الٓمّٓ
ا ل م
Ar-Rum
سورة الروم
سورة الروم
الٓمّٓ
ا ل م
غُلِبَتِ الرُّوْمُ
رومی قریب کی سرزمین میں مغلوب ہو گئے ہیں
فِیْۤ اَدْنَی الْاَرْضِ وَهُمْ مِّنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَیَغْلِبُوْنَ
اور اپنی اس مغلوبیت کے بعد چند سال کے اندر وہ غالب ہو جائیں گے۔1
ابن عباس ؓ اور دوسرے صحابہ و تابعین کے بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ روم و ایران کی اس لڑائی میں مسلمانو ں کی ہمدردیاں روم کے ساتھ اور کفار کی ہمدردیاں ایران کے ساتھ تھیں۔ اس کے کئی وجوہ تھے۔ ایک یہ کہ ایرانیوں نے اس لڑائی کو مجوسیت اور مسیحیت کی لڑائی کا رنگ دے دیا تھا اور وہ ملک گیری کے مقصد سے تجاوز کر کے اس مجوسیت پھیلانے کا ذریعہ بنا رہے تھے۔ بیت المَقْدِس کی فتح کے بعد خسرو پرویز نے جو خط قیصر روم کو لکھا تھا اس میں صاف طور پر وہ اپنی فتح کو مجوسیت کے برحق ہونے کی دلیل قرار دیتا ہے۔ اُصُولی اعتبار سے مجوسیوں کا مذہب مشرکینِ مکّہ کے مذہب سے ملتا جلتا تھا، کیونکہ وہ بھی توحید کے منکر تھے، دو خداؤں کو مانتے تھے اور آگ کی پرستش کرتے تھے۔ اس لیے مشرکین کی ہمدردیاں ان کے ساتھ تھیں۔ ان کے مقابلہ میں مسیحی خواہ کتنے ہی مبتلائے شرک ہو گئے ہوں، مگر وہ خدا کی توحید کو اصلِ دین مانتے تھے، آخرت کے قائل تھے ، اور وحی و رسالت کو سر چشمۂ ہدایت تسلیم کرتے تھے۔ اس بنا پر ان کا دین اپنی اصل کے اعتبار سے مسلمانوں کے دین سے مشابہت رکھتا تھا، اور اسی لیے مسلمان قدرتی طور پر ان سے ہمدردی رکھتے تھے اور ان پر مشرک قوم کا غلبہ انہیں ناگوار تھا۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ ایک نبی کی آمد سے پہلے جو لوگ سابق نبی کو مانتے ہوں وہ اُصُولًا مسلمان ہی کی تعریف میں آتے ہیں اور جب تک بعد کے آنے والے نبی کی دعوت انہیں نہ پہنچے اور وہ اس کا انکار نہ کر دیں، ان کا شمار مسلمانوں ہی میں رہتا ہے (ملاحظہ ہو سورۂ قَصص، حاشیہ 73)۔ اُس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت پر صرف پانچ چھ برس ہی گزرے تھے، اور حضورؐ کی دعوت ابھی تک باہر نہیں پہنچی تھی۔ اس لیے مسلمان عیسائیوں کا شمار کافروں میں نہیں کرتے تھے۔ البتہ یہودی ان کی نگاہ میں کافر تھے، کیونکہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کا انکار کر چکے تھے۔ تیسری وجہ یہ تھی کہ آغازِ اسلام میں عیسائیوں کی طرف سے مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی ہی کا برتاؤ ہُوا تھا جیسا کہ سورۂ قصص آیات 52 تا 55، اور سورۂ مائدہ آیات 82 تا 85 میں بیان ہُوا ہے۔ بلکہ ان میں سے بہت سے لوگ کھلے دل سے دعوت حق کو قبول کر رہے تھے۔ پھر ہجرت حبشہ کے موقع پر جس طرح حبش کے عیسائی بادشاہ نے مسلمانوں کو پناہ دی اور ان کی واپسی کے لیے کفارِ مکّہ کے مطالبے کو ٹھکرا دیا اس کا بھی یہ تقاضا تھا کہ مسلمان مجوسیوں کے مقابلہ میں عیسائیوں کے خیر خواہ ہوں۔
فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ ؕ۬ لِلّٰهِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ ؕ وَیَوْمَىِٕذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ
یعنی پہلے جب ایرانی غالب آئے تو اس بنا پر نہیں کہ معاذ اللہ خداوندِ عالم ان کے مقابلے میں شکست کھا گیا، اور بعد میں جب رومی فتحیاب ہوں گے تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو اس کا کھویا ہوا ملک مِل جائے گا۔ فرمانروائی تو ہر حال میں اللہ ہی کی ہے ۔ پہلے جسے فتح نصیب ہوئی اسے بھی اللہ ہی نے فتح دی، اور بعد میں جو فتح پائے گا وہ بھی اللہ ہی کے حکم سے پائے گا۔ اس کی خدائی میں کوئی اپنے زور سے غلبہ حاصل نہیں کر سکتا۔ جسے وہ اُٹھاتا ہے وہی اُٹھتا ہے اور جسے وہ گراتا ہے وہی گرتا ہے۔
ابن عباسؓ ابو سعید خُدری ؓ، سفیان ثَوریؒ ، سُدِّیؒ وغیرہ حضرات کا بیان ہے کہ ایرانیوں پر رومیوں کی فتح اور جنگ بدر میں مشرکین پر مسلمانوں کی فتح کا زمانہ ایک ہی تھا، اس لیے مسلمانوں کو دوہری خوشی حاصل ہوئی۔ یہ بات ایران اور روم کی تاریخوں سے بھی ثابت ہے۔ سن ۶24ء ہی وہ سال ہے جس میں جنگِ بد ر ہوئی، اور یہی وہ سال ہے جس میں قیصرِ روم نے زرتشت کا مؤلد تباہ کیا اور ایران کے سب سے بڑے آتشکدے کو مسما ر کر دیا۔
بِنَصْرِ اللّٰهِ ؕ یَنْصُرُ مَنْ یَّشَآءُ ؕ وَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ
اللہ نصرت عطا فرماتا ہے جسے چاہتا ہے، اور وہ زبردست اور رحیم ہے
وَعْدَ اللّٰهِ ؕ لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ وَعْدَهٗ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ
یہ وعدہ اللہ نے کیا ہے، اللہ کبھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا، مگر اکثر لوگ نہیں جانتے ہیں
یَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَهُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ
لوگ دنیا کی زندگی کا بس ظاہری پہلو جانتے ہیں اور آخرت سے وہ خود ہی غافل ہیں4
یعنی اگرچہ آخرت پر دلالت کرنے والے آثار و شواہد کثرت سے موجود ہیں اور اس سے غفلت کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے ، لیکن یہ لوگ اس سے خود ہی غفلت برت رہے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں ، یہ ان کی اپنی کوتاہی ہے کہ دنیوی زندگی کے اس ظاہری پردے پر نگاہ جما کر بیٹھ گئے ہیں اور اس کے پیچھے جو کچھ آنے والا ہے اس سے بالکل بے خبر ہیں، ورنہ خدا کی طرف سے ان کو خبردار کر نے میں کوئی کوتاہی نہیں ہوئی ہے۔
اَوَلَمْ یَتَفَكَّرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ ۫ مَا خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَاَجَلٍ مُّسَمًّی ؕ وَاِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ لَكٰفِرُوْنَ
یہ آخرت پر بجائے خود ایک مستقل استدلال ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اگر یہ لوگ باہر کسی طرف نگاہ دَوڑانے سے پہلے خود اپنے وجود پر غور کرتے تو انہیں اپنے اندر ہی وہ دلائل مل جاتے جو موجودہ زندگی کے بعد دوسری زندگی کی ضرورت ثابت کرتے ہیں۔ انسان کی تین امتیازی خصوصیات ایسی ہیں جو اس کو زمین کی دوسری موجودات سے ممیز کرتی ہیں: ایک یہ کہ زمین اور اس کے ماحول کی بے شمار چیزیں اس کے لیے مسخر کر دی گئی ہیں اور ان پر تصرف کے وسیع اختیارات اس کو بخش دیے گئے ہیں۔ دوسرے یہ کہ اِسے اپنی راہِ زندگی کے انتخاب میں آزاد چھوڑ دیا گیا ہے۔ ایمان اور کفر، طاعت اور معصیت، نیکی اور بدی کی راہوں میں سے جس راہ پر بھی جانا چاہے جا سکتا ہے۔ حق اور باطل ، صحیح اور غلط ، جس طریقے کو بھی اختیار کرنا چاہے کر سکتا ہے۔ ہر راستے پر چلنے کے لیے اسے توفیق دے دی جاتی ہے اور اس پر چلنے میں وہ خدا کے فراہم کردہ ذرائع استعمال کرسکتا ہے ، خواہ وہ خدا کی اطاعت کا راستہ ہو یا اس کی نافرمانی کا راستہ۔ تیسرے یہ کہ اس میں پیدائشی طور پر اخلاق کی حِس رکھ دی گئی ہے جس کی بنا پر وہ اختیاری اعمال اور غیر اختیاری اعمال میں فرق کرتا ہے ، اختیاری اعمال پر نیکی اور بدی کا حکم لگاتا ہے ، اور بداہتًہ یہ رائے قائم کر تا ہے کہ اچھا عمل جزا کا اور بُرا عمل سزا کا مستحق ہونا چاہیے۔ یہ تینوں خصوصیتیں جو انسا ن کے اپنے وجود میں پائی جاتی ہیں اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ کوئی وقت ایسا ہونا چاہیے جب انسان سے محاسبہ کیا جائے۔ جب اس سے پوچھا جائے کہ جو کچھ دنیا میں اس کو دیا گیا تھا اس پر تصرف کے اختیارات کو اس نے کس طرح استعمال کیا؟ جب یہ دیکھا جائے کہ اس نے اپنی آزادیئ انتخاب کو استعمال کر کے صحیح راستہ اختیار کیا یا غلط؟ جب اس کے اختیاری اعمال کی جانچ کی جائے اور نیک عمل پر جزا اور بُرے عمل پر سزا دی جائے ۔ یہ وقت لامحالہ انسان کا کارنامۂ زندگی ختم اور اس کا دفترِ عمل بند ہونے کے بعد ہی آسکتا ہے نہ کہ اس سے پہلے۔ اور یہ وقت لازماً اسی وقت آنا چاہیے جب کہ ایک فرد یا ایک قوم کا نہیں بلکہ تمام انسانوں کا دفتر ِ عمل بند ہو۔ کیونکہ ایک فرد یا ایک قوم کے مر جانے پر اُن اثرات کا سلسلہ ختم نہیں ہو جاتا جو اس نے اپنے اعمال کی بدولت دنیا میں چھوڑ ے ہیں۔ اُس کے چھوڑے ہوئے اچھے بُرے اثرات بھی تو اس کے حساب میں شمار ہونے چاہییں۔ یہ اثرات جب تک مکمل طورپر ظاہر نہ ہو لیں انصاف کے مطابق پورا محاسبہ کرنا اور پوری جزا یا سزا دینا کیسے ممکن ہے؟ اس طرح انسان کا اپنا وجود اس بات کی شہادت دیتا ہے، اور زمین میں انسان کو جو حیثیت حاصل ہے وہ آپ سے آپ اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ دنیا کہ موجودہ زندگی کے بعد ایک دوسری زندگی ایسی ہو جس میں عدالت قائم ہو، انصاف کے ساتھ انسان کے کارنامۂ زندگی کا محاسبہ کیا جائے، اور ہر شخص کو اس کے کام کے لحاظ سے جزا دی جائے۔
اس فقرے میں آخرت کی دو مزید دلیلیں دی گئی ہیں۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اگر انسان اپنے وجود سے باہر کے نظامِ کائنات کو بنظرِ غور دیکھے تو اسے دو حقیقتیں نمایاں نظر آئیں گی: ایک یہ کہ یہ کائنات برحق بنائی گئی ہے۔ یہ کسی بچے کا کھیل نہیں ہے کہ محض دل بہلانے کے لیے اس نے ایک بے ڈھنگا سا گھروندا بنا لیا ہو جس کی تعمیر اور تخریب دونوں ہی بے معنی ہوں۔ بلکہ یہ ایک سنجیدہ نظام ہے ، جس کا ایک ایک ذرّہ اس بات پر گواہی دے رہا ہے کہ اسے کمال درجہ حکمت کے ساتھ بنایا گیا ہے، جس کی ہر چیز میں ایک قانون کار فرما ہے، جس کی ہر شے با مقصد ہے۔ انسان کا سارا تمدّن اور اس کی پوری معیشت اور اس کے تمام علوم و فنون خود اس بات پر گواہ ہیں۔ دنیا کی ہر چیز کے پیچھے کام کرنے والے قوانین کو دریافت کر کے اور ہر شے جس مقصد کے لیے بنائی گئی ہے اسے تلاش کر کے ہی انسان یہاں یہ سب کچھ تعمیر کر سکا ہے۔ ورنہ ایک بے ضابطہ اور بے مقصد کھلونے میں اگر ایک پُتلے کی حیثیت سے اس کو رکھ دیا گیا ہو تا تو کسی سائنس اور کسی تہذیب و تمدّن کا تصوّر تک نہ کیا جا سکتا تھا۔ اب آخر یہ بات تمہاری عقل میں کیسے سماتی ہے کہ جس حکیم نے اِس حکمت اور مقصدیت کے ساتھ یہ دنیا بنائی ہے اور اس کے اندر تم جیسی ایک مخلوق کو اعلیٰ درجہ کی ذہنی و جسمانی طاقتیں دے کر، اختیارات دے کر، آزادیٔ انتخاب دے کر، اخلاق کی حِس دے کر اپنی دنیا کا بے شمار سروسامان تمہارے حوالے کیا ہے، اس نے تمہیں بے مقصد ہی پیدا کر دیا ہوگا؟ تم دنیا میں تعمیر و تخریب، اور نیکی و بدی، اور ظلم و عدل، اور راستی و ناراستی کے سارے ہنگامے برپا کر نے کے بعد بس یونہی مر کر مٹی میں مل جاؤ گے اور تمہارے کسی اچھے اور بُرے کام کا کوئی نتیجہ نہ ہوگا؟ تم اپنے ایک ایک عمل سے اپنی اور اپنے جیسے ہزاروں انسانوں کی زندگی پر اور دنیا کی بے شمار اشیاء پر بہت سے مفید یا مضر اثرات ڈال کر چلے جاؤ گے اور تمہارے مرتے ہی یہ سارا دفترِ عمل بس یونہی لپیٹ کر دریا بُرد کر دیا جائے گا؟ دوسری حقیقت جو اس کائنات کے نظام کا مطالعہ کرنے صاف نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ یہاں کسی چیز کے لیے بھی ہمیشگی نہیں ہے۔ ہر چیز کے لیے عمر مقرر ہے جسے پہنچنے کے بعد وہ ختم ہو جاتی ہے۔ اور یہی معاملہ بحیثیت مجموعی پوری کائنات کا بھی ہے۔ یہاں جتنی طاقتیں کام کر رہی ہیں وہ سب محدود ہیں۔ ایک وقت تک ہی وہ کام کر رہی ہیں ، اور کسی وقت پر انہیں لامحالہ خرچ ہوجانا اور اس نظام کو ختم ہو جانا ہے۔ قدیم زمانے میں تو ولم کی کمی کے باعث اُن فلسفیوں اور سائنسدانوں کی بات کچھ چل بھی جاتی تھی جو دنیا کو ازلی و ابدی قرار دیتے تھے۔ مگر موجودہ سائنس نے عالَم کے حدوث و قِدَم کی اُس بحث میں ، جو ایک مدّتِ دراز سے دہریوں اور خداپرستوں کے درمیان چلی آرہی تھی، قریب قریب حتمی طور پر اپنا ووٹ خداپرستوں کے حق میں ڈال دیا ہے۔ اب دہریوں کے لیے عقل اور حکمت کا نام لے کر یہ دعویٰ کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی ہے کہ دنیا ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی اور قیامت کبھی نہ آئے گی۔ پرانی مادّہ پرستی کا سارا انحصار اس تخیل پر تھا کہ مادہ فنا نہیں ہو سکتا، صرف صورت بدلی جا سکتی ہے، مگر ہر تغیّر کے بعد مادّہ مادّہ ہی رہتاہے اور اس کی مقدار میں کوئی کمی و بیشی نہیں ہوتی۔ اس بنا پر یہ نتیجہ نکالا جاتا تھا کہ اس عالَمِ مادّی کی نہ کوئی ابتدا ہے نہ انتہا۔ لیکن اب جوہری توانائی (Atomic Energy ) کے انکشافات نے اس پورے تخیل کی بساط اُلٹ کر رکھ دی ہے۔ اب یہ بات کھل گئی ہے کہ قوّت مادّے میں تبدیل ہوتی ہے اور مادّہ پھر قوت میں تبدیل ہو جاتا ہے حتیٰ کہ نہ صورت باقی رہتی ہے نہ ہیولیٰ۔ اب حَرکیاتِ حرارت کے دوسرے قانون (Second Law of Thermo-Dynamics ) نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ عالَم مادّی نہ ازلی ہو سکتا ہے نہ ابدی۔ اس کو لازمًا ایک وقت شروع اور ایک وقت ختم ہونا ہی چاہیے۔ اس لیے سائنس کی بنیاد پر اب قیامت کا انکار ممکن نہیں رہا ہے۔ اور ظاہر بات ہے کہ جب سائنس ہتھیار ڈال دے تو فلسفہ کِن ٹانگوں پر اُٹھ کر قیامت کا انکار کرے گا؟
یعنی اس بات کے منکر کہ انہیں مرنے کے بعد اپنے ربّ کے سامنے حاضر ہونا ہے۔
اَوَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ؕ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّاَثَارُوا الْاَرْضَ وَعَمَرُوْهَاۤ اَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوْهَا وَجَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ ؕ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَلٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ ؕ
اور کیا یہ لو گ کبھی زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ انہیں ان لوگوں کا انجام نظر آتا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں؟8 وہ ان سے زیادہ طاقت رکھتے تھے ، انہوں نے زمین کو خوب ادھیڑا تھا9 اور اسے اتنا آباد کیا تھا جتنا انہوں نے نہیں کیا ہے۔10 ان کےپاس ان کے رسول روشن نشانیاں لے کر آئے۔11 پھر اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہ تھا، مگر وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے۔12
یہ آخرت کے حق میں تاریخی استدلال ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ آخرت کا انکار دنیا میں دوچار آدمیوں ہی نے تو نہیں کیا ہے۔ انسانی تاریخ کے دوران کثیر التعداد انسان اس مرض میں مبتلا ہوتے رہے ہیں۔ بلکہ پوری پوری قومیں ایسی گزری ہیں جنہوں نے یا تو اس کا انکار کیا ہے ، یا اس سے غافل ہو کر رہی ہیں، یا حیات بعد الموت کے متعلق ایے غلط عقیدے ایجاد کر لیے ہیں جن سے آخرت کا عقیدہ بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔ پھر تاریخ کا مسلسل تجربہ یہ بتاتا ہے کہ انکارِ آخرت جس صور ت میں بھی کیا گیا ہے اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں کے اخلاق بگڑے ، وہ اپنے آپ کو غیر ذمہ دار سمجھ لر شتر بے مہار بن گئے، انہوں ظلم و فساد اور فسق و فجور کی حد کر دی، اور اسی چیز کی بدولت قوموں پر قومیں تباہ ہوتی چلی گئیں۔ کیا ہزاروں سال کی تاریخ کا یہ تجربہ، جو پے در پے انسانی نسلوں کو پیش آتا رہا ہے، یہ ثابت نہیں کرتا کہ آخرت ایک حقیقت ہے جس کا انکار انسان کے لیے تباہ کن ہے؟ انسان کششِ ثقل کا اسی لیے تو قائل ہے کہ تجربے اور مشاہدے سے اس نے مادّی اشیاء کو ہمیشہ زمین کی طرف گرتے دیکھا ہے۔ انسان نے زہر کو زہر اسی لیے تو مانا ہے کہ جس نے بھی زہر کھایا وہ ہلاک ہوا۔ اسی طرح جب آخرت کا انکار ہمیشہ انسان کے لیے اخلاقی بگاڑ کاموجب ثابت ہوا ہے تو کیا یہ تجربہ یہ سبق دینے کے لیے کافی نہیں ہے کہ آخرت ایک حقیقت ہے اور اس کو نظر انداز کر کے دنیا میں زندگی بسر کرنا غلط ہے؟
اصل میں لفظ اَثَارُو ا الْاَرْضَ استعمال ہو ا ہے ۔ اس کا اطلاق زراعت کے لیے ہل چلانے پر بھی ہو سکتا ہے اور زمین کھود کر زیرِ زمین پانی، نہریں، کاریزیں اور معدنیات وغیرہ نکالنے پر بھی۔
اس میں اُن لوگوں کے استدلال کا جواب موجود ہے جو محض مادی ترقی کو کسی قوم کے صالح ہونے کی علامت سمجھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جن لوگوں نے زمین کے ذرائع کو اتنے بڑے پیمانے پر استعمال (Expoit ) کیا ہے، جنہوں نے دنیا میں عظیم الشان تعمیری کام کیے ہیں اور ایک شاندار تمدّن کو جنم دیا ہے ، بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ ان کو جہنم کا ایندھن بنا دے۔ قرآن اس کا جواب یہ دیتا ہے کہ یہ ”تعمیری کام“ پہلے بھی بہت سی قوموں نے بڑے پیمانے پر کیے ہیں، پھر کیا تمہاری آنکھوں نے نہیں دیکھا کہ وہ قومیں اپنی تہذیب اور اپنے تمدّن سمیت پیوند ِ خاک ہو گئیں اور ان کی ”تعمیر“ کا قصرِ فلک بوس زمین پر آرہا؟ جس خدا کے قانون نے یہاں عقیدہ ٔ حق اور اخلاقِ صالحہ کے بغیر محض مادّی تعمیر کی یہ قدر کی ہے ، آخر کیا وجہ ہے کہ اسی خدا کا قانون دوسرے جہان میں انہیں واصل جہنم نہ کرے؟
یعنی ایسی نشانیاں لے کر آئے جو ان کے نبی صادق ہونے کا یقین دلانے کے لیے کافی تھیں۔ اس سیاق و سباق میں انبیاء کی آمد کے ذکر کا مطلب یہ ہے کہ ایک طرف انسان کے اپنے وجود میں ، اور اس سے باہر ساری کائنات کے نظام میں، اور انسانی تاریخ کے مسلسل تجربے میں آخرت کی شہادتیں موجود تھیں، اور دوسری طرف پے درپے ایسے انبیاء بھی آئے جن کے ساتھ ان کی نبوت کے برحق ہونے کی کھلی کھلی علامتیں پائی جاتی ہیں اور انہوں نے انسانوں کو خبردار کیا کہ فی الواقع آخرت آنے والی ہے۔
یعنی اس کے بعد جو تباہی ان قوموں پر آئی وہ ان پر خدا کا ظلم نہ تھا بلکہ وہ ان کا اپنا ظلم تھا جو انہوں نے اپنے اوپر کیا۔ جو شخص یا گروہ نہ خود سوچے اور نہ کسی سمجھانے والے کے سمجھانے سے صحیح رویہ اختیار کرے اس پر اگر تباہی آتی ہے تو وہ آپ ہی اپنے برے انجام کا ذمہ دار ہے۔ خدا پر اس کا الزام عائد نہیں کیا جا سکتا۔ خدا نے تو اپنی کتابوں اور اپنے انبیاء کے ذریعہ سے انسان کو حقیقت کا علم دینے کا انتظام بھی کیا ہے ، اور وہ علمی و عقلی وسائل بھی عطا کیے ہیں جن سے کام لے کر وہ ہر وقت انبیاء اور کتب آسمانی کے دیے ہوئے علم کی صحت جانچ سکتا ہے۔ اِس رہنمائی اور ان ذرائع سے اگر خدا نے انسان کو محروم رکھا ہوتا اور اس حالت میں انسان کو غلط روی کے نتائج سے دوچار ہونا پڑتا تب بلاشبہہ خدا پر ظلم کے الزام کی گنجائش نکل سکتی تھی۔
ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوا السُّوْٓاٰۤی اَنْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَكَانُوْا بِهَا یَسْتَهْزِءُوْنَ
آ خرکار جن لوگوں نے بُرائیاں کی تھیں ان کا انجام بہت برا ہوا، اس لیے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا تھا اور وہ ان کا مذاق اڑاتے تھے
اَللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ
اللہ ہی خلق کی ابتدا کرتا ہے ، پھر وہی اس کا اعادہ کرے گا،13 پھر اسی کی طرف تم پلٹائے جاؤ گے
یہ بات اگرچہ دعوے کے انداز میں بیان فرمائی گئی ہے مگر اس میں خود دلیلِ دعویٰ بھی موجود ہے۔ صریح عقل اس بات پر شہادت دیتی ہے کہ جس کے لیے خلق کی ابتدا کرنا ممکن ہو اس کے لیے اسی خلق کا اعادہ کرنا بدرجہ اَولیٰ ممکن ہے۔ خلق کی ابتدا تو ایک امرِ واقعہ ہے جو سب کے سامنے موجود ہے۔ اور کفار و مشرکین بھی مانتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی کا فعل ہے ۔ اس کے بعد ان کا یہ خیال کرنا سراسر نا معقول بات ہے کہ وہی خدا جس نے اس خلق کی ابتدا کی ہے، اس کا اعادہ نہیں کر سکتا۔
وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُبْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ
یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹنے اور اس کے حضور پیش ہونے کی ساعت۔
اصل میں لفظ اِبْلَاس استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی ہیں سخت مایوسی اور صدمے کی بنا پر کسی شخص کا گُم سُم ہو جانا، امید کے سارے راستے بند پا کر حیران و ششدر رہ جانا، کوئی حجت نہ پا کر دم بخود رہ جانا ۔ یہ لفظ جب مجرم کے لیے استعمال کیا جائے تو ذہن کے سامنے اس کی یہ تصویر آتی ہے کہ ایک شخص عین حالتِ جُرم میں بھرے ہاتھو (Red-handed ) پکڑا گیا ہے، نہ فرار کی کوئی راہ پاتا ہے، نہ اپنی صفائی میں کوئی چیز پیش کر کے بچ نکلنے کی توقع رکھتا ہے، اس لیے زبان اس کی بند ہے اور وہ انتہائی مایوسی و دل شکستگی کی حالت میں حیران و پریشان کھڑا ہے۔ اس مقام پر یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ یہاں مجرمین سے مراد صرف وہی لوگ نہیں ہیں جنہوں نے دنیا میں قتل، چوری، ڈاکے اور اسی طرح کے دوسرے جرائم کیے ہیں، بلکہ وہ سب لوگ مراد ہیں جنہوں نے خدا سے بغاوت کی ہے، اس کے رسولوں کی تعلیم و ہدایت کو قبول کرنے سے انکار کیا ہے، آخرت کی جواب دہی کے منکر یا اس سے بے فکر رہے ہیں، اور دنیا میں خدا کے بجائے دوسروں کی یا اپنے نفس کی بندگی کرتے رہے ہیں، خوا ہ اس بنیادی گمراہی کے ساتھ انہوں نے وہ افعال کیے ہوں یا نہ کیے ہوں جنہیں عرف عام میں جرائم کہا جاتا ہے۔ مزید براں اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے خدا کو مان کر، اس کے رسولوں پر ایمان لا کر، آخرت کا اقرار کر کے پھر دانستہ اپنے ربّ کی نافرمانیاں کی ہیں اور آخر وقت تک اپنی اس باغیانہ روش پر ڈٹے رہے ہیں۔ یہ لوگ جب اپنی توقعات کے بالکل خلاف عالمِ آخرت میں یکایک جی اُٹھیں گے اور دیکھیں گے کہ یہاں تو واقعی وہ دوسری زندگی پیش آگئی ہے جس کا انکار کر کے، یا جسے نظر انداز کر کے وہ دنیا میں کام کرتے رہے تھے، تو ان کے حواس باختہ ہو جائیں گے اور وہ کیفیت ان پر طاری ہو گی جس کا نقشہ یُبْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ کے الفاظ میں کھینچا گیا ہے۔
وَلَمْ یَكُنْ لَّهُمْ مِّنْ شُرَكَآىِٕهِمْ شُفَعٰٓؤُا وَكَانُوْا بِشُرَكَآىِٕهِمْ كٰفِرِیْنَ
شُرکاء کا اطلاق تین قسم کی ہستیوں پر ہوتا ہے۔ ایک ملائکہ، انبیاء، اولیاء اور شہداء و صالحین جن کو مختلف زمانوں میں مشرکین نے خدائی صفات و اختیارات کا حامل قرار دے کر ان کے آگے مراسمِ عبودیت انجام دیے ہیں۔ وہ قیامت کے روز صاف کہہ دیں گے کہ تم یہ سب کچھ ہماری مرضی کے بغیر، بلکہ ہماری تعلیم و ہدایت کے سراسر خلاف کرتے رہے ہو، اس لیے ہمارا تم سے کوئی واسطہ نہیں ، ہم سے کوئی امید نہ رکھو کہ ہم تمہاری شفاعت کے لیے خدائے بزرگ کے سامنے کچھ عرض و معروض کریں گے۔ دوسری قسم اُن اشیاء کی ہے جو بے شعور یا بے جان ہیں، جیسے چاند ، سورج، سیّارے ، درخت، پتھر اور حیوانات وغیرہ۔ مشرکین نے ان کو خدا بنایا اور ان کی پرستش کی اور ان سے دعائیں مانگیں، مگر وہ بے چارے بے خبر ہیں کہ اللہ میاں کے خلیفہ صاحب یہ ساری نیاز مندیاں ان کے لیے وقف فر ما رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان میں سے بھی کوئی وہاں ان کی شفاعت کے لیے آگے بڑھنے والا نہ ہو گا۔ تیسری قسم اُن اکابر مجرمین کی ہے جنہوں نے خود کوشش کر کے، مکر و فریب سے کام لے کر ، جھوٹ کے جال پھیلا کر، یا طاقت استعمال کر کے دنیا میں خدا کے بندوں سے اپنی بندگی کرائی، مثلاً شیطان ، جھوٹے مذہبی پیشوا، اور ظالم و جابر حکمراں وغیرہ۔ یہ وہاں خود گرفتارِ بلا ہوں گے، اپنے اِن بندوں کی سفارش کے لیے آگے بڑھنا تو درکنار، اُن کی تو اُلٹی کوشش یہ ہو گی کہ اپنے نامۂ اعمال کا بوجھ ہلکا کریں اور داورِ محشر کے حضور یہ ثابت کردیں کہ یہ لوگ اپنے جرائم کے خود ذمہ دار ہیں، ان کی گمراہی کا وبال ہم پر نہیں پڑنا چاہیے۔ اس طرح مشرکین کو وہاں کسی طرح سے بھی کوئی شفاعت بہم نہ پہنچے گی۔
یعنی اُس وقت یہ مشرکین خود اس بات کا اقرار کر یں گے کہ ہم ان کو خدا کا شریک ٹھیرانے میں غلطی پر تھے۔ ان پر یہ حقیقت کُھل جائے گی کہ فی الواقع ان میں سے کسی کا بھی خدائی میں کوئی حصّہ نہیں ہے ، اس لیے جس شرک پر آج رہ دنیا میں اصرار کر رہے ہیں ، اسی کا وہ آخرت میں انکار کریں گے۔
وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَىِٕذٍ یَّتَفَرَّقُوْنَ
جس روز ساعت برپا ہوگی، اس دن (سب انسان)الگ گروہوں میں بٹ جائیں گے۔18
یعنی دنیا کی وہ تمام جتھ بندیاں جو آج قوم، نسل، وطن ، زبان، قبیلہ و برادری، اور معاشی و سیاسی مفادات کی بنیاد پر بنی ہوئی ہیں ، اُس روز ٹوٹ جائیں گی، اور خالص عقیدے اور اخلاق و کردار کی بنیاد پر نئے سرے سے ایک دوسری جگہ گروہ بندی ہوگی۔ ایک طرف نوع انسانی کی تمام اگلی پچھلی قوموں میں سے مومن و صالح انسان الگ چھانٹ لیے جائیں گے اور ان سب کا ایک گروہ ہو گا۔ دوسری طرف ایک ایک قسم کے گمراہانہ نظریات و عقائد رکھنے والے ، اور ایک ایک قسم کے جرائم پیشہ لوگ اس عظیم الشان انسانی بھیڑ میں سے چھانٹ چھانٹ کر الگ نکال لیے جائیں گے اور ان کے الگ الگ گروہ بن جائیں گے۔ دوسرے الفاظ میں یوں سمجھنا چاہیے کہ اسلام جس چیز کو اِس دنیا میں تفریق اور اجتماع کی حقیقی بنیاد قرار دیتا ہے اور جسے جاہلیت کے پرستار یہاں ماننے سے انکار کرتے ہیں، آخرت میں اسی بنیاد پر تفریق بھی ہو گی اور اجتماع بھی۔ اسلام کہتا ہے کہ انسانوں کو کاٹنے اور جوڑنے والی اصل چیز عقیدہ اور اخلاق ہے۔ ایمان لانے والے اور خدائی ہدایت پر نظام زندگی کی بنیاد رکھے والے ایک امت ہیں، خواہ وہ دنیا کے کسی گوشے سے تعلق رکھتے ہوں ، اور کفر و فسق کی راہ اختیار کرنے والے ایک دوسری امت ہیں ، خواہ ان کا تعلق کسی نسل و وطن سے ہو۔ ان دونوں کی قومیت ایک نہیں ہو سکتی۔ یہ نہ دنیا میں ایک مشترک راہِ زندگی بنا کر ایک ساتھ چل سکتے ہی اور ہ آخرت میں ان کا انجام ایک ہو سکتاہے۔ دنیا سے آخرت تک ان کی راہ اور منزل ایک دوسرے سے الگ ہے۔ جاہلیت کے پرستار اس کے برعکس ہر زمانے میں اصرار کرتے رہے ہیں اور آج بھی اسی بات پر مصر ہیں کہ جتھہ بندی نسل اور وطن اور زبان کی بنیادوں پر ہونی چاہیے، ان بنیادوں کے لحاظ سے جو لوگ مشترک ہوں انہیں بلا لحاظ ِ مذہب و عقیدہ ایک قوم بن کر دوسری ایسی ہی قوموں کے مقابلے میں متحد ہونا چاہیے ، اور اس قومیت کا ایک ایسا نظام ِ زندگی ہو نا چاہیے جس میں توحید اور شرک اور دہریت کے معتقدین سب ایک ساتھ مل کر چل سکیں۔ یہی تخیل ابو جہل اور ابو لہب اور سردارانِ قریش کا تھا، جب وہ بار بار محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر الزام رکھتے تھے کہ اس شخص نے آکر ہماری قوم میں تفرقہ ڈال دیا ہے۔ اسی پر قرآن مجید یہاں متنبہ کر رہا ہے کہ تمہاری یہ تمام جتھہ بندیاں جو تم نے اس دنیا میں غلط بنیادوں پر کر رکھی ہیں آخر کار ٹوٹ جانے والی ہیں، اور نوع انسانی میں مستقل تفریق اُسی عقیدے اور نظریۂ حیات اور اخلاق و کردار کی بنیاد پر ہونے و الی ہے جس پر اسلام دنیا کی اِس زندگی میں کرنا چاہتا ہے۔ جن لوگوں کی منزل ایک نہیں ہے ان کی راہ زندگی آخر کیسے ایک ہو سکتی ہے۔
فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَهُمْ فِیْ رَوْضَةٍ یُّحْبَرُوْنَ
”ایک باغ“ کا لفظ یہاں اُس باغ کی عظمت و شان کا تصوّر دلانے کے لیے استعمال ہو ا ہے۔ عربی زبان کی طرح اردو میں بھی یہ اندازِ بیان اس غرض کے لیے معروف ہے ۔ جیسے کوئی شخص کسی کو ایک بڑا اہم کام کرنے کو کہے اور اس کے ساتھ یہ کہے کہ تم نے یہ کام اگر کر دیا تو میں تمہیں ”ایک چیز“ دوں گا، تو اس سے مراد یہ نہیں ہوتی کہ وہ چیز عدد کے لحاظ سے ایک ہو گی، بلکہ اس سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ اس کے انعام میں تم کو ایک بڑی قیمتی چیز دوں گا جسے پا کر تم نہال ہو جاؤ گے۔
اصل میں لفظ یُحْبَرُوْنَ استعمال ہوا ہے جس کے مفہوم میں مسرّت، لذت، شان و شوکت اور تکریم کے تصوّرات شامل ہیں۔ یعنی وہاں بڑی عزّت کے ساتھ رکھے جائیں گے، خوش و خرم رہیں گے اور ہر طرح کی لذتوں سے شاد کام ہوں گے۔
وَاَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَلِقَآئِ الْاٰخِرَةِ فَاُولٰٓىِٕكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ
اور جنہوں نے کفر کیا ہے اور ہماری آیات کو اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا ہے21 وہ عذاب میں حاضررکھے جائیں گے
یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ ایمان کے ساتھ تو عملِ صالح کا ذکر کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں وہ شاندار انجام نصیب ہو گا، لیکن کفر کا انجامِ بد بیان کرتے ہوئے عملِ بد کا کوئی ذکر نہیں فرمایا گیاہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کفر بجائے خود آدمی کے انجام کو خراب کر دینے کے لیے کافی ہے خواہ عمل کی خرابی اس کے ساتھ شامل ہو یا نہ ہو۔
فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَحِیْنَ تُصْبِحُوْنَ
pیہ ”پس“ اس معنی میں ہے کہ جب تمہیں یہ معلوم ہو گیا کہ ایمان و عمل صالح کا انجام وہ کچھ، اور کفر و تکذیب کا انجام یہ کچھ ہے تو تمہیں یہ طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے۔ نیز یہ ”پس“ اس معنی میں بھی ہے کہ مشرکین و کفار حیاتِ اُخروی کو ناممکن قرار دے کر اللہ تعالیٰ کو دراصل عاجز و درماندہ قرار دے رہے ہیں۔ لہٰذا تم اس کے مقابلہ میں اللہ کی تسبیح کرو اور اِس کمزوری سے اُس کے پاک ہونے کا اعلان کرو۔ اس ارشاد کے مخاطب نبی صلی اللہ علیہ وسلم، اور آپؐ کے واسطے سے تمام اہلِ ایمان ہیں۔/p
pاللہ کی تسبیح کرنے سے مراد اُن تمام عیوب اور نقائص اور کمزوریوں سے ، جو مشرکین اپنے شرک اور انکارِ آخرت سے اللہ کی طرف منسُوب کرتے ہیں، اُس ذاتِ بے ہمتا کے پاک اور منزہ ہونے کا اعلان و اظہار کرنا ہے۔ اِس اعلان و اظہار کی بہترین صورت نماز ہے۔ اِسی بنا پر ابن عباس، مجاہد، قَتادہ، ابن زید اور دوسرے مفسّرین کہتے ہیں کہ یہاں تسبیح کرنے ے مراد نماز پڑھنا ہے۔ اس تفسیر کے حق میں یہ صریح قرینہ خود اس آیت میں موجود ہے کہ اللہ کی پاکی بیان کرنے کے لیے اِس میں چند خاص اوقات مقرر کیے گئے ہیں۔ ظاہر بات ہے کہ اگر محض یہ عقیدہ رکھنا مقصود ہو کہ اللہ تمام عیوب ونقائص سے منزّہ ہے ، تو اس کے لیے صبح و شام اور ظہر و عصر کے اوقات کی پابندی کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ یہ عقیدہ تو مسلمان کو ہر وقت رکھنا چاہیے۔ اسی طرح اگر محض زبان سے اللہ کی پاکی کا اظہار مقصود ہو، تب بھی اِن اوقات کی تخصیص کے کوئی معنی نہیں، کیونکہ یہ اظہار تو مسلمان کو ہر موقع پر کرنا چاہیے۔ اس لیے اوقات کی پابندی کے ساتھ تسبیح کرنے کا حکم لا محالہ اُس کی ایک خاص عملی صورت ہی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اور یہ عملی صورت نماز کے سوا اور کوئی نہیں ہے۔/p
وَلَهُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِیًّا وَّحِیْنَ تُظْهِرُوْنَ
آسمانوں اور زمین میں اسی کے لیے حمد ہے۔ اور (تسبیح کرو اس کی) تیسرے پہر اور جبکہ تم پر ظہر کا وقت آتا ہے۔24
اس آیت میں نماز کے چار اوقات کی طرف صاف اشارہ ہے: فجر، مغرب، عصر اور ظہر۔ اس کے علاوہ مزید اشارات جو قرآن مجید میں اوقات نماز کی طرف کیے گئے ہیں، حسبِ ذیل ہیں: اَقِمِ الصَّلوٰۃَ لِدُلُوْکِ الشَّمْسِ اِلیٰ غَسَقِ الَّیْلِ وَقُرْاٰ نَ الْفَجْرِ (بنی اسرائیل، آیت 78)۔ نماز قائم کرو آفتاب ڈھلنے کے بعد سے رات کی تاریکی تک، اور فجر کے وقت قرآن پڑھنے کا اہتمام کرو۔ وَاَقِمِ الصَّلوٰۃَ طَرَفَیِ النَّھَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ۔ (ہود۔ آیت 114)۔ اور نماز قائم کرو دن کے دونوں سروں پر اور کچھ رات گزرنے پر۔ وَسَبِّحْ بَحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِھَا وَمِنْ اٰنَآ یِٔ الَّیْلِ فَسَبِّحْ وَاَطْرَافَ النَّھَارِ۔ (طٰہٰ۔ آیت 13۰)۔ اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو سورج نکلنے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے، اور رات کی کچھ گھڑیوں میں پھر تسبیح کرو، اور دن کے کناروں پر۔ ان میں سے پہلی آیت بتاتی ہے کہ نماز کے اوقات زوالِ آفتاب کے بعد سے عشاء تک ہیں، اور اس کے بعد پھر فجر کا وقت ہے۔ دوسری آیت میں دن کے دونوں سروں سے مراد صبح اور مغرب کے اوقات ہیں اور کچھ رات گزرنے پر سے مراد عشا کا وقت۔ تیسری آیت میں قبلِ طلوعِ آفتاب سے مراد فجر اور قبلِ غروب ِ آفتاب سے مراد عصر۔ رات کی گھڑیوں میں مغرب اور عشاء دونوں شامل ہیں۔ اور دن کے کنارے تین ہیں، ایک صبح ، دوسرے زوالِ آفتاب، تیسرے مغرب۔ اس طرح قرآن مجید مختلف مقامات پر نماز کے اُن پانچوں اوقات کی طرف اشارہ کرتا ہے جن پر آج دنیا بھر کے مسلمان نماز پڑھتے ہیں۔ لیکن ظاہر ہے کہ محض اِن آیات کو پڑھ کر کوئی شخص بھی اوقات نماز متعین نہ کر سکتا تھا جب تک کہ اللہ کے مقرر کیے ہوئے معلّمِ قرآن ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنے قول اور عمل سے ان کی طرف رہنمائی نہ فرماتے۔ یہاں ذرا تھوڑی دیر ٹھیر کر منکرینِ حدیث کی اِس جسارت پر غور کیجیے کہ وہ ”نماز پڑھنے“ کا مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ نماز جو آج مسلمان پڑھ رہے ہیں یہ سرے سے وہ چیز ہی نہیں ہے جس کا قرآن میں حکم دیا گیا ہے۔ اُن کا ارشاد ہے کہ قرآن تو اقامتِ صلوٰۃ کا حکم دیتا ہے ، اور اس سے مراد نماز پڑھنا نہیں بلکہ، ”نظامِ ربوبیت“ قائم کرنا ہے۔ اب ذرا ان سے پوچھیے کہ وہ کونسا نرالا نظام ِ ربوبیت ہے جسے یا تو طلوعِ آفتاب سے پہلے قائم کیا جا سکتا ہے یا پھر زوالِ آفتاب کے بعد سے کچھ رات گزرنے تک؟ اور وہ کونسا نظامِ ربوبیت ہے جو خاص جمعہ کے دن قائم کیا جانا مطلوب ہے؟ (اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلوٰۃِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ فَا سْعَوْا اِلیٰ ذِکْرِ اللہِ)۔ اور نظام ِ ربوبیت کی آخر وہ کونسی خاص قسم ہے کہ اسے قائم کرنے کے لیے جب آدمی کھڑا ہو تو پہلے منہ اور کہنیوں تک ہاتھ اور ٹخنوں تک پاؤں دھو لے اور سر پر مسح کر لے ورنہ وہ اسے قائم نہیں کر سکتا؟ (اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلوٰۃِ فَا غْسِلُوْا وُجُوْ ھَکُمْ وَاَیْدِیَکُمْ اِلَی الْمَرَافِقِ)۔ اور نظام ربوبیت کے اندر آخر یہ کیا خصوصیت ہے کہ اگر آدمی حالتِ جَنابت میں ہو تو جب تک وہ غسل نہ کر لے اسے قائم نہیں کر سکتا؟ (لَا تَقْرَبُو ا الصَّلوٰۃَ ۔۔۔۔وَلَا جُنَبًا اِلَّا عَابِرِیْ سَبِیْلٍ حَتّٰی تَغْتَسِلُوْا)۔ اور یہ کیا معاملہ ہے کہ اگر آدمی عورت کو چھو بیٹھا ہو اور پانی نہ ملے تو اس عجیب و غریب نظام ِ ربوبیت کو قائم کرنے کے لیے اسے پاک مٹی پر ہاتھ مار کر اپنے چہرے اور منہ پر ملنا ہو گا؟ (اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآ ءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَا مْسَحُوْا بِوُجُوْھِکُمْ وَاَیْدِیَکُمْ مِّنْہُ )۔ اور یہ کیسا عجیب نظامِ ربوبیت ہے کہ اگر سفر پیش آجائے تو آدمی اسے پورا قائم کرنے کے بجائے آدھا ہی قائم کر لے؟ (وَاِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلوٰۃِ)۔ پھر یہ کیا لطیفہ ہے کہ اگر جنگ کی حالت ہو تو فوج کے آدھے سپاہی ہتھیار لیے ہوئے امام کے پیچھے ”نظامِ ربوبیت“ قائم کرتے رہیں اور آدھے دشمن کے مقابلے میں ڈٹے رہیں، اس کے بعد جب پہلا گروہ امام کے پیچھے”نظامِ ربوبیت قائم“ کرتے ہوئے ایک سجدہ کر لے تو وہ اُٹھ کر دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے چلا جائے ، اور دوسرا گروہ اس کی جگہ آکر امام کے پیچھے اس ”نظام ربوبیت“ کو قائم کرنا شروع کر دے (وَاِذَا کُنْتَ فِیْھِمْ فَاَقَمْتَ لَہُمُ الصَّلوٰۃَ فَلْتَقُمْطَآ ئِفَۃٌ مِّنْھُمْ مَّعَکَ وَلْیَاْ خُذُؤْ ا اَسْلِحَتَہُمْ فَاِذَا سَجَدُوْا فَلْیَکُوْنُوْا مِنْ وَّرَآئِکُمْ وَلْتَاْتِ طَآ ئِفَۃٌ اُخْرٰی لَمْ یُصَلُّوْا فَلْیُصَلُّوْا مَعَکَ)۔ قرآن مجید کی یہ ساری آیات صاف بتا رہی ہیں کہ اقامتِ صلوٰۃ سے مراد وہی نماز قائم کرنا ہے جو مسلمان دنیا بھر میں پڑھ رہے ہیں، لیکن منکرینِ حدیث ہیں کہ خود بدلنے کے بجائے قرآن کو بدلنے پر اصرار کیے چلے جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں بالکل ہی بے باک نہ ہو جائے وہ اس کے کلام کے ساتھ یہ مذاق نہیں کر سکتا جو یہ حضرات کر رہے ہیں ۔ یا پھر قرآن کے ساتھ یہ کھیل وہ شخص کھیل سکتا ہے جو اپنے دل میں اسے اللہ کا کلام نہ سمجھتا ہو اور محض دھوکا دینے کے لیے قرآن قرآن پکار کر مسلمانوں کو گمراہ کر نا چاہتا ہو۔ ( اس سلسلہ میں آگے حاشیہ 5۰ بھی ملاحظہ ہو)۔
یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَیُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَیُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ؕ وَكَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ
وہ زندہ میں سے مردے کو نکالتا ہے اور مردے میں سے زندہ کو نکال لاتا ہے اور زمین کو اس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے۔25 اسی طرح تم لوگ بھی (حالتِ موت سے) نکال لیے جاؤ گے
یعنی جو خدا ہر آن تمہاری آنکھوں کے سامنے یہ کام کر رہا ہے وہ آخر انسان کو مرنے کے بعد دوبارہ زندگی بخشنے سے عاجز کیسے ہو سکتا ہے۔ وہ ہر وقت زندہ اور حیوانات میں سے فضلات ( Waste Matter ) خارج کر رہا ہے جن کے اندر زندگی کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔ وہ ہر لمحہ بے جان مادے(Dead Matter ) کے اندر زندگی کی روح پھونک کر بے شمار جیتے جاگے حیوانات ، نباتات اور انسان وجود میں لا رہا ہے، حالاں کہ بجائے خود اُن مادّوں میں، جن سے اِن زندہ ہستیوں کے جسم مرکّب ہوتے ہیں قطعًا کوئی زندگی نہیں ہوتی۔ وہ ہر آن یہ منظر تمہیں دکھا رہا ہے کہ بنجر پڑی ہوئی زمین کو جہاں پانی میسر آیا اور یکایک وہ حیوانی اور نباتی زندگی کے خزانے اُگلنا شروع کر دیتی ہے۔ یہ سب کچھ دیکھ کر بھی اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کارخانۂ ہستی کو چلانے والا خدا انسان کے مر جانے کے بعد اسے دوبارہ زندہ کرنے سے عاجز ہے تو حقیقت میں وہ عقل کا اندھا ہے۔ اس کے سر کی آنکھیں جن ظاہری مناظر کو دیکھتی ہیں ، اس کی عقل کی آنکھیں ان کے اندر نظر آنے والے روشن حقائق کو نہیں دیکھتیں۔
وَمِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَاۤ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ
pخبردار رہنا چاہیے کہ یہاں سے رکوع کے خاتمہ تک اللہ تعالیٰ کی جو نشانیاں بیان کی جارہی ہیں وہ ایک طرف تو اوپر کے سلسلۂ کلام کی مناسبت سے حیاتِ اُخروی کے امکان و وقوع پر دلالت کرتی ہیں ، اور دوسری طرف یہی نشانیاں اس بات پر بھی دلالت کرتی ہیں کہ یہ کائنات نہ بے خدا ہے اور نہ اس کے بہت سے خدا ہیں، بلکہ صرف ایک خدا اس کا تنہا خالق، مدبّر، مالک اور فرمانروا ہے جس کے سوا انسانوں کا کوئی معبود نہیں ہونا چاہیے۔ اس طرح یہ رکوع اپنے مضمون کے لحاظ سے تقریر ما سبق اور تقریر مابعد ، دونوں کے ساتھ مربوط ہے۔/p
pیعنی انسان کا مایۂ تخلیق اِس کے سوا کیا ہے کہ چند بے جان مادّے ہیں جو زمین میں پائے جاتے ہیں ۔ مثلاً کچھ کاربن، کچھ کیلسیم، کچھ سوڈیم اور ایسے ہی چند اور عناصر۔ انہی کو ترکیب دے کر وہ حیرت انگیز ہستی بنا کھڑی کی گئی ہے جس کا نام انسان ہے اور اس کے اندر احساسات، جذبات، شعور، تغفُّل اور تخیُّل کی وہ عجیب قوتیں پیدا کر دی گئی ہیں جن میں سے کسی کا منبع بھی اس کے عناصر ترکیبی میں تلاش نہیں کیا جا سکتا۔ پھر یہی نہیں کہ ایک انسان اتفاقاً ایسا بن کھڑا ہوا ہو، بلکہ اس کے اندر وہ عجیب تولیدی قوت بھی پیدا کر دی گئی جس کی بدولت کروڑوں اور اربوں انسان وہی ساخت اور وہی صلاحیتیں لیے ہوئے بے شمار موروثی اور بے حد و حساب انفرادی خصوصیات کے حامل نکلتے چلے آرہے ہیں۔ کیا تمہاری عقل یہ گواہی دیتی ہے کہ یہ انتہائی حکیمانہ خلقت کسی صانع حکیم کی تخلیق کے بغیر آپ سے آپ ہو گئی ہے؟ کیا تم بحالتِ ہوش و حواس یہ کہہ سکتے ہو کہ تخلیق انسان جیسا عظیم الشان منصوبہ بنانا اور اس کو عمل میں لانا اور زمین و آسمان کی بے حد و حساب قوتوں کو انسانی زندگی کے لیے سازگار کر دینا بہت سے خداؤں کی فکر و تدبّر کا نتیجہ ہو سکتا ہے؟ اور کیا تمہارا دماغ اپنی صحیح حالت میں ہوتا ہے جب تم یہ گمان کرتے ہو کہ جو خدا انسان کو خالص عدم سے وجود میں لایا ہے وہ اسی انسان کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ نہیں کر سکتا؟/p
وَمِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَیْهَا وَجَعَلَ بَیْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ
یعنی خالق کا کمال ِ حکمت یہ ہے کہ اس نے انسان کی صرف ایک صِنف نہیں بنائی، بلکہ اسے دو صنفوں(Sexes ) کی شکل میں پیدا کیا جو انسانیت میں یکساں ہیں، جن کی بناوٹ کا بنیادی فارمولا بھی یکساں ہے، مگر دونوں ایک دوسرے سے مختلف جسمانی ساخت، مختلف ذہنی و نفسی اوصاف، اور مختلف جذبات و داعیات لے کر پیدا ہوتی ہیں۔ اور پھر ان کے درمیان یہ حیرت انگیز مناسبت رکھ دی گئی ہے کہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کا پورا جوڑ ہے، ہر ایک کا جسم اور اس کے نفسیات و داعیات دوسرے کے جسمانی و نفسیاتی تقاضوں کا مکمل جواب ہیں۔ مزید براں وہ خالقِ حکیم اِن دونوں صنفوں کے افراد کو آغازِ آفرینش سے برابر تناسب کے ساتھ پیدا کیے چلا جا رہا ہے کہ آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا کہ دنیا کی کسی قوم یا کسی خطۂ زمین میں صرف لڑکے ہی لڑکے پیدا ہوئے ہوں، یا کہیں کسی قوم میں صرف لڑکیاں ہی لڑکیاں پیدا ہوتی چلی گئی ہوں۔ یہ ایسی چیز ہے جس میں کسی انسانی تدبیر کا قطعًا کوئی دخل نہیں ہے۔ انسان ذرہ برابر بھی نہ اِس معاملہ میں اثر انداز ہو سکتا ہے کہ لڑکیاں مسلسل ایسی زنا نہ خصوصیات اور لڑکے مسلسل ایسی مردانہ خصوصیات لیے ہوئے پیدا ہوتے رہیں جو ایک دوسرے کا ٹھیک جوڑ ہوں، اور نہ اِس معاملہ ہی میں اس کے پاس اثر انداز ہونے کا کوئی ذریعہ ہے کہ عورتوں اور مردوں کی پیدائش اس طرح مسلسل ایک تناسب کے ساتھ ہوتی چلی جائے۔ ہزارہا سال سے کروڑوں اور اربوں انسانوں کی پیدائش میں اس تدبیر و انتظام کا اتنے متناسب طریقے سے پیہم جاری رہنا اتفاقاً بھی نہیں ہو سکتا، اور یہ بہت سے خداؤں کی مشترک تدبیر کا نتیجہ بھی نہیں ہو سکتا۔ یہ چیز صریحًا اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ ایک خالقِ حکیم، اور ایک ہی خالقِ حکیم نے اپنی غالب حکمت وقدرت سے ابتداءً مرد اور عورت کا ایک موزوں ترین ڈیزائن بنایا، پھر اس بات کا انتظام کیا کہ اس ڈیزائن کے مطابق بے حد و حساب مرد اور بے حد و حساب عورتیں اپنی الگ الگ انفرادی خصوصیات لیے ہوئے دنیا بھر میں ایک تناسب کے ساتھ پیدا ہوں۔
یعنی یہ انتظام الل ٹپ نہیں ہو گیا ہے کہ بلکہ بناے والے نے بالارادہ اِس غرض کے لیے یہ انتظام کیا ہے کہ مرد اپنی فطرت کے تقاضے عورت کے پاس، اور عورت اپنی فطرت کی مانگ مرد کے پاس پائے ، اور دونوں ایک دوسرے سے وابستہ ہر کر ہی سکون و اطمینان حاصل کریں۔ یہی وہ حکیمانہ تدبیر ہے جسے خالق نے ایک طرف انسانی نسل کے برقرار رہنے کا، اور دوسری طرف انسانی تہذیب و تمدن کو وجود میں لانے کا ذریعہ بنایا ہے۔ اگر یہ دونوں صنفیں محض الگ الگ ڈیزائنوں کے ساتھ پیدا کر دی جاتیں اور ان میں وہ اضطراب نہ رکھ دیا جاتا جو اُن کے باہمی اتصال و وابستگی کے بغیر مبدّل بسکون نہیں ہو سکتا، تو انسانی نسل تو ممکن ہے کہ بھیڑ بکریوں کی طرح چل جاتی، لیکن کسی تہذیب و تمدّن کے وجود میں آنے کا کوئی امکان نہ تھا۔ تمام انواع حیوانی کے برعکس نوع انسانی میں تہذیب و تمدّن کے رونما ہونے کا بنیادی سبب یہی ہے کہ خالق نے اپنی حکمت سے مرد اور عورت میں ایک دوسرے کے لیے وہ مانگ، وہ پیاس ، وہ اضطراب کی کیفیت رکھ دی جسے سکون میسّر نہیں آتا جب تک کہ وہ ایک دوسرے سے جُڑ کر نہ رہیں۔ یہی سکون کی طلب ہے جس نے انہیں مل کر گھر بنانے پر مجبور کیا۔ اسی کی بدولت خاندان اور قبیلے وجود میں آئے۔ اور اسی کی بدولت انسان کی زندگی میں تمدُّن کا نشوو نما ہوا۔ اس نشو ونما میں انسان کی ذہنی صلاحیتیں مددگار ضرور ہوئی ہیں مگر وہ اس کی اصلی محرک نہیں ہیں۔ اصل محرک یہی اضطراب ہے جسے مرد و عورت کے وجود میں ودیعت کر کے انہیں ”گھر“ کی تاسیس پر مجبور ر دیا گیا۔ کون صاحبِ عقل یہ سوچ سکتا ہے کہ دانائی کا یہ شاہکار فطرت کی اندھی طاقتوں سے محض اتفاقًا سر زد ہو گیا ہے؟ یا بہت سے خدا یہ انتظام کر سکتے تھے کہ اس گہرے حکیمانہ مقصد کو ملحوظ رکھ کر ہزار ہا برس سے مسلسل بے شمار مردوں اور بے شمار عورتوں کو یہ خاص اضطراب لیے ہوئے پیدا کر تے چلے جائیں؟ یہ تو ایک حکیم اور ایک ہی حکیم کی حکمت کا صریح نشان ہے جسے صرف عقل کے اندھے ہی دیکھنے سے انکار کر سکتے ہیں۔
محبت سے مراد یہاں جنسی محبت (Sexual Love ) ہے جو مرد اور عورت کے اندر جذب و کشش کی ابتدائی محرک بنتی ہے اور پھر انہیں ایک دوسرے سے چسپاں کیے رکھتی ہے ۔ اور رحمت سے مراد وہ روحانی تعلق ہے جو ازدواجی زندگی میں بتدریج ابھرتا ہے، جس کی بدولت وہ ایک دوسرے کے خیر خواہ ، ہمدرد و غم خوار اور شریکِ رنج و راحت بن جاتے ہیں، یہاں تک کہ ایک وقت ایسا آتا ہے جب جنسی محبت پیچھے جا پڑتی ہے اور بڑھاپے میں یہ جیون ساتھی کچھ جوانی سے بھی بڑھ کر ایک دوسرے کے حق میں رحیم و شفیق ثابت ہوتے ہیں۔ یہ دو مثبت طاقتیں ہیں جو خالق نے اُس ابتدائی اضطراب کی مدد کے لیے انسان کے اندر پیدا کی ہیں جس کا ذکر اوپر گزرا ہے۔ وہ اضطراب تو صرف سکون چاہتا ہے اور اس کی تلاش میں مرد و عورت کو ایک دوسرے کی طرف لے جاتا ہے۔ اس کے بعد یہ دو طاقتیں آگے بڑھ کر ان کے درمیان مستقل رفاقت کا ایسا رشتہ جوڑ دیتی ہیں جو دو الگ ماحولوں میں پرورش پائے ہوئے اجنبیوں کو ملا کر کچھ اس طرح پیوستہ کرتا ہے کہ عمر بھر وہ زندگی کے منجدھار میں اپنی کشتی ایک ساتھ کھینچتے رہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ محبت و رحمت جس کا تجربہ کروڑوں انسانوں کو اپنی زندگی میں ہو رہا ہے، کوئی مادّی چیز نہیں ہے جو وزن اور پیمائش میں آسکے، نہ انسانی جسم کے عناصر ترکیبی میں کہیں اس کے سرچشمے کی نشان دہی کی جا سکتی ہے، نہ کسی لیبارٹری میں اس کی پیدائش اور اس کی نشو ونما کے اسباب کا کھوج لگایا جا سکتا ہے۔ اس کی کوئی توجیہ اس کے سوا نہیں کی جا سکتی کہ ایک خالقِ حکیم نے بالارادہ ایک مقصد کے لیے پوری مناسبت کے ساتھ اسے نفسِ انسانی میں ودیعت کر دیا ہے۔
وَمِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَاَلْوَانِكُمْ ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْعٰلِمِیْنَ
یعنی اُن کا عدم سے وجود میں آنا ، اور ایک اٹل ضابطے پر ان کا قائم ہونا، اور بے شمار قوتوں کا ان کے اندر انتہائی تناسُب و توازُن کے ساتھ کام کرنا، اپنے اندر اس بات کی بہت سی نشانیاں رکھتا ہے کہ اس پوری کائنات کو ایک خالق اور ایک ہی خالق وجود میں لایا ہے، اور وہی اس عظیم الشان نظام کی تدبیر کر رہا ہے۔ ایک طرف اگر اس بات پر غور کیا جائے کہ وہ ابتدائی قوت (Energy ) کہاں سے آئی جس نے مادّے کی شکل اختیار کی، پھر مادّے کے یہ بہت سے عناصر کیسے بنے، پھر ان عناصر کی اس قدر حکیمانہ ترکیب سے اتنی حیرت انگیز مناسبتوں کے سساتھ یہ مدہوش کن نظامِ عالم کیسے بن گیا، اور اب یہ نظام کروڑ ہا کروڑ صدیوں سے کس طرح ایک زبردست قانونِ فطرت کی بندش میں کسا ہو ا چل رہا ہے، تو ہر غر متعصب عقل اس نتیجے پر پہنچے گی کہ یہ سب کچھ کسی علیم و حکیم کے غالب ارادے کے بغیر محض بخت و اتفاق کے نتیجے میں نہیں ہو سکتا۔ اور دوسری طرح اگر یہ دیکھا جائے کہ زمین سے لے کر کائنات کے بعید ترین سیاروں تک سب ایک ہی طرح کے عناصر سے مرکب ہیں اور ایک ہی قانونِ فطرت ان میں کار فرما ہے تو ہر عقل جو ہٹ دھرم نہیں ہے، بلا شبہہ یہ تسلیم کرے گی کہ یہ سب کچھ بہت سے خداؤں کی خدائی کا کرشمہ نہیں ہے بلکہ ایک ہی خدا اِس پوری کائنات کا خالق اور ربّ ہے۔
یعنی با وجود یکہ تمہارے قوائے نطقیہ یکساں ہیں، نہ منہ اور زبان کی ساخت میں کوئی فرق ہے اور نہ دماغ کی ساخت میں، مگر زمین کے مختلف خِطّوں میں تمہاری زبانیں مختلف ہیں، پھر ایک ہی زبان بولنے والے علاقوں میں شہر شہر اور بستی بستی کی بولیاں مختلف ہیں، اور مزید یہ کہ ہر شخص کا لہجہ اور تلفظ اور طرزِ گفتگو دوسرے سے مختلف ہے۔ اِسی طرح تمہارا مادّہ ٔ تخلیق اور تمہاری بناوٹ کا فارمولا ایک ہی ہے، مگر تمہارے رنگ اس قدر مختلف ہیں کہ قوم اور قوم تو درکنار، ایک ماں باپ کے دو بیٹوں کا رنگ بھی بالکل یکساں نہیں ہے۔ یہاں نمونے کے طور پر صرف دو ہی چیزوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ لیکن اسی رُخ پر آگے بڑھ کر دیکھیے تو دنیا میں آپ ہر طرح اتنا تنوُّع (Variety ) پائیں گے کہ اس کا احاطہ مشکل ہو جائے گا۔ انسان، حیوان، نباتات اور دوسری تمام اشیاء کی جس نوع کو بھی آپ لے لیں اس کے افرا د میں بنیادی یکسانی کے باوجود بے شمار اختلافات موجود ہیں، حتّٰی کہ کسی نوع کا بھی کوئی ایک فرد دوسرے سے بالکل مشابہہ نہیں ہے، حتیٰ کہ ایک درخت کے دو پتوں میں بھی پوری مشابہت نہیں پائی جاتی۔ یہ چیز صاف بتا رہی ہے کہ یہ دنیا کوئی ایسا کارخانہ نہیں ہے جس میں خود کار مشینیں چل رہی ہوں اور کثیر پیدا آوری(Mass Production ) کے طریقے پر ہر قسم کی اشیاء کا بس ایک ایک ٹھپّہ ہو جس سے ڈھل ڈھل کر ایک ہی طرح کی چیزیں نکلتی چلی آرہی ہوں۔ بلکہ یہاں ایک ایسا زبردست کاریگر کام کر رہا ہے جو ہر ہر چیز کو پوری انفرادی توجہ کے ساتھ ایک نئے ڈیزائن ، نئے نقش و نگار، نئے تناسُب اور نئے اوصاف کے ساتھ بناتا ہے اور اس کی بنائی ہوئی ہر چیز اپنی جگہ منفرد ہے۔ اس کی قوت ایجاد ہر آن ہر چیز کا ایک نیا ماڈل نکال رہی ہے، اور اس کی صناعی ایک ڈیزائن کو دوسری مرتبہ دوہرانا اپنے کمال کی توہین سمجھتی ہے۔ اس حیرت انگیز منظر کو جو شخص بھی آنکھیں کھول کر دیکھے گا وہ کبھی اس احمقانہ تصور میں مبتلا نہیں ہو سکتا کہ اس کائنات کا بنانے والا ایک دفعہ اس کارخانے کو چلا کر کہیں جا سویا ہے۔ یہ تو اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ وہ ہر وقت کارِ تخلیق میں لگا ہوا ہے اور اپنی خلق کی ایک ایک چیز پر انفرادی توجہ صرف کر رہا ہے۔
وَمِنْ اٰیٰتِهٖ مَنَامُكُمْ بِالَّیْلِ وَالنَّهَارِ وَابْتِغَآؤُكُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ
اور اس کی نشانیوں میں سے تمہارا رات اور دن کو سونا اور تمہارا اس کے فضل کو تلاش کرنا ہے۔33 یقیناًاس میں سے بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو (غور سے) سنتے ہیں
فضل کو تلاش کرنے سے مراد رزق کی تلاش میں دوڑ دھوپ کرنا ہے۔ انسان اگرچہ بالعموم رات کو سوتا اور دن کو اپنی معاش کے لیے جدوجہد کرتا ہے ، لیکن یہ کُلّیہ نہیں ہے۔ بہت سے انسان دن کو بھی سوتے اور رات کو بھی معاش کے لیے کام کرتے ہیں۔ اسی لیے رات اور دن کا اکٹھا ذکر کر کے فرمایا کہ ان دونوں اوقات میں تم سوتے بھی ہو اور اپنی معاش کے لیے دوڑ دھوپ بھی کرتے ہو۔ یہ چیز بھی اُن نشانیوں میں سے ہے جو ایک خالقِ حکیم کی تدبیر کا پتہ دیتی ہیں۔ بلکہ مزید برآں یہ چیز اس بات کی نشان دہی بھی کرتی ہے کہ وہ محض خالق ہی نہیں ہے بلکہ اپنی مخلوق پر غایت درجہ رحیم و شفیق اور اس کی ضروریات اور مصلحتوں کے لیے خود اُسے سے بڑھ کر فکر کرنے والا ہے ۔ انسان دنیا میں مسلسل محنت نہیں کر سکتا بلکہ ہر چند گھنٹوں کی محنت کے بعد اسے چند گھنٹوں کے لیے آرام درکار ہوتا ہے تا کہ پھر چند گھنٹے محنت کرنے کے لیے اسے قوت بہم پہنچ جائے۔ اس غرض کے لیے خالقِ حکیم و رحیم نے انسان کے اندر صرف تکان کا احساس، اور صرف آرام کی خواہش پیدا کر دینے ہی پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ اس نے ”نیند“ کا ایک ایسا زبردست داعیہ اس کے وجود میں رکھ دیا جو اس کے ارادے کے بغیر، حتیٰ کہ اس کی مزاحمت کے باوجود ، خود بخود ہر چند گھنٹوں کی بیداری و محنت کے بعد اسے آدبوچتا ہے، چند گھنٹے آرام لینے پر اس کو مجبور کر دیتا ہے، اور ضرورت پوری ہو جانے کے بعد خودبخود اسے چھوڑ دیتا ہے۔ اس نیند کی ماہیت و کیفیت اور اس کے حقیقی اسباب کو آج تک انسان نہیں سمجھ سکا ہے۔ یہ قطعًا ایک پیدائشی چیز ہے جو آدمی کی فطرت اور اس کی ساخت میں رکھ دی گئی ہے ۔ اس کا ٹھیک انسان کی ضرورت کے مطابق ہونا ہی اس بات کی شہادت دینے کے لیے کافی ہے کہ یہ ایک اتفاقی حادثہ نہیں ہے بلکہ کسی حکیم نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق یہ تدبیر و ضع کی ہے۔ اس میں ایک بڑی حکمت و مصلحت اور مقصدیت صاف طور پر کار فرما نظر آتی ہے۔ مزید براں یہی نیند اس بات پر بھی گواہ ہے کہ جس نے یہ مجبور کُن داعیہ انسان کے اندر رکھا ہے وہ انسان کے حق میں خود اس سے بڑھ کر خیر خواہ ہے، ورنہ انسان بالارادہ نیند کی مزاحمت کر کے اور زبردستی جاگ جاگ کر اور مسلسل کام کر کر کے اپنی قوتِ کار کو ہی نہیں، قوتِ حیات تک کو ختم کر ڈالتا ۔ پھر رزق کی تلاش کے لیے ”اللہ کے فضل کی تلاش“ کا لفظ استعمال کر کے نشانیوں کے ایک دوسرے سلسلے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ آدمی آخر یہ رزق تلاش ہی کہاں کر سکتا تھا اگر زمین و آسمان کی بے حد و حساب طاقتوں کو رزق کے اسباب و ذرائع پیدا کرنے میں نہ لگا دیا گیا ہوتا، اور زمین میں انسان کے لیے رزق کے بے شمار ذرائع نہ پیدا کر دیے گئے ہوتے ۔ صرف یہی نہیں، بلکہ رزق کی یہ تلاش اور اس کا اکتساب اُس صورت میں بھی ممکن نہ ہوتا اگر انسان کو اِس کام کے لیے مناسب ترین اعضاء اور مناسب ترین جسمانی اور ذہنی صلاحیتیں نہ دی گئی ہوتیں۔ پس آدمی کے اندر تلاشِ رزق کی قابلیت اور اُس کے وجود سے باہر وسائل ِ رزق کی موجودگی، صاف صاف ایک ربِّ رحیم و کریم کے وجود کا پتہ دیتی ہے۔ جو عقل بیمار نہ ہو وہ کبھی یہ فرض نہیں کر سکتی کہ یہ سب کچھ اتفاقًا ہو گیا ہے، یا یہ بہت سے خداؤں کی خدائی کا کرشمہ ہے، یا کوئی بے درد اندھی قوت اِس فضل و کرم کی ذمّہ دار ہے۔
وَمِنْ اٰیٰتِهٖ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّطَمَعًا وَّیُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَیُحْیٖ بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ
یعنی اس کی گرج اور چمک سے امید بھی بندھتی ہے کہ بارش ہو گی اور فصلیں تیار ہوں گی، مگر ساتھ ہی خوف بھی لاحق ہوتا ہے کہ کہیں بجلی نہ گر پڑے یا ایسی طوفانی بارش نہ ہو جائے جو سب کچھ بہا لے جائے۔
یہ چیز ایک طرف حیات بعد الموت کی نشان دہی کرتی ہے ، اور دوسری طرف یہی چیز اِ س امر پر بھی دلالت کرتی ہے کہ خدا ہے، اور زمین وآسمان کی تدبیر کرنے والا ایک ہی خدا ہے ۔ زمین کی بے شمار مخلوقات کے رزق کا انحصار اُس پیداوار ہر ہے جو زمین سے نکلتی ہے۔ اس پیداوار کا انحصار زمین کی صلاحیت ِ بار آوری پر ہے۔ اس صلاحیت کے روبکار آنے کا انحصار بارش پر ہے ، خواہ وہ براہِ راست زمین پر برسے، یا اس کے ذخیرے سطحِ زمین پر جمع ہوں، یا زیر زمین چشموں اور کنوؤں کی شکل اختیار کریں ، یا پہاڑوں پر یخ بستہ ہو کر دریاؤں کی شکل میں بہیں۔ پھر اس بارش کا انحصار سورج کی گرمی پر، موسموں کے ردو بدل پر ، فضائی حرارت و برودت پر ، ہواؤں کی گردش پر، اور اُ س بجلی پر ہے جو بادلوں سے بارش برسنے کی محرک بھی ہوتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ بارش کے پانی میں ایک طرح کی قدرتی کھا د بھی شامل کردیتی ہے۔ زمین سے لے کر آسمان تک کی اِن تمام مختلف چیزوں کے درمیان یہ ربط اور مناسبتیں قائم ہونا، پھر ان سب کا بے شمار مختلف النوع مقاصد اور مصلحتوں کے لیے صریحًا سازگار ہونا، اور ہزاروں لاکھوں برس تک اِن کا پوری ہم آہنگی کے ساتھ مسلسل سازگاری کرتے چلے جانا ، کیا یہ سب کچھ محض اتفاقًا ہو سکتا ہے؟ کیا یہ کسی صانع کی حکمت اور اس کے سوچے سمجھے منصوبے اور اس کی غالب تدبیر کے بغیر ہو گیا ہے؟ اور کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ زمین ، سورج ، ہوا ، پانی، حرارت، برودت، اور زمین کی مخلوقات کا خالق اور ربّ ایک ہی ہے؟
وَمِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ تَقُوْمَ السَّمَآءُ وَالْاَرْضُ بِاَمْرِهٖ ؕ ثُمَّ اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً مِّنَ الْاَرْضِ اِذَاۤ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ
یعنی صرف یہی نہیں کہ وہ اُس کے حکم سے ایک دفعہ وجود میں آگئے ہیں ، بلکہ ان کا مسلسل قائم رہنا اور ان کے اندر ایک عظیم الشان کارگاہِ ہستی کا پیہم چلتے رہنا بھی اسی کے حکم کی بدولت ہے۔ ایک لمحہ کے لیے بھی اگر اس کا حکم انہیں بر قرار نہ رکھے تو یہ سارا نظام یک لخت درہم برہم ہو جائے۔
یعنی کائنات کے خالق و مدبر کے لیے تمہیں دوبارہ زندہ کر کے اٹھانا کوئی ایسا بڑا کام نہیں ہے کہ اُسے اِس کے لیے بہت بڑی تیاریاں کرنی ہوں گی، بلکہ اس کی صرف ایک پکار اِس کے لیے بالکل کافی ہوگی کہ آغازِ آفرینش سے آج تک جتنے انسان دنیا میں پیدا ہوئے ہیں اور آئندہ پیدا ہوں گے وہ سب ایک ساتھ زمین کے ہر گوشے سے نِکل کھڑے ہوں۔
وَلَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ
آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں اُس کے بندے ہیں، سب کے سب اسی کے تابع فرمان ہیں
وَهُوَ الَّذِیْ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَیْهِ ؕ وَلَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ
وہی ہے جو تخلیق کی ابتد کرتا ہے، پھر وہی اس کا اعادہ کرے گا اور یہ اس کے لیے آسان تر ہے۔38 آسمانوں اور زمین میں اس کی صفت سب سے برتر ہے اور وہ زبردست اور حکیم ہے
یعنی پہلی مرتبہ پیدا کرنا اگر اُس کے لیے مشکل نہ تھا، تو آخر تم نے یہ کیسے سمجھ لیا کہ دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے مشکل ہو جائے گا؟ پہلی مرتبہ کی پیدائش میں تو تم خود جیتے جاگتے موجود ہو۔ اس لیے اس کا مشکل نہ ہونا تو ظاہر ہے۔ اب یہ بالکل سیدھی سادھی عقل کی بات ہے کہ ایک دفعہ جس نے کسی چیز کو بنایا ہو اس کے لیے وہی چیز دوبارہ بنانا نسبتًہ زیادہ ہی آسان ہونا چاہیے۔
ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ ؕ هَلْ لَّكُمْ مِّنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ شُرَكَآءَ فِیْ مَا رَزَقْنٰكُمْ فَاَنْتُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ تَخَافُوْنَهُمْ كَخِیْفَتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ
وہ تمہیں39 خود تمہاری اپنی ہی ذات سےایک مثال دیتا ہے۔ کیا تمہارے اُن غلاموں میں سے جو تمہاری ملکیت میں ہیں کچھ غلام ایسے بھی ہیں جو ہمارے دیے ہوئے مال و دولت میں تمہارے ساتھ برابر کے شریک ہوں اور تم ان سے اس طرح ڈرتے ہو جس طرح آپس میں اپنے ہمسروں سے ڈرتے ہو؟40 --۔۔۔۔ اس طرح ہم آیا ت کھول کر پیش کرتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں
یہاں تک توحید اور آخرت کا بیان مِلا جُلا چل رہا تھا۔ اس میں جن نشانیوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے ان کے اندر توحید کے دلائل بھی ہیں اور وہی دلائی یہ بھی ثابت کرتے ہیں کہ آخرت کا آنا غیر ممکن نہیں ہے۔ اس کے بعد آگے خالص توحید پر کلام شروع ہو رہا ہے۔
مشرکین یہ تسلیم کرنے کے بعد کہ زمین و آسمان اور اسکی سب چیزوں کا خالق و مالک اللہ تعالیٰ ہے، اُس کی مخلوقات میں سے بعض کو خدائی صفات و اختیارات میں اس کا شریک ٹھیراتے تھے، اور ان سے دعائیں مانگتے ، ان کے آگے نذریں اور نیازیں پیش کرتے، اور مراسم عبودیت بجا لاتے تھے۔ اِن بناوٹی شریکوں کے بارے میں اُن کا اصل عقیدہ اُس تَلبِیْہ کے الفاظ میں ہم کو ملتا ہے جو خانۂ کعبہ کا طواف کرتے وقت وہ زبان سے ادا کرتے تھے۔ وہ اس موقع پر کہتے تھے: لبّیک اللّٰہم لبّیک لَا شریک لک الّا شریکا ھو لک تملکہ و ما ملک (طَبَرانی عن ابن عباس)۔”میں حاضر ہوں، میرے اللہ میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں سوائے اُس شریک کے جو تیرا اپنا ہے، تو اُس کا بھی مالک ہے اور جو کچھ اُس کی ملکیت ہے اس کا بھی تو مالک ہے۔“ اللہ تعالیٰ اِس آیت میں اِسی شرک کی تردید فرما رہا ہے۔ تمثیل کا منشا یہ ہے کہ خدا کے دیے ہوئے مال میں خدا ہی کے پیدا کیے ہوئے وہ انسان جو اتفاقًا تمہاری غلامی میں آگئے ہیں تمہارے تو شریک نہیں قرار پا سکتے، مگر تم نے یہ عجیب دھاندلی مچا رکھی ہے کہ خدا کی پیدا کی ہوئی کائنات میں خدا کی پیدا کردہ مخلوق کو بے تکلف اُس کے ساتھ خدائی کا شریک ٹھیراتے ہو۔ اس طرح کی احمقانہ باتیں سوچتے ہوئے آخر تمہاری عقل کہاں ماری جاتی ہے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد دوم، النَّحل، حاشیہ ۶2)۔
بَلِ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ فَمَنْ یَّهْدِیْ مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ ؕ وَمَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ
مگر یہ ظالم بے سمجھے بوجھے اپنے تخیلات کے پیچھے چل پڑے ہیں۔ اب کون اس شخص کو راستہ دکھا سکتا ہے جسے اللہ نے بھٹکا دیا ہو۔41 ایسے لوگوں کا تو کوئی مددگار نہیں ہو سکتا
یعنی جب کوئی شخص سیدھی سیدھی عقل کی بات نہ خود سوچے اور نہ کسی کے سمجھانے سے سمجھنے کے لیے تیار ہو تو پھر اس کی عقل پر اللہ کی پھٹکار پڑ جاتی ہے اور اس کے بعد ہر وہ چیز جو کسی معقول آدمی کو حق بات تک پہنچنے میں مدد دے سکتی ہے ، وہ اس ضدی جہالت پسند انسان کو الٹی مزید گمراہی میں مبتلا کر تی چلی جاتی ہے۔ یہی کیفیت ہے جسے”بھٹکانے“ کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ راستی پسند انسان جب اللہ سے ہدایت کی توفیق طلب کرتا ہے تو اللہ اس کی طلبِ صادق کے مطابق اس کے لیے زیادہ سے زیادہ اسبابِ ہدایت پیدا فرما دیتا ہے۔ اور گمراہی پسند انسان جب گمراہ ہی ہونے پر اصرار کرتا ہے تو پھر اللہ ا س کے لیے وہی اسباب پیدا کرتا چلا جاتا ہے جو اسے بھٹکا کر روز بروز حق سے دو ر لیے چلے جاتے ہیں۔
فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا ؕ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَا ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ
pیہ ”پس“ اس معنی میں ہے کہ جب حقیقت تم پر کھل چکی، اور تم کو معلوم ہو گیا کہ اس کائنات کا اور خود انسان کا خالق و مالک اور حاکم ذی اختیار ایک اللہ کے سوا اور کوئی نہیں ہے تو اس کے بعد لا محالہ تمہارا طرزِ عمل یہ ہونا چاہیے۔/p
pاِس دین سے مراد وہ خاص دین ہے جسے قرآن پیش کر رہا ہے ، جس میں بندگی، عبادت، اور طاعت کا مستحق اللہ وحدہُ لا شریک کے سوا اور کوئی نہیں ہے ، جس میں الُوہیّت اور اس کی صفات و اختیارات اور اس کے حقوق میں قطعًا کسی کو بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک نہیں ٹھیرایا جاتا، جس میں انسان اپنی رضا و رغبت سے اس بات کی پابندی اختیار کرتا ہے کہ وہ اپنی پوری زندگی اللہ کی ہدایت اور اس کے قانون کی پیروی میں بسر کر ے گا۔/p
p”یک سو ہو کر اپنا رُخ اِس طرف جما دو“،یعنی پھر کسی اور طرف کا رُخ نہ کرو۔ زندگی کے لیے اِس راہ کو اختیار کر لینے کے بعد پھر کسی دوسرے راستے کی طرف التفات تک نہ ہونے پائے۔ پھر تمہاری فکر اور سوچ ہو تو مسلمان کی سی اور تمہاری پسند اور ناپسند ہو تو مسلمان کی سی۔ تمہاری قدریں اور تمہارے معیار ہوں تو وہ جو اسلام تمہیں دیتا ہے ، تمہارے اخلاق اور تمہاری سیرت و کردار کا ٹھپّہ ہو تو اُس طرح کا جو اسلام چاہتا ہے ، اور تمہاری انفرادی و اجتماعی زندگی کے معاملات چلیں تو اُس طریقے پر جو اسلام نے تمہیں بتایا ہے۔/p
pیعنی تمام انسان اِس فطرت پر پیدا کیے گئے ہیں کہ ان کا کوئی خالق اور کوئی ربّ اور کوئی معبود اور مُطاعِ حقیقی ایک اللہ کے سوا نہیں ہے۔ اسی فطرت پر تم کو قائم ہو جانا چاہیے۔ اگر خود مختاری کا رویہ اختیار کرو گے تب بھی فطرت کے خلاف چلو گے اور اگر بندگی ٔ غیر کا طوق اپنے گلے میں ڈالو گے تب بھی اپنی فطرت کے خلاف کام کرو گے۔/ppاس مضمون کو متعدد احادیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ حضور ؐ نے فرمایا ما من مولود یولد الا علی الفطرۃ فا بواہ یھودانہ او ینصر انہ او یمجسانہ کما تنتج البھیمۃ بھیمۃ جمعاء، ھل تحسون فیھا من جد عاء۔ یعنی ہر بچہ جو کسی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے ، اصل نسانی فطرت پر پیداہوتا ہے۔ یہ ماں باپ ہیں جو اسے بعد میں عیسائی یا یہودی یا مجوسی وغیرہ بنا ڈالتے ہیں۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ہر جانور کے پیٹ سے پورا کا پورا صحیح و سالم جانور برآمد ہوتا ہے، کوئی بچہ بھی کٹے ہوئے کان لے کر نہیں آتا، بعد میں مشرکین اپنے اوہام جاہلیت کی بنا پر اس کے کان کاٹتے ہیں۔/ppمُسند احمد اور نَسائی میں ایک اور حدیث ہے کہ ایک جنگ میں مسلمانوں نے دشمنوں کے بچوں تک کو قتل کر دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہوئی تو سخت ناراض ہوئے اور فرمایا ما بال اقوام جاوزھم القتل الیوم حتیٰ قتلو ا الذُّرّیّۃ، ”لوگوں کو کیا ہو گیا کہ آج وہ حد سے گزر گئے اور بچوں تک کو قتل کر ڈالا۔“ ایک شخص نے عرض کیا کیا یہ مشرکین کے بچے نہ تھے؟ فرمایا انما خیارکم ابناء المشرکین، ”تمہارے بہترین لوگ مشرکین ہی کی تو اولاد ہیں۔“ پھر فرمایا کل نسمۃ تولد علی الفطرۃ حتی یعرب عنہ لسانھا فا بوا ھا یھود انھا او ینصر انھا، ”ہر متنفس فطرت پر پیدا ہوتا ہے، یہاں تک کہ جب اس کی زبان کھلنے پر آتی ہے تو ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی بنا لیتے ہیں۔“/ppایک اور حدیث جو امام احمد ؒ نے عیاض بن حمار المُجاشِعی سے نقل کی ہے اس میں بیان ہوا ہے کہ ایک روز بنی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ کے دوران میں فرمایا ان ربی یقول انی خلقت عبادی حنفاء کلہم و انھم اتتھم الشیاطین فاضلتہم عن دینہم و حَرَّ مَتْ علیہم ما احللتُ لھم و اَمَرَتْھم ان یشرکوا بی مالم انزل بہٖ سُلطانا۔”میرا رب فرماتا ہے کہ میں نے اپنے تمام بندوں کو حنیف پیدا کیا تھا، پھر شیاطین نے آکر انہیں ان کے دین سے گمراہ کیا، اور جو کچھ میں نے ان کے لیے حلال کیا تھا اسے حرام کیا، اور انہیں حکم دیا کہ میرے ساتھ اُن چیزوں کو شریک ٹھیرائیں جن کے شریک ہونے پر میں نے کوئی دلیل نازل نہیں کی ہے۔“/p
pیعنی خدا نے انسان کو اپنا بندہ بنایا ہے اور اپنی ہی بندگی کے لیے پیدا کیا ہے۔ یہ ساخت کسی کے بدلے نہیں بدل سکتی۔ نہ آدمی بندہ سے غیر بندہ بن سکتا ہے، نہ کسی غیر خدا کو خدا بنا لینے سے وہ حقیقت میں اس کا خدا بن سکتا ہے۔ انسان خواہ اپنے کتنے ہی معبود بنا بیٹھے، لیکن یہ امرِ واقعہ اپنی جگہ اٹل ہے کہ وہ ایک خدا کے سوا کسی کا بندہ نہیں ہے۔ انسان اپنی حماقت اور جہالت کی بنا پر جس کو بھی چاہے خدائی صفات و اختیارات کا حامل قرار دے لے اور جسے بھی چاہے اپنی قسمت کا بنانے اور بگاڑنے والا سمجھ بیٹھے، مگر حقیقت ِ نفس الامری یہی ہے کہ نہ الوہیت کی صفات اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو حاصل ہیں نہ اس کے اختیارات ، اور نہ کسی دوسرے کے پاس یہ طاقت ہے کہ انسان کی قسمت بنا سکے یا بگاڑ سکے۔/ppایک دوسرا ترجمہ اس آیت کا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ”اللہ کی بنائی ہوئی ساخت میں تبدیلی نہ کی جائے۔“ یعنی اللہ نے جس فطرت پر انسان کو پیدا کیا ہے اس کو بگاڑنا اور مسخ کرنا درست نہیں ہے۔/p
pیعنی فطرتِ سلیمہ پر قائم رہنا ہی سیدھا اور صحیح طریقہ ہے۔/p
مُنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ وَاتَّقُوْهُ وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَلَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ
اللہ کی طرف رجوع سے مراد یہ ہے کہ جس نے بھی آزادی و خود مختاری کا رویّہ اختیار کر کے اپنے مالکِ حقیقی سے انحراف کیا ہو، یا جس نے بھی بندگی ٔ ِ غیر کا طریقہ اختیار کر کے اپنے اصلی و حقیقی ربّ سے بے وفائی کی ہو، وہ اپنی اس رو ش سے باز آجائے اور اُسی ایک خدا کی بندگی کی طرف پلٹ آئے جس کا بندہ حقیقت میں وہ پیدا ہو ا ہے۔
یعنی تمہاری دل میں اس بات کا خوف ہونا چاہیے کہ اگر اللہ کے پیدائشی بندے ہونے کے باوجود تم نے اس کے مقابلے میں خود مختاری کا رویہ اختیار کیا، یا اس کے بجائ ے کسی اور کی بندگی کی تو اِس غداری و نمک حرامی کی سخت سزا تمہیں بھگتنی ہو گی۔ اس لیے تمہیں ایسی ہر روش سے بچنا چاہیے جو تم کو خدا کے غضب کا مستحق بناتی ہو۔
اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع اور اس کے غضب کا خوف، دونوں قلب کے افعال ہیں۔ اس قلبی کیفیت کو اپنے ظہور اور اپنے استحکام کے لیے لازمًا کسی ایسے جسمانی فعل کی ضرورت ہے جس سے خارج میں بھی ہر شخص کو معلوم ہو جائے کہ فلاں شخص واقعی اللہ وحدہٗ لاشریک کی بندگی کی طرف پلٹ آیا ہے، اور آدمی کے اپنے نفس میں بھی اِس رجوع و تقویٰ کی کیفیت کو ایک عملی مُمارَست کے ذریعہ سے پے در پے نشو و نما نصیب ہوتا چلا جائے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ اُس ذہنی تبدیلی کا حکم دینے کے بعد فوراً ہی اِس جسمانی عمل، یعنی اقامتِ صلوٰۃ کا حکم دیتا ہے۔ آدمی کے ذہن میں جب تک کوئی خیال محض خیال کی حد تک رہتا ہے، اس میں استحکام اور پائیداری نہیں ہوتی۔ اُس خیال کے ماند پڑ جانے کا بھی خطرہ رہتا ہے اور بدل جانے کا بھی امکان ہوتا ہے۔ لیکن جب وہ اُس کے مطابق کام کرنے لگتا ہے تو وہ خیال اس کے اندر جڑ پکڑ لیتا ہے، اور جوں جوں وہ اس پر عمل کر تا جاتا ہے، اس کا استحکام بڑھتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ اس عقیدہ و فکر کا بدل جانا یا ماند پڑ جانا مشکل سے مشکل تر ہو تا جاتا ہے۔ اس نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو رجوع الی اللہ اور خوفِ خدا کو مستحکم کر نے کے لیے ہر روز پانچ وقت پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنے سے بڑھ کر کوئی عمل کارگر نہیں ہے۔ کیونکہ دوسرا جو عمل بھی ہو، اُس کی نوبت دیر دیر میں آتی ہے یا متفرق صورتوں میں مختلف مواقع پر آتی ہے۔ لیکن نماز ایک ایسا عمل ہے جو ہر چند گھنٹوں کے بعد ایک ہی متعین صورت میں آدمی کو دائمًا کرنا ہوتا ہے، اور اس میں ایمان و اسلام کا وہ پورا سبق ، جو قرآن نے اسے پڑھایا ہے ، آدمی کو بار بار دُہرانا ہوتا ہے تاکہ و ہ اسے بھولنے نہ پائے۔ مزید براں کفار اور اہل ایمان، دونوں پر یہ ظاہر ہونا ضروری ہے کہ انسانی آبادی میں سے کس کس نے بغاوت کی روش چھوڑ کر اطاعتِ رب کی روش اختیار کر لی ہے۔ اہلِ ایمان پر اِس کا ظہور اس لیے درکار ہے کہ ان کی ایک جماعت اور سوسائٹی بن سکے اور وہ خدا کی راہ میں ایک دوسرے سے تعاون کر سکیں اور ایمان و اسلام سے جب بھی ان کے گروہ کے کسی شخص کا تعلق ڈھیلا پڑنا شروع ہو اسی وقت کوئی کھلی علامت فوراً ہی تمام اہل ایمان کو اس کی حالت سے باخبر کر دے۔ کفار پر اِس کا ظہور اس لیے ضروری ہے کہ ان کے اندر کی سوئی ہوئی فطرت اپنے ہم جنس انسانوں کو خداوندِ حقیقی کی طرف بار بار پلٹتے دیکھ کر جاگ سکے، اور جب تک وہ نہ جاگے ان پر خدا کے فرمانبرداروں کی عملی سرگرمی دیکھ دیکھ کر دہشت طاری ہو تی رہے۔ ان دونوں مقاصد کے لیے بھی اقامتِ صلوٰۃ ہی سب سےزیادہ موزوں ذریعہ ہے۔ اس مقام پر یہ بات بھی نگاہ میں رہنی چاہیے کہ اقامتِ صلوٰۃ کا یہ حکم مکّۂ معظمہ کے اُس دَور میں دیا گیا تھا جبکہ مسلمانوں کی ایک مٹھی بھر جماعت کفارِ قریش کے ظلم و ستم کی چکی میں پس رہی تھی اور اس کے بعد بھی 9 برس تک پستی رہی۔ اُس وقت دُور دُور بھی کہیں اسلامی حکومت کا نام و نشان نہیں تھا۔ اگر نماز اسلامی حکومت کے بغیر بے معنی ہوتی ، جیسا کہ بعض نادان سمجھتے ہیں، یا اقامتِ صلوٰۃ سے مراد نماز قائم کرنا سرے سے ہوتا ہی نہیں بلکہ ”نظامِ ربوبیت“چلانا ہوتا، جیسا کہ منکرینِ سنت کا دعویٰ ہے ، تو اس حالت میں قرآن مجید کا یہ حکم دینا آخر کیا معنی رکھتا ہے؟ اور یہ حکم آنے کے بعد 9 سال تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان اِس حکم کی تعمیل آخر کس طرح کرتے رہے؟
مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَكَانُوْا شِیَعًا ؕ كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ
جنہوں نے اپنا اپنا دین الگ بنا دیا ہے او گروہوں میں بٹ گئے ہیں،ہر ایک گروہ کے پاس جو کچھ ہے اسی میں وہ مگن ہے۔51
یہ اشارہ ہے اِس چیز کی طرف کہ نوعِ انسانی کا اصل دین وہی دینِ فطرت ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ یہ دین مشرکانہ مذاہب سے بتدریج ارتقاء کرتا ہوا توحید تک پہنچا ہے، جیسا کہ قیاس و گمان سے ایک فلسفۂ مذہب گھڑ لینے والے حضرات سمجھتے ہیں، بلکہ اس کے برعکس یہ جتنے مذاہب دنیا میں پائے جاتے ہیں یہ سب کے سب اُس اصلی دین میں بگاڑ آنے سے رونما ہوئے ہیں۔ اور یہ بگاڑ اس لیے آیا ہے کہ مختلف لوگوں نے فطری حقائق پر اپنی اپنی نَو ایجاد باتوں کا اضافہ کر کے اپنے الگ دین بنا ڈالے اور ہر ایک اصل حقیقت کے بجائے اُس اضافہ شدہ چیز کا گرویدہ ہو گیا جس کی بدولت وہ دوسروں سے جدا ہو کر ایک مستقل فرقہ بنا تھا۔ اب جو شخص بھی ہدایت پا سکتا ہے وہ اِسی طرح پا سکتا ہے کہ اُس اصل حقیقت کی طرف پلٹ جائے جو دینِ حق کی بنیاد تھی، اور بعد کے ان تمام اضافوں سے اور ان کے گرویدہ ہونے والے گروہوں سے دامن جھاڑ کر بالکل الگ ہو جائے۔ ان کے ساتھ ربط کا جو رشتہ بھی وہ لگائے رکھے گا وہی دین میں خلل کا موجب ہو گا۔
وَاِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُمْ مُّنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَاۤ اَذَاقَهُمْ مِّنْهُ رَحْمَةً اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَ
یہ اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ ان کے دل کی گہرائیوں میں توحید کی شہادت موجود ہے۔ امیدوں کےسہارے جب بھی ٹوٹنے لگتے ہیں، ان کا دل خود ہی اندر سے پکارنے لگتا ہے کہ اصل فرمانروائی کائنات کے مالک ہی کی ہے اور اسی کی مدد ان کی بگڑی بنا سکتی ہے۔
یعنی پھر دوسرے معبودوں کی نذریں اور نیازیں چڑھنی شروع ہو جاتی ہیں اور کہا جانے لگتا ہے کہ یہ مصیبت فلاں حضرت کے طفیل اور فلاں آستانے کے صدقے میں ٹلی ہے۔
لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ ؕ فَتَمَتَّعُوْا ۥ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ
تاکہ ہمارے کیے ہوئے احسان کی ناشکری کریں اچھا، مزے کر لو، عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا
اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا فَهُوَ یَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوْا بِهٖ یُشْرِكُوْنَ
کیا ہم نے کوئی سند اور دلیل ان پر نازل کی ہے جو شہادت دیتی ہو اس شرک کی صداقت پر جو یہ کر رہے ہیں؟54
یعنی آخر کسی دلیل سے ان لوگوں کو یہ معلوم ہوا کہ بلائیں خدا نہیں ٹالتا بلکہ حضرت ٹالا کرتے ہیں؟ کیا عقل اس کی شہادت دیتی ہے؟ یا کوئی کتابِ الہٰی ایسی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہو کہ میں اپنے خدائی کے اختیارات فلاں فلاں حضرتوں کو دے چکا ہوں اور اب وہ تم لوگوں کے کام بنایا کریں گے؟
وَاِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً فَرِحُوْا بِهَا ؕ وَاِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ اِذَا هُمْ یَقْنَطُوْنَ
جب ہم لوگوں کو رحمت کا ذائقہ چکھاتے ہیں تو وہ اس پر پھول جاتے ہیں اور جب ان کے اپنے کیے کرتوتوں سے ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو یکایک وہ مایوس ہونے لگتے ہیں۔55
اوپر کی آیت میں انسان کی جہالت و حماقت اور اس کی ناشکری و نمک حرامی پر گرفت تھی۔ اِس آیت میں اس کے چھچھورے پن اور کم ظرفی پر گرفت کی گئی ہے۔ اِس تھُڑ دلے کو جب دنیا میں کچھ دولت ، طاقت ، عزت نصیب ہوجاتی ہے اور یہ دیکھتا ہے کہ اِس کا کام خوب چل رہا ہے تو اسے یاد نہیں رہتا کہ یہ سب کچھ اللہ کا دیا ہے۔ یہ سمجھتا ہے کہ میرے ہی کچھ سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں جو مجھے وہ کچھ میسری ہُوا جس سے دوسرے محروم ہیں۔ اس غلط فہمی میں فخر و غرور کا نشہ اس پر ایسا چڑھتا ہے کہ پھر یہ نہ خدا کو خاطر میں لاتا ہے نہ خلق کو۔ لیکن جونہی کہ اقبال نے منہ موڑا اِس کی ہمت جواب دے جاتی ہے اور بدنصیبی کی ایک ہی چوٹ اس پر دل شکستگی کی وہ کیفیت طاری کر دیتی ہے ج میں یہ ہر ذلیل سے ذلیل حرکت کر گزرتا ہے ، حتیٰ کہ خود کشی تک کر جاتا ہے۔
اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَیَقْدِرُ ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ
کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ہیں کہ اللہ ہی رزق کشادہ کرتا ہے جس کا چاہتا ہے اور تنگ کرتاہے(جس کا چاہتا ہے)۔ یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔56
یعنی اہل ایمان اس سے سبق حاصل کر سکتے ہیں کہ کفر و شرک کا انسان کے اخلاق پر کیا اثر پڑتا ہے، اور ا س کے برعکس ایمان باللہ کے اخلاقی نتائج کیا ہیں۔ جو شخص سچے دل سے خدا پر ایمان رکھتا ہو اور اسی کو رزق کے خزانوں کا مالک سمجھتا ہو، وہ کبھی اُس کم ظرفی میں مبتلا نہیں ہوسکتا جس میں خدا کو بھولے ہوئے لوگ مبتلا ہوتے ہیں۔ اُسے کشادہ رزق ملے تو پھولے گا نہیں، شکر کرے گا، خلقِ خدا کے ساتھ تواضع اور فیاضی سے پیش آئے گا، اور خدا کا مال خدا کی راہ میں صرف کرنے سے ہر گز دریغ نہ کرے گا۔ تنگی کے ساتھ رزق ملے، یا فاقے ہی پڑ جائیں ، تب بھی صبر سے کام لے گا، دیانت و امانت اور خود داری کو ہاتھ سے نہ دے گا، اور آخرت تک خدا سے فضل و کرم کی آس لگائے رہے گا۔ یہ اخلاقی بلندی نہ کسی دہریے کو نصیب ہوسکتی ہے اور نہ مشرک کو۔
فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَالْمِسْكِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ ؗ وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ
یہ نہیں فرمایا کہ رشتہ دار ، مسکین اور مسافر کو خیرات دے۔ ارشاد یہ ہوا ہے کہ یہ اُس کا حق ہے جو تجھے دینا چاہیے، اور حق ہی سمجھ کر تو اسے دے۔ اس کو دیتے ہوئے یہ خیال تیرے دل میں نہ آنے پانے کے یہ کوئی احسان ہے جو تو اس پر کر رہا ہے، اور تو کوئی بڑی ہستی ہے دان کرنے والی، اور وہ کوئی حقیر مخلوق ہے تیرا دیا کھانے والی۔ بلکہ یہ بات اچھی طرح تیرے ذہن نشین رہے کہ مال کے مالک حقیقی نے اگر تجھے زیادہ دیا ہے اور دوسرے بندوں کو کم عطا فرمایا ہے تو یہ زائد مال اُن دوسروں کا حق ہے جو تیری آزمائش کے لیے تیرے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے تاکہ تیرا مالک دیکھے کہ تو ان کا حق پہچانتا اور پہنچاتا ہے ہے یا نہیں۔ اس ارشاد الہٰی اور اس کی اصلی روح پر جو شخص بھی غور کرے گا وہ یہ محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ قرآن مجید انسان کے لیے اخلاقی و روحانی ارتقاء کا جو راستہ تجویز کرتا ہے اس کے لیے ایک آزاد معاشرہ اور آزاد معیشت (Free Economy ) کی موجودگی ناگزیر ہے۔ یہ ارتقاء کسی ایسے اجتماعی ماحول میں ممکن نہیں ہے جہاں لوگوں کے حقوقِ ملکیت ساقط کر دیے جائیں، ریاست تمام ذرائع کی مالک ہو جائے اور افراد کے درمیان تقسیم رزق کا پورا کاروبار حکومت کی مشینری سنبھال لے، حتیٰ کہ نہ کوئی فرد اپنے اوپر کسی کا کوئی حق پہچان کر دے سکے، اور نہ کوئی دوسرا فرد کسی سے کچھ لے کر اس کے لیے اپنے دل میں کوئی جذبۂ خیر سگالی پرورش کر سکے۔ اس طرح کا خالص کمیونسٹ نظامِ تمدّن و معیشت، جسے آج کل ہمارے ملک میں ”قرآنی نظامِ ربوبیت“ کے پر فریب نام سے زبردستی قرآن کے سر منڈھا جا رہا ہے، قرآن کی اپنی اسکیم کے بالکل خلاف ہے، کیونکہ اس میں انفرادی اخلاق کے نشوونما اور انفرادی سیرتوں کی تشکیل و ترقی کا دروازہ قطعًا بند ہو جاتا ہے۔ قرآن کی اسکیم تو اُسی جگہ چل سکتی ہے جہاں افراد کچھ وسائل ِ دولت کے مالک ہوں، اُن پر آزادانہ تصرّف کے اختیارات رکھتے ہوں، اور پھر اپنی رضا و رغبت سے خدا اور اس کے بندوں کے حقوق اخلاص کے ساتھ ادا کریں۔ اِسی قسم کے معاشرے میں یہ امکان پیدا ہوتا ہے کہ فرداً فرداً لوگوں میں ایک طرف ہمدردی،رحم و شفقت، ایثار و قربانی اور حق شناسی و ادائے حقوق کے اعلیٰ اوصاف پیدا ہوں، اور دوسری طرف جن لوگوں کے ساتھ بھلائی کی جائے ان کے دلوں میں بھلائی کرنے والوں کے لیے خیر خواہی، احسان مندی، اور جزاء الاحسان بالاحسان کے پاکیزہ جذبات نشو و نما پائیں، یہاں تک کہ وہ مثالی حالت پیدا ہو جائے جس میں بدی کا رُکنا اور نیکی کا فروغ پانا کسی قوتِ جابرہ کی مداخلت پر موقوف نہ ہو، بلکہ لوگوں کی اپنی پاکیزگی ٔ نفس اور ان کے اپنے نیک ارادے اس ذمہ داری کو سنبھال لیں۔
یہ مطلب نہیں ہے کہ فلاح صرف مسکین اور مسافر اور رشتہ دار کا حق ادا کردینے سے حاصل ہو جاتی ہے، اس کے علاوہ اور کوئی چیز حصُول فلاح کے لیے درکار نہیں ہے۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ انسانوں میں سے جو لوگ اِن حقوق کو نہیں پہچانتے اور نہیں ادا کرتے وہ فلاح پانے والے نہیں ہیں، بلکہ فلاح پانے والے وہ ہیں جو خالص اللہ کی خوشنودی کے لیے یہ حقوق پہچانتے اور ادا کرتے ہیں۔
وَمَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاۡ فِیْۤ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِ وَمَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ
قرآن مجید میں یہ پہلی آیت ہے جو سود کی مذمت میں نازل ہوئی۔ اس میں صرف اتنی بات فرمائی گئی ہے کہ تم لوگ تو سو د یہ سمجھتے ہوئے دیتے ہو کہ جس کو ہم یہ زائد مال دے رہے ہیں اس کی دولت بڑھی گی ، لیکن درحقیقت اللہ کے نزدیک سود سے دولت کی افزائش نہیں ہوتی بلکہ زکوٰۃ سے ہوتی ہے۔ آگے چل کر جب مدینہ ٔطیبہ میں سود کی حرمت کا حکم نازل کیا گیا تو اس پر مزید یہ بات ارشاد فرمائی گئی کہ یَمْحَقُ اللہُ الرِّبوٰ وَ یُرْ بِی الصَّدَقٰتِ، ” اللہ سود کا مَٹھ مار دیتا ہے اور صدقات کو نشوونما دیتا ہے۔“ (بعد کے احکام کے لیے ملاحظہ ہو آلِ عمران ، آیت 13۰۔ البقرہ، آیات 275 تا 281)۔ اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کے دو اقوال ہیں۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ یہاں ربوٰ سے مراد وہ سود نہیں ہے جو شرعًا حرام کیا گیا ہے، بلکہ وہ عطیہ یا ہدیہ و تحفہ ہے جو اِس نیت سے دیا جائے کہ لینے والا بعد میں ا س سے زیادہ واپس کرے گا، یا مُعطی کے لیے کوئی مفید خدمت انجام دے گا، یا اس کا خوشحال ہو جانا معطی کی اپنی ذات کے لیے نافع ہو گا۔ یہ ابنِ عباسؓ، مجاہدؓ، ضحاکؓ، قتادَہ، عِکْرِمَہ، محمد بن کَعْب القُر َظِی اور شَعبی کا قول ہے۔ اور غالبًا یہ تفسیر اِن حضرات نے اس بنا پر فرمائی ہے کہ آیت میں اِس فعل کا نتیجہ صرف اتنا ہی بتایا گیا ہے کہ اللہ کے ہاں اس دولت کو کوئی افزائش نصیب نہ ہو گی، حالانکہ اگر معاملہ اُس سود کا ہوتا جسے شریعت نے حرام کیا ہے تو مثبت طور پر فرمایا جاتا کہ اللہ کے ہاں اس پر سخت عذاب دیا جائے گا۔ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ نہیں اس سے مراد وہی معروف ربوٰ ہے جسے شریعت نے حرام کیا ہے۔ یہ رائے حضرت حس بصری اور سُدِّی کی ہے اور علامۂ آلوسی کا خیال ہے کہ آیت کا ظاہری مفہوم یہی ہے، کیونکہ عربی زبان میں ربوٰ کا لفظ اسی معنی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اسی تاویل کو مفسر نیسابوری نے بھی اختیار کیا ہے۔ ہمارے خیال میں بھی یہی دوسری تفسیر صحیح ہے، اس لیے کہ معروف معنی کو چھوڑنے کے لیے وہ دلیل کافی نہیں ہے جو اوپر تفسیرِ اول کے حق میں بیان ہوئی ہے۔ سورۂ روم کا نزول جس زمانے میں ہو اہے اُس وقت قرآن مجید میں سود کی حرمت کا اعلان نہیں ہوا تھا۔ یہ اعلان اس کے کئی برس بعد ہُوا ہے۔ قرآن مجید کا طریقہ یہ ہے کہ جس چیز کو بعد میں کسی وقت حرام کرنا ہوتا ہے، اس کے لیے وہ پہلے سے ذہنوں کو تیار کرنا شروع کر دیتا ہے۔شراب کے معاملے میں بھی پہلے صرف اتنی بات فرمائی گئی تھی کہ وہ پاکیزہ رزق نہیں ہے (النحل آیت ۶7)، پھر فرمایا کہ اس کا گناہ اس کے فائدے سے زیادہ ہے (البقرہ 219) ، پھر حکم دیا گیا کہ نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ (النساء 43)، پھر اس کی قطعی حر مت کا فیصلہ کر دیا گیا۔ اسی طرح یہاں سود کے متعلق صرف اتنا کہنے پر اکتفا کیا گیا ہے کہ یہ وہ چیز نہیں ہے جس سے دولت کی افزائش ہوتی ہو، بلکہ حقیقی افزائش ِ زکوٰۃ سے ہوتی ہے۔ اس کے بعد سود در سود کو منع کیا گیا (آل عمران ، آیت 13۰)۔ اور سب سے آخر میں بجائے خود سود ہی کی قطعی حرمت کا فیصلہ کر دیا گیا (البقرہ، آیت 5)۔
اس بڑھوتری کے لیے کوئی حد مقرر نہیں ہے۔ جتنی خالص نیت اور جتنے گہرے جذبۂ ایثار اور جس قدر شدید طلب رضائے الہٰی کے ساتھ کوئی شخص راہِ خدا میں مال صرف کرے گا اسی قدر اللہ تعالیٰ اس کا زیادہ سے زیادہ اجر دے گا۔ چنانچہ ایک صحیح حدیث میں آیا ہے کہ اگر ایک شخص راہِ خدا میں ایک کھجور بھی دے تو اللہ تعالیٰ اس کو بڑھا کر اُحد پہاڑ کے برابر کر دیتا ہے۔
اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ ؕ هَلْ مِنْ شُرَكَآىِٕكُمْ مَّنْ یَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِكُمْ مِّنْ شَیْءٍ ؕ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ
pیہاں سے پھر کفار و مشرکین کو سمجھانے کے لیے سلسلۂ کلام توحید و آخرت کے مضمون کی طرف پھر جاتا ہے۔/p
pیعنی زمین میں تمہارے رزق کے لیے جملہ و سائل فراہم کیے اور ایسا انتظام کر دیا کہ رزق کی گردش سے ہر ایک کو کچھ نہ کچھ حصّہ پہنچ جائے۔/p
pیعنی اگر تمہارے بنائے ہوئے معبودوں میں سے کوئی بھی نہ پیدا کرنے والا ہے ، نہ رزق دینے والا، نہ موت و زیست اس کے قبضۂ قدرت میں ہے، اور نہ مرجانے کے بعد وہ کسی کو زندہ کر دینے پر قادر ہے، تو آخر یہ لوگ ہیں کس مرض کی دوا کہ تم نے اِنہیں معبُود بنا لیا؟/p
ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ
خشکی اور تری میں فساد برپا ہو گیا ہے لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے تاکہ مزّہ چکھائے اُن کو اُن کے بعض اعمال کا، شاید کہ وہ باز آئیں۔64
یہ پھر اُس جنگ کی طرف اشارہ ہے جو اُس وقت روم و ایران کے درمیان برپا تھی ، جس کی آگ نے پورے شرق اوسط کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ ”لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی“ ے مراد و ہ فسق و فجور اور ظلم و جَور ہے جو شرک یا دہریت کا عقیدہ اختیار کر نے اورآخرت کو نظر انداز کر دینے سے لازمًا انسانی اخلاق و کردار میں رونما ہوتا ہے۔ ”شاید کہ وہ باز آئیں“ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آخرت کی سزا سے پہلے اِس دنیا میں انسانوں کو ان کے تمام اعمال کا نہیں بلکہ بعض اعمال کا بُرا نتیجہ اس لیے دکھاتا ہے کہ وہ حقیقت کو سمجھیں اور اپنے تخیلات کی غلطی کو محسوس کر کے اُس عقیدۂ صالحہ کی طرف رجوع کریں جو انبیاء علیہم السلام ہمیشہ سے انسان کے سامنے پیش کرتے چلے آرہے ہیں، جس کو اختیار کر نے کے سوا انسانی اعمال کو صحیح بنیاد پر قائم کرنے کی کوئی دوسری صورت نہیں ہے۔ یہ مضمون قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان ہو اہے۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو، التوبہ، آیت 12۶۔ الرعد، آیت31۔ السجدہ، 21، الطور، 47۔
قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلُ ؕ كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّشْرِكِیْنَ
(اے نبیؐ)ان سے کہو کہ زمین میں چل پھر کر دیکھو پہلے گُزرے ہوئے لوگوں کا کیا انجام ہو چکا ہے، ان میں اکثر مشرک ہی تھے۔65
یعنی روم و ایران کی تباہ کن جنگ آج کوئی نیا حادثہ نہیں ہے۔ پچھلی تاریخ بڑی بڑی قوموں کی تباہی و بربادی کے ریکارڈ سے بھری ہوئی ہے۔ اور ان سب قوموں کو جن خرابیوں نے برباد کیا اُن سب کی جڑ یہی شرک تھا جس سے باز آنے کے لیے آج تم سے کہا جا رہا ہے۔
فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ الْقَیِّمِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ یَوْمَىِٕذٍ یَّصَّدَّعُوْنَ
پس (اے نبیؐ)اپنا رُخ مضبوطی کے ساتھ جما دو اِس دینِ راست کی سمت میں قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس کے ٹل جانے کی کوئی صُورت اللہ کی طرف سے نہیں ہے۔66 اُس دن لوگ پھٹ کر ایک دُوسرے سے الگ ہو جائیں گے
یعنی کس کو نہ اللہ تعالیٰ خود ٹالے گا اور نہ اس نے کسی کے لیے ایسی کسی تدبیر کی کوئی گنجائش چھوڑی ہے کہ وہ اسے ٹال سکے۔
مَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗ وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِهِمْ یَمْهَدُوْنَ
جس نے کُفر کیا ہے اُس کے کُفر کا وبال اُسی پر ہے۔67 اور جن لوگوں نے نیک عمل کیا ہے وہ اپنے ہی لیے فلاح کا راستہ صاف کر رہے ہیں
یہ ایک جامع فقرہ ہے جو تمام اُن مضرتوں کو اپنے اندر سمیٹ لیتا ہے جو کافر کو اپنے کفر کی بدولت پہنچ سکتی ہیں۔ مضرتوں کی کوئی مفصل فہرست بھی اتنی جامع نہیں ہو سکتی۔
لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصَّلِحٰتِ مِنْ فَضْلِهٖ ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ
تاکہ اللہ ایمان لانے والوں اور عملِ صالح کرنے والوں کو اپنے فضل سے جزا دے یقیناً وہ کافروں کو پسند نہیں کرتا
وَمِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ یُّرْسِلَ الرِّیَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّلِیُذِیْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَلِتَجْرِیَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ
یعنی بارانِ رحمت کی خوشخبری دینے کے لیے۔
یہ ایک اور قسم کی ہواؤں کا ذکر ہے جو جہاز رانی میں مددگار ہوتی ہیں۔ قدیم زمانہ کی بادبانی کشتیوں اور جہازوں کا سفر زیادہ تر بادِ موافق پر منحصر تھا اور بادِ مخالف ان کے لیے تباہی کا پیش خیمہ ہوتی تھی۔ اس لیے بارش لانے والی ہواؤں کے بعد ان ہواؤں کا ذکر ایک نعمتِ خاص کی حیثیت سے کیا گیا ہے۔
یعنی تجارت کےلیے سفر کرو۔
وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا ؕ وَكَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ
یعنی ایک قسم کی نشانیاں تو وہ ہیں جو کائنات ِ فطرت میں ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں، جن سے انسان کو اپنی زندگی میں ہر آن سابقہ پیش آتا ہے ، جن میں سے ایک ہواؤں کی گردش کا یہ نظام ہے جس کا اوپر کی آیت میں ذکر کیا گیا ہے ۔ اور دوسری قسم کی نشانیاں وہ ہیں جو انبیاء علیہم السلام معجزات کی صورت میں، کلامِ الہٰی کی صورت میں، اپنی غیر معمولی پاکیزہ سیرت کی شکل میں ، اور انسانی معاشرے پر اپنی حیات بخش تاثیرات کی شکل میں لے کر آئے۔ یہ دونوں قسم کی نشانیاں ایک ہی حقیقت کی نشان دہی کرتی ہیں، اور وہ یہ ہے کہ جس توحید کی تعلیم انبیاء دے رہے ہیں وہی بر حق ہے۔ ان میں سے ہر نشانی دوسری کی مؤیِّد ہے۔ کائنات کی نشانیاں انبیاء کے بیان کی صداقت پر شہادت دیتی ہیں اور انبیاء کی لائی ہوئی نشانیاں اُس حقیقت کو کھولتی ہیں جس کی طرف کائنات کی نشانیاں اشارے کر رہی ہیں۔
یعنی جو لوگ ان دونوں نشانیوں کی طرف سے اندھے بن کر توحید سے انکار پر جمے رہے اور خدا سے بغاوت ہی کیے چلے گئے۔
اَللّٰهُ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَیَبْسُطُهٗ فِی السَّمَآءِ كَیْفَ یَشَآءُ وَیَجْعَلُهٗ كِسَفًا فَتَرَی الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ فَاِذَاۤ اَصَابَ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ
اللہ ہی ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے اور وہ بادل اٹھاتی ہیں، پھر وہ اِن بادلوں کو آسمان میں پھیلا دیتا ہے جس طرح چاہتا ہے اور انہیں ٹکڑیوں میں تقسیم کرتا ہے، پھر تُو دیکھتا ہے کہ بارش کے قطرے بادل سے ٹپکے چلے آتے ہیں یہ بارش جب وہ اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے برساتا ہے
وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْهِمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمُبْلِسِیْنَ
تو یکایک وہ خوش و خرم ہو جاتے ہیں حالانکہ اس کے نزول سے پہلے وہ مایوس ہو رہے تھے
فَانْظُرْ اِلٰۤی اٰثٰرِ رَحْمَتِ اللّٰهِ كَیْفَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ؕ اِنَّ ذٰلِكَ لَمُحْیِ الْمَوْتٰى وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ
دیکھو اللہ کی رحمت کے اثرات کہ مُردہ پڑی ہوئی زمین کو وہ کس طرح جِلا اُٹھاتا ہے،73 یقیناً وہ مُردوں کو زندگی بخشنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے
یہاں جس انداز سے نبوت اور بارش کا ذکر یکے بعد دیگرے کیا گیا ہے اس میں ایک لطیف اشارہ اس حقیقت کی طرف بھی ہے کہ نبی کی آمد بھی انسان کی اخلاقی زندگی کے لے ویسی ہی رحمت ہے جیسی بارش کی آمد اس کی مادّی زندگی کے لیے رحمت ثابت ہوتی ہے۔ جس طرح آسمانی بارش کے نزول سے مردہ پڑی ہوئی زمین یکایک جی اُٹھتی ہے اور اس میں کھیتیاں لہلہانے لگتی ہیں، اسی طرح آسمانی وحی کا نزول اخلاق و روحانیت کی ویران پڑی ہوئی دنیا کو جِلا اُٹھاتا ہے اور اس میں فضائل و محامد کے گلزار لہلہانے شروع ہو جاتے ہیں۔ یہ کفار کی اپنی بد قسمتی ہے کہ خدا کی طرف سے یہ نعمت جب ان کے ہاں آتی ہے تو وہ اس کا کفران کرتے ہیں اور اس کو اپنے لیے مژدۂ رحمت سمجھنے کے بجائے پیامِ موت سمجھ لیتے ہیں۔
وَلَىِٕنْ اَرْسَلْنَا رِیْحًا فَرَاَوْهُ مُصْفَرًّا لَّظَلُّوْا مِنْ بَعْدِهٖ یَكْفُرُوْنَ
یعنی بارانِ رحمت کے بعد جب کھیتیاں سر سبز ہو چکی ہوں اور اس وقت اگر کوئی ایسی سخت سرد یا سخت گرم ہوا چل پڑے جو ہری بھری فصلوں کو جلا کر رکھ دے۔
یعنی پھر وہ خدا کو کوسنے لگتے ہیں اور اس پر الزام رکھنے لگتے ہیں کہ اس نے یہ کیسی مصیبتیں ہم پر ڈال رکھی ہیں۔ حالانکہ جب خدا نے ان پر نعمت کی بارش کی تھی اس وقت انہوں نے شکر کے بجائے اس کی ناقدری کی تھی۔ یہاں پھر ایک لطیف اشارہ اس مضموند کی طرف ہے کہ جب خدا کے رسول اس کی طرف سے پیامِ رحمت لاتے ہیں تو لوگ ان کی بات نہیں مانتے اور اس نعمت کو ٹھکرا دیتے ہیں۔ پھر جب ان کے کفر کی پاداش میں خدا ان پر ظالموں اور جبّاروں کو مسلّط کر دیتا ہے اور وہ جو رو ستم کی چکی میں انہیں پیستے ہیں اور جوہرِ آدمیت کا قلع قمع کر ڈالتے ہیں تو وہی لوگ خد ا کو گالیاں دینا شروع کر دیتے ہیں اور اسے الزام دیتے ہیں کہ اس نے یہ کیسی ظلم سے بھری ہوئی دنیا بنا ڈالی ہے۔
فَاِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ
یہاں مُردوں سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے ضمیر مر چکے ہیں ، جن کے اند راخلاقی زندگی کی رمق بھی باقی نہیں رہی ہے ، جن کی بندگی ٔ نفس اور ضد اور ہٹ دھرمی نے اُس صلاحیت ہی کا خاتمہ کر دیا ہے جو آدمی کو حق بات سمجھنے اور قبول کرنے کے قابل بناتی ہے۔
بہروں سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے دلوں پر ایسے قفل چڑھا رکھے ہیں کہ سب کچھ سن کر بھی وہ کچھ نہیں سنتے۔ پھر جب ایسے لوگ یہ کوشش بھی کریں کہ دعوتِ حق کی آواز سرے سے ان کے کان میں پڑنے ہی نہ پائے، اور داعی کی شکل دیکھتے ہی دور بھاگنا شروع کر دیں تو ظاہر ہے کہ کوئی انہیں کیا سنائے اور کیسے سنائے؟
وَمَاۤ اَنْتَ بِهٰدِ الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ
اور نہ تم اندھوں کو ان کی گمراہی سے نکال کر راہِ راست دکھا سکتے ہو۔78 تم تو صرف اُنہی کو سُنا سکتے ہو جو ہماری آیات پر ایمان لاتے اور سرِ تسلیم خم کر دیتے ہیں
یعنی نبی کا کام یہ تو نہیں ہے کہ اندھوں کا ہاتھ پکڑ کر انہیں ساری عمر راہِ راست پر چلاتا رہے۔ وہ تو راہِ راست کی طرف رہنمائی ہی کر سکتا ہے ۔ مگر جن لوگوں کی ہِیے کی آنکھیں پھوٹ چکی ہوں اور جنہیں وہ راستہ نظر ہی نہ آتا ہو جو نبی انہیں دکھانے کی کوشش کرتا ہے ، ان کی رہنمائی کر نا نبی کے بس کا کام نہیں ہے۔
اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضُؔعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ضُؔعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ ضُؔعْفًا وَّشَیْبَةً ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَهُوَ الْعَلِیْمُ الْقَدِیْرُ
اللہ ہی تو ہے جس نے ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی ابتدا کی ، پھر اس ضعف کے بعد تمہیں قوّت بخشی، پھر اس قوّت کے بعد تمہیں ضعیف اور بُوڑھا کر دیا۔ وہ جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔79 وہ سب کچھ جاننے والا ، ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے
یعنی بچپن، جوانی اور بڑھاپا، یہ ساری حالتیں اسی کی پیدا کردہ ہیں۔ یہ اسی کی مشیت پر موقوف ہے کہ جسے چاہے کمزور پیدا کرے اور جس کو چاہے طاقت ور بنائے، جسے چاہے بچپن سے جوانی تک نہ پہنچنے دے اور جس کو چاہے جوانا مرگ کر دے، جسے چاہے لمبی عمر دے کر بھی تندرست و توانا رکھے اور جس کو چاہے شاندار جوانی کے بعد بڑھاپے میں، اس طرح ایڑیاں رگڑوائے کہ دنیا اسے دیکھ کر عبرت کرنے لگے ۔ انسان اپنی جگہ جس گھمنڈ میں چاہے مبتلا ہوتا رہے مگر خدا کے قبضۂ قدرت میں وہ اِس طرح بے بس ہے کہ جو حالت بھی خدا اس پر طاری کر دے اسے وہ اپنی کسی تدبیر سے نہیں بد ل سکتا۔
وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ ۬ مَا لَبِثُوْا غَیْرَ سَاعَةٍ ؕ كَذٰلِكَ كَانُوْا یُؤْفَكُوْنَ
یعنی قیامت جس کے آنے کے خبر دی جارہی ہے۔
یعنی مرنے کے وقت سے قیامت کی اُس گھڑی تک۔ ان دونوں ساعتوں کے درمیان چاہے دس بیس ہزار برس ہی گزر چکے ہوں، مگر وہ یہ محسوس کریں گے کہ چند گھنٹے پہلے ہم سوئے تھے اور اب اچانک ایک حادثہ نے ہمیں جگا اُٹھایا ہے۔
یعنی ایسے ہی غلط اندازے یہ لوگ دنیا میں بھی لگاتے ہیں۔ وہاں بھی یہ حقیقت کے ادراک سے محروم تھے، اسی وجہ سے یہ حکم لگایا کرتے تھے کہ کوئی قیامت ویامت نہیں آنی، مرنے کے بعد کوئی زندگی نہیں ، اور کسی خدا کے سامنے حاضر ہو کر ہمیں حساب نہیں دینا۔
وَقَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَالْاِیْمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ اِلٰى یَوْمِ الْبَعْثِ ؗ فَهٰذَا یَوْمُ الْبَعْثِ وَلٰكِنَّكُمْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ
مگر جو علم اور ایمان سے بہرہ مند کیے گئے تھے وہ کہیں گے کہ خدا کے نوشتے میں تو تم روزِ حشر تک پڑے رہے ہو، سو یہ وہی روزِ حشر ہے، لیکن تم جانتے نہ تھے
فَیَوْمَىِٕذٍ لَّا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَعْذِرَتُهُمْ وَلَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ
پس وہ دن ہوگا جس میں ظالموں کو ان کی معذرت کوئی نفع نہ دے گی اور نہ اُن سے معافی مانگنے کے لیے کہا جائے گا۔83
دوسرا ترجمہ یہ بھی ہو سکتا ہے ”نہ ان سے یہ چاہا جائے گا کہ اپنے ربّ کو راضی کرو،“ اس لیے کہ توبہ اور ایمان اور عملِ صالح کی طرف رجوع کرنے کے سارے مواقع کو وہ کھو چکے ہوں گے اور امتحان کا وقت ختم ہو کر فیصلے کی گھڑی آچکی ہو گی۔
وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ ؕ وَلَىِٕنْ جِئْتَهُمْ بِاٰیَةٍ لَّیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُبْطِلُوْنَ
ہم نے اِس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح سے سمجھایا ہے تم خواہ کوئی نشانی لے آؤ، جن لوگوں نے ماننے سے انکار کر دیا ہے وہ یہی کہیں گے کہ تم باطل پر ہو
كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ
اِس طرح ٹھپہ لگا دیتا ہے اللہ اُن لوگوں کے دلوں پر جو بے علم ہیں
فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّلَا یَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِیْنَ لَا یُوْقِنُوْنَ
اشارہ ہے اُس وعدے کی طرف جو اُوپر آیت نمبر 47 میں گزر چکا ہے۔ وہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی یہ سنت بیان کی ہے کہ جن لوگوں نے بھی اللہ کے رسولوں کی لائی ہوئی بیّنات کا مقابلہ تکذیب و تضحیک اور ہٹ دھرمی کے ساتھ کیا ہے اللہ نے ایسے مجرموں سے ضرور انتقام لیا ہے (فَا نْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا)، اور اللہ پر یہ حق ہے کہ مومنوں کی نُصرت فرمائے (وَکَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْ مِنِیْنَ)۔
یعنی دشمن تم کو ایسا کمزور نہ پائیں کہ ان کے شور و غوغا سے تم دب جاؤ، یا ان کی بہتان و افترا کی مہم سے تم مرعوب ہو جاؤ، یاان کی پھبتیوں اور طعنوں او ر تضحیک و استہزاء سے تم پست ہم ت ہو جاؤ، یا ان کی دھمکیوں اور طاقت کے مظاہروں اور ظلم و ستم سے تم ڈر جاؤ، یا ان کے دیے ہوئے لالچوں سے تم پھسل جاؤ، یا قومی مفاد کے نام پر جو اپیلیں وہ تم سے کر رہے ہیں ان کی بنا پر تم ان کے ساتھ مصالحت کر لینے پر اتر آؤ۔ اس کے بجائے و ہ تم کو اپنے مقصد کے شعور میں اتنا ہوشمند، اور اپنے یقین و ایمان میں اتنا پختہ، اور اپنے عزم میں اتنا راسخ ، اور اپنے کیرکٹر میں اتنا مضبوط پائیں کہ نہ کسی خوف سے تمہیں ڈرایا جا سکے، نہ کسی قیمت پر تمہیں خریدا جا سکے، نہ کسی فریب سے تم کو پھُسلایا جا سکے، نہ کوئی خطرہ یا نقصان یا تکلیف تمہیں اپنی راہ سے ہٹا سکے ، اور نہ دین کے معاملہ میں کسی لین دین کا سودا تم سے چکایا جا سکے۔ یہ سارا مضمون اللہ تعالیٰ کے کلام بلاغت نظام نے اس ذرا سے فقرے میں سمیٹ دیا ہے کہ”یہ بے یقین لوگ تم کو ہلکا نہ پائیں۔“ اب اس بات کا ثبوت تاریخ کی بے لاگ شہادت دیتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا پر ویسے ہی بھاری ثابت ہوئے جیسا اللہ اپنے آخری نبی کو بھاری بھرکم دیکھنا چاہتا تھا۔ آپ سے جس نے جس میدان میں بھی زور آزمائی کی اس نے اسی میدان میں مات کھائی اور آخر اس شخصیت ِ عظمیٰ نے وہ انقلاب برپا کر کے دکھا دیا جسے روکنے کے لیے عرب کے کفر و شرک نے اپنی ساری طاقت صرف کر دی اور اپنے سارے حربے استعمال کر ڈالے۔
الله کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے <<سورة الرُّوْم>> نام : پہلی ہی آیت کے لفظ <<غُلِبَتِ الرُّوم>> سے ماخوذ ہے ۔ زمانہ نزول : آغاز ہی میں جس تاریخی واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے اس سے زمانہ نزول قطعی طور پر متعین ہو جاتا ہے ۔ اس میں ارشاد ہوا ہے کہ ” قریب کی سرزمین میں رومی مغلوب ہو گئے ہیں ۔‘‘ اس زمانے میں عرب سے متصل رومی مقبوضات اردن ، شام اور فلسطین تھے اور ان علاقوں میں رومیوں پر ایرانیوں کا غلبہ 615…