طٰسٓمّٓ
ط س م
Al-Qasas
سورة القصص
سورة القصص
طٰسٓمّٓ
ط س م
تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ
یہ کتاب مبین کی آیات ہیں
نَتْلُوْا عَلَیْكَ مِنْ نَّبَاِ مُوْسٰی وَفِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ
تقابل کے لیے ملاحظہ ہو البقرہ (رکوع۶)۔ الاعراف(رکوع13 تا 1۶) یونس (رکوع8۔9)۔ ہود (رکوع9)۔ بنی اسرائیل(رکوع12)۔ مریم (رکوع4)۔ طٰہٰ(رکوع1۔4)۔ المومنون(رکوع3)الشعراء(رکوع2۔4)۔ النمل(رکوع1)۔ العنکبوت(رکوع4)۔ المومن(رکوع3۔5) الزخرف (رکوع5) ۔الدخان(رکوع1)۔الذاریات (رکوع2)۔النازعات(رکوع1)۔
یعنی جو لوگ ماننے کے لیے تیار ہی نہ ہوں ان کو سنانا تو بےکار ہے ۔ البتہ جنہوں نے ہٹ دھرمی کا قفل اپنے دلوں پر چڑھا نہ رکھا ہو وہ اس گفتگو کے مخاطب ہیں۔
اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِی الْاَرْضِ وَجَعَلَ اَهْلَهَا شِیَعًا یَّسْتَضْعِفُ طَآىِٕفَةً مِّنْهُمْ یُذَبِّحُ اَبْنَآءَهُمْ وَیَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ ؕ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ
اصل لفظ عَلَا فِی الْاَرْضِ استعمال ہوا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے زمین میں سراُٹھایا، باغیانہ روش اختیار کی ، اپنی اصل حیثیت یعنی بندگی کے مقام سے اُٹھ کر خود مختیاری اور خدا وندی کا روپ دھار لیا، ماتحت بن کر رہنے کے بجائے بالا دست بن بیٹھا، اور جبار و متکبّرین کر ظلم ڈھانے لگا۔
یعنی اس کی حکومت کا قاعدہ یہ نہ تھا کہ قانون کی نگاہ میں ملک کے سب باشندے یکساں ہوں اور سب کو برابر کے حقوق دیے جائیں، بلکہ اس نے تمدّن و سیاست کا یہ طرز اختیار کیا کہ ملک کے باشندوں کو گروہوں میں تقسیم کیا جائے، کسی کو مراعات و امتیازات دے کر حکمراں گروہ ٹھیرا یا جائے اور کسی کو محکوم بنا کر دبا یا اور پیسا اور لُوٹا جائے۔ یہاں کسی کو یہ شبہہ لاحق نہ ہو کہ اسلامی حکومت بھی تو مسلم اور ذمّی کے درمیان تفریق کرتی ہے اور ان کے حقوق و اختیارات ہر حیثیت سے یکساں نہیں رکھتی ۔ یہ شبہہ اس لیے غلط ہے کہ اس فرق کی بنیاد فرعونی تفریق کے بر عکس نسل، رنگ ، زبان، یا طبقاتی امتیاز پر نہیں ہے بلکہ اُصول اور مسلک کے اختلاف پر ہے ۔ اسلامی نظامِ حکومت میں ذمّیوں اور مسلمانوں کے درمیان قانونی حقوق میں قطعاً کوئی فرق نہیں ہے۔ تمام تر فرق صرف سیاسی حقوق میں ہے ۔ اور اس فرق کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک اصولی حکومت میں حکمراں جماعت صرف وہی ہو سکتی ہے جو حکومت کے بنیادی اصولوں کی حامی ہو۔ اس جماعت میں ہر وہ شخص داخل ہو سکتا ہے جو اس کے اصولوں کو مان لے ، اور ہر وہ شخص اس سے خارج ہو جاتا ہے جو ان اصولوں کا منکر ہو جائے۔ آخر اس تفریق میں اور اُس فرعونی طرزِ تفریق میں کیا وجہ مشابہت ہے جس کی بنا پر محکوم نسل کا کوئی فرد کبھی حکمراں گروہ شامل نہیں ہو سکتا۔ جس میں محکوم نسل کے لوگوں کو سیاسی اور قانونی حقوق تو درکنار بنیادی انسانی حقوق بھی حاصل نہیں ہوتے، حتّٰی کہ زندہ رہنے کا حق بھی ان سے چھین لیا جاتا ہے۔ جس میں محکوموں کے لیے کسی حق کی بھی کوئی ضمانت نہیں ہوتی، تمام فوائد و منافع اور حسنات و درجات صرف حکمراں قوم کے لیے مختص ہوتے ہیں، اور یہ مخصوص حقوق صرف اسی شخص کو حاصل ہوتے ہیں جو حکمراں قوم میں پیدا ہو جائے۔
بائیبل میں اس کی جو تشریح ملتی ہے وہ یہ ہے: تب مصر میں ایک نیا بادشاہ ہوا جو یوسف کو نہیں جانتا تھا۔ اور اس نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ دیکھو اسرائیلی ہم سے زیادہ اور قوی ہو گئے ہیں سو آؤ ہم ان کے ساتھ حکمت سے پیش آئیں ایسانہ ہو کہ جب وہ اور زیادہ ہو جائیں اور اس وقت جنگ چھڑ جائے تو وہ ہمارے دشمنوں سے مل کر ہم سے لڑیں اور ملک سے نکل جائیں۔ اس لیے انہوں نے ان پر بیگار لینے والے مقرر کیے جو ان سے سخت کام لے کر انہیں ستائیں۔ سو انہوں نے فرعون کے لیے ذخیرے کے شہر پتُوم اور رَعمسَیس بنائے۔۔۔۔ اور مصریوں نے بنی اسرائیل پر تشدد کر کے ان سے کام کروایا اور انہوں نے ان سے سخت محنت سے گارا اور اینٹ بنوا بنوا کر اور رکھیت میں ہر قسم کی خدمت لے کر ان کی زندگی تلخ کی۔ ان کی سب خدمتیں جو وہ ان سے کراتے تھے تشدد کی تھیں۔۔۔۔ تب مصر کے بادشاہ عبرانی دائیوں سے ۔۔۔۔ باتیں کیں اور کہا کہ جب عبرانی(یعنی اسرائیلی)عورتوں کے تم بچہ جناؤ اور ان کو پتھر کی بیٹھکوں پر بیٹھی دیکھو تو اگر بیٹا ہو تو اسے مار ڈالنا اور اگر بیٹی ہو تو جیتی رہے“۔(خروج ، باب1۔ آیت8۔1۶)۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کا دور گزر جانے کے بعد مصر میں ایک قوم پر ستانہ انقلاب ہوا تھا اور قبطیوں کے ہاتھ میں جب دوبارہ اقتدار آیا تو نئی قوم پرست حکومت نے بنی اسرائیل کا زور توڑنے کی پوری کوشش کی تھی۔ اس سلسلے میں صرف اتنے ہی پر اکتفا نہ کیا گیا کہ اسرائیلیوں کو ذلیل و خوا ر کیا جاتا اور انہیں ادنیٰ درجے کی خدمات کے لیے مخصوص کر لیا جاتا، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر یہ پالیسی اختیار کی گئی کہ بنی اسرائیل کی تعداد گھٹائی جائے اور ان کے لڑکوں کو قتل کر کے صرف ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیا جائے تا کہ رفتہ رفتہ ان کی عورتیں قبطیوں کے تصرف میں آتی جائیں اور ان سے اسرائیل کے بجائے قبطی نسل پیدا ہو ۔ تلمود اس کی مزید تفصیل یہ دیتی ہے کہ حضرت یوسف کی وفات پر ایک صدی سے کچھ زیادہ مدّت گزر جانے کے بعد یہ انقلاب ہوا تھا۔ وہ بتاتی ہے کہ نئی قوم پر ست حکومت نے پہلے تو بنی اسرائیل کو ا ن کی زرخیز زمینوں اور ان کے مکانات اور جائدادوں سے محروم کیا۔ پھر انہیں حکومت کے تمام مناسب سے بے دخل کیا۔ اس کے بعد بھی جب قبطی حکمرانوں نے محسوس کیا کہ بنی اسرائیل اور ان کے ہم مذہب مصری کافی طاقت ور ہیں تو انہوں نے اسرائیلیوں کو ذلیل و خوار کرنا شروع کیا اور ان سے سخت محنت کے کام قلیل معاوضوں پر یا بلا معاوضہ لینے لگے ۔ یہ تفسیر ہے قرآن کے اس بیان کی کہ مصر کی آبادی کے ایک گروہ کو وہ ذلیل کرتا تھا۔ اور سورہ بقرہ میں اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی آلِ فرعون بنی اسرائیل کو سخت عذاب دیتے تھے۔(یَسُوْمُوْنَکُمْ سُوٓ ْءَ الْعَذَابِ) مگر بائیبل اور قرآن دونوں اس ذکر سے خالی ہیں کہ فرعون سے کسی نجومی نے یہ کہا تھا کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہونے والا ہے جس کے ہاتھوں فرعونی اقتدار کا تختہ اُلٹ جائے گا اور اسی خطرے کو روکنے کے لیے فرعون نے اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا۔ یا فرعون نے کوئی خوفناک خواب دیکھا تھا اور اس کی تعبیر یہ دی گئی تھی کہ ایک لڑکا بنی اسرائیل میں ایسا اور ایسا پیدا ہونے والا ہے ۔ یہ افسانہ تلمود اور دوسری اسرائیلی روایات سے ہمارے مفسرین نے نقل کیا ہے (ملاحظہ ہو جیوش انسائیکلو پیڈیا، مضمون”موسیٰ“اور (The Talmud Selection s.p. 124-23 )۔
وَنُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَی الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ اَىِٕمَّةً وَّنَجْعَلَهُمُ الْوٰرِثِیْنَ
یعنی انہیں دنیا میں قیادت و رہنمائی کا مقام عطا کریں۔
یعنی ان کو زمین کی وراثت بخشیں اور وہ حکمران و فرمانروا ہوں۔
وَنُمَكِّنَ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَنُرِیَ فِرْعَوْنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوْدَهُمَا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَحْذَرُوْنَ
اور زمین میں ان کو اقتدار بخشیں اور ان سے فرعون و ہامان8 اور ان کے لشکروں کو وہی کچھ دِکھلا دیں جس کا انہیں ڈر تھا
مغربی مستشرقین نے اس بات پر بڑی لے دے کی ہے کہ ہا مان تو ایران کے بادشاہ اخسویرس یعنی خشیار شاہ(Xerxes ) کے دربار کا ایک امیر تھا، اور اس بادشاہ کا زمانہ حضرت موسیٰ کے سینکڑوں برس بعد 48۶ اور 4۶5 قبل مسیح میں گزرا ہے ، مگر قرآن نے اسے مصر لے جا کر فرعون کا وزیر بنا دیا۔ کہ اخسویرس کے دربار ی ہامان سے پہلے دینا میں کوئی شخص کبھی اس نام کا نہیں گزرا ہے۔ جس فرعون کا ذکر یہاں ہو رہا ہے اگر اس کے تمام وزراء اور امراء اور اہلِ دربار کی کوئی مکمل فہرست بالکل مستند ذریعے سے کسی مستشرق صاحب کو مل گئی ہے جس میں ہامان کا نام مفقود ہے تو وہ اسے چھپائے کیوں بیٹھے ہیں؟ انہیں اس کا فوٹو فوراً شائع کر دینا چاہیے، کیونکہ قرآن کی تکذیب کے لیے اس سے زیادہ مو ثر ہتھیار انہیں کوئی اور نہ ملے گا۔
وَاَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤی اُمِّ مُوْسٰۤی اَنْ اَرْضِعِیْهِ فَاِذَا خِفْتِ عَلَیْهِ فَاَلْقِیْهِ فِی الْیَمِّ وَلَا تَخَافِیْ وَلَا تَحْزَنِیْ اِنَّا رَآدُّوْهُ اِلَیْكِ وَجَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ
pبیچ میں یہ ذکر چھوڑ دیا گیا ہے کہ انہی حالات میں ایک اسرائیلی والدین کے ہاں وہ بچہ پیدا ہو گیا جس کو دنیا نے موسیٰؑ علیہ السلام کے نام سے جانا۔ بائیبل اور تلمود کے بیان کے مطابق یہ خاندان حضرت یعقوبؑ کے بیٹے لاوِی کی اولاد میں سے تھا۔ حضرت موسیٰ ؑ کے والد کا نام ان دونوں کتابوں میں عمرام بتایا گیا ہے ، قرآن اسی کا تلفظ عمران کرتا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے ان کے ہاں دو بچے ہو چکے تھے۔ سب سے بڑی لڑکی مریم (Miriam ) نامی تھیں جن کا ذکر آگے آرہا ہے۔ ان سے چھوٹے حضرت ہارونؑ تھے۔ غالباً یہ فیصلہ کہ بنی اسرائیل کے ہاں جو بیٹا پیدا ہوا سے قتل کر دیا جائے، حضرت ہارونؑ کی پیدائش کے زمانے میں نہیں ہوا تھا، اس لیے وہ بچ گئے۔ پھر یہ قانون جاری ہوا اور اس خوفناک زمانے میں تیسرے بچے کی پیدا ئش ہوئی ۔/p
pیعنی پیدا ہوتے ہی دریا میں ڈال دینے کا حکم نہ تھا ، بلکہ ارشاد یہ ہوا کہ جب تک خطرہ نہ ہو بچے کو دودھ پلاتی رہو۔ جب راز فاش ہوتا نظر آئے اور اندیشہ ہو کہ بچے کی آواز سُن کر یا اور کسی طرح دشمنوں کو اس کی پیدائش کا علم ہو جائیگا، یا خود بنی اسرائیل ہی میں سے کوئی کمینہ آدمی مخبری کر بیٹھے گا ، تو بے خوف و خطرا سے ایک تابوت میں رکھ کر دریا میں ڈال دینا۔ بائیبل کا بیان ہے کہ پیدائش کے بعد تین مہینے تک حضرت موسیٰؑ کی والدہ ان کو چھپائے رہیں۔ تلمود اس پر اضافہ کرتی ہے کہ فرعون کی حکومت نے اس زمانے میں جاسوس عورتیں چھوڑ رکھی تھیں جو اسرائیلی گھروں میں اپنے ساتھ چھوٹے چھوٹے بچے لے جاتی تھیں اور وہاں کسی نہ کسی طرح ان بچوں کو رُلا دیتی تھیں تا کہ اگر کسی اسرائیلی نے اپنے ہاں کوئی بچہ چھپا رکھا ہو تو وہ بھِ دوسرے بچے کی آواز سن کر رونے لگے۔ اس نئے طرز جاسوسی سے حضرت موسیٰؑ کی والدہ پریشان ہو گئیں اور انہوں نے اپنے بچے کی جان بچانے کے لیے پیدائش کے تین مہینے بعد اسے دریا میں ڈال دیا۔ اس حد تک ان دونوں کتابوں کا بیان قرآن کے مطابق ہے۔ اور دریا میں ڈالنے کی کیفیت بھی انہوں نے وہی بتائی ہے جو قرآن میں بتائی گئی ہے ۔ سورہ طٰہٰ میں ارشاد ہوا ہے اِقْذِفِیْہِ فِی التَّابُوْتِ فَاقْذِفِیْہِ فِی الْیَمِّ،”بچے کو ایک تابوت میں رکھ کر دریا میں ڈال دے“۔ اسی کی تائید بائیبل اور تلمود بھی کرتی ہیں۔ ان کا بیان ہے کہ حضرت موسیٰؑ کی والد ہ نے سرکنڈوں کا ایک ٹوکرا بنا یا اور اسے چکنی مٹی اور رال سے لیپ کر پانی سے محفوظ کر دیا، پھر اس میں حضرت موسیٰ کو لٹا کر دریائے نیل میں ڈال دیا۔ لیکن سب سے بڑی بات جو قرآن میں بیان کی گئی ہے اس کا کوئی ذکر اسرائیلی روایات میں نہیں ہے ، یعنی یہ کہ حضرت موسیٰ کی والدہ نے یہ کام اللہ تعالیٰ کے اشراے پر کیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی ان کو یہ اطمینان دلادیا تھا کہ اس طریقے پر عمل کرنے میں نہ صرف یہ کہ تمہارے بچے کی جان کو کوئی خطرہ نہیں ہے، بلکہ ہم بچے کو تمہارے پاس ہی پلٹا لائیں گے، اور یہ کہ تمہارا یہ بچہ آگے چل کر ہمارا رسول ہونے والا ہے۔/p
فَالْتَقَطَهٗۤ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِیَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّحَزَنًا ؕ اِنَّ فِرْعَوْنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِـِٕیْنَ
آخر کار فرعون کے گھر والوں نے اسے (دریا سے)نکال لیا تاکہ وہ ان کا دشمن اور ان کے لیے سببِ رنج بنے،11 واقعی فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر (اپنی تدبیرمیں)بڑے غلط کار تھے
یہ ان کا مقصد نہ تھا بلکہ یہ ان کے اس فعل کا انجامِ مقدر تھا ۔ وہ اُس بچے کو اُٹھا رہے تھے جس کے ہاتھوں آخر کار انہیں تباہ ہوناتھا۔
وَقَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَیْنٍ لِّیْ وَلَكَ ؕ لَا تَقْتُلُوْهُ عَسٰۤی اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا وَّهُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ
فرعون کی بیوی نے (اس سے)کہا”یہ میرے اور تیرے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، اسے قتل نہ کرو، کیا عجب کہ یہ ہمارے لیے مفید ثابت ہو، یا ہم اسے بیٹا ہی بنا لیں۔“12 اور وہ (انجام سے)بے خبر تھے
اس بیان سے جو صورتِ معاملہ صاف سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ تابوت یا ٹوکرا دریا میں بہتا ہوا جب اس مقام پر پہنچا جہاں فرعون کے محلات تھے، تو فرعون کے خدّام نے اسے پکڑ لیااور لے جا کر بادشاہ اور ملکہ کے سامنے پیش کر دیا۔ ممکن ہے کہ بادشاہ اور ملکہ خود اس وقت دریا کے کنارے سیر میں مشغول ہوں اور ان کی نگاہ اس ٹوکرے پر پڑی ہو اور انہی کے حکم سے وہ نکالا گیا ہو۔ اس میں ایک بچہ پڑا ہوا دیکھ کر بآسانی یہ قیاس کیا جا سکتا تھا کہ یہ ضرور کسی اسرائیلی کا بچہ ہے ، کیونکہ وہ اُن محلوں کی طرف سے آرہا تھا جن میں بنی اسرائیل رہتے تھے، اور انہی کے بیٹے اس زمانے میں قتل کیے جا رہے تھے، اور انہی کے متعلق یہ توقع کی جاسکتی تھی کہ کسی نے بچے کو چھپا کر کچھ مدت تک پالا ہے اور پھر جب وہ زیادہ دیر چُھپ نہ سکا تو اب اسے اس امید پر دریا میں ڈال دیا ہے کہ شاید اسی طرح اس کی جان بچ جائے اور کوئی اسے نکال کر پال لے۔ اسی بنا پر کچھ ضرورت سے زیادہ وفادار غلاموں نے عرض کیا کہ حضور اسے فوراً قتل کر ا دیں، یہ بھی کوئی بچہ افعیٰ ہی ہے ۔ لیکن فرعون کی بیوی آخر عورت تھی، اور بعید نہیں کہ بے اولاد ہو۔ پھر بچہ بھی بہت پیار صورت کا تھا، جیسا کہ سورہ طٰہٰ میں اللہ تعالیٰ خود حضرت موسیٰؑ کو بتاتا ہے کہ وَاَلْقَیْتُ عَلَیْکَ مَحَبَّۃً مِّنِّیْ،(میں نے اپنی طرف سے تیرے اوپر محبت ڈالی دی تھی)یعنی تجھے ایسی موہنی صورت دی تھی کہ دیکھنے والوں کو بے اختیار تجھ پر پیا رآجاتا تھا ۔ اس لیے اس عورت سے نہ رہا گیا اور اس نے کہا کہ اسے قتل نہ کرو بلکہ لے کر پال لو۔ یہ جب ہمارے ہاں پرورش پائے گا اور ہم اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے تو اسے کیا خبر ہوگی کہ میں اسرائیلی ہوں۔ یہ اپنے آپ کو آلِ فرعون ہی کا ایک فرد سمجھے گا اور اس کی قابلیتیں بنی اسرائیل کے بجائے ہمارے کا م آئیں گی۔ بائیبل اور تلمود کا بیان ہے کہ وہ عورت جس نے حضرت موسیٰ ؑ کو پالنے اور بیٹا بنانے کے لیے کہا تھا فرعون کی بیٹی تھی۔ لیکن قرآن صاف الفاظ میں اسے ”امرأ ۃ فرعون “(فرعون کی بیوی)کہتا ہے ۔ اور ظاہر ہے کہ صدیوں بعد مرتب کی ہوئی زبانی روایات کے مقابلے میں براہِ راست اللہ تعالیٰ کا بیان ہی قابلِ اعتماد ہے۔ کوئی وجہ نہیں کہ خواہ مخواہ اسرائیلی روایات سے مطابقت پیدا کرنے کی خاطر عربی محاورہ استعمال کے خلاف امرأ ۃ فرعون کے معنی ”فرعون کے خاندان کی عورت “کیے جائیں۔
وَاَصْبَحَ فُؤَادُ اُمِّ مُوْسٰی فٰرِغًا ؕ اِنْ كَادَتْ لَتُبْدِیْ بِهٖ لَوْلَاۤ اَنْ رَّبَطْنَا عَلٰی قَلْبِهَا لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ
اُدھر موسیٰؑ کی ماں کا دل اڑا جا رہا تھا وہ اس راز کو فاش کر بیٹھتی اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھا دیتے تاکہ وہ (ہمارے وعدے پر) ایمان لانے والوں میں سے ہو
وَقَالَتْ لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ ؗ فَبَصُرَتْ بِهٖ عَنْ جُنُبٍ وَّهُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ
اُس نے بچے کی بہن سے کہا اس کے پیچھے پیچھے جا۔ چنانچہ وہ الگ سے اس کو اس طرح دیکھتی رہی کہ (دشمنوں کو)اس کا پتہ نہ چلا۔13
یعنی لڑکی نے اس طریقے سے ٹوکرے پر نگاہ رکھی کہ بہتے ہوئے ٹوکرے کے ساتھ ساتھ وہ اس کو دیکھتی ہوئی چلتی بھی رہی اور دشمن یہ نہ سمجھ سکے کہ اس کا کوئی تعلق اس ٹوکرے والے بچے کے ساتھ ہے ۔اسرائیلی روایات کے مطابق حضرت موسیٰؑ کی یہ بہن اس وقت1۰۔12 برس کی تھیں۔ ان کی ذہانت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ انہوں نے بڑی ہوشیاری کے ساتھ بھائی کا پیچھا کیا اور یہ پتہ چلا لیا کہ وہ فرعون کے محل میں پہنچ چکا ہے۔
وَحَرَّمْنَا عَلَیْهِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ فَقَالَتْ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰۤی اَهْلِ بَیْتٍ یَّكْفُلُوْنَهٗ لَكُمْ وَهُمْ لَهٗ نٰصِحُوْنَ
یعنی فرعون کی بیوی جس انّا کو بھی دودھ پانے کے لیے بلاتی تھی ، بچہ اس کی چھاتی کو منہ نہ لگاتا تھا
ہوشیاری کے ساتھ محل کے آس پاس چکر لگاتی رہی۔ پھر جب اسے پتہ چلا کہ بچہ کسی کا دودھ نہیں پی رہا ہے اور ملکہ عالیہ پریشان ہیں کہ کوئی ایسی انّا ملے جو بچے کو پسند آئے تو وہ ذہین لڑکی سیدھی محل میں پہنچ گئی اور جا کر کہا کہ میں ایک اچھی انّا کا پتہ بتاتی ہوں جو اس بچے کو بڑی شفقت کے ساتھ پالے گی۔ اس مقام پر یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ قدیم زمانے میں ان ممالک کے بڑے اور خاندانی لوگ بچوں کو اپنے ہاں پالنے کے بجائے عموماً انّا ؤں کے سپر د کر دیتے تھے اور وہ اپنے ہاں ان کی پرورش کرتی تھیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سریت میں بھی یہ ذکر آتا ہے کہ مکّہ میں وقتاً فوقتاً اطراف و نواح کی عورتیں انّا گیری کی خدمت کے لیے آتی تھیں اور سرداروں کے بچےدودھ پلانے کے لیے اچھے اچھے معاوضوں پر حاصل کر کے ساتھ لے جاتی تھیں۔ حضور ؐ نے خود بھی حلیمہ سعدیہ کے ہاں صحرا میں پرورش پائی ہے ۔ یہی طریقہ مصر میں بھی تھا ۔ اسی بنا پر حضرت موسیٰؑ کی بہن نے یہ نہیں کہا کہ میں ایک اچھی انّا لا کر دیتی ہوں ، بلکہ یہ کہا کہ میں ایسے گھر کا پتہ بتاتی ہوں جس کے لوگ اس کی پرورش کا ذمہ لیں گے اور اسے خیر خواہی کے ساتھ پالیں گے۔
فَرَدَدْنٰهُ اِلٰۤی اُمِّهٖ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَلَا تَحْزَنَ وَلِتَعْلَمَ اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ
بائیبل اور تلمود سے معلوم ہوتا ہے کہ بچے کا نام”موسیٰ“فرعون کے گھر میں رکھا گیا تھا۔ یہ عبرانی زبان کا نہیں بلکہ قِبْطی زبان کا لفظ ہے اور اس کے معنی ہیں”میں نے اسے پانی سے نکالا“۔قدیم مصری زبان سے بھی حضرت موسیٰؑ کے نام کی یہ تخریج صحیح ثابت ہوتی ہے۔اس زبان میں ”مو“پانی کو کہتے تھے اور ”اوشے“کا مطلب تھا”بچا یا ہوا“۔
اور اللہ کی اس حکیمانہ تدبیر کا فائدہ یہ بھی ہوا کہ حضرت موسیٰ فی الواقع فرعون کے شاہزادے نہ بن سکے بلکہ اپنے ہی ماں باپ اور بہن بھائیوں میں پرورش پا کر انہیں اپنی اصلیت اچھی طرح معلوم ہو گئی۔ اپنی خاندانی روایات سے ، اپنے آبائی مذہب سے ، اور اپنی قوم سے ان کا رشتہ نہ کٹ سکا۔ وہ آلِ فرعون کے ایک فرد بننے کے بجائے اپنے دلی جذبات اور خیالات کے اعتبار سے پوری طرح بنی اسرائیل کے ایک فرد بن کر اُٹھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک حدیث میں فرماتے ہیں مثل الذی یعمل و یحتسب فی صنعتہ الخیر کمثل ام موسیٰ ترضع ولدھا و تاخذا جر ھا۔”جو شخص اپنی روزی کمانے کے لیے کام کرے اور اس کام میں اللہ کی خوشنودی پیش نظر رکھے اس کی مثال حضرت موسیٰؑ کی والدہ کی سی ہے کہ انہوں نے اپنے ہی بیتَ کو دودھ پلایا اورا س کی اجرت بھی پائی“۔ یعنی ایسا شخص اگرچہ اپنا اور اپنے بال بچوں کا پیٹ بھرنے کے لیے کام کرتا ہے لیکن چونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی پیش نظر رکھ کر ایمانداری سے کام کرتا ہے جس کے ساتھ بھی معاملہ کرتا ہے اس کا حق ٹھیک ٹھیک ادا کرتا ہے ، اور رزق حلال سے اپنے نفس اور اپنے بال بچوں کی پرورش اللہ کی عبادت سمجھتے ہوئے کرتا ہے ، اس لیے وہ اپنی روزی کمانے پر بھی اللہ کے ہاں اجر کا مستحق ہوتا ہے ۔ گویا روزی بھی کمائی اور اللہ سے اجر وثواب بھی پایا۔
وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَاسْتَوٰۤی اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّعِلْمًا ؕ وَكَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ
یعنی جب ان کا جسمانی و ذہنی نشونما مکمل ہو گیا۔ یہودی روایات میں اس وقت حضرت موسیٰؑ کی مختلف عمریں بتائی گئی ہیں۔ کسی نے 18 سال لکھی ہے، کسی نے 2۰ سال، اور کسی نے 4۰ سال۔ بائیبل کے نئے عہد نامے میں 4۰ سال عمر بتائی گئی ہے(اعمال23:7)۔ لیکن قرآن کسی عمر کی تصریح نہیں کرتا ۔ جس مقصد کے لیے قصّہ بیان کیا جا رہا ہے اس کے لیے بس اتنا ہی جان لینا کافی ہے کہ آگے جس واقعہ کا ذکر ہو رہا ہے وہ اُس زمانے کا ہے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام پورے شباب کو پہنچ چکے تھے۔
حکم سے مراد حکمت، دانائی، فہم و فراست اور قوتِ فیصلہ ۔ اور علم سے مراد دینی اور دنیوی علوم دونوں ہیں، کیونکہ اپنے والدین کے ساتھ ربط ضبط قائم رہنے کی وجہ سے ان کو اپنے باپ دادا (حضرت یوسف، یعقوب، اسحاق اور ابراہیم علیہم السلام) کی تعلیمات سے بھی واقفیت حاصل ہو گئی، اور بادشاہِ وقت کے ہاں شاہزادے کی حیثیت سے پرورش پانے کے باعث اُن کو وہ تمام دنیوی علوم بھی حاصل ہوئے جو اُس زمانے کے اہل مصر میں متداول تھے۔ اس حکم اور علم کے عطیہ سے مراد نبوت کا عطیہ نہیں ہے،کیونکہ حضرت موسیٰؑ کو نبوت تو اس کے کئی سال بعد عطا فرمائی گئی، جیسا کہ آگے آرہا ہے اور اس سے پہلے سورہ شعراء (آیت21) میں بھی بیان ہو چکا ہے۔ اِس زمانہ شاہزادگی کی تعلیم و تربیت کے متعلق بائیبل کی کتاب الاعمال میں بتایا گیا ہے کہ ”موسیٰ نے مصریوں کے تمام علوم کی تعلیم پائی اور وہ کام اور کلام میں قوت والا تھا“(22:7) ۔ تلمود کا بیان ہے کہ موسیٰ علیہ السلام فرعون کے گھر میں ایک خوبصورت جوان بن کر اُٹھے۔ شاہزادوں کا سا لباس پہنتے ، شاہزادوں کی طرح رہتے ،اور لوگ ان کی نہایت تعظیم و تکریم کرتے تھے۔ وہ اکثر جُشَن کے علاقے میں جاتے جہاں اسرائیلیوں کی بستیاں تھیں۔ اور ان تمام سختیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے جو ان کی قوم کے ساتھ قِبطی حکومت کے ملازمین کرتے تھے۔ انہی کی کوشش سے فرعون نے اسرائیلیوں کے لیے ہفتہ میں ایک دن کی چھٹی مقرر کی۔ انہوں نے فرعون سے کہا کہ دائماً مسلسل کام کرنے کی وجہ سے یہ لوگ کمزور ہو جائیں گے اور حکومت ہی کے کام کا نقصان ہوگا۔ ان کی وقت بحال ہو ہونے کے لیے ضروری ہے کہ انہیں ہفتے میں ایک دن آرام کا دیا جائے۔ اسی طرح اپنی دانائی سے انہوں نے اور بہت سے ایسے کام کیے جن کی وجہ سے تمام ملک مصر میں ان کی شہرت ہوگئی تھی۔(اقتباسات تلمود۔ صفحہ129)۔
وَدَخَلَ الْمَدِیْنَةَ عَلٰی حِیْنِ غَفْلَةٍ مِّنْ اَهْلِهَا فَوَجَدَ فِیْهَا رَجُلَیْنِ یَقْتَتِلٰنِ ؗ هٰذَا مِنْ شِیْعَتِهٖ وَهٰذَا مِنْ عَدُوِّهٖ فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِیْ مِنْ شِیْعَتِهٖ عَلَی الَّذِیْ مِنْ عَدُوِّهٖ فَوَكَزَهٗ مُوْسٰی فَقَضٰی عَلَیْهِ ؗ قَالَ هٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ ؕ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِیْنٌ
(ایک روز) وہ شہر میں ایسے وقت داخل ہوا جبکہ اہلِ شہر غفلت میں تھے۔20 وہاں اُس نے دیکھا کہ دو آدمی لڑ رہے ہیں۔ ایک اُس کی اپنی قوم کا تھا اور دُوسرا اُس کی دشمن قوم سے تعلق رکھتا تھا۔ اُس کی قوم کے آدمی نے دشمن قوم والے کے خلاف اُسے مدد کے لیے پکارا۔ موسیٰؑ نے اُس کو ایک گھونسا مارا21 اور اُس کا کام تمام کر دیا۔ (یہ حرکت سرزَد ہوتے ہی)موسیٰؑ نے کہا”یہ شیطان کی کار فرمائی ہے، وہ سخت دشمن اور کھُلا گمراہ کُن ہے۔“22
ہو سکتا ہے کہ وہ صبح سویرے کا وقت ہو، یا گرمی میں دوپہر کا ، یا سردیوں میں رات کا۔ بہر حال مراد یہ ہے کہ جب سڑکیں سنسان تھیں اور شہر میں سناٹا چھایا ہوا تھا۔ ”شہر میں داخل ہوا“، ان الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ دارالسطنت کے شاہی محلات عام آبادی سے باہر واقع تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام چونکہ شاہی محل میں رہتے تھے اس لیے”شہر میں نکلے“کہنے کے بجائے”شہر میں داخل ہوئے“فرمایا گیا ہے۔
اصل میں لفظ”وکز“استعمال ہوا ہے جس کے معنی تھپڑ مارنے کے بھی ہیں اور گھونسا مارنے کے بھی ۔ ہم نے اس خیال سے کہ تھپڑ سے موت واقع ہو جانا گھونسے کی بہ نسبت بعید تر ہے، اس کا ترجمہ گھونسا مارنا کیا ہے۔
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ گھونسا کھآ کر جب مصری گرا ہوگا اور اس نے دم توڑ دیا ہوگا تو کیسی سخت ندامت اور گھبراہٹ کی حالت میں یہ الفاظ حضرت موسیٰؑ کی زبان سے نکلے ہوں گے۔ ان کا کوئی ارادہ قتل کا نہ تھا۔ نہ قتل کے لیے گھونسا مارا جاتا ہے۔ نہ کوئی شخص یہ توقع رکھتا ہے کہ ایک گھونسا کھاتے ہی ایک بھلا چنگا آدمی پِرَان چھوڑ دے گا۔ اس بنا پر حضرت موسیٰؑ نے فرمایا کہ یہ شیطان کا کوئی شریر انہ منصوبہ معلوم ہوتا ہے ۔ اس نے ایک بڑا فساد کھرا کرنے کے لیے مجھ سے یہ کام کرایا ہے تا کہ ایک اسرائیلی کی حمایت میں ایک قبطی کو مار ڈالنے کا الزام مجھ پر عائد ہو اور صرف میرے ہی خلاف نہیں بلکہ تمام بنی اسرائیل کے خلاف مصر میں ایک طوفانِ عظیم اُٹھ کھڑا ہو۔ اس معاملہ میں بائیبل کا بیان قرآن سے مختلف ہے۔ وہ حضرت موسیٰؑ کو قتلِ عمد کا مجرم ٹھیراتی ہے۔ اس کی روایت یہ ہے کہ مصری اور اسرائیلی کو لڑتے دیکھ کر حضرت موسیٰؑ نے ”ادھر اُدھر نگاہ کی اور جب دیکھا کہ وہاں کوئی دوسرا آدمی نہیں ہے تو اس مصری کو جان سے مار کر اسے ریت میں چھپا دیا“(خروج12:2)۔ یہی بات تلمود میں بھی قرآن کس طرح ان کی پوزیشن صاف کرتا ہے ۔ عقل بھی یہی کہتی ہے کہ ایک حکیم و دانا آدمی، جسے آگے چل کر ایک اولو العزم پیغمبر ہونا تھا اور جسے انسان کو عدل و انصاف کا ایک عظیم الشان قانون دینا تھا، ایسا اندھا قوم پرست نہیں ہو سکتا کہ اپنی قوم کے ایک فرد سے دوسری قوم کے کسی شخص کو لڑتے دیکھ کر آپے سے باہر ہو جائے اور جان بوجھ کر اسے قتل کر ڈالے۔ ظاہر ہے کہ اسرائیلی کو مصری کے پنچے سے چھڑا نے کے لیے اسے قتل کر دینا تو روانہ ہو سکتا تھا۔
قَالَ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْ لِیْ فَغَفَرَ لَهٗ ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ
مغفرت کے معنی در گزر کرنے اور معاف کر دینے کے بھی ہیں ، اور ستر پوشی کرنے کے بھی۔ حضرت موسیٰؑ کی دعا کا مطلب یہ تھا کہ میرے اس گناہ کو (جسے تو جانتا ہے کہ میں عمداً نہیں کیا ہے ) معاف بھی فرمادے اور اس کا پردہ بھی ڈھانک دے تا کہ دشمنوں کو اس کا پتہ نہ چلے۔
اس کے بھی دو مطلب ہیں، اور دونوں یہاں مراد ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ قصور معاف بھی فرمادیا اور حضرت موسیٰؑ کا پردہ بھی ڈھانک دیا، یعنی قبطی قوم کے کسی فرد اور قبطی حکومت کے کسی آدمی کا اُس وقت اُن کے آس پاس کہیں گزر نہ ہوا کہ وہ قتل کے اس واقعہ کو دیکھ لیتا۔ اس طرح حضرت موسیٰؑ کو خاموشی کے ساتھ موقع واردات سے نکل جانے کا موقع مل گیا۔
قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ اَكُوْنَ ظَهِیْرًا لِّلْمُجْرِمِیْنَ
یعنی یہ احسان کہ میرا فعل چھپا رہ گیا ، اور دشمن قوم کے کسی فرد نے مجھ کر نہیں دیکھا، اور مجھے بچ نکلنے کا موقع مل گیا۔
یعنی حضرت موسیٰؑ کا یہ عہد بہت وسیع الفاظ میں ہے۔ اس سے مراد صرف یہی نہیں ہے کہ میں کسی مجرم فرد کا مدد گار نہیں بنوں گا، بلکہ اس سے مراد یہ بھی ہے کہ میری امداد و اعانت کبھی ان لوگوں کے ساتھ نہ ہوگی جو دنیا میں ظلم وستم کرتے ہیں۔ ابن جریر اور متعدد دوسرے مفسرین نے اس کا یہ مطلب بالکل ٹھیک لیا ہے کہ اسی روز حضرت موسیٰؑ نے فرعون اور اس کی حکومت سے قطع تعلق کر لینے کا عہد کر لیا، کیونکہ وہ ایک ظالم حکومت تھی اور اس نے خدا کی زمین پر ایک مجرمانہ نظام قائم کر رکھا تھا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ کسی ایمان دار آدمی کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ ایک ظالم سلطنت کا کَل پُرزہ بن کر رہے اور اس کی حشمت و طاقت میں اضآفے کا موجب بنے۔ ایک اور کاتب نے عامر شَعبِی سے پوچھا”اے ابو عمر و ، میں بس احکام لکھ کر جاری کرنے کا ذمہ دار ہوں ، فیصلے کرنے کا ذمہ دار نہیں ہوں، کیا یہ رزق میرے لیے جائز ہے“؟ انہوں نے کہا”ہو سکتا ہے کہ کسی بے گناہ کے قتل کا فیصلہ کیا جائے اور وہ تمہارے قلم سے جاری ہو۔ ہو سکتا ہے کہ کسی کا مال ناحق ضبط کیا جائے ، یا کسی کا گھر گرانے کا حکم دیا جائے اور وہ تمہارے قلم سے جاری ہو“۔ پھر امام موصوف نے یہ آیت پڑھی جسے سنتے ہی کاتب نے کہا”آج کے بعد میرا قلم بنی امیّہ کے احکام جاری کرنے میں استعمال نہ ہوگا“۔امام نے کہا”پھر اللہ بھی تمہیں رزق سے محروم نہ فرمائے گا“۔ ضَحّاک کو تو عبد الرحمٰن بن مسلم نے صرف اس خدمت پر بھیجنا چاہا تھآ کہ وہ بخارا کے لوگوں کی تنخواہیں جا کر بانٹ آئیں، مگر انہوں نے اس سے بھی انکار کر دیا۔ ان کے دوستوں نے کہا آخر اس میں کیا حرج ہے؟ انہوں نے کہا میں ظالموں کے کسی کام میں بھی مدد گار نہیں بننا چاہتا (روحالمعافی، ج2۰،ص49)۔ امام ابو حنیفہ کا یہ واقعہ ان کے تمام مستند سوانح نگاروں ۔ الموفَّق الملکی، ابن البَزَّاز الکَرْوَرِی، ملّا علی قاری دغیر ہم نے لکھا ہے کہ انہی کی تلقین پر منصور کے کمانڈر انچیف حسن بن قَحطُبہ نے یہ کہہ کر اپنے عہد ے سے استعفا دے دیا تھا کہ آج تک میں نے آپ کی سلطنت کی حمایت کے لیے جو کچھ کیا ہے یہ اگر خدا کی راہ میں تھا تو میرے لیے بس اتنا ہی کافی ہے ، لیکن اگر یہ ظلم کی راہ میں تھا تو میں اپنے نامہ اعمال میں مزید جرائم کا اضافہ نہیں کرنا چاہتا۔
فَاَصْبَحَ فِی الْمَدِیْنَةِ خَآىِٕفًا یَّتَرَقَّبُ فَاِذَا الَّذِی اسْتَنْصَرَهٗ بِالْاَمْسِ یَسْتَصْرِخُهٗ ؕ قَالَ لَهٗ مُوْسٰۤی اِنَّكَ لَغَوِیٌّ مُّبِیْنٌ
دوسرے روز وہ صبح سویرے ڈرتا اور ہر طرف سے خطرہ بھانپتا ہوا شہر میں جا رہا تھا کہ یکایک کیا دیکھتا ہے کہ وہی شخص جس نے کل اُسے مدد کے لیے پکارا تھا آج پھر اُسے پکاررہا ہے۔ موسیٰؑ نے کہا”تُو تو بڑا ہی بہکا ہوا آدمی ہے۔“27
یعنی تو جھگڑا لو آدمی معلوم ہوتا ہے ۔ روز تیرا کسی نہ کسی سے جھگڑا ہوتا رہتا ہے ۔ کل ایک شخص سے بھڑ گیا تھا، آج ایک دوسرے شخص سے جا بھڑا۔
فَلَمَّاۤ اَنْ اَرَادَ اَنْ یَّبْطِشَ بِالَّذِیْ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا قَالَ یٰمُوْسٰۤی اَتُرِیْدُ اَنْ تَقْتُلَنِیْ كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًا بِالْاَمْسِ اِنْ تُرِیْدُ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ جَبَّارًا فِی الْاَرْضِ وَمَا تُرِیْدُ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْمُصْلِحِیْنَ
بائیبل کا بیان یہاں قرآن کے بیان سے مختلف ہے۔ بائیبل کہتی ہے کہ دوسرے دن کا جھگڑا دو اسرائیلیوں کے درمیان تھا۔ لیکن قرآن کہتا ہے کہ یہ جھگڑا بھی اسرائیلی اور مصری کے درمیان ہی تھا۔ قرینِ قیاس بھی یہی دوسرا بیان معلوم ہوتا ہے، کیونکہ پہلے دن کے قتل کا روز فاش ہونے کی جو صورت آگے بیان ہو رہی ہے وہ اسی طرح رونما ہو سکتی تھی کہ مصری قوم کے ایک شخص کو اُس واقعہ کی خبر ہو جاتی۔ ایک اسرائیلی کے علم میں اس کے آجانے سے یہ امکان کم تھا کہ اپنی قوم کے پشتیبان شہزادے کے اتنے بڑے قصور کی اطلاع پاتے ہی وہ جا کر فرعونی حکومت میں اس کی مخبری کر دیتا۔
یہ پکارنے والا وہی اسرائیلی تھا جس کی مدد کے لیے حضرت موسیٰؑ آگے بڑھے تھے۔ اس کو ڈانٹنے کے بعد جب آپ مصری کو مارنے کے لیے چلے تو اُس اسرائیلی نے سمجھا کہ یہ مجھے مارنے آرہے ہیں ، اس لیے اس نے چیخنا شروع کر دیا اور اپنی حماقت سے کل کے قتل کا راز فاش کر ڈالا۔
وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ یَسْعٰی ؗ قَالَ یٰمُوْسٰۤی اِنَّ الْمَلَاَ یَاْتَمِرُوْنَ بِكَ لِیَقْتُلُوْكَ فَاخْرُجْ اِنِّیْ لَكَ مِنَ النّٰصِحِیْنَ
اس کے بعد ایک آدمی شہر کے پَرلے سِرے سے دوڑتا ہوا آیا30 اور بولا ”موسیٰؑ ، سرداروں میں تیرے قتل کے مشورے ہو رہے ہیں، یہاں سے نکل جا ، میں تیرا خیر خواہ ہوں۔“
یعنی اس دوسرے جھگڑے میں جب قتل کا راز فاش ہو گیا اور اس مصری نے جا کر مخبری کر دی تب یہ واقعہ پیش آیا۔
فَخَرَجَ مِنْهَا خَآىِٕفًا یَّتَرَقَّبُ ؗ قَالَ رَبِّ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ
یہ خبر سنتے ہی موسیٰؑ ڈرتا اور سہمتا نکل کھڑا ہوا اور اس نے دعا کی کہ "اے میرے رب، مجھے ظالموں سے بچا"
وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَآءَ مَدْیَنَ قَالَ عَسٰی رَبِّیْۤ اَنْ یَّهْدِیَنِیْ سَوَآءَ السَّبِیْلِ
بائیبل کا بیان اس امر میں قرآن سے متفق ہے کہ حضرت موسیٰؑ نے مصر سے نکل کر مَدْیَن کا رُخ کیا تھا۔ لیکن تلمود یہ بے سرو پا قصہ بیان کرتی ہے کہ حضرت موسیٰؑ مصر سے بھاگ کر حبش چلے گئے، اور وہاں بادشاہ کے مقرب ہوگئے۔ پھر اس کے مرنے پر لوگوں نے ان کو اپنا بادشاہ بنا لیا اور اس کی بیوہ سے ان کی شادی کر دی۔ 4۰ سال انہوں نے وہاں حکومت کی۔ مگر اس پوری مدت میں اپنی حبشی بیوی سے کبھی مقاربت نہ کی۔ 4۰ سال گزرنے جانے کے بعد اس عورت حبش کے باشندوں سے شکایت کی کہ اس شخص نے آج تک نہ تو مجھ سے زن و شَو کا تعلق رکھا ہے اور نہ کبھِ حبش کے دیوتاؤں کی پرستش کی ہے ۔ اس پر امرائے سلطنت نے انہیں معزول کر کے اور بہت سامال دے کر ملک سے باحترام رخصت کر دیا۔ تب وہ حبش سے مدین پہنچے اور وہ واقعات پیش آءے جو آگے بیان ہو رہے ہیں۔ اس وقت ان کی عمر ۶7 سال تھی۔ اس قصے کے بے سرو پا ہونے کی ایک کھلی ہوئی دلیل یہ ہے کہ اسی قصے میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ اُس زمانے میں اسیر یا(شمالی عراق) پر حبش کی حکومت تھی۔ ، اور اسیریا والوں کی بغاوتیں کچلنے کے لیے حضرت موسیٰؑ نے بھی اور ان کے پیش رد بادشاہ نے بھی فوجی چڑھائیاں کی تھیں۔ اب جو شخص بھی تاریخ و جغرافیہ سے کوئی واقفیت رکھتا ہو وہ نقشے پر ایک نگاہ ڈال کر دیکھ سکتا ہے کہ اسیریا پر حبش کا تسلط اور حبشی فوج کا حملہ یا تو اس صورت میں ہو سکتا تھا کہ مصر اور فلسطین و شام پر اس کا قبضہ ہو تا، یا پورا ملک عرب اس کے زیر نگین ہوتا، یا پھر حبش کا بیڑا ایسا زبردسست ہو تا کہ وہ بحرِ ہند اور خلیج فارس کو عبور کر کے عراق فتح کر لیتا۔ تاریخ اس ذکر سے خالی ہے کہ کبھی حبشیوں کو ان ممالک پر تسلط حاصل ہوا ہو یا ان کی بحری طاقت اتنی زبر دست رہی ہو۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کا علم خود اپنی تاریخ کے بارے میں کتنا ناقص تھا اور قرآن ان کی غلطیوں کی تصیح کر کے صحیح واقعات کیسی منقّح صورت میں پیش کر تا ہے ۔ لیکن عیسائی اور یہودی مستشرقین کو یہ کہتے ذرا شرم نہیں آتی کہ قران نے یہ قصّے بنی اسرائیل سے نقل کر لیے ہیں۔
یعنی اسیے راستہ پر جس سے میں بخیریت مدین پہنچ جاؤں۔ واضح رہے کہ اُس زمانے میں مدین فرعون کی سلطنت سے باہر تھا۔ مصر کی حکومت پورے جزیرہ نما ئے سینا پر نہ تھی بلکہ صرف اس کے مغربہ اور جنوبی علاقے تک محدود تھی۔ خلیج عَقَبہ کے مشرقی اور مغربی سواحل ، جن پر بنی مدیان آباد تھے، مصری اثر واقتدار سے بالکل آزاد تھے۔ اسی بنا پر حضرت موسیٰؑ نے مصر سے نکلتے ہی مدین کا رُخ کیا تھا، کیونکہ قریب ترین آزاد اور آباد علاقہ وہی تھا۔ لیکن وہاں جانے کے لیے انہیں گزرنا بہر حال مصر کے مقبوضہ علاقوں ہی سے تھا، اور مصر کی پولیس اور فوجی چوکیوں سے بچ کر نکلنا تھا۔ اسی لیے انہوں نے اللہ سے دعا کی کہ مجھے ایسے راستے پر ڈال دے جس سے میں صحیح و سلامت مَدْین پہنچ جاؤں۔
وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدْیَنَ وَجَدَ عَلَیْهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ یَسْقُوْنَ ؗ۬ وَوَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمُ امْرَاَتَیْنِ تَذُوْدٰنِ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا ؕ قَالَتَا لَا نَسْقِیْ حَتّٰی یُصْدِرَ الرِّعَآءُ ٚ وَاَبُوْنَا شَیْخٌ كَبِیْرٌ
اور جب وہ مَدیَن کے کنوئیں پر پہنچا33 تو اُس نے دیکھا کہ بہت سے لوگ اپنے جانوروں کو پانی پِلا رہے ہیں اور اُن سے الگ ایک طرف دو عورتیں اپنے جانوروں کو روک رہی ہیں۔موسیٰؑ نے ان عورتوں سے پوچھا”تمہیں کیا پریشانی ہے؟“ اُنہوں نے کہا”ہم اپنے جانوروں کو پانی نہیں پِلا سکتیں جب تک یہ چرواہے اپنے جانور نہ نکال لے جائیں، اور ہمارے والد ایک بہت بُوڑھے آدمی ہیں۔“34
یہ مقام جہاں حضرت موسیٰ ؑ پہنچے تھے، عربی روایات کے مطابق خلیج عقبہ کے غربی ساحل پر مَقْنا سے چند میل بجانب شمال واقع تھا ۔ آج کل اسے البِدْع کہتے ہیں اور وہاں ایک چھوٹا سا قصبہ آباد ہے۔میں نے دسمبر1959 میں تَبوک سے عَقَبہ جاتے ہوئے اس جگہ کو دیکھا ہے ۔ مقامی باشندوں نے مجھے بتایا کہ ہم باپ داد سے یہی سنتے چلے آئے ہیں کہ مَدْین اِسی جگہ واقع تھا۔ یوسفیوںس سے لے کر برٹن تک قدیم و جدید سیاحوں اور جغرافیہ نویسوں نے بھی بالعموم مدین کی جائے وقوع یہی بتائی ہے ۔ اس کے قریب تھوڑے فاصلے پر وہ جگہ ہے جسے اب مغائر شعیب یا مغارات شیعب کہا جاتا ہے ۔ اس جگہ ثمودی طرز کی کچھ عمارات موجود ہیں۔ اور اس سے تقریباً میل ڈیڑھ میل کے فاصلے پر کچھ قدیم کھنڈر ہیں جن میں دواندھے کنویں ہم نے دیکھے۔ مقامی باشندوں نے ہمیں بتایا کہ یقین کے ساتھ تو ہم نہیں کہہ سکتے، لیکن ہمارے ہاں روایات یہی ہیں کہ ان دونوں میں سے ایک کنواں وہ تھا جس پر حضرت موسیٰؑ نے بکریوں کو پانی پلایا ہے ۔ یہی بات ابو الفِداء ( متوفی 723 ھح) نے تقویم البُلدان میں اور یا قوت نے مُعْجم البُلدان میں ابو زید انصاری (متوفی21۶ ھح) کے حوالے سے لکھی ہے کہ اس علاقے کے باشندے اسی مقام پر حضرت موسیٰؑ کے اس کنویں کی نشان دہی کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت صدیوں سے وہاں کے لوگوں میں متوارث چلی آرہی ہے اور اس بنا پر اعتماد کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ قرآن مجید میں جس مقام کا ذکر کیا گیا ہے وہ یہی ہے ۔ مقابل کے صفحہ پر اس مقام کی کچھ تصاویر ملاحظہ ہوں۔
یعنی ہم عورتیں ہیں، ان چرواہوں سے مزاحمت اور کشمکش کر کے اپنے جانوروں کو پانی پلانا ہمارے بس میں نہیں ہے۔ والد ہمارےاس قدر سن رسیدہ ہیں کہ وہ خود یہ مشقت اُٹھا نہیں سکتے۔ گھر میں کوئی دوسرا مرد بھی نہیں ہے۔ اس لیے ہم عورتیں ہی یہ کام کرنے نکلتی ہیں اور جب تک سب چروا ہے اپنے جانوروں کو پانی پلا کر چلے نہیں جاتے ، ہم کو مجبوراً انتظار کرنا پڑتا ہے ۔ اس سارے مضمون کو ا ن خواتین نے صرف ایک مختصر سے فقرے میں ادا کر دیا، جس سے ان کی حیا داری کا اندازہ ہوتا ہے کہ ایک غیر مرد سے زیادہ بات بھی نہ کرنا چاہتی تھیں، مگر یہ بھی پسند نہ کرتی تھی کہ یہ اجنبی ہمارے خاندان کے متعلق کوئی غلط رائے قائم کر لے اور اپنے ذہن میں یہ خیال کر ے کہ کیسے لوگ ہیں جن کے مرد گھر بیٹھے رہے اور اپنی عورتوں کو اس کام کے لیے باہر بھیج دیا۔ ان خواتین کے والد کے متعلق ہمارے ہاں کی روایات میں یہ بات مشہور ہو گئی ہے کہ وہ حضرت شعیب علیہ السلام تھے۔ لیکن قرآن مجید میں اشارۃ وکنا یتہً بھی کوئی بات ایسی نہیں کہی گئی ہے جس سے یہ سمجھا جا سکے کہ وہ حضرت شعیبؑ ہی تھے۔ حالانہ شعیب علیہ السلام کی شخصیت قرآن میں ایک معروف شخصیت ہے ۔ اگر ان خواتین کے والد وہی ہوتے تو کوئی وجہ نہ تھی کہ یہاں اس کی تصریح نہ کر دی جاتی۔ بلا شبہ بعض احادیث میں ان کے نام کی تصریح ملتی ہے ، لیکن علامہ ابن جریر اور ابن کثیر دونوں اس پر متفق ہیں کہ ان میں سے کسی کی سند بھی صحیح نہیں ہے۔ اسی لیے ابن عباس ، حسن بصری، ابو عبیدہ اور سعید جُبَیر جیسے اکا بر مفسرین نے بنی اسرائیل کی روایات پر اعتماد کر کے ان بزرگ کے وہی نام بتائے ہیں جو تلمود وغیرہ میں آئے ہیں ۔ ورنہ ظاہر ہے کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسم ِ شعیب کی تصریح ہوتی تو یہ حضرات کوئی دوسرا نام نہ لے سکتے تھے۔ بائیبل میں ایک جگہ ان بزرگ کا نام رعوایل اور دوری جگہ یَتْر و بیان کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ مَدْین کے کاہن تھے۔ (خروج باب1۶:2۔18۔باب1:3۔باب5:18)۔تلمودی لڑیچر میں رعوایل ، یتھرو اور حوباب تین مختلف نام بتائے گئے ہیں۔ موجودہ زمانے کے علاما ئے یہود کا خیال یہ ہے کہ یتھرو ہزار کسی لنسی کا ہم معنی لقب تھا اور اصل نام رعوایل یا حوباب تھا۔ اسی طرح لفظ کا ہن(Kohen Midian ) کی تشریح میں بھی علماء یہود کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض اس کو پر وہت(Priest ) کا ہم معنی بتاتے ہیں اور بعض رئیس یا امیر (Prince ) کا۔ تلمود میں ان کے جو حالات بیان کیے گئے ہیں وہ یہ ہیں کہ حضرت موسیٰؑ کی پیدائش سے پہلے فرعون کے ہاں ان کی آمدروفت تھی اور وہ ان کے علم اور اصابت رائے پر اعتماد رکھتا تھا۔ مگر جب بنی اسرائیل کا استیصال کرنے کے لیے مصر کی شاہی کو نسل میں مشورے ہونے لگے اور ان کے لڑکوں کو پیدا ہوتے ہی قتل کر دینے کا فیصلہ کیا گیا تو انہوں نے فرعون کو اس غلط کام سے روکنے کی کوشش کی، اسے اس ظلم کے بُرے نتائج سے ڈرایا اور رائے دی کہ اگر ان لوگوں کا وجود آپ کے لیے ناقابلِ برداشت ہے تو انہیں ان کے باپ دادا کے ملک کنعان کی طرف نکال دیجیے۔ اس پر فرعون ان سے ناراض ہوگیا اور اس نے انہیں ذلت کے ساتھ اپنے دربار سے نکلوادیا۔ اس وقت سے وہ اپنے ملک مدین ہی میں اقامت گُزیں ہوگئے تھے۔ ان کے مذہب کے متعلق قیاس یہی ہے کہ حضرت موسیٰؑ کی طرح وہ بھی دینِ ابراہیمی کے پیرو تھے۔ کیونکہ جس طرح حضرت موسیٰ اسحاق بن ابراہیم(علیھما السلام) کی اولاد تھے اسی طرح وہ مدیان بن ابراہیم کی اولاد میں سے تھے۔ یہی تعلق غالباً اس کا موجب ہوا ہوگا کہ انہوں نے فرعون کو بنی اسرائیل پر ظلم کرنے سے روکا اور اس کی ناراضی مول لی۔ مفسر نیسا بوری نے حضرت حسن بصر ی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ انہ کان رجلا مسلما قَبِل الدین مِن شعیب۔(وہ ایک مسلما ن آدمی تھے۔ حضرت شعیبؑ کا دین انہوں نے قبول کر لیا تھا) ۔ تلمود بیان کیا گیا ہے کہ وہ مدیانیوں کی بت پرستی کو علانہ حماقت قرار دیتے تھے، اس وجہ سے اہل ِ مدین ان کے مخالف ہوگئے تھے۔
فَسَقٰی لَهُمَا ثُمَّ تَوَلّٰۤی اِلَی الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ اِنِّیْ لِمَاۤ اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیْرٌ
یہ سن کو موسیٰؑ نے ان کے جانوروں کو پانی پلا دیا، پھر ایک سائے کی جگہ جا بیٹھا اور بولا "پروردگار، جو خیر بھی تو مجھ پر نازل کر دے میں اس کا محتاج ہوں"
فَجَآءَتْهُ اِحْدٰىهُمَا تَمْشِیْ عَلَی اسْتِحْیَآءٍ ؗ قَالَتْ اِنَّ اَبِیْ یَدْعُوْكَ لِیَجْزِیَكَ اَجْرَ مَا سَقَیْتَ لَنَا ؕ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَیْهِ الْقَصَصَ قَالَ لَا تَخَفْ ۫ۥ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ
(کچھ دیر نہ گزری تھی کہ)اُن دونوں عورتوں میں سے ایک شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی اُس کے پاس آئی35 اور کہنے لگی”میرے والد آپ کو بُلا رہے ہیں تاکہ آپ نے ہمارے لیے جانوروں کو پانی جو پلایا ہے اس کا اجر آپ کو دیں۔“36 موسیٰؑ جب اُس کے پاس پہنچا اور اپنا سارا قصہ اُسے سُنایا تو اُس نے کہا ”کچھ خوف نہ کرو، اب تم ظالم لوگوں سے بچ نِکلے ہو۔“
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس فقرے کی تشریح کی ہے : جاءت تمشی علی استحیاء قائلۃ بثوبھا علی وجھھا لیست بسلفع من النساء دلاجۃ ولاجۃ خراجۃ۔”وہ شرم حیا کے ساتھ چلتی ہوئی اپنا منہ گھونگھٹ سے چھپائے ہوئے آئی۔ ان بے باک عورتوں کی طرح دّرانہ نہیں چلی آئی جو ہر طرف نکل جاتی اور ہر جگہ جا گھستی ہیں“۔ اس مضمون کی متعدد روایات سعید بن منصور، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابن المنذر نے معتبر سندوں کے ساتھ حضرت عمرؓ سے نقل کی ہیں۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام کے عہد میں حیا داری کا اسلامی تصور، جو قرآن اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و تربیت سے ان بزرگوں سے سمجھا تھا، چہرے کو اجنبیوں ے سامنے کھولے پھرنے اور گھڑ سے باہر بے باکانہ چلت پھرت دکھانے کے قطعاً خلاف تھا۔ حضرت عمرؓ صاف الفاظ میں یہاں چہرہ ڈھانکنے کو حیا کی علامت اور اسے اجانب کے سامنے کھولنے کو بے حیائی قرار دے رہے ہیں۔
یہ بات شرم و حیا ہی کی وجہ سے انہوں نے کہی، کیونکہ ایک غیر مرد کے پاس اکیلی جگہ آنے کی کوئی معقول وجہ بتانی ضرور ی تھی۔ ورنہ ظاہر ہے کہ ایک شریف آدمی نے اگر عورت ذات کو پریشانی می مبتلا دیکھ کر اس کی کوئی مدد کی ہو تو اس کا بدلا دینے کے لیے کہنا کوئی اچھی بات نہ تھی۔ اور پھراس بدلے کا نام سن لینے کے باوجود حضرت موسیٰؑ جیسے عالی ظرف انسان کا چل پڑنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اس وقت انتہائی اضطرار کی حالت میں تھے۔ بے سرو سامانی کے عالم میں یکایک مصر سے نکل کھڑے ہوئے تھے۔ مدیت تک کم از کم آٹھ دن میں پہنچے ہوں گے۔ بھوک پیاس اور سفر کی تکان سے بُرا حال ہوگا۔ اور سب سے بڑھ کر یہ فکر ہوگی کہ اس دیارِ غیر میں کوئی ٹھکانہ میسر آئے اور کوئی ایسا ہمدرد ملے جس کی پناہ میں رہ سکیں۔ اسی مجبوری کی وجہ سے یہ لفظ سُن لینے کے باوجود کہ اس ذرا سی خدمت کا اجر دینے کے لیے بلایا جا رہا ہے ، حضرت موسیٰؑ نے جا نے میں تامل نہ کیا۔ انہوں نے خیال فرمایا ہوگا کہ خدا سے ابھی ابھی جو دعا میں نے مانگی ہے ، اسے پورا کرنے کا یہ سامان خدا ہی کی طرف سے ہوا ہے اس لیے اب خواہ مخواہ خودداری کا مظاہر ہ کر کے اپنے رب کے فراہم کر دہ سامان میزبانی کو ٹھکرانا مناسب نہیں ہے۔
قَالَتْ اِحْدٰىهُمَا یٰۤاَبَتِ اسْتَاْجِرْهُ ؗ اِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ
ان دونوں عورتوں میں سے ایک نے اپنے باپ سے کہا”ابّا جان، اِس شخص کو نوکر رکھ لیجیے، بہترین آدمی جسے آپ ملازم رکھیں وہی ہو سکتا ہے جو مضبوط اور امانتدار ہو۔“37
ضروری نہیں کہ یہ بات لڑکی نے اپنے باپ سے حضرت موسیٰؑ کی پہلی ملاقات کے وقت ہی کہہ دی ہو۔ اغلب یہ ہے کہ اس کے والد نے اجنبی مسافر کو ایک دو روز اپنے پاس ٹھیرا لیا ہوگا اور اس دوران میں کسی وقت بیٹی نے باپ کو یہ مشورہ دیا ہوگا ۔ اس مشورے کا مطلب یہ تھا کہ آپ کی کبر سنی کے باعث مجبوراً آدمی ہے، ہر طرح کی مشقت کرلے گا۔ اور بھروسے کے قابل آدمی ہے ۔ محض اپنی شرافت کی بنا پر اس نے ہم عورتوں کو بے بس کھڑا دیکھ کر ہماری مدد کی۔ اور کبھی ہماری طرح نظر اُٹھا کر نہ دیکھا۔
قَالَ اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ اُنْكِحَكَ اِحْدَی ابْنَتَیَّ هٰتَیْنِ عَلٰۤی اَنْ تَاْجُرَنِیْ ثَمٰنِیَ حِجَجٍ فَاِنْ اَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِكَ وَمَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اَشُقَّ عَلَیْكَ ؕ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ
اس کے باپ نے (موسیٰؑ سے)کہا”38 میں چاہتا ہوں کہ اپنی اِن دو بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح تمہارے ساتھ کر دوں بشرطیکہ تم آٹھ سال تک میرے ہاں ملازمت کرو اور اگر دس سال تک پُورے کر دو تو یہ تمہاری مرضی ہے۔ میں تم پر سختی نہیں کرنا چاہتا۔ تم انشاء اللہ مجھے نیک آدمی پاوٴ گے۔“
یہ بھی ضرور نہیں کہ بیٹی کی بات سنتے ہی باپ نے فوراً حضرت موسیٰؑ سے یہ بات کہہ دی ہو۔ قیاس چاہتا ہے کہ انہوں نے بیٹی کے مشورے پر غور کرنے کے بعد یہ رائے قائم کی ہوگی آدمی شریف سہی، مگر جوان بیٹیوں کے گھر میں ایک جوان، تندرست و توانا آدمی کو یونہی ملازم رکھ چھوڑنا مناسب نہیں ہے۔ جب یہ شریف ، تعلیم یافتہ، مہذب اور خاندانی آدمی ہے(جیسا کہ حضرت موسیٰؑ کا قصہ انہیں معلوم ہو چکا ہوگا) تو کیوں نہ اسے داماد بنا کر ہی گھر میں رکھا جائے۔ اس رائے پر پہنچنے کے بعد انہوں نے کسی مناسب وقت پر حضرت موسیٰؑ سے یہ بات کہی ہوگی۔ یہاں پھر بنی اسرائیل کی ایک کرم فرمائی ملاحظہ ہو جو انہوں نے اپنے جلیل القدر نبی، اپنے سب سے بڑے محسن اور قومی ہیرو پر کی ہے۔ تلمود میں کہا گیا ہے کہ ”موسیٰؑ رعویل کے ہاں رہنے لگے، اور وہ اپنے میزبان کی بیٹی صفورہ پر نظرِ عنایت رکھتے تھے، یہاں تک کہ آخر کار انہوں نے اس سے بیاہ کر لیا“۔ ایک اور یہودی روای جو جیوش انسائیکلو پیڈیا میں نقل کی گئی ہے، یہ ہے کہ ”حضرت موسیٰؑ نے جب یتھرو کو اپنا سارا ماجرا سنایا تو اس نے سمجھ لیا کہ یہی وہ شخص ہے جس کے ہاتھوں فرعون کی سلطنت تباہ ہونے کی پیشن گوئیاں کی گئی تھیں۔ اس لیے اس نے فوراً حضرت موسیٰؑ کو قید کر لیا تا کہ انہیں فرعون کے حوالہ کر کے انعام حاصل کر ے۔ سات یا دس سال تک وہ اس کی قید میں رہے ۔ ایک تاریک تہ خانہ تھا جس میں وہ بند تھے۔ مگر یتھرو کی بیٹی زفورا(صفورا) جس سے کنویں پر ان کی پہلی ملاقات ہوئی تھی، چپکے چپکے ان سے قید خانے میں ملتی رہی اور انہیں کھانا پانی بھی پہنچاتی رہی۔ ان دونوں میں شادی کی خفیہ قرار داد ہو چکی تھی۔ سات یا دس سال کے بعد زفورا نے اپنے باپ سے کہا کہ اتنی مدت ہوئی آپ نے ایک شخص کو قید میں ڈال دیا تھا اور پھر اس کی خبر تک نہ لی۔ اب تک اسے مرجانا چاہییے تھا ۔ لیکن اگر وہ اب بھی زندہ ہو تو ضرور کوئی خدا رسیدہ آدمی ہے۔ یتھرو اس کی یہ بات سن کر جب قید خانے میں گیا تو حضرت موسیٰؑ کو زندہ دیکھ کر اسے یقین آگیا کہ وہ معجزیے ے زندہ ہیں ۔ تب اس نے زفورا سے ان کی شادی کر دی“۔ جو مغربی مستشرقین قرآنی قصّوں کے مآخذ ڈھونڈتے پھرتے ہیں انہیں کہیں کہ کھلا فرق بھی نظر آتا ہے جو قرآن کے بیان اور اسرائیلی روایات میں پایا جاتا ہے؟
قَالَ ذٰلِكَ بَیْنِیْ وَبَیْنَكَ ؕ اَیَّمَا الْاَجَلَیْنِ قَضَیْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَیَّ ؕ وَاللّٰهُ عَلٰی مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ
موسیٰؑ نے جواب دیا”یہ بات میرے اور آپ کے درمیان طے ہوگئی۔ ان دونوں مدّتوں میں سے جو بھی میں پُوری کر دوں اُس کے بعد پھر کوئی زیادتی مجھ پر نہ ہو، اور جو کچھ قول قرار ہم کر رہے ہیں اللہ اُس پر نگہبان ہے۔“39
بعض لوگوں نے حضرت موسیٰؑ اور لڑکی کےوالد کی اس گفتگو کو نکاح کا ایجاب و قبول سمجھ لیا ہے اور یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا باپ کی خدمت بیٹی کے نکاح کا مہر قرار پا سکتی ہے؟ اور کیا عقدِ نکاح میں اس طرح کی خارجی شرائط شامل ہو سکتی ہیں؟ حالانکہ آیاتِ زیر بحث کی عبادت سے خود ہی یہ بات ظاہر ہو رہی ہے کہ عقدِ نکاح نہ تھا بلکہ وہ ابتدائی بات چیت تھی جو نکاح سے پہلے تجویز نکا ح کے سلسلے میں بالعموم دنیا میں ہوا کرتی ہے ۔ آخر یہ نکاح کا ایجاب و قبول کیے ہو سکتا ہے جبکہ یہ تعیُّن بھی اس میں نہ کیا گیا تھا کہ دونوں لڑکیوں میں سے کونسی نکاح میں دی جا رہی ہے ۔ اس گفتگو کا ماحصل تو صرف یہ تھآ کہ لڑکی کے باپ نے کہ میں اپنی لڑکیوں میں سے ایک کا نکاح تم سے کر دینے کے لیے تیار ہوں، بشرطیکہ تم مجھ سے وعدہ کرو کہ آٹھ دس سال میرے ہاں رہ کر میرے گھڑ کے کام کاج میں میرا ہاتھ بٹاؤ گے۔ کیونکہ اس رشتے سے میری اصل غرض یہی ہے کہ میں بوڑھا آدمی ہوں، کوئی بیٹا میرے ہاں نہیں ہے جو میری جائداد کا انتظام سنبھالے ، لڑکیاں ہی لڑکیاں ہیں جنہیں مجبوراً باہر نکالتا ہوں، میں چاہتا ہوں کہ داماد میرا دست بازوں بن کر رہے ، یہ ذمہ داری اگر تم سنبھالنے کے لیے تیار ہو اور شادی کے بعد ہی بیوی کو لے کر چلے جانے کا ارادہ نہ رکھتے ہو، تو میں اپنی ایک لڑکی کا نکاح تم سےکر دوں گا۔ حضرت موسیٰؑ اس وقت خود ایک ٹھکانے کے طالب تھے۔ انہوں نے اس تجویز کو قبول کر لیا۔ ظآہر ہے کہ یہ ایک معاہدے کی صورت تھی جو نکاح سے پہلے فریقین میں طے ہوئی تھی۔ اس کے بعد اصل نکاح قاعدے کے مطابق ہوا ہوگا اور اس میں مہر بھی باندھا گیا ہو گا۔ اُس عقید میں خدمت کی شرط شامل ہونے کی کوئی وجہ نہ تھی۔
فَلَمَّا قَضٰی مُوْسَی الْاَجَلَ وَسَارَ بِاَهْلِهٖۤ اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ نَارًا قَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ جَذْوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ
حضرت حسن علی ابن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہھما فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰؑ نے آٹھ کے بجائے دس سال کی مدت پوری کی تھی۔ ابن عباس کی روایت ہے کہ یہ بات خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(قضٰی موسیٰ اتم الاجلین و اطیبھما عشر سنین۔ ”موسیٰؑ نے دونوں مدتوں میں سے وہ مدت پوری طرح جو زیادہ کامل اور ان کے خسر کے لیے زیادہ خوشگوار تھی، یعنی دس سال“۔
اس سفر کا رُخ طور کی جانب ہونے سے یہ خیال ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰؑ اپنے اہل وعیال کو لے کر مصر ہی جانا چاہتے ہوں گے۔ اس لیے کہ طور اُس راستے پر ہے جو مَدْیَن سے مصر کی طرف جاتا ہے ۔ غالباً حضرت موسیٰؑ نے خیال کیا ہوگا کہ دس سال گزر چکے ہیں۔ فرعون بھِ مر چکا ہے جس کی حکومت کے زمانے میں وہ مصر سے نکلے تھے۔ اب اگر خاموشی کے ساتھ وہاں چلا جاؤں اور اپنے خاندان والوں کے ساتھ پڑوں تو شاید کسی کو میرا پتہ بھی نہ چلے ۔ بائیبل کا بیان یہاں واقعات کی ترتیب میں قرآن کے بیان سے بالکل مختلف ہے ۔ وہ کہتی ہے کہ حضرت موسیٰؑ اپنے خسر کی بکریاں چَراتے ہوئے ”بیا بان کے پرلی طرف سے خدا کے پہاڑ حورب کے نزدیک“آ نکلے تھے۔ اُس وقت اللہ تعالیٰ نے ان سے کلام کیا اور انہیں رسالت کے منصب پر مامور کر کے مصر جانے کا حکم دیا۔ پھر وہ اپنے خسر کے پاس واپس آگئے اور ان سے اجازت لے کر اپنے ہاں بچوں کےساتھ مصر روانہ ہوئے(خروج1:3۔18:4)۔ س کے برعکس قرآن کہتا ہے کہ حضرت موسیٰؑ مدت پوری کرنے کے بعد اپنے اہل عیال کو لے کر مدین سے روانہ ہوئے اور اس سفر میں اللہ تعالیٰ کی مخاطبت اور منصب نبوت پر تقرر کا معاملہ پیش آیا۔ بائیبل اور تلمود دونوں کا متفقہ بیان ہے کہ حضرت موسیٰؑ کے زمانہ قیامِ مدین میں وہ فرعون مر چکا تھا جس کے ہاں انہوں نے پرورش پائی تھی اور اب ایک دوسرا فرعون مصر کا فرمانروا تھا۔
فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ مِنْ شَاطِئِ الْوَادِ الْاَیْمَنِ فِی الْبُقْعَةِ الْمُبٰرَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ اَنْ یّٰمُوْسٰۤی اِنِّیْۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ
یعنی اُس کنارے پر جو حضر ت موسیٰؑ کے داہنے ہاتھ کی طرف تھا۔
یعنی اُس خطے میں جو نورِ تجلی سے روشن ہو رہا تھا۔
وَاَنْ اَلْقِ عَصَاكَ ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰی مُدْبِرًا وَّلَمْ یُعَقِّبْ ؕ یٰمُوْسٰۤی اَقْبِلْ وَلَا تَخَفْ ۫ اِنَّكَ مِنَ الْاٰمِنِیْنَ
اور (حکم دیا گیا کہ) پھینک دے اپنی لاٹھی جونہی کہ موسیٰؑ نے دیکھا کہ وہ لاٹھی سانپ کی طرح بل کھا رہی ہے تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگا اور اس نے مڑ کر بھی نہ دیکھا (ارشاد ہوا) "موسیٰؑ، پلٹ آ اور خوف نہ کر، تو بالکل محفوظ ہے
اُسْلُكْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ ؗ وَّاضْمُمْ اِلَیْكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهْبِ فَذٰنِكَ بُرْهَانٰنِ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰی فِرْعَوْنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ
یہ دونوں معجزے اس وقت حضرت موسیٰؑ کو اس لیے دکھائے گئے کہ اول تو انہیں خود پوری طرح یقین ہو جائے کہ فی الواقع وہی ہستی ان سے مخاطب ہے جو کائنات کے پورے نظام کی خالق و مالک اور فرماں روا ہے۔ دوسرے وہ ان معجزوں کو دیکھ کر مطمئن ہو جائیں کہ جس خطر ناک مشن پر انہیں فرعون کی طرف بھیجا جا رہا ہے اس کا سامنا کرنے کے لیے وہ بالکل نہتے جائیں گے بلکہ دو زبر دست ہتھیار لے کر جائیں گے۔
یعنی جب کبھی کوئی خطر ناک موقع ایسا آئے جس سے تمہارے دل میں خوف پیدا ہوا تو اپنابازو بھینچ لیا کرو، اس سے تمہار دل قوی ہو جائے گا اور رعب و دہشت کی کوئی کیفیت تمارہے اندر باقی نہ رہے گی۔ بازو سے مراد غالباً سیدھا بازو ہے، کیونکہ مطلقاً ہاتھ بول کر سیدھا ہاتھ ہی مراد لیا جا تا ہے ۔ بھینجنے کی دو شکلیں ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ بازو کو پہلو کے ساتھ لگا کر دبا لیا جائے۔ دوسری یہ کہ ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ کی بغل میں رکھ دبایا جائے۔ اغلب یہ ہے کہ پہلی شکل ہی مراد ہوگی۔ کیونکہ اس صورت میں دوسرا کوئی شخص یہ محسوس نہیں کر سکتا کہ آدمی اپنے دل کا خوف دور کرنے کے لیے کوئی خاص عمل کر رہا ہے۔ حضرت موسیٰؑ کو یہ تدابیر اس لیےبتائی گئی کہ وہ ایک ظالم حکومت کا مقابلہ کرنے کے لیے کسی لاؤ لشکر اور دنیوی سازو سامان کے بغیر بھیجے جا رہے تھے۔ بار ہا ایسے خوفناک مواقع پیش آنے والے تھے جن میں ایک ا ولو العزم نبی تک دہشت سے محفوظ نہ رہ سکتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب کوئی ایسی صورت پیش آئے ، تم بس یہ عمل کر لیا کرو، فرعون اپنی پوری سلطنت کا زور لگا کر بھی تمہارے دل کی طاقت کو متزلزل نہ کر سکے گا۔
ان الفاظ میں یہ مفہوم آپ سے شامل ہے کہ یہ نشانیاں لے کر فرعون کے پاس جاؤ اور اللہ کے رسول کی حیثیت سے اپنے آپ کو پیش کر کے اسے اور اس کے اعیانِ سلطنت کو اللہ رب ّ العالمین کی اطاعت و بندگی کی طرف دعوت دو۔ اسی لیے یہاں اس ماموریت کی تصریح نہیں کی گئی ہے ۔ البتہ دُوسرے مقامات پر صراحت کے ساتھ یہ مضمون بیان کیا گیا ہے ۔ سورہ طٰہٰ اور سورہ نازعات میں فرمایا اِذْھَبْ اِلیٰ فِرْعَوْنَ اِنَّہُ طَغیٰ، ”فرعون کے پاس جا کہ وہ سرکش ہو گیا ہے“۔ اور الشعراء میں فرمایا اِذْ نَا دٰی رَبُّکَ مُوْسیٰٓ اَنِ ائتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ قَوْمَ فِرْعَوْنَ، ”جب کہ پکارا تیرے رب نے موسیٰ ؑ کو کہ جا ظالم قوم کے پاس، فرعون کی قوم کے پاس“۔
قَالَ رَبِّ اِنِّیْ قَتَلْتُ مِنْهُمْ نَفْسًا فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِ
موسیٰؑ نے عرض کیا”میرے آقا، میں تو اُن کا ایک آدمی قتل کر چکا ہوں، ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے مار ڈالیں گے۔47
اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ اس ڈر سے وہاں نہیں جانا چاہتا ۔ بلکہ مطلب یہ تھا کہ حضور کی طرف سے ایسا کوئی انتظام ہونا چاہیے کہ میرے پہنچتے ہی کسی بات چیت اور ادائے رسالت کی نوبت آنے سے پہلے وہ لوگ مجھے الزامِ قتل میں گرفتار نہ کر لیں، کیونکہ اس صورت میں تو وہ مقصد ہی فوت ہو جائے گا جس کے لیے مجھے اس مہم پر بھیجا جا رہا ہے ۔ بعد کی عبارت سے یہ بات خود واضح ہو جاتی ہے کہ حضرت موسیٰؑ کی اس گزارش کا یہ مدعا ہر گز نہیں تھا کہ وہ ڈر کے مارے نبوت کا منصب قبول کرنے اور فرعون کے ہاں جانے سے انکار کرنا چاہتے تھے۔
وَاَخِیْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّیْ لِسَانًا فَاَرْسِلْهُ مَعِیَ رِدْاً یُّصَدِّقُنِیْۤ ؗ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِ
اور میرا بھائی ہارونؑ مجھے سے زیادہ زبان آور ہے، اسے میرے ساتھ مدد گار کے طور پر بھیج تاکہ وہ میری تائید کرے، مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ مجھے جھٹلائیں گے"
قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِیْكَ وَنَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطٰنًا فَلَا یَصِلُوْنَ اِلَیْكُمَا بِاٰیٰتِنَاۤ اَنْتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغٰلِبُوْنَ
فرمایا”ہم تیرے بھائی کے ذریعہ سے تیرا ہاتھ مضبوط کریں گے اور تم دونوں کو ایسی سطوت بخشیں گے کہ وہ تمہارا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے۔ ہماری نشانیوں کے زور سے غلبہ تمہارا اور تمہارے پیرووں کا ہی ہوگا۔“48
اللہ تعالیٰ کے ساتھ حضرت موسیٰؑ کی اس ملاقات اور گفتگو کا حال اس سے زیادہ تفصیل کے ساتھ سورہ طٰہٰ( آیت9 تا 48) میں بیان ہوا ہے۔ قرآن مجید کے اس بیان کا جو شخص بھی اُس داستان سے مقابلہ کر ے گا جو اس سلسلہ میں بائیبل کی کتاب خروج(باب4،3) میں بیان کی گئی ہے ، وہ اگر کچح ذوقِ سلیم رکھتا ہو تو خود محسوس کر لے گا کہ ان دونوں میں سے کلامِ الہٰی کو نسا ہے اور انسانی داستان گوئی کا اطلاق کس پر ہوتا ہے ۔ نیز وہ اس معاملہ میں بھی بآسانی رائے قائم کر سکے گا کہ آیا قرآن کی یہ روایت معاذ اللہ بائیبل اور اسرائیلی روایات کی نقل ہے ، یا وہ خدا خود اصل واقعہ بیان فرمارہا ہے جس نے حضرت موسیٰؑ کو باریاب فرمایا تھا۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، طٰہٰ حاشیہ 19)۔
فَلَمَّا جَآءَهُمْ مُّوْسٰی بِاٰیٰتِنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّفْتَرًی وَّمَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآىِٕنَا الْاَوَّلِیْنَ
اصل الفاظ ہیں سِحْرٌ مُّفْتَرًی ”افترا کیا ہوا جادو“۔اس افترا کو اگر جھوٹ کے معنی میں لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ یہ لاٹھی کا اژدہا بننا اور ہاتھ کا چمک اٹھنان نفس شے میں حقیقی تغیر نہیں ہے بلکہ محض ایک نمائشی شعبدہ ہے جسے یہ شخص معجزہ کہہ کر ہمیں دھوکا دے رہا ہے ۔ اور اگر اسے بناوٹ کے معنی میں لیا جائے تو مراد یہ ہوگی کہ یہ شخص کسی کر تب سے ایک ایسی چیز بنا لا یا ہے جو دیکھنے میں لاٹھی معلوم ہوتی ہے مگر جب یہ اسے پھینک دیتا ہے تو سانپ نظر آنے لگتی ہے ۔ اور اپنے ہاتھ پر بھِ اس نے کوئی ایسی چیز مل لی ہے کہ اس کی بغل سے نکلنے کے بعد وہ یکایک چمک اٹھتا ہے ۔ یہ مصنوعی طلسم ا نے خود تیار کیا ہے، اور ہمیں یقین یہ دلارہا ہے کہ معجزے ہیں جو خدا نے اسے عطا کیے ہیں۔
اشارہ ہے اُن باتوں کی طرف جو تبلیغ رسالت کے سلسلے میں حضرت موسیٰؑ نے پیش کی تھیں ۔ قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر ان باتوں کی تفصیل دی گئی ہے۔ النازعات میں ہے کہ حضرت موسیٰؑ نے اس سے کہا: ھَلْ لَّکَ اِلٰی اَنْ تَزَکّٰی، وَاَھْدِیَکَ اِلیٰ رَبِّکَ فَتَحْشٰی، ”کیا تو پاکیزہ روش اختیار کرنے پر آمادہ ہے ؟ اور میں تجھے تیرے رب کی راہ بتاؤں تو خثیت اختیار کر ے گا“؟ سورہ طٰہٰ میں ہے کہ قَدْ جِئْنَا کَ بِاٰیَۃٍ مِّنْ رَبِّکَ وَالسَّلَامُ عَلیٰ مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی، اِنَّا قَدْ اُوْحِیَ اِلَیْنَآ اَنَّ الْعَذَابَ عَلیٰ مَنْ کَذَّبَ وَتَوَلّٰی، ”ہم تیرے پاس تیرے رب کی نشانی لائے ہیں، اور سلامتی ہے اس کے لیے جو راہِ راست کی پیروی کرے اور ہم پر وحی کی گئی ہے کہ سزا ہے اس کے جوجھٹلائے اور منہ موڑے “۔ اور اِنَّا رَسُوْلَارَبِّکَ فَاَ رْ سِلْ مَعَنَا بِنِیْ اِسْرَآءِیْلَ”ہم تیرے رب کی پیغمبر ہیں ، تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو جانے دے“۔ انہی باتوں سے متعلق فرعون نے کہا کہ ہمارے باپ دادا نے بھی کبھی یہ نہیں سنا تھا کہ فرعونِ مصر سے اوپر بھی کوئی ایسی مقتدر ہستی ہے جو اس کو حکم دینے کی مجاز ہو ، جو اسے سزا دے سکتی ہو ، جو اسے ہدایات دینے کے لیے کسی آدمی کو اس کے دربار میں بھیجے، اور جس سے ڈرنے کے لیے مصر کے بادشاہ سے کہاجائے۔ تو نرالی باتیں ہیں جو آج ہم ایک شخص کی زبان سے سُن رہے ہیں۔
وَقَالَ مُوْسٰی رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَنْ جَآءَ بِالْهُدٰی مِنْ عِنْدِهٖ وَمَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ
موسیٰؑ نے جواب دیا”میرا ربّ اُس شخص کے حال سے خوب واقف ہے جو اُس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور وہی بہتر جانتا ہے کہ آخری انجام کِس کا اچھا ہونا ہے، حق یہ ہے کہ ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے۔“51
یعنی تو مجھے ساحرا ور افترا پرواز قرار دیتا ہے ، لیکن میرا رب میرے حال سے خوب واقف ہے۔ وہ جانتا ہے کہ جو شخص اس کی طرف سے رسول مقرر کیا گیا ہے وہ کیسا آدمی ہے۔ اور آخری انجام کا فیصلہ اس کے ہاتھ میں ہے۔ میں جھوٹا ہوں تو میرا انجام بُرا ہو گا اور تو جھوٹا ہے تو پھر خوب جان لے کے تیرا انجام اچھا نہیں ہے ۔ بہر حال یہ حقیقت اپنی جگہ اٹل ہے کہ ظالم کے لیے فلاح نہیں ہے ۔ جو شخص خدا کا رسول نہ ہو اور جھوٹ موٹ کا رسول بن کر اپنا کوئی مفاد حاصل کر نا چاہے وہ بھی ظالم ہے اور فلاح سے محروم رہے گا، اور جو طرح طرح کے جھوٹے الزامات لگا کر سچے رسول کو جھٹلا ئے اور مکاریوں سے صداقت کو دبانا چاہے وہ بھی ظالم ہے اور اسے کبھی فلاح نصیب نہ ہوگی۔
وَقَالَ فِرْعَوْنُ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرِیْ فَاَوْقِدْ لِیْ یٰهَامٰنُ عَلَی الطِّیْنِ فَاجْعَلْ لِّیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤی اِلٰهِ مُوْسٰی وَاِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ
اس قول سے فرعون کا مطلب ظاہر ہے کہ یہ نہیں تھا اور نہیں ہو سکتا تھا کہ میں ہی تمہارا اور زمین و آسمان کا خالق ہوں ، کیونکہ ایسی بات صرف ایک پاگل ہی کے منہ سے نکل سکتی تھی۔ اور اسی طرح اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہو سکتا تھا کہ میرے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے، کیونکہ اہلِ مصر کے مذہب میں بہت سے معبودوں کی پرستش ہوتی تھی اور خود فرعون کو جس بنا پر معبود یت کا مرتبہ دیا گیا تھا وہ بھی صرف یہ تھی کہ اسے سُورج دیوتا کا اوتار مانا جاتا تھا۔ سب سے بڑی شہادت قرآن مجید کی موجود ہے کہ فرعون خود بہت سے دیوتاؤں کا پرستار تھا: وَقَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسیٰ وَقَوْمَہٗ لِیُفْسِدُوْ ا فِی الْاَرْضِ وَیَذَرَکَ وَاٰلِھَتَکَ،”اور فرعون کی قوم کے سرداروں نے کیا کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوٹ دے دیگا کہ ملک میں فساد برپا کر یں اور تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دیں ؟(الاعراف،آیت127)۔ اس لیے لامحالہ یہاں فرعون نے لفظ”خدا“ اپنے لیے بمعنی خالق و معبود نہیں بلکہ بمعنی مطاع و حاکمِ مطلق استعمال کیا تھا۔ اس کا مدعا یہ تھا کہ اس سر زمین ِ مصر کا مالک میں ہوں ، یہاں میرا حکم چلے گا۔ میرا ہی قانون یہاں قانون مانا جائے گا۔ میری ذات ہی یہاں امر ونہی کا سرچشمہ تسلیم کی جائے گی۔ کوئی دوسرا یہاں حکم چلانے کا مجاز نہیں ہے ۔ یہ موسیٰ کون ہے جو رب العالمین کا نمائندہ بن کر آکھڑا ہوا ہے اور مجھے اس طرح احکام سنا رہا ہے کہ گویا اصل فرمانروا یہ ہے اور میں اس کا تابع فرمان ہوں ۔ اسی بنا پر اس نے اپنے دربار کے لوگوں کو مخاطب کر کے کہا تھا یٰقَوْمِ اَلَیْسَ لِیْ مُلْکُ مِصْرَ وَھٰذِہٖ الْاَنْھَا رُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْ،”اے قوم، کیا مصر کی بادشاہی میری نہیں ہے ، اور یہ نہریں میرے تحت جاری نہیں ہیں“؟(الزخرف، آیت51) اور اسی بنا پر وہ حضرت موسیٰؑ سے بار بار کہتا تھا اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدُنَا عَلَیْہِ اٰبَآ ءَنَا وَتَکُوْنَ لَکُمَا الْکِبْرِیَآ ءُ فِی الْاَرْضِ، ”کیا تو اس لیے آیا ہے کہ ہمیں اُس طریقے سے ہٹا دے جو ہمارے باپ دادا کے زمانے سے چلا آرہا ہے اور اس ملک میں بڑائی تم دونوں بھائیوں کی ہو جائے“؟(یونس، آیت78) اَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا بِسِحْرِ کَ یٰمُوْسٰی،” اے موسیٰ کیا تو اس لیے آیا ہے کہ ہمیں اپنے جادو کے زور سے ہماری زمین سے بے دخل کر دے“؟(طٰہٰ۔آیت57)۔ اِنِّیْٓ اَخَا فُ اَنْ یُّبْدِّ لَ دِیْنَکُمْ اَوْ اَنْ یُّظْھِرَ فِی الْارْضِ الْفَسَادَ، ” میں ڈرتا ہوں کہ یہ شخص تم لوگوں کا دین بدل ڈالیگا، یا ملک میں فساد برپا کرے گا“(المومن۔ آیت2۶)۔ اس لحاظ سے اگر غور کیا جائے تو فرعون کی پوزیشن اُن ریاستوں کی پوزیشن سے کچھ بھی مختلف نہیں ہے جو خدا کے پیغمبر کی لائی ہوئی شریعت سے آزاد خود مختیار ہو کر اپنی سیاسی اور قانونی حاکمیت کی مدعی ہیں۔ وہ خواہ سرچشمہ قانون اور صاحبِ قانون امر ونہی کسی بادشاہی کو مانیں یا قوم کی مرضی کو، بہر حال جب تک وہ یہ موقف اختیار کیے ہوئے ہیں کہ ملک میں خدا اور اس کے رسول کا نہیں بلکہ ہمارا حکم چلے گا اس وقت تک ان کے اور فر عون کے موقف میں کوئی اصولی فرق نہیں ہے ۔ اب یہ الگ بات ہے کہ بے شعور لوگ فرعون پر لعنت بھیجتے رہیں اوراِن کو سندِ جواز عطا کرتے رہیں۔ حقائق کی سمجھ بوجھ رکھنے والا آدمی تو معنی اور روح کو دیکھے گا نہ کہ الفاظ اور اصطلاحات کو۔ آخر اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ فرعون نے اپنے لیے ”اِلٰہ“کالفظ استعمال کیا تھا، اور یہ اس معنی میں ”حاکمیت “اصطلاح استعمال کرتی ہیں۔(مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم ، سورہ طٰہٰ ۔ حاشیہ 21)۔
یہ اسی قسم کی ذہنیت تھی جیسی موجودہ زمانے کے روسی کمیونسٹ ظاہر کر رہے ہیں ۔ یہ اسپٹنک اور ٹونِک چھوڑ کر دنیا کو خبر دیتے ہیں کہ ہماری اِن گیندوں کو اوپر کہیں خدا نہیں ملا۔ وہ بے وقوف ایک مینار ے پر چڑھ کر خدا کو جھانکنا چاہتا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ گمراہ لوگوں کے ذہن کی پرواز ساڑھے تین ہزار برس پہلے جہاں تک تھی آج بھی وہیں تک ہے۔ اس اعتبار سے ایک اُنگل بھر ترتی بھی وہ نہیں کر سکتے ہیں۔ معلوم میں کس احمق نے اِن کو یہ خبر دی تھی کہ خدا پرست لوگ جس ربّ العالمین کو مانتے ہیں وہ اُن کے عقیدے کی رو سے اوپر کہیں بیٹھا ہوا ہے، اور اِس اتھاہ کائنات میں زمین سے چند ہزار فیٹ یا چند لاکھ میل اوپر اُٹھ کر اگر وہ انہیں نہ ملے تو یہ بات گویا بالکل ثابت ہو جائے گی کہ وہ کہیں موجودہ نہیں ہے۔ قرآن یہاں نہیں کہتا کہ فرعون نے فی الواقع ایک عمارت اس غر ض کے لیے بنوائی تھی اور اس پر چڑھ کر خدا کو جھانکنے کی کوشش بھی کی تھی۔ بلکہ وہ اُس کے صرف اس قول کو نقل کرتا ہے۔ اِس سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس نے عملاً یہ حماقت نہیں کی تھی۔ اِن باتوں سے اس کا مدعا صرف بے وقوف بنا نا تھا۔ یہ امر بھی واضح طور پر معلوم نہیں ہوتا کہ ف رعون آیا فی الواقع خدا وندِ عالم کی ہستی کا منکر تھا یا محض ضد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر دہریت کی باتیں کرتا تھا۔ اس کے اقوال اس معامہ میں اُسی ذہنی الجھاؤ کی نشان دہی کرت ہیں جو روسی کمیونسٹوں کی باتوں میں پایا جاتا ہے ۔ کبھی تو وہ آسمان پر چڑھ کر دنیا کو بتانا چاہتا تھا کہ میں اوپر دیکھ آیا ہوں، موسیٰ کا خدا کہیں نہیں ہے ۔ اور کبھی وہ کہتا فَلَوْْلَآ اُلْقِیَ عَلَیْہِ اَسْوِ رَۃ مِّنْ ذَھَب اَوْجَآ ءَ مَعَہُ الْمَلٰئِکَۃُ مُقْتَرِنِیْنَ”اگر موسیٰ واقعی خدا کا بھیجا ہوا ہے تو کیوں نہ اُ س کے لیے سونے کے کنگن اتارے گئے، یا اس کی اردلی میں ملائکہ نہ آئے“؟ یہ باتیں روس کے ایک سابق وزیر اعظم خرو شچیف کی باتوں سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہیں جو کبھی خدا کا انکار کرتا اور کبھی بار بار خدا کا نام لیتا اور اس کے نام کی قسمیں کھاتا تھا۔ ہمارا قیاس یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام اور ان کے خلفاء کا دورِ اقتدار گزر جانے کے بعد جب مصر میں قبطی قوم پرستی کا زور ہوا اور ملک میں اِسی نسلی و وطنی تعصّب کی بنیاد پر سیاسی انقلاب رونما ہو گیا تو نئے لیڈروں نے اپنے قوم ستانہ جوش میں اُس خدا کے خلاف بھی بغاوت کر دی جس کو ماننے کی دعوت حضرت یوسفؑ اور ان کے پیرو اسرائیلی اور مصری مسلمان دیتے تھے ۔ انہوں نے یہ سمجھآ کہ خدا کو مان کر ہم یوسفی تہذیب کے اثر سے نہ نکل سکیں گے، اور یہ تہذیب باقی رہی تو ہمارا سیاسی اثر بھی مستحکم نہ ہو سکے گا۔ وہ خدا کے اقرار اور مُسْلم اقتدار کو لازم و ملزوم سمجھتے تھے، اس لیے ایک پیچھتا چھڑانے کی خاطر دوسرے کا انکار ان کے نزدیک ضرور ی تھا، اگر چہ اس کا اقرار ان کے دل کی گہرائیوں سے کسی طرح نکالے نہ نکلتا تھا۔
وَاسْتَكْبَرَ هُوَ وَجُنُوْدُهٗ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اِلَیْنَا لَا یُرْجَعُوْنَ
یعنی بڑائی کا حق تو اس کائنات میں صرف اللہ رب العالمین کو ہے ۔ مگر فرعون اور اس کے لشکر زمین کے ایک ذرا سے خطے میں تھوڑا سا اقتدار پا کر یہ سمجھ بیٹھے کہ یہاں بڑے بس وہی ہیں۔
یعنی انہوں نے اپنے آپ کو غیر مسئول سمجھ لیا اور یہ فرض کر کے خود مختارا نہ کام کرنے لگے کہ انہیں جا کر کسی کے سامنے جواب دہی نہیں کرنی ہے ۔
فَاَخَذْنٰهُ وَجُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ
آخر کار ہم نے اُسے اور اُس کے لشکروں کو پکڑا اور سمندر میں پھینک دیا۔56 اب دیکھ لو کہ اُن ظالموں کا کیسا انجام ہوا
ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ نے ان کے جھوٹے تکبر کے مقابلے میں ان کی بے حقیقتی اور ہیچ میرزی کی تصویر کھینچ دی ہے ۔ وہ اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھ بیٹھے تھے۔ مگر جب وہ مہلت جو خدا نے ان کو راہِ راست پر آنے کے لیے دی تھی ختم ہوگئی تو انہیں اِس طرح اُٹھا کر سمندر میں پھینک دیا گیا جیسے کوڑا کرکٹ پھینکا جاتا ہے۔
وَجَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً یَّدْعُوْنَ اِلَی النَّارِ وَیَوْمَ الْقِیٰمَةِ لَا یُنْصَرُوْنَ
ہم نے اُنہیں جہنّم کی طرف دعوت دینے والے پیش رو بنا دیا57 اور قیامت کے روز وہ کہیں سے کوئی مدد نہ پا سکیں گے
یعنی وہ بعد کی نسلوں کے لیے ایک مثال قائم کر گئے ہیں کہ ظلم یوں کیا جاتا ہے، انکارِ حق پر ڈٹ جانے اورآخر وقت تک ڈٹے رہنے کی شان یہ ہوتی ہے ، اور صداقت کے مقابلے میں باطل پر لوگ ایسے ایسے ہتھیار استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ سب راستے دنیا کو دکھآ کر وہ جہنم کی طرف جا چکے ہیں اور ان کے اَخلاف اب اُنہی کے نقشِ قدم پر چل کر اُسی منزل کے رُخ لپکے جا رہے ہیں۔
وَاَتْبَعْنٰهُمْ فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً وَیَوْمَ الْقِیٰمَةِ هُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِیْنَ
ہم نے اِس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی اور قیامت کے روز وہ بڑی قباحت میں مبتلا ہوں گے۔58
اصل الفاظ ہیں قیامت کے روزوہ ”مقبوحین“میں سےہوں گے۔ اس کے کئی معنی ہو سکتے ہیں۔ وہ مردود و مطرود ہونگے۔ اللہ کی رحمت سے بالکل محروم کر دیے جائیں گے۔ ان کی بُری گت بنائی جائے گی اور ان کے چہرے بگاڑ دیے جائیں گے۔
وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْكِتٰبَ مِنْ بَعْدِ مَاۤ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰی بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ وَهُدًی وَّرَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ
پچھلی نسلوں کو ہلاک کرنے کے بعد ہم نے موسیٰؑ کو کتاب عطا کی، لوگوں کے لیے بصیرتوں کا سامان بنا کر ، ہدایت اور رحمت بنا کر، تاکہ شاید لوگ سبق حاصل کریں۔59
یعنی پچھلی نسلیں جب انبیائے سابقین کی تعلیمات سے رو گردانی کا برا نتیجہ بھگت چکیں، اور ان کاآخری انجام وہ کچھ ہو چکا جوفرعون اور اس کے لشکروں نے دیکھا، تو اس کے بعد موسیٰؑ کو کتاب عطا کی گئی تا کہ انسانیت کا ایک نیا دور شروع ہو۔
وَمَا كُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِیِّ اِذْ قَضَیْنَاۤ اِلٰی مُوْسَی الْاَمْرَ وَمَا كُنْتَ مِنَ الشّٰهِدِیْنَ
مغربی گوشے سے مراد جزیرہ نمائے سینا کا وہ پہاڑ ہے جس پر حضرت موسیٰؑ کو احکام شریعت دیے گئے تھے۔ یہ علاقہ حجاز کے مغربی جانب واقع ہے۔
یعنی بنی اسرائیل کے اُن ستر نمائندوں میں جن کو شریعت کی پابندی کا عہد لینے کے لیے حضرت موسیٰؑ کے ساتھ بلایا گیا تھا۔(سورہ اعراف،آیت155 میں اُن نمائندوں کو بلائے جانے کا ذکر گزر چکا ہے ، اور بائیبل کی کتاب خروج، باب24 میں بھی اس کا ذکر موجود ہے)۔
وَلٰكِنَّاۤ اَنْشَاْنَا قُرُوْنًا فَتَطَاوَلَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ وَمَا كُنْتَ ثَاوِیًا فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ تَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَ
یعنی تمہارے پاس اِن معلومات کے حصول کا براہِ راست کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ آج جو تم ان واقعات کو دو ہزار برس سے زیادہ مدّت گزر جانے کے بعد اِس طرح بیان کر رہے ہو کہ گویا یہ سب تمہارا آنکھوں دیکھا حال ہے ، اس کی کوئی وجہ اس کے سوا نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی وحی کے ذریعہ سے تم کو یہ معلومات بہم پہنچائی جا رہی ہیں۔
یعنی جب حضرت موسیٰؑ مدین پہنچے، اور جو کچھ وہاں ان کے ساتھ پیش آیا، اور دس سال گزار کر جب وہ وہاں سے روانہ ہوئے ، اسوقت تمہارا کہیں پتہ بھی نہ تھا۔ تم اس وقت مدین کی بستیوں میں وہ کام نہیں کر رہے تھے جو آج مکہ کی گلیوں میں کر رہے ہو۔ اُن واقعات کا ذکر تم کچھ اس بنا پر نہیں کر رہے ہو کہ یہ تمہارا عینی مشاہدہ ہے ، بلکہ یہ علم بھی تم کو ہماری وحی کے ذریعہ سے ہی حاصل ہوا ہے۔
وَمَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ اِذْ نَادَیْنَا وَلٰكِنْ رَّحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ
یہ تینوں باتیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت میں پیش کی گئی ہیں۔ جس وقت یہ باتیں کہی گئی تھی اس وقت مکہ کے تمام سردار اور عام کفار اس بات پر پوری طرح تلے ہوئے تھے کہ کسی نہ کسی طرح آپ کو غیر نبی ۔ اور معاذ اللہ جھوٹا مدعی ثابت کر دیں۔ ان کی مدد کے لیے یہود کے علماء اور عیسائیوں کے راہب بھی حجاز کی بستیوں میں موجود تھے۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہیں عالم بالا سے آکر یہ قرآن نہیں سنا جاتے تھے۔ بلکہ اُسی مکہ کے رہنے والے تھے اور آپ کی زندگی کا کوئی گوشہ آپ کی بستی اور آپ کے قبیلے کے لوگوں سے چھپا ہوا نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جس وقت اس کھلے چیلنج کے انداز میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے ثبوت کے طور پر یہ تین باتیں ارشاد فرمائی گئی ، اس وقت مکے، اور حجاز، اور پورے عرب میں کوئی ایک شخص بھی اٹھ کر وہ بیہودہ بات نہ کہہ سکا جو آج کے مستشرقین کہتے ہیں۔ اگر چہ جھوٹ گھڑ نے میں وہ لوگ اِن سے کچھ کم نہ تھے، لیکن ایسا درو غِ فروغ آخر وہ کیسے بول سکتے تھے جو ایک لمحہ کے لیے بھی نہ چل سکتا ہو۔ وہ کیسے کہتے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم، تم فلاں فلاں یہودی عالموں اور عیسائی راہبوں سے یہ معلومات حاصل کر لائے ہو، کیونکہ پورے ملک میں وہ اِس غرض کے لیے کسی کا نام نہیں لے سکتے تھے۔ جس کا نام بھی وہ لیتے ، فوراً ہی یہ ثابت ہو جاتا کہ اس سے آنحضرتؐ نے کوئی معلومات حاصل نہیں کی ہیں۔ وہ کیسے کہتے کہ اے محمد ؐ، تمہارے پاس پچھلی تاریخ اور علوم آداب کی ایک لائبریری موجود ہے جس کی مدد سے تم یہ ساری تقریریں کر رہے ہو، کیونکہ لائبریری تو درکنار، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے آس پاس کہیں سے وہ ایک کاغذ کا پرزہ بھی بر آمد نہیں کر سکتے تھے جس میں یہ معلومات لکھی ہوئی ہوں ۔ مکے کا بچہ بچہ جانتا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم لکھے پڑھے آدمی نہیں ہیں، اور کوئی یہ بھی نہیں کہہ سکتا تھا کہ آپ نے کچھ مترجمین کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں جو عبرانی اور سُریانی اور یونانی کتابوں کے ترجمے کر کرکے آپ کو دیتے ہیں۔ پھر ان میں سے کوئی بڑے سے بڑا بے حیا آدمی بھی یہ دعویٰ کرنے کی جرأت نہ رکھتا تھا کہ شام و فلسطین کے تجارتی سفروں میں آپ یہ معلومات حاصل کر آئے تھے۔ کیونکہ یہ سفر تنہا نہیں ہوئے تھے۔ مکے ہی کے تجارتی قافلے ہر سفر میں آپ کےساتھ لگے ہوتے تھے۔ اگر کوئی اس وقت ایسا دعویٰ کرتا تو سینکڑوں زندہ شاہد یہ شہادت دے دیتے کہ وہاں آپ نے کسی سے کوئی درس نہیں لیا۔ اور آپ کی وفات کے بعد تو دوسال کے اندر ہی رومیوں سے مسلمان بر سر پیکا ر ہوگئے تھے۔ اگر کہیں جھوٹوں بھی شام و فلسطین میں کسی عیسائی راہب یا یہودی ربِّ سے حضور ؐ نے کوئی مذاکرہ کیا ہوتا تو رومی سلطنت رائی کا پہاڑ بنا کر یہ پروپیگنڈا کرنے میں ذرا دریغ نہ کرتی محمد صلی اللہ علیہ وسلم، معاذ اللہ سب کچھ یہاں سے سیکھ گئے تھے اور مکے جا کر نبی بن بیٹھے۔ غرض ، اُس زمانے میں جبکہ قرآن کا یہ چیلنچ قریش کے کفار و مشرکین کے لیے پیامِ موت کی حیثیت رکھتا تھا، اور اس کو جھٹلانے کی ضرورت موجود ہ زمانے کے مستشرقین کی بہ نسبت اُن لوگوں کو بدر جہاز یادہ لاحق تھی ، کوئی شخص بھی کہیں سے ایسا کوئی مواد فراہم کر کے نہ لا سکا جس سے وہ یہ ثابت کر سکتا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وحی کے سوا اِن معلومات کے حصول کا کوئی دوسرا ذریعہ موجود ہے جس کی نشان دہی کی جا سکتی ہو۔ یہ بات بھی جان لینی چاہیے کہ قرآن نے یہ چیلنج اِسی ایک جگہ نہیں دیا ہے بلکہ متعدد مقامات پر مختلف قصّوں کے سلسلہ میں دیا ہے۔ حضرت ذکریا اور حضرت مریم کا قصّہ بیان کر کے فرمایا ذٰلِکَ مِنْ اَنْبَآ ءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْہِ اِلَیْکَ وَمَا کُنْتَ لَدَیْھِمْ اِذْ یُلْقُوْنَ اَقْلَا مَھُمْ اَیُّہُمْ یَکْفُلُ مَرْیَمَ وَمَا کُنْتَ لَدَیْہِمْ اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ، ”یہ غیب کی خبروں میں سے ہے جو ہم وحی کے ذریعہ سے تمہیں دے رہے ہیں ، تم اُن لوگوں کے آس پاس کہیں موجودنہ تھے جبکہ وہ اپنے قرعے یہ طے کرنے کے لیے پھینک رہے تھے کہ مریم کی کفالت کو ن کرے۔ اور نہ تم اس وقت موجود تھے جبکہ وہ جھگڑ رہے تھے“(آل عمران، آیت 44)۔ حضرت یوسف ؑ کا قصّہ بیان کرنے کے بعد فرمایا ذٰلِکَ مِنْ اَنْبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْہِ اِلَیْکَ وَمَا کُنْتَ لَدَیْھِمْ اِذْ اَجْمَعُوْ ٓا اَمْرَھُمْ وَھُمْ یَمْکُرُوْنَ،”یہ غیب کی خبروں میں سے ہےجو ہم وحی کے ذریعہ سے تمہیں دے رہے ہیں ، تم ان کے (یعنی یوف کے بھائیوں کے) آس پاس کہیں موجود نہ تھے جبکہ انہوں نے اپنی تدبیر پر اتفاق کیا اور ج ب کہ وہ اپنی چال چل رہے تھے“(یوسف، آیت 1۰2)۔ اسی طرح حضرت نوح کا مفصل قصّہ بیان کر کے فرمایا تِلْکَ مِنْ اَنْبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحَیْھَآ اِلَیْکَ، مَا کُنْتَ تَعْلَمُھَآ اَنْتَ وَلَا قَوْمُکَ مِنْ قَبْلِ ھٰذَا، ”یہ باتیں غیب کی خبروں میں سے ہیں جو ہم تم پر وحی کر رہے ہیں، تمہیں اور تمہاری قوم کو اس سے پہلے ان کا کوئی علم نہ تھا“(ہود۔ آیت 49)۔ اِس چیز کی بار بار تکرار سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ قرآن مجید اپنے من جانب اللہ ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول اللہ ہونے پر جو بڑے بڑے دلائل دیتا تھا ان میں سے ایک یہ دلیل تھی کہ سینکڑوں ہزاروں برس پہلے کے گزرے ہوئے واقعات کی جو تفصیلات ایک اُمّی کی زبان سے بیان ہو رہی ہیں ان کے علم کا کوئی ذریعہ اُس کے پاس وحی کے سوا نہیں ہے۔ اور یہ چیز اُن اہم اسباب میں سے ایک تھی جن کیبنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم عصر لوگ اس بات پر یقین لاتے چلے جا رہے تھے کہ واقعی آپؐ اللہ کے نبی ہیں اور آپؐ پر وحی آتی ہے، اب یہ ہر شخص خود تصور کر سکتا ہے کہ اسلامی تحریک کے مخالفین کے لیے اُس زمانے میں اِس چیلنج کی تردید کرنا کیسی کچھ اہمیت رکھتا ہو گا، اور انہوں نے اس کے خلاف ثبوت فراہم کرنے کی کوششوں میں کیا کسر اُٹھا رکھی ہو گی۔ نیز یہ بھی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اگر معاذ اللہ اِس چیلنج میں ذرا سی بھی کوئی کمزوری ہوتی تو اس کو غلط ثابت کرنے کے لیے شہادتیں فراہم کرنا ہم عصر لوگوں کے لیے مشکل نہ ہوتا۔
عرب میں حضرت اسمٰعیل اور حضرت شعیب علیہما السلام کے بعد کوئی نبی نہیں آیا تھا۔ تقریباً دو ہزار برس کی اس طویل مدت میں باہر کے انبیاء کی دعوتیں تو ضرور وہاں پہنچیں، مثلاً حضرت موسیٰ، حضرت سلیمان اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام کی دعوتیں، مگر کسی نبی کی بعثتِ خاص اس سرزمین میں نہیں ہوئی تھی۔
وَلَوْلَاۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ مُّصِیْبَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَیَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْلَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِكَ وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ
(اور یہ ہم نے اس لیے کیا کہ)کہیں ایسا نہ ہو کہ اُن کے اپنے کیے کرتُوتوں کی بدولت کوئی مصیبت جب اُن پر آئے تو وہ کہیں”اے پروردگار، تُو نے کیوں نہ ہماری طرف کوئی رسُول بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور اہلِ ایمان میں سے ہوتے۔“66
اِسی چیزکو قرآن مجید متعدد مقامات پر رسولوں کے بھیجے جانے کی وجہ کے طور پر پیش کرتا ہے ۔ مگر اس سے یہ نتیجہ نکالنا صحیح نہیں ہے کہ اس غرض کے لیے ہر وقت ہر جگہ ایک رسول آنا چاہیے۔ جب تک دنیا میں ایک رسول کا پیغام اپنی صحیح صورت میں موجود رہے اور لوگوں تک اس کے پہنچنے کےذرائع موجود رہیں، کسی نئے رسول کی حاجت نہیں رہتی، الّا یہ کہ پچھلے پیغام میں کسی اضافے کی اور کوئی نیا پیغام دینے کی ضرورت ہو۔ البتہ جب انبیاء کی تعلیمات محو ہو جائیں، یا گمراہیوں میں خلط ملط ہو کر وسیلہ ہدایت بننے کے قابل نہ رہیں، تب لوگوں کے لیے یہ عذر پیش کرنے کا موقع پیدا ہو جاتا ہے کہ ہمیں حق وباطل کے فرق سے آگاہ کرنے اور صحیح راہ بتانے کا کوئی، انتظآم سرےسے موجود ہی نہیں تھا، پھر بھلا ہم کیسے ہدایت پا سکتے تھے۔ اسی عذر کو قطع کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ ایسے حالا ت میں نبی مبعوث فرماتا ہے تا کہ اس کے بعد جو شخص بھی غلط راہ پر چلے وہ اپنی کجروی کا ذمہ دارا ٹھیرا یا جا سکے۔
فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْا لَوْلَاۤ اُوْتِیَ مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰی ؕ اَوَلَمْ یَكْفُرُوْا بِمَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰی مِنْ قَبْلُ قَالُوْا سِحْرٰنِ تَظٰهَرَا ۥ۫ وَقَالُوْۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوْنَ
یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ سارے معجزے کیوں نہ دیے گئے جو حضرت موسیٰؑ کو دیے گئے تھے۔ یہ بھی عصا کا اژدہا بنا کر ہمیں دکھاتے ۔ اِن کا ہاتھ بھی سورج کی طرح چمک اٹھتا۔ جھٹلانے والوں پر ان کے اشارے سے بھی پے در پے طوفان اور زمین و آسمان سے بلاؤں کا نزول ہوتا اور یہ بھِ پتھر کی تختیوں پر لکھے ہوئے احکام لا کر ہمیں دیتے۔
یہ ان کے اعتراض کا جواب ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ ان معجزوں کے با وجود موسیٰؑ ہی پر تم کب ایمان لائے تھے جواب محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے اُن کا مطالبہ کر رہے ہو۔ تم خود کہتے ہو کہ موسیٰؑ کو یہ معجزے دیے گئے تھے۔ مگر پھر بھی ان کو نبی مان کر ان کی پیروی تم نے کبھی قبول نہیں کی۔ سورہ سباآیت31 میں بھی کفار مکہ کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ ”نہ ہم اِس قرآن کو مانیں گے نہ اُن کتابوں کو جو اس سے پہلے آئی ہوئی ہیں“۔
یعنی قرآن اور توراۃ۔
قُلْ فَاْتُوْا بِكِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ هُوَ اَهْدٰی مِنْهُمَاۤ اَتَّبِعْهُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ
(اے نبیؐ)اِن سے کہو”اچھا، تو لاوٴ اللہ کی طرف سے کوئی کتاب جو اِن دونوں سے زیادہ ہدایت بخشنے والی ہو اگر تم سچے ہو، میں اسی کی پیروی اختیار کروں گا۔“70
یعنی تو مجھے تو ہدایت کی پیروی کرنی ہے ، بشرطیکہ وہ کسی کی من گھڑت نہ ہو بلکہ خدا کی طر ف سے حقیقی ہدایت ہو۔ اگر تمہارے پاس کوئی کتاب اللہ موجود ہے جو قرآن اور توراۃ سے بہتر رہنمائی کرتی ہو، تو اسے تم نے چھپا کیوں رکھا ہے؟ اسے سامنے لاؤ، میں بلا تامل اس کی پیروی قبول کر لوں گا۔
فَاِنْ لَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكَ فَاعْلَمْ اَنَّمَا یَتَّبِعُوْنَ اَهْوَآءَهُمْ ؕ وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَیْرِ هُدًی مِّنَ اللّٰهِ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ
اب اگر وہ تمہارا یہ مطالبہ پورا نہیں کرتے تو سمجھ لو کہ دراصل یہ اپنی خواہشات کے پیرو ہیں، اور اُس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہو گا جو خدائی ہدایت کے بغیر بس اپنی خواہشات کی پیروی کرے؟ اللہ ایسے ظالموں کو ہرگز ہدایت نہیں بخشتا
وَلَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ ؕ
اور (نصیحت کی)بات پے در پے ہم انہیں پہنچا چکے ہیں تا کہ وہ غفلت سے بیدار ہوں۔71
یعنی جہاں تک حق نصیحت ادا کرنے کا تعلق ہے ، ہم اس قرآن پیہم اسے ادا کر چکے ہیں۔ لیکن ہدایت تو اُسی کو نصیب ہو سکتی ہے جو ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑ ے اور تعصبات سے دل کو پاک کر کے سچائی کو سیدھی طرح قبول کر نے کےلیے تیار ہو۔
اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ یُؤْمِنُوْنَ
جن لوگوں کو اِس سے پہلے ہم نے کتاب دی تھی وہ اِس (قرآن)پر ایمان لاتے ہیں۔72
اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ تمام اہلِ کتاب (یہودی اور عیسائی) اس پر ایمان لاتے ہیں۔ بلکہ یہ اشارہ دراصل اُس واقعہ کی طرف ہے جو اس سورہ کے نزول کے زمانہ میں پیش آیاتھا، اور اس سے اہلِ مکہ کو شرم دلانی مقصود ہے کہ تم اپنے گھر ائی ہوئی نعمت کو ٹھکرا رہے ہو حالانکہ دور دور کے لوگ اس کی خبر سن کر آ رہے ہیں اور اُس قدر پہچان کرا س سے فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔ اس واقعہ کو ابن ہشام اور بیقہی وغیرہ نے محمد بن اسحاق کے حوالہ سے اس طرح روایت کیا ہے کہ ہجرتِ حبشہ کے بعد جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور دعوت کی خبریں حبش کے ملک میں پھیلیں تو وہاں سے 2۰ کے قریب عیسائیوں کا ایک وفد تحقیقِ حال کے لیے مکہ معظمہ آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مسجدِ حرام میں ملا۔ قریش کے بہت سے لوگ بھی یہ ماجرا دیکھ کر گردو پیش کھڑے ہوگئے۔ وفد کے لوگوں نے حضورؐ ے کچھ سوالا ت کیے جن کاآپ نے جواب دیا۔ پھر آپؐ نے ان کو اسلام کی طرف دعوت دی اور قرآن مجید کی آیات ان کے سامنے پڑھیں۔ قرآن سن کر ان کی آنکھوں سے آنسوں جاری ہوگئے اور انہوں نے اس کے کلام اللہ ہونے کی تصدیق کی اور حضورؐ پر ایمان لے آئے۔ جب مجلس برخاست ہوئی تو ابو جہل اور اس کے چند ساتھیوں نے ان لوگوں کو راستہ میں جا لیااور انہیں سخت ملامت کی کہ ”بڑے نامراد ہو تم لوگ، تمہارے ہم مذہب لوگوں نے تم کو اس لیے بھیجا تھا کہ تم اِس شخص کے حالا ت کی تحقیق کر کے آؤ اور انہیں ٹھیک ٹھیک خبر دو، مگر تم ابھی اِس کے پاس بیٹھے ہی تھے کہ اپنا دین چھوڑ کر اس پر ایمان لے آئے۔ تم سے زیادہ احمق گروہ تو کبھی ہماری نظر سے نہیں گزرا“۔ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ ”سلام ہے بھائیوں تم کو۔ ہم تمہارے ساتھ جہالت بازی نہیں کر سکتے۔ ہمیں ہمارے طریقے پر چلنے دو اور تم اپنے طریقے پر چلتے رہو۔ ہم اپنے آپ کو جان بوجھ کر بھلائی سے محروم نہیں رکھ سکتے“(سیرت ابن ہشام ج2، ص32۔ البِدایہ و النِّہایہ، ج3، ص82)۔ مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد سوم، الشعراء، حاشیہ 123)۔
وَاِذَا یُتْلٰی عَلَیْهِمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖۤ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِیْنَ
اور جب یہ اُن کو سُنایا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ”ہم اِس پر ایمان لائے، یہ واقعی حق ہے ہمارے ربّ کی طرف سے، ہم تو پہلے ہی سے مسلم ہیں۔“73
یعنی اس سے پہلے بھی ہم انبیاء اور کتبِ آسمانی کے ماننے والے تھے ، اس لیے اسلام کے سوا ہمارا کوئی اور دین نہ تھا۔ اور اب جو نبی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کتاب لے کر آیا ہے اسے بھی ہم نے مان لیا ، لہٰذا درحقیقت ہمارے دین میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے بلکہ جیسے ہم پہلے مسلمان تھے ویسے ہی اب بھی مسلمان ہیں۔ یہ قول اس بات کی صاف صراحت کردیتا ہے کہ اسلام صرف اُس دین کا نام نہیں ہےجسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے ہیں اور ”مسلم“ کی اصطلاح کا اطلاق محض حضورؐ کے پیرووں تک محدود نہیں ہے ، بلکہ ہمیشہ سے تمام انبیاء کا دین یہی اسلام تھا اور ہر زمانہ میں ان سب کے پیرو مسلمان ہی تھے۔ یہ مسلمان اگر کبھی کافر ہوئے تو صرف اُس وقت جبکہ کسی بعد کے آنے والے نبی صادق کو ماننے سے انہوں نے انکار کیا۔ لیکن جو لوگ پہلے نبی کو مانتے تھے اور بعد کے آنے والے نبی پر بھی ایمان لے آئے اُن کے اسلام میں کوئی انقطاع نہیں ہوا۔ وہ جیسے مسلمان پہلے تھے ویسے ہی بعد میں رہے۔ تعجّب ہے کہ بعض بڑے بڑے اہلِ علم بھی اس حقیقت کے ادراک سے عاجز رہ گئے ہیں، حتّٰی کہ اس صریح آیت کو دیکھ کر بھی ان کا اطمینان نہ ہُوا۔ علامہ سیوطی نے ایک مفصل رسالہ اس موضوع پر لکھا کہ مسلم کی اصطلاح صر ف اُمتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مختص ہے۔ پھر جب یہ آیت سامنے آئی تو خود فرماتے ہیں کہ میرے ہاتھوں کے طوطے اُڑ گئے ۔ لیکن کہتے ہیں کہ میں نے پھر خدا سے دعا کی کہ اس معاملہ میں مجھے شرح صدر عطا کر دے۔ آخر کار اپنی رائے سے رجوع کرنے کے بجائے انہوں نے اُس پر اصرار کیا اور اس آیت کی متعدّد تاویلیں کر ڈالیں جو ایک سے ایک بڑھ کر بے وزن ہیں۔ مثلاً ان کی ایک تاویل یہ ہے کہ اِنَّا کُنَّا مِنْ قَبْلِہ مُسلِمِیْنَ کے معنی ہیں ہم قرآن کے آنے سے پہلے ہی مسلم بن جانے کا عزم رکھتے تھے کیونکہ ہمیں اپنی کتابوں سے اس کے آنے کی خبر مل چکی تھی اور ہمارا ارادہ یہ تھا کہ جب وہ آئے گا تو ہم اسلام قبول کر لیں گے۔ دوسری تاویل یہ ہے کہ اس فقرے میں مُسْلِمِیْن کے بعد بِہ مخذوف ہے ، یعنی پہلے ہی سے ہم قرآن کو مانتے تھے کیونکہ اس کے آنے کی ہم توقع رکھتے تھے اور اس پر پیشگی ایمان لائے ہوئے تھے، اس لیے توراۃ و انجیل کو ماننے کی بنا پر نہیں بلکہ قرآن کو اس کے نزول سے پہلے برحق مان لینے کی بنا پر ہم مسلم تھے۔ تیسری تاویل یہ ہے کہ تقدیر الہٰی میں ہمارے لیے پہلے ہی مقدر ہو چکا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کی آمد پر ہم اسلام قبول کر لیں گے اس لیے در حقیقت ہم پہلے ہی سے مسلم تھے۔ ان تاویلوں میں سے کسی کو دیکھ کر بھی یہ محسوس نہیں ہوتا کہ اللہ کے عطا کردہ شرح صدر کا اس میں کوئی اثر موجود ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ قرآن صرف اسی ایک مقام پر نہیں بلکہ بیسیوں مقامات پر اِس اُصولی حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ اصل دین صرف ”اسلام“ (اللہ کی فرمانبرداری ) ہے، اور خدا کی کائنات میں خدا کی مخلوق کے لیے اِس کے سوا کوئی دوسرا دین ہو نہیں سکتا، اور آغاز آفرینش سے جو نبی بھی انسانوں کی ہدایت کے لیے آیا ہے وہ یہی دین لے کر آیا ہے، اور یہ کہ انبیاء علیہم السلام ہمیشہ خود مسلم رہے ہیں، اپنے پیرووں کو انہوں نے مسلم ہی بن کر رہنے کی تاکید کی ہے، اور ان کے وہ سب متبعین جنہوں نے نبوت کے ذریعہ سے آئے ہوئے فرمانِ خدا وندی کے آگے سرِ تسلیم خم کیا، ہر زمانے میں مسلم ہی تھے۔ اِس سلسلہ میں مثال کے طور پر صرف چند آیات ملاحظہ ہوں: اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللہِ الْاِسْلَامُ۔ (آل عمران، آیت 19 درحقیقت اللہ کے نزدیک تو دین صرف اسلام ہے۔ وَمَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ۔ (آل عمران، آیت 85) اور جو کوئی اسلام کے سوا کوئی اور دین اختیار کرے وہ ہر گز قبول نہ کیا جائے گا۔ حضرت نوح علیہ السلام فرماتے ہیں: اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَی اللہِ وَاُمِرْتُ اَنْ اَکُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔ (یونس، آیت 72) میرا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مسلموں میں شامل ہو کر رہوں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی اولاد کے متعلق ارشاد ہوتا ہے: اِذْ قَالَ لَہٗ رَبُّہٗ اَسْلِمْ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ، وَوَصّٰی بِھَآ اِبْرٰھٖمُ بَنِیْہِ وَیَعْقُوْبُ، یٰبَنِیَّ اِنَّ اللہَ اصْطَفیٰ لَکُمُ الدِّیْنَ فَلَا تَمُوْ تُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَo اَمْ کُنْتُمْ شُھَدَآءَ اِذْ حَضَرَ یَعْقُوْ بَ الْمَوْتُ اِذْ قَالَ لِبَنِیْہِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْم بَعْدِیْ قَالُوْا نَعْبُدُ اِلٰھَکَ وَاِلٰہَ اٰبَآ ئِکَ اِبْرٰھٖمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ اِلٰھًا وَّاحِدًا وَّنَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوْنَ o (البقرہ۔ آیت 131 تا 133) جبکہ اس کے ربّ نے اس سے کہا کہ مسلِم (تابع فرمان) ہو جا، تو اس نے کہا میں مسلم ہو گیا ربّ العالمین کے لیے۔ اور اسی چیز کی وصیّت کی ابراہیمؑ نے اپنی اولاد کو اور یعقوب ؑ نے بھی، کہ اے میرے بچو! اللہ نے تمہارے لیے اس دین کو پسند کیا ہے لہٰذا تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔ کیا تم اس وقت موجود تھے جب یعقوب ؑ کی وفات کا وقت آیا؟ جبکہ اس نے اپنی اولاد سے پوچھا کس کی بندگی کرو گے تم میرے بعد؟ انہوں نے جواب دیا ہم بندگی کریں گے آپ کے معبود اور آپ کے با پ دادا ابراہیم ؑ اور اسمٰعیلؑ اور اسحٰق ؑ کے معبود کی ، اس کو اکیلا معبود مان کر، اور ہم اسی کے مسلم ہیں۔ مَا کَانَ اِبْرٰھِیْمُ یَھُوْدِیًّا وَّلَا نَصْرَ انِیًّا وَّلٰکِنْ کَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا، (آل عمران، آیت ۶7) ابراہیمؑ نہ یہودی تھا نہ نصرانی ۔ بلکہ وہ یکسو مسلم تھا۔ حضرت ابراہیم ؑ و اسمٰعیلؑ خود دعا مانگتے ہیں: رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَکَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِنَا اُمَّۃً مُّسْلِمَۃً لَّکَ۔ (البقرہ۔ آیت 128) اے ہمارے ربّ ، ہم کو اپنا مسلم بنا اور ہماری نسل سے ایک اُمت پیدا کر جو تیری مسلم ہو۔ حضرت لُوط ؑ کے قصّے میں ارشاد ہوتا ہے: فَمَا وَجَدْ نَا فِیْھَا غَیْرَ بَیْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ ۔(الذاریات۔ آیت 3۶) ہم نے قومِ لوط کی بستی میں ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا۔ حضرت یوسفؑ بارگاہِ ربّ العزّت میں عرض کرتے ہیں: تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّاَلْحِقْنِیْ بِا الصّٰلِحِیْنَ o (یوسف۔ آیت 1۰1) مجھ کو مسلم ہونے کی حالت میں موت دے اور صالحوں کے ساتھ ملا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم سے کہتے ہیں: یٰقَوْمِ اِنْ کُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِا للہِ فَعَلَیْہِ تَوَکَّلُوْآ اِنْ کُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَo (یونس۔ آیت 84) اے میری قوم کے لوگو، اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو تو اسی پر بھروسہ کرو اگر تم مسلم ہو۔ بنی اسرائیل کا اصل مذہب یہودیت نہیں بلکہ اسلام تھا، اس بات کو دوست اور دشمن سب جانتے تھے ۔ چنانچہ فرعون سمندر میں ڈوبتے وقت آخری کلمہ جو کہتا ہے وہ یہ ہے: اٰمَنْتُ اَنَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّا الَّذِیْٓ اٰمَنَتْ بِہٖ بَنُوْآ اِسْرَآءِیْلَ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ o (یونس۔ آیت 9۰) میں مان گیا کہ کوئی معبود اُس کے سوا نہیں ہے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں مسلموں میں سے ہوں۔ اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰۃَ فِیْھَا ھُدًی وَّ نُوْرٌ، یَحْکُمُ بِھَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْ ا لِلَّذِیْنَ ھَادُوْا ، (المائدہ۔ آیت 44) ہم نے توراۃ نازل کی جس میں ہدایت اور روشنی تھی ، اسی کے مطابق وہ نبی جو مسلم تھے اُن لوگوں کے معاملات کے فیصلے کرتے تھے جو یہودی ہو گئے تھے۔ یہی حضرت سلیمان علیہ السلام کا دین تھا، چنانچہ ملکۂ سبا ان پر ایمان لاتے ہوئے کہتی ہے: اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo (النمل۔ آیت 44) میں سلیمانؑ کے ساتھ ربّ العالمین کی مسلم ہو گئی ۔ اور یہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے حواریوں کا دین تھا: وَاِذْ اَوْ حَیْتُ اِلَی الْحَوَارِیِّیْنَ اَنْ اٰمَنُوْا بِیْ وَبِرَسُوْلِیْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا وَاشْھَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوْنَ o (المائدہ۔آیت 111) اور جبکہ میں نے حواریوں پر وحی کی کہ ایمان لاؤمجھ پر اور میرے رسول پر تو انہوں نے کہا ہم ایمان لائے اور گواہ رہ کہ ہم مسلم ہیں۔ اس معاملہ میں اگر کوئی شک اِس بنا پر کیا جائے کہ عربی زبان کے الفاظ ”اسلام“ اور ”مسلم“ ان مختلف ملکوں اور مختلف زبانوں میں کیسے مستعمل ہوسکتے تھے، تو ظاہر ہے کہ یہ محض ایک نادانی کی بات ہو گی۔ کیونکہ اصل اعتبار عربی کے اِن الفاظ کا نہیں بلکہ اُس معنی کا ہے جس کے لیے یہ الفاظ عربی میں مستعمل ہوتے ہیں۔ دراصل جو بات اِن آیات میں بتائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ خدا کی طرف سے آیا ہوا حقیقی دین مسیحیت یا موسویت یا محمدیت نہیں ہے بلکہ انبیاء اور کتبِ آسمانی کے ذریعہ سے آئے ہوئے فرمانِ خداوندی کے آگے سرِ اطاعت جھکا دینا ہے اور یہ رویّہ جہاں جس بندۂ خدا نے بھی جس زمانے میں اختیار کیا ہے وہ ایک ہی عالمگیر ازلی و ابدی دینِ حق کا متبع ہے۔ اس دین کو جن لوگوں نے ٹھیک ٹھیک شعور اور اخلاص کے ساتھ اختیار کیا ہے ان کے لیے موسیٰؑ کے بعد مسیحؑ کو اور مسیحؑ کے بعد محمد صلی اللہ علیہ و علیہم اجمعین کو ماننا تبدیل ِ مذہب نہیں بلکہ حقیقی دین کے اتباع کا فطری و منطقی تقاضا ہے۔ بخلاف اس کے جو لوگ انبیاء علیہم السلام کے گروہوں میں بے سوچے سمجھے گُھس آئے یا پیدا ہو گئے ، اور قومی و نسلی اور گروہی تعصبات نے جن کے لیے اصل مذہب کی حیثیت اختیار کر لی، وہ بس یہودی یا مسیحی بن کر رہ گئے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے پر ان کی جہالت کی قلعی کھل گئی۔ کیونکہ انہوں نے اللہ کے آخری نبی کا انکار کر کے نہ صرف یہ کہ آئندہ کے لیے مسلم رہنا قبول نہ کیا، بلکہ اپنی اس حرکت سے یہ ثابت کر دیا کہ حقیقت میں وہ پہلے بھی ”مسلم“ نہ تھے، محض ایک نبی یا بعض انبیاء کی شخصی گرویدگی میں مبتلا تھے ، یا آباو اجداد کی اندھی تقلید کو دین بنائے بیٹھے تھے۔
اُولٰٓىِٕكَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَیَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ
یعنی ایک اجر اُس ایمان کا جو وہ پہلے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام پر رکھتے تھے اور دوسرا اجر اس ایمان کا جو وہ اب نبی عربی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر لائے۔ یہی بات اس حدیث میں بیان کی گئی ہے جو بخاری و مسلم نے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ثلٰثۃ لھم اجران، رجل من اھل الکتب اٰمن بنبیہ واٰمن بمحمدؐ۔۔۔۔”تین شخص ہیں جن کو دوہرا اجر ملے گا ۔ ان میں سے ایک وہ ہے جو اہل کتاب میں سے تھآ اور اپنے نبی پر ایمان رکھتا تھا، پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا“۔
یعنی انہیں یہ دوہرا اجر اس بات کا ملے گا کہ وہ قومی و نسلی اور وطنی و گرو ہی تعصبات سے بچ کر اصل دینِ حق پر ثابت قدم رہے اور نئے نبی کی آمد پر جو سخت در پیش ہوا اس میں انہوں نے ثابت کر دیا کہ دراصل وہ مسیح پرست نہیں بلکہ خدا پرست تھے، اور شخصیتِ مسیح کےگرویدہ نہیں بلکہ ”اسلام“ کےمتبع تھے، اسی وجہ سے مسیح کے بعد جب دوسرا نبی وہی اسلام کے کر آیا جسے مسیح لائے تھے تو انہوں نے بے تکلف اس کی رہنمائی میں اسلام کا راستہ اختیار کر لیا اور اُ ن لوگوں کا راستہ چھوڑ دیا جو مسیحیت پر جمے رہ گئے۔
یعنی وہ بدی کا جواب بدی سے نہیں بلک نیگی سے دیتے ہیں ۔ جھوٹ کے مقابلے میں جھوٹ نہیں بلکہ صداقت لاتے ہیں۔ ظلم کو ظلم سے نہیں بلکہ انصاف سے دفع کر تے ہیں۔ شرارتوں کا سامنا شرارت سے نہیں بلکہ شرافت سے کرتے ہیں۔
یعنی وہ راہ ِ حق میں مالی ایثار بھی کرتے ہیں۔ ممکن ہے کہ اس میں اشارہ اس طرف بھی ہو کہ وہ لوگ محض حق کی تلاش میں حبش سے فر کر کے مکے آئے تھے۔ اس محنت اور صرفِ مال سے کوئی مادّی منفعت ان کے پیش نظر نہ تھی۔ انہوں نے جب سنا کہ مکہ میں ایک شخص نےنبوت کا دعویٰ کیا ہے تو انہوں نے ضروری سمجھا کہ خود جا کہ تحقیق کریں تا کہ اگر واقعی ایک نبی ہی خدا کی طرف سے مبعوث ہوا ہو تو وہ اس پر ایمان لانے اور ہدایت پانے محروم نہ رہ جائیں۔
وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَقَالُوْا لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ؗ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ ؗ لَا نَبْتَغِی الْجٰهِلِیْنَ
اور جب انہوں نے بیہودہ بات سُنی78 تو یہ کہہ کر اُس سے کنارہ کش ہوگئے کہ ”ہمارے اعمال ہمارے لیے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے، تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے۔“
اشارہ ہے اس بیہودہ بات کی طرف جو ابو جہل اور اس کے ساتھیوں نے حبشی عیسائیوں کے اس وفد سے کی تھی، جس کا ذکر اوپر حاشیہ نمبر 72 میں گزر چکا ہے۔
اِنَّكَ لَا تَهْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ وَهُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ
اے نبیؐ ، تم جسے چاہو اُسے ہدایت نہیں دے سکتے، مگر اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہ اُن لوگوں کو خُوب جانتا ہے جو ہدایت قبول کرنے والے ہیں۔79
سیاق کلام سے ظاہر ہے کہ حبشی عیسائیوں کے ایمان و اسلام کا ذکر کرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے یہ فقرہ ارشاد فرمانے سے مقصود دراصل کفار مکہ کو شرم دلانا تھا۔ کہنا یہ تھا کہ بد نصیبو، ماتم کرو اپنی حالت پر کہ دوسرے کہاں کہاں سے آکر اس نعمت سے مستفید ہو رہے ہیں اور تم اس چشمہ فیض سے ، جو تمہارے اپنے گھر میں بہ رہا ہے، محروم رہے جاتے ہو۔ لیکن کہا گیا ہے اِس انداز سے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم چاہتے ہو کہ میری قوم کے لوگ، میرے بھائی بندو، میرے عزیز اقارب، اِس آبِ حیات سے بہرہ مند ہوں ، لیکن تمہارے چاہنے سے کیا ہوتا ہے ، ہدایت تو اللہ کے اختیار میں ہے، وہ اس نعمت سے انہی لوگوں کو فیض یاب کرتا ہے جن میں وہ قبول ہدایت کی آمادگی پاتا ہے ، تمہارے رشتہ داروں میں اگر یہ جوہر موجود نہ ہو تو انہیں یہ فیض کیسے نصیب ہو سکتا ہے۔ صحیحین کی روایت ہے کہ یہ آیت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابو طالب کے معاملہ میں نازل ہوئی ہے۔ ان کا جب آخری وقت آیا تو حضورؐ نے اپنی حد تک انتہائی کوشش کی کہ وہ کلمہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ پر ایمان لے آئیں تا کہ ان کا خاتمہ بالخیر ہو، مگر انہوں نے ملتِ عبد المطلب پر ہی جان دینے کو ترجیح دی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا انک لا تھدی من اجبت۔ لیکن محدثین و مفسرین کا یہ طریقہ معلوم و معروف ہے کہ ایک آیت عہد نبوی کے جس معامہ پر چسپاں ہوتی ہے اسے وہ آیت کی شانِ نزول کے طور پر بیان کر تے ہیں۔ اس لیے اس روایت اور اِسی مضمون کی اُن دوسری روایات سے جو ترمذی اور مسند احمد وغیرہ میں حضرات بو ہریرہؓ، ابن عباسؓ، ابن عمرؓ وغیرہ ہم سے مروی ہیں۔ لازماً یہی نتیجہ نہیں نکلتا کہ سورہ قصص کی یہ آیت ابو طالب کی وفات کے وقت نازل ہوئی تھی۔ بلکہ ان سے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کے مضمون کی صداقت سب سے زیادہ اس موقع پر ظاہر ہوئی ۔اگرچہ حضورؓ کی دلی خواہش تو ہر بندہ خدا کو راہِ راست پر لانے کی تھی۔ لیکن سب سے بڑھ کر اگر کسی شخص کا کفر پر خاتمہ حضورؐ کو شاق ہو سکتا تھا، اور ذاتی محبت و تعلق کی بنا پر سب سے زیادہ کسی شخص کی ہدایت کے آپ آرزو مند ہو سکتے تھے ، تو وہ ابو طالب تھے۔ لیکن جب ان کو بھی ہدایت دینے پر آپ قادر نہ ہوئے تو یہ بات بالکل ظاہر ہو گئی کہ کسی کو ہدایت بخشنا اور کسی کو اس سے محروم رکھنا نبی کے بس کی بات نہی ہے۔یہ معاملہ بالکل اللہ کے ہاتھ میں ہے، اور اللہ کے ہاں یہ دولت کسی رشتہ د ا ری و برادری کی بنا پر نہیں بلکہ آدمی کی قبولیت و استعداد اور مخلصانہ صداقت پسنی کی بنا پر عطا ہوتی ہے۔
وَقَالُوْۤا اِنْ نَّتَّبِعِ الْهُدٰی مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا ؕ اَوَلَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا یُّجْبٰۤی اِلَیْهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَیْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ
یہ وہ بات ہے جو کفارِ قریش اسلام قبول نہ کرنے کے لیے عذر کے طور پر پیش کرتے تھے۔ اور اگر غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے کفر و انکار کا سب سے اہم بنیادی سبب یہی تھا۔ اس بات کو ٹھیک ٹھیک سمجھنے کے لیے ہمیں دیکھنا ہو گا کہ تاریخی طور پر اُس زمانے میں قریش کی پوزیشن کیا تھی جس پر ضرب پڑنے کا انہیں اندیشہ تھا۔ قریش کو ابتداء جس چیز نے عرب میں اہمیت دی وہ یہ تھی کہ ان کا حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے ہونا انسابِ عرب کی رو سے بالکل ثابت تھا، اور اس بنا پر ان کا خاندان عربوں کی نگاہ میں پیرزادوں کا خاندان تھا۔ پھر جب قُصّی بن کِلاب کے حسن تدبیر سے یہ لوگ کعبہ کے متولی ہوگئے اور مگہ ان کا مسکن بن گیا تو ان کی اہمیت پہلے سے بہت زیادہ ہوگئی۔ اس لیے کہ اب وہ عرب کا کوئی قبیلہ ایسا نہ تھا جو ان سے تعلقات نہ رکھتا ہو۔ اس مرکزی حیثیت سے فائدہ اٹھا کر قریش نے بتدریج تجارتی ترقی شروع کی اور خوش قسمتی سے روم و ایران کی سیاسی کشمکش نے ان کو بین الاقوامی تجارت میں ایک اہم مقام عطا کردیا۔ اُس زمانہ میں روم ویونان اور مصر و شام کی جتنی تجارت بھی چین، ہندوستان ، انڈونیشیا اور مشرقی افریقہ کے ساتھ تھی، اس کے سارے ناکے ایران نے روک دیے تھے۔ آخری راستہ بحرِ احمر کا رہ گیا تھا، سو یمن پر ایران کے قبضہ نے اسے بھی روک دیا۔ اس کے بعد کوئی صورت اس تجارت کو جاری رکھنے کے لیے اس کے سوا نہیں رہ گئی تھی کہ عرب کے تاجر ایک طرف رومی مقبوضات کا مال بحر عرب اور خلیج فارس کے بندرگاہوں پر پہنچائیں ، اور دوسری طرف انہی بندرگاہوں سے مشرقی اموالِ تجارت لے کر رومی مقبوضات میں پہنچیں۔ اس صورتِ حال نے مکہ کو بین الاقوامی تجارت کا ایک اہم مرکز بنا دیا۔ اس وقت قریش ہی تھے جنہیں اس کا روبار کا قریب قریب اجارہ حاصل تھا۔ لیکن عرب کی طوائف الملو کی کے ماحول میں یہ تجارتی نقل و حرکت اس کے بغیر نہ ہوسکتی تھی کہ تجارتی شاہرا ہیں جن قبائل کے علاقوں سے گزرتی تھیں ان کے ساتھ قریش کے گہرے تعلقات ہوں۔ سردارانِ قریش اس غرض کے لیے صرف اپنے مذہبی اثر پر اکتفا نہ کر سکتے تھے۔ اس کے لیے انہوں نے تمام قبائل کے ساتھ معاہدات کر رکھے تھے۔ تجارتی منافع میں سے بھی وہ ان کو حصہ دیتے تھے۔ شیوخِ قبائل اور با ثر سرداروں کو تحائف و ہدایا سے بھی خوش رکھتے تھے۔ اور سودی کا روبار کا بھی ایک جال انہوں نے پھیلا رکھا تھا جس میں قریب قریب تمام ہمسایہ قبائل کے تجار اور سردار جکڑے ہوئے تھے۔ ان حالات میں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت توحید اٹھی تو دین آبائی کے تعصب سے بھی بڑھ کر جو چیزیں قریش کے لیے اُس کے خلاف وجہ ِ اشتعال بنی وہ یہ تھی کہ اس دعوت کی بدولت انہیں اپنا مفاد خطرے میں نظر آرہا تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ معقول دلائل اور حجتوں سے شرک و بت پرستی غلط اور توحید صحیح بھی ہو تو اُس کو چھوڑنا اور اسے قبول کر لینا ہمارے لیے تباہ کن ہے ۔ ایسا کرتے ہی تمام عرب ہمارے خلاف بھڑک اٹھے گا۔ ہمیں کعبہ کی تولیت سے بے دخل کر دیا جائے گا۔ بُت پرست قبائل کے ساتھ ہمارے وہ تمام معاہدانہ تعلقات ختم ہو جائیں گے جن کی وجہ سے ہمارے تجارتی قافلے رات دن عرب کے مختلف حصوں سے گزرتے ہیں ۔ اس طرح یہ دین ہمارے مذہبی رسُوخ و اثر کا بھی خاتمہ کر دے گا اور ہماری معاشی خوشحالی کا بھی ۔ بلکہ بعد نہیں کہ تمام قبائلِ عرب ہمیں سرے سے مکہ ہی چھوڑدینے پر مجبور کردیں۔ یہاں پہنچ کر دنیا پرستوں کی بے بصیرتی کا عجیب نقشہ انسان کے سامنے آتا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بار بار انہیں یقین دلاتے تھے کہ یہ کلمہ جو میں تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں اسے مان لو تو عرب و عجم تمہارے تابع ہو جائیں گے۔( ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، صفحہ 31۶ ۔317)۔ مگر انہیں اس میں اپنی موت نظر آتی تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ جو دولت، اثر، رسوخ ہمیں آج حاصل ہے یہ بھی ختم ہو جائے گا۔ ان کو اندیشہ تھا کہ یہ کلمہ قبول کرتے ہی ہم اس سر زمین میں ایسے بے یارو مددگار ہو جائیں گے کہ چیل کوّے ہماری بوٹیاں نوچ کھائیں گے۔ ان کی کوتاہ نظر ی وہ وقت نہ دیکھ سکتی تھی جب چند ہی سال بعد تمام عرب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ماتحت ایک مرکزی سلطنت کا تابع فرمان ہونے والا تھا، پھر اسی نسل کی زندگی میں ایران، عراق، شام ، مصر، سب ایک ایک کر کے اس سلطنت کے زیر نگین ہو جانے والے تھے، اس قول پر ایک صدی گزر نے سے بھی پہلے قریش ہی کے خلفاء سندھ سے لے کر اسپین تک اور قفقاز سے لے کر یمن کے سواحل تک دنیا کے ایک بہٹ بڑے حصہ پر حکمرانی کرنے والےتھے۔
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ا ن کے عذر کا پہلا جواب ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حرم جس کے امن و امان اور جس کی مرکزیت کی بدولت آج تم اس قابل ہوئے ہو کہ دنیا بھی کا مال تجارت اِس وادی غیر ذی زری میں کھچا چلا آرہا ہے ، کیا اس کو یہ امن اور یہ مرکزیت کا مقام تمہاری کسی تدبیر نے دیا ہے ؟ ڈھائی ہزار برس پہلے چٹیل پہاڑوں کے درمیان اس بے آب و گیاہ وادی میں ایک اللہ کا بندہ اپنی بیوی اور ایک شیر خوار بچے کو لے کر آیا تھا۔ اس نے یہاں پتھر اور گارے کا ایک حجرہ تعمیر کر دیا اور پکار دیا کہ اللہ نے اے حرم بنایا ہے ، آؤ اس گھر کی طرف اور اس کا طواف کرو۔ اب یہ اللہ کی دی ہوئی برکت نہیں تو اور کیا ہے کہ 25 صدیوں سے یہ جگہ عرب کا مرکز بنی ہوئی ہے ، سخت بد امنی کے ماحول میں ملک کا صرف یہی گوشہ ایسا ہے جہاں امن میسر ہے، اس کو عرب کا بچہ بچہ احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہے ، اور ہر سال ہزار ہا انسان اس کے طواف کے لیے چلے آتے ہیں۔ اسی نعمت کا ثمرہ تو ہے کہ عرب کے سردار بنے ہوئے ہو اور دنیا کی تجارت کا ایک بڑا حصہ تمہارے قبضے میں ہے ۔ اب کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ جس خدا نے یہ نعمت تمہیں بخشی ہے۔ اس سے منحرف اور باغی ہو کر تو تم پھول پھولو گے مگر اس کے دین کی پیروی اختیار کرتے ہی بر باد ہو جاؤ گے؟
وَكَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ بَطِرَتْ مَعِیْشَتَهَا فَتِلْكَ مَسٰكِنُهُمْ لَمْ تُسْكَنْ مِّنْ بَعْدِهِمْ اِلَّا قَلِیْلًا ؕ وَكُنَّا نَحْنُ الْوٰرِثِیْنَ
اور کتنی ہی ایسی بستیاں ہم تباہ کر چکے ہیں جن کے لوگ اپنی معیشت پر اِترا گئے تھے۔ سو دیکھ لو، وہ ان کے مسکن پڑے ہوئے ہیں جن میں ان کے بعد کم ہی کوئی بسا ہے، آخر کار ہم ہی وارث ہو کر رہے۔82
یہ ان کے عذر کا دوسرا جواب ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ جس مال و دولت اور خوشحالی پر تم اِترائے ہوئے ہو، اور جس کے کھوئے جانے کے خطرے سے باطل پر جمنا اور حق سے منہ موڑنا چاہتے ہو، یہی چیز کبھی عاد اور ثمود اور سبا اور مدین اور قوم لوط کے لوگوں کو بھی حاصل تھی۔ پھر کیا یہ چیز ان کو تباہی سے بچا سکی؟ آخر معیارِ زندگی کی بلندی ہی تو ایک مقصُود نہیں ہے کہ آدمی حق و باطل سے بے نیاز ہو کر بس اسی کے پیچھے پڑا رہے اور راہِ راست کو صرف اس لیے قبول کرنے سے انکار کر دے کہ ایسا کرنے سے یہ گوہر مقصود ہاتھ سے جانے کا خطرہ ہے ۔ کہا تمہارے پاس اس کی کوئی ضمانت ہے کہ جن گمراہیوں اور بدکاریوں نے پچھلی قوموں کو تباہ کیا انہی پر اصرار کر کے تم بچے رہ جاؤ گے اور ان کی طرح تمہاری شامت کبھی نہ آئے گی؟
وَمَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰی حَتّٰی یَبْعَثَ فِیْۤ اُمِّهَا رَسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا وَمَا كُنَّا مُهْلِكِی الْقُرٰۤی اِلَّا وَاَهْلُهَا ظٰلِمُوْنَ
اور تیرا ربّ بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہ تھا جب تک کہ ان کے مرکز میں ایک رسُول نہ بھیج دیتا جو ان کو ہماری آیات سُناتا۔ اور ہم بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے رہنے والے ظالم نہ ہو جاتے۔83
یہ ان کے عذر کا تیسرا جواب ہے۔ پہلے جو قومیں تباہ ہوئیں ان کے لوگ ظالم ہو چکے تھے ، مگر خدا نے ان کو تباہ کرنے سے پہلے اپنے رسول بھیج کر انہیں متنبہ کیا، اور جب ان کی تنبیہ پر بھی وہ اپنی کج رہی سے باز نہ آئے تو انہیں ہلاک کر دیا ۔ یہی معاملہ اب تمہیں در پیش ہے۔ تم بھی ظالم ہو چکے ہو، اور ایک رسول تمہیں بھی متنبہ کرنے کے لیے آگیا ہے۔ اب تم کفر و انکار کی روش اختیار کر کے اپنے عیش اور اپنی خوشحالی کو بچاؤ گے نہیں بلکہ اُلٹا خطرے میں ڈالو گے۔ جس تباہی کا تمہیں اندیشہ ہے وہ ایمان لانے سے نہیں بلکہ انکار کرنے سے تم پر آئے گی۔
وَمَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَزِیْنَتُهَا وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّاَبْقٰی ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ
تم لوگوں کو جو کچھ بھی دیا گیا ہے وہ محض دُنیا کی زندگی کا سامان اور اس کی زینت ہے، اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ اس سے بہتر اور باقی تر ہے کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے؟
اَفَمَنْ وَّعَدْنٰهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِیْهِ كَمَنْ مَّتَّعْنٰهُ مَتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ثُمَّ هُوَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ
بھلا وہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کیا ہو اور وہ اسے پانے والا ہو کبھی اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جسے ہم نے صرفِ حیات دنیا کا سروسامان دے دیا ہو اور پھر وہ قیامت کے روز سزا کے لیے پیش کیا جانے والا ہو؟84
یہ ان کا عذر کا چوتھا جواب ہے۔ اس جواب کو سمجھنے کے لیے پہلے دو باتیں اچھی طرح ذہن نشین ہو جانی چاہییں: اول یہ کہ دنیا کی موجودہ زندگی ، جس کی مقدار کسی کے لیے بھی چند سالوں سے زیادہ نہیں ہوتی، محض ایک سفر کا عارضی مرحلہ ہے ۔ا صل زندگی جو ہمیشہ قائم رہنے والی ہے ، آگے آنی ہے۔ موجودہ عارضی زندگی میں انسان خواہ کتنا ہی سرو سامان جمع کر لے اور چند سال کیسے ہی عیش کے ساتھ بسر کر لے، بہر حال اسے ختم ہونا ہے اور یہاں کاسب سرو سامان آدمی کو یونہی چھوڑ کر اٹھ جانا ہے ۔ اس مختصر سے عرصہ حیات کا عیش اگر آدمی کو اس قیمت پر حاصل ہوتا ہو کہ آئندہ کی ابدی زندگی میں وہ دائماً خستہ حال اور مبتلائے مصیبت رہے، تو کوئی صاحبِ عقل آدمی یہ خسارے کا سودا نہیں کر سکتا۔ اس کے مقابلہ میں ایک عقل مند آدمی اس کو ترجیح دے گا کہ یہاں چند سال مصیبتیں بھگت لے ، مگر یہاں سے وہ بھلائیاں کما کر لے جائے جو بعد کی دائمی زندگی میں اس کے لیے ہمشگی کی موجب بنیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ اللہ کا دین انسان سے یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ وہ اس دنیا کی متاع ِ حیات سے استفادہ نہ کرے اور اس کی زینت کو خواہ مخواہ لات ہی ماردے۔ اس کا مطالب ی صرف یہ ہےکہ وہ دنیا پر آخرت کو ترجیح دے، کیونکہ دنیا فانی ہے اور آخرت باقی، اور دنیا کا عیش کم تر ہے اور آخرت کا عیش بہتر۔ اس لیے دنیا کی وہ متاع اور زینت تو آدمی کو ضرور حاصل کرنی چاہیے جو آخرت کی باقی رہنے والی زندگی میں اسے سرخرو کرے، یا کم از کم یہ کہ اسے وہاں کے ابدی خسارے میں مبتلا نہ کرے۔ لیکن جہاںمعاملہ مقابلے کا آپڑے ، یعنی دنیا کی کامیابی اور آخرت کی کامیابی ایک دوسرے کی ضد ہو جائیں، وہاں دینِ حق کا مطالبہ انسا ن یہ ہے ، اور یہی عقل سلیم کا مطالبہ بھی ہے، کہ آدمی دنیا کو آخرت پر قربان کر دے اور اس دنیا کی عارضی متاع و زینت کی خاطر وہ راہ ہر گز اختیار نہ کرے جس سے ہمیشہ کے لیے اس کی عاقبت خراب ہوتی ہو۔ ان دوباتوں کو نگاہ میں رکھ کر دیکھیے کہ اللہ تعالیٰ اوپر کے فقروں میں کفار مکہ ے کیا فرماتا ہے۔ وہ یہ نہیں فرماتا کہ تم اپنی تجارت لپیٹ دو۔ اپنے کاروبار ختم کر دو، اور ہمارے پیغمبر کو مان کر فقیر ہو جاؤ۔ بلکہ وہ یہ فرماتا ہے کہ یہ دنیا کی دولت جس پر تم ریجھے ہوئے ہو، بہت تھوڑی دولت ہے اور بہت تھوڑے دنوں کے لیے تم اس کا فائدہ اس حیاتِ دنیا میں اٹھا سکتے ہو۔ اس کے بر عکس اللہ کے ہاں جو کچھ ہے وہ اس کی بہ نسبت کم و کیف(Quality اور Quantity ) میں بھی بہتر ہے اور ہمیشہ باقی رہنے والا بھی ہے ۔ اس لیے تم سخت حماقت کرو گے اگر اِس عارضی زندگی کی محدود نعمتوں سے متمتع ہونے کی خاطر وہ روش اختیار کرو جس کا نتیجہ آخرت کے دائمی خسارے کی شکل میں تمہیں بھگتنا پڑے۔ تم خود مقابلہ کر کے دیکھ لو کہ کامیاب آیا وہ شخص ہے جو محنت و جانفشانی کے ساتھ اپنے رب کی خدمت بجا لائے اور پھر ہمشہ کے لیے اس کے انعام سے سرفراز ہو، یا وہ شخص جو گرفتار ہو کر مجرم کی حیثیت سے خدا کی عدالت میں پیش کیا جانے والا ہو اور گرفتاری سے پہلے محض چند روز حرم کی دولت سے مزے لوٹ لینے کا اس کو موقع مل جائے؟
وَیَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ
اور (بھُول نہ جائیں یہ لوگ)اُس دن کو جب کہ وہ اِن کو پکارے گا اور پُوچھے گا”کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کا تم گمان رکھتے تھے؟“85
یہ تقریر بھی اسی چوتھے جواب کے سلسلہ میں ہے، اور اس کا تعلق اوپر کی آیت کے آخری فقرے سے ہے۔ اس میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ محض اپنے دنیوی مفاد کی خاطر شرک و بُت پرستی اور انکارِ نبوت کی جس گمراہی پر یہ لوگ اصرار کر رہے ہیں، آخرت کی ابدی زندگی میں اس کا کیسا بُرا نتیجہ انہیں دیکھنا پڑے گا۔ اس سے یہ احساس دلانا مقصود ہے کہ فرض کرو دنیا میں تم پر کوئی آفت نہ بھی آئے اور یہاں کی مختصر سی زندگی میں تم حیاتِ دنیا کی متاع و زینت سے خوب بہرہ اندوز بھی ہو لو، تب بھی اگر آخرت میں اس کا انجام یہی کچھ ہونا ہے تو خود سوچ لو کہ یہ نفع کا سودا ہے جو تم کر رہے ہو، یا سراسر خسارے کا سودا؟
قَالَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَغْوَیْنَا اَغْوَیْنٰهُمْ كَمَا غَوَیْنَا تَبَرَّاْنَاۤ اِلَیْكَ ؗ مَا كَانُوْۤا اِیَّانَا یَعْبُدُوْنَ
اس سے مراد وہ شیاطین جِن و انس ہیں جن کو دنیا میں خدا کا شریک بنایا گیا تھا، جن کی بات مقابلے میں خدا اور اس کے رسولوں کی بات کو روکا گیا تھا، اور جن کے اعتماد پر صراط مستقیم کو چھوڑ کر زندگی کے غلط راستے اختیار کیے گئے تھے۔ ایسے لوگوں کو خواہ کسی نے الٰہ اور رب کہا ہو یا نہ کہا ہو،بہر حال جب ان کی اطاعت و پیروی اُس طرح کی گئی جیسی خدا کی ہونی چاہیے تو لازماً انہیں خدائی میں شریک کیا گیا۔(تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، الکہف حاشیہ 5۰)۔
یعنی ہم نے زبر دستی اِن کو گمراہ نہیں کیا تھا۔ ہم نے نہ اِن سے بینائی اور سماعت سلب کی تھی، نہ ان سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں چھین لی تھی، اور نہ ایسی ہی کوئی صورت پیش آئی تھی کہ یہ توارہِ راست کی طرف جانا چاہتے ہوں مگر ہم ان کا ہاتھ پکڑ کر جبراً انہیں غلط راستے پر کھینچ لے گئے ہوں۔ بلکہ جس طرح ہم خود اپنی مرضی سے گمراہ ہوئے تھے اسی طرح اِن کے سامنےبھی ہم نے گمراہی پیش کی اور انہوں نے اپنی مرضی سے اس کو قبول کیا۔ لہٰذا ہم ان کی ذمہ داری قبول نہیں کرتے۔ ہم اپنے فعل کے ذمہ دار ہیں اور یہ اپنے فعل کے ذمہ دار۔ یہاں یہ لطیف نکتہ قابلِ توجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سوال تو کرے گا شریک ٹھیرانے والوں سے ۔ مگر قبل اس کے کہ یہ کچھ بولیں، جواب دینے لگیں گے وہ جن کو شریک ٹھیرا یا گیا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب عام مشرکین سے یہ سوال کیا جائے گا تو ان کے لیڈر اور پیسوا محسوس کریں گے کہ اب آگئی ہماری شامت ۔ یہ ہمارے سابق پروضرور کہیں گے کہ یہ لوگ ہماری گمراہی کے اصل ذمہ دار ہیں۔ اس لیے پیرووں کے بولنے سے پہلے وہ خود سبقت کر کے اپنی صفائی پیش کرنی شروع کر دیں گے۔
یعنی یہ ہمارے نہیں بلکہ اپنے ہی نفس کے بندے بنے ہوئے تھے۔
وَقِیْلَ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَرَاَوُا الْعَذَابَ لَوْ اَنَّهُمْ كَانُوْا یَهْتَدُوْنَ
پھر اِن سے کہا جائے گا کہ پکارو اب اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو۔89 یہ انہیں پکاریں گے مگر وہ اِن کو کوئی جواب نہ دیں گے۔ اور یہ لوگ عذاب دیکھ لیں گے۔ کاش یہ ہدایت اختیار کرنے والے ہوتے
یعنی انہیں مدد کے پکار و۔ دنیا میں تو تم نے ان پر بھروسا کر کے ہماری بات روکی تھی۔ اب یہاں ان سے کہو کہ آئیں اور تمہاری مدد کریں اور تمہیں عذاب سے بچائیں۔
وَیَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ مَاذَاۤ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِیْنَ
اور (فراموش نہ کریں یہ لوگ) وہ دن جبکہ وہ اِن کو پکارے گا اور پوچھے گا کہ "جو رسول بھیجے گئے تھے انہیں تم نے کیا جواب دیا تھا؟"
فَعَمِیَتْ عَلَیْهِمُ الْاَنْۢبَآءُ یَوْمَىِٕذٍ فَهُمْ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ
اُس وقت کوئی جواب اِن کو نہ سُوجھے گا اور نہ یہ آپس میں ایک دُوسرے سے پوچھ ہی سکیں گے
فَاَمَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَعَسٰۤی اَنْ یَّكُوْنَ مِنَ الْمُفْلِحِیْنَ
البتہ جس نے آج توبہ کر لی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کیے وہی یہ توقع کر سکتا ہے کہ وہاں فلاح پانے والوں میں سے ہو گا
وَرَبُّكَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَیَخْتَارُ ؕ مَا كَانَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِكُوْنَ
تیرا ربّ پیدا کرتا ہے جو کچھ چاہتا ہے اور (وہ خود ہی اپنے کام کے لیے جسے چاہتا ہے)منتخب کر لیتا ہے، یہ انتخاب اِن لوگوں کے کرنے کا کام نہیں ہے،90 اللہ پاک ہے اور بہت بالاتر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں
یہ ارشاد در اصل شرک کی تردید میں ہے ۔ مشرکین نے اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے جو بے شمار معبود اپنے لیے بنا لیے ہیں، اور ان کو اپنی طرف سے جو اوصاف، مراتب اور مناصب سونپ رکھے ہیں ، اس پر اعتراض کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اپنے پیدا کیے ہوئے انسانوں، فرشتوں ، جِنوں اور دوسرے بندوں میں سے ہم خود جس کو جیسے چاہتے ہیں اوصاف، صلاحیتیں اور طاقتیں بخشتے ہیں اور جو کام جس سے لینا چاہیں مشکل کشا ، جیسے چاہیں گنج بخش اور جسے چاہیں فریاد رس قرار دے لیں؟ جسے چاہیں بارش برسانے کا مختار، جسے چاہیں روزگار یا اولاد بخشنے والا، جسے چاہیں بیماری و صحت کا مالک بنا دیں؟ جسے چاہیں میری خدائی کے کسی حصے کا فرماں روا ٹھیرا لیں؟ اور میرے اختیارات میں جو کچھ جس کو چاہیں سونپ دیں؟ کوئی فرشتہ ہو یا جن یا نبی یا ولی ، بہر حال جو بھی ہے ہمارا پیدا کیا ہوا ہے۔ جو کمالات بھی کسی کو ملے ہیں ہماری عطا وبخشش سے ملے ہیں۔ اور جو خدمت بھی ہم نے جس سے لینی چاہی ہے لی ہے ۔ اس برگزیدگی کے یہ معنی آخر کیے ہوگئے کہ یہ بندے بندگی کے مقام سے اٹھا کر خدائی کے مرتبے پر پہنچا دیے جائیں اور خدا کو چھوڑ کر ان کے آگے سر نیاز جھکا دیا جائے، ان کو مدد کے لیے پکارا جانے لگے، ان سے حاجتیں طلب کی جانے لگیں، انہیں قسمتوں کا بنانے اور بگاڑنے والا سمجھ لیا جائے، اور انہیں خدائی صفات و اختیارات کا حامل قرار دے دیا جائے؟
وَرَبُّكَ یَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَمَا یُعْلِنُوْنَ
تیرا ربّ جانتا ہے جو کچھ یہ دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں اور جو کچھ یہ ظاہر کرتے ہیں۔91
اس سلسلہ کلام میں یہ بات جس مقصد کے لیے ارشاد فرمائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ایک شخص یا گروہ دنیا میں لوگوں کے سامنے یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ جس گمراہی کو اس نے اختیار کیا ہے اس کی صحت پر وہ بڑے معقول وجوہ سے مطمئن ہے ، اور اس کے خلاف جو دلائل دیے گئے ہیں ان سے فی الحقیقت اس کا اطمینان نہیں ہوا ہے، اور اس گمراہی کو اس نے کسی بُرے جذبے سے نہیں بلکہ خالص نیک نیتی کے ساتھ اختیار کیا ہے ، اور اس کے سامنے کبھی کوئی ایسی چیز نہیں آئی ہے جس ے اس کی غلطی اس پر واضح ہو۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے سامنے اس کی یہ بات نہیں چل سکتی۔ وہ صرف ظاہر ہی کو نہیں دیکھتا۔ اس کے سامنے تو آدمی کے دل و دماغ کا ایک ایک گوشہ کھلا ہوا ہے ۔ وہ اس کے علم اور احساسات اور جذبات اور خواہشات اور نیت اور ضمیر، ہر چیز کو براہ ِ راست جانتا ہے ۔ اس کو معلوم ہے کہ کس شخص کو کس کس وقت کن ذرائع سے تنبیہ ہوئی ، کن کن راستوں سے حق پہنچا، کس کس طریقے سے باطل کا باطل ہونا اس پر کھلا، اور پھر وہ اصل محرکات کیا تھے جن کی بنا پر اس نے اپنی گمراہی کو ترجیح دی اور حق سے منہ موڑا۔
وَهُوَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ؕ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاُوْلٰی وَالْاٰخِرَةِ ؗ وَلَهُ الْحُكْمُ وَاِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ
وہی ایک اللہ ہے جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں اسی کے لیے حمد ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، فرماں روائی اسی کی ہے اور اسی کی طرف تم سب پلٹائے جانے والے ہو
قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ الَّیْلَ سَرْمَدًا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِضِیَآءٍ ؕ اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ
اے نبیؐ، اِن سے کہو کبھی تم لوگوں نے غور کیا کہ اگر اللہ قیامت تک تم پر ہمیشہ کے لیے رات طاری کر دے تو اللہ کے سوا وہ کونسا معبود ہے جو تمہیں روشنی لا دے؟ کیا تم سُنتے نہیں ہو؟
قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِلَیْلٍ تَسْكُنُوْنَ فِیْهِ ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ
اِن سے پوچھو، کبھی تم نے سوچا کہ اگر اللہ قیامت تک تم پر ہمیشہ کے لیے دن طاری کر دے تو اللہ کے سوا وہ کونسا معبُود ہے جو تمہیں رات لا دے تاکہ تم اس میں سکون حاصل کر سکو؟ کیا تم کو سُوجھتا نہیں؟
وَمِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ وَالنَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ
یہ اسی کی رحمت ہے کہ اس نے تمہارے لیے رات اور دن بنائے تاکہ تم (رات میں) سکون حاصل کرو اور (دن کو) اپنے رب کا فضل تلاش کرو، شاید کہ تم شکر گزار بنو
وَیَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ
(یاد رکھیں یہ لوگ) وہ دن جبکہ وہ انہیں پکارے گا پھر پوچھے گا "کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کا تم گمان رکھتے تھے؟"
وَنَزَعْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا فَقُلْنَا هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ فَعَلِمُوْۤا اَنَّ الْحَقَّ لِلّٰهِ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ
یعنی وہ نبی جس نے اس اُمت کو خبرادار کیا تھا، یا انبیاء کے پیرووں میں سے کوئی ایسا ہدایت یافتہ انسان جس نے اس امت میں تبلیغ ِ حق کا فریضہ انجام دیا تھا، یا کوئی ایسا ذریعہ جس سے اس امت تک پیغامِ حق پہنچ چکا تھا۔
یعنی اپنی صفائی میں کوئی ایسی حجت پیش کرو جس کی بنا پر تمہیں معاف کیا جاسکے۔ یا تو یہ ثابت کرو کہ تم جس شرک ، جس انکارِ آخرت اور جس انکارِ نبوت پر قائم تھے وہ بر حق تھا اور تم نے معقول وجوہ کی بنا پر یہ مسلک اختیار کیا تھا۔ یا یہ نہیں تو پھر کم از کم یہی ثابت کر دو کہ خدا کی طرف سے تم کواس غلطی پر متنبہ کر نے اور ٹھیک بات تم تک پہنچانے کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا تھا۔
اِنَّ قَارُوْنَ كَانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰی فَبَغٰی عَلَیْهِمْ ۪ وَاٰتَیْنٰهُ مِنَ الْكُنُوْزِ مَاۤ اِنَّ مَفَاتِحَهٗ لَتَنُوْٓاُ بِالْعُصْبَةِ اُولِی الْقُوَّةِ اِذْ قَالَ لَهٗ قَوْمُهٗ لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ
یہ واقعہ بھی کفار مکہ کے اُسی عذر کے جواب میں بیان کیا جا رہا ہے جس پر یہ آیت57 سے مسلسل تقریر ہو رہی ہے ۔ اس سلسلہ میں یہ بات ملحوظ خاطررہے کہ جن لوگوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت سے قومی مفاد پر ضرب لگنے کا خطرہ ظاہر کیاتھا وہ در اصل مکہ کے بڑے بڑے سیٹھ، ساہو کار اور سرمایہ دار تھے جنہیں بین الاقوامی تجارت اور سود خواری نے قارونِ وقت بنا رکھا تھا۔ یہ لوگ اپنی جگہ یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ اصل حق بس یہ ہےکہ زیادہ سے زیادہ دولت سمیٹو۔ اس مقصد پر جس چیز سے بھی آنچ آنے کا اندیشہ ہو وہ سراسر باطل ہے جسے کسی حال میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری طرف عوام الناس دولت کے ان میناروں کو آرزوں بھری نگاہوں سے دیکھتے تھے اور ان کی غایت تمنا بس یہ تھی کہ جس بلندی پر یہ لوگ پہنچے ہوئے ہیں، کاش ہمیں بھی اس تک پہنچنا نصیب ہو جائے۔ اس زر پرستی کے ماحول میں یہ دلیل بڑی وزنی سمجھی جا رہی تھی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جس توحید و آخرت کی، اور جس ضابطہ اخلاق کی دعوت دے رہے ہیں اسے مان لیا جائے تو قریش کی عظمت کا یہ فلک بوس قصر زمین پر آ رہے گا اور تجارتی کاروبار تو درکنار جینے تک کے لالے پڑ جائیں گے۔
قارون، جس کا نام بائیبل اور تلمود میں قورح (Korah ) بیان کیا گیا ہے ، حضرت موسیٰ علیہ السلام کا چچا زاد بھائی تھا۔ بائیبل کی کتاب خروج (باب۶۔ آیت 21-18) میں جو نسب نامہ درج ہے اس کی رو سے حضرت موسیٰؑ اور قارون کے والد باہم سگے بھائی تھے۔ قرآن مجید میں دوسری جگہ یہ بتایا گیا ہے کہ یہ شخص بنی اسرائیل میں سے ہونے کے باوجود فرعون کے ساتھ جا ملا تھا اور اس کا مقرب بن کر اس حد کو پہنچ گیا تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کی دعوت کے مقابلے میں فرعون کے بعد مخالفت کے جو دو سب سے بڑے سرغنے تھے ان میں سے ایک یہی قارون تھا: وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسیٰ بِاٰ یٰتِنَا وَسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ ، اِلیٰ فِرْعَوْنَ وَھَامَانَ وَقَارُوْنَ فَقَالُوْا سٰحِرٌ کَذَّابٌ o (المومن۔ آیت 24-23) ہم نے موسیٰؑ کو اپنی نشانیوں اور کھلی دلیل کے ساتھ فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف بھیجا ، مگر انہوں نے کہا کہ یہ ایک جادو گر ہے سخت جھوٹا۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ قارون اپنی قوم سے باغی ہو کر اُس دشمن طاقت کا پٹھو بن گیا تھا جو بنی اسرائیل کو جڑ بنیاد سے ختم کر د ینے پر تُلی ہوئی تھی۔ اور اس قومی غداری کی بدولت اس نے فرعونی سلطنت میں یہ مرتبہ حاصل کر لیا تھا کہ حضرت موسیٰؑ فرعون کے علاوہ مصر کی جن دو بڑی ہستیوں کی طرف بھیجے گئے تھے وہ دو ہی تھیں، ایک فرعون کا وزیر ہامان، اور دوسرا یہ اسرائیلی سیٹھ۔ باقی سب اعیان سلطنت اور درباری ان سے کم تر درجے میں تھے جن کا خاص طور پر نام لینے کی ضرورت نہ تھی۔ قارون کی یہی پوزیشن سورۂ عنکبوت کی آیت نمبر 39 میں بھی بیان کی گئی ہے۔
بائیبل (گنتی، باب1۶) میں اس کا جو قصہ بیان کیا گیا ہے اس میں اس شخص کی دولت کا کوئی ذکر نہیں ہے، مگر یہودی روایات یہ بتاتی ہیں کہ یہ شخص غیر معمولی دولت کا مالک تھا حتیٰ کہ اس کےخزانوں کی کنجیاں اُٹھانے کے لیے تین سو خچر درکار ہوتے تھے(جیوش انسائیکلو پیڈیا، ج7،ص55۶) یہ بیان اگر چہ انتہائی مبالغہ آمیز ہے، لیکن اس سے یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ اسرائیلی روایات کی رو سے بھی قارون اپنے وقت کا بہت بڑا دولت مند آدمی تھا۔
وَابْتَغِ فِیْمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَلَا تَنْسَ نَصِیْبَكَ مِنَ الدُّنْیَا وَاَحْسِنْ كَمَاۤ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَیْكَ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ
جو مال اللہ نے تجھے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر بنانے کی فکر کر اور دُنیا میں سے بھی اپنا حصہ فراموش نہ کر احسان کر جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش نہ کر، اللہ مفسدوں کو پسند نہیں کرتا"
قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰی عِلْمٍ عِنْدِیْ ؕ اَوَلَمْ یَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَهْلَكَ مِنْ قَبْلِهٖ مِنَ الْقُرُوْنِ مَنْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً وَّاَكْثَرُ جَمْعًا ؕ وَلَا یُسْـَٔلُ عَنْ ذُنُوْبِهِمُ الْمُجْرِمُوْنَ
اصل الفاظ ہیں اِنَّمَآ اُوْتِیْتُہٗ عَلیٰ عِلْمٍ عِنْدِیْ۔ اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں: ایک یہ کہ میں نے جو کچھ پایا ہے اپنی قابلیت سے پایا ہے ، یہ کوئی فضل نہیں ہے جو استحقاق کے بجائے احسان کے طور پر کسی نے مجھ کو دیا ہو اور اب مجھے اس کا شکریہ اس طرح ادا کرنا ہو کہ جن نا اہل لوگوں کو کچھ نہیں دیا گیا ہے انہیں میں فضل و احسان کے طورپر اس میں سے کچھ دوں ، یا کوئی خیر خیرات اس غرض کے لیے کر وں کہ یہ فضل مجھ سے چھین نہ لیا جائے۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ میرے نزدیک تو خدا نے یہ دولت جو مجھے دی ہےمیرے اوصاف کو جانتے ہوئے دی ہے۔ اگر میں اس کی نگاہ میں ایک پسندیدہ انسان نہ ہوتا تو یہ کچھ مجھے کیوں دیتا۔ مجھ پر اس کی نعمتوں کی بارش ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ میں اس کا محبوب ہوں اور میری روش اس کو پسند ہے۔
یعنی یہ شخص جو بڑا عالم و فاضل اور دانا و خبر بنا پھر رہا تھا اور اپنی قابلیت کا یہ کچھ غَرَّہ رکھتا تھا ، اس کے علم میں کیا یہ بات کبھی نہ آئی تھی کہ اُس سے زیادہ دولت و حشمت اور قوت و شوکت والے اس سے پہلے دنیا میں گزر چکے ہیں اور اللہ نے انہیں آخر کار تباہ و برباد کر کے رکھ دیا؟ اگر قابلیت اور ہنر مندی ہی دنیوی عروج کے لیے کوئی ضمانت ہے تو ان کی یہ صلاحیتیں اُ س وقت کہاں چلی گئی تھیں جب وہ تباہ ہوئے؟ اور اگر کسی کو دنیوی عروج نصیب ہونا لازماً اسی بات کا ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص سے خوش ہے اور اس کے اعمال و اوصاف کو پسند کرتا ہے تو پھر اُن لوگوں کی شامت کیوں آئی؟
یعنی مجرم تو یہی دعویٰ کیا کرتے ہیں کہ ہم بڑے اچھے لوگ ہیں ۔ وہ کب مانا کرتے ہیں کہ ان کے اندر کوئی برائی ہے ۔ مگر ان کی سزا ان کے اپنے اعترا پر منحصر نہیں ہوتی۔ انہیں جب پکڑا جاتا ہے تو ان سے پوچھ کر نہیں پکڑا جاتا کہ بتاؤ تمہارے گناہ کیا ہیں۔
فَخَرَجَ عَلٰی قَوْمِهٖ فِیْ زِیْنَتِهٖ ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا یٰلَیْتَ لَنَا مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ قَارُوْنُ اِنَّهٗ لَذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ
ایک روز وہ اپنی قوم کے سامنے اپنے پُورے ٹھاٹھ میں نکلا جو لوگ حیات دنیا کے طالب تھے وہ اسے دیکھ کر کہنے لگے "کاش ہمیں بھی وہی کچھ ملتا جو قارون کو دیا گیا ہے، یہ تو بڑا نصیبے والا ہے"
وَقَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَیْلَكُمْ ثَوَابُ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا وَلَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الصّٰبِرُوْنَ
مگر جو لوگ علم رکھنے والے تھے وہ کہنے لگے”افسوس تمہارے حال پر ، اللہ کا ثواب بہتر ہے اُس شخص کے لیے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے، اور یہ دولت نہیں ملتی مگر صبر کرنے والوں کو۔“100
یعنی یہ سیرت، یہ انداز فکر اور یہ ثوابِ الہٰی کی بخشش صرف انہی لوگوں کے حصہ میں آتی ہے جن میں اتنا تحمل اور اتنی ثابت قدمی موجود ہو کہ حالا طریقے ہی اختیار کرنے پر مضبوطی کےساتھ جمےرہیں ، خوان ان سے صرف چٹنی روٹی میسر ہو کہ کروڑ پتی بن جانا نصیب ہو جائے، اور حرام طریقوں کی طرف قطعاً مائل نہ ہوں خواہ ان سے دنیا بھر کے فائدے سمیٹ لینے کا موقع مل رہا ہو۔ اس آیت میں اللہ کےثواب سے مراد ہے وہ رزقِ کریم جو حدود اللہ کے اندر رہتے ہوئے محنت و کوشش کرنے کے نتیجے میں انسان کو دنیا اور آخرت میں نصیب ہو۔ اور صبر سے مراد ہے اپنے جذبات اور خواہشت پر قابو رکھنا، لالچ اور حرص وآز کے مقابلے میں ایمانداری اور راستبازی پر ثابت قدم رہنا، صداقت و دیانت سے جو نقصان بھی ہوتا ہو یا جو فائدہ بھی ہاتھ سے جاتا ہو اسے برداشت کرلینا، نا جائز تدبیروں سے جو منفعت بھی حاصل ہو سکتی ہو اسے ٹھوکر مار دینا ، حلال کی روزی خواہ بقدر سدِّر مق ہی ہو اس پر قانع و مطمئن رہنا، حرام خوروں کے ٹھاٹھ باٹھ دیکھ کر رشک و تمنا کے جذبات سے بے چین ہونے کے بجائے اس پر ایک نگاہِ غلط انداز بھی نہ ڈالنا اور ٹھنڈے دل سے یہ سمجھ لینا کہ ایک ایماندارآدمی کےلیے اِس چمکدار گندگی کی بہ نسبت وہ بے رونق طہارت ہی بہتر ہے جو اللہ نے اپنے فضل سے اس کو بخشی ہے ۔ رہا یہ ارشاد کہ ”یہ دولت نہیں ملتی مگر صبر کرنے والوں کو “تو اس دولت سے مراد اللہ کا ثواب بھی ہے اور وہ پاکیزہ ذہنیت بھی جس کی بنا پر آدمی ایمان و عمل صالح کے ساتھ فاقہ کشی کر لینے کو اس سے بہتر سمجھتا ہے کہ بے ایمانی اختیار کر کے ارب پتی بن جائے۔
فَخَسَفْنَا بِهٖ وَبِدَارِهِ الْاَرْضَ ۫ فَمَا كَانَ لَهٗ مِنْ فِئَةٍ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِیْنَ
آخر کار ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دَھنسا دیا پھر کوئی اس کے حامیوں کا گروہ نہ تھا جو اللہ کے مقابلہ میں اس کی مدد کو آتا اور نہ وہ خود اپنی مدد آپ کر سکا
وَاَصْبَحَ الَّذِیْنَ تَمَنَّوْا مَكَانَهٗ بِالْاَمْسِ یَقُوْلُوْنَ وَیْكَاَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَیَقْدِرُ لَوْلَاۤ اَنْ مَّنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا لَخَسَفَ بِنَا ؕ وَیْكَاَنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ
اب وہی لوگ جو کل اس کی منزلت کی تمنا کر رہے تھے کہنے لگے”افسوس، ہم بھُول گئے تھے کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کا رزق چاہتا ہے کشادہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے نَپا تُلا دیتا ہے۔101 اگر اللہ نے ہم پر احسان نہ کیا ہوتا تو ہمیں بھی زمین میں دَھنسا دیتا۔ افسوس ہم کو یاد نہ رہا کہ کافر فلاح نہیں پایا کرتے۔“102
یعنی اللہ کی طرف سے رزق کشادگی و تنگی جو کچھ بھی ہوتی ہے اس کی مثیت کی بنا پر ہوتی ہے اور اس مثیت میں اس کی کچھ دوسری ہی مصلحتیں کار فرما ہوتی ہیں۔ کسی کو زیادہ رزق دینے کے معنی لازماً یہی نہیں ہیں کہ اللہ اس سے بہت خوش ہے اور اسے انعام دے رہا ہے ۔ بسا اوقات ایک شخص اللہ کا نہایت مغضوب ہوتا ہے ۔ مگر وہ اسے بڑی دولت عطا کرتا چلا جاتا ے ، یہاں تک کہ آخر کار یہی دولت اس کےاوپر اللہ کا سخت عذاب لے آتی ہے ۔ اس کے برعکس اگر کسی کا رزق تنگ ہے تو اس کے معنی لازماً یہی نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہے اور اسے سزا دے رہا ہے ۔ اکثر نیک لوگوں پر تنگی اس کے با وجود رہتی ہے کہ وہ اللہ کے محبوب ہوتے ہیں، بلکہ بارہا یہی تنگی ان کےلیے خدا کی رحمت ہوتی ہے ۔ اس حقیقت کو نہ سمجھنے ہی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی اُن لوگوں کی خوشحالی کو رشک کی نگاہ سے دیکھتا ہے جو دراصل خدا کے غضب کے مستحق ہوتے ہیں۔
یعنی ہمیں یہ غلط فہمی تھی کہ دنیوی خوشحالی اور دولت مندی ہی فلاح ہے ۔ اسی وجہ سے ہم یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ قارون بڑی فلاح پا رہا ہے ۔ مگر اب پتہ چلا کہ حقیقی فلاح کسی اور ہی چیزکا نام ہے اور وہ کافروں کو نصیب نہیں ہوتی۔ قارون کے قصے کا یہ سبق آموز پہلو صرف قرآن ہی میں بیا ن ہوا ہے ۔ بائیبل اور تلمود دونوں میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے ۔ البتہ دونوں کتابوں میں جو تفصیلات بیان ہوئی ہیں ان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل جب مصر سے نکلے تو یہ شخص بھی اپنی پارٹی سمیت ان کےساتھ نکلا، اور پھر اس نےحضرت موسیٰؑ و ہارون کےخلاف ایک سازش کی جس میں ڈھائی سو آدمی شامل تھے۔ آخر کار اللہ کا غضب اس پر نازل ہوا اور یہ اپنے گھر بار اور مال اسباب سمیت زمین میں دھنس گیا۔
تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَلَا فَسَادًا ؕ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ
مراد ہے جنت جو حقیقی فلاح کا مقام ہے۔
یعنی جو خدا کی زمین میں اپنی بڑائی قائم کرنے کے خواہاں نہیں ہیں۔ جو سرکش وجبار اور متکبرین کر نہیں رہتے بلکہ بندے بن کر رہتے ہیں اور خدا کے بندوں کو اپنا بندہ بنا کر رکھنے کی کوشش نہیں کرتے۔
فساد سے مراد انسانی زندگی کےنظام کا وہ بگاڑ ہے جو حق سے تجاوز کرنے کے نتیجے میں لازماً رونما ہوتا ہے ۔ خدا کی بندگی اور اس کے قوانین کی اطاعت سے نکل کر آدمی جو کچھ بھی کرتا ہے وہ سراسر فساد ہی فسا د ہے۔ اسی کا ایک جُز وہ فساد بھی ہے جو حرام طریقوں سے دولت سمیٹنے اور حرام راستوں میں خرچ کرنے سے برپا ہوتا ہے۔
یعنی ان لوگوں کے لیے جو خدا سے ڈرتے ہیں اور اس کی نافرمانی سے پرہیز کرتے ہیں۔
مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَا وَمَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزَی الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ
جو کوئی بھَلائی لے کر آئے گا اس کے لیے اس سے بہتر بھَلائی ہے، اور جو بُرائی لے کر آئے تو بُرائیاں کرنے والوں کو ویسا ہی بدلہ ملے گا جیسے عمل وہ کرتے تھے
اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّكَ اِلٰی مَعَادٍ ؕ قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ مَنْ جَآءَ بِالْهُدٰی وَمَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ
یعنی اس قرآن کو خلقِ خدا تک پہنچانے اورا س کی تعلیم دینے اوراس کی ہدایت کے مطابق دنیا کی اصلاح کی ذمہ داری تم پر ڈالی ہے۔
اصل الفاظ ہیں لَرَآدُّکَ اِلیٰ مَعَادٍ۔ ”تمہیں ایک معاد کی طرف پھیرنے والا ہے۔“ معاد کے لغوی معنی ہیں وہ مقام جس کی طرف آخر کار آدمی کو پلٹنا ہو۔ اور اسے نکرہ استعمال کرنے سے اس میں خود بخود یہ مفہوم پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ مقام بڑی شان اور عظمت کا مقام ہے۔ بعض مفسرین نے اس سے مراد جنت لی ہے۔ لیکن اسے صرف جنت کے ساتھ مخصوص کردینے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے۔ کیوں نہ اسے ویسا ہی عام رکھا جائے جیسا خود اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے ، تا کہ یہ وعدہ دنیا اور آخرت دونوں سے متعلق ہو جائے۔ سیاق عبارت کا اقتضاء بھی یہ ہے کہ اسے آخرت ہی میں نہیں اِس دنیا میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آخر کار بڑی شان و عظمت عطا کرنے کا وعدہ سمجھا جائے ۔ کفار ِ مکہ کے جس قول پر آیت نمبر 57 سے لے کر یہاں تک مسلسل گفتگو چلی آرہی ہے، اُس میں انہوں نے کہا تھا کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تم اپنے ساتھ ہمیں بھی لے ڈوبنا چاہتے ہو۔ اگر ہم تمہارا ساتھ دیں اور اس دین کو اختیار کر لیں تو عرب کی سر زمین میں ہمارا جینا مشکل ہو جائے ۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ اپنے نبیؐ سے فرماتا ہے کہ اے نبیؐ، جس خدا نے اس قرآن کی علم برداری کا بار تم پر ڈالا ہے وہ تمہیں برباد کرنے والا نہیں ہے، بلکہ تم کو اُس مرتبے پر پہنچانے والا ہے جس کا تصور بھی یہ لوگ آج نہیں کر سکتے۔ اور فی الواقع اللہ تعالیٰ نے چند ہی سال بعد حضورؐ کو اِس دنیا میں ، اُنہی لوگوں کی آنکھوں کے سامنے تمام ملک عرب پر ایسا مکمل اقتدار عطا کر کے دکھا دیا کہ آپ کی مزاحمت کرنے والی کوئی طاقت وہاں نہ ٹھیر سکی اور آپ کے دین کے سوا کسی دین کے لیے وہاں گنجائش نہ رہی۔ عرب کی تاریخ میں اس سے پہلے کوئی نظیر اس کی موجود نہ تھی کہ پورے جزیرۃ العرب پر کسی ایک شخص کی ایسی بے غل و غش بادشاہی قائم ہو گئی ہو کہ ملک بھر میں کوئی اس کا مد مقابل باقی نہ رہا ہو، کسی میں اس کے حکم سے سرتابی کا یارا نہ ہو، اور لوگ صرف سیاسی طور پر ہی اس کے حلقہ بگوش نہ ہوئے ہوں بلکہ سارے دینوں کو مٹا کر اسی ایک شخص نے سب کو اپنے دین کا پیرو بھی بنا لیا ہو۔ بعض مفسرین نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ سورۂ قصص کی یہ آیت مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرتے ہوئے راستہ میں نازل ہوئی تھی اور اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیؐ سے یہ وعدہ فرمایا تھا کہ وہ آپ کو پھر مکہ واپس پہنچائے گا ۔ لیکن اوّل تو اس کے الفاظ میں کوئی گنجائش اس امر کی نہیں ہے کہ ”معاد“ سے”مکّہ“ مراد لیا جائے ۔ دوسرے ، یہ سورۃ روایات کی رو سے بھی اور اپنے مضمون کی داخلی شہادت کے اعتبار سے بھی ہجرت حبشہ کے قریب زمانہ کی ہے اور یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ کئی سال بعد ہجرت ِ مدینہ کے راستہ میں اگر یہ آیت نازل ہوئی تھی تو اسے کس مناسبت سے یہاں اِس سیاق و سباق میں لا کر رکھ دیا گیا۔ تیسرے ، اِس سیاق و سباق کے اندر مکہ کی طرف حضورؐ کی واپسی کا ذکر بالکل بے محل نظر آتا ہے۔ آیت کے یہ معنی اگر لیے جائیں تو یہ کفارِ مکّہ کی بات کا جواب نہیں بلکہ اُن کے عذر کو اور تقویّت پہنچانے والا ہو گا۔ اس کے معنی یہ ہوں گے کہ بے شک اے اہلِ مکہ ، تم ٹھیک کہتے ہو، محمدؐ اس شہر سے نکال دیے جائیں گے ، لیکن وہ مستقل طور پر جلا وطن نہیں رہیں گے، بلکہ آخر کار ہم انہیں اسی جگہ واپس لے آئیں گے۔ یہ روایت اگرچہ بخاری، نسائی، ابن جریر اور دوسرے محدثین نے ابن عباسؓ سے نقل کی ہے ، لیکن یہ ہے ابن عباس کی اپنی ہی رائے۔ کوئی حدیث ِمرفوع نہیں ہے کہ اسے ماننا لازم ہو۔
وَمَا كُنْتَ تَرْجُوْۤا اَنْ یُّلْقٰۤی اِلَیْكَ الْكِتٰبُ اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ ظَهِیْرًا لِّلْكٰفِرِیْنَ ؗ
یہ بات محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے ثبوت میں پیش کی جا رہی ہے ۔ جس طرح موسیٰ علیہ السلام بالکل بے خبر تھے کہ انہیں نبی بنا یا جانے والا ہے اور ایک عظیم الشان مشن پر وہ مامور کیے جانے والے ہیں ،اُن کے حاشیہ، خیال میں بھی اِس کا ارادہ یا خواہش تو درکنار اس کی توقع تک کبھی نہ گزری تھی، بس یکایک راہ چلتے انہیں کھینچ بلایا گیا اور نبی بنا کر وہ حیرت انگیز کام ان سے لیا گیا جو ان کی سابق زندگی سے کوئی مناسبت نہیں رکھتا تھا، ٹھیک ایسا ہی معاملہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی پیش آیا۔ مکہ کے لوگ خود جانتے تھے کہ غارِ حرا سے جس روز آپ نبوت کا پیغام لے کر اترے اُس سے ایک دن پہلے تک آپ کی زندگی کیا تھی، آپ کے مشاغل کیا تھے، آپ کی بات چیت کیا تھی۔ آپ کی گفتگو کے موضوعات کیا تھے، آپ کی دلچسپیاں اور سر گرمیاں کس نوعیت کی تھیں۔ یہ پوری زندگی صداقت، دیانت، امانت اور پاکبازی سے لبریز ضرور تھی۔ اس میں انتہائی شرافت، امن پسندی، پاسِ عہد، ادائے حقوق اور خدمتِ خلق کا رنگ بھی غیر معمولی شان کے ساتھ نمایا ں تھا۔ مگر اس میں کوئی چیز ایسی موجود نہ تھی جس کی بنا پر کسی کے وہم و گمان میں بھی یہ خیال گزر سکتا ہو کہ یہ نیک بند ہ کل نبوت کا دعویٰ لے کر اُٹھنے والا ہے۔ آپ سے قریب ترین ربط ضبط رکھنے والوں میں ، آپ کے رشتہ داروں اور ہمسایوں اور دوستوں میں کوئی شخص یہ نہ کہہ سکتا تھا کہ آپ پہلے سے نبی بننے کی تیاری کر رہے تھے۔ کسی نے اُن مضامین اور مسائل اور موضوعات کے متعلق کبھی ایک لفظ تک آپ کی زبان سے نہ سنا تھا جو غارِ حرا ء کی اُس انقلابی ساعت کے بعد یکایک آپ کی زبان پر جاری ہونے شروع ہو گئے۔ کسی نے آپ کو وہ مخصوص زبان اور وہ الفاظ اور اصطلاحات استعمال کرنے نہ سنا تھا جو اچانک قرآن کی صورت میں لوگ آپ سے سننے لگے۔ کبھی آپ وعظ کہنے کھڑےنہ ہوئے تھے۔ کبھی کوئی دعوت اور تحریک لے کر نہ اُٹھے تھے۔ بلکہ کبھِ آپ کی کسی سر گرمی سے یہ گمان تک نہ ہو سکتا تھا کہ آپ اجتماعی مسائل کے حل ، یا مذہبی اصلاح یا اخلاقی اصلاح کے لیے کوئی کام شروع کرنے کی فکر میں ہیں۔ اس انقلابی ساعت سے ایک دن پہلے تک آپ کی زندگی ایک ایسے تاجر کی زندگی نظر آتی تھی جو سیدھے سادھے جائز طریقوں سے اپنی روزی کماتا ہے، اپنے بال بچوں کے ساتھ ہنسی خوشی رہتا ہے ، مہمانوں کی تواضع، غریبوں کی مدد اور تشتہ داروں سے حسن سلوک کرتا ہے ، اور کبھی کبھی عبادت کرنے کے لیےخلوت میں جا بیٹھتا ہے ۔ ایسے شخص کا یکایک ایک عالمگیر زلزلہ ڈال دینے والی خطابت کے ساتھ اُٹھنا، ایک انقلاب انگیز دعوت شروع کر دینا، ایک نرالا لٹریچر پیدا کر دینا، ایک مستقل فلسفہ حیات اور نظامِ فکر و اخلاق و تمدن لے کر سامنے آجانا، اتنا بڑا تغیر ہے جو انسانی نفسیات کے لحاظ سے کسی بناوٹ اور تیاری اور ارادی کوشش کے نتیجے میں قطعاً رونما نہیں ہو سکتا۔ اس لیے کہ ایسی ہر کوشش اور تیاری بہر حال تدریجی ارتقاء کے مراحل سے گزرتی ہے اور یہ مراحل اُن لوگوں سے کبھی مخفی نہیں رہ سکتے جن کے درمیان آدمی شب و روز زندگی گزارتا ہو۔ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ان مراحل سے گزری ہوتی تو مکہ میں سینکڑوں زبانیں یہ کہنے والی ہوتیں کہ ہم نہ کہتے تھے، یہ شخص ایک دن کوئی بڑا دعویٰ لے کر اُٹھنے والا ہے ۔ لیکن تاریخ شاہد ہے کہ کفار مکہ نے آپ پر ہر طرح کے اعتراضات کیے ، مگر یہ اعتراض کرنے والا اُن میں سے کوئی ایک شخص بھی نہ تھا۔ پھر یہ بات کہ آپ خود بھی نبوت کے خواہش مند ، یا اس کے لیے متوقع اور منتظر نہ تھے، بلکہ پوری بے خبری کی حالت میں اچانک آپ کو اس معاملہ سے سابقہ پیش آگیا، اس کا ثبوت اُس واقعہ سے ملتا ہے جو احادیث میں آغاز وحی کی کیفیت کے متعلق منقول ہوا ہے۔ جبریلؑ سے پہلی ملاقات اور سورہ علق کی ابتدائی آیات کے نزول کے بعد آپ غارحرا سے کانپتے اور لرزتے ہوئے گھر پہنچتے ہیں۔ گھر والوں سے کہتے ہیں کہ ”مجھے اُڑھاؤ، مجھے اڑھاؤ“۔ کچھ دیر کے بعد جب ذرا خوف زدگی کی کیفیت دور ہوتی ہے تو اپنی رفیق زندگی کو سارا ماجرا سنا کر کہتے ہیں کہ ”مجھ اپنی جان کا ڈر ہے “۔ وہ فوراً جواب دیتی ہیں”ہرگز نہیں۔ آپ کو اللہ کبھی رنج میں نہ ڈالے گا۔ آپ تو قرابت داروں کے حق ادا کرتے ہیں۔ بے کس کو سہارا دیتے ہیں ۔ بے زر کی دستگیری کرتے ہیں۔ مہمانوں کی تواضح کرتے ہیں۔ ہر کار خیر میں مدد کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں“۔ پھر وہ آپ کو لے کر وَرَقہ بن نَوفَل کے پاس جاتی ہیں جو ان کے چچا زاد بھائی اور اہلِ کتاب میں سے ایک ذی علم اور راستباز آدمی تھے۔ وہ آپ سے سارا واقعہ سننے کے بعد بلا تامل کہتے کہ ” یہ جو آپ کے پاس آیا تھا وہی ناموس(کاری خاص پر مامور فرشتہ) ہے جو موسیٰؑ کے پاس آتا تھا۔ کاش میں جوان ہوتا اور اُس وقت تک زندہ رہتا جب آپ کی قوم آپ کو نکال دے گی“ آپ پوچھتے ہیں ”کیا یہ لوگ مجھے نکا ل دیں گے“؟ وہ جواب دیتے ہیں”ہاں، کوئی شخص ایسا نہیں گزرا کہ وہ چیز لے کر آیا ہو جوآپ لائے ہیں اور لوگ اس کے دشمن نہ وہ گئے ہوں“۔ یہ پورا واقعہ اُس حالت کی تصویر پیش کر دیتا ہے جو بالکل فطری طور پر یکایک خلافِ توقع ایک انتہائی غیر معمولی تجربہ پیش آجانے سے کسی سیدھے سادھے انسان پر طاری ہو سکتی ہے ۔ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پہلے سے نبی بننے کی فکر میں ہوتے ، اپنے متعلق یہ سوچ رہے ہوتے کہ مجھ جیسے آدمی کو نبی ہونا چاہیے، اور اس انتظآر میں مراقبے کر کر کے اپنی ذہن پر زور ڈال رہے ہوتے کہ کب کوئی فرشتہ آتا ہے اور میرے پاس پیغام لاتا ہے ، تو غارِ حرا ء والا معاملہ پیش آتے ہی آپ خوشی سے اچھل پڑتے اور بڑے دم دعوے کے ساتھ پہاڑ سے اتر کر سیدھے اپنی قوم کے سامنے پہنچتے ، اور اپنی نبوت کا اعلان کردیتے ۔ لیکن اس کے بر عکس یہاں حالت یہ ہے کہ جو کچھ دیکھا تھا اس پر ششدر رہ جاتے ہیں، کانپتے اور لرزتے ہوئے گھر پہنچتے ہیں، لحاف اوڑھ کر لیٹ جاتے ہیں، ذرا دل ٹھیرتا ہے تو بیوی کو چپکے سے بتاتے ہیں کہ آج غار کی تنہائی میں مجھ پر یہ حادثہ گزرا ہے ، معلوم نہیں کیا ہونے والا ہے ، مجھے اپنی جان کی خیر نظر نہیں آتی۔ یہ کیفیت نبوت کے کسی امید وار کی کیفیت سے کس قدر مختلف ہے ۔ پھر بیوی سے بڑھ کر شوہر کی زندگی ، اس حالات اور اس کے خیالات کو کون جان سکتا ہے ؟ اگر ان کے تجربے میں پہلے سے یہ بات آئی ہوئی ہوتی کہ میاں نبوت کے امید وار ہیں ا ور ہر وقت فرشتے کے آنے کا انتظار کر رہے ہیں، تو ان کا جواب ہر گز وہ نہ ہوتا جو حضرت خدیجہؓ نے دیا۔ وہ کہتیں کہ میاں گھبراتے کیوں ہو۔ جس چیز کی مدتوں سے تمنا تھی وہ مل گئی ، چلو، اب پیر کی دکان چمکاؤ، میں بھی نذرانے سنبھالنے کی تیاری کرتی ہوں۔ لیکن وہ پندرہ برس کی رفاقت میں آپ کی زندگی کا جو رنگ دیکھ چکی تھیں اس کی بنا پر انہیں یہ بات سمجھنے میں ایک لمحہ کی دیر بھی نہ لگی کہ ایسے نیک اور بے لوث انسان کے پاس شیطان نہیں آسکتا ، نہ اللہ اس کو کسی بُری آزمائش میں ڈال سکتا ہے ، اس نے جو کچھ دیکھا ہے وہ سراسر حقیقت ہے۔ اور یہی معاملہ وَرَ قہ میں نَوفَل کا بھی ہے ۔ وہ کوئی باہر کے آدمی نہ تھے بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی برادری کے آدمی اور قریب کے رشتے سے برادرِ نسبتی تھے۔ پھر ایک ذی علم عیسائی ہونے کی حیثیت سے نبوت اور کتاب اور وحی کی بناوٹ اور تصنع سے مُمیَّز کر سکتے تھے۔ عمر میں کئی سال بڑَ ہونے کی وجہ سے آپ کی پوری زندگی بچپن سے اُس وقت تک ان کے سامنے تھی۔ انہوں نے بھی آپ کی زبان سے حراء کی سرگز شت سنتے ہی فوراً کہہ دیا کہ یہ آنے والا یقیناً وہی فرشتہ ہے جو موسیٰ علیہ السلام پر وحی لاتا تھا۔ کیونکہ یہاں بھی وہی صورت پیش آئی تھی جو حضرت موسیٰ علیہ السلا م کے ساتھ پیش آئی تھی کہ انتہائی پاکیزہ سیرت کا سیدھا سادھا انسان بالکل خالی الذہن سے ، نبوت کی فکر میں رہنا تو درکنار، اس کے حصول کا تصور تک اس کے حاشیہ خیال میں کبھی نہیں آیا ہے ۔ اور اچانک وہ پورے ہوش ہو حواس کی حالت میں علانیہ اس تجربے سے دوچار ہوتا ہے۔ اسی چیز نے اُن کو دو اور چار کی طرح بلاادنیٰ تامل اس نتیجہ تک پہنچا دیا کہ یہاں کوئی فریب نفس یا شیطانی کرشمہ نہیں ہے ، بلکہ اِس سچے انسان نے اپنے کسی ارادے اور خواہش کے بغیر جو کچھ دیکھا ہے وہ دراصل حقیقت ہی کا مشاہدہ ہے ۔ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا ایک ایسا بینِ ثبوت ہے کہ ایک حقیقت پسند انسان مشکل ہی سے اس کا انکار کر سکتا ہے۔ اسی لیے قرآن میں متعدد مقامات پر اسے دلیلِ نبوت کی حیثیت سےپیش کیا گیا ہے۔ مثلاً سورہ یونس میں فرمایا: قُلْ لَّو شَآءَ اللہُ مَا تَلَوْتُہٗعَلَیْکُمْ وَّ لَآ اَدْرٰکُمْ بِہٖ فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِہٖٓ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَo (آیت 1۶) اے نبیؐ ان سے کہو کہ اگر اللہ نے یہ نہ چاہا ہوتا تو میں کبھی یہ قرآن تمہیں نہ سناتا بلکہ اس کی خبر تک وہ تم کو نہ دیتا۔ آخر میں اس سے پہلے ایک عمر تمہارے درمیان گزار چکا ہوں ، کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے؟ اور سورۂ شوریٰ میں فرمایا: مَا کُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْکِتٰبُ وَلَا الْاِیْمَانُ وَلٰکِنْ جَعَلْنٰہُ نُوْرًا نَّھْدِیْ بِہٖ مَنْ نَّشَآ ءُ مِنْ عِبَادِنَا۔ (آیت 5۶) اے نبیؐ، تم تو جانتے تک نہ تھے کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے، مگر ہم نے اس وحی کو ایک نُور بنا دیا جس سے ہم رہنمائی کرتے ہیں اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں۔ مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، یونس، حاشیہ 21۔ جلد سوم، عنکبوت حواشی 88 تا 92، جلد چہارم، الشوریٰ، حاشیہ 84۔
یعنی جب اللہ نے یہ نعمت تمہیں بے مانگے عطا فرمائی ہے تو اس کا حق اب تم پر یہ ےہ کہ تمہاری ساری قوتیں اور محنتیں اس کی علمبرداری پر، اس کی تبلیغ پر اور اسے فروغ دینے پر صرف ہوں اس میں کوتاہی کرنے کے معنی یہ ہوں گے کہ تم نے حق کے بجائے منکرینِ حق کی مدد کی۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ معاذ اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی کسی کوتاہی کا اندیشہ تھا ۔ بلکہ دراصل اس طرح اللہ تعالیٰ کفار کو سناتے ہوئے اپنے نبی کو یہ ہدایت فرما رہا ہے کہ تم اِن کے شور و غوغا اور ان کی مخالفت کے باوجود اپنا کام کرو اور اس کی کوئی پروا نہ کرو کہ دشمنانِ حق اس دعوت سے اپنے قومی مفاد پر ضرب لگنے کے کیا اندیشے ظا ہر کرتے ہیں۔
وَلَا یَصُدُّنَّكَ عَنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَیْكَ وَادْعُ اِلٰی رَبِّكَ وَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ
اور ایسا کبھی نہ ہونے پائے کہ اللہ کی آیات جب تم پر نازل ہوں تو کُفّار تمہیں اُن سے باز رکھیں۔111 اپنے ربّ کی طرف دعوت دو اور ہرگز مشرکوں میں شامل نہ ہو
یعنی اُن کی تبلیغ و اشاعت سے اور ان کے مطابق عمل کرنے سے ۔
وَلَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۫ كُلُّ شَیْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗ ؕ لَهُ الْحُكْمُ وَاِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ
اور اللہ کے سوا کسی دُوسرے معبُود کو نہ پکارو۔ اُس کے سوا کوئی معبُود نہیں ہے۔ ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے سوائے اُس کی ذات کے۔ فرماں روائی اسی کی ہے112 اور اسی کی طرف تم سب پلٹائے جانے والے ہو
یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ فرمانروائی اسی کے لیے ہے، یعنی وہی اس کا حق رکھتا ہے۔
الله کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے <<سورة الْقَصَص>> نام : آیت نمبر 25 کے اس فقرے سے ماخوذ ہے : <<وَ قَصَّ عَلیہ القَصَصَ ،>> یعنی وہ سورہ جس میں القصص کا لفظ آیا ہے ۔ لغت کے اعتبار سے قصص کے معنی ترتیب وار واقعات بیان کرنے کے ہیں ۔ اس لحاظ سے یہ لفظ باعتبار معنی بھی اس سورے کا عنوان ہو سکتا ہے ، کیونکہ اس میں حضرت موسیٰ ؑ کا مفصل قصہ بیان ہوا ہے ۔ زمانہ نزول : سورة نمل کے دیباچے میں ابن عباس ؓ اور…