکتا تھا۔ دوسرے یہ کہ قرآن کے علاوہ آپ کے بلند اخلاق بھی اس بات کا صریح ثبوت ہیں کہ کفار آپ  پر دیوانگی کی جو تُہمت رکھ رہے ہیں وہ سراسر جھوٹی ہے ، کیونکہ اخلاق کی بلندی اور دیوانگی ، دونوں ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں۔ دیوانہ وہ شخص ہوتا ہے جس کا ذہنی توازُن بگڑا ہوا ہو اور جس کے مزاج میں اعتدال باقی نہ رہا ہو۔ اس کے بر عکس آدمی کے بلند اخلاق اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ وہ نہایت صحیح الدماغ اور  سلیم الفطرت ہے اور اُس کا ذہن اور مزاج غایت درجہ مُتوازن ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق جیسے کچھ تھے، اہلِ مکہ اُن سے  نا واقف نہ تھے۔ اس لیے اُن کی طرف محض اشار ہ کر دینا ہی اِ س بات کے لیے کافی تھا کہ مکہ کا ہر معقول آدمی یہ سوچنے پر مجبور ہو جائے کہ وہ لوگ کس قدر بےشرم ہیں جو ایسے بلند اخلاق آدمی کو مجنون کہہ رہے ہیں۔ اُن کی یہ بیہودگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نہیں بلکہ خود اُن کے لیے نقصان دہ تھی کہ مخالفت کے جوش میں پاگل ہو کر وہ آپ کے متعلق ایسی بات کہہ رہے تھے جسے کوئی ذی فہم آدمی قابل تصور نہ مان سکتا تھا۔ یہی  معاملہ اُن مدعیانِ علم و تحقیق کا بھی ہے جو اِس زمانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مِرگی اور جنون کی تہمت رکھ رہے ہیں۔ قرآن پاک دنیا میں ہر جگہ مل سکتا ہے، اور حضور کی سیرت بھی اپنی تمام تفصیلات کے ساتھ لکھی ہوئی موجود ہے ۔ ہر شخص خود دیکھ سکتا ہے کہ جو لوگ اِس بے مثل کتاب کے پیش کرنے والے اور ایسے بلند اخلاق اکھنے والے انسان کو ذہنی مریض قرار دیتے ہیں وہ عداوت کے اندھے جذبے سے مغلوب ہو کر کیسی لغو بات کہہ رہے ہیں۔           رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کی بہترین تعریف حضرت عائشہؓ نے اپنے اس قول میں فرمائی ہے کہ کان خلقہ القراٰن۔ ”قرآن آپ کا اخلاق تھا“۔امام احمد، مسلم ،ابو داؤد، نسائی،ابن ماجہ،دارمی، اور ابن جریر نے تھوڑے سے لفظی اختلاف کے ساتھ اُن کا یہ قول متعدد سندوں سے نقل کی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے سامنے  محض قرآن کی تعلیم ہی پیش نہیں کی تھی بلکہ خود اس کا مجسم نمونہ بن کر دکھادیا تھا۔ جس  چیز کا قرآن میں حکم دیا گیا آپ ؐ نے خود سب سے بڑھ کر اس پر عمل کیا، جس چیز سے اس میں روکا گیا آپ نے خود سب سے زیادہ اُس سے اجتناب فرمایا، جن اخلاقی صفات کو اس میں فضیلت قرار دیا گیا سب سے بڑھ کر آپ کی ذات اُن سے متصف تھی، اور جن صفات کو اس میں نا پسندیدہ ٹھیرا یا گیا سب سے زیادہ آپ اُن سے پاک تھے۔ ایک اور روایت میں حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی خادم کونہیں مارا ، کبھی کسی عورت پر ہاتھ نہ اُٹھایا، جہاد فی سبیل اللہ کے سوا کبھی آپ نے اپنے ہاتھ سے کسی کو نہیں مارا، اپنی ذات کے لیے کبھی کسی ایسی تکلیف کا انتقام نہیں لیا جو آپ کو پہنچائی گئی ہو الّا یہ کہ اللہ کی حُرمتوں کو توڑا گیا ہو اور آپ نے اللہ کی خاطر اُس کا بدلہ لیا ہو، اور آپ کا طریقہ یہ تھا کہ جب دوکوموں میں سے ایک کا آپ کو انتخاب کرنا ہوتا تو آپ آسان تر کام کو پسند فرماتے تھے، الّا یہ کہ وہ گناہ ہو، اور اگر کوئی کام گناہ ہوتا تو آپ سب سے زیادہ دور رہتے تھے“(مسند احمد)۔حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ”میں نے دس سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ہے ۔ آپ نے کبھی میری کسی بات پر اُف تک نہ کی، کبھی میرے کسی کام پر یہ نہ فرمایا  کہ تو نے  یہ کیوں کیا، اور کبھی کسی کام کے نہ کرنے پر یہ نہیں فرمایا کہ تو نے یہ کیوں نہ کیا“۔(بخاری ومسلم)۔  

(68:5)

فَسَتُبْصِرُ وَیُبْصِرُوْنَ 

عنقریب تم بھی دیکھ لو گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے

(68:6)

بِاَیِّىكُمُ الْمَفْتُوْنُ 

کہ تم میں سے کون جنون میں مبتلا ہے

(68:7)

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ ۪ وَهُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ 

تمہارا رب اُن لوگوں کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں، اور وہی ان کو بھی اچھی طرح جانتا ہے جو راہ راست پر ہیں

(68:8)

فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِیْنَ 

لہٰذا تم اِن جھٹلانے والوں کے دباؤ میں ہرگز نہ آؤ

(68:9)

وَدُّوْا لَوْ تُدْهِنُ فَیُدْهِنُوْنَ 

یہ تو چاہتے ہیں کہ کچھ تم مداہنت کرو  تو یہ بھی مداہنت کریں۔5

حاشیہ نمبر: 5

یعنی تم اسلام کی تبلیغ میں کچھ ڈھیلے پڑ جاؤ تو یہ بھی تمہاری مخالفت میں کچھ نرمی اختیار کر لیں، یا تم ان کی گمرائیوں کی رعایت کر کے اپنے دین میں کچھ ترمیم کرنے پر آمادہ  ہو جاؤ تو یہ تمہارے ساتھ مصالحت کرلیں۔

(68:10)

وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِیْنٍ 

ہر گز نہ دبو کسی ایسے شخص سے جو بہت قسمیں کھانے والا بے وقعت آدمی ہے،6

حاشیہ نمبر: 6

اصل میں لفظ مَھِیْن استعمال ہوا ہے  جو  حقیر و ذلیل اور گھٹیا آدمی کے لیے بولا جاتا ہے۔ درحقیقت یہ بہت قسمیں کھانے والے آدمی کی لازمی صفت ہے۔وہ بات بات پر اس لیے قسم کھاتا ہے کہ اُسے خود یہ احساس ہوتا ہے کہ لوگ اسے جھوٹا سمجھتے ہیں اور اس کی اس بات پر اُ س وقت تک یقین نہیں کریں گے جب تک وہ قسم نہ کھائے۔ اس بنا پر وہ اپنی نگاہ میں خود بھی ذلیل ہوتا ہے اور معاشرے میں بھی اس کی کوئی وقعت نہیں ہوتی۔

(68:11)

هَمَّازٍ مَّشَّآءٍ بِنَمِیْمٍ 

طعنے دیتا ہے، چغلیاں کھاتا پھرتا ہے

(68:12)

مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍ 

بھلائی سے روکتا ہے،7 ظلم و زیادتی میں حد سے گزر جانے والا ہے، سخت بد اعمال ہے، جفا کار ہے،8

حاشیہ نمبر: 7

اصل میں مَنَّاعٍ لِلْخَیْر کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ خیر عربی زبان میں مال کو بھی کہتے ہیں اور بھلائی کو بھی ۔ اگر اس کو مال  کے معنی میں لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ وہ سخت بخیل اور کنجوس آدمی ہے، کسی کو پھوٹی کوڑی دینے کا بھِ روادار نہیں ۔ اور اگر خیر کو نیکی اور بھلائی کے معنی میں لیا جائے تو اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ ہر نیک کام میں رکاوٹ ڈالتا ہے، اور یہ بھی کہ وہ اسلام  سے لوگوں کو روکنے میں بہت سرگرم ہے۔

حاشیہ نمبر: 8

 اصل میں لفظ عُتُل استعمال ہوا ہے جو عربی زبان میں ا یسے شخص کے لیے بولا جاتا ہے جو خوب ہٹاکٹا اور بہت کھانے پینے والا ہو، اور اس کے ساتھ نہایت بُد خُلق، جھگڑلو اور سفّاک ہو۔

(68:13)

عُتُلٍّ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِیْمٍ 

اور اِن سب عیوب کے ساتھ  بد اصل ہے،9

حاشیہ نمبر: 9

اصل میں لفظ زَنِیْم استعمال ہوا ہے ۔ کلامِ عرب میں یہ لفظ  اُس ولدالزنا کے لیے  بولا جاتا ہے جو دراصل ایک خاندان کافر ونہ ہو مگر اس میں شامل ہوگیا ہو۔ سعید بن جُبَیر ا ور شعبی کہتے ہیں کہ یہ لفظ اُس شخص کے لیےبھی بولا جاتا ہے جو لوگوں میں اپنے شر کی وجہ سے معروف و مشہور ہو۔            اِن آیت میں جس شخص کے یہ اوصاف بیان کیے گئے ہیں اُس کےبارے میں مفسرین کے اقوال مختلف ہیں۔ کسی نے کہا ہےکہ یہ شخص وَلید بن مغیرہ تھا۔ کسی نے اَسْود بن عَبدِ لَغُیوث کا نام لیا ہے ۔ کسی نے اَخْنَس بن شُرَیق کو اس کا مصداق ٹھیرا یا ہے ۔ اور بعض لوگوں نے کچھ دوسرے اشخاص کی نشاندہی کی ہے ۔ لیکن قرآن مجید میں نام لیے بغیر صرف اُس کے اوصاف بیان کر دیے گئے ہیں۔ اِس سے معلو م ہوتا ہے کہ مکہ میں وہ اپنے اِن اوصاف کے لیے اتنا مشہور تھا کہ اس کانام لینے کی ضرورت نہ تھی۔ اس کی یہ صفات سنتے ہی ہر شخص سمجھ سکتا تھا کہ اشارہ کس کی طرف ہے۔

(68:14)

اَنْ كَانَ ذَا مَالٍ وَّبَنِیْنَ ؕ

اِس بنا پر کہ وہ بہت مال و اولاد رکھتا ہے۔10

حاشیہ نمبر: 10

اس فقرے کا تعلق اُوپر کے سلسلہ کلام سے بھی ہوسکتا ہے اور بعد کے فقرے سے بھی ۔ پہلی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ ایسے آدمی کو دھونس اس بنا پر قبول نہ کرو کہ وہ بہت مال اولاد رکھتا ہے۔ دوسری صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ بہت مال اولاد والا ہونے کی بنا پر وہ مغرور ہو گیا ہے، جب ہماری آیات اُس کو سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ اگلے وقتوں کے افسانے ہیں۔

(68:15)

اِذَا تُتْلٰی عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ 

جب ہماری آیات اُس کو سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ تو اگلے وقتوں کے افسانے ہیں

(68:16)

سَنَسِمُهٗ عَلَی الْخُرْطُوْمِ 

عنقریب ہم اُس کی سُونڈ پر داغ لگائیں گے۔11

حاشیہ نمبر: 11

چونکہ وہ اپنے آپ کو بڑی ناک والا سمجھتا تھا اس لیے اس کی ناک کو سونڈ کہا گیا ہے۔ اور ناک پر داغ لگانے سے مراد تذلیل  ہے۔ یعنی ہم دنیا اور آخرت میں اس کو ایسا ذلیل و خوار کریں گے کہ ابدتک یہ عار اس کا پیچھا نہ چھوڑے گا۔

(68:17)

اِنَّا بَلَوْنٰهُمْ كَمَا بَلَوْنَاۤ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اِذْ اَقْسَمُوْا لَیَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِیْنَ 

ہم نے اِن (اہلِ مکّہ)کو اُسی طرح آزمائش میں ڈالا ہے جس طرح ایک باغ کے مالکوں کو آزمائش  میں ڈالا تھا،12 جب اُنہوں نے قسم کھائی کے صبح و سویرے  ضرور اپنے باغ کے پھل توڑیں گے

حاشیہ نمبر: 12

چونکہ وہ اپنے آپ کو بڑی ناک والا سمجھتا تھا اس لیے اس کی ناک کو سونڈ کہا گیا ہے۔ اور ناک پر داغ لگانے سے مراد تذلیل  ہے۔ یعنی ہم دنیا اور آخرت میں اس کو ایسا ذلیل و خوار کریں گے کہ ابدتک یہ عار اس کا پیچھا نہ چھوڑے گا۔

(68:18)

وَلَا یَسْتَثْنُوْنَ 

اور وہ کوئی استثناء نہیں کر رہے تھے۔13

حاشیہ نمبر: 13

یعنی انہیں اپنی قدرت اور اپنی اختیار پر ایسا بھروسہ تھا کہ قسم کھا کر بے تکلّف کہہ دیا کہ ہم ضرور کل اپنے باغ کے پھل توڑیں گے اور یہ کہنے کی کوئی ضرورت وہ محسوس نہیں کرتے تھے کہ اگر اللہ نے چاہا تو ہم یہ کام کریں گے۔

(68:19)

فَطَافَ عَلَیْهَا طَآىِٕفٌ مِّنْ رَّبِّكَ وَهُمْ نَآىِٕمُوْنَ 

رات کو وہ سوئے پڑے تھے کہ تمہارے رب کی طرف سے ایک بلا اس باغ پر پھر گئی

(68:20)

فَاَصْبَحَتْ كَالصَّرِیْمِ 

اور اُس کا حال ایسا ہو گیا جیسے کٹی ہوئی فصل ہو

(68:21)

فَتَنَادَوْا مُصْبِحِیْنَ 

صبح اُن لوگوں نے ایک دوسرے کو پکارا

(68:22)

اَنِ اغْدُوْا عَلٰی حَرْثِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰرِمِیْنَ 

کہ اگر پھل توڑنے ہیں تو سویرے سویرے  اپنی کھیتی کی طرف نکل چلو۔14

حاشیہ نمبر: 14

کھیتی کالفظ غالباً اس لیے استعمال کیا گیا ہے کہ باغ میں درختوں کے درمیان کھیت بھی تھے۔

(68:23)

فَانْطَلَقُوْا وَهُمْ یَتَخَافَتُوْنَ 

چنانچہ وہ چل پڑے اور آپس میں چپکے چپکے کہتے جاتے تھے

(68:24)

اَنْ لَّا یَدْخُلَنَّهَا الْیَوْمَ عَلَیْكُمْ مِّسْكِیْنٌ 

کہ آج کوئی مسکین تمہارے پاس باغ میں نہ آنے پائے

(68:25)

وَّغَدَوْا عَلٰی حَرْدٍ قٰدِرِیْنَ 

وہ کچھ نہ دینے کا فیصلہ کیے ہوئے صبح سویرے جلدی جلدی15 اس طرح وہاں گئے جیسے کہ وہ (پھل توڑنے پر)قادر ہیں

حاشیہ نمبر: 15

اصل الفاظ ہیں عَلٰی حَرْد۔ عربی زبان میں روکنے اور نہ دینے کے لیے بھی بولا جاتا ہے، قصد اور طے شدہ فیصلے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، اور سُرعت کے معنی میں بھی متعمل ہے۔ اسی لیے ہم نے ترجمے میں تینوں معنوں کی رعایت ملحوظ رکھی ہے۔

(68:26)

فَلَمَّا رَاَوْهَا قَالُوْۤا اِنَّا لَضَآلُّوْنَ 

مگر جب باغ کو دیکھا تو کہنے لگے "ہم راستہ بھول گئے ہیں

(68:27)

بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ 

نہیں، بلکہ ہم محروم رہ گئے۔“16

حاشیہ نمبر: 16

یعنی پہلے تو انہیں باغ کو دیکھ کر یقین نہ آیا کہ یہ انہی کا باغ ہے اور کہنے لگے شاید ہم راستہ بھول کر کسی اور جگہ نکل آئے ہیں، پھر جب غور کیا اور معلوم ہوا کہ یہ ان کا اپنا باغ ہی ہے تو چیخ اٹھے کہ ہماری قسمت پھوٹ گئی۔

(68:28)

قَالَ اَوْسَطُهُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ لَوْلَا تُسَبِّحُوْنَ 

اُن میں جو سب سے بہتر آدمی تھا اُس نے کہا”میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم تسبیح  کیوں نہیں کرتے؟“17

حاشیہ نمبر: 17

اس کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ قسم کھا کر کہہ رہے تھے کہ کل ہم اپنے باغ کے پھل توڑدیں گے اُس وقت اِس شخص نے ان کو تنبیہ کی تھی کہ تم خدا کو بھول گئے، ان شاء اللہ کیوں نہیں کہتے؟ مگر انہوں نے اس کی پروا نہ کی۔ پھر جب وہ مسکینوں کو کچھ نہ دینے کا فیصلہ کر رہے تھے اُس وقت بھی اس نے انہیں نصیحت کی کہ اللہ کو یاد کر و اور اس بُری نیت سے باز آجاؤ، مگر وہ اپنی بات پر جمے رہے۔

(68:29)

قَالُوْا سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ 

و ہ پکار اٹھے پاک ہے ہمارا رب، واقعی ہم گناہ گار تھے

(68:30)

فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰی بَعْضٍ یَّتَلَاوَمُوْنَ 

پھر اُن میں سے ہر ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگا۔18

حاشیہ نمبر: 18

یعنی ہر ایک نے دوسرے کو الزام دینا شروع کیا کہ اُس کے بہکانے سے ہم اِس خدا فراموشی اور بد نیتی میں مبتلا ہوئے۔

(68:31)

قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا طٰغِیْنَ 

آخر کو انہوں نے کہا "افسوس ہمارے حال پر، بے شک ہم سرکش ہو گئے تھے

(68:32)

عَسٰی رَبُّنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَنَا خَیْرًا مِّنْهَاۤ اِنَّاۤ اِلٰی رَبِّنَا رٰغِبُوْنَ 

بعید نہیں کہ ہمارا رب ہمیں بدلے میں اِس سے بہتر باغ عطا فرمائے، ہم اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں"

(68:33)

كَذٰلِكَ الْعَذَابُ ؕ وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ  لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ 

ایسا ہوتا ہے عذاب اور آخرت کا عذاب اِس سے بھی بڑا ہے، کاش یہ لوگ اِس کو جانتے

(68:34)

اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ 

19 یقیناً خدا ترس لوگوں کے لیے اُن کے ربّ  کے ہاں نعمت بھری جنّتیں ہیں

حاشیہ نمبر: 19

pمکّہ کہ بڑے بڑے سرادر مسلمانوں سے کہتے تھے کہ ہم کو یہ نعمتیں جو دنیا میں مل رہی ہیں ، یہ خدا کے ہاں ہمارے مقبول ہونے کی علامت ہیں، اور تم جس بد حالی میں مبتلا ہو یہ اِس بات کی دلیل ہے کہ تم خدا کے مغضوب ہو۔ لہٰذا اگر کوئی آخرت ہوئی بھی، جیسا کہ تم کہتے ہو، تو ہم وہاں بھی مزے کریں گے اور عذاب تم پر ہوگا نہ کہ ہم پر ۔ اس کا جواب اِن آیات میں دیا گیا ہے۔/p

(68:35)

اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ كَالْمُجْرِمِیْنَ ؕ

کیا ہم فرماں برداروں کا حال مجرموں کا سا کر دیں؟

(68:36)

مَا لَكُمْ ۥ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَ 

تم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، تم کیسے حکم لگاتے ہو؟20

حاشیہ نمبر: 20

یعنی یہ بات عقل کے خلاف ہے کہ خدا کا فرمانبردار اور مجرم میں تمیز نہ کرے۔ تمہاری سمجھ میں آخر کیسے یہ بات آتی ہے کہ کائنات کا خالق کوئی اندھا راجہ ہے جو یہ نہیں دیکھے گا کہ کن لوگوں  نے دنیا میں  اس کے احکام کی اطاعت کی اور بُرے کاموں سے پرہیز کیا، اور کون لوگ تھے جو اُس سے بے خوف ہو کر ہر طرح کے گناہ اور جرائم اور ظلم و ستم کرتے رہے؟ تم نے ایمان لانے والوں کی خستہ حالی اور اپنی خوشحالی تو دیکھ لی، مگر اپنے اور اُن کے  اخلاق و اعمال کا فرق نہیں دیکھا اور بے تکلف حکم لگا دیا کہ خدا کے ہاں اِن فرمانبرداروں کے ساتھ تو مجرموں کا سا معاملہ کیا جائے گا، اور تم جیسے مجرموں کو جنت عطا کر دی جائے گی۔

(68:37)

اَمْ لَكُمْ كِتٰبٌ فِیْهِ تَدْرُسُوْنَ 

کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے21 جس میں تم یہ پڑھتے ہو

حاشیہ نمبر: 21

یعنی اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی کتاب۔

(68:38)

اِنَّ لَكُمْ فِیْهِ لَمَا تَخَیَّرُوْنَ 

کہ تمہارے لیے ضرور وہاں وہی کچھ ہے جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو؟

(68:39)

اَمْ لَكُمْ اَیْمَانٌ عَلَیْنَا بَالِغَةٌ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَةِ اِنَّ لَكُمْ لَمَا تَحْكُمُوْنَ 

یا پھر کیا تمہارے لیے روز قیامت تک ہم پر کچھ عہد و پیمان ثابت ہیں کہ تمہیں وہی کچھ ملے گا جس کا تم حکم لگاؤ؟

(68:40)

سَلْهُمْ اَیُّهُمْ بِذٰلِكَ زَعِیْمٌ 

اِن سے پوچھو تم میں سے کون اِس کا ضامن ہے؟22

حاشیہ نمبر: 22

اصل میں لفظ زَعِیْم استعمال ہوا ہے ۔ کلامِ عرب میں زعیم اس شخص کو کہتے ہیں جو کفیل، یا ضامن یا کسی قوم کی طرف  سے بولنے والا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ تم میں سے کون آگے بڑھ کر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے اللہ سے تمہارے لیے ایسا کوئی عہدوپیمان لے رکھا ہے۔

(68:41)

اَمْ لَهُمْ شُرَكَآءُ فَلْیَاْتُوْا بِشُرَكَآىِٕهِمْ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَ 

یا پھر اِن کے ٹھہرائے ہوئے کچھ شریک ہیں(جنہوں نے اِس کا ذمّہ لیا ہو)؟ یہ بات ہے تو لائیں اپنے شریکوں کو اگر یہ سچے ہیں۔23

حاشیہ نمبر: 23

یعنی تم اپنے حق میں جو حکم لگا رہے ہو اس کے لیے سرے سے کوئی بنیاد نہیں ہے۔ یہ عقل کے بھی خلاف ہے۔ خدا کی کسی کتاب میں بھی تم یہ لکھا ہوانہیں دکھا سکتے۔ تم میں سے کوئی یہ دعویٰ بھی نہیں کر سکتا کہ اُس نے خدا سے ایسا کوئی عہد لے لیا ہے۔ اور جن کو تم  نے معبود بنا رکھا ہے اُن میں ے بھی کسی سے تم یہ شہادت نہیں دلوا سکتے  کہ خدا کے ہاں تمہیں جنت دلوادینے کا وہ ذمّہ لیتا ہے۔ پھر یہ غلط فہمی آخر تمہیں کہاں سے لاحق ہو گئی؟

(68:42)

یَوْمَ یُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّیُدْعَوْنَ اِلَی السُّجُوْدِ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ 

جس روز سخت وقت آپڑے گا24 اور لوگوں کو سجدہ کرنے کے لیے بلایا جائے گا  تو یہ لوگ سجدہ نہ کر سکیں گے

حاشیہ نمبر: 24

اصل الفاظ ہیں یَوْمَ یُکْشَفُ عَنْ سَاقٍ،”جس روز پنڈلی کھولی جائے گی“۔صحابہ اور تابعین کی ایک جماعت کہتی ہے کہ یہ الفاظ محاورے کے طور پر استعمال ہوئے ہیں۔ عربی محاورے کے مطابق سخت وقت آپڑنے کو کشفِ ساق سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس نے بھی اس کے یہی معنی بیان کیے ہیں اور ثبوت میں کلامِ عرب سے استشہاد کیا  ہے۔ ایک اور اقوال جو ابن عباس اور ربیع بن انس سے منقول ہے اس میں کشفِ ساق سے مراد حقائق پر سے پردہ اٹھانا لیا گیا ہے۔ اس تاویل کی رو سے معنی یہ ہوں گے کہ جس روز تمام حقیقتیں بے نقاب ہو جائیں گی اور لوگوں کے اعمال کھل کر سامنے آجائیں گے۔

(68:43)

خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ ؕ وَقَدْ كَانُوْا یُدْعَوْنَ اِلَی السُّجُوْدِ وَهُمْ سٰلِمُوْنَ 

اِن کی نگاہیں نیچی ہوں گی، ذِلّت اِن پر چھا رہی ہوگی۔ یہ جب صحیح و سالم تھے اُس وقت اِنہیں سجدے کے لیے بلایا جاتا تھا(اور یہ انکار کرتے تھے)۔25

حاشیہ نمبر: 25

اس کے معنی یہ ہیں کہ قیامت کے روز علی الاعلان اس بات کا مظاہرہ کرا یا جائے گا کہ دنیا میں کون اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والا تھا اور کون اُس سے منحرف تھا۔ اس غرض کے لیے لوگوں کو بلایا جائے گا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ بجا لائیں۔ جو لوگ دنیا میں عبادت گزارتھے وہ سجدہ ریز ہو جائیں گے ۔ اور جن لوگوں نے دنیا میں اللہ کے آگے سرِ نیاز جھکانے سے انکار کر دیا تھا  اُن کی کمر تختہ ہو جائے گی۔ اُن کے لیے یہ ممکن نہ ہوگا کہ وہاں عبادت گزار ہونے کا جھوٹا مظاہرہ کر سکیں۔ اس لیے وہ ذلّت اور پشیمانی کے ساتھ کھڑے کے کھڑے رہ جائیں گے۔

(68:44)

فَذَرْنِیْ وَمَنْ یُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِیْثِ ؕ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَ 

پس اے نبیؐ ، تم اِس کلام کے جھٹلانے والوں کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دو۔26 ہم ایسے طریقہ سے اِن کو بتدریج تباہی کی طرف لے جائیں گے کہ اِن کو خبر بھی نہ ہو گی۔27

حاشیہ نمبر: 26

یعنی ان سے نمٹنے کی فکر میں نہ پڑو۔ ان سے نمٹنا میرا کام ہے۔

حاشیہ نمبر: 27

بے خبری میں کسی کو تباہی کی طرف لے جانے کی صورت یہ ہے کہ ایک دشمن حق اور ظالم کو دنیا میں نعمتوں سے نوازا جائے، صحت ، مال ، اولاد اور دنیوی کامیابیاں عطا کی جائیں ، جن سے دھوکا کھا کر وہ سمجھے کہ میں جو کچھ کر رہا ہوں خوب کر رہا ہوں، میرے عمل میں کوئی غلطی نہیں ہے۔ اس طرح وہ حق دشمنی اور ظلم و طغیان میں زیادہ سے زیادہ غرق ہوتا چلا جاتا ہے اور نہیں سمجھتا کہ جو نعمتیں اسے مل رہی ہیں وہ انعام نہیں ہیں بلکہ درحقیقت یہ اس کی ہلاکت کا ساما ن ہے۔

(68:45)

وَاُمْلِیْ لَهُمْ ؕ اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ 

میں اِن کی رسّی دراز کر رہا ہوں ، میری چال28 بڑی زبردست ہے

حاشیہ نمبر: 28

اصل میں لفظ کَیْد استعمال ہوا ہے جس کے معنی کسی کے خلاف خفیہ تدبیر کرنے کے لیے ہیں۔ چیز صرف اُس صورت میں ایک بُرائی ہوتی ہے جب یہ ناحق کسی کو نقصان پہنچانے کے لیے ہو۔ ورنہ بجائے خود اِس میں کوئی برائی نہیں ہے،خصوصاً جب کیس ایسے شخص کے خلاف یہ طریقہ اختیار کی جائے جس نے اپنے آپ کو اس کا مستحق بنا لیا ہے۔

(68:46)

اَمْ تَسْـَٔلُهُمْ اَجْرًا فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَ 

کیا تم اِن سے کوئی اجر طلب کر رہے ہو کہ یہ اس چَٹّی کے بوجھ تلے دبے جارہے ہوں؟29

حاشیہ نمبر: 29

سوال بظاہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا جا رہا ہے ، مگر اصل مخاطب وہ لوگ ہیں جو آپ کی مخالفت میں حد سے گزرے جا رہے تھے۔ اُن سے پوچھا جا رہا ہے کہ کیا ہمارا سول تم سے کچھ مانگ رہا ہے کہ تم اس پر اتنا بگڑ رہے ہو؟ تم خود جانتے ہو کہ وہ ایک بے غرض آدمی ہے اور جو کچھ تمہارے سامنے پیش کر رہا ہے صرف اس لیے کر رہا ہے کہ اس کے نزدیک اسی میں تمہاری  بھلائی ہے ۔ تم نہیں ماننا چاہتے تو نہ مانو، مگر اِس تبلیغ پر آخر اتنے چراغ پاکیوں ہوئے جا رہے ہو؟(مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد پنجم، تفسیر سورہ طور، حاشیہ31)۔

(68:47)

اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَیْبُ فَهُمْ یَكْتُبُوْنَ 

کیا اِن کے پاس غیب کا علم ہے جسے یہ لکھ رہے ہوں؟30

حاشیہ نمبر: 30

یہ دوسرا سوال بھی بظاہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے مگر دراصل آپ کے مخالفین اس کے مخاطب ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ کیا تم لوگوں نے پردہ غیب کے پیچھے جھانک کر دیکھ لیا ہے کہ یہ رسول  فی الواقع خدا کا بھیجا ہوا رسول نہیں ہے اور جو حقیقتیں یہ تم سے بیان کر رہا ہے وہ بھی غلط ہیں، اس لیے تم اس کو جھٹلانے  میں اتنی شدت برت  رہے ہو؟( مزید تشریح  کے لیے ملاحظہ ہو  ، تفسیر سورہ طور، حاشیہ 32)۔

(68:48)

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ  اِذْ نَادٰی وَهُوَ مَكْظُوْمٌ ؕ

پس اپنے ربّ کا فیصلہ صادر ہونے تک صبر کرو31 اور مچھلی والے (یونسؑ)کی طرح نہ ہو جاوٴ،32 جب اُس نے پکارا تھا اور وہ غم سے بھرا ہو۱ تھا۔33

حاشیہ نمبر: 31

یعنی وہ وقت ابھی دور ہے جب اللہ تعالیٰ تمہاری فتح و نصرت اور تمہارے اِن مخالفین کی شکست کا فیصلہ فرمادے گا۔ اُس وقت کے آنے تک جو تکلیفیں اور مصیبتیں بھی اس دین کی تبلیغ میں پیش آئیں انہں صبر کے ساتھ براداشت کرتے چلے جاؤ۔

حاشیہ نمبر: 32

یعنی یونس علیہ السلام کی طرح بے صبری سے کام نہ لوجو اپنی بے صبری کی وجہ سے مچھلی کے پیٹ پہنچا دیے گئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا فیصلہ آنے تک صبر کی تلقین کرنے کے  بعد فوراً ہی یہ فرمانا کہ یونس علیہ السلام کی طرح نہ ہو جاؤ، خود بخود اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ انہوں نے اللہ کا فیصلہ آنے سے پہلے بے صبری سے کوئی کام کیا تھا جس کی بنا پر وہ عتاب کے مستحق ہو گئے تھے۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن،جلد دوم، یونس، آیت98،حاشیہ99۔جلدسو۔،الانبیاء، آیات87۔88۔ حواشی 82 تا 85 ۔ جلد چہارم ، الصّافات، آیات139تا 148، حواشی78 تا 85)۔

حاشیہ نمبر: 33

سورہ انبیاء میں اس کی تفصیل یہ بیان کی گئی ہے کہ مچھلی کے پیٹ اور سمندر کی تاریکیوں میں حضرت یونس علیہ السلام نے پکارا تھا لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰنَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ،"کوئی خدا نہیں تیری پاک ذات کے سوا، میں واقعی خطا وار ہوں"۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی فریاد سن لی اور ان کو غم سے نجات دی(آیات87۔88)۔

(68:49)

لَوْلَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَهُوَ مَذْمُوْمٌ 

اگر اس کے ربّ کی مہربانی اُس کے شاملِ حال نہ ہو جاتی تو وہ مذموُم ہو کر چَٹیل میدان میں پھینک دیا جاتا۔34

حاشیہ نمبر: 34

اس آیت کو سُورہ صافّات کی آیات 142 تا 14۶ کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جس وقت حضرت یونسؑ مچھلی کے پیٹ میں ڈالے گئے تھے اُس وقت تو وہ ملامت میں مبتلا تھے، لیکن جب انہوں نے اللہ کی تسبیح کی اور اپنے قصورکا اعتراف کا لیا تو اگرچہ وہ مچھلی کے پیٹ سے نکال کر بڑی سقیم حالت میں ایک چٹیل زمین پر پھینکے گئے، مگر وہ اُس وقت مذمت میں مبتلا نہ تھے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے اُس جگہ ایک بیلدار درخت اُگا دیا، تاکہ اُص کے پتّے ان پر سایہ بھی کریں اور وہ اس کے پھل سے بھوک اور تشنگی بھی دور کر سکیں۔

(68:50)

فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ 

آخرکار اُس کے رب نے اسے برگزیدہ فرما لیا اور اِسے صالح بندوں میں شامل کر دیا

(68:51)

وَاِنْ یَّكَادُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَیُزْلِقُوْنَكَ بِاَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَیَقُوْلُوْنَ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌ 

جب یہ کافر لوگ کلامِ نصیحت (قرآن)سُنتے ہیں تو تمہیں ایسی نظروں سے دیکھتے ہیں کہ  گویا تمہارے قدم اُکھاڑ دیں گے،35 اور کہتے ہیں کہ یہ ضرور دیوانہ ہے

حاشیہ نمبر: 35

یہ ایسا ہی ہے جیسے ہم اُردو میں کہتے ہیں کہ فلاں شخص نے اسے ایسی نظروں سے دیکھا  جیسے اُس کو کھا جائے گا۔ کفار مکہ کے اس جذبہ غیظ و غضب کی کیفیت سورہ بنی اسرائیل ، آیات73 تا77 میں بھی بیان ہوئی ہے۔

(68:52)

وَمَا هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ 

حالانکہ یہ تو سارے جہان والوں کے لیے ایک نصیحت ہے

Read Maududi
Read • Reflect • Reform

Your Complete Learning App

A complete experience—reading, tafseer, audio, and more, all in one app. Available on iOS and Android.

Get the app

Frequently asked questions FAQs

Yes, you can download content and access it anytime without an internet connection.