Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Al-Mulk

سورة الملك

(67:1)

تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ ؗ وَهُوَ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُ 

نہایت بزرگ و برتر ہے1 وہ جس کے ہاتھ میں کائنات کی سلطنت ہے،2 اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔3

حاشیہ نمبر: 1

تَبَا رَکَ برکت سے مبالغہ کا صیغہ ہے ۔ برکت میں رفعت و عظمت ، افزائش اور فراوانی ، دوام و ثبات اور کثرتِ خیرات و حَسَنات کے مفہومات شامل ہیں۔ اس سے جب مبالغہ کا صیغہ تَبَارَکَ بنایا جائے تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ وہ بے انتہا بزرگ و عظیم ہے ، اپنی ذات وصفات و افعال میں اپنے سوا ہر ایک سے بالا تر ہے، بے حد وحساب بھلائیوں کا فیضان اُس کی ذات سے ہو رہا ہے ، اور اُس کے کمالا ت لازوال ہیں(مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد دوم، الاعراف، حاشیہ 43۔جلد سوم، المومنون،حاشیہ14۔ الفرقان، حواشی1،9)

حاشیہ نمبر: 2

اَلْمُلْکُ کا لفظ چونکہ مطلقاً استعمال ہوا ہے اس لیے اسے کسی محدود معنوں میں نہیں لیا جا سکتا۔ لا محالہ اس سے مراد تمام موجودات ِ عالم پر شاہا نہ اقتدار ہی ہو سکتا ہے۔ اور اُس کے ہاتھ میں اقتدار ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ جسمانی ہاتھ رکھتا ہے ، بلکہ یہ لفظ محاورہ کے طور پر قبضہ کے معنی میں استعمال ہوا ے ۔ عربی کی طرح ہماری زبان  میں بھی جب یہ کہتے ہیں کہ اختیارات فلاں کے ہاتھ میں ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہی سارے اختیارات کا مالک ہے ، کسی دوسرے کا اس میں دخل نہیں ہے۔

حاشیہ نمبر: 3

یعنی وہ جو کچھ چاہے کر سکتا ہے ۔ کوئی چیز اُسے عاجز کرنے والی نہیں ہے کہ وہ کوئی کام کرنا چاہے اور نہ کر سکے۔

(67:2)

لَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ؕ وَهُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُ 

جس نے موت اور زندگی  کو ایجاد کیا تاکہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے،4 اور وہ زبردست بھی ہے اور درگزر فرمانے والا بھی۔5

حاشیہ نمبر: 4

یعنی دنیا میں انسانوں کے مرنے اور جینے کا یہ سلسلہ اُس نے اِس لیے شروع کیا ہے کہ اُن کا امتحان لے اور یہ دیکھنے کہ کس انسان کا عمل زیادہ بہتر ہے ۔ اس مختصر سے فقرے میں بہت سی حقیقتوں کا طرف اشارہ کر دیا گیا ہے۔ اول یہ کہ موت اور حیات اُسی کی طرف سے ہے ، کوئی دوسرا نہ زندگی بخشنے والا ہے  نہ موت دینے والا۔ دوسرے یہ کہ انسان جیسی ایک مخلوق، جسے نیکی اور بدی کرنے کی قدرت عطا  کی گئی ہے ، اُس کی نہ زندگی بے مقصد ہے نہ  موت۔ خالق نے اُسے یہاں امتحان کے لیے پیدا کیا ہے۔ زندگی اُس کے لیے امتحان کی مہلت ہے اور موت کے معنی یہ ہیں کہ اُس کے امتحان کا وقت ختم ہو گیا ۔ تیسرے یہ کہ اِسی امتحان کی غرض سے خالق نے ہر ایک کو عمل کا موقع دیا ہے تا کہ وہ دنیا میں کام کر کے اپنے اچھائی یا برائی کا اظہار کر سکے اور عملاً یہ دکھاوے کہ وہ کیسا انسان ہے ۔ چوتھے یہ کہ خالق ہی دراصل اِس بات کا فیصلہ کرنے والا ہے کہ کس کا علم اچھا ہے اور کس کا بُرا۔ اعمال کی اچھائی اور بُرائی کا معیار تجویز کرنا امتحان دینے والوں کا کام نہیں ہے بلکہ امتحان لینے والے کا کام ہے ۔ لہٰذا جو بھی امتحان میں کامیاب ہونا چاہے اُسے یہ معلوم کرنا ہو گا کہ ممتحن کے نزدیک محسن عمل کیا ہے۔ پانچواں نکتہ خود امتحان کے مفہوم میں پوشیدہ ہے اور وہ یہ کہ جس شخص کا جیسا عمل ہو گا اس کے مطابق اس کو جزا دی جائے گی، کیونکہ اگر جزا نہ ہو تو سرے سے امتحان لینے کے کوئی معنی ہی نہیں رہتے ۔

حاشیہ نمبر: 5

اس کے دو معنی ہیں اور دونوں ہی یہاں  مراد ہیں ۔ ایک یہ کہ وہ بے انتہا زبردست اور سب پر پوری طرح غالب ہونے کے باوجود اپنی مخلوق کے حق میں رحیم و غفور ہے، ظالم اور سخت گیر  نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ بُرے عمل کرنے والوں کو سزا دینے کی وہ پوری قدرت رکھتا ہے ، کسی میں  یہ طاقت نہیں کہ اُس کی سزا سے بچ سکے۔ مگر جو نادم ہو کر بُرائی سے باز آجائے اور معافی مانگ لے اس کے ساتھ وہ درگزر کا معاملہ کرنے والا ہے۔

(67:3)

الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا ؕ مَا تَرٰی فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ ؕ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرٰی مِنْ فُطُوْرٍ 

س نے تہ بر تہ سات آسمان بنائے۔6 تم رحمٰن کی تخلیق میں کسی قسم کی بے ربطی نہ پاوٴ گے۔7 پھر پلٹ کر دیکھو، کہیں تمہیں کوئی خلل نظر آتا ہے؟8

حاشیہ نمبر: 6

تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد اول ، البقرہ، حاشیہ34۔جلد دوم،الرعد،حاشیہ2۔1 الحجر، حاشیہ 8۔جلد سوم، الحج، حاشیہ 113۔ المومنون، حاشیہ 15۔ جلد چہارم، الصافات، حاشیہ 5 ۔ المومن، حاشیہ 9۰۔

حاشیہ نمبر: 7

اصل تَفاوُت کا لفظ استعمال ہوا ہے، جس کے معنی ہیں ، عدم تناسُب ۔ ایک چیز کا دوسری چیز سے میل نہ کھانا۔ اَنْمِل بے جُوڑ ہونا۔ پس اِس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ پُوری کائنات میں تم کہیں بد نظمی، بے تربیتی اور بے ربطی نہ پاؤ گے۔ اللہ کی پیدا کردہ اِس دنیا میں کو ئی چیز اَنْمِل بے جوڑ نہیں ہے۔ اس کے تمام اجزاء باہم مربوط ہیں اور ان میں کمال درجے کا تناسُب پایا جاتا ہے۔

حاشیہ نمبر: 8

”اصل میں لفظ فُطور استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں دراڑ، شگاف ، رخنہ، پھٹا ہواہونا ، ٹوٹا پھوٹا ہونا۔ مطلب یہ ہے کہ پُوری کائنات کی بندش ایسی چُست ہے ، اور زمین کے ایک ذرّے سے لے کر عظیم الشان کہکشانوں تک ہر چیز ایسی مربوط ہے کہ کہیں نظم ِ کائنات کا تسلسل نہیں ٹوٹتا۔ تم خواہ کتنی ہی جستجو کر لو، تمہیں اس میں کسی جگہ کوئی رخنہ نہیں مل سکتا(مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد پنجم، تفسیر سورہ ق، حاشیہ8)۔

(67:4)

ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّهُوَ حَسِیْرٌ 

بار بار نگاہ دوڑاؤ تمہاری نگاہ تھک کر نامراد پلٹ آئے گی

(67:5)

وَلَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَجَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَاَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ 

ہم نے تمہارے قریب کے آسمان9 کو عظیم الشان چراغوں سے آراستہ کیا ہے10 اور اُنہیں شیاطین کو مار بھگانے کا ذریعہ بنا دیا ہے۔11 اِن شیطانوں کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ ہم نے مہیّا کر رکھی ہے

حاشیہ نمبر: 9

قریب کے آسمان  سے مراد وہ آسمان ہے جس کے تاروں اور سیاروں کو ہم برہنہ آنکھوں سے دیکھتے  ہیں۔ اس سے آگے جن چیزوں کے مشاہدے کے لیے آلات کی ضرورت پیش آتی ہو وہ دُور کے آسمان ہیں۔ اور ان سے بھی زیادہ دُور کے آسمان وہ ہیں جس تک آلات کی رسائی  بھی نہیں ہے۔

حاشیہ نمبر: 10

اصل میں لفظ”مصابیح“نکرہ استعمال ہوا ہے ، اورا س کے نکرہ ہونے سے خود بخود ان چراغوں کے عظیم الشان ہونے کا مفہوم پیدا ہوتا ہے ۔ ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ کائنات ہم نے اندھیری اور سُنسان نہیں بنائی ہے بلکہ اسے ستاروں سے خوب مزین اور آراستہ کیا ہے جس کی شان اور جگمگاہٹ رات کے اندھیروں میں دیکھ کر انسان دنگ رہ جاتا ہے۔

حاشیہ نمبر: 11

اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہی تارے شیطانوں پر پھینک مارے جاتے ہیں، اور یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ شہاب ثاقب صرف شیطانوں کو مارنے ہی کے لیے گرتے ہیں،  بلکہ مطلب یہ ہے کہ تاروں سے جو بے حدو حساب شہابِ ثاقب نکل کر کائنات میں انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ گھومتے رہتے ہیں، اور جن کی بارش زمین پر بھی ہر وقت ہوتی رہتی ہے ، وہ اس امر میں مانع ہے کہ زمین کے شیاطین عالمِ بالا میں جا سکیں۔ اگر وہ اوپر جانے کی کوشش کریں بھی تو یہ شہاب انہیں مار بھگاتے ہیں۔ اس چیز کو بیان کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی ہے کہ عرب کے لوگ کاہنوں کے متعلق یہ خیال رکھتے تھے اور یہی خود کاہنوں کا دعوٰی بھی تھا، کہ شیاطین اُن کے تابع ہیں، یا شیاطین سے اُن کا رابطہ ہے  ، اور اُن کے ذریعہ سے اُنہیں غیب کی خبریں حاصل ہوتی ہیں اور وہ صحیح طور پر لوگوں کی قسمتوں کا حال بتا سکتے ہیں۔ اس لیے قرآن میں متعدد مقامات پر یہ بتایا گیا ہے کہ شیاطین کے عالمِ بالا میں جانے اور وہاں سے غیب کی خبریں معلوم کرنے کا قطعاً کوئی امکان نہیں ہے(تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد دوم،الحجر،حواشی9تا12۔جلد چہارم، الصافات، حواشی۶،7)۔           رہا یہ سوال کہ ان شہابوں کی حقیقت کیا ہے ، تو اس کے بارے میں انسان کی معلومات اس وقت تک کسی قطعی تحقیق سے قاصر ہیں۔ تاہم جس قدر بھی حقائق اور واقعات جدید ترین دور تک انسان کے علم میں آئے ہیں، اور زمین پر گرے ہوئے شہابیوں کے معائنے سے جو معلومات حاصل کی گئی ہیں، ان کی بنا ء پر سائنس دانوں میں سب سے زیادہ مقبول نظر یہ  یہی ہے کہ یہ شہابیے کسی سیارے کے انفجار کی بدولت نکل کر خلا میں گھومتے رہتے ہیں اور پھر کسی وقت زمین کی کشش کے دائرے  میں آکر  ادھر کا رُخ کر لیتے ہیں(ملاحظہ ہو انسائیکلو پیڈیا بر ٹا نیکا، ایڈیشن 19۶7؁۔ جلد 15۔لفظ(Meteorites )۔

(67:6)

وَلِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ ؕ وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ 

جن لوگوں نے اپنے ربّ سے کفر کیا ہے12 ان کے لیے جہنّم کا عذاب ہے اور وہ بہت ہی بُرا ٹھکانا ہے

حاشیہ نمبر: 12

یعنی انسان ہو ں، یا شیطان، جن لوگوں نے بھی اپنے رب سے کفر کیا ہے ان کا یہ انجام ہے (رب سے کفر کرنے کے مفہوم کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد اوّل، البقرہ، حاشیہ1۶1۔ النساء، حاشیہ 178۔ جلد سوم، الکہف، حاشیہ 39۔ جلد چہارم، المومن،  حاشیہ3)۔

(67:7)

اِذَاۤ اُلْقُوْا فِیْهَا سَمِعُوْا لَهَا شَهِیْقًا وَّهِیَ تَفُوْرُ 

جب وہ اُس میں پھینکے جائیں گے تو اس کے دَھاڑنے کی ہولناک آوازیں سُنیں گے13 اور وہ جوش کھا رہی ہوگی

حاشیہ نمبر: 13

اصل میں لفظ شھیق استعمال ہوا ہے جو گدھے کی سی آواز کے لیے بولا جاتا ہے ۔ اس فقرے کے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ خود جہنم کی آواز ہوگی، اور یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ یہ آواز جہنم سے آرہی ہو گی جہاں اُن لوگوں سے پہلے گرے ہوئے لوگ چیخیں مار رہے ہوں گے۔ اس دوسرے مفہوم کی تائید سورہ ہود ؑ کی آیات 1۰۶ سے ہوتی ہے جس میں فرمایا گیا ہے  کہ دوزخ میں یہ دوزخی لوگ”ہانپیں گے اور پُھنکارے ماریں گے“۔اور پہلے مفہوم کی تائید سورہ فرقان آیت 12 سے ہوتی ہے جس میں ارشاد ہوا ہے کہ دوزخ میں جاتے ہوئے یہ لوگ دور ہی سے اُس کے غضب اور جوش کی آوازیں سنیں گے۔ اس بنا پر صحیح یہ ہے کہ یہ شور خود جہنم کا بھی ہوگا اور جہنمیوں کا بھی۔

(67:8)

تَكَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ ؕ كُلَّمَاۤ اُلْقِیَ فِیْهَا فَوْجٌ سَاَلَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَذِیْرٌ 

شِدّتِ غضب سے پھٹی جاتی ہو گی۔ ہر بار جب کوئی انبوہ اس میں ڈالا جائے گا، اُس کے کارندے اُن لوگوں سے پوچھیں گے”کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا؟“14

حاشیہ نمبر: 14

اس سوال کی اصل نوعیت سوال کی نہیں ہوگی کہ جہنم کے کارندے ان لوگوں سے یہ معلوم کرنا چاہتے ہوں کہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خبر دار کرنے والا آیا تھا یا نہیں، بلکہ اس سے مقصود اُن کو اِ س بات کا قائل کرنا ہوگا کہ انہیں جہنم میں ڈال کر اُن کے ساتھ کوئی بے انصافی نہیں کی جا رہی ہے ۔ اس لیے وہ خود اُن کی زبان سے یہ اقرار کرانا چاہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کو بے خبر نہیں رکھا تھا، اُن کے پاس انبیاء بھیجے تھے، اُن کو بتا دیا تھا کہ حقیقت کیا ہے اور راہ ِ راست کونسی ہے، اور ان کو متنبہ کر دیا تھا کہ اس راہ راست کے خلاف چلنے کا نتیجہ اِسی جہنم کا ایندھن بننا ہوگا جس میں اب وہ جھونکے گئے ہیں، مگر انہوں نے انبیاء کی بات نہ مانی، لہٰذا اب جو سزااُنہیں دی جا رہی ہے وہ فی الواقع اس کے مستحق ہیں۔           یہ بات قرآن مجید میں بار بار ذہن نشین کرائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس امتحان کے لیے دنیا میں انسان کو بھیجا ہے وہ اِس طرح نہیں لیا جا رہا ہے کہ اُسے بالکل بے خبر رکھ کر یہ دیکھا جا رہا ہو کہ وہ خود راہِ راست پاتا ہے یا نہیں، بلکہ اُسے راہ ِ راست بتانے کا جو معقول ترین انتظام ممکن تھا وہ اللہ نے پوُری طرح کر دیا ہے، اورہوہ یہی انتظام ہے کہ انبیاء بھیجے گئے ہیں اور کتابیں نازل کی گئی ہیں۔ اب انسان کا سارا امتحان اِس امر میں ہے کہ وہ انبیاء علیہم السلام اور اُن کی لائی ہوئی کتابوں کو مان کر سیدھا راستہ اختیار کرتا ہے یا ان سے مُنہ مُوڑ کر خود اپنی خواہشات اور تخیّلات کے پیچھے چلتا ہے۔ اس طرح نبوت در حقیقت اللہ تعالیٰ کی وہ حُجّت ہے جو اس نے انسان پر قائم کر دی ہے ، اور اسی کے ماننے یا نہ ماننے پر انسان کے مستقبل کا انحصار ہے۔ انبیاء کے آنے کے بعد کوئی شخص یہ عذر پیش نہیں کر سکتا کہ ہم حقیقت سے آگاہ نہ تھے، ہمیں اندھیرے میں رکھ کر ہم کو اتنے بڑے امتحان میں ڈال دیا گیا، اور اب ہمیں بے قصور سزا دی جا رہی ہے ۔ اس مضمون کو اتنی بار اتنے مختلف طریقوں سے قرآن میں بیان کیا گیا ہے کہ اس کا شمار مشکل ہے۔ مثال کے طور پر حسبِ ذیل مقامات  ملاحظہ ہوں: تفہیم القرآن ، جلد اول، البقرہ، آیت213، حاشیہ23۰۔ النساء،آیات41۔42، حاشیہ۶4۔آیت1۶5، حاشیہ 2۰8۔ الانعام، آیات13۰۔131، حواشی98 تا 1۰۰۔ جلد دوم، بنی اسرائیل، آیت15،حاشیہ17۔جلد سوم،طٰہٰ، آیت134۔ القصص، آیت47، حاشیہ۶۶۔ آیت59، حاشیہ 83۔  آیت۶5۔جلد چہارم، فاطر، آیت37۔ المومن، آیت5۰،حاشیہ۶۶۔

(67:9)

قَالُوْا بَلٰی قَدْ جَآءَنَا نَذِیْرٌ ۬ فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ كَبِیْرٍ 

وہ جواب دیں گے”ہاں، خبردار کرنے والا ہمارے پاس آیا تھا ، مگر ہم نے اسے جھٹلا دیا  اور کہا اللہ نے کچھ بھی نازل نہیں کیا ہے، تم بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔“15

حاشیہ نمبر: 15

یعنی تم بھی بہکے ہوئے ہو اور تم پر ایمان لانے والے لوگ بھی سخت گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔

(67:10)

وَقَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِیْۤ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ 

اور وہ کہیں گے  ”کاش ہم سُنتے اور سمجھتے16 تو آج اِس بھَڑکتی ہوئی آگ کے سزا واروں میں نہ شامل ہوتے۔“

حاشیہ نمبر: 16

یعنی ہم نے طالبِ حق بن کر انبیاء کی بات کو توجہ سے سنا ہوتا، یا عقل سے کام لے کر یہ سمجھنے کی کوشش کی ہوتی کہ فی الواقع وہ بات کیا ہے جو وہ ہمارے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ یہاں سننے کو سمجھنے پر مقدم رکھا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے نبی کی تعلیم کو توجہ سے سننا(یا اگر وہ لکھی ہوئی شکل میں ہو تو طالبِ حق بن کر اُسے پڑھنا) ہدایت پانے کے لیے شرط اول ہے۔ اُس پر غور کرکے حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرنے کا مرتبہ اس کے بعد آتا ہے ۔ نبی کی رہنمائی کے بغیر اپنی عقل سے بطورِ خود کام لے کر انسان براہِ راست حق تک نہیں پہنچ سکتا۔

(67:11)

فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ 

اس طرح وہ اپنے قصورکا17 خود اعتراف کر لیں گے، لعنت ہے ان دوزخیوں پر

حاشیہ نمبر: 17

قصور کا لفظ واحد استعمال ہوا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اصل قصور جس کی بنا پر وہ جہنم کے مستحق ہوئے  رسولوں کا جھٹلا نا اور ان کی پیروی سے انکار کرنا ہے ۔ باقی سارے گناہ اُسی کی فرع ہیں۔

(67:12)

اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّاَجْرٌ كَبِیْرٌ 

جو لوگ بے دیکھے اپنے ربّ سے ڈرتے ہیں،18 یقیناً اُن کے لیے مغفرت ہے اور بڑا اجر۔19

حاشیہ نمبر: 18

یہ دین میں اخلاق کی اصل جڑ ہے۔ کسی کا بُرائی سے اس لیے بچنا کہ اس کی ذاتی رائے میں وہ بُرائی ہے ، یا دنیا اسے بُرا سمجھتی ہے، یا اس کے ارتکاب سے دنیا میں کوئی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے ، یا اس پر کسی دنیوی طاقت کی گرفت کا خطرہ ہے ، یہ اخلاق کے لیے ایک بہت ہی ناپائیدار بنیا د ہے ۔ آدمی کی ذاتی رائے غلط بھی ہو سکتی ہے، وہ اپنے کسی فلسفے کی وجہ سے ایک اچھی چیز کو بُرا اور ایک بُری چیز کو اچھا سمجھ سکتا ہے۔ دنیا کے معیارِ خیر وشر اول تو یکساں نہیں ہیں، پھر وہ وقتاً فوقتاً بدلتے بھی رہتے ہیں، کوئی عالمگیر اور ازلی و ابدی معیا ر دنیا کے اخلاقی فلسفوں میں نہ آج پایا جاتا ہے نہ کبھی پایا گیا ہے۔ دنیوی نقصان کا اندیشہ بھی اخلاق کے لیے کوئی مستقل بنیاد فراہم نہیں کرتا۔ جو شخص بُرائی سے اس لیے بچتا ہو کہ وہ دنیا میں اُس ذات پر مترتب ہونے والے کسی نقصان سے ڈرتا ہے وہ ایسی حالت میں اُس کے ارتکاب سے باز نہیں رہ سکتا جبکہ اس سے کوئی نقصان پہنچنے کا اندیشہ نہ ہو۔ اسی طرح کسی دنیوی طاقت کی گرفت کا خطرہ بھی وہ چیز نہیں ہے جو انسان کو ایک شریف انسان بنا سکتی ہو۔ ہر شخص جانتا ہے کہ کوئی دنیوی طاقت بھی عالم الغیب و الشہادہ نہیں ہے۔ بہت سے جرائم اُس کی نگاہ سے بچ کر کیے جا سکتے ہیں۔ اور ہر دنیوی طاقت کی گرفت سے بچنے کی بے شمار تدبیریں ممکن ہیں۔ پھر کسی دنیو ی طاقت کے قوانین بھِ تمام بُرائیوں کا احاطہ نہیں کرتے۔ بیشتر برائیاں ایسی ہیں جن پر دنیوی قوانین کوئی گرفت سرے سے کرتے ہی نہیں، حالانکہ وہ اُن برائیوں سے قبیح تر ہیں جن پر وہ گرفت کرتے ہیں۔ اس لیے دین حق نے اخلاق کی پوری عمارت اس بنیاد پر کھڑی کی ہے کہ اُس اَن دیکھے خدا سے ڈر کر بُرائی سے اجتناب کیا جائے جو ہر حال  میں انسان کو دیکھ رہا ہے ، جس کی گرفت سے انسان بچ کر کہیں نہیں جا سکتا، جس نے خیر و شر کا ایک ہمہ گیر، عالمگیر اور مستقل معیار انسان کو دیا ہے۔ اُسی کے ڈر سے بدی کو چھوڑنا اور نیکی کو اختیار کرنا وہ اصل بھلائی ہے جو دین کی نگاہ میں قابلِ قدر ہے۔ اس کے سوا کسی دوسری وجہ سے اگر کوئی انسان بدی نہیں کرتا ، یا اپنی ظاہری شکل کے اعتبار سے جو افعال نیکی میں شمار ہوتے ہیں اُن کو اختیار کرتا ہے تو آخرت میں اس کے یہ اخلاق کسی قدر اور وزن کے مستحق نہ  ہوں گے، کیونکہ ان کی مثال اُس عمارت کی سی ہے جو ریت پر تعمیر ہوئی ہو۔

حاشیہ نمبر: 19

یعنی خدا سے بالغیب ڈرنے کے دو لازمی نتائج ہیں۔ ایک یہ کہ جو قصور بھی بشری کمزوریوں کی بنا پر آدمی سے سرزد ہو گئے ہوں وہ معاف کر دیے جائیں گے، بشرطیکہ ان کی تہ میں خدا سے بے خوفی کا ر فرما نہ ہو۔ دوسرے یہ کہ جو نیک اعمال بھی انسان اِس عقیدے کے ساتھ انجام دے گا اُ س پر وہ بڑا اجر پائیگا۔

(67:13)

وَاَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ 

تم خواہ چُپکے سے بات کرو یا اُونچی آواز سے (اللہ کے لیے یکساں ہے)، وہ تو دلوں کا حال تک جانتا ہے۔20

حاشیہ نمبر: 20

یہ بات تمام انسانوں کو خطاب کرکے فرمائی گئی ہے، خواہ وہ مومن ہوں یا کافر۔ مومن کے لیے اس میں یہ تلقین ہے کہ اسے دنیا میں زندگی بسر کرتے ہوئے ہر وقت یہ احساس اپنے ذہن میں تازہ رکھنا چاہیے کہ اس کے کھلے اور چھپے اقوال و اعمال ہی نہیں ، اس کی نیتیں اور اس کے خیالات تک اللہ سے مخفی نہیں ہیں۔ اور کافر کے لیے اس میں یہ تنبیہ ہے کہ وہ اپنی جگہ خدا سے بے خوف ہو کر جو کچھ چاہے کرتا رہے، اس کی کوئی بات اللہ کی گرفت سے چھوٹی نہیں رہ سکتی۔

(67:14)

اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ ؕ وَهُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ 

کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے؟21 حالانکہ وہ باریک بیں22 اور باخبر ہے

حاشیہ نمبر: 21

دوسرا ترجمہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ”کیا وہ اپنی مخلوق ہی کو نہ جانے گا؟“اصل میں مَنْ خَلَقَ استعمال ہوا ہے۔ اس کے معنی”جس نے پیدا کیا ہے“بھی ہو سکتے ہیں، اور ”جس کو اُس نے پیدا کیا ہے“ًبھی۔ دونوں صورتوں میں مطلب ایک ہی رہتا ہے۔ یہ دلیل ہے اُس بات کی جو اوپر کے فقرے میں ارشاد ہوئی ہے۔ یعنی آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ خالق اپنی مخلوق سے بے خبر ہو؟ مخلوق خود اپنے آپ سے بے خبر ہو سکتی ہے ، مگر خالق اُس سے بے خبر نہیں ہو سکتا۔ تمہاری رگ رگ اس نے بنائی ہے۔ تمہارے دل و دماغ کا ایک ایک ریشہ اس کا بنایا ہو اہے ۔ تمہارا ہر سانس اس کے جاری رکھنے سے جاری ہے۔ تمہارا ہر عضو اس کی تدبیر سے کام کر رہا ہے ۔ اُس سے تمہاری کوئی بات کیسے چُھپی رہ سکتی ہے؟

حاشیہ نمبر: 22

اصل میں لفظ”لطیف“استعمال ہوا ہے جس کے معنی غیر محسوس طریقے سے کام کرنے والے کے بھی ہیں اور پوشیدہ حقائق کو جاننے والے کے بھی۔

(67:15)

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَكُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ ؕ وَاِلَیْهِ النُّشُوْرُ 

وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو تابع کر رکھا ہے ، چلو اُس کی چھاتی پر اور کھاوٴ خدا کا رزق،23 اُسی کے حضور تمہیں دوبارہ زندہ ہو کر جانا ہے۔24

حاشیہ نمبر: 23

یعنی یہ زمین تمہارے لیے آپ سے آپ تابع نہیں بن گئی ہے اور وہ رزق بھی جو تم کھا رہے ہو خود بخود یہاں پیدا نہیں ہوگیا ہے ، بلکہ اللہ نے اپنی حکمت اور قدرت سے اِس کو ایسا بنایا ہے کہ یہاں تمہاری زمدگی ممکن ہوئی اور یہ عظیم الشان کُرہ ایسا پُرسکون بن گیا کہ تم اطمینان سے  اس پر چل پھر رہے ہو اور ایسا خو انِ نعمت بن گیا کہ اس میں تمہارے  لیے زندگی بسر کرنے کا بے حد و حساب سرو سامان موجود ہے ۔ اگر تم غفلت میں مبتلا نہ ہو اور کچھ ہوش سے کام لے دیکھو تو تمہیں معلوم ہو کہ اِس زمین کو تمہاری زندگی کے قابل بنانے اور اس کے اندر رزق کے اتھاہ خزانے جمع کر دینے میں کتنی حکمتیں کار فرما ہیں ۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، النمل،حواشی73۔74۔81۔ جلد چہارم، یٰس،حواشی29۔32۔المومن، حواشی9۰۔91۔ الزُّخْرُف، حاشیہ7۔ الجاثیہ، حاشیہ7۔ جلد پنجم، ق، حاشیہ18)۔

حاشیہ نمبر: 24

یعنی اِ س زمین پر چلتے پھرتے اور خدا کا بخشا ہوا رزق کھاتے ہوئے اِ س بات کو نہ بھولو کہ آخر کار تمہیں ایک دن خدا کے حضور حاضر ہونا ہے۔

(67:16)

ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُ 

کیا تم اِس سے بے خوف ہو کہ وہ جو آسمان میں ہے25 تمہیں زمین میں دھنسا دے اور یکایک یہ زمین جَھکو لے کھانے لگے؟

حاشیہ نمبر: 25

اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمان میں رہتا ہے، بلکہ یہ بات اس لحاظ سے فرمائی گئی ہے کہ انسان فطری طور پر جب خدا سے رجوع کرنا چاہتا ہے تو آسمان کی طرف دیکھتا ہے ۔ دعا مانگتا ہے تو آسمان کی طرف ہاتھ اٹھاتا ہے ۔ کسی آفت کے موقع پر سب سہاروں سے مایوس ہوتا ہے تو آسمان کا رُخ کر کے خدا سے فریاد کرتا ہے ۔ کوئی ناگہانی بلا آپڑتی ہے تو کہتا ہے یہ اُوپر سے نازل ہوئی ہے۔ غیر معمولی طور پر حاصل ہونے والی چیز کے متعلق کہتا ہے یہ عالمِ بالا سے آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی کتابوں  کو کتبِ سماوی یا کتبِ آسمانی کہا جاتا ہے۔ ابو دواؤد میں حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت ہے کہ ایک شخص ایک کالی لونڈی کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھ پر ا یک مومن غلام آزاد کرنا واجب ہو گیا ہے ، کیا میں اس لونڈی کو آزاد کر سکتا ہوں؟ حضورؐ نے اُس لونڈی سے پو چھا  اللہ کہاں ہے؟ اُس نے انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ کر دیا۔ حضورؐ نے پوچھا اور میں کون ہوں؟ اُس نے پہلے آپؐ کی طرف اور پھر آسمان کی طرف اشارہ کیا،  جس سے اُس کا یہ مطلب واضح ہو رہا تھا کہ آپ اللہ کی طرف سے آئے ہیں۔ اور پر حضورؐ نے فرمایا، اسے آزاد کر دو، یہ مومنہ ہے ( اسی سے ملتا جُلتا قصہ مُوَطَّا، مُسلم اور نسائی میں بھی روایت ہوا ہے)۔ حضرت خَوْلَہ بنت ثعْلَبَہ کے متعلق حضرت عمرؓ نے ایک مرتبہ لوگوں سے فرمایا، وہ خاتون ہیں جن کی شکایت سات آسمانوں پر سُنی گئی (تفسیر سورہ مجادلہ حاشیہ2 میں ہم اِس کی تفصیل نقل کر چکے ہیں)۔ان ساری باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بات کچھ انسان کی فطرت ہی میں ہے کہ وہ جب خدا کا تصور کرتا ہے تو اُس کے ذہن نیچے زمین کی طرف نہیں بلکہ اُوپر آسمان کی طرف جاتا ہے ۔ اسی بات کو ملحوظ رکھ کریہاں اللہ تعالیٰ کے متعلق مَنْ فِی السَّمَآءِ (وہ جو آسمان میں ہے) کے الفاظ استعمال فرمائے گئے ہیں ۔ اس میں اِس شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ قرآن اللہ تعالیٰ کو آسمان میں مقیم قرار دیتا ہے ۔ یہ شبہ آخر کیسے پیدا ہو سکتا ہے  جبکہ اسی سورہ مُلک کے آغاز میں فرمایا جا چکا ہے  کہ اَلَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا  (جس نے تہ بر تہ سات آسمان پیدا کیے)اور سورہ بقرہ میں ارشاد ہوا ہے، فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْ ا فَثَمَّ وَجْہُ اللہِ ط (پس تم جدھر بھی رُخ کرو اُس طرف اللہ کا رُخ ہے)۔

(67:17)

اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا ؕ فَسَتَعْلَمُوْنَ كَیْفَ نَذِیْرِ 

کیا تم اِس سے بے خوف ہو کہ وہ جو آسمان میں ہے تم پر پتھراوٴ کرنے والی ہوا بھیج دے؟26 پھر تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ میری تنبیہ کیسی ہوتی ہے۔27

حاشیہ نمبر: 26

مراد یہ ذہن نشین کرنا ہے کہ اِس زمین پر تمہارا بقا اور تمہاری سلامتی ہر وقت اللہ تعالیٰ کے فضل پر منحصر ہے۔ اپنے بل بوتے پر تم یہاں مزے سے نہیں دندنا رہے ہو۔ تمہاری زندگی کا ایک ایک لمحہ جو یہاں گزر رہا ہے، اللہ کی حفاظت اور نگہبانی کا  رہینِ مِنّت ہے۔ ورنہ کسی وقت بھی اُس کے ایک اشارے سے ایک زلزلہ ایسا آسکتا ہے کہ یہی زمین تمہارے لیے آغوشِ مادر کے بجائے قبر کا گڑھا بن جائے، یا ہوا کا ایسا طوفان آسکتا ہے جو تمہاری بستیوں کو غارت کر کے رکھ دے۔

حاشیہ نمبر: 27

تنبیہ سے مراد وہ تنبیہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن پاک کے ذریعہ سے کفار مکہ کو کی جا رہی تھی کہ اگر کفر و شرک سے باز نہ آؤ گے اور اس دعوتِ توحید کو نہ مانو گے جو تمہیں دی جا رہی ہے تو خدا کے عذاب میں گرفتار ہو جاؤ گے۔

(67:18)

وَلَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ 

ن سے پہلے گُزرے ہوئے لوگ جُھٹلا چکے ہیں۔ پھر دیکھ لو میری گرفت کیسی تھی۔28

حاشیہ نمبر: 28

اشارہ ہے اُن قوموں کی طرف جو اپنے ہاں آنے والے انبیاء کو جُھٹلا کر اِس سے پہلے مبتلائے عذاب ہوچکی تھی۔

(67:19)

اَوَلَمْ یَرَوْا اِلَی الطَّیْرِ فَوْقَهُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّیَقْبِضْنَ ؔؕ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُ ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ بَصِیْرٌ 

کیا یہ لوگ اپنے اُوپر اُڑنے والے پرندوں کو پر پھیلائے اور سکیڑتے نہیں دیکھتے؟ رحمٰن کے سوا کوئی نہیں جو انہیں تھامے ہوئے ہو۔29 وہی ہر چیز کا نگہبان ہے۔30

حاشیہ نمبر: 29

یعنی ایک ایک پرندہ جو ہوا میں اڑرہا ہے ، خدائے رحمٰن کی حفاظت میں اڑرہا ہے۔ اُسی نے ہر پرندے  کو وہ ساخت عطا فرمائی جس سے وہ اڑنے کے قابل ہوا۔ اسی نے ہر پرندے کو اڑنے کا طریقہ سکھایا۔ اُسی نے ہوا کواُن قوانین کا پابند کیا جن کی بدولت ہوا سے زیادہ بھاری جسم رکھنے والی چیزوں کا اُس میں اڑنا ممکن ہوا۔ اور وہی ہر اڑنے والے کو فضا میں تھامے ہوئے ہے، ورنہ جس وقت بھی اللہ اپنی حفاظت اُس سے ہٹا لے ، وہ زمین پر آرہے ۔

حاشیہ نمبر: 30

یعنی کچھ پرندوں ہی پر موقوف نہیں، جو چیز بھی دنیا میں موجود ہے اللہ کی نگہبانی کی بدولت موجود ہے ۔  وہی ہر شے کے لیے وہ اسباب فراہم کر رہا ہے جو اس کے وجود کے لیے درکار ہیں، اور وہی اس بات کی نگرانی کر رہا ہے کہ اس کی پیدا کر دہ مخلوق کو اس کی ضروریات بہم پہنچیں۔

(67:20)

اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ ؕ اِنِ الْكٰفِرُوْنَ اِلَّا فِیْ غُرُوْرٍ 

بتاوٴ، آخر وہ کون سا لشکر تمہارے پاس ہے جو رحمٰن کے مقابلے میں تمہارے مدد کر سکتا ہے؟31 حقیقت یہ ہے کہ یہ منکرین دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں

حاشیہ نمبر: 31

دوسرا ترجمہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ”رحمان کے سوا  وہ کون ہے جو تمہارا لشکر بنا ہوا تمہاری دستگیری کرتا ہو“۔ہم نے متن میں جو ترجمہ کیا ہے وہ آگے کے فقرے سے مناسبت رکھتا ہے ، اور اس دوسرے ترجمہ کی مناسبت پچھلے سلسلہ کلام سے ہے۔

(67:21)

اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ یَرْزُقُكُمْ اِنْ اَمْسَكَ رِزْقَهٗ بَلْ لَّجُّوْا فِیْ عُتُوٍّ وَّنُفُوْرٍ 

یا پھر بتاؤ، کون ہے جو تمہیں رزق دے سکتا ہے اگر رحمان اپنا رزق روک لے؟ دراصل یہ لوگ سر کشی اور حق سے گریز پر اڑے ہوئے ہیں

(67:22)

اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰی وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤی اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ 

بھلا سوچو، جو شخص منہ اوندھائے چل رہا ہو32 وہ زیادہ صحیح راہ پانے والا ہے یا وہ جو سر اُٹھائے سیدھا ایک ہموار سڑک پر چل رہا ہو؟

حاشیہ نمبر: 32

یعنی جانوروں کی طرح منہ نیچا کیے ہوئے اُسی ڈگر پر چلا جا رہا ہو جس پر کسی نے اسے ڈال دیا ہو۔

(67:23)

قُلْ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْـِٕدَةَ ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ 

اِن سے کہو اللہ ہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا، تم کو سُننے اور دیکھنے کی طاقتیں دیں اور سوچنے سمجھنے والے دل دیے، مگر تم کم ہی شکر ادا کرتے ہو۔33

حاشیہ نمبر: 33

یعنی اللہ نے تو تمہیں انسان بنا یا تھا، جانور نہیں بنایا تھا۔ تمہارا کام یہ نہیں تھا کہ جو گمراہی بھِ دنیا میں پھیلی ہوئی ہو اس کے پیچھے آنکھیں بند کر کے چل پڑو اور کچھ نہ سوچو کہ جس راہ پر تم جا رہے ہو وہ صحیح بھی ہے یا نہیں۔ یہ کان تمہیں اس لیے تو نہیں دیے گئے تھے کہ جو شخص تمہیں صحیح اور غلط کا فرق سمجھانے کی کوشش کرے اس کی بات سُن کر نہ دو اور جو غلط سلط باتیں پہلے سے تمہارے دماغ میں بیٹھی ہوئی ہیں اُنہی پر اَڑے رہو۔ یہ آنکھیں تمہیں اس لیے تو نہیں دی گئی تھیں کہ اندھے بن کر دوسروں کی پیروری کرتے رہو اور خود اپنی بینائی سے کام لے کر یہ نہ دیکھو کہ زمین سے آسمان تک ہر طرف جو نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں وہ آیا اُس توحید کی شہادت دے رہی ہے جسے خدا کا رسول پیش کر رہا ہے  یا یہ  شہادت دے رہی ہیں کہ یہ سارا نظامِ کائنات بے خدا  ہے یا بہت سے خدا اس کو چلا رہے ہیں۔ اسی طرح یہ دل و دماغ بھی تمہیں اس لیے نہیں دیے گئے تھے کہ تم سوچنے سمجھنے کا کام دوسروں کے حوالے کر کے ہر اُس طریقے کی پیروی کرنے لوگ جو دنیا میں کسی نے جا ری کر دیا ہے اور اپنی عقل سے کام لے کر یہ سوچنے کی کوئی زحمت گوارا نہ کرو کہ وہ غلط ہے یا صحیح۔ اللہ نے علم و عقل اور سماعت و بینائی کی یہ نعمتیں تمہیں حق شناسی کے لیے دی تھیں۔ تم نا شکری کر رہے ہو  کہ ان سے اور سارے کام تو لیتے ہو مگر بس وہی ایک کام نہیں لیتے جس کے لیے یہ دی گئی تھیں ( مزید تشریح کے لیے ملا حظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم ، النحل ، حواشی72۔73،جلد سوم، المومنون، حواشی75۔7۶۔ جلد چہارم ، السجدہ، حواشی17۔18۔ الاحقاف، حاشیہ 31)۔

(67:24)

قُلْ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَاِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ 

اِن سے کہو، اللہ ہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلا یا ہے اور اسی کی طرف تم سمیٹے جاوٴ گے۔34

حاشیہ نمبر: 34

یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر کے  ہرگوشہ زمین سے گھیر لائے جاؤ گے اور اس کے سامنے حاضر کر دیے جاؤ گے۔

(67:25)

وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ 

یہ کہتے ہیں”اگر تم سچے ہو تو بتاوٴ یہ وعدہ کب پُورا ہوگا؟35

حاشیہ نمبر: 35

یہ سوال اس غرض کے لیے نہ تھا کہ وہ قیامت کا وقت اور اُس کی تاریخ معلوم کرنا چاہتے تھے اور اس بات کے لیے تیار تھے کہ اگر انہیں اُس کی آمد کا سال، مہینہ، دن اور وقت بتا دیا جائے تو وہ اسے مان لیں گے ۔ بلکہ دراصل وہ اُس کے آنے کو غیر ممکن اور بعید از عقل سمجھتے تھے اور یہ سوال اس غرض کے لیے کرتے تھے کہ اُسے جھٹلانے کا ایک بہانہ اُن کے ہاتھ آئے۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ حشر ونشر کا یہ عجیب و غریب افسانہ جو تم ہمیں سنا رہے ہو آخر یہ کب ظہور میں آئے گا؟ اسے کس وقت کے لیے اٹھا رکھا گیا ہے؟ ہماری آنکھوں  کے سامنے لا کر اسے دکھا کیوں نہیں دیتے کہ ہمیں اس کا یقین آجائے؟ اس سلسلے یں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ کوئی شخص اگر قیامت کا قائل ہو سکتا ہے تو عقلی دلائل سے ہو سکتا ہے ، اور قرآن میں جگہ جگہ وہ دلائل تفصیل کے ساتھ دے دیے گئے ہیں۔ رہی اُس کی تاریخ ، تو قیامت کی بحث میں اُس کا سوال اٹھانا ایک جاہل آدمی ہی کا کام ہو سکتا ہے ۔ کیونکہ اگر بالفرض وہ بتا بھی دی جائے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ نہ ماننے والا یہ کہہ سکتا ہے کہ جب وہ تمہاری بتائی ہوئی تاریخ پر آجائے گی تو مان لوں گا، آج آخر میں کیسے یقین کر لوں کہ وہ اُس روز ضرور آجائے گی( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، لقمان، حاشیہ ۶3۔ الاحزاب ، حاشیہ 11۶۔ سبا، حواشی5۔48۔ یٰس، حاشیہ 45)۔

(67:26)

قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ ۪ وَاِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ 

کہو”اِس کا علم تو اللہ کے پاس ہے، میں تو بس صاف صاف خبردار کر دینے والا ہوں۔“36

حاشیہ نمبر: 36

یعنی یہ تو مجھے معلوم ہے کہ وہ ضرور آئے گی، اور لوگوں کو اس کی آمد سے پہلے خبر دار کر دینے کے لیے یہی جاننا کافی ہے ۔ رہی یہ بات کہ وہ کب آئے گی، تو اس کا علم اللہ کو ہے ، مجھے نہیں ہے، اور خبردار کرنے کے لیے اس علم کی کوئی حاجت نہیں۔ اس معاملہ کو ایک مثال سے اچھی طرح سمجھاجا سکت اہے ۔ یہ بات کہ کون شخص کب مرے گا، اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ البتہ یہ ہمیں معلو م ہے کہ ہر شخص کو ایک دن مرنا ہے ۔ ہمارا یہ علم اس بات کے لیے کافی ہے کہ ہم اپنے کسی غیر محتاط دوست کو یہ تنبیہ کریں کہ ہو مرنے سے پہلے اپنے مفاد کی حفاظت کا انتظام کر لے۔ اس تنبیہ کے لیے یہ جاننا ضرور نہیں ہے  کہ وہ کس روز مرے گا۔

(67:27)

فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِیْٓـَٔتْ وُجُوْهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَقِیْلَ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ 

پھر جب یہ اُس چیز کو قریب دیکھ لیں گے تو اُن سب لوگوں کے چہرے بگڑ جائیں گے جنہوں نے انکار کیا ہے،37  اور اُس وقت ان سے کہا جائے گا کہ یہی ہے وہ چیز جس کے لیے تم تقاضے کر رہے تھے

حاشیہ نمبر: 37

یعنی ان کا وہی حال ہو گا جو پھانسی کے تختہ کی طرف لے جائے جانے ولاے کسی مجرم کا ہوتا ہے ۔

(67:28)

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَهْلَكَنِیَ اللّٰهُ وَمَنْ مَّعِیَ اَوْ رَحِمَنَا فَمَنْ یُّجِیْرُ الْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ 

اِن سے کہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اللہ خواہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کر دے یا ہم پر رحم کرے، کافروں کو دردناک عذاب سے کون بچا لے گا؟38

حاشیہ نمبر: 38

مکہ معظمہ میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کا آغاز ہوا اور قریش کے مختلف خاندانوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے اسلام قبول کرنا شروع کر دیا تو گھر گھر حضورؐ اور آپ کے ساتھیوں کو بد دعائیں دی جانے لگیں۔ جادو ٹونے کیے جانے لگے تا کہ آپ ہلاک ہو جائیں۔ حتٰی کہ قتل کے منصوبے بھی سوچے جانے لگے ۔ اس پر یہ فرمایا گیا کہ ان سے کہو، خواہ ہم ہلاک ہو یا خدا کے فضل سے زندہ رہیں، اس سے تمہیں کیا حاصل ہو گا؟ تم اپنی فکر کرو کہ خدا کے عذاب سے تم کیسے بچو گے۔

(67:29)

قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَعَلَیْهِ تَوَكَّلْنَا فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ 

اِن سے کہو، وہ بڑا رحیم ہے، اسی پر ہم ایمان لائے ہیں، اور اُسی پر ہمارا بھروسا ہے،39 عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ صریح گمراہی میں پڑا ہوا کون ہے

حاشیہ نمبر: 39

یعنی ہم خدا پر ایمان لائے ہیں اور تم اس سے انکار کر رہے ہو، ہمارا بھروسا خدا پر ہے اور تمہارا اپنے جتھو ں اور اپنے وسائل اور اپنے معبود انِ غیر اللہ پر۔ اس لیے خدا کی رحمت کے مستحق ہم ہو سکتے ہیں نہ کہ تم۔

(67:30)

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِیْنٍ 

اِن سےکہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر تمہارے کنووٴں کا پانی زمین میں اُتر جائے تو کون ہے  جو اِس پانی کی بہتی ہوئی سوتیں تمہیں نکال کر لادے گا؟40

حاشیہ نمبر: 40

یعنی کیا  خدا کے سوا کسی میں یہ طاقت ہے کہ ان سورتوں کو پھر سے جاری کر دے؟ اگر نہیں ہے  ، اور تم جانتے ہو کہ نہیں ہے ، تو پھر عبادت کا مستحق خدا ہے ، یا تمہارے وہ معبود جو اُنہیں جاری کرنے کی کوئی قدرت نہیں رکھتے؟ اس کے بعد تم خود اپنے ضمیر سے پوچھو کہ گمراہ خدائے واحد کو ماننے والے ہیں یا وہ جو شرک کر رہے ہیں؟

Read Maududi
Read • Reflect • Reform

Your Complete Learning App

A complete experience—reading, tafseer, audio, and more, all in one app. Available on iOS and Android.

Get the app

Frequently asked questions FAQs

Yes, you can download content and access it anytime without an internet connection.