Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

An-Naml

سورة النمل

(27:1)

طٰسٓ ۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْقُرْاٰنِ وَكِتَابٍ مُّبِیْنٍ 

ط۔س۔ یہ آیات ہیں قرآن اور کتابِ مبین کی1

حاشیہ نمبر: 1

”کتابِ مُبین“کا ایک مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب اپنی تعلیمات اور اپنے احکام اور ہدایات کو بالکل واضح طریقے سے بیان کر تی ہے ۔ دوسرا مطلب  یہ کہ وہ حق اور باطل کا فرق نمایاں طریقے سے کھول دیتی ہے ۔ اور ایک تیسرا مطلب یہ بھی ہے کہ اس کا کتابِ الہٰی ہونا ظاہر ہے ، جو کوئی اسے آنکھیں کھول کر پڑھے گا اس پر یہ بات کھل جائیگی کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا گھڑا ہوا کلام نہیں ہے۔

(27:2)

هُدًی وَّبُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ 

ہدایت اور بشارت2اُن ایمان لانے والوں کے لیے

حاشیہ نمبر: 2

یعنی یہ آیات ہدایت اور بشارت ہیں۔”ہدایت کرنے والی“اور ”بشارت دینے والی“کہنے کے بجائے انہیں بجائے خود”ہدایت“اور ”بشارت“کہا گیا جس سے رہنمائی اور بشارت کے وصف میں ان کے کمال کا اظہار مقصود ہے ۔ جیسے کسی کو آپ سخی کہنے کے بجائے مجسم سخاوت اور حسین کہنے کے بجائے از سر تاپا حسن کہیں۔

(27:3)

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَهُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ 

جو نماز قائم کرتے اور زکوٰة دیتے ہیں3، اور پھر وہ ایسے لوگ ہیں جو آخرت پر پُورا یقین رکھتے ہیں4

حاشیہ نمبر: 3

یعنی قرآن مجید کی یہ آیات رہنمائی بھی صرف اُنہی لوگوں کی کرتی ہیں اور انجام نیک کی خوشخبری بھی صرف انہی لوگوں کو دیتی ہیں جن میں دو خصوصیات پائی جاتی ہوں: ایک یہ کہ وہ ایمان لائیں۔ اور ایمان لانے سے مراد یہ ہے کہ وہ قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو قبول کر لیں، خدائے واحد کو اپنا ایک ہی الٰہ اور رب مان لیں ، قرآن کو خدا کی کتاب تسلیم کر لیں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی بر حق مان کر اپنا پیشوا بنا لیں، اور یہ عقیدہ بھی  اختیار کر لیں کہ اس زندگی کے بعد  ایک دوسری زندگی ہے جس میں ہم  کو اپنے اعمال کا حساب دینا اور جزائے اعمال سے دو چار ہونا ہے ۔ دوسری خصوصیت ان کی یہ ہے کہ وہ اِن چیزوں کو محض مان کر نہ رہ جائیں بلکہ عملاً اتباع و اطاعت کے لیے آمادہ ہوں۔ اور اس آمادگی کی اوّلین علامت یہ ہے کہ وہ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں۔ یہ دونوں شرطیں جو لوگ پوری کردیں گے انہی کو قرآن کی آیات دنیا میں زندگی کا سیدھا راستہ بتائیں گی، اس راستہ کے ہر مرحلے میں ان کو صحیح اور غلط کا فرق سمجھائیں گی، اس کے ہر موڑ پر انہیں غلط راہوں کی طرف جانے سے بچائیں گی، اور ان  کو یہ اطمینان بخشیں گی کہ راست روی کے نتائج دنیا میں خواہ کچھ بھی ہوں، آخر کا ر ابدی اور دائمی فلاح اِسی کی بدولت انہیں حاصل ہوگی اور وہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی سے سرفراز ہوں گے ۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے ایک معلم کی تعلیم سے وہی شخص فائدہ اٹھا سکتا ہے جو اس پر اعتماد کر کے واقعی اس کی شاگردی قبول کر لے اور پھر اس کی ہدایات کے مطابق کام بھی کر ے۔ ایک ڈاکٹر سے استفادہ وہی مریض کر سکتا ہے جو اسے اپنا معالج بنائے اور دوا اور پر ہیز وغیرہ کے معاملہ میں اس کی ہدایات پر عمل کرے۔ اسی صورت میں معلم اور ڈاکٹر یہ اطمینان دلا سکتے ہیں  کہ آدمی کو نتائجِ مطلوبہ حاصل ہوں گے۔           بعض لوگوں نے اس آیت میں یُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ کا مطلب یہ لیا ہے کہ وہ اخلاق کی پاکیزگی اختیار کریں۔ لیکن قرآن مجید میں اقامتِ صلٰوۃ کے ساتھ ایتاءِ زکوٰۃ کا لفظ جہاں بھی آیا ہے ، اس سے مراد وہ زکوٰۃ ادا کر نا ہے جو نماز کے ساتھ اسلام کا دوسرا رکن ہے ۔ علاسہ بریں زکوٰۃ کے لیے ایتاء کا لفظ استعمال ہوا ہے جو زکوٰۃِ مال ادا کرنے کے معنی متعین کر دیتا ہے  ، کیونکہ عربی زبان میں پاکیزگی اختیار کرنے  کے لیے تَزَکّی کا لفظ بولا جاتا ہے  نہ کہ ایتاء زکوٰۃ۔ دراصل یہاںً  جو بات ذہن نشین کر نی مقصود ہے  وہ یہ کہ قرآن کی رہنمائی سے فائدہ اُٹھانے کے لیے ایمان کے ساتھ عملاً اطا عت و اتباع کا رویہ اختیار کرنا بھی ضروری ہے، اور اقامتِ صلوٰۃ و ایتاء زکوٰۃ وہ پہلی علامت ہے جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ آدمی نے واقعی اطاعت قبول کر لی ہے ۔ یہ علامت جہاں غائب ہوئی وہاں فوراً یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ آدمی سرکش ہے ، حاکم کو حاکم چاہے اس نے مان لیا ہو، مگر حکم کی پیروی کے لیے وہ تیار نہیں ہے ۔

حاشیہ نمبر: 4

اگر چہ آخرت کا عقیدہ ایمانیات میں شامل ہے، اور اس بنا پر” ایمان لانے والوں“سے مراد ظاہر ہے کہ وہی لوگ ہیں جو توحید اور رسالت کے سا تھ آخرت پر بھی ایمان لائیں، لیکن ایمانیات کے ضمن میں اس کے آپ سے آپ شامل ہونے کے با وجود یہاں اس عقیدے کی اہمیت ظاہر کرنے کے لیے خاص طور پر زور دے کر اسے الگ بیان کیا گیا ہے ۔ اس سے یہ ذہن نشین کرنا مقصود ہے کہ جو لوگ آخرت کے قائل نہ ہوں، ان کے لیے اس قرآن کے بتائے ہوئے استے پر چلنا بلکہ اس پر قدم رکھنا بھی محال ہے ۔ کیونکہ اس طرزِ فکر کے لوگ طبعاً اپنا معیارِ خیر و شر صرف اُنہی نتائج سے متعین کرتے ہیں جو اِس دنیا میں ظاہر ہوتے یا ہو سکتے ہیں۔ اور ان کے لیے کسی ایسی نصیحت و ہدایت کو قبول کرنا ممکن نہیں ہوتا جو انجامِ اُخروی کو سودوزیاں اور نفع و نقصان کا معیار قرار دے کر خیر و شر کا تعین کرتی ہو۔ ایسے لوگ اول تو انبیاء علیہم السلام کی تعلیم پر کان ہی نہیں دھرتے ، لیکن اگر کسی وجہ سے وہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں شامل ہو بھی جائیں تو آخرت کا یقین نہ ہونے کے باعث ان کے لیے ایمان و اسلام کے راستے پر ایک قدم چلنا بھی مشکل ہوتا ہے ۔ اس راہ میں پہلی ہی آزمائش جب پیش آئے گی، جہاں دنیوی فائدے اور اُخروی نقصان کے تقاضے انہیں دو مختلف سمتوں میں کھینچیں گے تو وہ بے تکلف دنیا کے فائدے کی طرف کھیچ جائیں گے اور آخرت کے نقصان کی ذرہ برابر پروا نہ کریں گے ، خواہ زبان سے وہ ایمان کے کتنے ہی دعوے کر تے رہیں۔

(27:4)

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ زَیَّنَّا لَهُمْ اَعْمَالَهُمْ فَهُمْ یَعْمَهُوْنَ ؕ

حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے ان کے لیے ہم نے اُن کے کرتُوتوں کو خوشنما بنا دیا ہے، اس لیے وہ بھٹکتے پھرتے ہیں5

حاشیہ نمبر: 5

یعنی خدا کا قانونِ فطرت یہ ہے ، نفسیاتِ انسانی کی فطری منطق یہی ہے کہ جب آدمی زندگی اور اس کی سعی و عمل کے نتائج کو صرف اسی دنیا تک  محدود سمجھے گا، جب وہ کسی ایسی عدالت کا قائل نہ ہو گا جہاں انسان کے پورے کارنامہ حیات کی جانچ پڑتال کر کے اس کے حُسن وقبح کا آخری اور قطعی فیصلہ کیا جانے والا ہو، اور جب وہ موت کے بعد کسی ایسی زندگی کا قائل نہ ہوگا جس میں حیاتِ دنیا کے اعمال کی حقیقی قدر و قیمت کے مطابق ٹھیک ٹھیک جزا و سزا دی جانے والی ہو، تو لازماً اس کے اندر ایک مادہ پرستانہ نقطۂ نظر نشو نما پائے گا۔ اسے حق اور باطل، شرک اور توحید، نیکی اور بدی، اخلاق اور بد اخلاقی کی ساری بحثیں سراسر بے معنی نظر آئیں گی۔ جو کچھ اُسے اِس دنیا میں لذت و عیش اور مادی ترقی و خوشحالی اور قوتِ و اقتدار سے ہمکنار کرے وہی اس کے نزدیک بھلائی ہوگی قطع نظر اس سے کہ وہ کوئی فلسفہ حیات اور کوئی طرزِ زندگی اور نظامِ اخلاق ہو۔ اس کو حقیقت اور صداقت سے دراصل کوئی غرض ہی نہ ہوگی۔ اس کی اصل مطلوب صرف حیات ِ دنیا کی زینتیں اور کامرانیاں ہوں گی جن کے حصول کی فکر اسے ہر وادی میں لیے بھٹکتی پھرے گی۔ اور اس مقصد کے  لیے جو کچھ بھی وہ کرے گا اسے اپنے نزدیک بڑی خوبی کی بات سمجھے گا اور اُلٹا اُن لوگوں کو بیوقوف سمجھے گا جوا ُس کی طرح دنیا طلبی میں منہمک نہیں ہیں اور اخلاق و بد اخلاقی سے بے نیز ہو کر ہر کام کر گزرنے میں بے باک نہیں ہیں۔           کسی کے اعمال بد کو اس کے لیے خوشنما بنا دینے کا یہ فعل قرآن مجیدمیں کبھی اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا گیا ہے اور کبھی شیطان کی طرف۔ جب اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے تو اس سے مراد، جیسا کہ اوپر بیان ہوا، جب یہ فعل شیطان کی طرف منسوب کیا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ اس طرزِ فکر اور طرزِ عمل کو اختیار کرنے والے آدمی کے سامنے شیطان ہر وقت ایک خیالی جنت پیش کرتا رہتا ہے اور اسے خوب اطمینان دلاتا ہے کہ شاباش بر خوردار بہت اچھے جا رہے ہو۔

(27:5)

اُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْعَذَابِ وَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ 

یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے بُری سزا ہے6 اور آخرت میں یہی سب سے زیادہ خسارے میں رہنے والے ہیں

حاشیہ نمبر: 6

اس بُری سزا کی صورت، وقت اور جگہ کا تعین نہیں کیا گیا ہے، کیونکہ یہ اس دنیا میں بھی مختلف افراد گروہوں اور قوموں کو بے شمار مختلف طریقوں سے ملتی ہے ، اس دنیا سے رخصت ہوتے وقت عین موت کے دروازے پر بھی اس کا ایک حصہ ظالموں کو پہنچتا ہے ، موت کے بعد عالم برزخ مِں بھی اس سے آدمی دو چار ہوتا ہے،اور پھر روز حشر سے تو اس کا ایک سلسلہ شروع ہو جائے گا جو پھر کہیں جا کر ختم نہ ہوگا۔

(27:6)

وَاِنَّكَ لَتُلَقَّی الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ عَلِیْمٍ 

اور (اے محمدؐ)بلا شبہہ تم یہ قرآن ایک حکیم و علیم ہستی کی طرف سے پا رہے ہو۔7

حاشیہ نمبر: 7

یعنی یہ کوئی ہوائی باتیں نہیں ہیں جو اس قرآن میں کی جا رہی ہیں، اور نہ یہ کسی انسان کے قیاس ورائے پر مبنی ہیں، بلکہ انہیں ایک حکیم و علیم ذات القا کر رہی ہے جو حکمت ودانائی اور علم و دانش میں کامل ہے ، جسے اپنی خلق کے مصالح اور ان کے ماضی و حال اور مستقبل کا پورا علم ہے ، اور جس کی حکمت بندوں کی اصلاح و ہدایت کے لیے بہترین تدابیر اختیار کر تی ہے۔

(27:7)

اِذْ قَالَ مُوْسٰی لِاَهْلِهٖۤ اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا ؕ سَاٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ اٰتِیْكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ 

(اِنہیں اُس وقت کا قصہ سُناوٴ)جب موسیٰؑ نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ8”مجھے ایک آگ سی نظر آئی ہے، میں ابھی یا تو وہاں سے کوئی خبر لے کر آتا ہوں یا کوئی انگارا چُن لاتا ہوں تاکہ تم لوگ گرم ہو سکو9۔“

حاشیہ نمبر: 8

یہ اُس وقت کا قصہ ہے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام مَدْیَن میں آٹھ دس سال گزارنے ک بعد اپنے اہل  وعیان کو ساتھ لے کر کوئی ٹھکانہ تلاش کرنے جا رہے تھے۔ مدین کا علاقہ خلیج عَقَبہ کے کنارے عرب اور جزیرہ نمائے سینا کے سوا حل پر واقع تھا(ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جدل سوم الشُعراء، حاشیہ 115)۔ وہاں سے چل کر حضرت موسیٰ جزیرہ نمائے سینا کے جنوبی حصے میں اُس مقام پر پہنچے جواب کوہِ سینا اور جبلِ موسیٰ کہلاتا ہے اور نزولِ قرآن کے زمانہ میں طُور کے نام سے مشہور تھا۔ اسی کے دامن میں وہ واقعہ پیش آیا جس کا یہاں ذکر ہو رہا ہے۔

حاشیہ نمبر: 9

فحوائے کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ رات کا وقت اور جاڑے کا موسم تھا۔ اور حضڑت موسیٰ علیہ السلام ایک اجنبی علاقے سے گزر رہے تھے جس سے انہیں کچھ زیادہ واقفیت نہ تھی۔ اس لیے انہوں نے اپنے گھر والوں سے فرمایا کہ میں جا کر معلوم کرتا ہوں یہ کونسی بستی ہے جہاں آگجل رہی ہے ، آگے کدھر کدھر راستے جاتے ہیں اور کون کون سی بستیاں قریب ہیں۔ تاہم اگر وہ بھی ہماری ہی طرح کوئی چلتے پھرتے مسافر ہوئے جن سے کوئی معلومات حاصل نہ ہو سکیں تو کم ازکم میں کچھ انگارے ہی لے آؤں گاکہ تم لوگ آگ جلا کر کچھ گرمی حاصل کر سکو۔           یہ مقام جہاں حضرت موسیٰ نے جھاڑی میں آگ لگی ہوئی دیکھی تھی، کوہ ِ طور کے دامن میں سطح سمندر سے تقریباً 5 ہزار فیٹ کی بلندی پر واقع ہے ۔ یہاں رومی سلطنت کے پہلے عیسائی بادشاہ قُسطَنِطین نے 3۶5؁ ء کے لگ بھگ زمانے میں ٹھیک اُس مقام پر ایک کنیسہ تعمیر کروایا تھا جہاں یہ واقعہ پیش آیا تھا۔ اس کے دو سو برس بعد قیصر حَسٹِینین نے یہاں ایک دَیر ( Monastery ) تعمیر کروایا جس کے اندر قسطنطین کے بنائے ہوئے کنیسہ کو بھی شامل کر لیا۔ یہ دیر اور  کنیسہ دونوں آج تک موجود ہیں اور یونانی کلیسا ( Greek Orthodox Church ) کے راہبوں کا ان پر قبضہ ہے ۔ میں نے جنوری 19۶۰؁ء میں اس مقام کی زیارت ی ہے ۔ مقابل کے صفحہ پر اس مقام کی کچھ تصاویر ملاحظہ ہوں۔

(27:8)

فَلَمَّا جَآءَهَا نُوْدِیَ اَنْ بُوْرِكَ مَنْ فِی النَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا ؕ وَسُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ 

وہاں جو پہنچا تو ندا آئی10کہ”مبارک ہے وہ جو اس آگ میں ہے اور جو اِس کے ماحول میں ہے۔ پاک ہے اللہ، سب جہان والوں کا پروردگار11

حاشیہ نمبر: 10

سورۂ قصص میں ہے کہ ندا ایک درخت  سے آرہی تھی،فِی الْبُقْعَۃِ الْمُبَا رَکَۃِ مِنَ الشَّجَرَۃِ۔ اس سے جو صورت معاملہ سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ وادی کے کنارے ایک خطے میں آگ سی لگی ہوئی تھی مگر نہ کچھ جل رہا تھا نہ کوئی دھواں اٹھ رہا تھا اور اس آگ کے اندر ایک ہرا بھرا درخت  کھڑا تھا جس پر سے یکایک یہ ندا آنی شروع ہوئی۔           یہ ایک عجیب معاملہ ہے جو  انبیاء علیہم السلام کے ساتھ پیش آتا رہا ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب پہلی مرتبہ نبوت سے سرفراز کیے گئے تو غارِ حرا ء کی تنہائی میں یکایک ایک فرشتہ آیا اور اس نے اللہ کا پیغام پہنچانا شروع کر دیا ۔ حضرت موسیٰ کے ساتھ بھی یہی صورت پیش آئی کہ ایک شخص سفر کرتا ہوا ٹھرا ہے، دُور سے آگ دیکھ کر راستہ پوچھنے یا انگارا چننے کی غرض سے آتا ہے اور یکلخت اللہ رب العالمین کی ہر قیاس و گمان سے بالا ذات اس سے مخاطب ہو جاتی ہے ۔ ان مواقع پر درحقیقت ایک ایسی غیر معمولی کیفیت خارج میں بھی اور انبیاء علیم السلام کے نفس میں بھی موجود ہوتی ہے  جس کی بنا پر انہیں اس امر کا یقین حاصل ہو جاتا ہے کہ یہ کسی جِن یا شیطان یا خود ان کے اپنے ذہن کا کوئی کرشمہ نہیں ہے ، نہ اُن کے حواس کوئی دھوکا کھار ہے ہیں، بلکہ فی الواقع یہ خدا وندِ عالم یا اس کا فرشتہ ہی ہے جو ان سے ہم کلام ہے ۔( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو ، النجم، حاشیہ1۰)۔

حاشیہ نمبر: 11

اس موقع پر ”سبحان اللہ “ارشاد فرمانے سے دراصل حضرت موسیٰ کو اس بات پر متنبہ کر نا مقصود تھا کہ  یہ معاملہ کمال درجہ تنزیہ کے ساتھ پیش آرہا ہے ۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ اللہ رب العالمین اس درخت پر بیٹھا ہو ، یا اس میں حلول کر آیا ہو، یا اس کا نورِ مطلق تمہاری بینائی کے حدود میں سما گیا ہو، یا کوئی زبان کسی منہ میں حرکت کر کے یہاں کلام کر رہی ہو، بلکہ ان تمام محدودیتوں  سے  پاک اور منزہ ہوتے ہوئے وہ بذاتِ خود تم سے مخاطب ہے۔

(27:9)

یٰمُوْسٰۤی اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ 

اے موسیٰؑ، یہ میں ہوں اللہ، زبردست اور دانا

(27:10)

وَاَلْقِ عَصَاكَ ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰی مُدْبِرًا وَّلَمْ یُعَقِّبْ ؕ یٰمُوْسٰی لَا تَخَفْ ۫ اِنِّیْ لَا یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَ 

اور پھینک تُو ذرا اپنی لاٹھی۔“ جُونہی کہ موسیٰ ؑ نے دیکھا لاٹھی سانپ کی طرح بل کھا رہی ہے12 تو پیٹھ پھیر کر بھاگا اور پیچھے مُڑ کر بھی نہ دیکھا۔”اے موسیٰؑ ، ڈرو نہیں۔ میرے حضُور رسُول ڈرا نہیں کرتے13

حاشیہ نمبر: 12

سورہ اعراف اور سورہ شعراء میں اس کے لیے ثُعبان (اژدہے) کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اور یہاں اسے ”جان “کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے جو چھوٹے سانپ کے لیے بولا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جسامت میں وہ اژدہا تھا، مگر اس کی حرکت کی تیزی ایک چھوٹے سانپ جیسی تھی۔ اسی مفہوم کو سورہ طٰہٰ میں حَیَّۃٌ تَسْعٰی (دوڑتے ہوئے سانپ) کے الفاظ میں ادا کیا گیا ہے۔

حاشیہ نمبر: 13

یعنی میرے حضور اس امر کی کوئی خطرہ نہیں ہے کہ رسول کو کوئی گزند پہنچے۔ رسالت کے منصبِ عظیم پر مقرر کرنے کے لیے جب میں کسی کو اپنی پیشی میں بالتا ہوں  تو اس کی حفاظت کا خود ذمہ دار ہوتا ہوں۔ اس لیے خواہ کیسا ہی کوئی غیر معمولی معاملہ پیش آئے رسول کو بے خوف اور مطمئن رہنا چاہیے کہ اُس کے لیے وہ کسی طرح ضرر رساں نہ ہوگا۔

(27:11)

اِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًا بَعْدَ سُوْٓءٍ فَاِنِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ 

اِلّا یہ کہ کسی نے قصور کیا ہو14۔ پھر اگر بُرائی کے بعد اُس نے بھلائی سے (اپنے فعل کو)بدل لیا تو میں معاف کرنے والا مہربان ہوں15

حاشیہ نمبر: 14

یہ استثناء متصل بھی ہو سکتا ہے اور منقطع بھی۔ متصل ہونے کی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ خوف کی معقول وجہ اگر ہو سکتی ہے تو یہ کہ رسول سے کوئی قصور سرزد ہوا ہو۔ اور منقطع ہونے کی صورت میں مراد یہ ہوگی کے میرے حضور تو کسی کو بھی کوئی خطرہ نہیں ہے جب تک کہ آدمی قصور وار نہ ہو۔

حاشیہ نمبر: 15

یعنی قصور کرنے والا بھی اگر توبہ کر کے اپنے رویے کی اصلاح کرلے اور بُرے عمل کے بجائے نیک عمل کرنے لگے تو میرے ہاں اس کے لیے عفو و درگزر کا دروازہ کھلا ہے ۔ اس موقع پر یہ بات ارشاد فرمانے سے مقصود ایک تنبیہ بھی تھی اور بشارت بھی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نادانستگی میں ایک قبطی کو قتل کر کے مصر سے نکلتے تھے۔ یہ ایک قصور تھا جس کی طرف لطیف اشارہ فرما دیا گیا۔ پھر جس وقت یہ قصور اچانک بلا ارادہ ان سے سر زد ہوا تھا اس کے بعد فوراً ہی انہوں نے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لی تھی کہ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْلِی۔ (اے پر وردگار ، میں اپنے  نفس پر ظلم کر گزرا مجھے معاف فرمادے) اور اللہ تعالیٰ نے اسی وقت انہیں معاف فرمادیا تھا، فَغَفَرَلَہٗ ( القصص، آیت1۶) اب یہاں اُسی معافی کی بشارت انہیں دی گئی ہے۔ گویا مطلب اس تقریر کا یہ ہوا کہ اے موسیٰ، میرے حضور تمہارے لیے ڈرنے کی ایک وجہ تو ضرور ہوسکتی تھی، کیونکہ تم سے ایک قصور سر زد ہو گیا تھا، لیکن جب تم اس برائی کو بھلائی سے بدل چکے ہو تو  میرے پاس تمہارے لیے اب مغفرت اور رحمت کے سوا کچھ نہیں ہے۔ کوئی سزا دینے کے لیے اس وقت میں نے تمہیں نہیں بلایا ہے بلکہ بڑے بڑے معجزے دے کر میں تمہیں ایک کارِ عظیم پر بھیجنے والا ہوں۔

(27:12)

وَاَدْخِلْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ ۫ فِیْ تِسْعِ اٰیٰتٍ اِلٰی فِرْعَوْنَ وَقَوْمِهٖ ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ 

اور ذرا اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں تو ڈالو۔ چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی تکلیف کے۔ یہ (دونشانیاں)نو نشانیوں میں سے ہیں فرعون اور اُس کی قوم کی طرف (لے جانے کے لیے)16، وہ بڑے بدکردار لوگ ہیں۔“

حاشیہ نمبر: 16

سورہ بنی اسرائیل میں فرمایا گیا ہے کہ موسیٰ کو ہم نے صریح طور پر نظر آنے والی نونشانیاں (تِسْعَ اٰیٰتٍ مبَیِّنٰتٍ) عطا فرمائی تھیں۔ اور سورہ اعراف میں ان کی تفصیل یہ بیان کی گئی ہے :(1)لاٹھی جو اژدھا بن جاتی تھی(2) ہاتھ جو بغل سے سورج کی طرح چمکتا ہوا نکلتا تھا۔(3)جا دو گروں کو بر سرِ عام شکست دینا۔(4) حضرت موسیٰ کے پیشگی اعلان کے مطابق سارے ملک میں قحط۔(5) طوفان(۶)ٹڈی دل۔(7) تمام غَلّے کے ذخیروں میں سُرسُر یاں اور انسان و حیوان میں جوئیں۔(8) مینڈکوں کا طوفان۔(9)اور خون۔(تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، الزخرف، حاشیہ 43)۔

(27:13)

فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ اٰیٰتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ 

مگر جب ہماری کھلی کھلی نشانیاں اُن لوگوں کے سامنے آئیں تو انہوں نے کہا یہ تو کھلا جادو ہے

(27:14)

وَجَحَدُوْا بِهَا وَاسْتَیْقَنَتْهَاۤ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ 

انہوں نے سراسر ظلم اور غرور کی راہ سے ان نشانیوں کا انکار کیا حالانکہ دل ان کے قائل ہو چکے تھے۔17 اب دیکھ لو کہ ان مفسدوں کا انجام کیسا ہوا

حاشیہ نمبر: 17

قرآن میں دوسرے مقامات پر بیان کیا گیا ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام کے اعلان کے مطابق کوئی بلائے عام مصر پر نازل ہوتی تھی تو فرعون حضرت موسیٰ سے کہتا تھا کہ تم اپنے خدا سے دعا کر کے اس بلا کو ٹلوا دو، پھر جو کچھ تم کہتے ہو وہ ہم مان لیں گے۔ مگر جب وہ بلا ٹل جاتی تھی تو فرعون اپنی اُسی ہٹ دھرمی پر تُل جاتا تھا(الاعراف، آیت 134۔ الزخرف، آیت49۔5۰) ۔ بائیبل میں بھی اس کا ذکر موجود ہے (خروج، باب 8 تا 1۰) ۔ اور ویسے بھی یہ بات کسی طرح تصوّر میں نہ آسکتی تھی کہ ایک پورے ملک پر قحط اور طوفان اور ٹڈی دلوں کا ٹوٹ پڑنا اور مینڈکوں اور سُرسُر یوں کے بے شمار لشکروں کا اُمنڈ آنا کسی جادو کا کرشمہ ہو سکتا ہے۔یہ ایسے کُھلے ہوئے معجزے تھے جن کو دیکھ کر ایک بیوقوف سے بیوقوف آدمی بھی یہ سمجھ سکتا تھا کہ پیغمبر کے کہنے پر ایسی ملک گیر بلاؤں کا آنا اور پھر اس کے کہنے پر ان کا دَور ہو جانا صرف اللہ ربّ العالمین ہی کے تصرف کا نتیجہ ہو سکتا ہے ۔ اسی بنا پر حضرت موسیٰ نے فرعون سے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ لَقَدْ عَلِمْتَ مَآ اَنْزَلَ ھٰٓؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ،”تو خوب جان چکا ہے کہ یہ نشانیاں مالک زمین و آسمان کے سوا کسی اور نے نازل نہیں کی ہیں“(بنی اسرائیل، آیت 1۰2)۔ لیکن جس وجہ سے فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں نے جان بوجھ کر ان کا انکار کیا وہ یہ تھی کہ اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَ یْنِ مِثْلِنَا وَقَوْمُھُمَا لَنَا عَا بِدُوْنَ،”کیا ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں کی بات مان لیں حالانکہ ان کی قوم ہماری غلام ہے“؟(المومنون، آیت47)۔

(27:15)

وَلَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ وَسُلَیْمٰنَ عِلْمًا وَقَالَا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰی كَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِیْنَ 

(دُوسری طرف)ہم نے داوٴدؑ و سلیمانؑ کو علم عطا کیا18اور اُنہوں نے کہا کہ شکر ہے اُس خدا کا جس نے ہم کو اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت عطا کی۔19

حاشیہ نمبر: 18

یعنی حقیقت کا علم۔ اِ  س بات کا علم کہ درحقیقت ان کے پا س اپنا کچھ بھی نہیں ہے ، جو کچھ ہے اللہ کا عطیہ ہے ، او ر اُس پر تصرف کرنے کے جو اختیارات بھی ان کو بخشے گئے ہیں انہیں اللہ ہی کی مرضی کے مطابق استعمال کیا جانا چاہیے، اور اس اختیار کے صحیح و غلط استعمال پر انہین مالک حقیق کے حضور جواب دہی کرنے ہے ۔ یہ علم اُس جہالت کی ضد ہے جس میں فرعون مبتلا تھا۔ اُس جہالت نے جو سیرت تعمیر کی تھی  اس کا نمونہ اوپر مذکور ہوا۔ اب بتایا جاتا ہے کہ یہ علم کیسی سیرت کا نمونہ تیار کرتا ہے ۔ بادشاہی، دولت، حشمت، طاقت ،دونوں طرف یکساں ہے ۔ فرعون کو بھی یہ ملی تھی ، اور داؤد و سلیمان علیہما السلام کو بھی۔ لیکن جہالت اور علم کے فرق نے ان کے درمیان کتنا عظیم الشان فرق پیدا کر دیا۔

حاشیہ نمبر: 19

یعنی دوسرے مومن بندے بھی ایسے موجود تھے جن کو خلافت عطا کی جاسکتی تھی۔ لیکن یہ ہماری کوئی ذاتی خوبی نہیں بلکہ محض اللہ کا احسان ہے کہ اس نے ہمیں اس مملکت کی فرمانروائی کے لیے منتخب فرمایا۔

(27:16)

وَوَرِثَ سُلَیْمٰنُ دَاوٗدَ وَقَالَ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْرِ وَاُوْتِیْنَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ ؕ اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِیْنُ 

اور داوٴدؑ کا وارث سلیمانؑ ہوا20۔ اور اس نے کہا”لوگو، ہمیں پرندوں کی بولیاں سکھائی گئی ہیں21 اور ہمیں ہر طرح کی چیزیں دی گئی ہیں22، بے شک یہ (اللہ کا)نمایاں فضل ہے۔“

حاشیہ نمبر: 20

وراثت سے مراد مال و جائداد کی وراثت نہیں بلکہ نبوت اور خلافت میں حضرت داؤدؑ کی جانشینی ہے۔ مال و جائداد کی میراث اگر بالفرض منتقل ہوئی بھی ہو تو وہ تنہا حضرت سلیمان ہی کی طرف منتقل نہیں ہو سکتی تھی ، کیونکہ حضرت داؤد کی دوسری اولاد بھی موجود تھی۔ اس لیے اس آیت کو اُس حدیث کی تردید میں پیش نہیں کیا جا سکتا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ لا نورث ما ترکنا صدقۃ، ”ہم انبیاء کی رواثت تقسیم  نہیں ہوتی، جو کچھ ہم نے چھوڑاوہ صدقہ ہے “(بخاری، کتاب فرض الخمس) اور ان النبی لا یورث انما میراثہ فی فقراء المسلمین و المساکین،”نبی کا وارث کوئی نہیں ہوتا، جو کچھ وہ چھوڑتا ہے  وہ مسلمانوں کے فقراء اور مساکین میں تقسیم کیا جاتا ہے“(مسند احمد، مرویات ابو بکر صدیقؓ، حدیث نمبر۶۰،نمبر78)           حضرت سلیمان علیہ السلام حضرت داؤد کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے۔ ان کا اصل عبرانی نام سولومون تھا جو ”سلیم“ کا ہم معنی ہے ۔ 9۶5؁ قبل مسیح میں حضرت داؤد کے جانشین ہوئے اور 9۶۶؁ ق م تک تقریباً 4۰ سال فرمانروا رہے۔ ان کے حالات کی تفصیل کے لیےملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، الحجر، حاشیہ 7۔جلد سوم، الانبیاء، حواشی74۔75۔ ان کے حدودِ سلطنت کے متعلق ہمارے مفسرین نے بہت مبالغہ سے کام لیا ہے ۔ وہ انہیں دنیا کے بہت بڑے حصے کا حکمراں بتاتے ہیں، حالانکہ ان کی مملکت صرف موجودہ فلسطین و شرقِ اردن پر مشتمل تھی اور شام کا  ایک حصہ بھی اس میں شامل تھا۔ (ملاحظہ ہو نقشۂ ملک سلیمان، تفہیم القرآن جلد دوم ص598)۔

حاشیہ نمبر: 21

بائیبل اس ذکر سے خالی ہے کہ حضرت سلیمان کو پرندوں اور جانوروں کی بولیوں کا علم دیا گیا تھا۔ لیکن بنی اسرائیل کی روایات میں اس کی صراحت موجود ہے(جیوش انسائکلو پیڈیا۔ جلد 11۔ص439)۔

حاشیہ نمبر: 22

یعنی اللہ کا دیا ہمارے پاس سب کچھ موجود ہے ۔ اس بات کو لفظی معنوں میں لینا درست نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد اللہ کے بخشے ہوئے مال و دولت اور سازو سامان کی کثرت ہے ۔ یہ بات حضرت سلیمانؑ نے فخریہ نہیں فرمائی تھی بلکہ اللہ کے فضل اور اس کی عطا و بخشش کا شکریہ ادا کرنا مقصود تھا۔

(27:17)

وَحُشِرَ لِسُلَیْمٰنَ جُنُوْدُهٗ مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ وَالطَّیْرِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ 

سلیمانؑ کے لیے جن اور انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے تھے23 اور وہ پُورے ضبط میں رکھے جاتے تھے

حاشیہ نمبر: 23

بائیبل میں اس کا بھی کوئی ذکر نہیں ہے کہ جن حضرت سلیمانؑ کے لشکروں میں شامل تھے اور وہ ان سے خدمت لیتے تھے۔ لیکن تَلمود اور ربیوں کی روایات میں اس کا تفصیلی ذکر ملتا ہے (جیوش انسائکلو پیڈیا جلد 11 صفحہ 44۰) موجودہ زمانہ کے بعض لوگوں نے یہ ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے کہ جِن اور طَیر سے مراد جِنّات اور پرندے نہیں ہیں بلکہ انسان ہی ہیں جو حضرت سلیمان ؑ کے لشکر میں مختلف کام کرتے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ جِن سے مراد پہاڑی قبائل کےوہ لوگ ہیں جنہیں حضرت سلیمان ؑ نے مسخر کیا تھا اور وہ ان کے ہاں حیرت انگیز طاقت اور محنت کے کام کرتے تھے۔ اور طیر سے مراد گھوڑ سواروں کے دستے ہیں جو پیدل دستوں کی بہ نسبت بہت زیادہ تیزی سے نقل و حرکت کرتے تھے۔ لیکن یہ قرآن مجدی میں بے جا تاویل کی بد ترین مثالیں ہیں۔ قرآن یہاں جِن، انس اور طَیر، تین الگ الگ اقسام کے لشکر بیان کر رہا ہے اور تینوں پر الف ل تعریف جنس کے لیے لایا گیا ہے ۔ اس لیے لامحالہ الجن اور لطیر، الانس میں شامل نہیں ہو سکتے بلکہ وہ اس سے مختلف دو الگ  اجناس ہی ہو سکتی ہیں۔ علاوہ بریں کوئی شخص جو عربی زبان سے ذرہ برابر بھی واقفیت رکھتا ہو، یہ تصور نہیں کر سکتا کہ اس زبان سے محض لفظ الجِن بول کر انسانوں کا کوئی گروہ یا محض الطیر بول کر سواروں کارسالہ کبھی مراد لیا جا سکتا ہے اور کوئی عرب ان الفاظ کو سن کر ان کے یہ معنی سمجھ سکتا ہے۔ محض محاورے میں کسی انسان کو اس کے فوق العادۃ کام کی وجہ سے جِن، یا کسی عورت کو اس کے حسن کی وجہ سے پری، اور کسی تیز رفتار آدمی کو پرندہ کہہ دینا  یہ معنی نہیں رکھتا کہ اب جِن کے معنی طاقت ور آدمی اور پری کے معنی حسین عورت اور پرندے کے معنی تیز رفتار انسان ہی کے ہو جائیں۔ ان الفاظ کے یہ معنی تو مجاز ی ہیں نہ کہ حقیقی، اور کسی کلام میں کسی لفظ کو حقیقی معنی چھوڑ کر مجازی معنوں میں صرف اُسی وقت استعمال کیا جا سکتا ہے، اور سننے والے بھی ان کو مجاز ی معنوں میں صرف اُسی وقت لے سکتے ہیں جب کہ آس پاس کوئی واضح قرینہ ایسا موجود ہو جو اس کے مجاز ہونے پر دلالت کر تا ہو۔ یہاں آخر کونساقرینہ پایا جاتا ہے جس سے یہ گمان کیا جا سکے کہ جِن اور طیر کے الفاظ اپنے حقیقی لغوی معنوں میں نہیں بلکہ مجازی معنوں میں استعمال کیے گئے ہیں ؟ بلکہ آگے ان دونوں گروہوں کے ایک ایک فرد کا جو حال اور کام بیان کیا گیا ہے وہ تو اس تاویل کے بالکل خلاف معنی پر صریح دلالت کر رہا ہے ۔ کسی شخص کا دل اگر قرآن کی بات پر یقین نہ کرنا چاہتا ہو تو اسے صاف کہنا چاہیے کہ میں اس بات کو نہیں مانتا۔ لیکن یہ بڑی اخلاقی بزدلی اور علمی خیانت ہے کہ آدمی قرآن کے صاف صاف الفاظ کو توڑ مروڑ کر اپنے من مانے معنی پر ڈھالے اور یہ ظاہر کرے کہ وہ قرآن کے بیان کو مانتا ہے، حالانکہ دراصل قرآن نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ اسے نہیں بلکہ خود اپنے زبردستی گھڑے ہوئے مفہوم کو مانتا ہے۔

(27:18)

حَتّٰۤی اِذَاۤ اَتَوْا عَلٰی وَادِ النَّمْلِ قَالَتْ نَمْلَةٌ یّٰۤاَیُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسٰكِنَكُمْ لَا یَحْطِمَنَّكُمْ سُلَیْمٰنُ وَجُنُوْدُهٗ وَهُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ 

(ایک مرتبہ وہ ان کے ساتھ کُوچ کر رہا تھا)یہاں تک کہ جب یہ سب چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا”اے چیونٹیو، اپنے بلوں میں گھُس جاوٴ، کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیمانؑ اور اس کے لشکر تمہیں کُچل ڈالیں اور انہیں خبر بھی نہ ہو۔“24

حاشیہ نمبر: 24

اس آیت کو بھی  آج کل کے بعض مفسرین نے تاویل کے خراوپر چڑھایا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ وادی النمل سے مراد چیونٹیوں  کی وادی نہیں ہے بلکہ یہ ایک وادی کا نام ہے جو شام کے علاقے میں تھی اور نملۃ کے معنی ایک چیونٹی کے نہیں ہیں  بلکہ یہ ایک قبیلہ کا نام ہے ۔ اس طرح وہ آیت کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ ”جب حضرت سلیمانؑ وادی النمل میں پہنچے تو ایک نملی نے کہا کہ اے قبیلہ نمل کے  لوگو.....“۔ لیکن یہ بھی ایسی تاویل ہے جس کا ساتھ قرآن کے الفاظ نہیں دیتے ۔ اگر بالفرض وادی النمل کو اُس وادی کا نام مان لیا جائے ، اور یہ بھی مان لیا جائے کہ وہاں بنی النمل نام کا کوئی قبیلہ رہتا تھا، تب بھی یہ بات عربی زبان کے استعمالات کے بالکل خلاف ہے کہ قبیلہ نمل کے ایک فرد کو نملہ کیا جائے۔ اگرچہ جانوروں کے نام پر عرب کے بہت سے قبائل کے نام ہیں، مثلاً کلب، اسد وغیرہ ۔ لیکن عرب قبیلہ کلب کے کسی فرد کے متعلق قال کلب( ایک کتے نے یہ کہا) یا قبیلہ اسد کے کسی شخص کے متعلق قَالَ اَسَدٌ ( ایک شیر نے کہا) ہر گز نہیں بولے گا۔ اس لیے بنی النمل کے ایک فرد کے متعلق یہ کہنا کہ قَالَتْ نَمْلَۃٌ، ( ایک چیونٹی یہ بولی) قطعاً عربی  محاورہ و استعمال کے خلاف ہے ۔ پھر قبیلہ نمل کے ایک فرد کا بنی النمل کو پکار کر یہ کہنا کہ”اے نمیلو، اپنے گھروں میں گُھس جاؤ کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیمان کے  لشکر تم کو کچل ڈالیں  اور انہییں خبر بھی نہ ہو“بالکل بے معنی ہے۔ انسانوں کے کسی گروہ کو انسانوں کا کوئی لشکر بے خبری میں  نہیں کچلا کرتا ۔ اگر وہ اُن پر حملے کی نیت سے آیا ہو تو اُن کا اپنے گھروں میں گھس جانا لا حاصل ہے۔ حملہ آور اُن کے گھروں میں گھس کا انہیں اور زیادہ اچھی طرح کچلیں گے۔ اور اگر وہ محض کوچ کرتا ہوا گزر رہا ہو تو اس کے لیے بس راستہ صاف چھوڑد ینا کافی ہے ۔ کوچ کرنے والوں کی لپیٹ میں آکر انسانوں کو نقصان تو پہنچ سکتا ہے ، مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ چلتے ہوئے انسان بے خبری میں انسانوں کو کچل ڈالیں۔لہذا اگر بنی النمل کو ئی انسانی  قبیلہ ہوتاق اور اس کا کوئی فرد اپنے قبیلے کے لوگوں کو خبر دار کر نا چاہتا تو حملے کے خطرے کی صورت میں وہ کہتا کہ ”اے نمیلو، راستہ سے ہٹ جاؤ تا کہ تم میں  سے کوئی شخص سلیمانؑ کے لشکروں کی جھپیٹ میں نہ آجائے“۔           یہ تو وہ غلطی ہے جو اس تاویل میں عربی زبان اور مضمون عبارت کے اعتبار سے ہے۔ رہی یہ بات کہ وادی النم دراصل اس وادی کا نام تھا، اور وہاں بنی النمل نامی کوئی قبیلہ رہتا تھا، یہ محض ایک مفروضہ ہے جس کے لیے کوئی علمی ثبوت موجود نہیں ہے ۔ جن لوگوں نے اس وادی کا نام قرار دیا ہے انہوں نے خو د یہ تصریح کی ہے کہ اسے چیونٹیوں کی کثرت کے باعث یہ نام دیا گیا تھا۔ قَتَادہ اور مُقاتل کہتے ہیں کہ واد با رض الشامِ کثیر النمل ” وہ ایک وادی ہے سرزمینِ شام میں جہاں چیونٹیاں بہت ہیں“۔ لیکن تاریخ و جغرافیہ کی کسی کتاب میں اور آثار قدیمہ کی کسی تحقیقات میں یہ مذکور نہیں ہے کہ اس وادی میں بنی النمل نامی کوئی قبیلہ بھی رہتا تھا۔ یہ صرف ایک من گھڑت ہے جو اپنی تاویل کی گاڑی چلانے کے وضع کر لی گئی ہے۔           بنی اسرائیل کی روایات میں بھی یہ قصہ پایا جاتا ہے ۔ مگر اس کا آخری حصہ  قرآن کے خلاف ہے اور حضڑت سلیمانؑ کی شان کے خلاف بھی ہے ۔ اس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ جب ایک وادی سے گزر رہے تھے جس میں چیونٹیاں بہت تھیں تو انہوں نے سنا کہ ایک چیونٹی پکار کردوسری چیونٹیوں سے کہہ رہی ہے کہ ”اپنے گھروں میں داخل ہو جاؤ ورنہ سلیمانؑ کے لشکر تمہیں کچل ڈالیں گے“۔اس پر حضرت سلیمانؑ نے اس چیونٹی کے سامنے بڑے تکبر کا اظہار کیا اور جواب میں اس چیونٹی نے ان سے کہا کہ تمہاری حقیقت کیا ہے ، ایک حقیر بوند سے تو تم پیدا ہوئے ہو ۔ یہ سن کر حضرت سلیمانؑ شرمندہ ہو گئے(جیوش انسائکلو پیڈیا، ج11، ص44۰)۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قرآن کس طرح بنی اسرائیل کی غلط روایا ت کی تصحیح کرتا  ہے  اور ان گندگیوں کو صاف کرتا ہے جو انہوں نے خود اپنے پیغمبروں کی سیرتوں پر ڈال دی تھیں۔ اِ ن روایات کے متعلق مغربی مستشرقین بے شرمی کے ساتھ یہ دعوٰی کرتے ہیں کہ قرآن نے سب کچھ ان سے سر قہ کر لیا ہے۔           عقلی حیثیت سے یہ بات کچھ بھی بعید نہیں ہے کہ ایک چیونٹی اپنی جنس کے افراد کو کسی آتے ہوئے خطرے سے خبر دار کرے اور بلوں میں گھس جانے کے لییے کہے۔ رہی یہ بات کہ حضرت سلیمانؑ نے اس کی بات کیسے سُن لی، تو جس شخص کے حواس کلامِ وحی جیسی لطیف چیزکا ادراک کر سکتے  ہوں، اس کے لیے چیونٹی کے کلام جیسی کثیف (Crude ) چیز کا ادراک کر لینا کوئی بڑی مشکل بات نہیں ہے۔

(27:19)

فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنْ قَوْلِهَا وَقَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَعَلٰی وَالِدَیَّ وَاَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَاَدْخِلْنِیْ بِرَحْمَتِكَ فِیْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِیْنَ 

سلیمانؑ اس کی بات پر مُسکراتے ہوئے ہنس پڑا اور بولا۔۔۔۔”اے میرے ربّ، مجھے قابو میں رکھ25 کہ میں تیرے احسان کا شکر ادا کرتا رہوں جو تُو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کیا ہے اور ایسا عملِ صالح کروں جو تجھے پسند آئے اور اپنی رحمت سے مجھ کو اپنے صالح بندوں میں داخل کر۔“26

حاشیہ نمبر: 25

اصل الفاظ ہیں رَبِّ اَوْ زِعْنِیْ ۔ وزع کے اصل معنی عرب  زبان میں روکنے کے ہیں۔ اس موقع پر حضڑت سلیمانؑ کا یہ کہنا کہ اَوْزِعْنِیْ اَنْ اَشْکُرَ نِعْمَتَکَ ( مجھے روک کہ میں تیرے احسان کا شکر ادا کروں) ہمارے نزدیک دراصل یہ معنی دیتا ہے کہ اے میرے رب جو عظیم الشان قوتیں اور قابلیتیں تو نے مجھے دی ہیں وہ ایسی ہیں کہ اگر  میں ذرا سی غفلت میں بھی مبتلا ہو جاؤں تو حدِّ بندگی سے خارج ہو کر اپنی کبریائی کے خبط میں نہ معلوم کہاں سے کہاں نکل جاؤں۔ اس لیے اے میرے پر وردگار، تو مجھے قابو میں رکھ تا کہ میں کافرِ نعمت بننے کے بجائے شکرِ نعمت پر قائم رہوں۔

حاشیہ نمبر: 26

صالح بندوں میں داخل کرنے سے مراد غالباً یہ ہے کہ آخرت میں میراانجام صالح بندوں کے ساتھ ہو اور  میں ان کے ساتھ جنت میں داخل ہوں ۔ اس لیے کہ آدمی جب عمل صالح کر ے گا تو صالح تو وہ آپ سے آپ  ہوگا ہی، البتہ آخرت میں کسی کا جنت میں داخل ہونا محض اس کے عمل صالح کے بل بوتے پر نہیں ہو سکتا بلکہ یہ اللہ کی رحمت پر موقوف ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لن ید خل احد کم الجنۃ عملہ”تم میں سے کسی کو بی محض اس کا عمل جنت میں نہیں  پہنچا دے گا“۔غرض کیا گیا کہ ولا انت یا رسُول اللہ”کیا حضورؐ کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے“؟فرمایا ولا انا الا ان یتغمد فی اللہ تعالیٰ برحمتہ” ہاں، میں بھی محض اپنے عمل کے بل بوتے پر جنت میں نہ چلا جاؤں گا جب تک  اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے مجھے نہ ڈھانک لے“۔           حضرت سلیمانؑ کی یہ دعا اس موقع پر بالک بے محل ہو جاتی ہے اگر النمل سے مراد انسانوں کا کوئی قبیلہ لے لیا جائے اور نملۃ کے معنی قبیلہ نمل کے ایک فرد کے لے لیے جائیں ۔ ایک بادشاہ کے لشکر جرار سے ڈر کر کسی انسانی قبیلہ کے ایک فرد کا اپنے قبیلے کو خطرہ سے خبر دار کرنا آخر کونسی ایسی غیر معمولی بات ہے کہ وہ جلیل القدر بادشاہ اس پر خدا سے یہ دعا کرنے لگے۔ البتہ ایک شخص کو اتنی زبردست قوتِ ادراک حاصل ہونا کہ وہ دور سے ایک چیونٹی کی آواز بھی سُن لے اور اس کا مطلب بھی سمجھ جائے ضرور ایسی بات ہے جس سے آدمی کے غرورِ نفس میں مبتلا ہوجانے کا خطرہ ہو۔ اسی صورت میں حضرت سلیمانؑ کی  یہ دعا بر محل ہو سکتی ہے۔

(27:20)

وَتَفَقَّدَ الطَّیْرَ فَقَالَ مَا لِیَ لَاۤ اَرَی الْهُدْهُدَ ؗ اَمْ كَانَ مِنَ الْغَآىِٕبِیْنَ 

(ایک اور موقع پر)سلیمانؑ نے پرندوں کا جائزہ لیا27 اور کہا”کیا بات ہے کہ میں فلاں ہُد ہُد کو نہیں دیکھ رہا ہوں۔ کیا وہ کہیں غائب ہو گیا ہے؟

حاشیہ نمبر: 27

یعنی اُن پرندوں کا جن کے متعلق اوپر ذکر کیا جا چکا ہے کہ جِن اور انس کی طرح ان کے لشکر بھی حضرت سلیمان کے عسا کر میں شامل تھے۔ ممکن ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام ان سے خبررسائی ، شکار اور اسی طرح کے دوسرے کام لیتے ہوں۔

(27:21)

لَاُعَذِّبَنَّهٗ عَذَابًا شَدِیْدًا اَوْ لَاَاَذْبَحَنَّهٗۤ اَوْ لَیَاْتِیَنِّیْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ 

میں اسے سخت سزا دوں گا، یا ذبح کر دوں گا، ورنہ اسے میرے سامنے معقول وجہ پیش کرنی ہوگی۔28

حاشیہ نمبر: 28

موجودہ زمانے  کے بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہُد ہُد سے مراد وہ پرندہ نہیں ہے جو عربی اور اُردو زبان میں اس نام سے معروف ہے بلکہ یہ ایک آدمی کا نام ہے جو حضرت سلیمانؑ کی فوج میں ایک افسر تھا ۔ اس دعوے کی بنیاد یہ نہیں ہے کہ تاریخ میں کہیں ہُد ہُد نام کا کوئی شخص اِن حضرات کو سلیمان علیہ السلام کی حکومت کے افسروں کی فہرست میں مل گیا ہے، بلکہ یہ عمارت صرف اس استدلال پر کھڑی کی گئی ہے کہ جانوروں کے ناموں پر انسانوں کے نام رکھنے کا رواج تمام زبانوں کی طرح عربی زبان میں بھی پایا جاتا ہے اور عبرانی میں بھی تھا۔ نیز یہ کہ آگے اس ہُد ہُد کا جو کام بیان کیا گیا ہے اور حضرت سلیمانؑ سے اس کی گفتگو کا جو ذکر ہے وہ ان کے نزدیک صرف ایک انسان ہی کر سکتا ہے۔ لیکن قرآن مجید کے سیاق ِ کلام کو آدمی دیکھے تو صاف معلوم ہوا ہے کہ یہ قرآن کی تفسیرنہیں بلکہ اس کی تحریف، اور اس سے بھی کچھ پڑھ کر اس کی تغلیظ ہے۔ آخر قرآن کو انسان کی عقل و خرو سے کیا دشمنی ہے کہ وہ کہنا تو یہ چاہتا ہو کہ حضرت سلیمان کے رسالے یا پلٹن یا محکمہ خبر رسانی کا ایک آدمی غائب تھا جسے انہوں نے تلاش کیا اور اس نے حاضر ہو کر یہ خبر دی اور اسے حضرت موصوف نے اِس خدمت پر بھیجا ، لیکن اسے وہ مسلسل ایسی چسیتان کی زبان میں بیان کرے کہ پڑھنے والا اول سے لے کر آخر تک اسے پرندہ ہی سمجھنے پر مجبور ہو۔ اس سلسلہ میں ذرا قرآن مجید کے بیان کی ترتیب ملا حظہ فرمائیے۔           پہلے ارشاد ہوتا ہے کہ حضرت سلیمانؑ نے اللہ کے اس فضل پر اظہارِ افتنانِ کیا کہ ”ہمیں منطق الطیر کا علم دیا گیا ہے“۔ اس فقرے میں اوّل تو طیر کا لفظ مطلق ہے جسے ہر عرب اور عربی دان پرندے ہی کے معنی میں لے گا۔ کیونکہ کوئی قرینہ اس  کے استعارہ و مجاز ہونے پر دلالت نہیں کر رہا ہے۔ دوسرے ، اگر طیر سے مراد پرندہ نہیں بلکہ انسانوں کا کوئی گروہ ہو تو اس کے لیے منطق (بولی) کے بجائے لغت یا لسان (یعنی زبان) کا لفظ زیادہ صحیح ہوتا ۔ اور پھر کسی شخص کا کسی دوسرے انسانی گروہ کی زبان جاننا کوئی بہت بڑی بات نہیں ہے کہ وہ خاص طور پر اس کا ذکر کرے۔ آج ہمارے درمیان ہزار ہا آدمی بہت سی غیر زبانوں کے بولنے اور سمجھنے والے موجود ہیں۔ یہ آخر کونسا بڑا کمال ہے جسے اللہ تعالیٰ کا غیر معمولی عطیہ قرار دیا جا سکے۔           اس کے بعد فرمایاگیا کہ ”سلیمان کے لیے جِن اور انس اور طیر کے لشکر جمع کیے گئے تھے“۔ اس فقرے میں اوّل تو جِن اور انس اور طیر، تین معروف اسمائے جنس استعمال ہوئے ہیں جو تین مختلف اور معلوم اجناس کے لیے عربی زبان میں مستعمل ہیں۔ پھر انہیں مطلق استعمال کیا گیا ہے اور کوئی قرینہ ان میں سے کسی کے استعارہ و مجاز یا تشبیہ ہونے کا موجود نہیں ہے جس سے ایک آدمی لغت کے معروف معنوں کے سوا کسی اور معنی میں انہیں لے۔ پھر انس کا لفظ جِن اور طَیر کے درمیان آیا ہے جو یہ معنی لینے میں صریحاً مانع ہے کہ جِن اور طَیر دراصل انس ہی کی جنس کے دو گروہ تھے۔ یہ معنی مراد ہوتے تو الجن و الطیر من الانس کہا جاتا نہ کہ من الجن و الانس و الطیر۔           آگے چل کر ارشاد ہوتا ہے کہ حضرت سلیمانؑ طَیر کا جائزہ لے رہے تھے اور ہُدہُد کو غائب دیکھ کر انہوں نے یہ بات فرمائی۔ اگر یہ طَیر انسان تھاے اور ہُد ہُد بھی کسی آدمی کا نام ہی تھا تو کم از کم کوئی لفظ تو ایسا کہہ دیا جاتا کہ بے چارہ پڑھنے والا اس کو جانور نہ سمجھ بیٹھتا۔ گروہ کا نام پرندہ اور  اور اس کے ایک فرد کا نام ہُدہُد ، پھر بھی ہم سے توقع کی جاتی ہے کہ ہم آپ سے آپ  اسے انسان سمجھ لیں گے۔           پھر حضرت سلیمانؑ فرماتے ہیں کہ ہُدہُد یا تو اپنے غائب ہونے کی کوئی معقول وجہ بیان کرے ورنہ میں اسے سخت سزا دوں گا یا ذبح کر دوں گا۔ انسان کو قتل کیا جاتا ہے ، پھانسی دی جاتی ہے ، سزائے موت دی جاتی ہے، ذبح کون کرتا ہے؟ کوئی بڑا ہی سنگدل اور بے درد آدمی جو شِ انتقام میں اندھا ہو چکا ہو تو شادہ کسی آدمی کو ذبح بھی کر دے، مگر کیا پیغمبر سے ہم یہ توقع کریں کہ وہ اپنی فوج کے ایک آدمی کو محض غیر حاضر(Deserter ) ہونے کے جرم میں ذبح کر دینے کا اعلان کر ے گا، اور اللہ میاں سے یہ حُسنِ ظن رکھیں کہ وہ ایسی سنگین بات کا ذکر کر کے اس پر مذمت کا ایک لفظ بھی نہ فرمائیں گے؟           کچھ دور آگے چل کر ابھی آپ دیکھیں گے کہ حضرت سلیمانؑ اسی ہُد ہُد کو ملکہ سبا کے نام خط دے کر بھیجتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اے ان کی طرف ڈال دے یا پھینک دے (اَلْقِہْ اِلَیْھِمْ)۔ ظاہر ہے کہ یہ ہدایت پرندے کو تو دی جا سکتی ہے لیکن کسی آدمی کو سفیر یا ایلچی یا قاصد بنا کر بھیجنے کی صورت میں یہ انتہائی موزوں ہے ۔ کسی کی عقل ہی خبط ہوگئی تو وہ مان لے گا کہ ایک ملک کا بادشاہ دوسرے ملک کی ملکہ کے نام خط دے کر اپنے سفیر کو اس ہدایت کے ساتھ بھیج سکتا ہے کہ اسے لے جا کر اس کے آگے ڈال دے یا اس کی طرف پھینک دے ۔ کیا تہذیب و شائستگی کے اُس ابتدائی مرتبے سے بھی  حضرت سلیمان کو  گرا ہوا فرض کر لیا جائے جس کا لحاظ ہم جیسے معمولی لوگ بھی اپنے کسی ہمسائے کے پاس اپنے ملازم کو بھیجتے ہوئے رکھتے ہیں؟ کیا کوئی شریف آدمی اپنے ملازم سے یہ کہہ سکتا ہے کہ میرا یہ خط لے جا کر فلاں صاحب کے آگے پھینک آ؟           یہ تمام قرائن صاف بتا رہے  ہیں کہ یہاں ہُدہُد کا مفہوم وہی ہے جو ازرو نے لغت اس لفظ کا مفہوم ہے، یعنی یہ کہ وہ انسان نہیں بلکہ ایک پرندہ تھا۔ اب اگر کوئی شخص یہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہے کہ  ایک ہُدہُد وہ باتیں کر سکتا ہے جو قرآن اس کی طرف منسوب کر رہا ہے تو اسے صاف صاف کہنا چاہیے کہ میں قرآن کی اس بات کو نہیں مانتا۔ اپنے عدمِ ایمان کو اس پردے میں چھپانا کہ قرآن کے صاف اور صریح الفاظ میں اپنے من مانے معنی بھرے جائیں ، گھٹیا درجے کی منافقت ہے۔

(27:22)

فَمَكَثَ غَیْرَ بَعِیْدٍ فَقَالَ اَحَطْتُّ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ وَجِئْتُكَ مِنْ سَبَاٍۭ بِنَبَاٍ یَّقِیْنٍ 

کچھ زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ اُس نے آکر کہا”میں نے وہ معلومات حاصل کی ہیں جو آپ کے عِلم میں نہیں ہیں۔ میں سَبا کے متعلق یقینی اطلاع لے کر آیا ہوں۔29

حاشیہ نمبر: 29

سبا جنوبی عرب کی مشہور تجارت پیشہ قوم تھی جس کا دارالحکومت مارِب ، موجودہ یمن کے دارالسطنت صنعاء سے 55 میل بجانب شمال مشرق واقع تھا۔ اس کا زمانہ عروج مَعِین کی سلطنت کے زوال کے بعد تقریباً 11۰۰؁ ق م سے شروع ہوا اور ایک ہزار سال تک یہ عرب میں اپنی عظمت کے ڈنکے بجاتی رہی۔ پھر 115؁ ق م میں جنوبی عرب کی دوسری مشہور قوم حِمْیَر نے اس کی جگہ لے لی۔ عرب میں یمن اور حضرموت، اور افریقہ میں حبش کے علاقے پر اس کا قبضہ تھا۔ مشرقی افریقہ، ہندوستان، مشرق بعید اور خود عرب کی جتنی تجارت مصر و شام اور یونان وروم کے ساتھ ہوتی تھی وہ زیادہ تر انہی سبا ئیوں کے ہاتھ میں تھی۔ اسی وجہ سے یہ قوم قدیم زمانہ میں اپنی دولت کے لیے نہایت مشہور تھی۔ بلکہ یونانی مورخین تو اسے دنیا کی سب سے زیادہ مالدار قوم کہتے ہیں ۔ تجارت کے علاوہ ان کی خوشحالی کا بڑا سبب یہ تھا کہ انہوں نے اپنے ملک میں جگہ جگہ بند باندھ کر ایک بہترین نظامِ آب پاشی قائم کر رکھا تھا جس سے اُن کا پورا علاقہ جنت بنا ہوا تھا۔ اُن کے ملک کی اس غیر معمولی سر سبزی و شادابی کا ذکر یونانی مورخین نے بھی کیا ہے اور سورہ سبا کے دوسرے رکوع میں قرآن مجید بھی اس کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ہُدہُد کا یہ بیان کہ”میں نے وہ معلومات حاصل کی ہیں جو آپ کے علم میں نہیں ہیں“۔یہ معنی نہیں رکھتا کہ حضرت سلیمانؑ سبا سے بالکل ناواقف تھے۔ ظاہر ہے کہ فلسطین و شام کے جس فرمانروا کی سلطنت بحرِ احمر کے شمال کنارے (خلیج عقبہ) تک پہنچی ہوئی تھی وہ اسی بحر احمر کے جنوبی کنارے(یمن) کی ایک ایسی  قوم سے ناواقف نہ ہو سکتا تھا جو بین الاقوامی تجارت کے ایک اہم حصے پر قابض تھی۔ علاوہ ازیں زَبُور سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمانؑ سے بھی پہلے اُن کے والد ماجد حضرت داؤد سبا سے واقف تھے۔ اُن کی دعا کہ یہ  الفاظ زبور میں ہمیں ملتے ہیں:       ”اے خدا ، بادشاہ(یعنی خود حضرت داؤدؑ) کو اپنے احکام اور شاہزادے(یعنی حضرت سلیمانؑ) کو اپنی صداقت عطا فرما..... تر سیس اور جزیروں کے بادشاہ نذریں  گزار میں گے۔ سبا اور شیبا(یعنی سبا کی یمنی اور حبش شاخوں )کے بادشاہ ہدیے لائیں گے“۔(72:1۔2و1۰۔11)۔           اس لیے ہُدہُد کے قول کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ قوم سبا کے مرکز میں جو چشم دید حالات میں دیکھ کر آیا ہوں وہ ابھی تک آپ کو نہیں پہنچے ہیں۔

(27:23)

اِنِّیْ وَجَدْتُّ امْرَاَةً تَمْلِكُهُمْ وَاُوْتِیَتْ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ وَّلَهَا عَرْشٌ عَظِیْمٌ 

میں نے وہاں ایک عورت دیکھی جو اس قوم کی حکمران ہے اُس کو ہر طرح کا ساز و سامان بخشا گیا ہے اور اس کا تخت بڑا عظیم الشان ہے

(27:24)

وَجَدْتُّهَا وَقَوْمَهَا یَسْجُدُوْنَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَزَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ فَهُمْ لَا یَهْتَدُوْنَ 

میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کے بجائے سُورج کے آگے سجدہ کرتی ہے30“۔۔۔۔31شیطان نے ان کے اعمال ان کے لیے خوشنما بنا دیے32 اور انہیں شاہراہ سے روک دیا، اس وجہ سے وہ یہ سیدھا راستہ نہیں پاتے

حاشیہ نمبر: 30

اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ قوم اس زمانے میں آفتاب پرستی کے مذہب کی پیرو تھی۔ عرب کے قدیم روایات سے بھی اس کا یہی مذہب معلوم ہوتا ہے ، چنانچہ ابن اسحاق علمائے انساب کا یہ قول نقل کرتا ہے کہ سبا کی قوم دراصل ایک مورثِ اعلیٰ کی طرف منسوب ہے جس کا نام عبدِ شمس (بندہ آفتاب یا سورج کا پرستار) اور لقب سبا تھا۔ بنی اسرائیل کی روایات بھی اسی کی تائید کرتی ہیں۔ان میں بیان کیا گیا ہے کہ ہُدہُد جب حضرت سلیمان کا خط لے کر پہنچا تو ملکہ سبا سورج دیوتا کی پرستش کے لیے جا رہی تھی۔ ہُدہُد نے راستے ہی میں وہ خط ملکہ کے سامنے پھینک دیا۔

حاشیہ نمبر: 31

اندازِ کلام سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہاں سے آخر پیر اگر اف تک کی عبارت ہُدہُد کے کلام کا جُز نہیں ہے بلکہ ”سورج کے آگے سجدہ کرتی ہے“ پر اس کی بات ختم ہوگئی اور اس کے بعد اب یہ ارشاد اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر بطور اضافہ ہے ۔ اس قیاس کو جو یز تقویت دیتی ہے وہ یہ فقرہ ہے  وَیَعْلَمُ مَا تُخْفُوْنَ وَمَا تُعْلِنُوْنَ،”اور وہ سب کچھ جانتا ہے  جسے تم چھپاتے اور ظاہر کرتے ہو“۔ان الفاظ سے یہ گمان غالب ہوتا ہے کہ متکلم ہُدہُد اور مخاطب حضرت سلیمانؑ اور ان کے اہلِ دربار نہیں ہیں، بلکہ متکلم اللہ تعالیٰ اور مخاطب مشرکین ِ مکہ ہیں جن کو نصیحت کرنے ہی کے لیے یہ قصہ سنا یا جا رہا ہے۔ مفسیرن میں سے علامہ آلوسی، صاحبِ روح المعانی بھی اسی قیاس کو ترجیح دیتے ہیں۔

حاشیہ نمبر: 32

یعنی دنیا کی دولت کمانے اور اپنی زندگی کو زیادہ سے زیادہ شاندار بنا نے کے جس کام میں وہ منہمک تھے، شیطان نے اُن کو سُجھا دیا کہ بس یہی عقل و فکر  کا ایک مصرف اور قوائے ذہنی و جسمانی کا ایک استعمال ہے ، اِس سے زیادہ کسی چیز پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کی حاجت ہی نہیں ہے کہ تم خواہ مخواہ اِس فکر میں پڑو کہ اس ظاہر حیاتِ دنیا کے پیچھے حقیقتِ واقعیہ کیا ہے اور تمہارے مذہب، اخلاق، تہذیب اور نظامِ حیات کی بنیاد یں اُس حقیقت سے مطابقت رکھتی ہیں یا سراسر اس کے خلاف جا رہی ہیں۔ شیطان نے ان کو مطمئن کر دیا کہ جب تم دنیا میں دولت اور طاقت اور شان و شوکت کے لحاظ سے بڑھتے  ہی چلے جا رہے ہو تو پھر تمہیں یہ سوچنے کی ضرورت ہی کی اہے کہ ہمارے یہ عقائد اور فلسفے اور نظر یے ٹھیک ہیں یا نہیں۔ ان کے ٹھیک ہونے کی تو یہی ایک دلیل کافی ہے کہ تم مزے سے دولت کما رہے ہو اور عیش اُڑا رہے ہو۔

(27:25)

اَلَّا یَسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ یُخْرِجُ الْخَبْءَ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَیَعْلَمُ مَا تُخْفُوْنَ وَمَا تُعْلِنُوْنَ 

کہ اُس خدا کو سجدہ کریں جو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزیں نکالتا  ہے33 اور سب کچھ جانتا ہے جسے تم لوگ چھُپاتے ہو اور ظاہر کرتے ہو۔34

حاشیہ نمبر: 33

یعنی جوہر آن اُن چیزوں کو ظہور میں لا رہا ہے جو پیدائش سے پہلے نہ معلوم کہاں پوشیدہ تھیں۔ زمین کے پیٹ سے ہر آن بے شمار نباتات نکال رہا ہے  اور طرح طرح کے معدنیات خارج کر رہا ہے ۔ عالم بالا کی فضاؤں سے وہ وہ چیزیں سامنے لا رہا ہے جن کے ظہور میں آنے سے پہلے انسان کا وہم و گمان بھی ان تک نہ پہنچ سکتا تھا۔

حاشیہ نمبر: 34

یعنی اس کا علم ہر چیز پر حاوی ہے ۔ اس کے لیے ظاہر اور مخفی سب یکساں ہیں۔ اس پر سب کچھ عیاں ہے۔           اللہ تعالیٰ کی ان دوصفات کو بطورِ نمونہ بیان کرنے سے مقصود دراصل یہ ذہن نشین کرنا ہے کہ اگر وہ لوگ شیطان کے دھوکے میں نہ آتے تو یہ سیدھا راستہ انہیں  صاف نظر آ سکتا تھا کہ آفتاب نامی ایک دبکتا ہوا کُرہ ، جو بیچارہ خود اپنے وجود کا ہوش بھی نہیں رکھتا، کسی عبادت کا مستحق نہیں ہے ، بلکہ صرف وہ ہستی اس کا ستحقاق رکھتی ہے جو علیم و خبیر ہے  اور جس کی قدرت ہر لحظہ نئے نئے کرشمے ظہور میں لا رہی ہے۔

(27:26)

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ 

اللہ کہ جس کے سوا کوئی مستحق ِ عبادت نہیں، جو عرشِ عظیم کا مالک ہے۔35

حاشیہ نمبر: 35

اس مقام پر سجدہ واجب ہے ۔ یہ قرآن کے اُن مقامات  میں سے ہے جہاں سجدہ تلاوت واجب ہونے پر فقہاء کا اتفاق ہے ۔ یہاں سجدہ کرنے سے مقصود یہ ہے کہ ایک مومن اپنے آپ کو آفتاب پرستوں سے جدا کرے اور اپنے عمل سے اس بات کا اقرار و اظہار کرے کہ وہ آفتاب کو نہیں  بلکہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کو اپنا مسجود و معبود مانتا ہے۔

(27:27)

قَالَ سَنَنْظُرُ اَصَدَقْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ 

سلیمانؑ نے کہا "ابھی ہم دیکھے لیتے ہیں کہ تو نے سچ کہا ہے یا تو جھوٹ بولنے والوں میں سے ہے

(27:28)

اِذْهَبْ بِّكِتٰبِیْ هٰذَا فَاَلْقِهْ اِلَیْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرْ مَاذَا یَرْجِعُوْنَ 

میرا یہ خط لےجا او ر اسے ان لوگوں کی طرف ڈال دے، پھر الگ ہٹ کر دیکھ کہ وہ کیا ردِ عمل ظاہر کرتے ہیں۔“36

حاشیہ نمبر: 36

یہاں پہنچ کر ہُد ہُد کا کردار ختم ہوتا ہے ۔ عقلیت کے مدعی حضرات نے جس بنا پر اسے پرندہ ماننے سےا نکار کیا ہے وہ یہ ہے کہ انہیں ایک پرندے کا اِس قوتِ مشاہدہ ، قوت تمیز اور قوتِ بیان سے بہرہ در ہونا بعید از امکان معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک ملک پر گزرے اور یہ جان لے کہ یہ قوم سبا کا ملک ہے، اس ملک کا نظامِ حکومت یہ ہے، اس کی فرمانروا فلاں عورت ہے ، اس کا مذہب آفتاب پرستی ہے، اس کو خدائے واحد کا پرستا ر ہونا چاہیے تھا مگر یہ گمراہی میں مبتلا ہے ، اور اپنے یہ سارے مشاہدات وہ آکر اس وضاحت کے ساتھ حضرت سلیمانؑ سے بیان کر دے۔ انہی وجوہ سے کھلے کھلے ملا حدہ قرآن پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ وہ کَلِیلَہ وِمْنَہ کی سی باتیں کرتا ہے ، اور قرآن کی عقلی تفسیریں کرنے والے اس کے الفاظ کو ان کے صریح معنی سے پھیر کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ حضرت ہُدہُد تو سرے سے کوئی پرندے تھے ہی نہیں۔ لیکن ان دونوں قسم کے حضرات کے پاس آخر وہ کیا سائنٹیفک معلومات ہیں جن کی بنا پر وہ قطعیت کے ساتھ کہہ سکتے ہوں کہ حیوانات اور ان کی مختلف انواع اور پھر ان کے مختلف افراد کی قوتیں اور  استعداد یں کیا ہیں اور کیا نہیں ہیں۔ جن چیزوں کو وہ معلومات سمجھتے ہیں وہ درحقیقت اُس نہایت ناکافی مشاہدے سے اخذ کردہ نتائج ہیں جو محض سر سری طور پر حیوانات کی زندگی اور ان کے برتاؤ کا کیا گیا ہے ۔ انسان کو آج تک کسی یقینی ذریعہ سے یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ مختلف قسم کے حیوانات کیا جانتے ہیں، کیا کچھ دیکھتے اور سنتے ہیں، کیا محسوس کرتے ہیں، کیا سوچتے اور سمجھتے ہیں ، اور ان میں سے ہر ایک کا ذہن کس طرح کام کرتا ہے۔ پھر بھی جو تھوڑا بہت مشاہد مختلف انواع حیوانی کی زندگی کا کیا گیا ہے اس سے ان کی نہایت حیرت انگیز استعدادوں کا پتہ چلا ہے۔ اب اگر اللہ تعالیٰ ، جو اِن حیوانات کا خالق ہے ، ہم کو یہ بتاتا ہے کہ اس نے اپنے ایک نبی کو جانوروں کی منطق سمجھنے اور ان سے کلام کرنے کی قابلیت عطا کی تھی، اور اس نبی کے پاس سدھائے جانے اور تربیت پانے سے ایک ہُدہُد اس قابل ہو گیا تھا کہ دوسرے ملکوں سے یہ کچھ مشاہدے کر کے آتا اور پیغمبر کو ان کی  خبر دیتا تھا، تو بجائے اس کے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے اِس بیان  کی روشنی میں حیوانات کے متعلق اپنے آج تک کے تھوڑے سے علم اور بہت سے قیاسات پر نظر ثانی کریں، یہ کیا عقلمندی ہے کہ ہم اپنے اس ناکافی علم کو معیار قرار دے کر اللہ تعالیٰ کے اس بیان کی تکذیب یا  اس کی مغوی تحریف کرنے لگیں۔

(27:29)

قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اِنِّیْۤ اُلْقِیَ اِلَیَّ كِتٰبٌ كَرِیْمٌ 

ملکہ بولی "اے اہلِ دربار، میری طرف ایک بڑا اہم خط پھینکا گیا ہے

(27:30)

اِنَّهٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَاِنَّهٗ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ 

وہ سلیمانؑ کی جانب سے ہے اور اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے شروع کیا گیا ہے

(27:31)

اَلَّا تَعْلُوْا عَلَیَّ وَاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ 

مضمون یہ ہے کہ”میرے مقابلے میں سرکشی نہ کرو اور مسلم ہو کر میرے پاس حاضر ہو جاوٴ۔“37

حاشیہ نمبر: 37

یعنی خط کی اہمیت کئی وجوہ سے ہے۔ ایک یہ کہ وہ عجیب غیر معمولی طریقے سے آیا ہے ۔ بجائے اس کے کہ کوئی سفارت اسے لا کر دیتی ، ایک پرندے نے اسے لا کر مجھ پر ٹپکا دیا ہے ۔ دوسرے یہ کہ وہ فلسطین و شام کے عظیم فرمانروا سلیمانؑ کی جانب سے ہے۔ تیسرے یہ کہ اسے اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے شروع کیا گیا ہے، حالانکہ دنیا میں  کہیں کسی سلطنت کے مراسلوں میں یہ طریقہ استعمال کیا جاتا۔ پھر سب دیوتاؤں کو چھوڑ کر صرف خدائے بزرگ و برتر کے نام پر خط لکھنا بھی ہماری دنیا میں ایک غیر معمولی بات ہے ۔ ان سب باتوں کے ساتھ یہ امر اس کی اہمیت کو اور زیادہ بڑھا دیتا ہے کہ اس میں بالکل صاف صاف ہم کو یہ دعوت دی گئی ہے کہ ہم سرکشی چھوڑ کر اطاعت اختیار کر لیں اور تابع فرمان بن کر یا  مسلمان ہو کر سلیمانؑ کے آگے حاضر ہوجائیں۔           ”مسلم“ہو کرحاضر ہونے کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ مطیع بن کر حاضر ہو جاؤ، دوسرے یہ کہ دینِ اسلا قبول کر کے حاضر ہو جاؤ۔ پہلا مفہوم حضرت سلیمانؑ کی شان ِ فرماں روائی سے مطابقت رکھتا ہے اور دوسرا مفہوم ان کی شان پیغمبری سے ۔ غالباً یہ جامع لفظ اسی لیے استعمال کیا گیا ہے  کہ خط میں یہ دونوں مقاصد شامل تھے۔ اسلام کی طرف سے خود مختیار قوموں اور حکومتوں کو ہمیشہ یہی دعوت دی گئی ہے کہ یا تودینِ حق قبول کر و اور ہمارے ساتھ نظامِ اسلای یں برابر کے حصہ دار بن جاؤ، یا پھر اپنی سیاسی خود مختیاری سے دست بردار ہو کر اسلامی نظام کی ماتحتی قبول کرو اور سیدھے ہاتھ سے جزیہ دو۔

(27:32)

قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَفْتُوْنِیْ فِیْۤ اَمْرِیْ مَا كُنْتُ قَاطِعَةً اَمْرًا حَتّٰی تَشْهَدُوْنِ 

(خط سُنا کر)ملکہ نے کہا”اے سردارانِ قوم، میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو، میں کسی معاملہ کا فیصلہ تمہارے بغیر نہیں کرتی ہوں۔“38

حاشیہ نمبر: 38

اصل الفاظ ہیں حَتّٰی تَشْھَدُوْنَ، جب تک کہ تم حاضر نہ  ہو ، یا تم گواہ نہ ہو ۔ یعنی  اہم معاملات میں فیصلہ کرتے وقت تم لوگوں کی موجودگی میرے نزدیک ضروری ہے ، اور یہ بھی کہ جو فیصلہ میں کروں اس کے صحیح ہونے کی تم شہادت دو۔ اس سے جو بات ظاہر ہوتی ہے وہ یہ کہ قوم سبا میں بادشاہی نظام تو تھا مگر وہ استبدادی نظام نہ تھا ، بلکہ فرماں روائے وقت معاملات کے فیصلے اعیان سلطنت کے مشورے سے کرتا تھا۔

(27:33)

قَالُوْا نَحْنُ اُولُوْا قُوَّةٍ وَّاُولُوْا بَاْسٍ شَدِیْدٍ ۬ وَّالْاَمْرُ اِلَیْكِ فَانْظُرِیْ مَاذَا تَاْمُرِیْنَ 

اُنہوں نے جواب دیا "ہم طاقت ور اور لڑنے والے لوگ ہیں آگے فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے آپ خود دیکھ لیں کہ آپ کو کیا حکم دینا ہے"

(27:34)

قَالَتْ اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْیَةً اَفْسَدُوْهَا وَجَعَلُوْۤا اَعِزَّةَ اَهْلِهَاۤ اَذِلَّةً وَكَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ 

ملکہ نے کہا کہ”بادشاہ جب کسی ملک میں گھُس آتے ہیں تو اسے خراب اور اس کے عزت والوں کو ذلیل کردیتے ہیں39۔ یہی کچھ وہ کیا کرتے ہیں40

حاشیہ نمبر: 39

اس ایک فقرے پر امپیر یلزم اور اس کے اثرات و نتائج پر مکمل تبصرہ کردیا گیا ہے ۔ بادشاہوں کی ملک گیری اور فاتح قوموں کی دوسری قوموں پر دست درازی کبھی اصلاح اور خیر خواہی کے لیے نہیں ہوتی۔ اس کی غرض ہی یہ ہوتی ہے کہ دوسری قوم کے خدا نے جو رزق دیا ہے اور جو وسائل و ذرائع عطا کیے ہیں ان سے وہ خود متمتع ہوں اور اس قوم کو اتنا بے بس کر دیں کہ وہ کبھی ان کے مقابلے میں سر اٹھاکر اپنا حصہ نہ مانگ سکے۔ اس غرض کے لیے وہ اس کی خوشحالی اور طاقت اور عزت کے تمام ذرائع ختم  کر دیتے ہیں، اس کے جن لوگوں میں بھی اپنی خودی کا دم داعیہ ہوتا ہے انہیں کچل کر رکھ دیتے ہیں، اس کے افراد میں غلامی ، خوشامد، ایک دوسرے کی کاٹ، ایک دوسرے کی جاسوسی ، فاتح کی نقالی، اپنی تہذیب کی تحقیر، فاتح تہذیب کی تعظیم اور ایسے ہی دوسرے کمینہ اوصاف پیدا کر دیتے ہیں، اور انہیں بتدریج اس بات کا خوگر بنا دیتےہیں کہ وہ اپنی کسی مقدس سے مقدس چیز کو بھی بیچ دینے میں تامل نہ کریں اور اجرت پر ہر ذلیل سے ذلیل خدمت انجام دینے  کے لیے تیار ہوجائیں۔

حاشیہ نمبر: 40

اس فقرے میں دو برابر کے احتمال ہیں۔ ایک یہ کہ یہ ملکہ سبا ہی کا قول ہو اور اس نے اپنے پچھلے قول پر بطورِ تاکید اس کا اضافہ کیا ہو۔ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہو جو ملکہ کے قول کی تائید کے لیے جملہ معترضہ کے طور پر ارشاد فرمایا گیا ہو۔

(27:35)

وَاِنِّیْ مُرْسِلَةٌ اِلَیْهِمْ بِهَدِیَّةٍ فَنٰظِرَةٌ بِمَ یَرْجِعُ الْمُرْسَلُوْنَ 

میں اِن لوگوں کی طرف ایک ہدیہ بھیجتی ہوں، پھر دیکھتی ہوں کہ میرے ایلچی کیا جواب لے کر پلٹتے ہیں"

(27:36)

فَلَمَّا جَآءَ سُلَیْمٰنَ قَالَ اَتُمِدُّوْنَنِ بِمَالٍ ؗ فَمَاۤ اٰتٰىنِ اللّٰهُ خَیْرٌ مِّمَّاۤ اٰتٰىكُمْ بَلْ اَنْتُمْ بِهَدِیَّتِكُمْ تَفْرَحُوْنَ 

جب وہ (ملکہ کا سفیر)سلیمانؑ  کے ہاں پہنچا تو اس نے کہا”کیا تم لوگ مال سے میری مدد کرنا چاہتے ہو؟ جو کچھ خدا نے مجھے دے رکھا ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہے جو تمہیں دیا ہے۔41 تمہارا ہدیہ تمہی کو مبارک رہے

حاشیہ نمبر: 41

اس جملے سے مقصود اظہار فخر و تکبر نہیں ہے۔ اصل مدعا یہ ہے کہ مجھے تمہارا مال مطلوب نہیں ہے بلکہ تمہارا ایمان مطلوب ہے ۔ یا پھر کم سے کم جو چیزیں چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ تم ایک صالح نظام کے تابع ہو جاؤ۔ اگر تم ان دونوں باتوں میں سے کسی کے لیے راضی نہیں ہو تو میرے لیے یہ ممکن نہیں ہے  کہ مال و دولت کی رشوت لے کر تمہیں اس شرک اور اس فاسد نظامِ زندگی کے معاملہ میں آزاد چھوڑدوں۔ مجھے میرے رب نے جو کچھ دے رکھا ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہے کہ میں تمہارے مال کا لالچ کروں۔

(27:37)

اِرْجِعْ اِلَیْهِمْ فَلَنَاْتِیَنَّهُمْ بِجُنُوْدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا وَلَنُخْرِجَنَّهُمْ مِّنْهَاۤ اَذِلَّةً وَّهُمْ صٰغِرُوْنَ 

(اے سفیر)واپس جا اپنے بھیجنے والوں کی طرف۔ ہم ان پر ایسے لشکر لے کر آئیں گے42  جن کا مقابلہ وہ نہ کر سکیں گے اور ہم انہیں ایسی ذلّت کے ساتھ وہاں سے نکالیں گے کہ وہ خوار ہو کر رہ جائیں گے۔“

حاشیہ نمبر: 42

پہلے فقرے اور اس فقرے کے درمیان ایک لطیف خلا ہے جو کلام پر غور کرنے سے خود بخود سمجھ میں آجاتا ہے ۔ یعنی پوری بات یوں ہے کہ : اے سفیر، یہ ہدیہ واپس لے جا اپنے بھیجنے والوں کی طرف ، انہیں یا تو ہماری پہلی بات ماننی پڑے گی کہ مسلم ہو کر ہمارے پاس حاضر ہو جائیں، رنہ ہم ان پر لشکر لے کر آئیں گے۔

(27:38)

قَالَ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَیُّكُمْ یَاْتِیْنِیْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ یَّاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ 

43سلیمانؑ نے کہا”اے اہلِ دربار، تم میں سےکون اس کا تخت میرے پاس لاتا ہے قبل اس کے کہ وہ لوگ مطیع ہو کر میرے پاس حاضر ہوں؟44

حاشیہ نمبر: 43

pبیچ میں یہ قصہ چھوڑ دیا گیا ہے کہ سفارت ملکہ کا ہدیہ واپس لے کر پہنچی اور جو کچھ اس نے دیکھا اور سنا تھا وہ عرض کر دیا۔ ملکہ نے اس سے حضرت سلیمانؑ کے جو حالات سنے ان کی بنا پر اس نے یہی مناسب سمجھا کہ خود ان کی ملاقات کے لیے بیت المقدس جائے۔ چنانچہ وہ خدم وحشم اور شاہی سازو سامان کے ساتھ سبا سے فلسطین کی طرف روانہ ہوئی اور اس نے دربار سلیمانی میں اطلاع بھیج دی کہ میں آپ کی دعوت خود آپ کی زبان سے سننے اور بالمشافہہ گفتگو کرنے کے لیے حاضر ہو رہی ہوں۔ ان تفصیلات کو چھوڑ کر اب اُس وقت کا قصہ بیان کیا جا رہا ہے جب ملکہ بیت المقدس کے قریب پہنچ گئی تھی اور ایک دو ہی دن میں حاضر ہونے والی تھی۔/p

حاشیہ نمبر: 44

pیعنی وہی تخت جس کے متعلق ہُد ہُد نے بتایا تھا کہ ”اس کا تخت بڑا عظیم الشان ہے“۔ بعض مفسرین نے غضب کیا ہے کہ ملکہ  کے آنے سے پہلے اس کا تخت منگوانے کی وجہ یہ قرار دی ہے کہ حضرت سلیمانؑ اس پر قبضہ کرنا چاہتے تھے، انہیں اندیشہ ہوا کہ اگر ملکہ مسلمان ہو گئی تو پھر اس کے مال پر اس کی مرضی کے بغیر قبضہ کر لینا حرام ہو جائے گا ، اس لیے انہوں نے اس کے آنے سے پہلے تخت منگا لینے کی جلدی کی، کیونکہ اس وقت ملکہ کا مال  مباح تھا۔ استغفر اللہ! ایک نبی کی  نیت کے متعلق یہ تصور بڑا ہی عجیب ہے ۔ آخر یہ کیوں نہ سمجھا جائے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام تبلیغ کے ساتھ ساتھ ملکہ اور اس کے درباریوں کو ایک معجزہ بھی دکھا نا چاہتے تھے تاکہ اسے معلوم ہو کہ اللہ رب العالمین اپنے انبیاء کو کیسی غیر معمولی قدرتیں عطا فرماتا ہے اور اسے یقین آجائے کہ حضرت سلیمان واقعی اللہ کے نبی ہیں۔ اس سے بھی کچھ زیادہ غضب بعض جدید مفسرین نے کیا ہے ۔ وہ آیت کا ترجمہ یہ کرتے ہیں کہ ”تم میں سے کون ہے جو ملکہ کےلیے ایک تخت مجھے لا دے“۔حالانکہ قرآن یاتینی بعرش لھا نہیں بلکہ بعرشھا کہہ رہا ہے  جس کے معنی ”اس کا تخت“ہیں نہ کہ ”اس کے لیے ایک تخت“۔ یہ بات صرف اس لیے بنائی گئی ہے کہ قرآن کے اس بیان سے کسی طرح پیچھا چھڑا یا جائے کہ حضرت سلیمانؑ اس ملکہ ہی کا تخت یمن سے بیت المقدس اُٹھوا منگانا چاہتے تھے اور وہ بھی اسی طرح کہ ملکہ کے پہنچنے سے پہلے پہلے وہ آجائے۔/p

(27:39)

قَالَ عِفْرِیْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَ وَاِنِّیْ عَلَیْهِ لَقَوِیٌّ اَمِیْنٌ 

جِنوں میں سے ایک قوی ہیکل نے عرض کیا میں اسے حاضر کر دوں گا قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اُٹھیں۔45 میں اس کی طاقت رکھتا ہوں اور امانتدار ہوں۔“46

حاشیہ نمبر: 45

اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ  حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس جو جن تھے وہ آیا موجودہ زمانے کے بعض عقل پر ست مفسرین کی تاویلوں کے مطابق بنی نوع انسان میں سے تھے یا عرفِ عام کے مطابق اُسی پوشیدہ مخلوق میں سے جو جِن کے نام سے معروف ہے۔ ظاہر ہے کہ حضرت سلیمانؑ کے دربار کی نشست زیادہ سے زیادہ تین چار گھنٹے کی ہوگی۔ اور بیت المقدس سے سبا کے پایہ تخت مارِب کا فاصلہ پرندے کی اڑان کے لحاظ سے بھِ کم از کم ڈیڑھ ہزار میل کا تھا۔ اتنے فاصلہ سے ایک  ملکہ کا  عظیم الشان تخت اتنی کم مدت میں اٹھالانا کسی انسان کا کام نہیں ہو سکتا تھا، خواہ وہ عَمالِقہ میں سے کتنا ہی موٹا تازہ آدمی کیوں نہ ہو۔ یہ کام تو آج کل کا جِٹ طیارہ بھی انجام دینے پر قادر نہیں ہے۔ مسئلہ اتنا ہی نہیں ہے کہ تخت کہیں جنگل میں رکھا ہواور اسے اٹھا لایا جائے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ تخت ایک ملکہ کے محل میں تھا جس پر یقیناً پہرہ دار متعین ہو ں گے اور وہ ملکہ کی غیر موجودگی میں ضرور محفوظ جگہ رکھا گیا ہو گا۔ انسان جا کر اٹھا لانا چاہتا تو اس کے ساتھ ایک چھاپہ مار دستہ ہونا چاہیے تھا کہ لڑ بھڑا کر اسے پہرہ داروں سے چھین لائے۔ یہ سب کچھ آخر دربار بر خاست ہونے سے پہلے کیسے ہو سکتا تھا۔ اس چیزکا تصور اگر کیا جا سکتا ہے تو ایک حقیقی جِن ہی  کے بارے میں کیا جاسکتا ہے۔

حاشیہ نمبر: 46

یعنی آپ مجھ پر یہ بھروسا کرسکتے ہیں کہ میں اسے خود اُڑا نہ لے جاؤں گا۔ یا اس میں سے کوئی قیمتی چیز نہ چُرا لوں گا۔

(27:40)

قَالَ الَّذِیْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَ ؕ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ ۫ لِیَبْلُوَنِیْۤ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُ ؕ وَمَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ وَمَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّیْ غَنِیٌّ كَرِیْمٌ 

جس شخص کے پاس کتاب کا ایک علم تھا وہ بولا”میں آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے اسے لائے دیتا ہوں۔47“ جُونہی کہ سلیمان ؑ نے وہ تخت اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا، وہ پکار اُٹھا”یہ میرے ربّ کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا کافرِ نعمت بن جاتا ہوں48۔ اور جو کوئی شکر کرتا ہے اس کا شکر اس کے اپنے ہی لیے مفید ہے، ورنہ کوئی نا شکری کرے تو میرا ربّ بے نیاز اور اپنی ذات میں آپ بزرگ ہے49۔“

حاشیہ نمبر: 47

اس شخص کے بار ے میں قطعی طور پر یہ معلوم نہیں ہے کہ وہ کون تھا، اور اس کے پاس وہ کس خاص قسم کا علم تھا، اور اس کتاب سے کونسی کتاب مراد ہے جس کا علم اس کے پاس تھا۔ ان امور کی کوئی وضاحت نہ قرآن میں ہے نہ کسی حدیث صحیح میں۔ مفسرین میں سے بعض کہتے کہ وہ فرشتہ تھا اور بعض کہتے ہیں کہ وہ کوئی انسان تھا۔ پھر اُس انسان کی شخصیت کے تعین میں بھی ان کے درمیان اختلاف ہے ۔ کوئی آصف بن  برخیاہ(Asaf-B- Barchiah ) کا نام لیتا ہے جو یہودی ربّیوں کی روایات کے مطابق رئیس الرجال(Prince of Men ) تھے، کوئی کہتا ہے کہ وہ حضرت خضر تھے، کوئی کسی اور کانام لیتا ہے ، اور امام رازی کو اصرار ہے کہ وہ خود حضرت سلیمانؑ تھے۔ لیکن ان میں سے کسی کا بھی کوئی قابلِ اعتماد ماخذ نہیں  ہے ، اور امام رازی کی بات تو قرآن کے سیاق و سباق سے بھی مطابقت نہیں رکھتی۔ اسی طرح کتاب کے بارے میں بھی مفسرین کے اقول مختلف ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ اس سے مراد لوحِ محفوظ ہے اور کوئی کتابِ شریعت مراد لیتا ہے ۔ لیکن یہ سب محض قیاسات ہیں۔ اور ایسے ہی قیاسات اُس علم کے  بارے میں بھی بلا دلیل و ثبوت قائم کر لیے گئے ہیں جو کتاب سے اس شخص کو حاصل تھا۔ ہم صرف اُتنی ہی بات جانتے اور مانتے ہیں جتنی قرآن میں فرمائی گئی ہے ، یا جو اس کے الفاظ سے مترشح ہوتی ہے ۔ وہ شخص بہر حال جِن کی نوع میں سے نہ تھآ اور بعید نہیں کہ وہ کوئی انسان ہی ہو۔ ا سکے پاس کوئی غیر معمولی علم تھا اور وہ اللہ کی کسی کتاب(الکتابِ) سے ماخوذ تھا۔ جِن اپنے وجوہ کی طاقت سے اس تخت کی چند گھنٹوں میں اٹھا لانے کا دعوٰی کر رہا تھا۔ یہ شخص علم کی طاقت سے اس کا ایک لحظہ میں اٹھا لایا۔

حاشیہ نمبر: 48

قرآن مجید کا اندازِ بیان اس معاملہ میں بالکل صاف ہے کہ اُس ویو ہیکل جن کے دعوے کی طرح اِس شخص کا دعویٰ صرف دعوٰی ہی نہ رہا بلکہ فی الواقع جس وقت اِس نے دعویٰ کیا اسی وقت ایک ہی لحظہ میں وہ تخت حضرت سلیمانؑ کے سامنے رکھا نظر آیا۔ ذرا ان الفاظ پر غور کیجیے:           ”اس شخص نے کہا میں آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے اسے لے آتا ہوں۔ جونہی کہ سلیمانؑ سے اسے اپنے پاس رکھا دیکھا“۔           جو شخص واقعہ کے عجیب و غریب ہونے کا تصور ذہن سے نکال کر بجائے خود اس عبارت کو پڑھے گا وہ اس سے یہی مفہوم لے گا کہ اس شخص کے یہ کہتے ہی دوسرے لمحہ میں وہ واقعہ پیش آگیا جس کا اس نے دعویٰ کیا تھا۔ اس سیدھی سی بات کو خواہ مخواہ تاویل کے خراد پر چڑھانے کی کیا ضرورت ہے ؟  پھر تخت کو دیکھتے ہی حضرت سلیمانؑ کا یہ کہنا کہ ”یہ میرے رب کا فضل ہے  تا کہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں  یا کافرِ نعمت بن جاتا ہوں،اسی صورت میں برمحل ہوسکتا ہےجب کہ یہ کوئی غیر معمولی واقعہ ہو۔ ورنہ اگر واقعہ یہ ہوتا کہ ان کا ایک ہوشیار ملازم ملکہ کے لیے جلدی سے ایک تخت  بنا لایا یا بنوا لایا، تو ظاہر ہے کہ یہ ایسی کوئی نادر بات نہ ہو سکتی تھی کہ اس پر حضرت سلیمان ؑ بے اختیار ھٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ پکار اٹھتے اور ان کو یہ خطرہ لاحق ہو جاتا کہ اتنے جلدی مہمانِ عزیز کےلیے تخت تیار ہو جانے سے کہیں میں شاکرِ نعمت بننے کے بجائے کافرِ نعمت نہ بن جاؤں۔ آخر اتنی سی بات پر کسی مومن فرمانروا کو اتنا غرور اور کبر نفس لاحق ہو جانے کا کیا خطرہ ہو سکتا ہے، خصوصاً جبکہ وہ ایک معمولی مومن نہ ہو بلکہ اللہ کا نبی ہو۔           اب رہی یہ بات کو ڈیڑھ ہزار میل سے ایک تختِ شاہی پلک چھپکتے کس طرح اُٹھ کا آگیا، تو اس کا مختصر جوا ب یہ ہے کہ زمان و مکان اور مادہ و حرکت کے جو تصورات ہم نے اپنے تجربات او ر مشاہدات کی بنا پر قائم کیے ہیں ان کے جملہ حدود صرف ہم ہی پر منطبق ہوتے ہیں۔ خدا کے لیے نہ یہ تصورات صحیح ہیں اور نہ وہ ان حدود سے محدود ہے۔ اس کی قدرت ایک معمولی تخت تو درکنار ، سورج اور اس سے بھی زیادہ بڑے سیاروں کو آن کی آن میں لاکھوں میل کا فاصلہ طے کر ا سکتی ہے ۔ جس خدا کے صرف ایک حکم سے یہ عظیم کائنات وجود میں آگئی ہے اس کا ایک ادنٰی اشارہ ہی ملکہ سبا کے تخت کو روشنی کی رفتار سے چلا دینے کےلیے کافی تھا۔ آخر اسی قرآن میں یہ ذکر بھی تو موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ رات اپنے بندے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے بیت المقدس لے بھی گیا اور واپس بھی لے آیا۔

حاشیہ نمبر: 49

یعنی وہ کسی کے شکر کا محتاج نہیں ہے۔ اس کی خدائی میں کسی کی شکر گزاری سے نہ ذرہ برابر کوئی اضافہ ہوتا ہے اور نہ کسی کی ناشکری و احسان فراموشی سے یک سِر مو  کوئی کمی آتی ہے ۔ وہ آپ اپنے ہی بل بوتے پر خدائی کر رہا ہے، بندوں کے ماننے یا نہ ماننے پر اس کی خدائی منحصر نہیں ہے۔ یہی بات قرآن مجید میں ایک جگہ حضرت موسیٰ ؑ کی زبان سے نقل کی گئی ہےکہ اِنْ تَکْفُرُوْٓ ا اَنْتُمْ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا فَاِنَّ اللہَ لَغَنِیٌ حَمِیْدٌ۔”اگر تم اور ساری دنیا والے مل کر بھی کفر کریں تو اللہ بے نیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے “۔(ابراہیم۔ آیت8)۔ اور یہی مضمون اس حدیث قدسی  کا ہے جو صحیح مسلم میں وارد ہوئی ہے کہ :           یقول اللہ تعالیٰ عبادی لو انّ اولکم و اٰخر کم و انسکم و جنکم کانوا علی اتقی قلب رجل منکم ما زاد ذٰلک فی ملکی شیئا ۔ یا عبادی لو ان اولکم واٰخر کم و انسکم و جنکم کانوا علے افجر قلب رجل منکم مانقص ذٰلک فی ملکی شیئا۔ یا عبادی انما ھی اعمالکم احصیھا لکم ثم او فیکم ایا ھا۔ فمن وجد خیر افلیحمد اللہ ومن وجد غیر ذٰلک فلا یومن الا نفسہ۔           اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے میرے بندو، اگر اول سے آخر تک تم سب انس اور جِن اپنے سب سے زیادہ متقی شخص کے دل جیسے ہو جاؤ تو اس سے میری بادشاہی  میں کوئی اضافہ نہ ہو جائیگا۔ اے میرے بندو، اگر اول سے آخر تک تم سب انس اور جن اپنے سب سے زیدہ بدکار شخص کے دل جیسے ہو جاؤ تو میری بادشاہی میں اس سے کوئی کمی نہ ہوجائے گی۔ اے میرے بندو، یہ تمہارے اپنے اعمال ہی ہیں جن کا میں تمہارے حساب میں شمار کرتا ہوں ، پھر ان کی پوری پوری جزا تمہیں دیتا ہوں۔ پس جسے کوئی بھلائی نصیب ہوا  سے چاہیے کہ اللہ کا شکر ادا کرے اور جسے کچھ اور نصیب ہو وہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرے۔

(27:41)

قَالَ نَكِّرُوْا لَهَا عَرْشَهَا نَنْظُرْ اَتَهْتَدِیْۤ اَمْ تَكُوْنُ مِنَ الَّذِیْنَ لَا یَهْتَدُوْنَ 

50سلیمانؑ نے کہا”انجان طریقے سے اس کا تخت اس کے سامنے رکھ دو، دیکھیں وہ صحیح بات تک پہنچتی ہے یا اُن لوگوں میں سے ہے جو راہِ راست نہیں پاتے۔“51

حاشیہ نمبر: 50

pبیچ میں یہ تفصیل چھوڑ دی گئی ہے کہ ملکہ کیسے بیت المقدس پہنچی اور کس طرح اس کا استقبال ہوا ۔ اسے چھوڑ کر اب اس وقت کا حال بیا ن کی اجا رہا ہے جب وہ حضرت سلیمانؑ کی ملاقات کے لیے ان کے محل میں پہنچ گئی۔/p

حاشیہ نمبر: 51

pذو معنی فقرہ ہے۔اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ وہ یکایک اپنے ملک سے اتنی دور اپنا تخت موجود پا کر یہ سمجھ جاتی ہے یا نہیں کہ یہ اسی کا تخت اٹھا لایا گیا ہے ۔ اور یہ مطلب بھی ہے کہ وہ اس حیرت انگیز معجزے کو دیکھ کر ہدایت پاتی ہے یا اپنی گمراہی پر قائم رہتی ہے ۔/pp          اس سے ان لوگوں کے خیال کی تردید ہوجاتی ہے جو کہتے ہیں کہ حضرت سلیمانؑ اس تخت پر قبضہ کرنے کی نیت رکھتے تھے۔ یہاں وہ خود اس مقصد کا اظہار فرما رہے ہیں کہ انہوں نے یہ کام ملکہ کی ہدایت کے لیے کیا تھا۔/p

(27:42)

فَلَمَّا جَآءَتْ قِیْلَ اَهٰكَذَا عَرْشُكِ ؕ قَالَتْ كَاَنَّهٗ هُوَ وَاُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهَا وَكُنَّا مُسْلِمِیْنَ 

ملکہ جب حاضر ہوئی تو اس سے کہا گیا کیا تیرا تخت ایسا ہی ہے؟ وہ کہنے لگی”یہ تو گویا وہی ہے52۔ ہم تو پہلے ہی جان گئے تھے اور ہم نے سرِ اطاعت جُھکا دیا تھا۔ (یا ہم مسلم ہو چکے تھے)۔“53

حاشیہ نمبر: 52

اس سے ان لوگوں کے خیالات کی بھی تردید ہو جاتی ہے جنہوں نے صورتِ واقعہ کا نقشہ کچھ اس طرح کھینچا ہے کہ گویا حضرت سلیمانؑ اپنی مہمان ملکہ کے لیے ایک تخت بنوانا چاہتے تھے، اس غرض کے لیے انہوں نے ٹینڈر طلب کیے، ایک ہٹے کٹے کاریگر نے کچھ زیادہ مدت میں تخت بنا دینے کی پیش کش کی۔ مگر ایک دوسرے ماہر استاد نے کہا میں تُرت پُھرت بنائے دیتا ہوں۔ اس سارے نقشے کا تارو پود اس بات سے بکھر جاتا ہے کہ حضرت سلیمانؑ نے خود ملکہ ہی کا تخت لانے کے لیے فرمایا تھا(اَیُّکُمْ یَاْتِیَنِیْ بِعَرْشِھَا)، اور اس کی آمد پر اپنے ملازموں کو اسی کا تخت  انجان طریقے سے اس کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا تھا(نَکِرُّوْ الَھَا عَرْشَھَا)، پھر جب وہ آئی تو اس سے پوچھا گیا کہ کیا تیرا تخت ایسا ہی ہے (اَھٰکَذَا عَرْشُکِ) او ر اس نے کہا گویا یہ وہی ہے (کَاَنَّہُ ھُوَ)۔ اس صاف بیان کی موجودگی میں اُن لا طائل تاویلات کی کیا گنجائش رہ جاتی ہے ۔ اس پر بھی کسی کو شک رہے تو بعد کا فقرہ اسے مطمئن کرنے کے لیے کافی ہے۔

حاشیہ نمبر: 53

یعنی یہ معجزہ دیکھنے سے پہلے ہی سلیمان علیہ السلام کے جواد صاف اور حالات ہمیں معلوم ہو چکے تھے ان کی بنا پر ہمیں یقین ہو گیا تھا کہ وہ اللہ کے نبی ہیں ، محض ایک سلطنت کے فرمانروا نہیں ہیں۔ تخت کو دیکھنے اور ”گویا یہ وہی ہے “کہنے کے بعد اس فقرے کا اضافہ کرنے میں آخر کیا معنویت باقی رہ جاتی ہے اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ حضرت سلیمانؑ نے اس کے لیے ایک تخت بنوا کر رکھ دیا تھا؟ بالفرض اگر وہ تخت ملکہ کے تخت سے مشابہ ہی تیار کرا لیا گیا ہو تب بھی اس میں آخر وہ کیا کمال ہو سکتا تھا کہ ایک آفتاب پر ست ملکہ اسے دیکھ کر یہ بول اٹھتی کہ اُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِھَا وَ کُنَّا مُسْلِمِیْنَ،”ہم کو پہلے ہی علم نصیب ہو گیا تھا اور ہم مسلم ہو چکے تھے“۔

(27:43)

وَصَدَّهَا مَا كَانَتْ تَّعْبُدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ؕ اِنَّهَا كَانَتْ مِنْ قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ 

اُس کو (ایمان لانے سے)جس چیز نے روک رکھا تھا وہ اُن معبُودوں کی عبادت تھی جنہیں وہ اللہ کے سوا پُوجتی تھی، کیونکہ وہ ایک کافر قوم سے تھی۔54

حاشیہ نمبر: 54

یہ فقرہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی پوزیشن واضح کرنے کے لیے ارشاد ہوا ہے ۔ یعنی اس میں ضد اور ہٹ دھرمی نہ تھی۔ وہ اس وقت تک صرف اس لیے کافر تھی کہ قوم میں پیدا ہوئی تھی۔ ہوش سنبھالنے کے بعد سے اس کو جس چیز کے آگے سجدہ ریز ہونے کی عادت پڑی ہوئی تھی، بس وہی اس کے راستے میں رکاوٹ بن گئی تھی۔ حضرت سلیمانؑ سے سابقہ پیش آنے پر جب اس کی آنکھیں کھلیں تو اس رکاوٹ کے ہٹ جانے میں ذرا سی دیر بھی نہ لگی۔

(27:44)

قِیْلَ لَهَا ادْخُلِی الصَّرْحَ فَلَمَّا رَاَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَّكَشَفَتْ عَنْ سَاقَیْهَا ؕ قَالَ اِنَّهٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِیْرَ ؕ۬ قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَاَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ 

اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہو۔ اس نے جو دیکھا تو سمجھی کہ پانی کا حوض ہے اور اُترنے کےلیے اس نےاپنے پائینچے اُٹھا لیے۔ سلیمانؑ نے کہا یہ شیشے کا چکنا فرش ہے۔55 اس پروہ پکار اُٹھی”اے میرے ربّ (آج تک)میں اپنے نفس پر بڑا ظلم کرتی رہی، اور اب میں نے سلیمانؑ کے ساتھ اللہ ربّ العالمین کی اطاعت قبول کر لی۔“56

حاشیہ نمبر: 55

یہ آخری چیز تھی جس نے ملکہ کی آنکھیں کھول دیں۔ پہلی چیز حضرت سلیمانؑ کا وہ خط تھا جو عام بادشاہوں کے طریقے سے ہٹ کر اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے شروع کیا گیا تھا۔ دوسری چیز اس کے بیش قیمت بدیوں کو رد کرنا  تھا جس سے ملکہ کو اندازہ ہوا کہ یہ بادشاہ کسی اور طرز کا ہے ۔ تیسری چیز ملکہ کی سفارت کا بیان تھا جس سے اس کو حضرت سلیمانؑ کی متقیانہ زندگی، ان کی حکمت اور ان کی دعوتِ حق کا علم ہوا۔ اسی چیز نے اسے آمادہ کیا کہ خود چل کر ان سے ملاقات کرے، اور اسی کی طرف اس نے اپنے قول میں اشارہ کیا کہ ”ہم تو پہلے ہی جان گئے تھے اور ہم مسلم ہو چکےتھے“۔چوتھی چیز اس عظیم الشان تخت کا آناً فاناً مارِب سے بیت المقدس پہنچ جانا تھا جس سے ملکہ کو معلوم ہوا کہ اس شخص کی پشت پر اللہ تعالیٰ کی طاقت ہے ۔ اور اب آخری چیز یہ تھی کہ اس نے دیکھا جو شخص یہ سامانِ عیش وتنعُّم رکھتا ہے اور ایسے شاندار محل میں رہتا ہے وہ کس قدر غرورِ نفس سے پاک ہے، کتنا خدا ترس اور نیک نفس ہے ، کس طرح بات بات پر اس کا سر خدا کے آگے شکر گزاری میں جھکا جاتا ہے، اور اس کی زندگی فریفتگانِ حیاتِ دنیا کی زندگی سے کتنی مختلف ہے۔ یہی چیز تھی جس نے اسے وہ کچھ پکار اُٹھنے پر مجبور کر دیا جو آگے اس کی زبان سے نقل کیا گیا ہے۔

حاشیہ نمبر: 56

حضرت سلیمان ؑ اور ملکہ سبا کا یہ قصہ بائیبل کے عہدِ عتیق و جدید اور رروایات یہود، سب میں مختلف طریقوں سے آیا ہے ، مگر قرآن کا بیان ان سب سے مختلف ہے  ۔ عہد عتیق میں اس قصّے کا خلاصہ یہ ہے:         ”او جب سبا کی ملکہ نے خدا وند کے نام کی بابت سلیمان کی شہرت سنی تو وہ آئی تا کہ مشکل سوالوں سے اسے آزمائے۔ اور وہ بہٹ بڑی جِلَو کے ساتھ یرشلم میں آئی۔۔۔۔ جب وہ سلیمان کے پا س پہنچی تو اُس نے ان سب باتوں کے بارہ میں جو اس کے دل میں تھیں اس سے گفتگو کی۔ سلیمان نے ان سب کا جواب دیا۔۔۔۔ اور جب سبا کی ملکہ نے سلیمان کی ساری حکمت اور اس محل کی جو اس نے بنایا تھا اور اس کے دسترخوان  کی نعمتوں اور اس کے ملازموں کی نشست اور اس کے خادموں کی حاضر باشی اور ان کی پوشاک اور اس نے بادشاہ سے کہا کہ سچی خبر تھی جو میں نے تیرے کاموں اور تیری حکمت کی بابت اپنے ملک میں سنی تھی۔ تو بھی میں نے وہ باتیں باور نہ کیں جب تک خود آکر اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ لیا ۔ اور مجھے تو آدھا بھی نہیں بتایا گیا تھا کیونکہ تیری حکمت اور اقبال مندی اُ س شہرت سے جو میں نے سنی بہت زیادہ ہے ۔ خوش نصیب ہیں  تیرے لوگ اور خوش نصیب ہیں تیرے یہ ملازم جو برابر تیرے حضور کھڑے رہتے  اور تیری حکمت سنتے ہیں۔ خدا وند تیرا خدا مبارک ہو جو تجھ سے ایسا خوشنود ہوا کہ تجھے اسرائیل کے تخت پر بٹھایا۔۔۔۔ اور اس نے بادشاہ کو ایک سو بیس قنطار سونا اور مسالے کا بہت بڑا انبار اور بیش بہا جواہر دیے اور جیسے مسالےسبا کی ملکہ نے سلیمان بادشاہ کو دیے ویسے پھر کبھی ایسی بہتات کے ساتھ نہ آئے ۔۔۔۔ اور سلیمان بادشاہ نے سبا کی ملکہ کو سب کچھ جس کی وہ مشتاق ہوئی او جوکچھ اس نے مانگا دیا۔ پھر وہ اپنے ملازموں  سمیت اپنی مملکت کو لوٹ گئی “۔(1۔سلاطین1۰:1۔13۔ اسی سے ملتا جلتا مضمون2۔تواریخ9:1۔12میں بھی ہے)۔           عہدِ جدید میں حضرت عیسٰی کی ایک تقریر کا صرف یہ فقرہ ملکہ سبا کے متعلق منقول ہوا ہے:           ”دکھن کی ملکہ عدالت کے دن اس زمانہ کے لوگوں کے ساتھ  کر ان کو مجرم ٹھیرائے گی،کیونکہ وہ دنیا کے کنارے سے سلیمانؑ کی حکمت سنے کو آئی اور  دیکھو یہاں وہ ہے جو سلیمان سے بھی بڑا ہے“۔(متی12:43۔لوقا11:31)۔           یہودی ربیوں کی روایات میں حضرت سلیمانؑ اور ملکہ سبا کا قصّہ اپنی بیشتر تفصیلات میں قرآن سے ملتا جلتا ہے۔ ھُدھُد کا غائب ہونا، پھر آکر سبا اور اس کی ملکہ کے حالات بیان کرنا، حضرت سلیمانؑ کا اس کے ذیعے سے خط بھیجنا، ھُدھُد کا عین اُس وقت وہ خط ملکہ کے آگے گرانا جبکہ وہ آفتا کی پرستش کر جارہی تھی، ملکہ کا اس خط کو دیکح کر اپنے وزراء کی کونسل منعقد کرنا، پھر ملکہ کا ایک قیمتی ہدیہ حضرت سلیمانؑ کے پاس بھیجنا ، خود یر شلم پہنچ کر ان سے ملنا، ان کے محل میں پہنچ کر یہ خیال کرنا کہ حضرت سلیمانؑ پانی کے حوض میں بیٹھے ہیں ، اور اس میں اترنے کے لیے پائینچے چڑھا لینا، یہ سب ان روایات میں اسی طرح مذکور ہے جس طرح قرآن میں بیان ہوا ہے ۔ مگر یہ ہدیہ وصول ہونے پر حضرت سلیمان کا جواب ، ملک کے تخت کو اُٹھوا منگانا، ہر موقع پر ان کا خدا کے آگے جھکنا ، اور آخر کار ملکہ  کا ان کے ہاتھ پر ایمان لانا، یہ سب باتیں ، بلکہ خدا پرستی اور توحید کی ساری باتیں ہی ان روایات میں ناپید ہیں ۔ سب سے بڑھ کر غضب یہ ہے کہ ان ظالموں نے حضرت سلیمانؑ پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے  ملکہ سبا کے ساتھ معاذ اللہ زنا کا ارتکاب کیا اور اسی حرامی نسل سے بابل کا بادشاہ بخت نضَّر پیدا ہوا جس نے بیت المقدس کو تباہ کیا(جیوش انسائیکلو پیڈیا ج11۔ صفحہ443) ۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ یہودی علما ء کا ایک گروہ حضرت سلیمان کا سخت مخالف رہا ہے ۔ ان لوگوں نے ان پر توراۃ ے احکام کی خلاف ورزی ، غرورِ حکومت ، غرور عقل و دانش ، زن مریدی، عیش پرستی اور شرک وبت پرستی کے گھناؤ نے الزامات لگائے ہیں(جیوش انسائیکلو پیڈیا ج 11 ص439۔441)اور یہ اسی پر پیگنڈے کا اثر ہے کہ بائیبل انہیں نبی کے بجائے محض ایک بادشاہ کی حیثیت سے پیش کر تی ہے اور بادشاہ بھی ایسا جو معاذ اللہ احکامِ الہٰی ے خلاف مشرک عورتوں کے عشق میں گم ہو گیا ، جس کا دل خدا سے پھر گیا اور جو خدا کے سوا دوسرے معبودوں کی طرف مائل ہوگا(1۔سلاطین11:1۔11)ان چیزوں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ قرآن نے بنی اسرائیل پر کتنا بڑا احسان کیا ہے کہ ان کے اکا بر کا دامن خود ا ن کی پھینکی ہوئی گندگیوں سے صاف کیا، اور یہ بنی اسرائیل کتنے احسان فراموش ہیں کہ اس پر بھی یہ قرآن اور اس کے لانے والے کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔

(27:45)

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰی ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ فَاِذَا هُمْ فَرِیْقٰنِ یَخْتَصِمُوْنَ 

57اور ثمُود کی طرف ہم نے اُن کے بھائی صالحؑ کو (یہ پیغام دے کر)بھیجا کہ اللہ کی بندگی کرو، تو یکایک وہ دو مُتَخاصِم فریق بن گئے۔58

حاشیہ نمبر: 57

pتقابل کے لیے ملاحظہ ہو الاعراف، آیات73 تا 79۔ ہُود، ۶1 تا۶8۔ الشعراء 141 تا 159۔ القمر، 23 تا 32۔ الشمس، آیات11۔15۔/p

حاشیہ نمبر: 58

pیعنی جونہی کہ حضرت صالحؑ کی دعوت کا آغاز ہوا، ان کی قوم دو گروہوں میں بٹ گئی ۔ ایک گروہ ایمان لانے والوں کا ، دوسرا گروہ انکار کرنے والوں کا۔ اور اس تفرقہ کے ساتھ ہی ان کے درمیان کش مکش شروع ہو گئی، جیسا کہ قرآن مجید میں دوسری جگہ ارشاد ہوا ہے: قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْ ا مِنْ قَوْمِہٖ لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْ ا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْھُمْ اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسِلٌ مِّنْ رَّبِّہٖ، قَالُوْٓا اِنَّا بِمَآ اُرْسِلَ بِہٖ مُؤْمِنُوْنَ      قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْٓ ا اِنَّا بِالَّذِیْٓ اٰمَنْتُم ْبِہٖ کَافِرُوْنَ،”اس کی قوم میں سے جو سردار اپنی بڑائی کا گھمنڈرکھتے تھے انہوں نے اُن لوگوں سے جو کمزور بنا  رکھے گئے تھے ، جو اُن میں سے ایمان لائے تھے، کہا، کیا واقعی تم یہ جانتے ہو کہ صالحؑ اپنے رب کی طرف سے بھیجا گیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا ہم اس چیز پر ایمان رکھتے ہیں جس کو لے کر وہ بھیجے گئے ہیں۔ ان متکبرین نے کہا جس چیز پر تم ایمان لائے ہواس کے ہم کافر ہیں“(الاعراف، آیات75۔7۶)۔ یا د رہے کہ ٹھیک یہی صورت حال محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ساتھ مکہ میں بھی پیدا ہوئی تھی کہ قوم دو حصوں میں بٹ گئی اور اس کے ساتھ ہی ان دونوں گروہوں میں کش مکش شروع ہوگئی۔ اس لیے یہ قصہ آپ سے آپ اُن حالت پر چسپاں ہو  رہا تھا جن میں یہ آیات نازل ہوئیں۔/p

(27:46)

قَالَ یٰقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ لَوْلَا تَسْتَغْفِرُوْنَ اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ 

صالحؑ نے کہا”اے میری قوم کے لوگو، بھلائی سے پہلے بُرائی کے لیے کیوں جلدی مچاتے ہو؟59 کیوں نہیں اللہ سے مغفرت طلب کرتے ؟ شایک کہ تم پر رحم فرمایا جائے؟“

حاشیہ نمبر: 59

یعنی اللہ سے خیر مانگنے کے بجائے عذاب مانگنے میں کیوں جلدی کرتے ہو؟ دوسرے مقام پر قوم صالح کے سرداروں کا یہ قول نقل ہو چکا ہے کہ یَا صَالِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ اِنْ کُنْتَ مِنَ الْمُرْ سَلِیْنَ،”اے صالح، لے آ وہ عذاب ہم پر جس کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے اگر تو واقعی رسولوں میں سے ہے“(الاعراف۔ آیت77)۔

(27:47)

قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِكَ وَبِمَنْ مَّعَكَ ؕ قَالَ طٰٓىِٕرُكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ 

انہوں نےکہا”ہم نے تو تم کو اور تمہارے ساتھیوں کو بدشگونی کا نشان پایا ہے۔“60 صالحؑ نے جواب دیا”تمہارے نیک و بدشگون کا سرِشتہ تو اللہ کے پاس ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ تم لوگوں کی آزمائش ہو رہی ہے۔“61

حاشیہ نمبر: 60

ان کے اس قول کا ایک مطلب یہ ہے کہ تمہاری یہ تحریک ہمارے لیے سخت منحوس ثابت ہوئی ہے، جب سے تم نے اور تمہارے ساتھیوں نے دینِ آبائی کے خلاف یہ بغاوت شروع کی ہے ہم پر آئے دن کوئی نہ کوئی مصیبت نازل ہوتی رہتی ہے ، کیونکہ ہمارے معبود ہم سے ناراض ہو گئے ہیں۔ اس معنی کے لحاظ سے یہ قول اکثر اُن مشرک قوموں کے اقوال سے مشابہ ہے جو اپنے انبیاء کو منحوس قرار دیتی تھیں۔ چنانچہ سورہ یٰسین میں ایک قوم کا ذکر آتا ہے  کہ اس نے اپنے انبیاء سے  کہا اِنّا تَطَیَّرْ نَا بِکُمْ”ہم  نے تم کو منحوس پایا ہے “(آیت18)۔یہی بات فرعون کی قوم حضرت موسٰیؑ کے متعلق کہتی تھی:فَاِذَا جَآ ءَتْھُمُ الْحَسَنَۃُ قَا لُوْ آ لَنَا ھٰذِہٖ وَاِنْ تُصِبْھُمْ سَیِّئَۃٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰی وَمَنْ مَّعَہٗ ۔”جب ان پر کوئی اچھا وقت آتا تو کہتے کہ ہمارے لیےیہی  ہے اور جب کوئی مصیبت آجاتی تو موسٰیؑ اور ان کے ساتھیوں کی نحوست کو اس کا ذمہ دار ٹھیراتے“(الاعراف، آیت13۰)۔ قریب قریب ایسی ہی باتیں مکہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی کہی جاتی تھیں۔           دوسرا مطلب اس قول کا یہ ہے کہ تمہارے آتے ہی ہماری قوم میں پھوٹ پڑ گئی ہے ۔ پہلے ہم ایک قوم تھے جو ایک دین پر مجتمع تھی۔ تم ایسے سبز قدم آئے کہ بھائی بھائی کا دشمن ہو گیا  اور بیٹا باپ سے کٹ گیا۔ اس طرح قوم کے اندر ایک نئی قوم اٹھ کھڑی ہونے کا انجام ہمیں اچھا نظر نہیں آتا۔ یہی وہ الزام تھا جسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین آپ کے خلاف بار بار پیش کرتے تھے۔ آپ کی دعوت کا آغاز ہوتے ہی سردارانِ قریش کا جو وفد ابو طالب کے پاس گیا تھا اس نے یہی کہا تھا کہ ”اپنے اِس بھتیجے کو ہمارے حوالہ کر دو جس نے تمہارے دین اور تمہارے باپ دادا کے دین کی مخالفت کی ہے اور تمہاری قوم میں پھوٹ ڈال دی ہے اور ساری قوم کو بے وقوف قرار دیا ہے“۔(ابن ہشام جلد اول، ص285)۔ حج کے موقعہ پر جب کفارمکہ کو اندیشہ ہوا کہ باہر کے زائرین آکر کہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت سے متاثر نہ ہو جائیں تو انہوں نے با ہم مشورہ کرنے کے بعد یہی  طے کیا کہ قبائل عرب سے کہا جائے:”یہ شخص جا دو گر ہے ، اس کے جادو کا اثر یہ ہوتا ہے کہ بیٹا باپ سے ، بھائی بھائی سے ، بیوی شوہر سے ، اور آدمی اپنے سارے خاندان سے کٹ جاتا ہے“۔(اطب ہشام۔ص289)۔

حاشیہ نمبر: 61

یعنی بات وہ نہیں ہے جو تم نے سمجھ رکھی ہے ۔ اصل معاملہ جسے اب تک تم نہیں سمجھے ہو یہ ہے کہ میرے آنے سے تمہارا امتحان شروع ہو گیا ہے۔ جب  تک میں نہ آیا تھا، تم اپنی جہالت میں ایک ڈگر پر چلے جا رہے تھے۔ حق اور باطل کا کوئی کھلا امتیاز سامنے نہ تھا۔ کھرے اور کھوٹے کی پر کھ کا کوئی معیار نہ تھا۔ بد تر سے بد تر لوگ اونچے ہو رہے تھے، اور اچھی سے اچھی صلاحیتوں کے لوگ خاک میں ملے جا رہے تھے۔ مگر اب ایک کسوٹی آگئی ہے جس پر تم سب جانچے اور پرکھے جا ؤ گے۔ اب بیچ میدا ن میں ایک ترازوں رکھ دیا گیا ہے  جو ہر ایک کو اس کے وزن کے لحاظ سے تو لے گا۔ اب حق اور باطل آمنے سامنے موجود ہیں۔ جو حق کو قبول کر ے گا وہ بھاری اترے گا خواہ آج تک اس کی کوڑی بھی  بھی قیمت نہ رہی ہو۔ اور جو باطل پر جمے گا اس کا وزن رتی بھر  بھی نہ رہے گا چاہے وہ آج تک امیر الامراء ہی بنا رہا ہو۔ اب فیصلہ اس پر نہیں ہوگا کہ کون کس خاندان کا ہے، اور کس کے ذرائع و وسائل کتنے ہیں ، اور کون کتنا زور رکھتا ہے، بلکہ اس پر ہوگا کہ کون سیدھی طرح صداقت کو قبول کر تا ہے اور کون جھوٹ کے ساتھ اپنی قسمت وابستہ کر دیتا ہے۔

(27:48)

وَكَانَ فِی الْمَدِیْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ یُّفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَلَا یُصْلِحُوْنَ 

اُس شہر میں نو جتھے دار تھے62 جو ملک میں فساد پھیلاتے اور کوئی اصلاح کا کام نہ کرتے تھے

حاشیہ نمبر: 62

یعنی 9 سردارانِ قبائل جن میں سے ہرا یک اپنے ساتھ ایک بڑا جتھا رکھتا تھا۔

(27:49)

قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰهِ لَنُبَیِّتَنَّهٗ وَاَهْلَهٗ ثُمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِیِّهٖ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ اَهْلِهٖ وَاِنَّا لَصٰدِقُوْنَ 

انہوں نے آپس میں کہا”خدا کی قسم کھا کر عہد کر لو کہ ہم صالحؑ اور اس کے گھر والوں پر شبخون ماریں گے اور پھر اس کے ولی سے کہہ دیں گے63 کہ ہم اس کے خاندان کی ہلاکت کے موقع پر موجود نہ تھے، ہم بالکل سچ کہتے ہیں۔“64

حاشیہ نمبر: 63

یعنی حضرت صالحؑ کو قبیلہ کے سردار سے، جس کو قدیم قبائلی رسموں رواج کے مطابق ان کے خون کے دعوے کاحق پہنچتا تھا۔ یہ وہی پوزیشن تھی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آپ کے چچا ابو طالب کو حاصل تھی۔ کفار ِ قریش بھی اسی اندیشے سے ہاتھ روکتے تھے کہ  اگر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دیں گے تو بنی ہاشم کے سردار ابو طالب اپنے قبیلے کی طرف سے خون کا دعویٰ لے کر اٹھیں گے۔

حاشیہ نمبر: 64

یہ بعینہٖ اسی نوعیت کی سازش تھی جیسی مکہ کے قبائلی سردار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف سوچتے رہتے تھے ،اور بالآخر یہی سازش انہوں نے حجرت کے موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کےلیے کی۔ یعنی یہ کہ سب قبیلوں کے لوگ مل کر آپ پر حملہ کریں تا کہ بنی ہاشم کسی ایک قبیلے کو ملزم نہ ٹھرا سکے اور سب قبیلوں سے بیک وقت لڑنا ان کے لیے ممکن نہ ہو۔

(27:50)

وَمَكَرُوْا مَكْرًا وَّمَكَرْنَا مَكْرًا وَّهُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ 

یہ چال تو وہ چلے اور پھر ایک چال ہم نے چلی جس کی انہیں خبر نہ تھی۔65

حاشیہ نمبر: 65

یعنی قبل اس کے کہ وہ اپنے طے شدہ وقت پر حضرت صالحؑ کے ہاں شبخون مارتے ، اللہ تعالیٰ نے اپنا عذاب بھیج دیا اور نہ صرف وہ بلکہ ان کی پوری قوم تباہ ہوگئی ۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ  یہ سازش ان لوگوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹنے کے بعد کی تھی۔ سورہ ہود میں ذکر آتا ہےکہ جب انہوں نے اونٹنی کو مار ڈالا تو حضرت صالحؑ نے انہیں نوٹس دیا کہ بس اب تین دن مزے کر لو، اس کے بعد تم پر عذاب آجائے گا(فَقَالَ تَمَتَّعُوْا فِیْ دَارِکُمْ ثَلٰثَۃَ اَیَّامٍ، ذٰلِکَ وَعْدٌ غَیْرُ مَکْذُوْبٍ)۔ اس پر شاید انہوں سے سوچا ہو گا کہ صالحؑ کا عذاب ِ موعود تو آئے  چاہے نہ آئے ، ہم لگے ہاتھوں اونٹنی کے ساتھ اس کا بھی کیوں نہ کام تمام کر دیں۔ چنانچہ اغلب یہ ہے  کہ انہوں نے شبخون مارنے کے لیے وہی رات تجویز کی ہوگی جس رات عذاب  آنا تھا اور قبل اس کے کے ان کا ہاتھ حضرت صالح ؑ پر پڑتا  خدا کا زبر دست ہاتھ ان پر پڑ گیا۔

(27:51)

فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ اَنَّا دَمَّرْنٰهُمْ وَقَوْمَهُمْ اَجْمَعِیْنَ 

اب دیکھ لو کہ ان کی چال کا انجام کیا ہوا ہم نے تباہ کر کے رکھ دیا اُن کو اور ان کی پوری قوم کو

(27:52)

فَتِلْكَ بُیُوْتُهُمْ خَاوِیَةً بِمَا ظَلَمُوْا ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ 

وہ اُن کے گھر خالی پڑے ہیں اُس ظلم کی پاداش میں جو وہ کرتے تھے، اس میں ایک نشانِ عِبرت ہے اُن لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں۔66

حاشیہ نمبر: 66

یعنی جاہلوں کا معاملہ تو دوسرا ہے ۔ وہ تو کہیں گے کہ حضرت صالحؑ اور ان کی اونٹنی کے معاملہ سے  اس زلزلے کا  کوئی تعلق نہیں جو قومِ ثمود پر آیا ، یہ چیزیں تو اپنے طبی  اسباب سے آیا کرتی ہیں، اس کے آنے یا نہ آنے میں اس چیز کا کوئی دخل نہیں ہو سکتا کہ کون اس علاقے میں نیک و کار تھا اور کون بد کار اور کس نے کس پر ظلم کیا تھا اور کس نے رحم کھایا تھا، یہ محض واعظانہ ڈھکوسلے ہیں کہ فلاں شہر یا فلاں علاقہ فسق و فجور سے بھر گیا تھا اس لیے اس پر سیلاب آگیا یا زلزلے نے اس کی بستیاں الٹ دی یا کسی اور  بلائے نا گہانی نے اسے تل پٹ کر ڈال لیکن جو لوگ علم رکھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ کوئی اندھا بہرہ  خدا اس کائنات پر حکومت نہیں کر رہا ہے بلکہ ایک حکیم و دانا ہستی یہاں قسمتوں کے فیصلے کر رہی ہے ۔ اس کے فیصلے طبی اسباب کے غلام نہیں ہیں بلکہ طبی اسباب اس کے ادارے کے غلام ہیں۔ اس کے ہاں قوموں کو گرانے اور اٹھانے کے فیصلے اندھا دھند نہیں کیے جاتے بلکہ حکمت اور عدل کے ساتھ کیے جاتے ہیں اور ایک قانونِ مکافات بھی اس کی کتابِ آئین میں شامل ہےجس کی رو سے اخلاقی بنیادوں پر اس دنیا میں بھی ظالم کیفرکردار کو پہچانے جاتے ہیں۔ ان حقیقتوں سے جو لوگ باخبر ہیں وہ اس زلزلے کو اسباب طبی کا نتیجہ کہہ کر نہیں ٹال سکتے ۔ وہ اسے اپنے ہاتھوں میں تنبیہ کا کوڑا سمجھیں گے ۔ وہ اس سے عبرت حاصل کریں گے۔ وہ ان اخلاقی اسباب کو سمجھنے کی کوشش کریں گے جس کی بنا پر خالق نے اپنی پیدا کی ہوئی ایک پھلتی پھولتی قوم کو  غارت کر کے رکھ دیا۔ وہ اپنے رویے کو اس راہ سے ہٹائیں گے جو اس کاغذب لانے والی ہے اور اس راہ پر ڈالیں گے جو اس کی رحمت سے ہمکنار کرنے والی ہے۔

(27:53)

وَاَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَكَانُوْا یَتَّقُوْنَ 

اور بچا لیا ہم نے اُن لوگوں کو جو ایمان لائے تھے اور نافرمانی سے پرہیز کرتے تھے

(27:54)

وَلُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ وَاَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ 

67اور لوطؑ  کو ہم نے بھیجا۔ یاد کرو وہ وقت جب اس نے اپنی قوم سے کہا”کیا تم آنکھوں دیکھتے بدکاری کرتے ہو؟68

حاشیہ نمبر: 67

pتقابل کے لیے ملاحظہ ہو ں الاعراف ، آیات8۰ تا 84۔ ہود ،74تا83۔الحجر،57تا77۔الانبیاء71 تا 75۔ الشعراء1۶۰ تا174۔ العنکبوت،28تا75۔ الصافّات، 133 تا138۔ القمر33 تا 39۔/p

حاشیہ نمبر: 68

pاس ارشاد کے کئی مطلب ہو سکتے ہیں اور غالباً وہ سب ہی مراد ہیں۔ ایک یہ کہ تم اس فعل کے فحش اور  کارِ بد ہونے سے ناواقف نہیں ہو، بلکہ جانتے بوجھتے  اس کا ارتکاب کرتے ہو۔ دوسرے یہ کہ تم اس بات سے بھی ناواقف نہیں ہو کہ مرد کی خواہش نفس کے لیے مرد نہیں پیدا کیا گیا بلکہ عور ت پیدا کی گئی ہے، اور مرد و عورت کا فرق بھی ایسا نہیں ہے کہ تمہاری آنکھوں کو نظر نہ آتا ہو، مگر تم کھلی آنکھوں کے ساتھ یہ جیتی مکھی نگلتے ہو۔ تیسرے یہ کہ تم علانیہ  یہ بے حیائی کا کام کرتے ہو جب کہ دیکھنے والی آنکھیں تمہیں دیکھ رہی ہوتی ہیں، جیسا کہ آگے سورہ عنکبوت میں آرہا ہے:وَتَاْ تُوْنَ فِیْ نَادِیْکُمُ الْمُنْکَرَ، ”اور تم اپنی مجلسوں میں برا کام کرتے ہو“۔(آیت 29)۔/p

(27:55)

اَىِٕنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ 

کیا تمہارا یہی چلن ہے کہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس شہوت رانی کے لیے جاتے ہو؟ حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ سخت جہالت کا کام کرتے ہو۔“69

حاشیہ نمبر: 69

جہالت کا لفظ یہاں حماقت اور سفاہت کے معنی میں استعمال ہوا ہے ۔ اُردو زبا ن میں بھی ہم گالی گلو اور بیہودہ حرکات کرنے والے کو کہتے ہیں کہ وہ جہالت پر اُتر آیا ہے ۔ اسی معنی میں یہ لفظ عربی زبان میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے وَ اِذَا خَا طَبَھُمُ الْجَاھِلُوْنَ قَالُوْ ا سَلٰمًا، (الفرقان، آیت ۶3) لیکن اگر اس لفظ کو بے علمی ہی کے معنی  میں لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تم اپنی ان حرکات کے بُرے انجام کو نہیں جانتے ۔ تم یہ تو جانتے ہو کہ یہ ایک لذتِ نفس ہے جو تم حاصل کر رہے ہو۔ مگر تمہیں یہ معلوم نہیں  ہے کہ اس انتہائی مجرمانہ اور گھناؤ نی لذت چشی کا کیسا سخت خمیازہ تمہیں عنقریب بھگتنا پڑے گا۔ خدا کا عذاب تم پر ٹوٹ پڑنے کے لیے تیار کھڑا ہے اور تم ہو کہ انجام سے بے خبر اپنے اس گندے کھیل میں منہمک ہو۔

(27:56)

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْۤا اٰلَ لُوْطٍ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ 

مگر اُس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انہوں نے کہا "نکال دو لوطؑ کے گھر والوں کو اپنی بستی سے، یہ بڑے پاکباز بنتے ہیں"

(27:57)

فَاَنْجَیْنٰهُ وَاَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ ؗ قَدَّرْنٰهَا مِنَ الْغٰبِرِیْنَ 

آخر کار ہم نے بچا لیا اُس کو اور اُس کے گھر والوں کو ، بجز اُس کی بیوی کے جس کا پیچھے رہ جانا ہم نے طے کر دیا تھا،70

حاشیہ نمبر: 70

یعنی پہلے ہی حضرت لوطؑ کو ہدایت کر دی گئی تھی کہ وہ اس عورت کو اپنے ساتھ نہ لے جائیں کیونکہ اسے اپنی قوم کے ساتھ ہی تباہ ہونا ہے۔

(27:58)

وَاَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ 

اور برسائی اُن لوگوں پر ایک برسات، بہت ہی بری برسات تھی وہ اُن لوگوں کے حق میں جو متنبہ کیے جا چکے تھے

(27:59)

قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَسَلٰمٌ عَلٰی عِبَادِهِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی ؕ ءٰٓاللّٰهُ خَیْرٌ اَمَّا یُشْرِكُوْنَ 

71(اے نبیؐ)کہو، حمد ہے اللہ کے لیے اور سلام اُس کے اُن بندوں پر جنہیں اس نے برگزیدہ کیا۔(اِن سے پُوچھو)اللہ بہتر ہے یا وہ معبُود جنہیں یہ لوگ اس کا شریک بنا رہے ہیں؟72

حاشیہ نمبر: 71

pیہاں سے دوسر اخطبہ شروع ہوتا ہے اور یہ فقرہ اس کی تمہید ہے ۔اس تمہید سے یہ سبق سکھایا گیا ہے کہ مسلمانوں کو اپنی تقریر کا آغاز کس طرح کرنا  چاہیے۔ اسی بنا پر صحیح اسلامی ذہنیت رکھنے والے لوگ ہمیشہ سے اپنی تقریریں اللہ کی حمد اور اس کے نیک بندوں پر سلام سے شروع کرتے رہے ہیں۔ مگر اب اسے ملائیت سمجھا جانے لگا ہے  اور موجودہ زمانے کے مسلمان مقررین اس سے کلام کی ابتدا کرنے کا تصور تک اپنے ذہن میں نہیں رکھتے ، یا پھر اس میں شرم محسوس کرتے ہیں۔/p

حاشیہ نمبر: 72

pبظاہر یہ سوال بڑا عجیب معلوم ہوتا ہے کہ اللہ بہتر ہے یا یہ معبود اِن باطل حقیقت کے اعتبار سے تو معبود انِ باطل میں سرے سے کسی خیر کا سوال ہی نہیں ہے کہ اللہ سے ان کا مقابلہ کیا جائے۔ رہے مشرکین تو وہ بھی اس غلط فہمی میں مبتلا نہ تھے کہ اللہ کا اور اُن کے معبودوں کا کوئی مقابلہ ہے ۔ لیکن یہ سوال ان کے سامنے اس لیے رکھا گیا کہ وہ اپنی غلطی پر متنبہ ہوں۔ ظاہر ہے کہ کوئی شخص دنیا میں کوئی کام بھی اس وقت تک نہیں کرتا جب تک وہ اپنے نزدیک اس میں کسی بھلائی یا فائدے کا خیال نہ رکھتا ہو۔ اب اگر یہ مشرک لوگ اللہ کی عبادت کے بجائے ان معبودوں  کی عبادت کرتے تھے، اور اللہ کو چھوڑ کر ان سے اپنی حاجتیں طلب کرتے اور ان کے آگے نذر و نیاز پیش کرتے تھے ، تو یہ اِ س کے بغیر بالکل بے معنی تھا کہ ان معبودوں میں کوئی خیر ہو۔ اسی بنا پر ان کے سامنے صاف الفاظ میں یہ سوال رکھا گیا کہ بتاؤ اللہ بہتر ہے یا تمہارے یہ معبود؟ کیونکہ اس دو ٹوک سوال کا سامنا کرنے کی ان میں ہمت نہ تھی۔ ان میں سے کوئی کٹّے سے کٹّا مشرک بھی یہ کہنے کی جرأت نہ کر سکتا تھا کہ ہمارے معبود بہتر ہیں۔ اور یہ مان لینے کے بعد کہ اللہ بہتر ہے ، ان کے پورے دین کی بنیاد ڈھے جاتی تھی، اس لیے کہ پھر یہ بات سراسر نا معقول قرار پاتی تھی کہ بہتر کو چھوڑ کر بد تر کو اختیار کیا جائے۔/pp          اس طرح قرآن نے تقریر کے پہلے ہی فقرے میں مخالفین کو بے بس کر دیا۔ اس کے بعد اب پے در پے اللہ تعالیٰ کی قدرت اور تخلیق کے ایک ایک کرشمے کی طرف انگلی اٹھا کر پو چھا جاتا ہے کہ بتاؤ یہ کام کس کے ہیں؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا خدا بھی ان کاموں میں شریک ہے ؟ اگر نہیں ہے تو پھر یہ دوسرے آخر کیا ہیں کہ انہیں تم نے معبود بنا رکھا ہے۔/pp          روایات میں آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اس آیت کی تلاوت فرماتے تو فوراً اس کے جواب میں فرماتے  بَلِ اللہُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰی وَاَجَلُّ وَاَکْرَمُ، ” نہیں بلکہ اللہ ہی بہتر ہے اور وہی باقی رہنے والا اور بزرگ و برتر ہے“۔/p

(27:60)

اَمَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَاَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ حَدَآىِٕقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُنْۢبِتُوْا شَجَرَهَا ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ ؕ بَلْ هُمْ قَوْمٌ یَّعْدِلُوْنَ ؕ

بھَلا وہ کون ہے جس نےآسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تمہارے لیے آسمان سے پانی برسایا پھر اس کے ذریعہ سے وہ خوشنما باغ اُگائے جن کے درختوں کا اُگانا تمہارے بس میں نہ تھا؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی دُوسرا خدا بھی (اِن کاموں میں شریک)ہے؟73 (نہیں)، بلکہ یہی لوگ راہِ راست سے ہٹ کر چلے جا رہے ہیں

حاشیہ نمبر: 73

مشرکوں میں سے کوئی بھی اس سوال کا یہ جواب نہ دے سکتا تھا کہ یہ کام اللہ کے سوا کسی اور کے ہیں، یا اللہ کے ساتھ کوئی  اور بھی ان میں شریک ہے ۔ قرآن مجید دوسرے مقامات پر کفارِ مکّہ اور مشرکین عرب کے متعلق کہتا ہے ، وَلَئِنْ سَاَلْتَھُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ خَلَقَھُنَّ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُ، وَلَئِنْ سَاَلْتَھُمْ مَّنْ خَلَقَ، ”اگر تم ان سے پوچھو کہ کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے  تو وہ ضرور کہیں گے اُس زبردست ، علم والے نے ہی ان کو پیدا کیا ہے“ (الزخرف آیت9) وَلَئِنْ سَاَلْتَھُمْ مَّنْ خَلَقَھُمْ لَیَقُوْلُنَّ اللہُ،”اور اگر ان سے پوچھو کہ خود انہیں کس نے پیدا کیا ہے  تو وہ ضرور کہیں گے  اللہ نے“(الزخرف۔ آیت87) وَلَئِنْ سَاَلْتَھُمْ مَّنْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآ ءً فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا لَیَقُوْلُنَّ اللہُ،”اور اگر ان سے پوچھو کہ کس نے آسمان  سے پانی برسایا اور مردہ پڑی ہوئی زمین کو جِلا اٹھایا تو وہ ضرور کہیں گے اللہ نے “(العنکبوت۔آیت۶3)قُلْ مَنْ یَّرْزُقُکُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَالاَرْضَ۔۔۔۔ وَمَنْ یُّدَبِّرُ الْاَمْرَ فَسَیَقُوْلُوْنَ اللہ ،” ان سے پوچھو کون تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے ؟ یہ سماعت اور بینائی کی قوتیں کس کے اختیار میں ہیں؟ کون جاندار کو بے جان  میں سے اور بے جان کو جاندار میں سے نکالتا ہے؟  کون اس نظام ِ عالم کی تدبیر کر رہا ہے ؟ وہ ضرور کہیں گے  کہ اللہ “(یونس۔ آیت31)۔ عرب کے مشرکین ہی نہیں ، دنیا بھر کے مشرکین بالعموم یہی مانتے تھے  اور آج بھی مانتے ہیں کہ کائنات کا خالق اور نظامِ کائنات کا مدبّر اللہ تعالیٰ ہی ہے ۔ اس لیے قرآن مجید کے اس سوال کا یہ جواب اُن میں سے کوئی شخص ہٹ دھرمی کی بنا پر رائے بحث بھی نہ دے سکتا تھا کہ ہمارے معبود خدا کے ساتھ اِن کاموں میں شریک ہیں، کیونکہ اگر وہ ایسا  کہتا تو اس کی اپنی ہی قوم کے ہزار ہا آدمی اس کو جھٹلا دیتے اور صاف کہتے کہ ہمارا یہ عقیدہ نہیں ہے۔           اس سوال  اور اس کے بعد کے سوالات میں صرف مشرکین ہی کے شرک کا ابطال نہیں ہے بلکہ دہریوں کی دہریت کا ابطال بھی ہے ۔ مثلاً اسی پہلے سوال میں پوچھا گیا ہے کہ یہ بارش برسانے والا اور اس کے ذریعہ سے ہر طرح کی نباتات اُگانے والا کون ہے ؟ اب غور کیجیے، زمین میں اُس مواد کا ٹھیک سطح پریا سطح سے متصل موجود ہانا جو بے شمار مختلف اقسام کی نباتی زندگی کے لیے درکار ہے ، اور پانی کے اندر ٹھیک وہ اوصاف موجود ہونا جو حیوانی اور نباتی زندگی کی ضروریات کے مطابق ہیں، اور اس پانی کا پے در پے سمندروں سے اُٹھایا جانا اور زمین کے مختلف حصوں میں وقتاً فوقتاً ایک باقاعدگی کے ساتھ برسایا جانا، اور زمین ، ہوا ، پانی اور درجہ حرارت وغیرہ مختلف قوتوں کے درمیان ایسا متناسب تعاون قائم کرنا کہ اس سے نباتی زندگی کو نشوونما نصیب ہوا اور وہ ہر طرح کی حیوانی زندگی  کے لیے اس کی بے شمار ضروریات پوری کرے، کیا یہ سب کچھ ایک حکیم کی منصوبہ بندی اور دانشمندانہ تدبیر اور غالب قدرت و ارادہ کے بغیر خود بخود اتفاقاً ہو سکتا ہے ؟ اور کیا یہ ممکن ہے کہ یہ اتفاقی حادثہ مسلسل ہزار ہا برس بلکہ لاکھوں کروڑوں برس تک اسی باقاعدگی سے رونما ہوتا چلا جائَے؟ صرف ایک ہٹ دھرم آدمی ہی ، جو تعصب میں اندھا ہو چکا ہو، اسے ایک امر اتفاقی کہہ سکتا ہے ۔کسی راستی پسند عاقل انسان کے لے ایسا لغو دعویٰ کرنا اور ماننا ممکن نہیں ہے۔

(27:61)

اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّجَعَلَ خِلٰلَهَاۤ اَنْهٰرًا وَّجَعَلَ لَهَا رَوَاسِیَ وَجَعَلَ بَیْنَ الْبَحْرَیْنِ حَاجِزًا ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ؕ

اور وہ کون ہے جس نے زمین کو جائے قرار بنایا74 اور اس کے اندر دریا رواں کیے اور اس میں (پہاڑوں کی)میخیں گاڑ دیں اور پانی کے دو ذخیروں کے درمیان پردے حائل کر دیے؟75 کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی (ان کاموں میں شریک)ہے؟ نہیں، بلکہ ان میں سے اکثر لوگ نادان ہیں

حاشیہ نمبر: 74

زمین کا اپنی بے حدو حساب مختلف انسوع آبادی کے لیے جائے قرار ہونا بھی کوئی سادہ سی بات نہیں  ہے ۔ اس کرہ خاکی کو جِن حکیمانہ مناسبتوں کےساتھ قائم کیا گیا ہے ، ان کی تفصیلات پر آدمی غور کرے تو اس کی عقل دنگ رہ جاتی ہے اور اسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ مناسبتیں ایک حکیم و دانا قادرِ مطلق کی تدبیر قائم نہ ہو سکتی تھیں۔ یہ کُرَہ فضائے بسیط میں معلق ہے ، کسی چیز پر ٹِکا ہوا نہی ہے ۔ مگر اس کے با وجود اس میں کوئی اضطراب اور اہتزاز نہیں ہے ۔ اگر اس میں ذرا سا بھی اہتزاز ہوتا، جس کے خطر ناک نتائج کا ہم کبھی ذلزلہ آجانے سے بآسانی اندازہ لگا سکتے ہیں، تو یہاں کوئی آبادہ ممکن نہ تھی۔ یہ کرہ با قاعدگی کے ساتھ سورج کے سامنے رہتا  اور دوسرا رُخ ہر وقت چھپا رہتا تو یہاں کوئی آبادی ممکن نہ ہوتی کیونکہ ایک رُخ کو سردی اور بے نوری نباتات اور حیوانات  کی پیدائش کے قابل نہ رکھتی اور دوسرے رُخ کو گرمی کی شدت بے آب و گیا ہ اور غیر آباد بنا دیتی۔ اس کرہ پر پانچ سو میل کی بلندی تک ہوا کا ایک کثیف ردّا چڑھا دیا گیا ہے جو شہابوں کی خوفناک بم باری سے اسے بچائے ہوئے ہے ۔ ورنہ روزانہ دو کروڑ شہاب، جو 3۰ میل فی سکینڈ کی رفتار سے زمین کی طرف گرتے ہیں، یہاں وہ تباہی مچاتے کہ کوئی انسان ، حیوان یا درخت جیتا نہ رہ سکتا تھا۔ یہی ہوا درجۂ حرارت کو قابو میں رکھتی ہے ، یہی سمندروں سے بادل اٹھاتی  اور زمین کے مختلف حصوں تک آپ رسانی کی خدمت انجام دیتی ہے اور یہی انسان اور حیوان اور نباتات کی زندگی کو مطلوبہ گیسیں فراہم کرتی ہے۔ یہ نہ ہوتی تب بھی زمین کسی آبادی کے لیے جائے قرار نہ بن سکتی ۔ اس کُرے کی سطح سے بالکل متصل وہ معدنیات اور مختلف قسم کے کیمیاوی اجزاء بڑے پیمانے پر فراہم کر دیے گئے ہیں جو نباتی، حیوانی اور انسانی زندگی کے لیے مطلوب ہیں۔ جس جگہ بھی یہ سرو سامان مفقود ہوتا ہے وہاں کی زمین کسی زندگی کو  سہارنے کے لائق نہیں ہوتی۔ اس کُرے پر سمندروں ، دریاؤں، جھیلوں، چشموں اور زیر زمین سوتوں کی شکل میں پانی کا بڑا عظیم الشان ذخیرہ فراہم کر دیا گیا ہے ، اور پہاڑوں پر بھی اس کے بڑے بڑے ذخائر کو منجمد کرنے اور پھر پگھلا کر بہانے کا انتظام کیا گیا ہے ۔ اس تدبیر کے بغیر یہاں کسی زندگی کا امکان  نہ تھا۔ پھر اس پانی ، ہوا اور تمام اُن اشیاء کو جو زمین پر پائی جاتی ہیں ، سمیٹیے رکھنے کے لیے اس کُرے میں نہایت ہی مناسب کشش رکھ دی گئی ہے ۔ یہ کشش اگر  کم ہوتی تو ہوا اور پانی ، دونوں کو نہ روک سکتی  اور درجۂ حرارت اتنا زیادہ ہوتا کہ زندگی یہاں دشوار ہو جاتی۔ یہ کشش اگر زیادہ ہوتی تو ہوا بہت کثیف ہو جاتی ، اس کا دباؤ بہت بڑھ جاتا، بخارات آبی کا اُٹھنا مشکل ہوتا اور بارشیں نہ ہو سکتیں، سردی زیادہ ہوتی ، زمین کے بہت کم رقبے آبادی کے قابل ہوتے، بلکہ کششِ ثقل بہت زیادہ ہونے کی صورت میں انسان اور حیوانات کی جسامت بہت کم ہوتی اور ان کا وزن اتنا زیادہ ہوتا کہ نقل  و حرکت بھی ان کے لیے مشکل ہوتی۔ علاوہ بریں ، اس کرے کو سورج سے ایک خاص فاصلے پر رکھا گیا ہے جو آبادی کے لے مناسب ترین  ہے ۔ اگر اس کا فاصلہ زیادہ ہوتا تو سورج سے اس کو حرارت کم ملتی، سردی بہت زیادہ ہوتی، موسم بہت  لمبے ہوتے ، اور مشکل ہی سے یہ آبادی کے قابل ہوتا۔ اور اگر فاصلہ کم ہوتا تو اس کے بر عکس گرمی کی زیادتی اور دوسری بہت سی چیزیں مل جل کر اسے انسان جیسی مخلوق کی سکونت کے قابل نہ رہنے دیتیں۔           یہ صرف چند وہ مناسبتیں ہیں جن کی بدولت زمین اپنی موجودہ آبادی کے لیے جائے قرار بنی ہے ۔ کوئی شخص عقل رکھتا ہو اور ان امور کو نگاہ میں رکھ کر سوچے تو وہ ایک لمحہ کے لیے بھی نہ یہ تصور کر سکتا ہے  کہ کسی خالق حکیم کی منصوبہ سازی کے بغیر یہ مناسبتیں محض ایک حادثہ کے نتیجے میں خود بخود قائم ہو گئی ہیں، اور نہ یہ گمانہ کر سکتا ہے کہ اس عظیم الشان تخلیقی منصوبے کو بنانے اور روبعمل لانے میں کسی دیوی یا دیوتا، یا جن ، یا نبی و ولی، یا فرشتے کا کوئی دخل ہے۔

حاشیہ نمبر: 75

یعنی میٹھے اور کھاری پانی کے ذخیرے ، جو اسی زمین پر موجود ہیں ، مگر وہاں  خلط ملط نہیں ہوتے۔ زیر زمین پانی کی سورتیں بسا اوقات ایک ہی علاقے میں کھاری پانی الگ اور میٹھا پانی الگ لے کر چلتی ہیں۔ کھاری پانی کے سمندر تک  میں بعض مقامات پر میٹھے پانی کے چشمے رواں ہوتے ہیں اور ان کی دھار سمندر کے پانی سے اس طرح الگ ہوتی ہے کہ بحری مسافر اس میں سے  پینے کے لیے پانی حاصل کر سکتے ہیں۔(تفصیلی بحث کےلیے ملاحظہ ہوں تفہیم القرآن، سورہ الفرقان، حاشیہ ۶8؁)

(27:62)

اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَیَكْشِفُ السُّوْٓءَ وَیَجْعَلُكُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِ ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ ؕ

کون ہے جو بے قرار کی دُعا سُنتا ہے جبکہ وہ اُسے پکارے اور کون اس کی تکلیف رفع کرتا ہے؟76 اور (کون ہے جو)تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے؟77 کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی (یہ کام کرنے والا)ہے؟ تم لوگ کم ہی سوچتے ہو

حاشیہ نمبر: 76

مشرکین عرب خود اس بات کو جانتے اور مانتے تھے کہ مصیبت کو ٹالنے والا حقیقت میں اللہ ہی ہے چنانچہ قرآن مجید جگہ جگہ انہیں یاد دلاتا ہے کہ جب تم پر کوئی سخت وقت آتا ہے تو تم خدا ہی سے فریاد کرتے ہو، مگر جب وہ وقت ٹل جاتا ہے تو خدا کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے لگتے ہو(تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول الانعام، حواشی29۔41۔جلد دوم،یونس،آیات21۔22۔حاشیہ31۔النحل،حاشیہ4۶۔بنی اسرائیل حاشیہ،84۔ )اور یہ بات صرف مشرکین عرب ہی تک محدود نہیں ہے دنیا بھر کے مشرکین کا بالعموم یہی حال ہے ۔ حتٰی کے روس کے منکرین خدا جنہوں نے خدا پرستی کے خلاف ایک باقاعدہ مہم چلا رکھی ہے ، ان پر بھی جب گزشتہ جنگ عظیم میں جرمن فوجوں کا نرغہ سخت ہو گیا تو انہیں خدا کو پکار نے کی ضرورت محسوس ہوگئی تھی۔

حاشیہ نمبر: 77

اس کے دو معنی ہیں ۔ ایک یہ کہ ایک نسل کے بعد دوسری نسل اور ایک قوم کے بعد دوسری قوم  اٹھاتا ہے ۔ دوسرے یہ کہ تم کو زمین میں تصرف اور فرما نروائی کے اختیارات عطا کرتا ہے

(27:63)

اَمَّنْ یَّهْدِیْكُمْ فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَنْ یُّرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًاۢ بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ ؕ تَعٰلَی اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ ؕ

اور وہ کون ہے جو خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں تم کو راستہ دکھاتا ہے78 اور کون اپنی رحمت کے آگے ہواوٴں کو خوشخبری لے کر بھیجتا ہے؟79 کیا اللہ کے ساتھ کوئی دُوسرا خدا بھی (یہ کام کرتا)ہے؟ بہت بالا و برتر ہے اللہ اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں

حاشیہ نمبر: 78

یعنی جس نے ستاروں کے ذریعے سے ایسا انتظام کر دیا ہے کہ تم رات کے اندھیرے میں بھی اپنا راستہ تلاش کر سکتے ہو۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکیمانہ تدبیروں میں سے ایک ہے کہ اس نے بحری اور بری سفروں میں انسان کی رہنمائی کے لیے وہ ذرائع پیدا کر دیے ہیں جن سے وہ اپنی سمت سفر ، اور منزلِ مقصود کی طرف اپنی راہ متعین کر تا ہے ۔ دن کے وقت زمین کی مختلف علامتیں اور آفتا ب کے طلوع و غروب کی سمتیں اس کی مدد کرتی ہیں اور تاریک راتوں میں تارے اس کی رہنمائی کرتے ہیں ۔ سورہ نحل میں ان سب کو اللہ تعالی ٰکے احسانات میں شمار کیا گیا ہے:وَعَلَامَاتٍ وَّ بِالنَّجْمِ ھُمْ یَھْتَدُوْنَ،(آیت1۶)۔

حاشیہ نمبر: 79

رحمت سے مراد ہے بارش، جس کے آنے سے پہلے ہوائیں اس کی آمدآمد کی خبر دے دیتی ہیں۔

(27:64)

اَمَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَمَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ 

اور وہ کون ہے جو خلق کی ابتدا کرتا ہے اور پھر اس کا اعادہ کرتا ہے؟80 اور کون تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے؟81 کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی (ان کاموں میں حصہ دار)ہے؟ کہو کہ لاوٴ اپنی دلیل اگر تم سچے ہو۔82

حاشیہ نمبر: 80

یہ سادہ سی بات جس کو ایک جملے میں بیان کر دیا گیا ہے ، اپنے اندر ایسی تفصیلات رکھتی ہے کہ آدمی ان کی گہرائی میں جتنی دور تک اُترتا  جاتا ہے اتنے ہی وجودِ الٰہ اور وحدتِ الٰہ کے شواہد اسے ملتے چلے جاتے ہیں۔ پہلے تو بجائے خود تخلیق ہی کو دیکھیے۔ انسان کا علم آج تک یہ راز نہیں پاسکا ہے کہ زندگی کیسے اور کہاں سے آتی ہے ۔ اس وقت تک مُسلم سائنٹیفک حقیقت یہی ہے کہ بے جان مادّے کی محض ترکیب سے خود بخود جان پیدا نہیں ہو سکتی۔ حیات کی پیدائش کے لیے جتنے عوامل درکار ہیں ان سب کا ٹھیک تناسب کے ساتھ بالکل اتفاقاً جمع ہو کر زندگی کا  آپ سے آپ وجود میں آجانا دہریوں کا ایک غیرعلمی کا مفروضہ تو ضرور ہے، لیکن اگر ریاضی کے قانون بخت و اتفاق(law of Change ) کو اس پر  منطبق کیا جائے تو اس کے وقوع کا امکان صفر سے زیادہ نہیں نکلتا۔ اب تک تجربی طریقے پر سائنس کے معمولوں (labo ratories ) میں بے جان مادے سے جاندار مادہ پیدا کرنے کی جتنی کوششیں بھی کی گئی ہیں، تمام ممکن تدابیر استعمال کرنے کے با وجود وہ سب قطعی ناکام ہو چکی ہیں۔ زیادہ سے زیادہ جو چیز پیدا کی جا سکی ہے وہ صرف وہ مادہ ہے جسے اصطلاح میں (D.N.A ) کہا جاتا ہے ۔ یہ وہ مادہ ہے جو زندہ خلیوں میں پایا جاتا ہے ۔ یہ جو ہرِ حیات تو ضرور ہے مگر خودجاندار نہیں ہے ۔ زندگی  اب بھی بجائے خود ایک معجزہ ہی ہے  جس کی کوئی علمی توجیہ اس کے سوا نہیں کی جا سکی ہے کہ یہ ایک خالق کے امر و ارادہ اور منصوبہ کا نتیجہ ہے ۔           اس کے بعد آگے دیکھیے ۔ زندگی محض ایک مجرد صورت میں نہیں بلکہ بے شمارمتنّوع صورتوں میں پائِی جاتی ہے ۔ اس وقت تک روئے زمین  پر حیوانات کی تقریباً دس لاکھ اور نباتات کی تقریباً دو لاکھ انواع کا پتہ چلا ہے ۔ یہ لکھو کھا انواع اپنی ساخت اور نوعی خصوصیات میں ایک دوسرے سے ایسا واضح اور قطعی امتیاز رکھتی ہے ، اور قدیم ترین معلوم زمانے سے اپنی اپنی صورتِ نوعیہ  کو اس طرح برقرار رکھتی چلی آرہی ہے کہ ایک خدا کے تخلیقی منصوبے (Design ) کے سوا زندگی کے ایک عظیم تنّوع کی کوئی اور معقول توجیہ کرد ینا کسی ڈراون کے بس کی بات نہیں ہے۔ آج تک کہیں بھی دو نوعوں  کے درمیان کی کوئی ایک کڑی بھی نہیں مل سکتی ہے جو ایک نوع کی ساخت اور خصوصیات کا ڈھانچہ توڑ کر نکل آئی تو اور ابھی دوسری نوع کی ساخت اور خصوصیات تک پہنچنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہی ہو۔ متحجرات(Fossils ) کا پورا ریکارڈ اس کی نظر سے خالی ہے اور موجودہ حوالات میں بھی یہ خنثٰی مشکل نہیں ملا ہے ۔ آج تک کسی نوع کا جو فرض بھی ملا ہے ، اپنی پوری صورتِ نوعیہ  کے ساتھ ہی ملا ہے ، اور ہر وہ افسانہ جو کسی مفقود کڑی کے  بہم پہنچ جانے کا وقتاً فوقتاً سنا دیا جاتا ہے ، تھوڑی مدت بعد حقائق اس کی ساری پھونک نکال دیتے ہیں۔ اس وقت تک یہ حقیقت اپنی جگہ بالکل اٹل ہے کہ ایک صانح حکیم، ایک خالق الباری المصور ہی نے زندگی کو یہ لاکھوں متنوع صورتیں عطا کی ہیں۔            یہ تو ہے ابتداء خالق کا معاملہ ۔ اب ذرا اعادہ خلق پر غور کیجیے۔ خالق نے ہر نوع  حیوانی اور نباتی کی ساخت و تقریب میں وہ حیرت انگیز نظام العمل(Mechanism ) رکھ دیا ہے جو اس کے بے شمار افراد میں سے بے حدو حساب نسل کی اسی کی صورتِ نوعیہ اور مزاج و خصوصیات کے ساتھ نکالتا چلا جاتا ہے  اور کبھی جھوٹوں بھی ان کروڑ ہا کروڑ چھوٹے چھوٹے کا رخانوں میں یہ بھول چوک نہیں ہوتی کہ ایک  نوع کا کوئی کا رخانہ تنا سل کسی دوسری نوع کا ایک نمونہ نکال کر پھینک دے ۔ جدید علم تناسل (Genetics ) کے مشاہدات اس معاملے میں حیرت انگیز حقائق پیش کرتے ہیں ۔ ہرپودے میں یہ صلاحیت رکھی گئی ہے  کہ اپنی نوع کا سلسلہ آگے کی نسلوں تک جاری رکھنے کا ایسا مکمل انتظا م کرے جس سے آنے والی نسل اس کی نوع کی تمام امتیازی خصوصیات کی حامل ہو  اور اس کا ہر فرد دوسری تمام انواع کے افراد سے اپنی صورت نوعیہ میں  ممیز ہو۔ یہ بقائے نوع اور تناسل کا سامان ہر پودے کے ایک خلیے(Cell ) کے ایک حصہ میں ہوتا ہے  جسے مشکل  انتہائی طاقت ور خورد بین سے دیکھا جا سکتا ہے ۔ یہ چھوٹاسا انجینیر پوری صحت کے ساتھ پودے کے سارے نشوونما کو حتماً اُسی راستے پر ڈالتا ہے  جو اس کی اپنی صورتِ نوعیہ کا راستہ ہے ۔ اسی کی بدولت گیہوں کے ایک دانہ سے آج تک جتنے پودے بھی دنیا میں کہیں پیدا ہوئے ہیں انہوں نے گیہوں ہی پیدا کیا ہے ، کیس آب و ہوا اور کسی ماحول میں یہ حادثہ کبھی رونما نہیں ہوا کہ دانہ گندم کی نسل سے کوئی  ایک ہی دانہ جَو پیدا ہو جاتا۔ ایسا ہی معاملہ حیوانات اور انسان کا بھی ہے کہ ان میں سے کسی کی تخلیق بھی بس ایک دفعہ ہو کر نہیں رہ گئی ہے بلکہ ناقابلِ تصور وسیع پیمانے پر ہر طرف اعادہ خلق کا ایک عظیم کارخانہ چل رہا ہے  جو ہر نوع کے افراد سے پیہم اُسی نوع کے بے شمار افراد وجود میں لاتا چلا جا رہا ہے ۔ اگر کوئی شخص توالدُو  تناسُل کے اُس خٔد بینی تخم کو دیکھے جو تمام نوعی امتیازات اور موروثی خصوصیات کو اپنے ذرا سے وجود کے بھی محض ایک حصے میں لیے ہوئے ہوتا ہے ، اور پھر اس انتہائی  نازل اور پیچیدہ عضوی نظام اور نے انتہا لطیف و پُر پیچ عملیات(Progresses ) کو دیکھے جن کی مدد سے ہر نوع کے ہر فرد کا تخمِ تناسُل اُسی نوع کا فرد وجود میں لاتا ہے  ، تو وہ ایک لمحہ کے لیے بھی یہ تصور نہیں کر سکتا کہ ایسا نازل اور پیچیدہ نظام العمل کبھی خود بخود بن سکتا ہے اور پھر مختلف انواع کے اربوں ملین افراد میں آپ سے آپ ٹھیک چلتا بھی رہ سکتا ہے ۔ یہ چیز نہ صرف اپنی ابتدا کے لیے ایک صانع حکیم چاہتی ہے ، بلکہ ہرآن اپنے درست طریقہ پر چلتے رہنے کے لیے بھی ایک ناظم و مدّبر اور ایک حیّ و قیوم کی طالب ہے جو ایک لحظہ کے لیے بھی اِن کارخانوں کی نگرانی و رہنمائی سے غافل نہ ہو۔           یہ حقائق ایک دہریے کے انکارِ خدا کی بھی اسی طرح جڑ کاٹ دیتے ہیں جس طرح ایک مشرک کے شرک کی۔ کون احمق یہ گمان کر سکتا ہے کہ خدائی کے اس کام میں کوئی فرشتہ یا جن یا نبی یا ولی ذرہ برابر بھی کوئی حصہ رکھتا ہے ۔ اور کون صاحبِ عقل آدمی تعصب سے پاک ہو کر یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ سارا کارخانہ خلق و اعادہ خلق اِ س کمال حکمت و نظم کے ساتھ اتفاقاً شروع ہوا اور آپ سے آپ چلے جا رہا ہے۔

حاشیہ نمبر: 81

رزق دینے کا معاملہ اتنا سادہ نہیں  ہے، جتنا سر سری طور پر ان مختضر سے الفاظ کو پڑھ کو کوئی شخص محسوس کرتا ہے ۔ اس زمین پر لاکھوں انواع  حیوانات کی  اور لاکھوں ہی نباتات کی  پائی جاتی ہیں جن میں سے ہر ایک کے اربوں افراد موجود ہیں، اور ہر ایک کی غذائی  ضروریات الگ ہیں ۔ خالک نے ان میں سے  ہر نوع کی غذا کا سامان اس کثرت سے اور ہر ایک کی دسترس کے اس قدر قریب فراہم کیا ہے  کہ کسی نوع کے افراد بھی یہاں غذا پانے سے محروم نہیں رہ جاتے۔ پھر اس انتظام میں زمین اور آسمان کی اتنی مختلف  قوتیں مل جل کر کام کرتی ہیں جن کا شمار مشکل ہے ۔ گرمی، روشنی ، حوا ، پانی ، اور زمین کے مختلف الاقسام مادوں کے درمیان ایک ٹھیک تناسب کے ساتھ تعلق نہ ہوتو غذا کا ایک ذرہ بھی وجود میں نہیں آسکتا ۔           کون شخص تصور کر سکتا ہے کہ یہ حکیما نہ انتظام ایک مدبر کی تدبیر اور  سوچے سمجھے منصو بے کے بغیر یونہی اتفاقاً ہو سکتا ہے ؟ اور کون اپنے ہوش وہواس میں رہتے ہوئے یہ خیال کر سکتا ہے  کہ اس انتظام میں کسی جن یا فرشتے یا کسی بزرگ کی روح کا کوئی دخل ہے؟

حاشیہ نمبر: 82

یعنی  یا تو اس بات پر دلیل لاؤ کہ  ان کاموں میں واقعی کوئی اور بھی شریک ہے ، یا نہیں تو پھر کسی معقول دلیل سے یہی بات سمجھا دو کہ یہ سارے کام تو ہوں صرف ایک اللہ کے مگر بندگی و عبادت کا حق پہنچے اس کے سوا کسی اور کو ، یا  اس کے ساتھ کسی اور کو بھی۔

(27:65)

قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰهُ ؕ وَمَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ 

اِن سے کہو، اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں کوئی غیب کا عِلم نہیں رکھتا۔83 اور وہ نہیں جانتے کہ کب وہ اُٹھائے جائیں گے۔84

حاشیہ نمبر: 83

اوپر تخلیق ، تدبیر اور رزاقی کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے الٰہِ واحد( یعنی اکیلے خدا اور اکیلے مستحق عبادت) ہونے پر استدلال کیا گیا تھا ۔ اب خدا کی ایک اور اہم صفت ، یعنی علم کے لحاظ سے بتایا جا رہا ہے کہ اس میں بھی اللہ تعالیٰ لا شریک ہے۔ آسمان و زمین میں جو بھی مخلوقات ہیں ، خواہ فرشتے ہو یا جن یا انبیاء اور اولیاء یا دوسرے انسان اور غیر انسان، سب کا علم محدود ہے ۔ سب سے کچھ نہ کچھ پوشیدہ ہے  سب کچھ جاننے والا اگر کوئی ہے تو وہ صرف اللہ تعالی ٰ ہے  جس سے  اس کائنات کی کوئی چیز اور کوئی بات پوشیدہ نہیں ، جو ماضی و حال اور مستقبل سب کو جانتا ہے۔           غیب کے معنی مخفی ، پوشیدہ اور مستور کے ہیں۔ اصطلاحاً اس سے مراد ہر وہ چیز ہے جو معلوم نہ ہو ، جس تک ذرائع معلومات کی رسائی نہ ہو۔ دنیا میں بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو  فرداً فرداً بعض انسانوں کے علم میں اور بعض کے علم میں نہیں ہیں۔ اور بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو بحیثیت مجموعی پوری نوعِ انسانی کے علم میں نہ کبھی تھی ، نہ آج ہیں نہ آئندہ کبھی آئیں گی۔ ایسا ہی معاملہ جنوں اور فرشتوں  اور دوسری مخلوقات کا ہے  کے بعض چیزیں ان میں سے کسی سے  مخفی اور کسی کو معلوم ہیں ، اور بے شمار چیزیں ایسی ہیں جو ان سب سے مخفی ہیں اور کسی کو بھی معلوم نہیں ۔ یہ تمام اقسام کے غیب  صرف ایک ذات پر روشن ہیں ، اور وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے ۔ اس کے لیے کوئی چیز غیب نہیں، سب شہادت ہی شہادت ہے۔           اس حقیقت کو بیان کر نے میں سوال کا وہ طریقہ اختیار نہیں کیا گیا جو اوپر  تخلیق و تدبیر کائنات اور رزّاقی کے بیان میں اختیار کیا گیا ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اُن صفات کے آثار تو بالکل  نمایا ں ہیں جنہیں ہر شخص دیکھ رہا ہے ، اور ان کے بارے میں کفار و مشرکین تک یہ مانتے تھے اور مانتے ہیں کہ یہ سارے کام اللہ تعالیٰ ہی کے ہیں۔ اس لیے وہاں طرزِ استدلال یہ تھا کہ جب یہ سارے کام اللہ ہی کے ہیں اور کوئی ان  میں اس کا شریک نہیں  ہے  تو پھر خدائی میں تم نے دوسروں  کو کیسے شریک بنا لیا اور عبادت کے مستحق وہ کس بنا پر ہو گئے ؟لیکن علم کی صفت اپنے کوئی محسوس آثار نہیں رکھتی جن کی طرف اشارہ کیا جا سکے۔ یہ معاملہ صرف غور و فکر ہی سے سمجھ میں آسکتا ہے ۔ اس لیے اس کو سوال کے بجائے دعوے کے انداز میں پیش کیا گیا ہے ۔ اب یہ ہر صاحبِ عقل کا کام ہے کہ وہ اپنی جگہ اس امر پر غور کرے کہ فی الحقیقت کیا یہ سمجھ میں آنے والی بات ہے کہ اللہ کے سوا کوئی دوسرا عالم الغیب ہو؟ یعنی تمام اُن احوال اور اشیاء اور حقائق کا جاننے والا ہو جو کائنات میں کبھی تھیں، یا اب ہیں، یا آئندہ ہوں گی۔ اور اگر کوئی دوسرا عالم الغیب نہیں ہے اور نہیں ہو سکتا تو پھر کیا یہ بات عقل میں آتی ہے کہ جو لوگ پوری طرح حقائق اور احوال سے واقف ہی نہیں ہیں ان میں سے کوئی بندوں کا فریا درس اور حاجت رو ا اور مشکل کشا ہو سکے؟           الوہیت اور علمِ غیب کے درمیان ایک ایسا گہرا تعلق ہے کہ قدیم ترین زمانے سے انسان جس ہستی میں بھی خدائی کے کسی شائبے کا گمان کیا  ہے  اُس کے متعلق یہ خیال ضرور کیا ہے کہ اس پر سب کچھ روشن ہے اور کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں ہے۔ گویا انسان کا ذہن اِس حقیقت سے بالکل بد یہی طور پر آگاہ ہے کہ قسمتوں کا بنا نا اور بگاڑنا، دعاؤں کا سُننا، حاجتیں پوری کرنا اور ہر طالبِ امداد کی مدد کو پہنچنا صرف اُسی ہستی کا کام ہو سکتا ہے جو سب کچھ جانتی ہو اور جس سے کچھ بھی پوشیدہ نہ ہو۔ اِسی بنا پر تو انسان جس کو بھی خدائی اختیارات کا حامل سمجھتا ہے اُسے لازماً عالم الغیب بھی سمجھتا ہے ، کیونکہ اس کیعقل بلا ریب شہادت دیتی ہے کہ علم اور اختیارات باہم لازم و ملزوم ہیں۔ اب اگر یہ حقیقت ہے کہ خالق اور مدبر اور مجیب الدعوات اور رزاق خدا کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہے ، جیسا کہ اوپر کی آیات میں ثابت کیا گیا ہے ، تو آپ سے آپ یہ بھی حقیقت ہے کہ عالم الغیب بھی خدا کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہے۔ آخر کون اپنے ہوش و حواس میں یہ تصور کر سکتا ہے کہ کسی فرشتے یا جِن یا نبی یا ولی کو، یا کسی مخلوق کو بھی یہ معلوم ہوگا کہ سمندر میں اور ہوا میں اور زمین کی تہوں میں اور سطح زمین کے اوپر کس کس قسم کے کتنے جانور کہاں کہاں ہیں؟ اور عالمِ بالا کے بے حد وحساب سیاروں کی ٹھیک تعداد کیا ہے؟ اور ان میں سے ہر ایک میں کس کس طرح کی مخلوقات موجود ہیں؟ اور ان مخلوقات کا ایک ایک فرد کہاں ہے اور کیا اس کی ضروریات ہیں؟ یہ سب کچھ اللہ کو تولازماً معلوم ہونا چاہیے ، کیونکہ اس نے انہیں پیدا کیا ہے ، اور اسی کو ان کے معاملات کی تدبیر اور ان کے حالات کی نگہبانی کرنی ہے ، اور وہی ان کے رزق کا انتظام کرنے والا ہے ۔ لیکن دوسرا کوئی اپنے محدود وجود میں یہ وسیع و محیط علم رکھ کیسے سکتا ہے اور اس کا کیا تعلق اِس کا رِ خلّاقی و رزّاقی سے ہے کہ وہ اِن چیزوں کو جانے؟           پھر یہ صفت قابل تجزیہ بھی نہین ہے کہ کوئی بندہ مثلاً صرف زمین کی حد تک ، اور زمین میں  بھی صرف انسانں کی حد تک عالم الغیب ہو۔ یہ اُسی طرح قابلِ تجزیہ نہیں ہے جس طرح خدا کی خلّاقی ورزّاقی اور قیومی و پروردگاری قابلِ تجزیہ نہیں ہے۔ ابتدائے آفرنیش سے آج تک جتنے انسان دنیا میں پیدا ہوئے ہیں اور قیامت تک اور قیامت تک پیدا ہونگے، رحمِ مادر میں استقرار کے وقت سے آخری ساعتِ حیات تک ان سب کے تمام حالات و کیفیات کو جاننا آخر کس بندے کا کام ہو سکتا ہے؟ اور وہ کیسے اور کیوں اس کو جانے گا؟ کیا وہ اس بے حدو حساب خلقت کا خالق ہے ؟ کیا اس نے ان کے باپوں کے نطفے میں ان کے جر ثومے کو وجود بخشا تھا؟ کیا اس نے ان کی ماؤں کے رحم میں ان کی صورت گری کی تھی؟ کیا اس  نے ان کی زندہ  ولادت کا انتظام کیا تھآ؟ کیا اس نے  ان میں سےا یک ایک شخص کی قسمت بنائی تھی؟ کیا وہ ان کی موت اور حیات، ان کی صحت اور مرض، ان کی خوشحالی اور بد حالی اور ان کے عروج اور زوال کے فیصلے کرنے کا ذمہ دار ہے ؟ اور آخر یہ کام کب سے اس کے ذمے ہوا؟ اس کی اپنی ولادت سے پہلے یا اس کے بعد؟ اور صرف انسانوں کی حدتک یہ ذمہ داریاں محدود کیسے ہو سکتی ہیں؟ یہ کام تولازماً زمین اور آسمانوں کے عالمگیر  انتظام کا ایک جز ہے ۔ جو ہستی ساری کائنات کی تدبیر کر رہی ہے وہی تو انسانوں کی پیدائش و موت اور ان کے رزق کے تنگی و کشادگی اور ان کی قسمتوں کے بناؤ اور بگاڑ کی ذمہ دار ہو سکتی ہے۔            اسی بنا پر یہ اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے کہ عالم الغیب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں  سے جس پر چاہے اور جس قدر چاہے اپنی معلومات کا کوئی گوشہ کھول دے، اور اکسی غیب یا بعض غیوب کو ا پر روشن کر دے ، لیکن علمِ غیب بحیثیت مجموعی کسی کو نصیب نہیں اور عالم الغیب ہونے کی صفت صرف اللہ رب العالمین کے لیے مخصوص ہے۔ وَعِنْدَ ہٗ مَفَا تِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُھَآ اِلَّا ھُوَ، ” اور اُسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں، انہیں کوئی نہیں جانتا اُس کے سوا “(الانعام، آیت59)۔ اِنَّ اللہ َ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّا عَۃِ ج وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ ج وَیَعْلَمُ مَا فِی الْاَ رْحَامِ ط وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَکْسِبُ غَدًا ط وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌم بِاَیِّ اَرْض تَمُوْتُ ط ”اللہ ہی کے پاس ہے قیامت کا علم اور وہی بارش نازل کرنے والا ہے ۔ اور وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے رحم میں کیا (پر ورش پا رہا )ہے۔ اور کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کمائی کرے گا۔ اور کسی متنفس کو خبر نہیں ہے  کہ کس سر زمین  میں اس کو موت آئے گی“(لقمان ۔ آیت34)۔ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ وَلَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْ ءٍ مِّنْ عِلْمِہٖٓ اِلَّا بِمَا شَآءَ،”وہ جانتا ہے جو کچھ مخلوقات کے سامنے ہے اور جو کچھ ان سے اوجھل ہے ، اور اس کے علم میں سے کسی چیز پر بھی وہ احاطہ نہیں کر سکتے اِلّا یہ کہ وہ جس چیز کا چاہے انہیں علم دے“(البقرہ۔آیت255)۔           قرآن مجید مخلوقات کے لیے علم غیب کی اس عام اور مطلق نفی پر ہی اکتفا نہیں کرتا بلکہ خاص طور پر انبیاء علیم السلام ، اور خود محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اس مر کی صاف صاف تصریح کرتا ہے  کہ وہ عالم الغیب نہیں ہیں اور اُن کو غیب کا صرف اُتنا علم اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا گیا ہے جو رسالت کی خدمت انجام دینے کے لیے درکار تھا۔ سور ہ انعام آیت 5۰، الاعراف آیت187، التوبہ، آیت 1۰1، ہود ، آیت31۔ احزاب ، آیت۶3، الاحقاف آیت9، التحریم، آیت3، اور الجن آیات 2۶ تا 28 اس معاملہ میں کسی اشتباہ کی گنجائش نہیں چھوڑتیں۔           قرآن کی یہ تمام تصریحات زیر بحث آیت کی تائید و تشریح کرتی ہیں جن کے بعد اس امر میں کسی شک کی گنجائش نہییں رہتی کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو عالم الغیب سمجھنا اور یہ سمجھنا کہ کوئی دوسرا بھی جمیع ماکان و مایکون کا علم رکھتا ہے ، قطعاً ایک غیر اسلامی عقیدہ ہے ۔ شیخین، ترمذی، نَسائی ، امام احمد، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے صحیح سندوں کے ساتھ حضرت عائشہؓ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ من زعم انہ (ای النبی صلی اللہ علیہ وسلم )یعلم ما یکون فی غد اعظم علی اللہ الفریۃ واللہ یقول قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَا لْاَ رْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللہ۔ یعنی”جس نے یہ دعویٰ کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جانتے ہیں کہ کل کیا ہونے والا  ہے اس نے اللہ پر سخت الزام لگایا، کیونکہ اللہ تو فرماتا ہے اے نبی تم کہہ دو کہ غیب کا علم اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین کے رہنے والوں میں سے کسی کو بھی نہیں ہے “۔ ابن المنذر حضرت عبد اللہ بن عباس کے مشہور شاگرد عِکْرِ مہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا”اے محمد  صلی اللہ علیہ وسلم، قیامت کب آئے گی؟ اور ہمارے علاقے میں قحط برپا ہے، بارش کب ہوگی؟ اور میری بیوی حاملہ ہے، وہ لڑکا جنے گی یا لڑکی؟ اور یہ تو مجھے معلوم ہے کہ میں نے آج کیا کمایا ہے ، کل کیا کماؤں گا؟ اور یہ تو مجھے معلوم ہے کہ میں کہاں پیدا ہوا ہوں، مروں گا کہاں“؟ ان سوالات کے جواب میں سورہ لقمان کی وہ آیت حضورؐ نے سنائی جو اوپر ہم نے نقل کی ہے اِنَّ اللہ َ عِنْدَ ہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ۔۔۔۔ پھر بخاری و مسلم اور دوسری کتبِ حدیث کی  وہ مشہور  روایت بھی اسی کی تائید کرتی ہے جس میں ذکر ہے کہ صحابہ کے مجمع میں حضرت جبریلؑ نے انسانی شکل میں آکر حضورؐ سے جو سوالات کیے تھے ان میں ایک یہ بھی تھا کہ قیامت کب آئے گی؟ حضورؐ نے جواب دیا ما المسْئول عنھا باعلم من السّائل۔(جس سے پوچھا جا رہا ہے وہ خود پوچھنے والے سے زیاد ہ اس بارے میں کوئی علم نہیں رکھتا)۔ پھر فرمایا یہ اُن پانچ چیزوں میں سے ہے جن کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں، اور یہی مذکورہ بالا آیت حضورؐ نے تلاوت فرمائی۔

حاشیہ نمبر: 84

یعنی دوسرے ، جن کے متعلق یہ گمان کیا جاتا ہے کہ وہ عالم الغیب ہیں، اور اسی بنا پر جِن کو تم لوگوں نے خدائی میں شریک ٹھیرا لیا ہے، اُن بیچاروں کو تو خود اپنے مستقبل کی بھی خبر نہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ کب قیامت کی وہ گھڑی آئے گی جب اللہ تعالیٰ اُن کو دوبارہ اُٹھا کھڑا کرے گا۔

(27:66)

بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ ۫ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْهَا ۫ؗ بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمُوْنَ 

بلکہ آخرت کا تو علم ہی اِن لوگوں سے گُم ہو گیا ہے، بلکہ یہ اس کی طرف سے شک میں ہیں، بلکہ یہ اُس  سے اندھے ہیں۔ 85

حاشیہ نمبر: 85

الو ہیت کے بارے میں ان لوگوں کی بنیادی غلطیوں پر متنبہ کرنے کے بعد اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہ لوگ جو ان شدید گمراہیوں میں پڑے ہوئے ہیں اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ غور فکر کرنے کے بعد یہ کسی دلیل دیر ہا ن سے اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ خدائی میں درحقیقت کچھ دوسری ہستیاں اللہ تعالیٰ کی شریک ہیں ۔ بلکہ اس کی اصلی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے کبھی سنجیدگی کے ساتھ غور و فکر ہی نہیں کیا ہے۔ چونکہ یہ لوگ آخرت سے بے خبر ہیں۔ یا اس کی طرف سے  شک میں ہیں۔ یا اس سے اندھے بنے ہوئے ہیں، اس لیے فکرِ عقبٰی سے بے نیازی نے ان کے اندر سراسر ایک غیر ذمہ دارانہ رویّہ پیدا کر دیا ہے۔ یہ کائنات اور خود اپنی زندگی کے حقیقی مسائل کے بارے میں سرے سے کوئی سنجیدگی رکھتے ہی نہیں۔ ان کو اس کی پروا ہی نہیں ہے کہ حقیقت کیا ہے اور ان کا فلسفہ حیات اُس حقیقت سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں۔ کیونکہ ان کے نزدیک آخر کار مشرک اور دہریے اور موحد اور مُشکک سب کو مر کر مٹی ہو جانا ہے  اور کسی چیز کا بھی کوئی نتیجہ نکلنا نہیں ہے۔           آخرت کا یہ مضمون اس سے پہلے کی آیت کے اِس فقرے سے نکلا ہے کہ ”وہ نہیں جانتے کہ کب وہ اُٹھائے جائیں گے“۔اُس فقرے میں تو یہ بتایا گیا تھا کہ جن کو معبود بنایا جاتا ہے۔۔۔۔اور ان میں فرشتے ، جِن ، انبیاء، اور اولیاء سب شامل تھے۔۔۔۔ ان میں سے کوئی بھی آخرت کے وقت سے واقف نہیں ہے کہ وہ کب آئے گی۔ اس کے بعد اب عام مشرکین و کفار کے بارے میں تین باتیں ار شاد ہوئی ہیں۔ اوّل یہ کہ وہ سرے سے یہی نہیں جانتے کہ آخرت کبھی ہو گی بھی یا نہیں ۔ دوسرے یہ کہ ان کی یہ بے خبری اس بنا پر  نہیں ہے  کہ انہیں اس کی اطلاع ہی کبھی نہ دی گئی ہو،بلکہ اس بنا پر ہے کہ جو خبر انہیں دی گئی اس پر انہوں نے یقین نہیں کیا بلکہ اس کی صحت میں شک کرنے لگے ۔ تیسرے یہ کہ انہوں نے کبھی غور و خوض کر کے اُن دلائل کو جانچنے کی زحمت ہی نہیں اٹھائی جو آخرت کے وقوع کے بارے میں پیش کیے گئے ، بلکہ اس ک طرف سے اندھے بن کر رہنے ہی کو انہوں نے ترجیح دی۔

(27:67)

وَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا وَّاٰبَآؤُنَاۤ اَىِٕنَّا لَمُخْرَجُوْنَ 

یہ منکرین کہتے ہیں "کیا جب ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی ہو چکے ہوں گے تو ہمیں واقعی قبروں سے نکالا جائے گا؟

(27:68)

لَقَدْ وُعِدْنَا هٰذَا نَحْنُ وَاٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ 

یہ خبریں ہم کو بھی بہت دی گئی ہیں اور پہلے ہمارے آباء اجداد کو بھی دی جاتی رہی ہیں، مگر یہ بس افسانے ہی افسانے ہیں جو اگلے وقتوں سے سُنتے چلے آ رہے ہیں"

(27:69)

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ 

کہو ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ مجرموں کا کیا انجام ہو چکا ہے۔86

حاشیہ نمبر: 86

اس مختصر سے فقرے میں آخرت کی دو زبر دست دلیلیں بھی ہیں اور نصیحت بھی۔           پہلی دلیل یہ ہے کہ دنیا کی جن قوموں نے بھی آخرت  کو نظر انداز کیا ہے وہ مجرم بنے بغیر نہیں رہ سکی ہیں ۔ وہ  غیر ذمہ دار بن کر ہیں۔ انہوں نے ظلم و ستم ڈھانے۔ وہ فسق و فجور میں غرق ہو گئیں۔ اور اخلاق کی تبارہی نے آخر کار ان کو برباد کر کے چھوڑا۔ یہ تاریخ انسانی کا مسلسل تجربہ، جس پر زمین میں ہر طرف تباہ شدہ قوموں  کے آثار شہادت دے رہے ہیں، صاف ظاہر کرتا ہے کہ آخرت کے ماننے اور نہ ماننے کا نہایت گہرا تعلق انسانی رویے کی صحت اور عدم صحت سے ہے۔ اس کا مانا جائے تو رویہ درست رہتا ہے ، نہ مانا جائے تو رویہ غلط ہو جاتا ہے ۔ یہ اس امر کی صریح دلیل ہے کہ اس کا ماننا صریح حقیقت کے خلاف ہے ، اسی وجہ سے یہ گاڑی پٹڑی سے اتر جاتی ہے۔            دوسری دلیل یہ ہے کہ تاریخ کے اس طویل تجربے میں مجرم بن جانے والی قوموں کا مسلسل تباہ ہونا اس حقیقت پر صاف دلالت کر رہا ہے کہ یہ کائنات بے شعور طاقتوں کی اندھی بہری فرمانروائی نہیں ہے بلکہ یہ ایک حکیمانہ نظام ہے جس کے اندر ایک اٹل قانون مکافات کام کر رہا ہے ۔ جس کی حکومت انسانی قوموں کے ساتھ سراسر اخلاقی بنیادوں پر معاملہ کر رہی ہے ۔ جس میں کسی قوم  کو بد کر داریوں کی کھلی چھوٹ نہیں دی جاتی کہ ایک دفعہ عروج پاجانے کے بعد وہ ابد الآ باد تک دادِ عیش دیتی رہے  اور ظلم و ستم کے ڈنکے بجائے چلی جائے۔ بلکہ ایک خاص حد کو پہنچ کر ایک زبر دست ہاتھ آگے بڑھتا ہے اور اس کا بامِ عروج سے گرا کر قعِر مذلت میں پھینک دیتا ہے ۔اس حقیقت کو جو شخص سمجھ لے وہ کبھی اس امر میں شک نہی کر سکتا کہ یہی قانونِ مکافات اس دنیوی زندیگ کے بعد ایک دوسرے عالم کا تقاضا کرتا ہے جہاں افراد کا اور قوموں کا اور بحیثیت مجموعی پوری نوع انسانی کا انصاف چُکا یا جائے۔ کیونکہ محض ایک ظالم قوم کے تباہ ہوجانے سے تو انصاف کے سارے تقاضے پورے نہیں ہو گے ۔ اس نے اُن مظلوموں کی تو کوئی داد رسی نہیں ہوئی جن کی لاشوں  پر انہوں نے اپنی عظمت کا قصر بنا یا تھا۔ اس سے ان ظالموں  کوتو کوئی سزا نہیں ملی جو تباہی کے آنے سے پہلے مزے اڑا کر جا چکے تھے۔ اس سے ان بدکاروں پر بھی کوئی مواخذہ نہیں ہو ا جو پشت درپشت اپنے بعد آنے والی نسلوں کے لیے گمراہیوں اور بد اخلاقیوں کی میراث چھوڑتے چلے گئے تھے۔ دنیا می عذاب بھیج کر تو صرف اُن کی آخری نسل کے مزید ظلم کیا سلسلہ توڑ دیا گیا ۔ ابھی عدالت کا اصل کام تو ہوا ہی  نہیں کہ ہر ظالم کو اس کے کیے کا بدلہ دیا جائے اور ہر مظلوم کے نقصان کی تلافی کی جائے، اور اُن سب لوگوں کو انعام دیا جائے جو بدی کے اِس طوفان میں راستی پر قائم اور اصلاح کے لیے کوشاں رہے اور عمر بھی اِس راہ میں اذیتیں سہتے رہے۔ یہ سب لازماً کسی وقت ہونا چاہیے، کیونکہ  دنیا میں قانونِ مکافات کی مسلسل کار فرمائی کائنات کی فرمانروا حکومت  کا یہ مزاج اور طریقہ کار صاف بتا رہی ہے کہ وہ انسانی اعمال کو ان کی اخلاقی قدر کے لحاظ سے تولتی اور ان کی جزا و سزا دیتی ہے۔           ان دودلیلوں کے ساتھ اس آیت میں نصیحت کا پہلو یہ ہے کہ پچھلے مجرموں کا انجام دیکھ کر اس سے سبق لو اور انکار آخرت کے اُسی احمقانہ عقیدے پر اصرار نہ کیے چلے جاؤ جس نے اُنہیں مجرم بنا کر چھوڑا تھا۔

(27:70)

وَلَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَلَا تَكُنْ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ 

اے نبیؐ ، اِن کےحال پر رنج نہ کرو، اور نہ اِن کی چالوں پر دِل تنگ ہو87

حاشیہ نمبر: 87

یعنی تم نے سمجھانے کا حق ادا کر دیا۔ اب اگر یہ نہیں مانتے اور اپنی حماقت پر اصرار کر کے عذابِ الہٰی کے مستحق بننا ہی چاہتے ہیں تو تم خواہ مخواہ ان کے حال پر کُڑھ کُڑھ کر اپنی جان کیوں ہلکان کرو۔ پھر یہ حقیقت و صداقت سے  لڑنے اور تمہاری اصلاحی کوششوں کو نیچا دکھانے کے لیے جو گھٹیا درجے کی چالیں چل رہے ہیں اُن پر کبیدہ خاطر ہونے کی تمہیں کیا ضرورت ہے ۔ تمہاری پشت پر خدا کی طاقت ہے ۔ یہ تمہاری بات نہ مانیں کے تو اپنا ہی کچھ بگاڑیں گے۔ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔

(27:71)

وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ 

وہ کہتے ہیں کہ ”یہ دھمکی کب پُوری ہوگی اگر تم سچے ہو؟“88

حاشیہ نمبر: 88

اس سے مراد وہی دھمکی ہے جو اوپر کی آیت میں پوشیدہ ہے۔ ان کا مطلب یہ تھا  کہ اس فقرے میں ہماری خبر لینے کی جو درپردہ دھمکی دی جا رہی ہے یہ آخر کب عمل میں لائی جائے گی؟ ہم تو تمہاری بات رد بھی کر چکے ہیں اور تمہیں نیچا دکھانے کے لیے اپنی تدبیروں میں بھی ہم نے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ہے ۔ اب کیوں  ہماری خبر نہیں لی جاتی؟

(27:72)

قُلْ عَسٰۤی اَنْ یَّكُوْنَ رَدِفَ لَكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ تَسْتَعْجِلُوْنَ 

کہو کیا عجب کہ جس عذاب کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو اس کا ایک حصہ تمہارے قریب ہی آلگا ہو۔89

حاشیہ نمبر: 89

یہ شاہانہ کلام کا انداز ہے ۔ قادر مطلق کے کلام میں جب”شاید“اور ”کیاعجب“اور”کیا بعید ہے“ جیسے الفاظ آتے ہیں تو ان میں شک کا کوئی مفہوم نہیں ہوتا بلکہ ان سے شان بے نیازی کا اظہار ہوتا ہے۔ اس کی قدرت ایسی غالب ہے کہ اس کا کسی چیز کو چاہنا اور اس چیز کا ہوجانا گویا ایک  ہی بات ہے ۔ اس کے بارے میں یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ وہ کوئی کام کرنا چاہے اور نہ ہو سکے۔ اس لیے اس کا یہ فرمانا کہ ”کیا عجب ایسا ہو“یہ معنی رکھتا ہے  کہ ایسا ہو کر رہے گا اگر تم سیدھے نہ ہوئے۔ ایک معمولی تھا نہ دار بھی اگر بستی کے کسی شخص سے کہہ دے کہ تمہاری شامت پکا ر رہی ہے تو اسے رات کو نیند نہیں آتی۔  کجا کہ قادرِ مطلق کسی سے کہہ دے کہ تمہار بُرا وقت کچھ دور نہیں ہے اور پھر وہ بے خوف رہے۔

(27:73)

وَاِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَی النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ 

حقیقت یہ ہے کہ تیرا ربّ تو لوگوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔90

حاشیہ نمبر: 90

یعنی یہ تو اللہ رب العالمین کی عنایت ہے کہ وہ لوگوں کو تصور سرزد ہوتے ہی نہیں پکڑ لیتا بلکہ سنبھلنے کی مہلت دیتا ہے ۔ مگر اکثر لوگ اس پر شکر گزار ہو کر اس مہلت کو اپنی اصلاح کےلیے استعمال نہیں کرتے بلکہ مواخذہ میں دیر ہونے کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ یہاں کوئی گرفت کرنے والا نہیں ہے اس لیے جو جی میں آئے کرتے رہو اور کسی سمجھانے والے کی بات مان کر نہ دو۔

(27:74)

وَاِنَّ رَبَّكَ لَیَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَمَا یُعْلِنُوْنَ 

بلا شُبہ تیرا ربّ خُوب جانتا ہے جو کچھ ان کے سینے اپنے اندر چھُپائے ہوئے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں۔91

حاشیہ نمبر: 91

یعنی وہ اِن کی علانیہ حرکات ہی سے واقف نہیں ہے بلکہ جو شدید بغض اور کینہ ان کے سینوں میں چھپا ہوا ہے اور جو چالیں یہ اپنے دلوں میں سوچتے ہیں، ان سے بھی وہ خوب واقف ہے۔ اس لیے جب ان کی شامت آنے کا وقت آن پہنچے گا تو کوئی چیز چھوڑی نہیں جائے گی جس پر ان کی خبر نہ لی جائے۔ یہ اندازِ بیان اسی طرح کا ہے جیسے ایک حاکم اپنے علاقے کے کسی بدمعاش سے کہے، مجھے تیرے سب کرتوتوں کی خبر ہے ۔ اس کا صرف یہی مطلب نہیں ہوتا کہ وہ اپنے باخبر ہونے کی اسے اطلاع دے رہا ہے ، بلکہ مطلب یہ ہوتا ہے کہ تو اپنی حرکتوں سے باز آجا، ورنہ یاد رکھ کہ جب پکڑا جائے گا تو تیرے ایک ایک جرم کی پوری سزا دی جائے گی۔

(27:75)

وَمَا مِنْ غَآىِٕبَةٍ فِی السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ 

آسمان و زمین کی کوئی پوشیدہ چیز ایسی نہیں ہے جو ایک واضح کتاب میں لکھی ہوئی موجود نہ ہو۔92

حاشیہ نمبر: 92

یہاں کتاب سے مراد قرآن نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کا وہ ریکارڈ ہے جس میں ذرہ ذرہ ثبت ہے۔

(27:76)

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَقُصُّ عَلٰی بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَكْثَرَ الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ 

یہ واقعہ ہے کہ یہ قرآن بنی اسرائیل کو اکثراُن باتوں کی حقیقت بتاتا ہے جن میں وہ اختلاف رکھتے ہیں93

حاشیہ نمبر: 93

اس فقرے کا تعلق مضمون سابق سے بھی ہے اور مضمون ما بعد سے بھی۔ مضمون سابق سے اس کا تعلق یہ ہے کہ اسی عالم الغیب خدا کے علم کا ایک کرشمہ یہ ہے کہ اُمّی کی زبان سے اس قرآن میں اُن واقعات کی حقیقت کھولی جا رہی ہے جو بنی اسرائیل کی تاریخ میں گزرے ہیں، حالانکہ خود علمائے بنی اسرائیل کے درمیان ان کی اپنی تاریخ کے ان واقعات میں اختلاف ہے (اس  کے نظائر اسی سورہ نمل کے ابتدائی رکوعوں میں گزر چکے ہیں جیسا کہ ہم نے اپنے حواشی میں واضح کیا ہے)۔اور مضمونِ ما بعد سے اس کا تعلق یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اُن اختلافات کا فیصلہ فرمایا ہے اسی طرح وہ اُس اختلاف کا بھی فیصلہ کر دے گا  جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے مخالفین کے درمیان برپا ہے۔ وہ کھول کر رکھ دے گا کہ دونوں میں سے حق پر کون ہے اور باطل پر کون۔ چنانچہ اِن آیات کے نزول پر چند ہی سال گزرے تھے کہ فیصلہ ساری دنیا کے سامنے آگیا۔ اُسی عرب  کی سر زمین میں ، اور اسی قبیلہ قریش میں ایک متنفس بھی ایسا نہ رہا جو اس بات کا قائل نہ ہو گیا ہو کہ حق پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے نہ کہ ابو جہل اور ابو لہب۔ ان لوگوں کو اپنی اولاد تک مان گئی کہ ان کے باپ غلطی پر تھے۔

(27:77)

وَاِنَّهٗ لَهُدًی وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ 

اور یہ ہدایت اور رحمت ہے ایمان لانے والوں کے لیے۔94

حاشیہ نمبر: 94

یعنی اُن لوگوں کے لیے جو اس قرآن کی دعوت کو قبول کر لیں اور وہ بات ما ن لیں جسے یہ پیش کر رہا ہے ۔ ایسے لوگ اُن گمراہیوں سے بچ جائیں گے جن میں ان کی قوم مبتلا ہے۔ ان کو اس قرآن کی بدولت  زندگی کا سیدھا راستہ مل جائے گا اور ان پر خدا کی وہ مہر بانیاں ہوں گی جن کا تصور بھی کفارِ قریش آج نہیں کر سکتے ۔ اس رحمت کی بارش کو بھی چند ہی سال بعد دنیا نے دیکھ لیا کہ وہی لوگ جو ریگ زارِ عرب کے ایک گوشہ گنامی میں پڑے ہوئے تھے اور کفر کی حالت میں زیادہ سے زیادہ ایک کامیاب اچھا پہ مار بن سکتے تھے، اس قرآن پر ایمان لانے کے بعد یکایک وہ دنیا کے پیشوا ، قوموں کے امام، تہذیب انسانی کے استاد اور روئے زمین کے ایک بڑے حصّے پر فرمانروا ہو گئے۔

(27:78)

اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ بِحُكْمِهٖ وَهُوَ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُ 

یقیناً (اِسی طرح)تیرا ربّ اِن لوگوں کے درمیان95 بھی اپنے حکم  سے فیصلہ کر دے گا اور وہ زبردست اور سب کچھ جاننے والا ہے۔96

حاشیہ نمبر: 95

یعنی قریش کے کفار اور اہل ایمان کے درمیان۔

حاشیہ نمبر: 96

یعنی نہ اس کے فیصلے کو نافذ ہونے سے کوئی طاقت روک سکتی ہے  ۔ اور نہ اس کے فیصلے میں غلطی کا کوئی احتمال ہے۔

(27:79)

فَتَوَكَّلْ عَلَی اللّٰهِ ؕ اِنَّكَ عَلَی الْحَقِّ الْمُبِیْنِ 

پس اے نبیؐ، اللہ پر بھروسا رکھو، یقیناً تم صریح حق پر ہو

(27:80)

اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ 

تم مُردوں کو نہیں سُنا سکتے97، نہ اُن بہروں تک اپنی پکار پہنچا سکتے ہو جو پیٹھ پھیر کر بھاگے جا رہے ہوں98

حاشیہ نمبر: 97

یعنی ایسے لوگوں کو جن کے ضمیر مر چکے ہیں اور جن میں ضد اور ہٹ دھرمی اور رسم پرستی نے حق و باطل کا فرق سمجھنے کی کوئی صلاحیت باقی نہیں چھوڑ ی ہے۔

حاشیہ نمبر: 98

یعنی جو تمہاری بات کے لیے صرف اپنے کان بند کر لینے پر ہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ اُس جگہ سے کترا کر نکل جاتے ہیں جہاں انہیں اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں تمہاری بات ان کے کان میں نہ پڑجائے۔

(27:81)

وَمَاۤ اَنْتَ بِهٰدِی الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ 

اور نہ اندھوں کو راستہ بتا کر بھٹکنے سے بچا سکتے ہو۔99 تم تو اپنی بات اُنہی لوگوں کو سُنا سکتے ہو  جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں اور پھر فرماں بردار بن جاتے ہیں

حاشیہ نمبر: 99

یعنی ان کا ہاتھ پکڑ کر زبر دستی انہیں سیدھے راستے پر کھینچ لانا اور گھسیٹ کر لے چلنا تو تمہار کام نہیں ہے۔ تم تو صرف زبان اور اپنی مثال ہی سے بتا سکتے ہو کہ یہ سیدھا راستہ ہے اور وہ راستہ غلط ہے جس پر یہ لوگ چل رہے ہیں۔ مگر جس نے اپنی آنکھیں بند کر لی ہوں اور جو دیکھنا ہی نہ چاہتا ہو اس کی رہنمائی تم کیسے کر سکتے ہو۔

(27:82)

وَاِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَآبَّةً مِّنَ الْاَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ اَنَّ النَّاسَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوْقِنُوْنَ 

اور جب ہماری بات پُوری ہونے کا وقت اُن پر آپہنچے گا100 تو ہم ان کے لیے ایک جانور زمین سے نکالیں گے جو ان سے کلام کرے گا کہ لوگ ہماری آیات پر یقین نہیں کر تے تھے۔101

حاشیہ نمبر: 100

یعنی قیامت قریب آجائے گی جس کا وعدہ ان سے کیا جا رہا ہے۔

حاشیہ نمبر: 101

ابن عمر ؓ کا قول ہے کہ یہ اس وقت ہو گا جب زمین میں کوئی نیکی کا حکم کرنے والا اور بدی سے روکنے والا باقی نہ رہے گا۔ ابن مَردُویہ نے ایک حدیث ابو سعید خُدری سے نقل کی ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ یہی بات انہوں نے خود حضورؐ سے سنی تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب انسان امر بالمعروف اور نہی  عن المنکر چھوڑ دیں گے تو قیامت قائم ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ ایک جانور کے ذریعہ سے  آخری مرتبہ حجت قائم فرمائے گا۔ یہ بات  واضح نہیں ہے  کہ یہ ایک ہی جانور ہوگا یا ایک خاص قسم کا جنسِ حیوان ہوگی جس کے بہت سے افراد روئے زمین پر پھیل جائیں گے۔۔۔۔ دابۃ من الارض کے الفاظ میں دونوں معنوں کا احتمال ہے ۔ بہر حال جو بات وہ کہے گا وہ یہ ہوگی کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی ان آیات پر یقین نہیں کرتے تھے جن میں قیامت کے آنے اور آخرت برپا ہونے کی خبریں دی گئی تھیں، تو لو اب اس کا وقت آن پہنچا ہے  اور جان لو کہ اللہ کی آیات سچی تھیں۔ یہ فقرہ کہ ”لوگ ہماری آیات پر یقین نہیں کرتے تھے“یا تو اس جانور کے اپنے کلام کی نقل ہے، یا للہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے کلام کی حکایت۔ اگر یہ اُسی کے الفاظ کی نقل ہے تو ”ہماری“کا لفظ وہ اُسی طرح استعمال کرے گا جس طرح ایک حکومت کا ہر کارندہ”ہم“کا لفظ اس معنی میں بولتا ہے کہ وہ اپنی حکومت کی طرف سے بات کر رہا ہے نہ کہ اپنی شخصی حیثیت میں ۔ دوسری صورت میں بات صاف ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے کلام کو چونکہ اپنے الفاظ میں بیان فرمارہا ہے  اس لیے اس نے ”ہماری آیات“کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔           اس جانور کے نکلنے کا وقت کونسا ہوگا؟ اس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد یہ ہے کہ ”آفتاب مغرب سے طلوع ہوگا اور ایک روز دن دہاڑے یہ جانور نکل آئے گا۔ ان میں سے جو نشانی بھی پہلے ہو وہ بہر حال دوسری کے قریب ہی ظاہر ہوگی“(مسلم) دوسری روایات جو مسلم، ابن ماجہ، ترمذی اور مُسند احمد وغیرہ میں آئی ہیں، ان میں حضورؐ نے بتایا ہے کہ قیامت کے قریب زمانے میں دجال کا خروج، دابۃ الارض کا ظہور،دُخان(دھواں) اور آفتاب کا مغرب سے  طلوع وہ نشانیاں ہیں جو یکے بعد  دیگرے ظاہر ہوں گی۔           اس جانور کی ماہیت، شکل و صورت، نکلنے کی جگہ، اور ایسی ہی دوسری تفصیلات کے متعلق طرح طرح کی روایات نقل کی گئ ہیں جو باہم بہت مختلف اور متضاد ہیں۔ ان چیزوں کے ذکر سے بجز ذہن کی پر اگندگی کے اور کچھ حاصل نہیں ہوتا، اور ان کے جانے کا کوئی فائدہ بھی نہیں کیونکہ جس مقصد کے لیے قرآن میں یہ ذکر کیا گیا ہے اس سےا ن تفصیلات کا کوئی تعلق نہیں ہے۔           رہا کسی جانور کا انسانوں سے انسانی زبان میں کلام کرنا ، تو یہ اللہ کی قدرت کا ایک کرشمہ ہے ۔ وہ جس چیز کو چاہے نطق کی طاقت بخش سکتا ہے ۔ قیامت سے پہلے تو وہ ایک جانور ہی کو نطق بخشے گا ۔ مگر جب وہ قیامت قائم ہو جائے گی تو اللہ کی عدالت میں انسان کی آنکھ اور کان اور اس کے جسم کی کھال تک بول اٹھے گی ، جیسا کہ قرآن میں تبصریح بیان ہوا ہے۔ حَتّٰیٓ اِذَا مَا جَآ ءُ وْ ھَا شَھِدَ عَلَیْھِمْ سَمْعُھُمْ وَاَبْصَا رُھُمْ وَجُلُوْدُھُمْ بِمَا کَانُوْ ا یَعْمَلُوْنَ۔۔۔۔ وَ قَالُوْ لِجُلُوْ دِھِمْ لِمَ شَھِدْ تُّمْ عَلَیْنَا قَا لُوْٓ ا اَنْطَقَنَا اللہُ الَّذِیْٓ اَنْطَقَ کُلَّ شَیءٍ (حٰم السجدہ۔ آیات2۰۔21)

(27:83)

وَیَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ فَوْجًا مِّمَّنْ یُّكَذِّبُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ 

اور ذرا تصور کرو اُس دن کا جب ہم ہر امّت میں سے ایک فوج کی فوج اُن لوگوں کی گھیر لائیں گے جو ہماری آیات کو جھٹلایا کرتے تھے، پھر ان کو (ان کی اقسام کے لحاظ سے درجہ بدرجہ) مرتب کیا جائے گا

(27:84)

حَتّٰۤی اِذَا جَآءُوْ قَالَ اَكَذَّبْتُمْ بِاٰیٰتِیْ وَلَمْ تُحِیْطُوْا بِهَا عِلْمًا اَمَّاذَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 

یہاں تک کہ جب سب آجائیں گے تو (ان کا ربّ ان سے)پوچھے گاکہ”تم نے میری آیات کو جھُٹلا دیا حالانکہ تم نے ان کا عِلمی احاطہ نہ کیا تھا؟102 اگر یہ نہیں تو اور تم کیا کر رہے تھے؟103

حاشیہ نمبر: 102

یعنی تمہارے جھٹلانے کی وجہ یہ ہر گز نہیں تھی کہ کسی علمی ذریعہ سے تحقیق کر کے تمہیں معلوم ہو گیا تھا کہ یہ آیات جھوٹی ہیں۔ تم نے تحقیق اور غور و فکر کے بغیر بس یونہی ہماری آیات کو جھٹلا دیا؟

حاشیہ نمبر: 103

یعنی اگر ایسا نہیں ہے تو کیا تم یہ ثابت کر سکتے ہو کہ تم نے تحقیق کے بعد ان آیات کو جھوٹا ہی پایا تھا اور  تمہیں واقعی یہ علم حاصل ہو گیا تھا کہ حقیقت نفس الامری وہ نہیں ہے جو ان آیات میں بیان کی گئی ہے؟

(27:85)

وَوَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ بِمَا ظَلَمُوْا فَهُمْ لَا یَنْطِقُوْنَ 

اور ان کے ظلم کی وجہ سے عذاب کا وعدہ ان پر پورا ہو جائے گا، تب وہ کچھ بھی نہ بول سکیں گے

(27:86)

اَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا الَّیْلَ لِیَسْكُنُوْا فِیْهِ وَالنَّهَارَ مُبْصِرًا ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ 

کیا ان کو سُجھائی نہ دیتا تھا کہ ہم نے رات ان کے لیے سکون حاصل کرنے کو بنائی تھی اور دن کو روشن کیا تھا؟104 اسی میں بہت نشانیاں تھیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے تھے۔105

حاشیہ نمبر: 104

یعنی بے شمار نشانیوں  میں سے یہ دو نشانیاں تو ایسی تھیں جن کا وہ سب ہر وقت مشاہدہ کر رہے تھے، جن کے فوائد سے ہر آن متمتع ہو رہے تھے، جو کسی اندھے بہرے اور گونگے تک سے چھپی ہو ئی نہ تھیں۔ کیوں نہ رات کے آرام اور دن کے مواقع سے فائدہ اٹھاتے وقت انہوں نے کبھی سوچا کہ یہ ایک حکیم کا بنایا ہوا نظام ہے جس نے ٹھیک ٹھیک ان کی ضروریات کے مطابق زمین اور سورج کا تعلق قائم کیا ہے۔ یہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہو سکتا ، کیونکہ اس میں مقصدیت ،حکمت اور منصوبہ بندی علا نیہ نظر آرہی ہے جو اندھے قوائےفطرت کی صفت نہین ہو سکتی۔ اور یہ بہت سے خداؤں کی کار فرمائی بھی نہیں ہے ، کیونکہ یہ نظام لا محالہ کسی ایک ہی ایسے خالق و مالک اور مدبّر کا قائم کیا ہوا ہو سکتا ہے جو زمین، چاند ، سورج اور تمام دوسرے سیاروں پر فرمانروائی کر رہا ہو۔ صرف اسی ایک چیز کو دیکھ کر وہ جان سکتے تھے کہ ہم نے اپنے رسول اور اپنی کتاب کے ذریعہ سے جو حقیقت بتائی ہے یہ رات اور دن کی گردش اس کی تصدیق کر رہی ہے۔

حاشیہ نمبر: 105

یعنی یہ کوئی نہ سمجھ میں  آسکنے والی بات بھی نہیں تھی۔ آخر انہی کے بھائی بند ، انہی کے قبیلے اور برادری کے لوگ، انہی جیسے انسان ایسے موجود تھے جو یہی نشانیاں دیکھ کر مان گئے تھے کہ نبی جس خدا پر ستی اور توحید کی طرف بلا رہا ہے وہ بالکل مطابقِ حقیقت ہے۔

(27:87)

وَیَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ ؕ وَكُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ 

اور کیا گُزرے گی اُس روز جب کہ صُور پھُونکا جائے گا اور ہَول کھا جائیں گے وہ سب جو آسمانوں اور زمین میں ہیں106۔۔۔۔ سوائے اُن لوگوں کے جنہیں اللہ اس ہَول سے بچانا چاہے گا۔۔۔۔ اور سب کان دبائے اس کے حضور حاضر ہو جائیں گے

حاشیہ نمبر: 106

نفخ صور پر مفصل بحث کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، سورہ انعام حاشیہ 47۔ ابراہیم،حاشیہ57۔سورہ طٰہٰ حاشیہ78۔سورہ حج، حاشیہ1۔ یٰسین، حواشی4۶۔47۔ الزمر، حاشیہ79۔

(27:88)

وَتَرَی الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّهِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ ؕ صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اَتْقَنَ كُلَّ شَیْءٍ ؕ اِنَّهٗ خَبِیْرٌ بِمَا تَفْعَلُوْنَ 

آج تُو پہاڑوں کو دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خوب جمے ہوئے ہیں، مگر اُس وقت یہ بادلوں کی طرح اُڑ رہے ہوں گے، یہ اللہ کی قدرتت کا کرشمہ ہوگا جس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ استوار کیا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ تم لوگ کیا کرتے ہو۔107

حاشیہ نمبر: 107

یعنی ایسے خدا سے تم یہ توقع نہ رکھو کہ اپنی دنیا میں تم کو عقل و تمیز اور تصرف کے اختیارات دے کر وہ تمہارے اعمال افعال سے بے خبر رہے گا اور یہ نہ دیکھے گا کہ اس کی زمین میں تم ان اختیارات کو کیسے استعمال کرتے رہے ہو۔

(27:89)

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَا وَهُمْ مِّنْ فَزَعٍ یَّوْمَىِٕذٍ اٰمِنُوْنَ 

جو شخص بھلائی لے کر آئے گا اسے اُس سے زیادہ بہتر صلہ ملے گا108 اور ایسے لوگ اُس دن کے ہَول سے محفوظ ہوں گے۔109

حاشیہ نمبر: 108

یعنی  وہ اس لحاظ سے بھی بہتر  ہوگا کہ جتنی نیکی اس نے کی ہوگی اس سے  زیادہ انعام اسے دیا جائے گا۔ اور اس لحاظ سے بھی کہ اس کی نیکی تو وقتی تھی اور اس کے اثرات بھی دنیا میں ایک محدود زمانے کے لیے تھے، مگر اس کا اجر دائمی اور ابدی ہوگا۔

حاشیہ نمبر: 109

یعنی قیامت اور حشر و نشر کی وہ ہولناکیاں جو منکرینِ حق کے حواس باختہ کیے دے رہی ہوں گی، ان کے درمیان یہ لوگ مطمئن ہوں گے۔ اس لیے کہ  یہ سب کچھ ان توقعات کے مطابق ہو گا۔ وہ پہلے سے اللہ اور اسکے  رسولوں کی دی ہوئی خبروں کے مطابق اچھی طرح جانتے تھے کہ قیامت قائم ہو نی ہے ، ایک دوسری زندگی پیش آنی ہے  اور اس میں یہی سب کچھ ہونا ہے ۔ اس لیے ان پر وہ سب بد حواسی اور گھبراہت طاری نہ ہوگی جو مرتے دم تک اس چیزکا انکار کرنے والوں اور اس سے غافل رہنے والوں پر طاری ہوگی۔ پھر ان کے اطمینان کی وجہ یہ بھی ہو گی کہ انہوں نے اس دن کی توقع پر اس کے لیے فکر کی تھی اور یہاں کی کامیابی کے لیے کچھ سامان کر کے دنیا سے آئے تھے۔ اس لیے اُن پر وہ گھبراہٹ طاری نہ ہوگی جوان لوگوں پر طاری ہو گی جنہوں نے اپنا سارا سرمایہ حیات دنیا ہی کی کامیابیاں حاصل کرنے پر لگا دیا تھا اور کبھی نہ سوچا تھا کہ  کوئی آخرت بھی ہے جس کےلیے کچھ سامان کرنا ہے ۔ منکرین کے بر عکس یہ مومنین اب مطمئن ہوں گے کہ جس دن کے لیے ہم نے ناجائز فائدوں اور لذتوں کو چھوڑا تھا، اور صعوبتیں اور مشقتیں برداشت  کی تھیں، وہ دن آگیا ہے اور اب یہاں ہماری محنتوں کا اجر ضائع ہونے والا نہیں ہے۔

(27:90)

وَمَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ ؕ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 

اور جو بُرائی لیے ہوئے آئے گا ، ایسے سب لوگ اوندھے منہ آگ میں پھینکے جائیں گے۔ کیا تم لوگ اس کے سوا کوئی اور جزا پا سکتے ہو کہ جیسا کرو ویسا بھرو؟110

حاشیہ نمبر: 110

قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اس امر کی تصریح کی گئی ہے کہ آخرت میں بدی کا بدلہ اتنا ہی دیا جائے گا جتنی کسی نے بدی کی ہو اور نیکی کا اجر اللہ تعالیٰ آدمی کے عمل سے بہت زیادہ عطا فرمائے گا۔اس کی مزیدمثالوں کے لیے ملاحظہ ہو ، یونس ، آیات2۶۔27۔ القصص، آیت84۔ العنکبوت، آیت7۔ سبا، آیات37تا38۔ المومن، آیت4۰۔

(27:91)

اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ رَبَّ هٰذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِیْ حَرَّمَهَا وَلَهٗ كُلُّ شَیْءٍ ؗ وَّاُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ 

(اے محمدؐ ، اِن سے کہو)”مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ اِس شہر کے ربّ کی بندگی کروں جس نے اِسے حرم بنایا ہے اور جو ہر چیز کا مالک ہے۔111 مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مسلم بن کر رہوں

حاشیہ نمبر: 111

یہ سورۃ چونکہ اس زمانے میں نازل ہوئی تھی جبکہ اسلام کی دعوت ابھی صرف مکہ معظمہ تک محدود تھی اور مخاطب صرف اس شہر کے لوگ تھے، اس لیے فرمایا”مجھے اِس شہر کے رب کی بندگی کا حکم دیا گیا ہے “۔اس کے ساتھ اس رب کی خصوصیت یہ بیان کی گئی کہ اس نے اسے حرم بنایا ہے ۔ اس سے کفار مکہ کو متنبہ کرنا مقصود ہے کہ جس خدا کا تم پر یہ احسان ِ عظیم ہے کہ اس نے عرب کی انتہائی بد امنی اور فساد و خونریزی سے لبریز سرزمین میں تمہارے اِس شہر کو امن کا گہوارہ بنا رکھا ہے ، اور جس کے فضل سے  تمہارا یہ شہر پورے ملک عرب کا مرکز عقیدت بنا ہوا ہے، تم اس کی ناشکری کرنا چاہو تو کرتے رہو، مگر مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اس کا شکر گزار بندہ بنوں اور اسی کے آگے سر نیا ز جھکاؤں۔ تم جنہیں معبود بنائے بیٹھے ہو ان میں سے کسی کی یہ طاقت نہ تھی کہ اس شہر کو حرم بنا دیتا اور عرب کے جنگجو اور غارت گر قبیلوں سے اس کا احترام کرا سکتا۔ میرے لیے تو یہ ممکن نہیں ہے کہ اصل محسن کو چھوڑ کر اُن کے آگے جھکوں جن کا کوئی ذرہ برابر بھی احسان مجھ پر نہیں ہے۔

(27:92)

وَاَنْ اَتْلُوَا الْقُرْاٰنَ فَمَنِ اهْتَدٰی فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ وَمَنْ ضَلَّ فَقُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ 

اور یہ قرآن پڑھ کر سناؤں" اب جو ہدایت اختیار کرے گا وہ اپنے ہی بھلے کے لیے ہدایت اختیار کرے گا اور جو گمراہ ہو اُس سے کہہ دو کہ میں تو بس خبردار کر دینے والا ہوں

(27:93)

وَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ سَیُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ فَتَعْرِفُوْنَهَا ؕ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ 

اِن سے کہو، تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، عنقریب وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھا دے گا اور تم انہیں پہچان لو گے، اور تیرا رب بے خبر نہیں ہے اُن اعمال سے جو تم لوگ کرتے ہو

Read Maududi
Read • Reflect • Reform

Your Complete Learning App

A complete experience—reading, tafseer, audio, and more, all in one app. Available on iOS and Android.

Get the app

Frequently asked questions FAQs

Yes, you can download content and access it anytime without an internet connection.