طٰسٓمّٓ
ط س م
Ash-Shu'ara'
سورة الشعراء
سورة الشعراء
طٰسٓمّٓ
ط س م
تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ
یہ کتابِ مبین کی آیات ہیں۔1
یعنی یہ آیات جو اس سورے میں پیش کی جا رہی ہیں ، اس کتاب کی آیات ہیں جو اپنا مدعا صاف صاف کھول کر بیان کرتی ہے۔ جسے پڑھ کر یاسن کر ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ وہ کس چیز کی طرف بلاتی ہے ، کس چیز سے روکتی ہے ، کسے حق کہتی ہے اور کسے باطل قرار دیتی ہے۔ ماننا یا نہ ماننا الگ بات ہے ، مگر کوئی شخص یہ بہانہ کبھی نہیں بنا سکتا کہ اس کتاب کی تعلیم اس کی سمجھ میں نہیں آئی اور وہ اس سے یہ معلوم ہی نہ کر سکا کہ وہ اس کو کیا چیز چھوڑنے اور کیا اختیار کرنے کی دعوت دے رہی ہے۔ قرآن کو الکِتَابُ الْمُبِیْن کہنے کا ایک دوسرا مفہوم بھی ہے ، اور وہ یہ کہ اس کا کتاب الہیٰ ہونا ظاہر و باہر ہے۔ اس کی زبان، اس کا بیان، اس کے مضامین، اس کے پیش کردہ حقائق، اور اس کے حالاتِ نزول، سب کے سب صاف صاف دلالت کر رہے ہیں کہ یہ خدا وند عالم ہی کی کتاب ہے۔ اس لحاظ سے ہر فقرہ جو اس کتاب میں آیا ہے ایک نشانی اور ایک معجزہ (آیت) ہے۔ کوئی شخص عقل و خرد سے کام لے تو اسے محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی نبوت کا یقین کرنے کے لیے کسی اور نشانی کی حاجت نہیں ، کتاب مبین کی یہی آیات (نشانیاں ) اسے مطمئن کرنے کے لیے کافی ہیں۔ یہ مختصر تمہیدی فقرہ اپنے دونوں معنوں کے لحاظ سے اس مضمون کے ساتھ پوری مناسبت رکھتا ہے جو آگے اس سورہ میں بیان ہوا ہے۔ کفار مکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے معجزہ مانگتے تھے تاکہ اس نشانی کو دیکھ کر انہیں اطمینان ہو کہ واقعی آپ یہ پیغام خدا کی طرف سے لائے ہیں۔ فرمایا گیا کہ اگر حقیقت میں کسی کو ایمان لانے کے لیے نشانی کی طلب ہے تو کتاب مبین کی یہ آیات موجود ہیں۔ اسی طرح کفار نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر الزام رکھتے تھے کہ آپ شاعر یا کاہن ہیں۔ فرمایا گیا کہ یہ کتاب کوئی چیستاں اور معما تو نہیں ہے۔ صاف صاف کھول کر اپنی تعلیم پیش کر رہی ہے۔ خود ہی دیکھ لو کہ یہ تعلیم کسی شاعر یا کاہن کی ہو سکتی ہے ؟
لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ
اے محمدؐ ، شاید تم اس غم میں اپنی جان کھو دو گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔2
نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی اس حالت کا ذکر قرآن مجید میں مختلف مقامات پر کیا گیا ہے۔ مثلاً سورہ کہف میں فرمایا : قَلَعَلَّکَ بَا خِعٌ نَّفْسَکَ عَلیٰٓ اٰثَارِھِمْ اِنْ لَّم یُؤْ مِنُوْ ا لِھٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفاًO ‘‘شاید تم ان کے پیچھے غم کے مرے اپنی جان کھو دینے والے ہو اگر یہ اس تعلیم پر ایمان نہ لائے ‘‘۔ (آیت 6)۔ اور سورہ فاطر میں ارشاد ہوا فَلَا تَذْھَبْ نَفْسُکَ عَلَیْھِمْ حَسَرَاتٍO ’’ ان لوگوں کی حالت پر رنج و افسوس میں تمہاری جان نہ گھلے ‘‘ (آیت 8)۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس دور میں اپنی قوم کی گمراہی و ضلالت، اس کی اخلاقی پستی، اس کی ہٹ دھرمی، اور اصلاح کی ہر کوشش کے مقابلے میں اس کی مزاحمت کا رنگ دیکھ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ و سلم برسوں اپنے شب و روز کس دل گداز و جاں گُسِل کیفیت میں گزارتے رہے ہیں۔ بَخع کے اصل معنی پوری طرح ذبح کر ڈالنے کے ہیں۔ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ کے لغوی معنی یہ ہوئے کہ تم اپنے آپ کو قتل کیے دے رہے ہو۔
اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ اٰیَةً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُهُمْ لَهَا خٰضِعِیْنَ
ہم چاہیں تو آسمان سے ایسی نشانی نازل کر سکتے ہیں کہ اِن کی گردنیں اس کے آگے جُھک جائیں۔3
یعنی کوئیایسی نشانی نازل کر دینا جو تمام کفار کو ایمان و طاعت کی روش اختیار کرنے پر مجبور کر دے ، اللہ تعالیٰ کے لیے کچھ بھی مدکل نہیں ہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ یہ کام اس کی قدرت سے باہر ہے۔ بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح کا جبری ایمان اس کو مطلوب نہیں ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ لوگ عقل و خرد سے کام لے کر ا ن آیات کی مدد سے حق کو پہچانیں جو کتاب الہیٰ میں پیش کی گئی ہیں ، جو تمام آفاق میں ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں ، جو خود ان کی اپنی ہستی میں پائی جاتی ہیں۔ پھر جب ان کا دل گواہی دے کہ واقعی حق وہی ہے جس انبیاء علیہم السلام نے پیش کیا ہے ، اور اس کے خلاف جو عقیدے اور طریقے رائج ہیں وہ باطل ہیں ، تو جان بوجھ کر باطل کو چھوڑیں اور حق کو اختیار کریں۔ یہی اختیاری ایمان اور ترک باطل اور اتباع حق وہ چیز ہے جو اللہ تعالیٰ انسان سے چاہتا ہے۔ اسلیے اس نے انسان کو ارادے اور اختیار کی آزادی دی ہے۔ اسی بنا پر اس نے انساں کو یہ قدرت عطا کی ہے کہ صحیح اور غلط، جس راہ پر بھی وہ جانا چاہے جاسکے۔ اسی وجہ سے اس نے انسان کے اندر خیر اور شر کے دونوں رجحانات رکھ دیے ہیں ، فجور اور تقویٰ کی دونوں راہیں اس کے آگے کھول دی ہیں ، شیطان کو بہکانے کی آزادی عطا کی ہے ، نبوت اور وحی اور دعوت خیر کا سلسلہ راہ راست دکھانے کے لیے قائم کیا ہے ، اور انسان کو انتخاب راہ کے لیے ساری مناسبِ حال صلاحیتیں دے کر اس امتحان کے مقام پر کھڑا کر دیا ہے کہ ہو کفر و فسق کا راستہ اختیار کرتا ہے یا ایمان و طاعت کا۔ اس امتحان کا سارا مقصد ہی فوت ہو جائے ار اللہ تعالیٰ کوئی ایسی تدبیر اختیار فرمائے جو انسان کو ایمان اور اطاعت پر مجبور کر دینے والی ہو۔ جبری ایمان ہی مطلوب ہوتا تو نشانیاں نازل کر کے مجبور کرنے کیا حاجت تھی، اللہ تعالیٰ انسان کو اسی فطرت اور ساخت پر پیدا فرما سکتا تھا جس میں کفر، نافرمانی اور بدی کا کوئی امکان ہی نہ ہوتا، بلکہ فرشتوں کی طرح انسان بھی پیدائشی فرماں بردار ہوتا۔ یہی حقیقت ہے جس کی طرف متعدد مواقع پر قرآن مجید میں اشارہ کیا گیا ہے۔ مثلاً فرمایا : وَلَوْ شَآءَ رَبُّکَ لَاٰ مَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ کُلُّھُمْ جَمِیْعاً اَفَاَنْتَ تُکْرِہُ النَّاسَ حَتّیٰ یَکُوْنُوْ ا مُؤْمِنِیْنَ O ۔ ’’ اگر تمہارا رب چاہتا تو زمین کے رہنے والے سب کے سب لوگ ایمان لے آتے۔ اب کیا تم لوگوں کو ایمان لانے پر مجبور کرو گے ‘‘؟ (یونس، آیت 99)۔ اور : وَلَوْ شَآ ءَ رَبُّکَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّ لَا یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّکَ وَلِذٰلِکَ خَلَقَھُمْ۔’’اگر تیرا رب چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک ہی امت بنا سکتا تھا۔ وہ تو مختلف راہوں پر ہی چلتے رہیں گے (اور بے راہ رویوں سے ) صرف وہی بچیں گے جن پر تیرے رب کی رحمت ہے۔ اسی لیے تو اس نے ان کو پیدا کیا تھا ‘‘۔ (ہود۔ آیت 119)۔ مزید تشریح کے لی ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم (یونس، حواشی 101۔ 102۔ ہود، حاشیہ 116 )۔
وَمَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ مُحْدَثٍ اِلَّا كَانُوْا عَنْهُ مُعْرِضِیْنَ
اِن لوگوں کے پاس رحمان کی طرف سے جو نئی نصیحت بھی آتی ہے یہ اس سے منہ موڑ لیتے ہیں
فَقَدْ كَذَّبُوْا فَسَیَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ
اب کہ یہ جھُٹلا چکے ہیں، عنقریب اِن کو اس چیز کی حقیقت (مختلف طریقوں سے)معلوم ہو جائے گی جس کا یہ مذاق اُڑاتے رہے ہیں۔4
یعنی جن لوگوں کا حال یہ ہو کہ معقولیت کے ساتھ ان کو سمجھانے اور راہ راست دکھانے کی جو کوشش بھی جائے اس کا مقابلہ بے رخی و بے التفاتی سے کریں ، ان کا علاج یہ نہیں ہے کہ ان کے دل میں زبردستی ایمان اتارنے کے لیے آسمان سے نشانیاں نازل کی جائیں ، بلکہ ایسے لوگ اس بات کے مستحق ہیں کہ جب ایک طرف انہیں سمجھانے کا حق پورا پورا ادا کر دیا جائے اور دوسری طرف وہ بے رخی سے گزر کر قطعی اور کھلی تکذیب پر، اس سے بھی آگے بڑھ کر حقیقت کا مذاق اڑانے پر اتر آئیں ، تو ان کا انجام بد انہیں دکھا دیا جائے۔ یہ انجام بد اس شکل میں بھی انہیں دکھایا جا سکتا ہے کہ دنیا میں وہ حق ان کی آنکھوں کے سامنے ان کی ساری مزاحمتوں کے باوجود غالب آ جائے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔ اس کی شکل یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ان پر ایک عذاب الیم نازل ہو جائے اور وہ تباہ و بر باد کر کے رکھ دیے جائیں۔ اور وہ اس شکل میں بھی ان کے سامنے آسکتا ہے کہ چند سال اپنی غلط فہمیوں میں مبتلا رہ کر وہ مو کی ناگزیر منزل سے گزریں اور آخر کار ان پر ثابت ہو جائے کہ سراسر باطل تھا جس کی راہ میں انہوں نے اپنی تمام سرمایہ زندگانی کھپا دیا اور حق وہی تھا جسے انبیاء علیہم السلام پیش کرتے تھے اور جسے یہ عمر بھر ٹھٹھوں میں اڑاتے رہے۔ اس انجام بد کے سامنے آنے کی چونکہ بہت سی شکلیں ہیں اور مختلف لوگوں کے سامنے وہ مختلف صورتوں سے آسکتا ہے اور آتا رہا ہ، اسی لیے آیت میں نَبَاء کے بجائے اَنْبَاء بصیغہ جمع فرمایا گیا، یعنی جس چیز کا یہ مذاق اڑا رہے ہیں اس کی حقیقت آخر کار بہت سی مختلف شکلوں میں انہیں معلوم ہو گی۔
اَوَلَمْ یَرَوْا اِلَی الْاَرْضِ كَمْ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ
اور کیا انہوں نے کبھی زمین پر نگاہ نہیں ڈالی کہ ہم نے کتنی کثیر مقدار میں ہر طرح کی عمدہ نباتات اس میں پیدا کی ہیں؟
اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً ؕ وَمَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ
یقیناً اس میں ایک نشانی ہے5 ، مگر ان میں سے اکثر ماننے والے نہیں
یعنی جستجوئے حق کے لیے کسی کو نشانی کی ضرورت ہو تو کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ، آنکھیں کھول کر ذرا اس زمین ہی کی روئیدگی کو دیکھ لے ، اسے معلوم ہو جائے گا کہ نظام کائنات کی جو حقیقت (توحید الہٰ ) انبیاء علیہم السلام پیش کرتے ہیں وہ صحیح ہے ، یا وہ نظریات صحیح ہیں جو مشرکین یا منکرین خدا بیان کرتے ہیں۔ زمین سے اگنے والی بے شمار انواع و اقسام کی چیزیں جس کثرت سے اگ رہی ہیں ، جن مادوں اور قوتوں کی بدولت اگ رہی ہیں ، جن قوانین کے تحت اگ رہی ہیں ، پھر ان کی خواص اور صفات میں اور بے شمار مخلوقات کی ان گنت ضرورتوں میں جو صریح مناسبت پائی جاتی ہے ، ان ساری چیزوں کو دیکھ کر صرف ایک احمق ہی اس نتیجے پر پہنچ سکتا ہے کہ یہ سب کچھ کسی حکیم کی حکمت، کسی علیم کے علم، کسی قادر و توانا کی قدرت اور کسی خالق کے منصوبہ تخلیق کے بغیر بس یونہی آپ سے آپ ہو رہا ہے۔ یا اس سارے منصوبے کو بنانے اور چلانے والا کوئی ایک خد نہیں ہے بلکہ بہت سے خداؤں کی تدبیر نے زمین اور آفتاب و ماہتاب اور ہوا اور پانی کے درمیان یہ ہم آہنگی، اور ان وسائل سے پیدا ہونے والی نباتات اور بے حد و حساب مختلف النوع جانداروں کی حاجات کے درمیان یہ منا سبت پیدا کر رکھی ہے۔ ایک ذی عقل انسان تو، اگر وہ کسی ہٹ دھرمی اور پیشگی تعصب میں مبتلا نہیں ہے ، اس منظر کو دیکھ کر بے اختیار پکار اٹھے گا کہ یقیناً یہ خدا کے ہونے اور ایک ہی خدا کے ہونے کی کھلی کھلی علامات ہیں۔ ان نشانیوں کے ہوتے اور کس معجزے کی ضرورت ہے جسے دیکھے بغیر آدمی کو توحید کی صداقت کا یقین نہ آسکتا ہو؟
وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ
اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا ربّ زبردست بھی ہے اور رحیم بھی۔ 6
یعنی اس قدرت تو ایسی زبردست ہے کہ کسی کو سزا دینا چاہے تو پل بھر میں مٹا کر رکھ دے۔ مگر اس کے باوجود یہ سراسر اس کا رحم ہے کہ سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا۔ برسوں اور صدیوں ڈھیل دیتا ہے ، سوچنے اور سمجھنے اور سنبھلنے کی مہلت دیے جاتا ہے ، اور عمر بھر کی نا فرمانیوں کو ایک توبہ پر معاف کر دینے کے لیے تیار رہتا ہے۔
وَاِذْ نَادٰی رَبُّكَ مُوْسٰۤی اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ
اِنہیں اُس وقت کا قصہ سُناوٴ جب کہ تمہارے ربّ نے موسیٰؑ کو پکارا”7 ظالم قوم کے پاس جا
اوپر کی مختصر تمہیدی تقریر کے بعد اب تاریخی بیان کا آغاز ہو رہا ہے جس کی ابتدا حضرت موسیٰ اور فرعون کے قصے سے کی گئی ہے۔ اس سے خاص طور پر جو سبق دینا مقصود ہے وہ یہ کہ : اولاً، حضرت موسیٰ کو جن حالات سے سابقی پیش آیا تھا وہ ان حالات کی بہ نسبت بدر جہا زیادہ سخت تھے جن سے نبی صلی اللہ یہ و سلم کو سابقہ در پیش تھا۔ حضرت موسیٰ ایک غلام قوم کے فرد تھے جو فرعون اور اس کی قوم سے بری طرح دبی ہوئی تھی، بخلاف اس کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم قریش کے ایک فرد تھے اور آپ کا خاندان قریش کے دوسرے خاندانوں کے ساتھ بالکل برابر کی پوزیشن رکھتا تھا۔ حضرت موسیٰ نے خود اس فرعون کے گھر میں پرورش پائی تھی اور ایک قتل کے الزام میں دس برس روپوش رہنے کے بعد انہیں حکم دیا گیا تھا کہ اسی بادشاہ کے دربار میں جا کھڑے ہو جس کے ہاں سے وہ جان بچا کر فرار ہوئے تھے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو ایسی کسی نازک صورت حال سے سابقہ نہ تھا۔ پھر فرعون کی سلطنت اس وقت دنیا کی سب سے بڑی طاقت ور سلطنت تھی۔ قریش کی طاقت کو اس کی طاقت سے کوئی نسبت نہ تھی۔ اس کے باوجود فرعون حضرت موسیٰ کا کچھ نہ بگاڑ سکا اور آخر کار ان سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا۔اس سے اللہ تعالیٰ کفار قریش کو یہ سبق دینا چاہتا ہے کہ جس کی پشت پر اللہ کا ہاتھ ہو اس کا مقابلہ کر کے کوئی جیت نہیں سکتا۔ جب فرعون کی موسیٰ علیہ السلام کے سامنے کچھ پیش نہ گئی تو تم بیچارے کیا ہستی ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے مقابلہ میں بازی جیت لے جاؤ گے۔ ثانیاً جو نشانیاں حضرت موسیٰ کے ذریعہ سے فرعون کو دکھائی گئیں اس سے زیادہ کھلی نشانیاں اور کیا ہو سکتی ہیں۔ پھر ہزارہا آدمیوں کے مجمع میں فرعون ہی کے چیلنج پر علی الاعلان جادو گروں سے مقابلہ کرا کے یہ ثابت بھی کر دیا گیا کہ جو کچھ حضرت موسیٰ دکھا رہے ہیں وہ جادو نہیں ہے۔ فن سحر کے جو ماہرین فرعون کی اپنی قوم سے تعلق رکھتے تھے اور اس کے اپنے بلائے ہوئے تھے۔ انہوں نے خود یہ تصدیق کر دی کہ حضرت موسیٰ کی لاٹھی کا اژدھا بن جانا ایک حقیقت تغیر ہے اور یہ صرف خدائی معجزے سے ہو سکتا ہے ، جادو گری کے ذریعہ سے ایسا ہونا کسی طرح ممکن نہیں۔ ساحروں نے ایمان لاکر اور اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر اس امر میں کسی شک کی گنجائش بھی باقی نہ چھوڑی کہ حضرت موسیٰ کی پیش کردہ نشانی واقعی معجزہ ہے ، جادو گری نہیں ہے۔ لیکن اس پر بھی جو لوگ ہٹ دھرمی میں مبتلا تھے انہوں نے نبی کی صداقت تسلیم کر کے نہ دی۔ اب تم یہ کیسے کہہ سکتے ہو کہ تمہارا ایمان لانا در حقیقت کوئی حسّی معجزہ اور مادی نشان دیکھنے پر موقوف ہے۔ تعصب، حمیتِ جاہلیہ، اور مفاد پرستی سے آدمی پاک ہو اور کھلے دل سے حق اور باطل کا فرق سمجھ کر غلط بات کو چھوڑنے اور صحیح بات قبول کرنے کے لیے کوئی شخص تیار ہو تو اس کے لیے وہی نشانیاں کافی ہیں جو اس کتاب میں اور اس کے لانے والے کی زندگی میں اور خدا کی وسیع کائنات میں ہر آنکھوں والا ہر وقت دیکھ سکتا ہے۔ ورنہ ایک ہٹ دھرم آدمی جسے حق کی جستجو ہی نہ ہو اور اغراض نفسانی کی بندگی میں مبتلا ہو کر جس نے فیصلہ کر لیا ہو کہ کسی ایسی صداقت کو قبول نہ کرے گا جس سے اس کی اغراض پر ضرب لگتی ہو، وہ کوئی نشانی دیکھ کر بھی ایمان نہ لائے گا خواہ زمین اور آسمان ہی اس کے سامنے کیوں نہ الٹ دیے جائیں۔ ثانیاً، اس ہٹ دھرمی کا جو انجام فرعون نے دیکھا وہ کوئی ایسا انجام تو نہیں ہے جسے دیکھنے کے لیے دوسرے لوگ بے تاب ہوں۔ اپنی آنکھوں سے خدائی طاقت کے نشانات دیکھ لینے کے بعد جو نہیں مانتے وہ پھر ایسے ہی انجام سے دو چار ہوتے ہیں۔ اب کیا تم لوگ اس سے عبرت حاصل کرنے کے بجائے اس کا مزا چکھنا ہی پسند کرتے ہو؟ تقابل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، الاعراف، آیات 103 تا 137۔ یونس، 75 تا 92۔ بنی اسرائیل، 101 تا 104۔ جلد سوم طٰہٰ، 0 تا 79۔
قَوْمَ فِرْعَوْنَ ؕ اَلَا یَتَّقُوْنَ
یہ انداز بیان قوم فرعون کے انتہائی ظلم کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کا تعارف ہی ’’ظالم قوم ‘‘ کے لقب سے کرایا گیا ہے۔ گویا اس کا اصل نام ظالم قوم ہے اور قوم فرعون اس کا ترجمہ و تفسیر۔
یعنی اسے موسیٰ، دیکھو کیسی عجیب بات ہے کہ یہ لوگ اپنے آپ کو مختار مطلق سمجھتے ہوئے دنیا میں ظلم و ستم ڈھائے جا رہے ہیں اور اس بات سے بے خوف ہیں کہ اوپر کوئی خدا بھی ہے جو ان سے باز پرس کرنے والا ہے۔
قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِ ؕ
اُس نے عرض کیا "اے رب، مجھے خوف ہے کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے
وَیَضِیْقُ صَدْرِیْ وَلَا یَنْطَلِقُ لِسَانِیْ فَاَرْسِلْ اِلٰی هٰرُوْنَ
میرا سینہ گھُٹتا ہے اور میری زبان نہیں چلتی۔ آپ ہارونؑ کی طرف رسالت بھیجیں۔10
سورہ طٰہٰ رکوع 2، اور سورہ قصص رکوع 4 میں اس کی جو تفصیل آئی ہے اسے ان آیات کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اول تو اتنے بڑے مشن پر تنہا جاتے ہوئے گھبراتے تھے (میرا سینہ گھٹتا ہے کے الفاظ اسی کی نشان دہی کرتے ہیں )، دوسرے ان کو یہ بھی احساس تھا کہ وہ روانی کے ساتھ تقریر نہیں کرسکتے۔ اس لیے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ حضرت ہارون کو ان کے ساتھ مدد گار کی حیثیت سے نبی بنا کر بھیجا جائے کیونکہ وہ زیادہ زبان آور ہیں ، جب ضرورت پیش آئے گی تو وہ ان کی تائید و تصدیق کر کے ان کی پشت مضبوط کریں گے۔ ممکن ہے کہ ابتداءً حضرت موسیٰ کی درخواست یہ رہی ہو کہ آپ کے بجائے حضرت ہارون کو اس منصب پر مامور کیا جائے ، اور بعد میں جب آپ نے محسوس کیا ہو کہ مرضی الٰہی آپ ہی کو مامور کرنے کی ہے تو پھر یہ درخواست کیہو کہ انہیں آپ کا وزیر اور مدد گار بنایا جا۔ یہ شبہہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ یہاں حضرت موسیٰ ان کو وزیر بنانے کی درخواست نہیں کر رہے ہیں بلکہ یہ عرض کر رہے ہیں یہ : فَاَرْسِلْ لِّیْ اِلیٰ ھَارُوْنَ، ’’ آپ ہارون کی طرف رسالت بھیجیں ‘‘۔ اور سورہ طٰہٰ میں وہ یہ گزارش کرتے ہیں کہ وَجْعَلْ لِّیْ وَزِیْراً مِّنْ اَھْلِیْھَارُوْنَ اَخِیْ، ’’ میرے لیے میرے خاندان میں سے ایک وزیر مقرر فرما دیجیے ، میرے بھائی ہارون کو ‘‘۔ نیز سورہ قصص میں وہ یہ عرض کرتے ہیں کہ : وَاَخِیْ ھٰرُوْنَ ھُوَ اَفْصَحُ مِنِّیْ لِسَاناً فَاَرْسِلْہُ مَعِیَ رِدْ اءً یُّصَدِّ قُنِیْ، ’’میرے بھائی ہارون مجھ سے زیادہ زبان آور ہیں لہٰذا آُ انہیں مدد گار کے طور پر میرے ساتھ بھیجیے تاکہ وہ میری تصدیق کریں ‘‘۔ اس سے خیال ہوتا ہے کہ غالباً یہ مؤخر الذکر دونوں درخواستیں بعد کی تھیں ، اور پہلی بات وہی تھی جو حضرت موسیٰ سے اس سورے میں نقل ہوئی ہے۔ بائیبل کا بیان اس سے مختلف ہے۔ وہ کہتی ہے کہ حضرت موسیٰ نے قوم فرعون کی تکذیب کا خوف اور اپنی زبان کے کندے ہونے کا عذر پیش کر کے یہ منصب قبول کرنے سے بالکل ہی نکار کر دیا تھا : ’’ اے خداوند میں تیری منت کرتا ہوں۔ کسی اور کے ہاتھ سے جسے تو چاہے یہ پیغام بھیج ‘‘۔ پھر اللہ تعالیٰ نے بطور خود حضرت ہارون کو ان کے لیے مدد گار مقرر فرما کر انہیں اس بات پر راضی کیا کہ دونوں بھائی مل کر فرعون کے پاس جائیں (خروج باب 4۔ آیات ا تا 71 ) مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، طٰہٰ، حاشیہ 19۔
وَلَهُمْ عَلَیَّ ذَنْۢبٌ فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِ
اور مجھ پر اُن کےہاں ایک جُرم کا الزام بھی ہے ، اس لیے میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔“11
یہ اشارہ ہے اس واقعہ کی طرف جو سورہ قصص رکوع 2 میں بیان ہوا ہے۔ حضرت موسیٰ نے قوم فرعون کے ایک شخص کو ایک اسرائیل سے لڑتے دیکھ کر ایک گھونسا مار دیا تھا جس سے وہ مر گیا۔ پھر جب حضرت موسیٰ کو معلوم ہا کہ اس وقعہ کی اطلاع قوم فرعون کے لوگوں کو ہو گئی ہے اور وہ بدلہ لینے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ملک چھوڑ کر مَدْیَن کی طرف فرار ہو گئے تھے۔ اب جو آٹھ دس سال کی روپوشی کے بعد یکایک انہیں یہ حکم دیا گیا کہ تم پیغام رسال لے کر اسی فرعون کے دربا ر میں جا کھڑے ہو جس کے ہاں تمہارے خلاف قتل کا مقدمہ پہلے سے موجود ہے تو حضرت موسیٰ کو بجا طور پر یہ خطرہ ہوا کہ پیغام سنانے کی نوبت آنے سے پہلے ہی وہ تو مجھے اس قتل کے الزام میں پھانس لے گا۔
قَالَ كَلَّا فَاذْهَبَا بِاٰیٰتِنَاۤ اِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُوْنَ
فرمایا”ہر گز نہیں، تم دونوں جاوٴ ہماری نشانیاں لے کر12 ، ہم تمہارے ساتھ سب کچھ سُنتے رہیں گے
نشانیوں سے مراد عصا اور ید بیضاء کے معجزے ہیں جن کے عطا کیے جانے کی تفصیل سورہ الاعراف رکوع 13۔ 14، طٰہٰ رکوع 1، سورہ نمل رکوع 1، اور سورہ قصص رکوع 4 میں بیان ہوئی ہے۔
فَاْتِیَا فِرْعَوْنَ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ
فرعون کے پاس جاؤ اور اس سے کہو، ہم کو رب العٰلمین نے اس لیے بھیجا ہے
اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ ؕ
کہ تُو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے دے۔“13
حضرت موسیٰ و ہارون کی دعوت کے دو جز تھے : ایک، فرعون کو اللہ کی بندگی کی طرف بلانا، جو تمام انبیاء علیہم السلام کی دعوت کا اصل مقصود رہا ہے۔ دوسرے ، بنی اسرائیل کو فرعون کے بند غلامی سے نکالنا، جو مخصوص طور پر انہیں دونوں حضرات کا مشن تھا۔ قرآن مجید میں کسی جگہ صرف پہلے جزء کا ذکر کیا گیا ہے۔ (مثلاً سورہ نازعات میں ) اور کسیجگہ صرف دوسرے جز کا۔
قَالَ اَلَمْ نُرَبِّكَ فِیْنَا وَلِیْدًا وَّلَبِثْتَ فِیْنَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِیْنَ
فرعون نے کہا”کیا ہم نے تجھ کو اپنے ہاں بچہ سا نہیں پالا تھا؟14 تُو نے اپنی عمر کے کئی سال ہمارے ہاں گزارے
اس سے ایک اشارہ اس خیال کی تائید میں نکلتا ہے کہ یہ فرعون وہ فرعون نہ تھا جس کے گھر میں حضرت موسیٰ نے پرورش پائی تھی، بلکہ یہ اس کا بیٹا تھا۔ اگر یہ وہی فرعون ہوتا تو کہتا کہ میں نے تجھے پالا تھا۔ لیکن یہ کہتا ہے کہ ہمارے ہاں تو رہا ہے اور ہم نے تیری پرورش کی ہے۔ (اس مسئلے پر تفصیلی بحث کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم الاعراف، حواشی 85۔ 93 )۔
وَفَعَلْتَ فَعْلَتَكَ الَّتِیْ فَعَلْتَ وَاَنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ
اور اس کے بعد کر گیا جو کچھ کہ کر گیا15 ، تُو بڑا احسان فراموش آدمی ہے۔“
اشارہ ہے اسی واقعہ قتل کی طرف جو حضرت موسیٰ سے سر زد ہو گیا تھا۔
قَالَ فَعَلْتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّیْنَ ؕ
موسیٰؑ نے جواب دیا”اُس وقت وہ کام میں نے نا دانستگی میں کر دیا تھا۔16
اصل الفاظ ہیں : وَاَنَا مِنَ الضَّآ لِّیْنَ، ’’ میں اس وقت ضلالت میں تھا‘‘۔ یا ’’ میں نے اس وقت یہ کام ضلالت کی حالت میں کیا تھا‘‘۔ یہ لفظ ضلالت لازماً ’’گمراہی‘‘ کا ہی ہم معنی نہیں ہے۔ بلکہ عربی زبان میں اسے نا واقفیت، نادانی، خطا، نسیان، نادانستگی وغیرہ معنوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ جو واقعہ سورہ قصص میں بیان ہوا ہے اس پر غور کنے سے یہاں ضلالت بمعنی خطا یا نا دانستگی ہی لینا زیادہ صحیح ہے۔ حضرت موسیٰ نے اس قبطی کو ایک اسرائلی پر ظلم کرتے دیکھ کر صرف ایک گھونسا مارا تھا۔ ظاہر ہے کہ گھونسے سے بالعموم آدمی مرتا نہیں ہے ، نہ قتل کی نیت سے گھونسا مارا جاتا ہے۔ اتفاق کی بات ہے کہ اس سے وہ شخص مرگیا۔ اس لیے صحیح صورت واقعہ یہی ہے کہ یہ قتل عمد نہیں بلکہ قتل خطا تھا۔ قتل ہوا ضرور، مگر بالارادہ قتل کی نیت سے نہیں ہوا، نہ کوئی ایسا آلہ یا ذریعہ استعمال کیا گیا جو قتل کی غرض سے استعمال کیا جاتا ہے یا جس سے قتل واقع ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے۔
فَفَرَرْتُ مِنْكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِیْ رَبِّیْ حُكْمًا وَّجَعَلَنِیْ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ
پھر میں تمہارے خوف سے بھاگ گیا۔ اس کے بعد میرے ربّ نے مجھ کو حکم عطا کیا17 اور مجھے رسُولوں میں شامل فرما لیا
یعنی علم و دانش اور پروانہ نبوت۔ حکم کے معنی حکمت و دانش کے بھی ہیں ، اور اس سند اقتدار (Authority) کے بھی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی کو عطا کی جاتی ہے ، جس کی بنا پر وہ اختیار کے ساتھ بولتا ہے۔
وَتِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَیَّ اَنْ عَبَّدْتَّ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ ؕ
رہا تیرا احسان جو تُو نے مجھ پر جتایا ہے تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ تُو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا لیا تھا۔“18
یعنی تیرے گھر میں پرورش پانے کے لیے میں کیوں آتا اگر تو نے بنی اسرائیل پر ظلم نہ دھایا ہوتا۔ تیرے ہی ظلم کی وجہ سے تو میری ماں نے مجھے ٹوکری میں ڈال کر دریا میں بہایا تھا۔ ورنہ کیا میری پرورش کے لیے میرا اپنا گھر موجود نہ تھا؟ اس لیے اس پرورش کا احسان جتانا تجھے زیب نہیں دیتا۔
قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ ؕ
بیچ میں یہ تفصیل چھوڑ دی گئی ہے کہ حضرت موسیٰ نے اپنے آپ کو ربّ العالمین کے رسول کی حیثیت سے پیش کر کے فرعون کو وہ پیغام پہنچایا جس کے لیے وہ بھجے گئے تھے۔ یہ بات آپ سے آپ ظاہر ہے کہ نبی نے ضرور وہ پیغام پہنچا دیا ہو گا جس پر وہ مامور کیے گئے تھے ، اس لیے اس کا ذکر کرنے کی حاجت نہ تھی۔ اسے چھوڑ کر اب وہ گفتگو نقل کی جاتی ہے جو اس پیغام کی تبلیغ کے بعد فرعون اور موسیٰ کے درمیان ہوئی۔
یہ اس کا سوال حضرت موسیٰ کے اس قول پر تھا کہ میں رب العالمین (تمام جہان والوں کے مالک و آقا اور فرماں روا) کی طرف سے بھیجا گیا ہوں اور اس لیے بھیجا گیا ہوں کہ تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ جانے دے۔ اس پیغام کی نوعیت صریح طور پر سیاسی تھی۔ اس کے صاف معنی یہ تھے کہ حضرت موسیٰ جس کی نمائندگی کے مدعی ہیں وہ سارے جہاں والوں پر حاکمیت و اقتدار اعلیٰ رکھتا ہے اور فرعون کی اپنا تابع قرار دے کر اس کے دائرہ حکومت و اقتدار میں ایک بالا تر فرمانروا کی حیثیت سے نہ صرف یہ کہ مداخلت کر رہا ہے بلکہ اس کے نام یہ فرمان بھیج رہا ہے کہ تو اپنی رعایا کے ایک حصے کو میرے نامزد کردہ نمائندے کے حوالے کر دے تاکہ وہ اسے تیری سلطنت سے نکال کر لے جائے۔ اس پر فرعون پوچھتا ہے کہ یہ سارے جہاں والوں کا مالک و فرمانروا ہے کون جو مصر کے بادشاہ کو اس کی رعایا کے ایک ادنی فرد کے ہاتھوں یہ حکم بھیج رہا ہے۔
قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَهُمَا ؕ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ
موسیٰؑ نے جواب دیا”آسمانوں اور زمین کا ربّ، اور اُن سب چیزوں کا ربّ جو آسمان و زمین کے درمیان ہیں، اگر تم یقین لانے والے ہو۔“21
یعنی میں زمین پر بسنے والے کسی مخلوق اور فانی مدعی ملوکیت کی طرف سے نہیں آیا ہوں ، بلکہ اس کی طرف سے آیا ہوں جو آسمان و زمین کا مالک ہے۔ اگر تم اس بات کا یقین رکھتے ہو کہ اس کائنات کا کوئی خالق اور مالک و فرمانروا ہے تو تمہیں یہ سمجھنے میں کوئی زحمت نہیں ہونی چاہیے کہ سارے جہاں والوں کا رب کون ہے۔
قَالَ لِمَنْ حَوْلَهٗۤ اَلَا تَسْتَمِعُوْنَ
فرعون نے اپنے گرد و پیش کے لوگوں سے کہا "سُنتے ہو؟"
قَالَ رَبُّكُمْ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الْاَوَّلِیْنَ
موسیٰؑ نے کہا”تمہارا ربّ بھی اور تمہارے اُن آباوٴ اجداد کا ربّ بھی جو گزر چکے ہیں۔“22
حضرت موسیٰ کا یہ خطاب فرعون کے درباریوں سے تھا۔ جن سے فرعون نے کہا تھا کہ ’’ سنتے ہو‘‘۔ حضرت موسیٰ نے ان سے فرمایا کہ میں ان جھوٹے ارباب کا قائل نہیں ہوں جو آج ہیں اور کل نہ تھے ، اور کل تھے مگر آج نہیں ہیں۔ تمہارا یہ فرعون جو آج تمہارا رب بنا بیٹھا ہے کل نہ تھا اور کل تمہارے باپ دادا جن فرعونوں کو رب بنائے بیٹھے تھے وہ آج نہیں ہیں۔ میں صرف اس رب کی حاکمیت و فرماں روائی مانتا ہوں جو آج بھی تمہارا اور اس فرعون کا رب ہے ، اور اس سے پہلے جو تمہارے اور اس کے باپ دادا گزر چکے ہیں ان سب کا رب بھی تھا۔
قَالَ اِنَّ رَسُوْلَكُمُ الَّذِیْۤ اُرْسِلَ اِلَیْكُمْ لَمَجْنُوْنٌ
فرعون نے (حاضرین سے) کہا "تمہارے یہ رسول صاحب جو تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں، بالکل ہی پاگل معلوم ہوتے ہیں"
قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَمَا بَیْنَهُمَا ؕ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ
موسیٰؑ نے کہا”مشرق و مغرب اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے سب کا ربّ، اگر آپ لوگ کچھ عقل رکھتے ہیں۔“23
یعنی مجھے تو پاگل قرار دیا جا رہا ہے ، لیکن آپ لوگ اگر عاقل ہیں تو خود سوچیے کہ حقیقت میں رب یہ بیچارا فرعون ہے جو زمین کے ایک ذرا سے رقنے پر بادشاہ بنا بیٹھا ہے ، یا وہ جو مشرق و مغرب کا مالک اور مصر سمیت ہر اس چیز کا مالک ہے جو مشرق و مغرب سے گھری ہوئی ہے۔ میں تو فرماں روائی اسی کی مانتا ہوں اور اسی کی طرف سے یہ حکم اس کے ایک بندے کو پہنچا رہا ہوں۔
قَالَ لَىِٕنِ اتَّخَذْتَ اِلٰهًا غَیْرِیْ لَاَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُوْنِیْنَ
فرعون نے کہا”اگر تُو نے میرے سوا کسی اور کو معبُود مانا تو تجھے بھی اُن لوگوں میں شامل کر دوں گا جو قید خانوں میں پڑے سڑ رہے ہیں۔“24
اس گفتگو کو سمجھنے کے لیے یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ آج کی طرح قدیم زمانے میں بھی ’’ معبود‘‘ کا تصور صرف مذہبی معنوں تک محدود تھا۔ یعنی یہ کہ اسے بس پوجا پاٹ اور نذر و نیاز کا استحقاق پہنچتا ہے ، اور اپنے فوق الفطری غلبہ و اقتدار کی وجہ سے اس کا یہ منصب بھی ہے کہ انسان اپنے معاملات میں اس سے استمداد و استعانت کے لیے دعائیں مانگیں۔ لیکن کسی معبود کی یہ حیثیت کہ وہ قانونی اورع سیاسی معنوں میں بھی بالا دست ہے ، اور اسے یہ حق بھی پہنچتا ہے کہ معاملات دنیا میں وہ جو حکم چاہے دے ، اور انسانوں کا یہ فرض ہے کہ اس کے امر و نہی کو قانون بر تر مان کر اس کے آگے جھک جائیں ، یہ چیز زمین کے مجازی فرمانرواؤں نے نہ پہلے کبھی مان کر دی تھی، نہ آج وہ اسے ماننے کے لیے تیار ہیں۔ وہ ہمیشہ سے یہی کہتے چلے آئے ہیں کہ دنیا کے معاملات میں ہم مختار مطلق ہیں ، کسی معبود کو ہماری سیاست اور ہمارے قانون میں دخل دینے کا حق نہیں ہے۔ دنیوی حکومتوں اور بادشاہوں سے انبیا علیہم السلام اور ان کی پیروی کرنے والے مصلحین کے تصادم کی اصل وجہ یہی رہی ہے۔ انہوں نے ان سے خداوند عالم کی حاکمیت و بالا دستی تسلیم کرانے کی کوشش کی ہے ، اور یہ اس کے جواب میں نہ صرف یہ کہ اپنی حاکمیت مطلقہ کا دعویٰ پیش کرتی رہی ہیں بلکہ انہوں نے ہر اس شخص کو مجرم اور باغی ٹھیرایا ہے جو ان کے سوا کسی اور کو قانون و سیاست کے میدان میں معبود مانے۔ اس تشریح ے فرعون کی اس گفتگو کا صحیح مفہوم اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔ اگر معاملہ پوجا پاٹ اور نذر و نیاز کا ہوتا تو اس کو اس سے کوئی بحث نہ تھی کہ حضرت موسیٰ دوسرے دیوتاؤں کو چھوڑ کر صرف ایک اللہ رب العالمین کو اس کا مستحق سمجھتے ہیں۔ اگر صرف اسی معنی میں توحید فی العبادت کی دعوت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو دی ہوتی تو اسے غضب ناک ہونے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ زیادہ سے زیادہ اگر وہ کچھ کرتا تو بس یہ کہ اپنا دین آبائی چھوڑنے سے انکار کر دیتا، یا حضرت موسیٰ سے کہتا کہ میرے مذہب کے پنڈتوں سے مناظرہ کر لو۔ لیکن جس چیز نے اس غضبناک کر دیا وہ یہ تھی کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے رب العالمین کے نمائندے کی حیثیت سے اپنے آپ کو پیش کر کے اسے اس طرح ایک سیاسی حکم پہنچایا کہ گویا وہ ایک ماتحت حاکم ہے اور ایک حاکم بر تر کا پیغامبر آ کر اس سے اطاعت امر کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اس معنی میں ہو اپنے اوپر کسی کی سیاسی و قانونی برتری ماننے کے لیے تیار نہ تھا، بلکہ وہ یہ بھی گوارا نہ کر سکتا تھا کہ اس کی رعایا میں سے کوئی فرد اس کے بجائے کسی اور کو حاکم بر تر مانے۔ اسی لیے اس نے پہلے ’’رب العالمین‘‘ کی اصطلاح کو چیلنج کیا، کیونکہ اس کی طرف سے لائے ہوئے پیغام میں محض مذہبی معبودیت کا نہیں بلکہ کھلا کھلا سیاسی اقتدار اعلیٰ کا رنگ نظر آتا تھا۔ پھر جب حضرت موسیٰ نے بار بار تشریح کے کے بتایا کہ جس رب العالمین کا پیغام وہ لائے ہیں وہ کون ہے ، تو اس نے صاف صاف دھمکی دی کہ ملک مصر میں تم نے میرے اقتدار اعلیٰ کے سوا کسی اور کے اقتدار کا نام بھی لیا تو جیل کی ہوا کھاؤ گے۔
قَالَ اَوَلَوْ جِئْتُكَ بِشَیْءٍ مُّبِیْنٍ
موسیٰؑ نے کہا”اگر چہ میں لے آوٴں تیرے سامنے ایک صریح چیز بھی؟“25
یعنی کیا تو اس صورت میں بھی میری بات ماننے سے انکار کرے گا اور مجھے جیل بھیجے گا جب کہ میں اس امر کی ایک صریح علامت پیش کر دوں کہ میں واقعی اس خدا کا فرستادہ ہوں جو رب العالمین، رب السمٰوات و الارض اور رب المشرق و المغرب ہے ؟
قَالَ فَاْتِ بِهٖۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ
فرعون نے کہا”اچھا تو لے آ اگر تُو سچا ہے۔26“
حضرت موسیٰ کے سوال پر فرعون کا یہ جواب خود ظاہر کرتا ہے کہ اس کا حال قدیم و جدید زمانے کے عام مشرکین سے مختلف نہ تھا۔ وہ دوسرے تمام مشرکین کی طرح فوق الفطری معنوں میں اللہ کے الٰہٰ الالٰہہ ہونے کو مانتا تھا اور ان ہی کی طرح یہ بھی تسلیم کرتا تھا کہ کائنات میں اس کی قدرت سب دیوتاؤں سے بر تر ہے۔ اسی وجہ سے حضرت موسیٰ نے اس سے کہا کہ اگر تجھے میرے مامور من اللہ ہونے کا یقین نہیں ہے تو میں ایسی صریح نشانیاں پیش کروں جن سے ثابت ہو جائے کہ میں سی کا بھیجا ہوا ہوں۔ اور اسی وجہ سے اس نے بھی جواب دیا کہ اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو تو لاؤ کوئی نشانی۔ ورنہ ظہر ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی ہستی یا اس کے مالک کائنات ہونے ہی میں اسے کلام ہوتا تو نشانی کا سوال پیدا ہی نہ ہو سکتا تھا۔ نشانی کی بات تو اسی صورت میں درمیان آسکتی تھی جب کہ اللہ تعالیٰ کا وجود اور اس کا وجود اور اس کا قادر مطلق ہونا تو مسلم ہو، اور بحث اس امر میں ہو کہ حضرت موسیٰ اس کے بھیجے ہوئے ہیں یا نہیں۔
فَاَلْقٰی عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌ
(اس کی زبان سے یہ بات نکلتے ہی)موسیٰؑ نے اپنا عصا پھینکا اور یکایک وہ ایک صریح اژدہا تھا۔27
قرآن مجید میں کسی جگہ اس کے لیے حَیَّۃٌ (سانپ) اور کسی جگہ جَآن (جو بالعموم چھوٹے سانپ کے لیے بولا جاتا ہے ) کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ، اور یہاں اسے ثُعْبَانٌ (اژدہا) کہا جا رہا ہے۔ اس کی توجیہ امام رازی اس طرح کرتے ہیں کہ : حَیَّۃٌ عربی زان میں سانپ کی جنس کے لیے مشترک نام ہے ، خواہ چھوٹا ہو یا بڑا۔ اور ثُعْبَانٌ کا لفظ اس لیے استعمال کیا گیا کہ جسامت کے اعتبار سے وہ اژدھے کی طرح تھا۔ اور جَانّ کا لفظ اس بنا پر استعمال کیا گیا کہ اس کی پھرتی اور تیزی چھوٹے سانپ جیسی تھی۔
وَّنَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ
پھر اُس نے اپنا ہاتھ (بغل سے)کھینچا اور وہ سب دیکھنے والوں کے سامنے چمک رہا تھا۔28
بعض مفسرین نے یہودی روایات سے متاثر ہو کر بَیْضَاء کے معنی ’’سفید‘‘ کیے ہیں اور اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ بغل سے نکالتے ہی بھلا چنگا ہاتھ برص کے مریض کی طرح سفید ہو گیا۔ لیکن ابن جریر، ابن کثیر، زَمَخْشَری، رازی، ابو السعود عمادی، آلوسی اور دوسرے بڑے بڑے مفسرین اس پر متفق ہیں کہ یہاں بَیْضَآءُ بمعنی روشن اور چمکدار ہے۔ جونہی کہ حضرت موسیٰ نے بغل سے ہاتھ نکالا یکایک سارا ماحول جگمگا اٹھا اور یوں محسوس ہو اجیسے سورج نکل آیا ہے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، طٰہٰ حاشیہ 13 )۔
قَالَ لِلْمَلَاِ حَوْلَهٗۤ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌ
فرعون اپنے گرد و پیش کے سرداروں سے بولا "یہ شخص یقیناً ایک ماہر جادوگر ہے
یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهٖ فَمَاذَا تَاْمُرُوْنَ
دونوں معجزوں کی عظمت کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ یا تو ایک لمحہ پہلے وہ اپنی رعیت کے ایک فرد کو بر سر دربار رسالت کی باتیں اور بنی اسرائیل کی رہائی کا مطالبہ کرتے دیکھ کر پاگل قرار دے رہا تھا (کیونکہ اس کے نزدیک ایک غلام قوم کے فرد کا اس جیسے با جبروت بادشاہ کے حضور ایسی جسارت کرنا پاگل پن کے سوا اور کچھ نہ ہو سکتا تھا) اور اسے دھمکی دے رہا تھا کہ اگر تو نے میرے سوا کسی کو معبود مانا تو جیل میں سڑا سڑا کر مار دوں گا، یا اب ان نشانیوں کو دیکھتے ہی اس پر ایسی ہیبت طاری ہوئی کہ اسے اپنی بادشاہی اور اپنا ملک چھننے کا خطرہ لاحق ہو گیا اور بد حواسی میں اسے یہ بھی احساس نہ رہا کہ میں بھرے دربار میں اپنے نوکروں کے سامنے کیسی بے تکی باتیں کر رہا ہوں۔ بنی اسرائیل جیسی دبی ہوئی قوم کے دو افراد وقت کے سب سے بڑے طاقت ور بادشاہ کے سامنے کھڑے تھے۔ کوئی لاؤ لشکر ان کے ساتھ نہ تھا۔ کوئی جان ان کی قوم میں نہ تھی۔ کسی بغاوت کا نام و نشان تک ملک کے کسی گوشے میں نہ تھا۔ ملک سے باہر کسی دوسری حکومت کی طاقت بھی ان کی پشت پر نہ تھی۔ اس حالت میں صرف ایک لاٹھی کا اژدہا بنتے دیکھ کر اور ایک ہاتھ کو چمکتے دیکھ کر یکایک اس کا چیخ اٹھنا کہ یہ دو بے سرو سامان آدمی میری سلطنت کا تختہ الٹ دیں گے اور پورے حکمران طبقے کو اقتدار سے بے دخل کر دیں گے ، آخر کیا معنی رکھتا ہے ؟ اس کا یہ کہنا کہ یہ شخص جادو کے زور سے ایسا کر ڈالے گا، مزید بد حواسی کی دلیل ہے۔ جادو کے زور سے دنیا میں کبھی کوئی سیاسی انقلاب نہیں ہوا، کوئی ملک فتح نہیں ہوا، کوئی جنگ نہیں جیتی گئی۔ جادو گر تو اس کے اپنی ملک میں موجود تھے اور بڑے بڑے کرشمے دکھا سکتے تھے۔ مگر وہ خود جانتا تھا کہ تماشا کر کے انعام لینے سے بڑھ کر ان کی کوئی اوقات نہیں ہے۔ سلطنت تو کجا، وہ بیچارے تو سلطنت کے کسی پولس کانسٹیبل کو بھی چیلنج کرنے کی ہمت نہ کر سکتے تھے۔
یہ فقرہ فرعون کی مزید بدحواسی کو ظاہر کرتا ہے۔ کہاں تو وہ الٰہ بنا ہوا تھا اور یہ سب اس کے بندے تھے۔ کہاں اب الٰہ صاحب مانے خوف کے بندوں سے پوچھ رہے ہیں کہ تمہارا حکم کیا ہے۔ دوسرے الفاظ میں گویا وہ یہ کہہ رہا تھا کہ میری عقل تو اب کچھ کام نہیں کرتی، تم بتاؤ کہ اس خطرے کا مقابلہ میں کیسے کروں۔
قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَاَخَاهُ وَابْعَثْ فِی الْمَدَآىِٕنِ حٰشِرِیْنَ
انہوں نے کہا "اسے اور اس کے بھائی کو روک لیجیے اور شہروں میں ہرکارے بھیج دیجیے
یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِیْمٍ
کہ ہر سیانے جادوگر کو آپ کے پاس لے آئیں"
فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِمِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ
چنانچہ ایک روز مقرر وقت31 پر جادُو گر اکٹھے کر لیے گئے
سور طٰہٰ میں گزر چکا ہے کہ اس مقابلے کے لیے قبطیوں کی قومی عید کا دن (یوم الزینۃ) مقرر کیا گیا تھا تاکہ ملک کے گوشے گوشے سے میلوں ٹھیلوں کی خاطر آنے والے سب لوگ یہ عظیم الشان ’’ دنگل‘‘ دیکھنے کے لی جمع ہو جائیں ، اور اس کے لیے وقت بھی دن چڑھے کا طے ہوا تھا تا کہ روز روشن میں سب کی آنکھوں کے سامنے فریقین کی طاقت کا مظاہرہ ہو اور روشنی کی کمی کے باعث کوئی شک و شبہہ پیدا ہونے کی گنجائش نہ رہے۔
وَّقِیْلَ لِلنَّاسِ هَلْ اَنْتُمْ مُّجْتَمِعُوْنَ
اور لوگوں سے کہا گیا”تم اجتماع میں چلو گے؟32
یعنی صرف اعلان و اشتہار ہی پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ آدمی اس غرض کے لیے چھوڑے گئے کہ لوگوں کو اکسا اُکسا کر یہ مقابلہ دیکھنے کے لیے لائیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بھرے دربار میں جو معجزات حضرت موسیٰ نے دکھائے تھے ان کی خبر عام لوگوں میں پھیل چکی تھی اور فرعون کو یہ اندیشہ ہو گیا تھا کہ اس سے ملک کے باشندے متاثر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ اس لیے اس نے چاہا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ جمع ہوں اور خود دیکھ لیں کہ لاٹھی کا سانپ بن جانا کوئی بڑی بات نہیں ہے ، ہمارے ملک کا ہر جادوگر یہ کمال دکھا سکتا ہے۔
لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ اِنْ كَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِیْنَ
شاید کہ ہم جادُوگروں کے دین ہی پر رہ جائیں اگر وہ غالب رہے۔“33
یہ فقرہ اس خیال کی تصدیق کرتا ہے کہ جن حاضرین دربار نے حضرت موسیٰ کا معجزہ دیکھا تھا اور باہر جن لوگوں تک اس کی معتبر خبریں پہنچی تھیں ان کے عقیدے اپنے دین آبائی پر سے متزلزل ہوئے جا رہے تھے ، اور اب ان کے دین کا دارو مدار بس اس پر رہ گیا تھا کہ کسی طرح جادو گر بھی وہ کام کر دکھائیں جو موسیٰ علیہ السلام نے کی ہے۔ فرعون اور اس کے احیان سلطنت اسے خود ایک فیصلہ کن مقابلہ سمجھ رہے تھے۔ ان کے اپنے بھیجے ہوئے آدمی عوام الناس کے ذہن میں یہ بات بٹھاتے پھرتے تھے کہ اگر جادو گر کامیاب ہو گئے تو ہم موسیٰ کے دین میں جانے سے بچ جائیں گے ورنہ ہمارے دین و ایمان کی خیر نہیں ہے۔
فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالُوْا لِفِرْعَوْنَ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ
جب جادُو گر میدان میں آئے تو انہوں نے فرعون سے کہا”ہمیں انعام تو ملے گا اگر ہم غالب رہے؟“34
یہ تھے وہ حامیان دین مشرکین جو موسیٰ علیہ السلام کے حملے سے اپنے دین کو بچانے کے لیے اس فیصلہ کن مقابلے کے وقت ان پاکیزہ جذبات کے ساتھ آئے تھے کہ ہم نے پالا مار لیا تو سرکار سے کچھ انعام مل جائے گا۔
قَالَ نَعَمْ وَاِنَّكُمْ اِذًا لَّمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ
اس نے کہا”ہاں، اور تم تو اس وقت مقربّین میں شامل ہو جاوٴ گے۔“35
اور یہ تھا وہ بڑے سے بڑا اجر جو ان خادمان دین و ملت کو بادشاہ وقت کے ہاں سے مل سکتا تھا۔ یعنی روپیہ پیسہ ہی نہیں ملے گا، دربار میں کرسی بھی نصیب ہو جائے گی۔ اس طرح فرعون اور اس کے ساحروں نے پہلے ہی مرحلے پر نبی اور جادو گر کا عظیم اخلاقی فرق خود کھول کر رکھ دیا۔ ایک طرف وہ حوصلہ تھا کہ بنی اسرائیل جیسی پی ہوئی قوم کا ایک فرد دس سال تک قتل کے الزام میں رو پوش رہنے کے بعد فرعون کے دربار میں درّانہ آ کھڑا ہوتا ہے اور دھڑلّے کے ساتھ کہتا ہے کہ میں اللہ رب العالمین کا بھیجا ہوا ہوں ، بنی اسرائیل کو میرے حوالے کر۔ فرعون سے دو بدو بحث کرنے میں ادنیٰ سی جھجک بھی محسوس نہیں کرتا۔ اس کی دھمکیوں کو وہ پر کاہ کے برابر بھی وقعت نہیں دیتا۔ دوسری طرف یہ کم حوصلگی ہے کہ اسی فرعون کے ہاں باپ دادا کے دین کو بچانے کی خدمت پر بلائے جا رہے ہیں ، پھر بھی ہاتھ جوڑ کر کہتے ہیں کہ سرکار، کچھ انعام تو مل جائے گا نا؟ اور جواب میں یہ سن کر پھولے نہیں سماتے کہ پیسہ بھی ملے گا اور قرب شاہی سے بھی سرفراز کیے جائیں گے۔ یہ دو مقابل کے کردار آپ سے آپ ظاہر کر رہے تھے کہ نبی کس شان کا انسان ہوتا ہے اور اس کے مقابلے میں جادوگروں کی کیا ہستی ہوتی ہے۔ جب تک کوئی شخص بے حیائی کی ساری حدوں کو نہ پھاند جائے ، وہ نبی کو جادو گر کہنے کی جسارت نہیں کر سکتا۔
قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤی اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ
موسیٰؑ نے کہا "پھینکو جو تمہیں پھینکنا ہے"
فَاَلْقَوْا حِبَالَهُمْ وَعِصِیَّهُمْ وَقَالُوْا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ اِنَّا لَنَحْنُ الْغٰلِبُوْنَ
انہوں نے فوراً اپنی رسّیاں اور لاٹھیاں پھینک دیں اور بولے”فرعون کے اقبال سے ہم ہی غالب رہیں گے۔“36
یہاں یہ ذکر چھوڑ دیا ہے کہ حضرت موسیٰ کی زبان سے یہ فقرہ سنتے ہیں جب جادو گروں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں تو یکایک وہ بہت سے سانپوں کی شکل میں حضرت موسیٰ کی طرف لپکتی نظر آئیں۔ اس کی تفصیل قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر بیان ہو چکی ہے۔ سورہ اعراف میں ہے : فَلَمَّآ اَلْقَوْ ا سَحَرُوْ ا اَعْیُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْھَبُوْھُمْ وَجَآ ءُ وْ ا بِسِحْرٍ عَظِیْمٍ، ’’ جب انہوں نے اپنے اَنچھرے پھینکے تو لوگوں کی آنکھوں کو مسحور کر دیا، سب کو دہشت زدہ کر کے رکھ دیا،اور بڑا بھاری جادو بنا لائے ‘‘۔ سورہ طٰہٰ میں اس وقت کا نقشہ یہ کھینچا گیا ہے کہ :فَاِذا حِبَا لُھُمْ وَعِصِیُّھُمْ یُخَیَّلُ اِلَیْہِ مِنْ سِحْرِھِمْ اَنَّھَا تَسْعیٰ ہ فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِہٖ خِیْفَۃً مُّوْ سیٰ O ’’یکایک ان کے سحر سے حضرت موسیٰ کو یوں محسوس ہوا کہ ان کی رسیاں اور لاٹھیاں دوڑی چلی آ رہی ہیں ، اس سے موسیٰؑ اپنے دل میں ڈر سے گئے ‘‘۔
فَاَلْقٰی مُوْسٰی عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَ
پھر موسیٰؑ نے اپنا عصا پھینکا تو یکایک وہ ان کے جھوٹے کرشموں کو ہڑپ کرتا چلا جا رہا تھا
فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَ
اس پر سارے جادوگر بے اختیار سجدے میں گر پڑے
قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ
اور بول اٹھے کہ "مان گئے ہم رب العالمین کو
رَبِّ مُوْسٰی وَهٰرُوْنَ
موسیٰؑ اور ہارونؑ کے ربّ کو۔“37
یہ حضرت موسیٰ کے مقابلے میں اکی طرف سے محض شکست کا اعتراف نہیں تھا کہ کوئی شخص یہ کہہ کر پیچھا چھڑا لیتا کہ ایک بڑے جادوگر نے چھوٹے جادو گروں کو نیچا دکھا دیا، بلکہ ان کا سجدے میں گر کر اللہ رب العالمین پر ایمان لے آنا گویا بر سر عام ہزارہا باشندگان مصر کے سامنے اس بات کا اور اعلان تھا کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں یہ ہمارے فن کی چیز ہی نہیں ہے ، یہ کام تو صرف اللہ رب العالمین ہی کی قدرت سے ہو سکتا ہے۔
قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ فَلَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ؕ۬ لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَ
یہاں چونکہ سلسلہ کلام کی مناسبت سے صرف یہ دکھانا ہے ہ ایک ضدی اور ہٹ دھرم آدمی کس طرح ایک صریح معجزہ دیکھ کر، اور اس کے معجزہ ہونے پر خود جادو گروں کی شہادت سن کر بھی اسے جادو کہے جاتا ہے ،اس لیے فرعون کا صرف اتنا ہی فقرہ نقل کر نے پر اکتفا کیا گیا ہے ، لیکن سورہ اعراف میں تفصیل کے ساتھ یہ بتایا گیا ہے کہ فرعون نے بازی ہارتی دیکھ کر فوراً ہی ایک سیاسی سازش کا افسانہ گھڑ لیا۔ اس نے کہا :اِنَّ ھٰذَا لَمَکْرٌ مَّکَرْ تُمُوْہُ فِی الْمَدِیْنَۃِ لِتُخْرِ جُوْ ا مِنْھَآ اَھْلَھَا ’’ یہ ایک سازش ہے جو تم لوگوں نے مل کر اس دارالسلطنت میں تیار کی ہے تا کہ اس کے مالکوں کو اقتدار سے بے دخل کر دو‘‘۔ اس طرح فرعون نے عام الناس کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ جادو گروں کا یہ ایمان معجزے کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ محض ملی بھگت ہے ، یہاں آنے سے پہلے ان کے اور موسیٰ کے درمیان معاملہ طے ہو گیا تھا کہ یوں ہو موسیٰ کے مقابلے میں آ کر شکست کھائیں گے ، اور نتیجے میں جو سیاسی انقلاب ہو گا اس کے مزے وہ اور یہ مل کر لوٹیں گے۔
یہ خوفناک دھمکی فرعون نے اپنے اس نظریے کو کامیاب کرنے کے لیے دی تھی کہ جادو گر در اصل موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ سازش کر کے آئے ہیں۔ اس کے پیش نظر یہ تھا کہ اس طرح یہ لوگ جان بچانے کے لیے سازش کا اعتراف کر لیں گے اور وہ ڈرامائی اثر کافور ہو جائے گا جو شکست کھاتے ہی ان کے سجدے میں گر کر ایمان لے آنے سے ان ہزارہا ناظرین پر مترتب ہوا تھا جو خود اس کی دعوت پر یہ فیصلہ کن مقابلہ دیکھنے کے لیے جمع ہوئے تھے اور جنہیں خود اس کے بھیجے ہوئے لوگوں نے یہ خیال دلایا تھا کہ مصری قوم کا دین و ایمان بس ان جادو گروں کے سہارے لٹک رہا ہے ، یہ کامیاب ہوں تو قوم اپنے دین آبائی پر قائم رہ سکے گی ورنہ موسیٰ کی دعوت کا سیلاب اسے اور اس کے ساتھ فرعون کی سلطنت کو بھی بہا لے جائے گا۔
قَالُوْا لَا ضَیْرَ ؗ اِنَّاۤ اِلٰی رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَ
انہوں نے جواب دیا "کچھ پرواہ نہیں، ہم اپنے رب کے حضور پہنچ جائیں گے
اِنَّا نَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰیٰنَاۤ اَنْ كُنَّاۤ اَوَّلَ الْمُؤْمِنِیْنَ ؕ
اور ہمیں توقع ہے کہ ہمارا ربّ ہمارے گناہ معاف کر دے گا کیونکہ سب سے پہلے ہم ایمان لائے ہیں۔“40
یعنی ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا تو بہر حال ایک نہ ایک دن ضرور ہے۔ اب اگر تو قتل کر دے گا تو اس سے زیادہ کچھ نہ ہو گا کہ وہ دن جو کبھی آنا تھا، آج آ جائے گا۔ اس صورت میں ڈرنے کا کیا سوال؟ ہمیں تو الٹی مغفرت اور خطا بخشی کی امید ہے کیونکہ آج اس جگہ حقیقت کھلتے ہی ہم نے مان لینے میں ایک لمحے کی تاخیر بھی نہ کی اور اس پورے مجمع میں سب سے پہلے پیش قدمی کر کے ہم ایمان لے آئے۔ جادو گروں کے اس جواب نے دو باتیں تمام اس خلقت کے سامنے واضح کر دیں جسے فرعون نے ڈھنڈورے پیٹ پیٹ کر جمع کیا تھا۔ اول یہ کہ فرعون نہایت جھوٹا، ہٹ دھرم اور مکار ہے۔ جو مقابلہ اس نے خود فیصلے کے لیے کرایا تھا اس میں موسیٰ علیہ السلام کی کھلی کھلی فتح کو سیدھی طرح مان لینے کے بجائے اور اس نے فوراً ایک جھوئی سازش کا افسانہ گھڑ لیا اور قتل و تعصیب کی دھمکی دے کر زبر دستی اس کا اقرار کرانے کی کوشش کی۔ اس افسانے میں ذرہ برابر بھی کوئی صداقت ہوتی تو ممکن نہ تھا کہ جادو گر ہاتھ پاؤں کٹوانے اور سولی پر چڑھ جانے کے لیے یوں تیار ہو جاتے۔ ایسی کسی سازش سے اگر کوئی سلطنت مل جانے کا لالچ تھا تو اب اس کے لیے کوئی گنجائش باقی نہیں رہی، کیونکہ سلطنت کے مزے تو جو لوٹے گا سو لوٹے گا، ان غریبوں کے حصے میں تو صف کٹ کٹ کر جان دینا ہی رہ گیا ہے۔ اس ہولناک خطرے کو انگیز کر کے بھی ان جادو گروں کا اپنے ایمان پا قائم رہنا اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ سازش کا الزام سراسر جھوٹا ہے اور سچی بات یہی ہے کہ جادو گر اپنے فن میں ماہر ہونے کی وجہ سے ٹھیک ٹھیک جان گئے ہیں کہ جو کچھ موسیٰ علیہ السلام نے دکھایا ہے وہ ہر گز جادو نہیں ہے بلکہ واقعی اللہ رب العالمین ہی کی قدرت کا کرشمہ ہے۔ دوسری بات جو اس وقت ملک کے گوشے گوشے سے مٹ کر آئے ہوئے ہزارہا آدمیوں کے سامنے کھل کر آ گئی وہ یہ تھی کہ اللہ رب العالمین پر یمان لاتے ہی ان جادوگروں میں کیسا زبردست اخلاقی انقلاب واقع ہو گیا۔ کہاں تو ان کی پستی ذہن و فکر کا یہ حال تھا کہ دین آبائی کی نصرت کے لیے آئے تھے اور فرعون کے آگے ہاتھ جوڑ جوڑ کر انعام مانگ رہے تھے ، اور کہاں اب آن کی آن میں ان کی بلندی ہمت و عزم اس درجے کو پہنچ گئی کہ وہی فرعون ان کی نگاہ میں ہیچ ہو گیا، اس کی بادشاہی کی ساری طاقت کو انہوں نے ٹھوکر مار دی اور اپنے ایمان کی خاطر وہ موت اور بد ترین جسمانی تعذیب تک برداشت کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ اس سے بڑھ کر مصریوں کے دین شرک کی تذلیل اور موسیٰ علیہ السلام کے لائے ہوئے دین حق کی مؤثر تبلیغ اس نازک نفسیاتی موقع پر شاید ہی کوئی اور ہو سکتی تھی۔
وَاَوْحَیْنَاۤ اِلٰی مُوْسٰۤی اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْۤ اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَ
p اوپر کے واقعات کے بعد ہجرت کا ذکر شروع ہو جانے سے کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ اس کے بعد بس فوراً ہی حضرت موسیٰ کو بنی اسرائیل سمیت مصر سے نکل جانے کے احکام دے دیے گئے۔ در اصل یہاں کئی سال کی تاریخ بیچ میں چھوڑ دی گئی ہے جسے سورہ عراف رکوع 15۔16، اور سورہ یونس رکوع 9 میں بیان کیا جا چکا ہے ، اور جس کا ایک حصہ آگے سورہ مومن رکوع 2۔ 5 اور الزُّخرف رکوع 5 میں آ رہا ہے۔ یہاں چونکہ سلسلہ کلام کی مناسبت سے صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ جس فرعون نے صریح نشانیاں دیکھ لینے کے باوجود یہ ہٹ دھرمی دکھائی تھی اس کا انجام آخر کار کیا ہوا۔ اور جس دعوت کی پشت پر اللہ تعالیٰ کی طاقت تھی وہ کس طرح کامیابی سے ہمکنار ہوئی، اس لیے فرعون اور حضرت موسیٰ کی کشمکش کے ابتدائی مرحلے کا ذکر کرنے کے بعد اب قصہ مختصر کر کے اس کا آکری منظر دکھایا جا رہا ہے۔/p
p واضح رہے کہ بنی اسرائیل کی آبادی مصر میں کسی ایک جسہ مجتمع نہ تھی بلکہ ملک کے تمام شہروں اور بستیوں میں بٹی ہوئی تھی اور خصوصیت کے ساتھ منف (Memphis) سے رَعْمَسِیْس تک اس علاقے میں ان کی بڑی تعداد آباد تھی جسے جُشن کے نام سے موسوم کیا جاتا تھا (ملاحظہ ہو ’’نقشہ خروج بنی اسرائیل‘‘، تفہیم القرآن جلد دوم، صفحہ 76)۔ لہٰذا حضرت موسیٰ کو جب حکم دیا گیا ہو گا کہ اب تمہیں بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے نکل جانا ہے تو انہوں نے بنی اسرائیل کی تمام بستیوں میں ہدایات بھیج دی ہوں گی کہ سب لوگ اپنی اپنی جگہ ہجرت کے لیے تیار ہو جائیں ، اور ایک خاص رات مقرر کر دی ہو گی کہ اس رات ہر بستی کے مہاجرین نکل کھڑے ہوں۔ یہ ارشاد کہ ’’ تمہارا پیچھا کیا جائے گا‘‘ اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ہجرت کے لیے رات کو نکلنے کی ہدایت کیوں کی گئی تھی۔ یعنی قبل اس کے کہ فرعون لشکر لے کر تمہارے تعاقب میں نکلے تم راتوں رات اپنا راستہ اس حد تک طے کر لو کہ اس سے بہت آگے نکل چکے ہو۔/p
فَاَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِی الْمَدَآىِٕنِ حٰشِرِیْنَ
اس پر فرعون نے (فوجیں جمع کرنے کے لیے) شہروں میں نقیب بھیج دیے
اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرْذِمَةٌ قَلِیْلُوْنَ
(اور کہلا بھیجا) کہ "یہ کچھ مٹھی بھر لوگ ہیں
وَاِنَّهُمْ لَنَا لَغَآىِٕظُوْنَ
اور انہوں نے ہم کو بہت ناراض کیا ہے
وَاِنَّا لَجَمِیْعٌ حٰذِرُوْنَ ؕ
اور ہم ایک ایسی جماعت ہیں جس کا شیوہ ہر وقت چوکنّا رہنا ہے۔“43
یہ باتیں فرعون کی اس چھپی ہوئی خوف زدگی کو ظاہر کرتی ہیں جس پر وہ بے خوفی کا نمائشی پردہ ڈل رہا تھا۔ ایک طرف وہ جگہ جگہ سے فوجیں بھی فوری امداد کے لیے بلا رہا تھا جو اس بات کی کھلی علامت تھی کہ اسے بنی اسرائیل سے خطرہ محسوس ہو رہا ہے۔ دوسری طرف وہ اس بات کی چھپانا بھی چاہتا تھا کہ مدت ہائے دراز کی دبی اور پسی ہوئی قوم، جو انتہائی ذلت کی غلامی میں زندگی بسر کر رہی تھی، اس سے فرعون جیسا قاہر فرماں روا کوئی خطرہ محسوس کر رہا ہے حتّیٰ کہ اسے فوری امداد کے لیے فوجیں طلب کرنے کی ضرورت پیش آ گئی ہے۔ اس لیے وہ اپنا پیغام اس انداز میں بھجتا ہے کہ یہ بنی اسرائل بیچارے چیز ہی کیا ہیں ، کچھ مٹھی بھر لوگ ہیں جو ہمارا بال بھی بیکا نہیں کر سکتے ، لیکن انہوں نے ایسی حرکتیں کی ہیں کہ ہمیں ان پر غصہ آ گیا ہے اس لیے ہم انہیں سزا دینا چاہتے ہیں ، اور فوجیں ہم کسی خوف کی وجہ سے جمع نہیں کر رہے ہیں بلکہ یہ صرف ایک احتیاطی کار روائی ہے ، ہماری دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ کوئی بعید سے بعید بھی امکانی خطرہ ہو تو ہم بر وقت اس کی سر کوبی کرنے کے لیے تیار رہیں۔
فَاَخْرَجْنٰهُمْ مِّنْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ
اِس طرح ہم انہیں ان کے باغوں اور چشموں
وَّكُنُوْزٍ وَّمَقَامٍ كَرِیْمٍ
اور خزانوں اور ان کی بہترین قیام گاہوں سے نکال لائے۔44
یعنی فرعون نے تو یہ کام اپنے نزدیک بڑی عقلمندی کا کیا تھا کہ دور دور سے فوجیں طلب کر کے بنی اسرائیل کو دنیا سے مٹا دیتے کا سامان کیا، لیکن خدائی تدبیر نے اس کی چال اس پر یوں الٹ دی کہ دولت فرعونیہ کے بڑے بڑے ستون اپنی اپنی جگہ چھوڑ کر اس جگہ جا پہنچے جہاں انہیں اور ان کے سارے لاؤ لشکر کو ایک ساتھ غرق ہونا تھا۔ اگر وہ بنی اسرائیل کا پیچھا نہ کر تے تو نتیجہ صرف اتنا ہی ہوتا کہ ایک قوم ملک چھوڑ کر نکل جاتی۔ اس سے بڑھ کر ان کا کوئی نقصان نہ ہوتا اور وہ حسب سابق اپنے عیش کدوں میں بیٹھے زندگی کے مزے لوٹتے رہتے۔ لیکن انہوں نے کمال درجہ کی ہوشیاری دکھانے کے لیے یہ فیصلہ کیا کہ بنی اسرائیل کو بخیریت نہ گزر جانے دیں بلکہ ان کے مہاجر قافلوں پر یک بارگی حملہ کر کے ہمیشہ کے لیے ان کا قلع قمع کر دیں۔ اس غرض کے لیے ان کے شہزادے اور بڑے بڑے سردار اور اعیان سلطنت خود بادشاہ ذی جاہ سمیت اپنے محلوں سے نکل آئے ، اور اسی دانائی نے یہ دوہرا نتیجہ دکھایا کہ بنی اسرائیل مصر سے نکل بھی گئے اور مصر کی ظالم فرعونی سلطنت کا مکھن نذر دریا بھی ہو گیا۔
كَذٰلِكَ ؕ وَاَوْرَثْنٰهَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ ؕ
یہ تو ہوا اُن کے ساتھ، اور (دُوسری طرف)بنی اسرائیل کو ہم نے ان سب چیزوں کا وارث کر دیا۔45
بعض مفسرین نے اس آیت کا یہ مطلب لیا ہے کہ جن باغوں ، چشموں ، خزانوں اور بہترین قیام گاہوں سے یہ ظالم لوگ نکلے تھے ان ہی کا وارث اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو کر دیا۔ یہ مطلب اگر لیا جائے تو اس کے معنی لازماً یہ ہونے چاہییں کہ فرعون کے غرق ہو جانے پر بنی اسرائیل پھر مصر واپس پہنچ گئے ہوں اور آل فرعون کی دولت و حشمت ان کے قبضے میں آ گئی ہو۔ لیکن یہ چیز تاریخ سے بھی ثابت نہیں ہے اور خود قرآن مجید کی دوسری تصریحات سے بھی اس آیت کا یہ مفہوم مطابقت نہیں رکھتا۔ سورہ بقرہ، سورہ مائدہ، سورہ اعراف اور سورہ طٰہٰ میں جو حالات بیان کیے گئے ہیں ان سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ فرعون کی غرقابی کے بعد بنی اسرائیل مصر کی طرف پلٹنے کے بجائے اپنی منزل مقصود (فلسطین) ہی کی طرف آگے روانہ ہو گئے اور پھر حضرت داؤد کے زمانے (1013، 973 ق م ) تک ان کی تاریخ میں جو واقعات بھی پیش آئے وہ سب اس علاقے میں پیش آئے جو آج جزیرہ نمائے سینا، شمالی عرب، شرق اُردُن اور فلسطین کے ناموں سے موسوم ہے۔ اس لیے ہمارے نزدیک آیت کا صحیح مفہوم یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وہی باغ اور چشمے اور خزانے اور محلات بنی اسرائیل کو بخش دیے جن سے فرعون اور اس کی قوم کے سردار اور امراء نکالے گئے تھے ، بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک طرف آل فرعون کو ان نعمتوں سے محروم کیا اور دوسری طرف بنی اسرائیل کو یہی نعمتیں عطا فرما دیں ، یعنی وہ فلسطین کی سر زمین میں باغوں ، چشموں ، خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں کے مالک ہوئے۔ اسی مفہوم کی تائید سورہ اعراف کی یہ آیت کرتی ہے : فَانْتَقَمْنَا مِنْہُمْ فَاَغْرَقْنٰھُمْ فِی الْیَمِّ بِاَنَّہُمْ کَذَّ بُوْ ا بِایٰٰتِنَا وَکَانُوْ ا عَنْھَا غٰفِلِیْنَ ہ وَاَ وْرَثْنَا الْقَوْمَ ا لَّذِیْنَ کَا نُوْ ا یَسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَھَا الَّتِیْ بٰرَکْنَا فِیْھَا، (آیات 136۔ 137)۔ ’’ تب ہم نے ان سے انتقام لیا اور انہیں سمندر میں غرق کر دیا کیونکہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تھا اور ان سے بے پروا ہو گئے تھے۔ اور ان کے بجائے ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور بنا کر رکھے گئے تھے اس ملک کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا جسے ہم نے برکتوں سے مالا مال کیا تھا‘‘۔ یہ برکتوں سے مالا مال سر زمین کا استعارہ قرآن مجید میں عموماً فلسطین ہی کے لیے استعمال ہوا ہے اور کسی علاقے کا نام لیے بغیر جب اس کی یہ صفت بیان کی جاتی ہے تو اس سے یہی علاقہ مراد ہوتا ہے۔ مثلاً سورہ بنی اسرائیل میں فرمایا اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَی الَّذِیْ بَارَکْنَا حَوْلَہٗ۔ اور سورہ انبیاء میں ارشاد ہوا : وَنَجَّیْنٰہُ وَلُوْطاً اِلَی الْاَرْضِ الَّتِیْ بَارَکْنَا فِیْھَا لِلْعٰلَمِیْنَ ہ اور وَلِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ عَصِفَۃً تَجْرِیْ بِاَمْرِہٖ اِلَی الْاَ رْضِ الَّتِیْ بٰرَ کْنَا فِیْھَا۔ اسی طرح سورہ سبا میں بھی اَرلْقُرَی الَّتِیْ بٰرَکْنَا فِیْھَا کے الفاظ سرزمین شام و فلسطین ہی کی بستیوں کے متعلق استعمال ہوئے ہیں۔
فَاَتْبَعُوْهُمْ مُّشْرِقِیْنَ
صبح ہوتے ہی یہ لوگ اُن کے تعاقب میں چل پڑے
فَلَمَّا تَرَآءَ الْجَمْعٰنِ قَالَ اَصْحٰبُ مُوْسٰۤی اِنَّا لَمُدْرَكُوْنَ
جب دونوں گروہوں کا آمنا سامنا ہوا تو موسیٰؑ کے ساتھی چیخ اٹھے کہ "ہم تو پکڑے گئے"
قَالَ كَلَّا اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ
موسیٰؑ نے کہا”ہر گز نہیں۔ میرے ساتھ میرا ربّ ہے۔ وہ ضرور میری رہنمائی فرمائے گا۔“46
یعنی مجھے اس آفت سے بچنے کی راہ بتائے گا۔
فَاَوْحَیْنَاۤ اِلٰی مُوْسٰۤی اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ ؕ فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِ
ہم نے موسیٰؑ کو وحی کے ذریعہ سے حکم دیا کہ”ماراپنا عصا سمندر پر۔“ یکایک سمندر پھٹ گیا اور اس کا ہر ٹکڑا ایک عظیم الشان پہاڑ کی طرح ہو گیا۔47
اصل الفاظ ہیں کَا لطَّوْدِ الْعَظِیْمِ۔ طود عربی زبان میں کہتے ہی برے پہاڑ کو ہیں۔ لسان العرب میں ہے الطود، الجبل العظیم۔ اس کے لیے پھر عظیم کی صفت لانے کے معنی یہ ہوئے کہ پانی دونوں طرف بہت اونچے پہاڑوں کی طرح کھڑا ہو گیا تھا۔ پھر جب ہم اس بات پر غور کرتے ہیں کہ سمندر حضرت موسیٰ کے عصا مارنے سے پھٹا تھا، اور یہ کام ایک طرف بنی اسرائیل کے پورے قافلے کو گزارنے کے لیے کیا گیا تھا اور دوسری طرف اس سے مقصود فرعون کے لشکر کو غرق کرنا تھا، تو اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ عصا کی ضرب لگنے پر پانی نہایت بلند پہاڑوں کی شکل میں کھڑا ہو گیا اور اتنی دیر تک کھڑا رہا کہ ہزاروں لاکھوں بنی اسرائیل کا مہاجر قافلہ اس میں سے گزر بھی گیا اور پھر فرعون کا پورا لشکر ان کے درمیان پہنچ بھی گیا۔ ظاہر ہے کہ عام قانون فطرت کے تحت جو طوفانی ہوائیں چلتی ہیں وہ خواہ کیسی ہی تند و تیز ہوں ، ان کے اثر سے کبھی سمندر کا پانی اس طرح عالی شان پہاڑوں کی طرح اتنی دیر تک کھڑا نہیں رہا کرتا۔ اس پر مزید سورہ طٰہٰ کا یہ بیان ہے کہ : فَا ضْرِبْ لَہُمْ طَرِیْقاً فِی الْبَحْرِ یَبَساً، ’’ ان کے لیے سمندر میں سوکھا راستہ بنا دے ‘‘۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ سمندر پر عصا مارنے سے صرف اتنا ہی نہیں ہوا کہ سمندر کا پانی ہٹ کر دونوں طرف پہاروں کی طرح کھڑا ہو گیا، بلکہ بیچ میں جو راستہ نکلا وہ خشک بھی ہو گیا، کوئی کیچڑ ایسی نہ رہی جو چلنے میں مانع ہوتی۔ اس کے ساتھ سورہ دُخان آیت 24 کے یہ الفاظ بھی قابل غور ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو ہدایت فرمائی کہ سمندر پار کر لینے کے بعد ’’ اس کو اسی حال پر رہنے دے ، لشکر فرعون یہاں غرق ہونے والا ہے ‘‘۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ اگر دوسرے ساحل پر پہنچ کر سمندر پر عصا مار دیتے تو دونوں طرف کھڑا ہوا پانی پھر مل جاتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا تا کہ لشکر فرعون اس راستے میں اتر آئے اور پھر پانی دونوں طرف سے آ کر اسے غرق کر دے۔ یہ صریحاً ایک معجزے کا بیان ہے اور اس سے ان لوگوں کے خیال کی غلطی بالکل واضح ہو جاتی ہے جو اس واقعے کی تعبیر عام قوانین فطرت کے تحت کرنے کی کوشش کرتے ہیں (مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، طٰہٰ، حاشیہ 53 )۔
وَاَزْلَفْنَا ثَمَّ الْاٰخَرِیْنَ
اُسی جگہ ہم دُوسرے گروہ کو بھی قریب لے آئے۔48
یعنی فرعون اور اس کے لشکر کو۔
وَاَنْجَیْنَا مُوْسٰی وَمَنْ مَّعَهٗۤ اَجْمَعِیْنَ
موسیٰؑ اور اُن سب لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، ہم نے بچا لیا
ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَ ؕ
اور دوسروں کو غرق کر دیا
اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً ؕ وَمَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ
اس واقعہ میں ایک نشانی ہے49 ،مگر اِن لوگوں میں سے اکثر ماننے والے نہیں ہیں
یعنی قریش کے لیے اس میں یہ سبق ہے کہ ہٹ دھرم لوگ کھلے کھلے معجزات دیکھ کر بھی کس طرح ایمان لانے سے انکار ہی کیے جاتے ہیں اور پھر اس ہٹ دھرمی کا انجام کیسا درد ناک ہوتا ہے۔ فرعون اور اس کی قوم کے تمام سرداروں اور ہزارہا لشکر یوں کی آنکھوں پر ایسی پٹی بندھی ہوئی تھی کہ سالہا سال تک جو نشانیاں ان کو دکھائی جاتی رہیں ان کو تو وہ نظر انداز کرتے ہی رہے تھے ، آخر میں عین غرق ہونے کے وقت بھی ان کو یہ نہ سوجھا کہ سمندر اس قافلے کے لیے پھٹ گیا ہے ، پانی پہاڑوں کی طرح دونوں طرف کھڑا ہے اور بیچ میں سوکھی سڑک سی بنی ہوئی ہے۔ یہ صریح علامتیں دیکھ کر بھی ان کو عقل نہ آئی کہ موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ خدائی طاقت کام کر رہی ہے اور وہ اس طاقت سے لڑنے جا رہے ہیں۔ ہوش ان کو آیا بھی تو اس وقت جب پانی نے دونوں طرف سے ان کو دبوچ لیا تھا اور وہ خدا کے غضب میں گھر چکے تھے۔ اس وقت فرعون چیخ اٹھا کہ : اٰمَنْتُ اَنَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّا الَّذِیْٓ اٰمَنَتْ بِہٖ بَنُوْٓ اِسْرَآءِیْلَ وَ اَنَا مِنَالْمُسْلِمِیْنَ O (یونس۔ آیت 90)۔ دوسری طرف اہل ایمان کے لیے بھی اس میں یہ نشانی ہے کہ ظلم اور اس کی طاقتیں خواہ بظاہر کیسی ہی چھائی ہوئی نظر آتی ہوں ، آخر کار اللہ تعالیٰ کی مدد سے حق کا یوں بول بالا ہوتا ہے اور باطل اس طرح سرنگوں ہو کر رہتا ہے۔
وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ
اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی
وَاتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ اِبْرٰهِیْمَ
اور اِنہیں ابراہیمؑ کا قصہ سُناوٴ50
یہاں حضرت ابراہیمؑ کی حیات طیبہ کے اس دور کا قصہ بیان ہوا ہے جب کہ نبوت سے سرفراز ہونے کے بعد شرک و توحید کے مسئلے پر آپ کی اپنے خاندان اور اپنی قوم سے کشمکش شروع ہوئی تھی۔ اس دور کی تاریخ کے مختلف گوشے قرآن مجید میں حسب ذیل مقامات پر بیان ہوئے ہیں : البقرہ رکوع 35۔ الانعام رکوع 9۔ مریم رکوع 3۔ الانبیاء رکوع 5۔ الصّٰفّٰت رکوع 3۔ الممتحنہ رکوع 1 )۔ سیرت ابراہیمی کے اس دور کی تاریخ خاص طور پر جس وجہ سے قرآن مجید بار بار سامنے لاتا ہے وہ یہ ہے کہ عرب کے لوگ بالعموم اور قریش بالخصوص اپنے آپ کو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا پیرو سمجھتے اور کہتے تھے اور یہ دعویٰ رکھتے تھے کہ ملت ابراہیمی ہی ان کا مذہب ہے۔ مشرکین عرب کے علاوہ نصاریٰ اور یہود کا بھی یہ دعویٰ تھا کہ حضرت ابراہیمؑ ان کے دین کے پیشوا ہیں۔ اس پر قرآن مجید جگہ جگہ ان لوگوں کو متنبہ کرتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام جو دین لے کر آئے تھے وہ یہی خالص اسلام تھا جسے نبی عربی محمد صلی اللہ علیہ و سلم لائے ہیں اور جس سے آج تم لوگ بر سر پیکار ہو۔ وہ مشرک نہ تھے بلکہ ان کی ساری لڑائی شرک ہی کے خلاف تھی اور اسی لڑائی کی بدولت انہیں اپنے باپ، خاندان، قوم، وطن سب کو چھوڑ کر شام و فلسطین اور حجاز میں غریب الوطنی کی زندگی بسر کرنی پڑی تھی۔ اسی طرح وہ یہودی و نصرانی بھی نہ تھے بلکہ یہودیت و نصرانیت تو ان کے صدیوں بعد وجود میں آئیں۔ اس تاریخی استدلال کا کوئی جواب نہ مشرکین کے پاس تھا نہ یہود و نصاریٰ کے پاس، کیونکہ مشرکین کو بھی یہ تسلیم تھا کہ عرب میں بتوں کی پرستش حضرت ابراہیمؑ کے کئی صدی بعد شروع ہوئی تھی، اور یہود و نصاریٰ بھی اس سے انکار نہ کر سکتے تھے کہ حضرت ابراہیمؑ کا زمانہ یہودیت اور عیسائیت کی پیدائش سے بہت پہلے تھا۔ اس سے خود بخود یہ نتیجہ نکلتا تھا کہ جن مخصوص عقائد اور اعمال پر یہ لوگ اپنے دین کا مدار رکھتے ہیں وہ اس دین قدیم کے اجزاء نہیں ہیں جو ابتدا سے چلا آ رہا تھا، اور صحیح دین وہی ہے جو ان آمیزشوں سے پاک ہو کر خالص خدا پرستی پر مبنی ہو۔ اسی بنیاد پر قرآن کہتا ہے : مَا کَانَاِبْرَاھِیْمُ یَھُوْدِیاً وَّ لَا نَصْرَا نِیاً وَّلٰکِنْ کَانَ حَنِیْفاً مُّسْلِماً وَّ مَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ہ اِنَّ اَوْلَی النَّاسِ بِاِبْرٰھِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ وَھٰذَ ا النَّبِیُّ وَا لَّذِیْنَ اٰمِنُوْ ا مَعَہٗ۔ (آل عمران۔ آیات 67۔ 68 )۔ ابراہیم نہ یہودی تھا نہ عیسائی بلکہ وہ تو ایک مسلم یکسو تھا۔ اور وہ مشرکوں میں سے بھی نہ تھا۔ در حقیقت ابراہیمؑ سے نسبت رکھنے کا سب سے زیادہ حق ان ہی لوگوں کو پہنچتا ہے جنہوں نے اس کے طریقے کی پیروی کی (اور اب یہ حق) اس نبی اور اس کے ساتھ ایمان لانے والوں کو (پہنچتا ہے )۔
اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَقَوْمِهٖ مَا تَعْبُدُوْنَ
جبکہ اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پُوچھا تھا کہ”یہ کیا چیزیں ہیں جن کو تم پُوجتے ہو؟“51
حضرت ابراہیمؑ کے اس سوال کا مدعا یہ معلوم کرنا نہ تھا کہ وہ کن چیزوں کی عبادت کرتے ہیں ، کیونکہ ان بتوں کو تو وہ خود بھی دیکھ رہے تھے جن کی پرستش وہاں ہوتی تھی۔ ان کا مدعا دراصل ان لوگوں کو اس طرف متوجہ کرنا تھا کہ ان معبودوں کی حقیقت کی ہے جن کے آگے وہ سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ اسی سوال کو سورہ انبیاء میں بایں الفاظ نقل کیا گیا ہے۔ ’’یہ کیسی مورتیں ہیں جن کے تم گرویدہ ہو رہے ہو‘‘؟
قَالُوْا نَعْبُدُ اَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِیْنَ
انہوں نے جواب دیا”کچھ بُت ہیں جن کی ہم پُوجا کرتے ہیں اور انہی کی سیوا میں ہم لگے رہتے ہیں۔“52
یہ جواب بھی محض یہ خبر دینے کے لیے نہ تھا کہ ہم بتوں کی پوجا کرتے ہیں ، کیونکہ سائل و مسئول دونوں کے سامنے یہ امر واقعہ عیاں تھا۔ اس جواب کی اصل روح اپنے عقیدے پر ان کا ثبات اور اطمینان تھا۔ گویا دراصل وہ یہ کہہ رہے تھے کہ ہاں ، ہم بھی جانتے ہیں کہ یہ لکڑی اور پتھر کے بت ہیں جن کی ہم پوجا کر رہے ہیں ، مگر ہمارا دین و ایمان یہی ہے کہ ہم ان کی پرستش اور خدمت میں لگے رہیں۔
قَالَ هَلْ یَسْمَعُوْنَكُمْ اِذْ تَدْعُوْنَ
اس نے پوچھا "کیا یہ تمہاری سنتے ہیں جب تم انہیں پکارتے ہو؟
اَوْ یَنْفَعُوْنَكُمْ اَوْ یَضُرُّوْنَ
یا یہ تمہیں کچھ نفع یا نقصان پہنچاتے ہیں؟"
قَالُوْا بَلْ وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ
انہوں نے جواب دیا”نہیں، بلکہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایسا ہی کرتے پایا ہے۔“53
یعنی ہماری اس عبادت کی وجہ یہ نہیں ہے کہ یہ ہماری مناجاتیں اور دعائیں اور فریادیں سنتے ہیں یا ہمیں نفع اور نقصان پہنچاتے ہیں اس لیے ہم نے ان کو پوجنا شروع کر دیا ہے ، بلکہ اصل وجہ اس عبادت کی یہ ہے کہ باپ دادا کے وقتوں سے یوں ہی ہوتا چلا آ رہا ہے۔ اس طرح انہوں نے خود یہ اعتراف کر لیا کہ ان کے مذہب کے لیے باپ دادا کی اندھی تقلید کے سوا کوئی سند نہیں ہے۔ دوسرے الفاظ میں گویا وہ یہ کہہ رہے تھے کہ آخر تم نئی بات ہمیں کیا بتانے چلے ہو؟ کیا ہم خود نہیں دیکھتے کہ یہ لکڑی اور پتھر کی مورتیں ہیں ؟ کیا ہم نہیں جانتے کہ لکڑیاں سنا نہیں کرتیں اور پتھر کسی کا کام بنانے یا بگاڑنے کے لیے نہیں اٹھا کرتے ؟ مگر یہ ہمارے بزرگ جو صدیوں سے نسلاً بعد نسل ان کی پوجا کرتے چلے آ رہے ہیں تو کیا وہ سب تمہارے نزدیک بے وقوف تھے ؟ ضرور کوئی وجہ ہو گی کہ وہ ان نے جان مورتیوں کی پوجا کرتے رہے۔ لہٰذا ہم بھی ان کے اعتماد پر یہ کام کر رہے ہیں۔
قَالَ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَ
اس پر ابراہیمؑ نے کہا "کبھی تم نے (آنکھیں کھول کر) اُن چیزوں کو دیکھا بھی جن کی بندگی تم
اَنْتُمْ وَاٰبَآؤُكُمُ الْاَقْدَمُوْنَ ؗ
اور تمہارے پچھلے باپ دادا بجا لاتے رہے؟54
یعنی کیا ایک مذہب کی صداقت کے لیے بس یہ دلیل کافی ہے کہ وہ باپ دادا کے وقتوں سے چلا آ رہا ہے ؟ کیا نسل پر نسل بس یوں ہی آنکھیں بند کر کے مکھی پر مکھی مارتی چلی جائے اور کوئی آنکھیں کھول کر نہ دیکھے کہ جن کی بندگی ہم بجا لا رہے ہیں ان کے اندر واقعی خدائی کی کوئی صفت پائی بھی جاتی ہے یا نہیں اور وہ ہماری قسمتیں بنانے اور بگاڑنے کے کچھ اختیارات رکھتے بھی ہیں یا نہیں ؟
فَاِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِّیْۤ اِلَّا رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ
یعنی میں جب غور کرتا ہوں تو مجھے یہ نظر آتا ہے کہ اگر میں ان کی پرستش کروں گا تو میری دنیا و آخرت دونوں برباد ہو جائیں گی۔ میں ان کی عبادت کو محض بے نفع اور بے ضرر ہی نہیں سمجھتا بلکہ الٹا نقصان وہ سمجھتا ہوں ، اس لی میرے نزدیک تو ان کو پوجنا دشمن کو پوجنا ہے۔ اس کے علاوہ حضرت ابراہیمؑ کے اس قول میں اس مضمون کی طرف بھی اشارہ ہے جو سورہ مریم میں ارشاد ہوا کہ وَتَّخَذُوْ امِنْدُوْنِ اللہِ اٰلِھَۃً لِّیَکُوْنُوْ ا لَھُمْ عِزًّا ہ کَلَّا سَیَکْفُرُوْنَ بِعِبَادَ تِہَمْ وَیَکُوْنُوْنَ عَلَیْھِمْ ضِدًّا۔ (آیت 81۔ 82 ) انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے معبود بنا لیے ہیں تاکہ وہ ان کے لیے ذریعہ قوت ہوں۔ ہر گز نہیں۔ عنقریب وہ وقت آئے گا جب کہ وہ ان کی عبادت کا انکار کر دیں گے اور الٹے ان کے مخالف ہوں گے ‘‘۔ یعنی قیامت کے روز وہ ان کے خلاف گواہی دیں گے اور صاف کہہ دیں گے کہ نہ ہم نے ان سے کبھی کہا کہ ہماری عبادت کرو، نہ ہمیں خبر کہ یہ ہماری عبادت کرتے تھے۔ یہاں حکمت تبلیغ کا بھی ایک نکتہ قابل توجہ ہے۔ حضرت ابراہیمؑ نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ تمہارے دشمن ہیں ، بلکہ یہ فرمایا ہے کہ وہ میرے دشمن ہیں۔ اگر وہ کہتے کہ یہ تمہارے دشمن ہیں تو مخاطب کے لیے ضد میں مبتلا ہو جانے کا زیادہ موقع تھا۔ وہ اس بحث میں پڑ جاتا کہ بتاؤ، وہ ہمارے دشمن کیسے ہو گئے۔ بخلاف اس کے جب انہوں نے کہا کہ ہو میرے دشمن ہیں تو اس سے مخاطب کے لیے یہ سوچنے کا موقع پیدا ہو گیا کہ وہ بھی اسی طرح اپنے بھلے اور برے کی فکر کے جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے کی ہے۔ اس طریقہ سے حضرت ابراہیمؑ نے گویا ہر انسان کے اس فطری جذبے سے اپیل کی جس کی بنا پر وہ خود اپنا خیر خواہ ہوتا ہے اور جان بوجھ کر کبھی اپنا برا نہیں چاہتا۔ انہوں نے اسے بتایا کہ میں تو ان کی عبادت میں سراسر نقصان دیکھتا ہوں ، اور دیدہ و دانستہ میں اپنی بد خواہی نہیں کر سکتا، لہٰذا دیکھ لو کہ میں کوڈ ان کی بندگی و پرستش سے قطعی اجتناب کرتا ہوں۔ اس کے بعد مخاطب فطرۃً یہ سوچنے پر مجبور تھا کہ اس کی اپنی بھلائی کس چیز میں ہے ، کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ نا دانستہ اپنی بد خواہی کر رہا ہو۔
یعنی تمام ان معبودوں میں سے ، جن کی دنیا میں بندگی و پرستش کی جاتی ہے ، صرف ایک اللہ رب العالمین ہے جس کی بندگی میں مجھے اپنی بھلائی نظر آتی ہے ، اور جس کی عبادت میرے نزدیک ایک دشمن کی نہیں بلکہ اپنے اصل مربی کی عبادت ہے۔ اس کے بعد حضرت ابراہیمؑ چند فقروں میں وہ وجوہ بیان کرتے ہیں جن کی بنا پر صرف اللہ رب العالمین ہی عبادت کا مستحق ہے ، اور اس طرح پنے مخاطبوں کو یہ احساس دلنے کی کوشش کرتے ہیں کہ تمہارے پاس تو معبود ان غیر اللہ کی عبادت کے لیے کوئی معقول وجہ بجز تقلید آبائی کے نہیں ہے جسے تم بیان کر سکو، مگر میرے پاس صرف ایک اللہ کی عبادت کرنے کے لیے نہایت معقول وجوہ موجود ہیں جن سے تم بھی انکار نہیں کر سکتے۔ رابعًا، اس سے پیروانِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سبق دینا مقصُود ہے کہ وہ اس انحطاط کے گڑھے میں گرنے سے بچیں جس میں پچھلے انبیا کے پیرو گر گئے۔ یہودیوں کی اخلاقی کمزوریوں ، مذہبی غلط فہمیوں اور اعتقادی و عملی گمراہیوں میں سے ایک ایک کی نشان دہی کر کے اس کے بالمقابل دینِ حق کے مقتضیات بیان کیے گئے ہیں تاکہ مسلمان اپنا راستہ صاف دیکھ سکیں اور غلط راہوں سے بچ کر چلیں۔ اس سلسلے میں یہُود و نصاریٰ پر تنقید کرتے ہوئے قرآن جو کچھ کہتا ہے اس کو پڑھتے وقت مسلمانوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث یاد رکھنی چاہیے جس میں آپ ؐ نے فرمایا ہے کہ تم بھی آخر کار پچھلی اُمتوں ہی کی روش پر چل رہو گے حتّٰی کہ اگر وہ کسی گوہ کے بِل میں گُھسے ہیں، تو تم بھی اسی میں گُھسو گے۔ صحابہ ؓ نے پُوچھا: یا رسول اللہ ، کیا یہُود و نصاریٰ مراد ہیں؟ آپ ؐ نے فرمایا، اور کون؟ نبی اکرم ؐ کا ارشاد محض ایک تَو بِیخ نہ تھا بلکہ اللہ کی دی ہوئی بصیرت سے آپ یہ جانتے تھے کہ انبیا کی اُمتوں میں بگاڑ کن کن راستوں سے آیا اور کن کن شکلوں میں ظہُور کرتا رہا ہے۔
الَّذِیْ خَلَقَنِیْ فَهُوَ یَهْدِیْنِ
جس نے مجھے پیدا کیا57 ، پھر وہی میری رہنمائی فرماتا ہے
یہ اولین وجہ ہے جس کی بنا پر اللہ اور صرف ایک اللہ ہی عبادت کا مستحق ہے۔ مخاطب بھی اس حقیقت کو جانتے اور مانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کا خالق ہے ، اور انہیں یہ بھی تسلیم تھا کہ ان کے پیدا کرنے میں کسی دوسرے کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ حتّیٰ کہ اپنے معبودوں کے بارے میں بھی حضرت ابراہیمؑ کی قوم سمیت تمام مشرکین کا یہ عقیدہ رہا ہے کہ وہ خود اللہ تعالیٰ کے مخلوق ہیں۔ بجز دہریوں کے اور کسی کو بھی دنیا میں اللہ کے خلق کائنات ہونے سے انکار نہیں رہا۔ اس لیے حضرت ابراہیمؑ کی پہلی دلیل یہ تھی کہ میں صرف اس کی عبادت کو صحیح و بر حق سمجھتا ہوں جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ دوسری کوئی ہستی میری عبادت کی کیسے مستحق ہو سکتی ہے جب کہ میرے پیدا کرنے میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔ مخلوق کو اپنے خالق کی بندگی تو کرنی ہی چاہیے ، لیکن غیر خالق کی بندگی وہ کیوں کرے ؟
وَالَّذِیْ هُوَ یُطْعِمُنِیْ وَیَسْقِیْنِ
جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے
وَاِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ یَشْفِیْنِ
اور جب بیمار ہو جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔58
یہ دوسری وجہ ہے اللہ اور اکیلے اللہ ہی کے مستحق عبادت ہونے کی۔ اگر اس نے انسان کو بس پیدا ہی کر کے چھوڑ دیا ہوتا اور آگے اس کی خبر گیری سے وہ بالکل بے تعلق رہتا، تب بھی کوئی معقول وجہ اس امر کی ہو سکتی تھی کہ انسان اس کے علاوہ کسی دوسری طرف بھی سہارے ڈھونڈنے کے لیے رجوع کرتا۔ لیکن اس نے تو پیدا کرنے کے ساتھ رہنمائی، پرورش، نگہداشت، حفاظت اور حاجت روائی کا ذمہ بھی خود ہی لے لیا ہے۔ جس لمحے انسان دنیا میں قدم رکھتا ہے اسی وقت ایک طرف اس کی ماں کے سینے میں دودھ پیدا ہو جاتا ہے تو دوسری طرف کوئی ان دیکھی طاقت اسے دودھ چوسنے اور حلق سے اتارنے کا طریقہ سکھا دیتی ہے۔ پھر اس تربیت و رہنمائی کا سلسلہ اول روز پیدائش سے شروع ہو کر موت کی آخری ساعت تک برابر جاری رہتا ہے۔ زندگی کے ہر مرحلے میں انسان کو اپنے وجود اور نشو و نما اور بقاء و ارتقاء کے لیے جس جس نوعیت کے سر و سامان کی حاجت پیش آتی ہے وہ سب اس کے پیدا کرنے والے نے زمین سے لے کر آسمان تک ہر طرف مہیا کر دیا ہے۔ اس سر و سامان سے فائدہ اٹھانے اور کام لینے کے لیے جن جن طاقتوں اور قابلیتوں کی اس کو حاجت پیش آتی ہے وہ سب بھی س کی ذات میں ودیعت کر دی ہیں۔ اور ہر شعبہ حیات میں جس جس طرح کی رہنمائی اس کو درکار ہوتی ہے اس کا بھی پورا انتظام اس نے کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ اس نے انسانی وجود کی حفاظت کے لیے اور اس کو آفات سے ، بیماریوں سے ، مہلک جراثیم سے اور زہریلے اثرات سے بچانے کے لیے خود اس کے جسم میں اتنے زبردست انتظامات کیے ہیں کہ انسان کا علم ابھی تک ان کا پورا احاطہ بھی نہیں کر سکا ہے۔ اگر یہ قدرتی انتظامات موجود نہ ہوتے تو ایک معمولی کانٹا چبھ جانا بھی انسان کے لیے مہلک ثابت ہوتا اور اپنے علاج کے لیے آدمی کی کوئی کوشش بھی کامیاب نہ ہو سکتی۔ خالق کی یہ ہمہ گیر رحمت و ربوبیت جب ہر آن ہر پہلو سے انسان کی دست گیری کر رہی ہے تو اس سے بڑی حماقت و جہالت اور کیا ہو سکتی ہے ، اور اس سے بڑھ کر احسان فراموشی بھی اور کونسی ہو سکتی ہے کہ انسان اس کو چھوڑ کر کسی دوری ہستی کے آگے سر نیاز جھکائے اور حاجت روائی و مشکل کشائی کے لیے کسی اور کا دامن تھامے۔
وَالَّذِیْ یُمِیْتُنِیْ ثُمَّ یُحْیِیْنِ
جو مجھے موت دے گا اور پھر دوبارہ مجھ کو زندگی بخشے گا
وَالَّذِیْۤ اَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لِیْ خَطِیْٓـَٔتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِ ؕ
اور جس سے میں اُمید رکھتا ہوں کہ روزِ جزا میں وہ میری خطا معاف فرما دے گا۔“59
یہ تیسری وجہ ہے جس کی بنا پر اللہ کے سوا کسی دوسرے کی عبادت درست نہیں ہو سکتی۔ انسان کا معاملہ اپنے خدا کے ساتھ صرف اس دنیا اور اس کی زندگی تک محدود نہیں ہے کہ وجود کی سرحد میں قدم رکھنے سے شروع ہو کر موت کی آخری ہچکی پر وہ ختم ہو جائے ، بلکہ اس کے بعد اس کا انجام بھی سراسر خدا ہی کے ہاتھ میں ہے ، وہی خدا جو اس کو وجود میں لایا ہے ، آخر کار اسے اس دنیا سے واپس بلا لیتا ہے اور کوئی طاقت دنیا میں ایسی نہیں ہے جو انسان کی اس واپسی کو روک سکے۔ آج تک کسی دوا یا طبیب یا دیوی دیوتا کی مداخلت اس ہاتھ کو پکڑنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے جو انسان کو یہاں سے نکال لے جاتا ہے ، حتیٰ کہ وہ بہت سے انسان بھی جنہیں معبود بنا کر انسانوں نے پوج ڈالا ہے ، خود اپنی موت کو نہیں ٹال سکے ہیں۔ صرف خدا ہی اس امر کا فیصلہ کرنے ولا ہے کہ کس شخص کو کب اس جہان سے واپس طلب کرنا ہے ، اور جس وقت جس کی طلبی بھی اس کے ہاں سے آ جاتی ہے اسے چارو نا چار جانا ہی پڑتا ہے۔ پھر وہی خدا ہے جو اکیلا اس امر کا فیصلہ کرے گا کہ کب ان تمام انسانوں کو جو دنیا میں پیدا ہوئے تھے دوبارہ وجود میں لائے اور ان سے ان کی حیات دنیا کا محاسبہ کرے۔ اس وقت بھی کسی کی یہ طاقت نہ ہو گی کہ بعث بعد الموت سے کسی کو بچا سکے یا خود بچ سکے۔ہر ایک کو اس کے حکم پر اٹھنا ہی ہو گا اور اس کی عدالت میں حاضر ہونا پڑے گا۔ پھر وہی اکیلا خدا اس عدالت کا قاضی و حاکم ہو گا۔ کوئی دوسرا اس کے اختیارات میں ذرہ برابر بھی شریک نہ ہو گا۔ سزا دینا یا معاف کرنا بالکل اس کے اپنی ہی ہاتھ میں ہو گا۔ کسی کی یہ طاقت نہ ہو گی کہ جسے وہ سزا دینا چاہے اس کو بخشوا لے جائے ، یا جسے وہ بخشنا چاہے اس سزا دلوا سکے۔ دنیا میں جن کو بخشوا لینے کا مختار سمجھا جاتا ہے وہ خود اپنی بخشش کے لیے بھی اسی کے فضل و کرم کی آس لگائے بیٹھے ہوں گے۔ ان حقائق کی موجودگی میں جو شخص خدا کے سوا کسی کی بندگی کرتا ہے وہ اپنی بد انجامی کا خود سامان کرتا ہے۔ دنیا سے لے کر آخرت تک آدمی کی ساری قسمت تو ہو خدا کے اختیار میں ، اور اسی قسمت کے بناؤ کی خاطر آدمی رجوع کرے ان کی طرف جن کے اختیار میں کچھ نہیں ہے ! اس سے بڑھ کر شامت اعمال اور کیا ہو سکتی ہے۔
رَبِّ هَبْ لِیْ حُكْمًا وَّاَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ
’’حکم‘‘ سے مراد ’’نبوت‘‘ یہاں درست نہیں ہے ، کیونکہ جس وقت کی یہ دعا ہے اس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نبوت عطا ہو چکی تھی۔ اور اگر بالفرض یہ دعا اس سے پہلے کی بھی ہو تو نبوت کسی کی طلب پر اسے عطا نہیں کی جاتی بلکہ وہ ایک وہبی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کود ہی جسے چاہتا ہے دیتا ہے۔ اس لیے یہاں حکم سے مراد علم، حکمت، فہم صحیح اور قوت فیصلہ ہی لینا درست ہے ، اور حضرت ابراہیمؑ کی یہ دعا قریب قریب اسی معنی میں ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے یہ دعا منقول ہے کہ :اَرِنَا الْاَ شْیَآءَ کَمَا ھِیَ یعنی ہم کو اس قابل بنا کہ ہم ہر چیز کو اسی نظر سے دیکھیں جیسی کہ وہ فی الواقع ہے اور ہر معاملہ میں وہی رائے قائم کریں جیسی کہ اس کی حقیقت کے لحاظ قائم کی جانی چاہیے۔
یعنی دنیا میں مجھے صالح سوسائٹی دے اور آخرت میں میرا حشر صالحوں کے ساتھ کر۔ جہاں تک آخرت کا تعلق ہے ، صالح لوگوں کے ساتھ کسی کا حشر ہونا اور اس کا نجات پانا گویا ہم معنی ہیں ، اس لیے یہ تو ہر اس انسان کی دعا ہونی ہی چاہیے جو حیات بعد الموت اور جزا و زا پر یقین رکھتا ہو۔ لیکن دنیا میں بھی ایک پاکیزہ روح کی دلی تمنا یہی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ایک بد اخلاق فاسق و فاجر معاشرے میں زندگی بسر کرنے کی مصیبت سے نجات دے اور س کو نیک لوگوں کے ساتھ ملائے۔ معاشرے کا بگاڑ جہاں چاروں طرف محیط ہو وہاں ایک آدمی کے لیے صرف یہی چیز ہمہ وقت اذیت کی موجب نہیں ہوتی کہ وہ اپنے گردو پیش گندگی ہی گندگی پھیلی ہوئی دیکھتا ہے ، بلکہ اس کے لیے خود پاکیزہ رہنا اور اپنے آپ کو گندگی کی چھینٹوں سے بچا کر رکھنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ اس لیے ایک صالح آدمی اس وقت تک بے چین ہی رہتا ہے جب تک یا تو اس کا اپنا معاشرہ پاکیزہ نہ ہو جائے ، یا پھر اس سے نکل کر وہ کوئی دوسری ایسی سوسائیٹی نہ پالے جو حق و صداقت کے اصولوں پر چلنے والی ہو۔
وَاجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَ
اور بعد کے آنے والوں میں مجھ کو سچی ناموری عطا کر۔62
یعنی بعد کی نسلیں مجھے خیر کے ساتھ یاد کریں۔ میں دنیا سے وہ کام کر کے نہ جاؤں کہ نسل انسانی میرے بعد میرا شمار ان ظالموں میں کرے جو خود بگڑے ہوئے تھے اور دنیا کو بگاڑ کر چلے گئے ، بلکہ مجھ سے وہ کارنامے انجام پائیں جن کی بدولت رہتی دنیا تک میری زندگی خلق خدا کے لیے روشنی کا مینار بنی رہے ور مجھے انسانیت کے محسنوں میں شمار کیا جائے۔ یہ محض شہرت و ناموری کا دعا نہیں ہے بلکہ سچی شہرت اور حقیقی ناموری کی دعا ہے جو لازماً ٹھو خدمات اور بیش قیمت کارناموں ہی کے نتیجے میں حاصل ہوتی ہے۔ کسی شخص کو اس چیز کا حاصل ہونا اپنے اندر دو فائدے رکھتا ہے۔ دنیا میں اس کا فائدہ یہ ہے کہ انسانی نسلوں کو بُری مثالوں کے مقابلے میں ایک نیک مثال ملتی ہے جس سے وہ بھلائی کا سبق حاصل کرتی ہیں اور ہر سعید روح کو راہ راست پر چلنے میں اس سے مدد ملتی ہے۔ اور آخرت میں اس کا فائدہ یہ ہے کہ ایک آدمی کی چھوڑی ہوئی نیک مثال سے قیامت تک جتنے لوگوں کو بھی ہدایت نصیب ہوئی ہو ان کا ثواب اس شخص کو بھی ملے گا اور قیامت کے روز اس کے اپنے اعمال کے ساتھ کروڑوں بندگان خدا کی یہ گواہی بھی اس کے حق میں موجود ہو گی کہ وہ دنیا میں بھلائی کے چشمے رواں کر کے آیا ہے جن سے نسل پر نسل سیراب ہوتی رہی ہے۔
وَاجْعَلْنِیْ مِنْ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِیْمِ
اور مجھے جنتِ نعیم کے وارثوں میں شامل فرما
وَاغْفِرْ لِاَبِیْۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّیْنَ
اور میرے باپ کو معاف کر دے کہ بے شک وہ گمراہ لوگوں میں سے ہے63
بعض مفسرین نے حضرت ابراہیمؑ کی اس دعائے مغفرت کی یہ توجیہ بیان کی ہے کہ مغفرت بہر حال اسلام کے ساتھ مشروط ہے اس لیے آں جناب کا اپنے والد کی مغفرت کے لیے دعا کرنا گویا اس بات کی دعا کرنا تھا کہ اللہ تعالیٰ اسے اسلام لانے کی توفیق عطا فرمائے۔ لیکن قرآن مجید میں اس کے متعلق مختلف مقامات پر جو تصریحات ملتی ہیں وہ اس توجیہ سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ قرآن کا ارشاد ہے کہ حضرت ابراہیمؑ اپنے والد کے ظلم سے تنگ آ کر جب گھر سے نکلنے لگے تو انہوں نے رخصت ہوتے وقت فرمایا : سَلٰمٌ عَلَیْکَ سَاَ سْتَغْفِرُ لَکَ رَبِّیٓ اِنَّہٗ کَانَ بِیْ حَفِیًّا (مریم، آیت 47 ) ’’ آپ کو سلام ہے ، میں آپ کے لیے اپنے رب سے بخشش کی دعا کروں گا، وہ میرے اوپر نہایت مہربان ہے ‘‘۔ اسی وعدے کی بنا پر انہوں نے یہ دعائے مغفرت نہ صرف اپنے باپ کے لیے کی بلکہ ایک دوسرے مقام پر بیان ہوا ہے کہ ماں اور باپ دونوں کے لیے کی : رَبَّنَا اغْفِرْ لِیْ وَلِوَالِدَیَّ (ابرہیم۔ آیت 41 )۔ لیکن بعد میں انہیں کود یہ احساس ہو گیا کہ ایک دشمن حق، چاہے وہ ایک مومن کا باپ ہی کیوں نہ ہو، دعائے مغفرت کا مستحق نہیں ہے۔ وَمَا کَانَ ابْتِغْفَا رُ اِبْرٰھِیْمَ لِاَبِیْہِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَۃٍ وَّ عَدَھَآ اِیَّا ہُ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہٗ اَنَّہٗ عَدُ وٌّ لِلہِ تَبَرَّأ مِنْہُ (التوبہ۔ آیت 114) ’’ ابراہیم کا پنے باپ کے لیے دعائے مغفرت کرنا محض اس وعدے کی وجہ سے تھا جو اس نے اس سے کیا تھا۔ مگر جب یہ بات اس پر کھل گئی کہ وہ خدا کا دشمن ہے تو اس نے اس سے اظہار بیزاری کر دیا‘‘۔
وَلَا تُخْزِنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَ
اور مجھے اُس دن رُسوا نہ کر جبکہ سب لوگ زندہ کر کے اُٹھائے جائیں گے64
یعنی قیامت کے روز یہ رسوائی مجھے نہ دکھا کہ میدان حشر میں تمام اوّلین و آخرین کے سامنے ابراہیمؑ کا باپ سزا پا رہا ہو اور ابراہیمؑ کھڑا دیکھ رہا ہو۔
یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوْنَ
جبکہ نہ مال کوئی فائدہ دے گا نہ اولاد
اِلَّا مَنْ اَتَی اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ ؕ
بجز اس کے کہ کوئی شخص قلبِ سلیم لیے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔“65
ان دو فقروں کے متعلق یہ بات یقین کے ساتھ نہیں کہی جا سکتی کہ یہ حضرت ابراہیمؑ کی دعا کا حصہ ہیں یا انہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے قول پر اضافہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے۔ اگر پہلی بات مانی جائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ حضرت ابراہیمؑ اپنے باپ کے لیے یہ دعا کرتے وقت خود بھی ان حقائق کا احساس رکھتے تھے۔ اور دوسری بات تسلیم کی جائے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ان کی دعا پر تبصرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ یہ فرما رہا ہے کہ قیامت کے دن آدمی کے کام اگر کوئی چیز آ سکتیہے تو وسہ مال اور اولاد نہیں بلکہ صرف قلب سلیم ہے ، ایسا دل جو کفر و شرک و نافرمانی اور فوق و فجور سے پاک ہو۔ مال اور اولاد بھی قلب سلیم ہی کے ساتھ نافع ہو سکتے ہیں ، اس کے بغیر نہیں۔ مال صرف اس صورت میں وہاں مفید ہو گا جب کہ آدمی نے دنیا میں ایمان و اخلاص کے ساتھ اسے اللہ کی راہ میں صرف کیا ہو، ورنہ کروڑ پتی اور ارب پتی آدمی بھی وہاں کنگال ہو گا۔ اولاد بھی صف اسی حالت میں وہاں کام آ سکے گی جب کہ آدمی نے دنیا میں اسے اپنی حد تک ایمان اور حسن عمل کی تعلیم دی ہو، ورنہ بیٹا اگر نبی بھی ہو تو وہ باپ سزا پانے سے نہیں بچ سکتا جس کا اپنا خاتمہ کفر و معصیت پر ہوا ہو اور اولاد کی نیکی میں جس کا اپنا کوئی حصہ نہ ہو۔
وَاُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَ
(اُس روز66)جنّت پرہیز گاروں کے قریب لے آئی جائے گی
یہاں سے آخر پیرا گراف تک کی پوری عبارت حضرت ابراہیمؑ کے کلام کا جز نہیں معلوم ہوتی بلکہ اس کا مضمون صاف ظاہر کر رہا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنا ارشاد ہے۔
وَبُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِلْغٰوِیْنَ
اور دوزخ بہکے ہوئے لوگوں کے سامنے کھول دی جائے گی67
یعنی ایک طرف متقی لوگ جنت میں داخل ہونے سے پہلے ہی یہ دیکھ رہے ہوں گے کہ کیسی نعمتوں سے لبریز جگہ ہے جہاں اللہ کے فضل سے ہم جانے والے ہیں۔ اور دوسری طرف گمراہ لوگ ابھی میدان حشر ہی میں ہوں گے کہ ان کے سامنے اس جہنم کا ہولناک منظر پیش کر دیا جائے گا جس میں انہیں جانا ہے۔
وَقِیْلَ لَهُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَ
اور ان سے پوچھا جائے گا کہ "اب کہاں ہیں وہ جن کی تم خدا کو چھوڑ کر عبادت کیا کرتے تھے؟
مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ؕ هَلْ یَنْصُرُوْنَكُمْ اَوْ یَنْتَصِرُوْنَ ؕ
کیا وہ تمہاری کچھ مدد کر رہے ہیں یا خود اپنا بچاؤ کر سکتے ہیں؟"
فَكُبْكِبُوْا فِیْهَا هُمْ وَالْغَاوٗنَ
پھر وہ معبود اور یہ بہکے ہوئے لوگ
وَجُنُوْدُ اِبْلِیْسَ اَجْمَعُوْنَ ؕ
اور ابلیس کے لشکر سب کے سب اس میں اُوپر تلے دھکیل دیے جائیں گے۔68
اصل میں لفظ : کُبْکِبُوْا فرمایا گیا ہے جس میں دو مفہوم شامل ہیں۔ ایک یہ کہ ایک کے اوپر ایک دھکیل دیا جائے گا، دوسرے یہ کہ وہ قعر جہنم تک لڑھکتے چلے جائیں گے۔
قَالُوْا وَهُمْ فِیْهَا یَخْتَصِمُوْنَ
وہاں یہ سب آپس میں جھگڑیں گے اور یہ بہکے ہوئے لوگ (اپنے معبودوں سے) کہیں گے
تَاللّٰهِ اِنْ كُنَّا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ
کہ "خدا کی قسم، ہم تو صریح گمراہی میں مبتلا تھے
اِذْ نُسَوِّیْكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ
جبکہ تم کو رب العالمین کی برابری کا درجہ دے رہے تھے
وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الْمُجْرِمُوْنَ
اور وہ مجرم لوگ ہی تھے جنہوں نے ہم کو اس گمراہی میں ڈالا۔69
یہ پیروؤں اور معتقدوں کی طرف سے ان لوگوں کی تواضع ہو رہی ہو گی جنہیں یہی لوگ دنیا میں بزرگ، پیشوا اور رہنما مانتے رہے تھے ، جن کے ہاتھ پاؤں چومے جاتے تھے ، جن کے قول و عمل کو سند مانا جاتا تھا، جن کے حضور نذریں گزرانی جاتی تھیں۔ آخرت میں جا کر جب حقیقت کھلے گی اور پیچھے چلنے والوں کو معلوم ہو جائے گا کہ آگے چلنے والے خود کہاں آئے ہیں اور ہمیں کہاں لے آئے ہیں تو یہی معتقدین ان کو مجرم ٹھیرائیں گے اور ان پر لعنت بھیجیں گے۔ قرآن مجید میں جگہ جگہ علام آخرت کا یہ عبرت ناک نقشہ کھینچا گیا ہے تاکہ اندھی تقلید کرنے والے دنیا میں آنکھیں کھولیں اور کسی کے پیچھے چلنے سے پہلے دیکھ لیں کہ وہ ٹھیک بھی جا رہا ہے یا نہیں۔ سورہ اعراف میں فرمایا : کُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّۃٌ لَّعَنَتْ اُخْتَھَا ؕ حَتّیٰٓ اِذَا ادَّارَکُوْ ا فِیْھَا جَمِیْعاً قَالَتْ اُ خْرٰ ھُمْ لِاُوْلٰھُمْ رَبَّنَا ھٰٓؤُ لَآ ءِ اَضَلُّوْ نَا فَاٰتِھِمْ عَذَاباً ضِعْفاً مِّنَالنَّارِ ؕ 5 قَا لَ لِکُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰکِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ O (آیت 38 ) ہر گروہ جب جہنم میں داخل ہو گا تو اپنے ساتھ کے گروہ پر لعنت کرتا جائے گا۔ یہاں تک کہ جب سب وہاں جمع ہو جائیں گے تو ہر بعد والا گروہ پہلے گروہ کے متعلق کہے گا کہ اے ہمارے رب، یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا، اب انہیں آگ کا دوہرا عذاب دے۔ رب فرمائے گا سب ہی کے لیے دوہرا عذاب ہے مگر تم جانتے نہیں ہو۔ سورہ حٰم السجدہ میں ارشاد ہوا ہے : وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْ ا رَبَّنَا اَرِنَا لَّذ یْنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ نَجْعَلْھُمَا تَحْتَ اَقدَامِنا لِیَکُوْ نَا مِنَ الْاَسْفَلِیْنَ O (آیت 29)۔ اور کافر اس وقت کہیں گے کہ اے پروردگار، ان جنوں اور انسانوں کو ہمارے سامنے لا جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا تاکہ ہم انہیں پاؤں تلے روند ڈالیں اور وہ پست و ذلیل ہو کر ہیں۔ یہی مضمون سورہ احزاب میں ارشاد ہوا ہے : وَقَا لُوْ ا رَبَّنَآ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَکُبَرَآ ءَ نَا فَاَ ضَلُّوْنَا السَّبِیْلَا 5 رَبَّنَآ اٰوِھِمْ ضِعفَیْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَالْعَنْھُمْ لَعْناً کَبِیْراً O (آیات 67۔ 68 ) اور وہ کہیں گے اے رب، ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کی اطاعت کی اور انہوں نے ہم کو سیدھے راستے سے بھٹکا دیا۔ اے رب، ان کو دو گنا عذاب دے اور ان پر سخت لعنت کر۔
فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِیْنَ
اب نہ ہمارا کوئی سفارشی ہے70
یعنی جنہیں ہم دنیا میں سفارشی سمجھتے تھے اور جن کے متعلق ہمارا یہ عقیدہ تھا کہ ان کا دامن جس نے تھام لیا بس اس کا بیڑا پار ہے ، ان میں سے آج کوئی بھی سعی سفارش کے لیے زبان کھولنے والا نہیں ہے۔
وَلَا صَدِیْقٍ حَمِیْمٍ
اور نہ کوئی جگری دوست۔71
یعنی کوئیایسا بھی نہیں ہے جو ہمارا غم خوار اور ہمارے لیے کُڑھنے والا ہو، چاہے ہم کو چھڑا نہ سکے مگر کم از کم اسے ہمارے ساتھ کوئی ہمدردی ہی ہو۔ قرآن مجید یہ بتاتا ہے ہ آخرت میں دو ستیاں صرف اہل ایمان ہی کی باقی رہ جائیں گی۔ رہے گمراہ لوگ، تو وہ دنیا میں چاہے کیسے ہی جگری دوست رہے ہوں ، وہاں پہنچ کر ایک دوسرے کے جانی دشمن ہوں گے ، ایک دوسرے کو مجرم ٹھیرائیں گے اور اپنی بربادی کا ذمہ دار قرار دے کر ہر ایک دوسرے کو زیادہ سے زیادہ سزا دلوانے کی کوشش کرے گا۔ اَلْاَخِلَّآ ءُ یَوْمَئِذٍ بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ الَّا الْمُتَّقِیْنَ O (الزخرف۔ آیت 67 ) ’’ دوست اس روز ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے مگر متقین (کی دوستیاں قائم رہیں گی)‘‘۔
فَلَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ
کاش ہمیں ایک دفعہ پھر پلٹنے کا موقع مل جائے تو ہم مومن ہوں۔“72
اس تمنا کا جواب بھی قرآن میں دے دیا گیا ہے کہ وَلَوْرُدُّ وْ ا لَعَا دُوْ ا لِمَا نُھُوْ ا عَنْہٗ۔ (الانعام۔ آیت 28 ) ’’ اگر انہیں سابق زندگی کی طرف واپس بھیج دیا جائے تو وہی کچھ کریں گے جس سے انہیں منع کیا گیا ہے ‘‘۔ رہا یہ سوال کہ انہیں واپسی کا موقع کیوں نہ دیا جائے گا، اس کے وجوہ پر مفصل بحث ہم سرہ مؤمنون حواشی 90 تا 92 میں کر چکے ہیں۔
اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً ؕ وَمَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ
یقیناً اس میں ایک بڑی نشانی ہے73 ، مگر ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں
حضرت ابراہیمؑ کے اس قصے میں نشانی کے دو پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ مشرکین عرب اور بالخصوص قریش کے لوگ ایک طرف تو حضرت ابراہیمؑ کی پیروی کا دعویٰ اور ان کے ساتھ انتساب پر فخر کرتے ہیں مگر دوسری طرف اسی شرک میں مبتلا ہیں جس کے خلاف جدو جہد کرتے ان کی عمر بیت گئی تھی، اور ان کے لائے ہوئے دین کی دعوت آج جو نبی پیش کر رہا ہے اس کے خلاف ٹھیک وہی کچھ کر رہے ہیں جو حضرت ابراہیمؑ کی قوم نے ان کے ساتھ کیا تھا۔ ان کو یاد دلایا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیمؑ تو شرک کے دشمن اور دعوت توحید کے علم بردار تھے ، تم خود بھی جانتے اور مانتے ہو کہ حضرت ممدوح مشرک نہ تھے ، مگر پھر بھی تم اپنی ضد پر قائم ہو۔ دوسرا پہلو اس قصہ میں نشانی کا یہ ہے کہ قوم ابراہیمؑ دنیا سے مٹ گئی اور ایسی مٹی کہ اس کا نام و نشان تک باقی نہ رہا، اس میں سے اگر کسی کو بقا نصیب ہوا تو صرف ابراہیم علیہ السلام اور ان کے مبارک فرزندوں (اسماعیلؑ و اسحاقؑ ) کی اولاد ہی کو نصیب ہوا۔ قرآن میں اگر چہ اس عذاب کا ذکر نہیں کیا گیا ہے جو حضرت ابراہیمؑ کے نکل جانے کے بعد ان کی قوم پر آیا، لیکن اس کا شمار معذب قوموں ہی میں کیا گیا ہے ، : اَلَمْ یَاْ تِھِمْ نَبَاءُ الَّذِیْنَ مِنْ قَٓبْلِھِمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَوَ قَوْمِ اِبْرٰھِیْمَ وَاَصْحٰبِ مَدْیَنَ وَ الْمُؤْ تَفِکٰتِ (التوبہ۔ آیت 70)۔
وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ
اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی
كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ لْمُرْسَلِیْنَ
p تقابل کے لیے ملاحظہ ہو الاعراف، آیات 59 تا 64۔ یونس، آیات 71 تا 73۔ ہود، آیات 25 تا 48۔ بنی اسرائیل، آیت 3۔ الانبیاء، آیات 76۔ 77۔ المؤمنون، آیات 23 تا 30۔ الفرقان، آیت 37۔ اس کے علاوہ قصہ نوح علیہ السلام کی تفصیلات کے لیے قرآن مجید کے حسب ذیل مقامات بھی پیش نظر رہیں : العنکبوت آیات 14۔ 15۔ الصّٰفّٰت، 75 تا 82۔ القمر، 9۔ 15۔ سورہ نوح مکمل۔/p
p اگر چہ انہوں نے ایک ہی رسول کو جھٹلایا تھا، لیکن چونکہ رسول کی تکذیب در حقیقت اس دعوت اور پیغام کی تکذیب ہے جسے لے کر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے ، اس لیے جو شخص یا گروہ کسی ایک رسول کا بھی انکار کر دے وہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں تمام رسولوں کا منکر ہے۔ یہ ایک بڑی اہم اصولی حقیقت ہے جسے قرآن میں جگہ جگہ مختلف طریقوں سے بیان کیا گیا ہے۔ حتّیٰ کہ وہ لوگ بھی کافر ٹھیرائے گئے ہیں جو صرف ایک نبی کا انکار کرتے ہوں ، باقی تمام انبیاء کو مانتے ہوں۔ اس لیے کہ جو شخص اصل پیغام رسالت کا ماننے والا ہے وہ تو لازماً ہر رسول کو مانے گا۔ مگر جو شخص کسی رسول کا انکار کرتا ہے وہ اگر دوسرے رسولوں کو مانتا بھی ہے تو کسی عصبیت یا تقلید آبائی کی بنا پر مانتا ہے ، نفس پیغام رسالت کو نہیں مانتا، ورنہ ممکن نہ تھا کہ وہی حق ایک پیش کرے تو یہ اسے مان لے اور وہی دوسرا پیش کرے تو یہ اس کا انکار کر دے۔/p
اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ نُوْحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَ
یاد کرو جبکہ اُن کے بھائی نوحؑ نے ان سے کہا تھا”کیا تم ڈرتے نہیں ہو؟76
دوسرے مقامات پر حضرت نوحؑ کا اپنی قوم سے ابتدائی خطاب ان الفاظ میں آیا ہے : اُعْبُدُوا اللہَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ (المؤمنون آیت 23 ) ’’ اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے ، تو کیا تم ڈرتے نہیں ہو ‘‘؟ اُعْبُدُ و االلہَ وَا تَّقُوْہُ وَاَطِیْعُوْنِ ہ (نوح آیت 3)۔ ’’ اللہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ اس لیے یہاں حضرت نوحؑ کے اس ارشاد کا مطلب محض خوف نہیں بلکہ اللہ کا خوف ہے۔ یعنی کیا تم اللہ سے بے خوف ہو گئے ؟ اس کے سوا دوسروں کی بندگی کرتے ہوئے تم کچھ نہیں سوچتے کہ اس باغیانہ روش کا انجام کیا ہو گا؟ دعوت کے آغاز میں خوف دلانے کی حکمت یہ ہے کہ جب تک کسی شخص یا گروہ کو اس کے غلط رویے کی بد انجامی کا خطرہ نہ محسوس کرایا جائے ، وہ صحیح بات اور اس کے دلائل کی طرف توجہ کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ راہ راست کی تلاش آدمی کے دل میں پیدا ہی اس وقت ہوتی ہے جب اس کو یہ فکر دامن گیر ہو جاتی ہے کہ کہیں میں کسی ٹیڑھے راستے پر تو نہیں جا رہا ہوں جس میں ہلاکت کا اندیشہ ہو۔
اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ
میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسُول ہوں77
اس کے دو مفہوم ہیں۔ ایک یہ کہ میں اپنی طرف سے کوئی بات بنا کر یا کم و بیش کر کے بیان نہیں کرتا بلکہ جو کچھ خدا کی طرف سے مجھ پر نازل ہوتا ہے وہی بے کم و کاست تم تک پہنچا دیتا ہوں۔ اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ میں ایک ایسا رسول ہوں جسے تم پہلے سے ایک امین اور راستباز آدمی کی حیثیت سے جانتے ہو۔ جب میں خلق کے معاملے میں خیانت کرنے والا نہیں ہوں تو خدا کے معاملے میں کیسے خیانت کر سکتا ہوں ،۔ لہٰذا تمہیں باور کرنا چاہیے کہ جو کچھ میں خدا کی طرف سے پیش کر رہا ہوں اس میں بھی ویسا ہی امین ہوں جیسا دنیا کے معاملات میں آج تک تم نے مجھے امین پایا ہے۔
فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِیْعُوْنِ
لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔78
یعنی میرے رسول امین ہونے کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ تم دوسرے سب مطاعوں کی اطاعت چھوڑ کر صرف میری اطاعت کرو اور جو احکام میں تمہیں دیتا ہوں ان کے آگے سر تسلیم خم کر دو، کیونکہ میں خداوند عالم کی مرضی کا نمائندہ ہوں ، میری اطاعت خدا کی اطاعت ہے اور میری نافرمانی محض میری ذات کی نا فرمانی نہیں بلکہ براہ راست خدا کی نا فرمانی ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول کا حق صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ جن لوگوں کی طرف وہ رسول بنا کر بھیجا گیا ہے وہ اس کی صداقت تسلیم کر لیں اور اسے رسول بر حق مان لیں۔ بلکہ اس کو خدا کا سچا رسول مانتے ہی آپ سے آپ یہ بھی لازم آ جاتا ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے اور ہر دوسرے قانون کو چھوڑ کر صرف اسی کے لائے ہوئے قانون کا اتباع کیا جائے۔ رسول کو رسول نہ ماننا، یا رسول مان کر اس کی اطاعت نہ کرنا، دونوں صورتیں در اصل خدا سے بغاوت کی ہم معنی ہیں اور دونوں کا نتیجہ خدا کے غضب میں گرفتار ہونا ہے۔ اسی لیے ایمان اور اطاعت کے مطالبے سے پہلے ’’ اللہ سے ڈرو‘‘ کا تنبیہی فقرہ ارشاد فرمایا گیا تاکہ ہر مخاطب اچھی طرح کان کھول کر سن لے کہ رسول کی رسالت تسلیم نہ کرنے یا اس کی اطاعت قبول نہ کرنے کا نتیجہ کیا ہو گا۔
وَمَاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰی رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ
میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں۔ میرا اجر تو ربّ العالمین کے ذمّہ ہے۔79
یہ اپنی صداقت پر حضرت نوح کی دوسری دلیل ہے۔ پہلی دلیل یہ تھی کہ دعوائے نبوت سے پہلے میری ساری زندگی تمہارے درمیان گزری ہے اور آج تک تم مجھے ایک امین آدمی کی حیثیت سے جانتے رہے ہو۔ اور دوری دلیل یہ ہے کہ میں ایک بے غرض آدمی ہوں ، تم کسی ایسے ذاتی فائدے کی نشان دہی نہیں کر سکتے جو اس کام سے مجھے حاصل ہو رہا ہو یا جس کے حصول کی میں کوشش کر رہا ہوں۔ اس بے غرضانہ طریقہ سے کسی ذاتی نفع کے بغیر جب میں اس دعوت حق کے کام میں شب و روز اپنی جان کھپا رہا ہوں ، اپنے اوقات اور اپنی محنتیں صرف کر رہا ہوں ور ہر طرح کی تکلیفیں اٹھا رہا ہوں ، تو تمہیں باور کرنا چاہیے کہ میں اس کام میں مخلص ہوں ، ایمانداری کے ساتھ جس چیز کو حق جانتا ہوں اور جس کی پیروی میں خلق خد کی فلاح دیکھتا ہوں وہی پیش کر رہا ہوں ، کوئی نفسانی جذبہ اس کا محرّک نہیں ہے کہ اس کی خاطر میں جھوٹ گھڑ کر لوگوں کو دھوکا دوں۔ یہ دونوں دلیلیں ان اہم دلائل میں سے ہیں جو قرآن مجید نے بار بار انبیاء علیہم السلام کی صداقت کے ثبوت میں پیش کی ہیں اور جن کو وہ نبوت کے پرکھنے کی کسوٹی قرار دیتا ہے۔ نبوت سے پہلے جو شخص ایک معاشرے میں برسوں زندگی بسر کر چکا ہو اور لوگوں نے ہمیشہ ہر معاملہ میں اسے سچا اور راستباز آدمی پایا ہو، اس کے متعلق کوئی غیر متعصب آدمی مشکل ہی سے یہ شک کر سکتا ہے کہ وہ یکایک خدا کے نام سے اتنا بڑا جھوٹ بولنے پر اتر آئے گا کہ اسے نبی نہ بنایا گیا ہو اور وہ کہے کہ خدا نے مجھے نبی بنایا ہے۔ پھر دوسری اس سے بھی اہم تر بات یہ ہے کہ ایسا سفید جھوٹ کوئی شخص نیک نیتی کے ستھ تو نہیں گھڑا کرتا۔ لا محالہ کوئی نفسانی غرض ہی اس فریب کاری کی محرک ہوتی ہے۔ اور جب کوئی شخص اپنی اغراض کے لیے اس طرح کی فریب کاری کرتا ہے تو اخفا کی تمام کوششوں کے باوجود اس کے آثار نمایاں ہو کر رہتے ہیں۔ اسے اپنے کاروبار کو فروغ دینے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرنے پڑتے ہیں جن کے گھناؤنے پہلو گرد و پیش کے معاشرے میں چھپائے نہیں چھپ سکتے۔ اور مزید برآں وہ اپنی پیری کی دکان چمکا کر کچھ نہ کچھ اپنا بھلا کرتا نظر آتا ہے۔ نذرانے وصول کیے جاتے ہیں ، لنگر جاری ہوتے ہیں ، جائدادیں بنتی ہیں ، زیور گھڑے جاتے ہیں ، اور فقیری کا آستانہ دیکھتے دیکھتے شاہی دربار بنتا چلا جاتا ہے۔ لیکن جہاں اس کے بر عکس نبوت کا دعویٰ کرنے والے شخص کی ذاتی زندگی ایسے فضائل اخلاق سے لبریز نظر آئے کہ اس میں کہیں ڈھونڈے سے بھی کسی فریب کارانہ ہتھکنڈے کا نشان نہ مل سکے ، اور اس کام سے کوئی ذاتی فائدہ اٹھانا تو در کنار، وہ اپنا سب کچھ اسی خدمت بے مزد کی نذر کر دے ، وہاں جھوٹ کا شبہ کرنا کسی معقول انسان کے لیے ممکن نہیں رہتا۔کوئی شخص جو عقل بھی رکھتا ہو اور بے انصاف بھی نہ ہو، یہ تصور نہیں کر سکتا کہ آخر ایک اچھا بھلا آدمی، جو اطمینان کی زندگی بسر کر رہا تھا، کیوں بلا وجہ ایک جھوٹا دعویٰ لے کر اٹھے جب کہ اسے کوئی فائدہ اس جھوٹ سے نہ ہو، بلکہ وہ الٹا اپنا مال، اپنا وقت اور اپنی ساری قوتیں اور محنتیں اس کام میں کھپا رہا ہو اور بدلے میں دنیا بھر کی دشمنی مول لے رہا ہو۔ ذاتی مفاد کی قربانی آدمی کے مخلص ہونے کی سب سے زیادہ نمایاں دلیل ہوتی ہے۔ یہ قربانی کرتے جس کو سالوں بیت جائیں اسے بد نیت یا خود غرض سمجھنا خود اس شخص کی اپنی بد نیتی کا ثبوت ہوتا ہے جو ایسے آدمی پر یہ الزام لگائے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، المؤمنون، حاشیہ 70)۔
فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِیْعُوْنِ ؕ
پس تم اللہ سے ڈرو اور (بے کھٹکے)میری اطاعت کرو۔“80
اس فقرے کی تکرار بے وجہ نہیں ہے۔ پہلے یہ ایک اور مناسبت سے فرمایا گیا تھا اور یہاں ایک دوسری مناسبت سے اس کو دہرایا گیا ہے۔ اوپر اِنِّیْ لَکُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْن ٌ سے فَاتَّقُو ا اللہَ کے فقرے کی مناسبت یہ تھی کہ جو شخص اللہ کی طرف سے ایک امانت دار رسول ہے ، جس کی صفت امانت سے تم لوگ خود بھی واقف ہو، اسے جھٹلاتے ہوئے کدا سے ڈرو۔ اور یہاں مَآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ سے اس فقرے کی مناسبت یہ ہے کہ جو شخص اپنے کسی ذاتی فائدے کے بغیر محض اصلاح خلق کے لیے پورے اخلاص کے ساتھ کام کر رہا ہے اس کی نیت پر حملہ کرتے ہوئے خدا سے ڈرو۔ اس بات کو اتنا زور دے کر بیان کرنے کی وجہ یہ تھی کہ قوم کے سردار حضرت نوح کی مخلصانہ دعوت حق میں کیڑے ڈالنے کے لیے ان پر یہ الزام لگاتے تھے کہ یہ شخص در اصل یہ ساری دوڑ دھوپ اپنی بڑائی کے لیے کر رہا ہے : یُرِیْدُ اَنْ یَّتَفَضَّلَ عَلَیْکُمْ (المؤمنون، آیت 24)۔ ’’ یہ چاہتا ہے کہ تم پر فضیلت حاصل کرے ‘‘۔
قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَ ؕ
انہوں نے جواب دیا”کیا ہم تجھے مان لیں حالانکہ تیری پیروی رذیل ترین لوگوں نے اختیار کی ہے؟“81
یہ لوگ جنہوں نے حضرت نوح کو دعوت حق کا یہ جواب دیا، ان کی قوم کے سردار، شیوخ اور اشراف تھے ،جیس اکہ دوسرے مقم پر اسی قصے کے سلسلے میں بیان ہوا ہے : فَقَالَالْمَلَاُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ مَا نَرٰ کَ اِلَّا بَشَراً مِّثْلَنَا وَمَا نَرٰکَ اتَّبَعَکَ اِلَّا ا لَّذِیْنَ ھُمْ اَرَاذِ لُنَا بَادِیَ الرَّ أ یِ، وَمَا نَریٰ لَکُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ (ہود، آیت 27)۔ ’’ اس کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا ہمیں تو تم اس کے سوا کچھ نظر نہیں آتے کہ بس ایک انسان ہو ہم جیسے ، اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ تمہاری پیروی صرف ان لوگوں نے بے سمجھے بوجھے اختیار کر لی ہے جو ہمارے ہاں کے اراذل ہیں ، اور ہم کوئی چیز بھی ایسی نہیں پاتے جس میں تم لوگ ہم سے بڑھے ہوئے ہو ‘‘۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت نوح پر ایمان لانے والے زیادہ تر غریب لوگ، چھوٹے چھوٹے پیشہ ور لوگ، یا ایسے نوجوان تھے جن کی قوم میں کوئی حیثیت نہ تھی۔ رہے اونچے طبقہ کے با اثر اور خوش حال لوگ، تو وہ ان کی مخالفت پر کمر بستہ تھے اور وہی اپنی قوم کے عوام کو طرح طرح کے فریب دے دے کر اپنے پیچھے لگائے رکھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس سلسلے میں جو دلائل وہ حضرت نوحؑ کے خلاف پیش کرتے تھے ان میں سے ایک استدلال یہ تھا کہ اگر نوح کی دعوت میں کوئی وزن ہوتا تو قوم کے امراء علماء، مذہبی پیشوا، معززین اور سمجھ دار لوگ اسے قبول کرتے۔ لیکن ان میں سے تو کوئی بھی اس شخص پر ایمان نہیں لایا ہے۔ اس کے پیچھے لگے ہیں ادنیٰ طبقوں کے چند نادان لوگ جو کوئی سمجھ بوجھ نہیں رکھتے۔ اب کیا ہم جیسے بلند پایہ لوگ ان بے شعور اور کمین لوگوں کے زمرے میں شامل ہو جائیں ؟ بعینہٖ یہی بات قریش کے کفار نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے متعلق کہتے تھے کہ ان کے پیرو یا تو غلام اور غریب لوگ ہیں یا چند نادان لڑکے ، قوم کے اکابر اور معززین میں سے کوئی بھی ان کے ساتھ نہیں ہے۔ ابوسفیان نے ہرقل کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے بھی یہی کہا تھا کہ : تَبِعَہٗ مِنا الضعفآء والمَسَاکین (محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی پیروی ہمارے غریب اور کمزور لوگوں نے قبول کی ہے ) گویا ان لوگوں کا طرز فکر یہ تھا کہ حق صرف وہ ہے جسے قوم کے بڑے لوگ حق مانیں کیونکہ وہی عقل اور سمجھ بوجھ رکھتے ہیں ، رہے چھوٹے لوگ، تو ان کا چھوٹا ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ بے عقل اور ضعیف الرائے ہیں ، اس لیے ان کا کسی بات کو مان لینا اور بڑے لوگوں کا رد کر دینا صاف طور پر یہ معنی رکھتا ہے کہ وہ ایک بے وزن بات ہے۔ بلکہ کفار مکہ تو اس سے بھی آگے بڑھ کر یہ دلیل لاتے تھے کہ پیغمبر بھی کوئی معمولی آدمی نہیں ہو سکتا، خدا کو اگر واقعی کوئی پیغمبر بھیجنا منظور ہوتا تو کسی بڑے رئیس کو بناتا، وَقَالُوْا لَوْ لَا نُزِّ لَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلیٰ رَجُلٍ مِّنَالْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ (الزخرف، آیت 3) ’’ وہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن ہمارے دونوں شہروں (مکہ اور طائف) کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہ نازل کیا گیا‘‘۔
قَالَ وَمَا عِلْمِیْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ
نوحؑ نے کہا "میں کیا جانوں کہ ان کے عمل کیسے ہیں
اِنْ حِسَابُهُمْ اِلَّا عَلٰی رَبِّیْ لَوْ تَشْعُرُوْنَ
ان کا حساب تو میرے ربّ کے ذمّہ ہے، کاش تم کچھ شعور سے کام لو۔82
یہ ان کے اعتراض کا پہلا جواب ہے۔ جیسا کہ اوپر بیان ہوا، ان کے اعتراض کی بنیاد اس مفروضے پر تھی کہ جو لوگ غریب، محنت پیشہ اور ادنیٰ درجے کی خدمات انجام دینے والے ہیں یا معاشرے کے پست طبقات سے تعلق رکھتے ہیں ، ان میں کوئی ذہنی صلاحیت نہیں ہوتی، اور وہ علم و عقل اور سمجھ بوجھ سے عاری ہوتے ہیں ، اس لیے نہ ان کا ایمان کسی فکر و بصیرت پر مبنی، نہ انکا اعتقاد لائق اعتبار، اور نہ ان کے اعمال کا کوئی وزن۔ حضرت نوحؑ اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ میرے پاس یہ جاننے کا کوئی ذریعہ نہیں کہ جو شخص میرے پاس آ کر ایمان لاتا ہے اور ایک عقیدہ قبول کر کے اس کے مطابق عمل کرنے لگتا ہے ،اس کے اس فعل کی تہ میں کیا محرکات کام کر رہے ہیں اور وہ کتنی کچھ قدر و قیمت رکھتے ہیں۔ ان چیزوں کا دیکھنا اور ان کا حساب لگانا تو خدا کا کام ہے ، میرا ور تمہارا کام نہیں ہے۔
وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِیْنَ
میرا یہ کام نہیں ہے کہ جو ایمان لائیں ان کو میں دھتکار دوں
اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ ؕ
میں تو بس ایک صاف صاف متنبّہ کر دینے والا آدمی ہوں۔“83
یہ ان کے اعتراض کا دوسرا جواب ہے۔ ان کے اعتراض میں یہ بات بھی مضمر تھی کہ ایمان لانے والوں کا جو گروہ حضرت نوحؑ کے گرد جمع ہو رہا ہ یہ چونکہ ہمارے معاشرے کے ادنیٰ طبقات پر مشتمل ہے ، اس لیے اونچے طبقوں میں سے کوئی شخص اس زمرے میں شامل ہونا گوارا نہیں کر سکتا۔ دوسرے الفاظ میں گویا وہ یہ کہہ رہے تھے کہ اے نوحؑ کیا تم پر ایمان لا کر ہم اپنے آپ کو اراذل اور سفہاء میں شمار کرائیں ؟ کیا ہم غلاموں ، نوکروں ، مزدوروں اور کام پیش لوگوں کی صف میں آ بیٹھیں ؟ حضرت نوحؑ اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ میں آخر یہ غیر معقول طرز عمل کیسے اختیار کر سکتا ہوں کہ جو لوگ میری بات نہیں مانتے ان کے تو پیچھے پھرتا رہوں اور جو میری بات مانتے ہیں انہیں دھکے دے کر نکال دوں۔ میری حیثیت تو ایک ایسے بے لاگ آدمی کی ہے جس نے علی الاعلان کھڑے ہو کر پکار دیا ہے کہ جس طریقے پر تم لوگ چل رہے ہو یہ باطل ہے اور اس پر چلنے کا انجام تباہی ہے ، اور جس طریقے کی طرف میں رہنمائی کر رہا ہوں اسی میں تم سب کی نجات ہے۔ اب جس کا جی چاہے میری اس تنبیہ کو قبول کر کے سیدھے راستے پر آئے اور جس کا جی چاہے آنکھیں بند کر کے تباہی کی راہ چلتا رہے۔ میں یہ نہیں کر سکتا کہ جو اللہ کے بندے میری اس تنبیہ کو سن کر سیدھا راستہ اختیار کرنے کے لیے میرے پاس آئیں ان کی ذات، برادری، نسب اور پیشہ پوچھوں اور اگر وہ آپ لوگوں کی نگاہیں ’’کمین‘‘ ہوں تو ان کو واپس کر کے اس انتظار میں بیٹھا رہوں کہ ’’شریف‘‘ حضرات کب تباہی کا راستہ چھوڑ کر نجات کی راہ پر قدم رنجہ فرماتے ہیں۔ ٹھیک یہی معاملہ ان آیات کے نزول کے زمانے میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور کفار مکہ کے درمیان چل رہا تھا اور اسی کو نگاہ میں رکھنے سے یہ سمجھ میں آ سکتا ہے کہ حضرت نوح اور ان کی قوم کے سرداروں کی یہ گفتگو یہاں کیوں سنائی جا رہی ہے۔ کفار مکہ کے بڑے بڑے سردار نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے کہتے تھے کہ ہم آخر بلال اور عَمار ادر صہیب جیسے غلاموں اور کام پیشہ لوگوں کے ساتھ کیسے بیٹھ سکتے ہیں۔ گویا ان کا مطلب یہ تھا کہ ایمان لانے والوں کی صف سے یہ غریب لوگ نکالے جائیں تب کوئی امکان اس کا نکل سکتا ہے کہ اشراف ادھر کا رخ کریں ، ورنہ یہ کسی طرح ممکن نہیں ہے کہ محمود اور ایز ایک صف میں کھڑے ہو جائیں۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بالکل صاف اور دو ٹوک الفاظ میں یہ ہدایت دی گئی کہ حق سے منہ موڑنے والے متکبروں کی خاطر ایمان قبول کرنے والے غریبوں کو دھکے نہیں دیے جا سکتے : اَمَّا مَنِاسْتَغْنیٰ فَاَنْتَ لَہٗتَصَدّٰ ی ؕ وَمَا عَلَیْکَ اَلَّا یَزَّکّیٰ ؕ وَاَ مَّا مَنْ جَآ ءَکَ یَسْعٰ وَھُوَیَخْشیٰ فَاَ نْتَ عَنْہُ تَلَھّیٰ کَلَّآ اِنَّھَا تَذْکِرَۃً فَمَنْ شَآءَ ذَکَرَہٗ ۔ (آیات 5 تا 13 ) اے محمدؐ، جس نے بے نیازی برتی تم اس کے پیچھے پڑتے ہو؟ حالانکہ اگر وہ نہ سدھرے تو تم پر اس کی کیا ذمہ داری ہے۔ اور جو تمہارے پاس دوڑا آتا ہے اس حال میں کہ وہ اللہ سے ڈر رہا ہے ،تم اس سے بے رخی برتتے ہو؟ ہر گز نہیں ، یہ تو ایک نصیحت ہے جس کا جی چاہے اسے قبول کرے۔ وَلَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْ عُوْنَ رَبَّھُمْ بِالْغَدٰوَۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجُھَہٗ ؕ مَا عَلَیْکَ مِنْ حِسَابِھِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَمَا مَنْ حِسَابِکَ عَلُیْھِمْ مِّنْ شَیْءٍ فَتَطُرُ دَھُمْٰ فَتَکُوْ نَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ 5 وَکَذٰلِکَ فَتَنَّا بَعْضَھُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْ لُوْٓ ا اَھٰٓؤُ لَآءِ مَنَّ اللہُ عَلَیْھِمْ مِّنْ ؍ بَیْنِنَا ؕ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَعْلَمَ بِا شّٰکِرِیْنَ ہ (الانعام۔ آیت 52 )۔ نہ دور پھینکو ان لوگوں کو جو شب و روز اپنے رب کا پکارتے ہیں محض اس کی خوشنودی کی خاطر۔ ان کا کوئی حساب تمہارے ذمہ نہیں اور تمہارا کوئی حساب ان کے ذمہ نہیں۔ اس پر بھی اگر تم انہیں دور پھینکو گے تو ظالموں میں شمار ہو گے۔ ہم نے تو اس طرح ن لوگوں میں سے بعض کو بعض کے ذریعے آزمائش میں ڈال دیا ہے تاکہ وہ کہیں ’’ کیا ہمارے درمیان بس یہی لوگ رہ گئے تھے جن پر اللہ کا فضل و کرم ہوا؟‘‘ ہاں ، کیا اللہ اپنے شاکر بندوں کو ان سے زیادہ نہیں جانتا۔
قَالُوْا لَىِٕنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰنُوْحُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِیْنَ ؕ
انہوں نے کہا”اے نُوحؑ ، اگر تُو باز نہ آیا تو پھِٹکارے ہوئے لوگوں میں شامل ہو کر رہے گا۔“84
اصل الفاظ ہیں لَتَکُوْ نَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْ مِیْنَ۔ اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ایک یہ کہ تم کو رجم کیا جائے گا، یعنی پتھر مار مار کر ہلاک کر دیا جائے گا۔ دوسرے معنی یہ ہو سکتے ہیں کہ تم پر ہر طرف سے گالیوں کی بوچھاڑ کی جائے گی، جہاں جاؤ گے دھتکارے اور پھٹکارے جوؤ گے۔ عربی محاورے کے لحاظ سے ان الفاظ کے یہ دونوں معنی لیے جا سکتے ہیں۔
قَالَ رَبِّ اِنَّ قَوْمِیْ كَذَّبُوْنِ
نُوحؑ نے دُعا کی”اے میرے ربّ، میری قوم نے مجھے جھُٹلا دیا۔85
یعنی آخری اور قطعی طور پر جھٹلا دیا ہے جس کے بعد اب کسی تصدیق و ایمان کی امید باقی نہیں رہی۔ ظاہر کلام سے کوئی شخص اس شبہ میں نہ پڑے کہ بس پیغمبر اور سرداران قوم کے درمیان اوپر کی گفتگو ہوئی اور ان کی طرف سے پہلی ہی تکذیب کے بعد پیغمبر نے اللہ تعالیٰ کے حضور رپورٹ پیش کر دی کہ یہ میری نبوت نہیں مانتے ، اب آپ میرے اور ان کے مقدمہ کا فیصلہ فرما دیں۔قرآن مجید میں مختلف مقامات پر اس طویل کشمکش کا ذکر کیا گیا ہے جو حضرت نوحؑ کی دعوت اور ان کی قوم کے اصرار علی الکفر کے درمیان صدیوں برپا رہی۔ سورہ عنکبوت میں بتایا گیا ہے کہ اس کشمکش کا زمانہ ساڑھے نو سو برس تک ممتد رہا ہے۔ فَلَبِثَ فِیْہِمْ اَلْفَ سَنَۃٍ اِلَّا خَمْسِیْنَ عَاماً (آیت 14 )۔ حضرت نوحؑ نے اس زمانہ میں پشت در پشت ان کے اجتماعی طرز عمل کو دیکھ کر نہ صرف یہ اندازہ فرما لیا کہ ان کے اندر قبول حق کی کوئی صلاحیت باقی نہیں رہی ہے ، بلکہ یہ رائے بھی قائم کر لی کہ آئندہ ان کی نسلوں سے بھی نیک ور ایماندار آدمیوں کے اٹھنے کی توقع نہیں ہے۔ اِنَّکَ اِنْ تَذَرْ ھُمْ یُضِلُّوْ ا عِبَا دَک َ وَ لَا یَلِدُوْ آ اِلَّا فَا جِراً کَفَّا راً (نوح، آیت 27)۔ ’’ اے رب اگر تو نے انہیں چھوڑ دیا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور ان کی نسل سے جو بھی پیدا ہو گا فاجر اور سخت منکر حق ہو گا‘‘۔ خود اللہ تعالیٰ نے بھی حضرت نوحؑ کی اس رائے کو درست قرار دیا اور اپنے علم کامل و شامل کی بنا پر فرمایا : لَنْ یُّؤْ مِنَ مِنْ قَوْ مِکَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰ مَنَ فَلَاَ تَبْتَئِسْ بِمَا کَا نُوْ ا یَفْعَلُوْنَ ہ (ہود،آیت 36 )۔ ’’ تیری قوم میں سے جو ایمان لا چکے بس وہ لا چکے ، اب کوئی ایمان لانے والا نہیں ہے۔ لہٰذا اب ان کے کرتوتوں پر غم کھانا چھوڑ دے۔ ‘‘
فَافْتَحْ بَیْنِیْ وَبَیْنَهُمْ فَتْحًا وَّنَجِّنِیْ وَمَنْ مَّعِیَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ
اب میرے اور ان کے درمیان دو ٹوک فیصلہ کر دے اور مجھے اور جو مومن میرے ساتھ ہیں ان کو نجات دے۔“86
یعنی صرف یہی فیصلہ نہ کر دے کہ حق پر کون ہے اور باطل پر کون، بلکہ وہ فیصلہ اس شکل میں نافذ فرما کہ باطل پرست تباہ کر یئے جائیں اور حق پرست بچا لیے جائیں۔ یہ الفاظ کہ ’’ مجھے اور میرے مومن ساتھیوں کو بچا لے ‘‘ خود بخود اپنے اندر یہ مفہوم رکھتے ہیں کہ باقی لوگوں پر عذاب نازل کر ور انہیں حرف غلط کی طرح مٹا کر رکھ دے۔
فَاَنْجَیْنٰهُ وَمَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِ
آخر کار ہم نے اس کو اور اس کے ساتھیوں کو ایک بھری ہوئی کشتی میں بچا لیا۔87
’’ بھری ہوئی کشتی‘‘ سے مراد یہ ہے ہ وہ کشتی ایمان لانے والے انسانوں اور تمام جانوروں سے بھر گئی تھی جن کا ایک ایک جوڑا ساتھ رکھ لینے کی ہدایت فرمائی گئی تھی۔ اس کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو سورہ ہود، آیت 40۔
ثُمَّ اَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبٰقِیْنَ ؕ
اور اس کے بعد باقی لوگوں کو غرق کر دیا
اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً ؕ وَمَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ
یقیناً اس میں ایک نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ ماننے والے نہیں
وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ
اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی
كَذَّبَتْ عَادُ لْمُرْسَلِیْنَ
عاد نے رسُولوں کو جھُٹلایا۔88
تقابل کے لیے ملاحظہ ہو الاعراف، آیات 65 تا 72۔ ہود، 50 تا 60۔ مزید براں اس قصے کی تفصیلات کے لیے قرآن مجید کے حسب ذیل مقامات بھی نگاہ میں رہیں : حٰم السجدہ آیات 13۔ 16۔ الاحقاف، 21۔ 26 الذاریات، 41۔ 45۔ القمر 18۔ 22۔ الحاقہ 4۔8۔ الفجر 6۔ 8۔
اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ هُوْدٌ اَلَا تَتَّقُوْنَ
یاد کرو جبکہ ان کے بھائی ہُودؑ نے اُن سے کہا تھا ”89 کیا تم ڈرتے نہیں؟
حضرت ہود کی اس تقریر کو سمجھنے کے یے ضروری ہے کہ اس قوم کے متعلق وہ معلومات ہماری نگاہ میں رہیں جو قرآن مجید نے مختلف مقامات پر ہمیں بہم پہنچائی ہیں ان میں بتایا گیا ہے کہ : قومِ نوح کی تباہی کے بعد دنیا میں جس قوم کو عروج عطا کیا گیا وہ یہ تھی : وَاذْکُرُ وْ آ اِذْ جَعَلَکُمْ خُلَفَآ ءَ مَنْ؍ بَعْدِ قَوْ مِ نُوْحٍ۔ (الاعراف۔ آیت 69) یاد کرو (اللہ کے اس فضل و انعام کو کہ ) نوح کی قوم کے بعد اس نے تم کو خلیفہ بنایا۔ جسمانی حیثیت سے یہ بڑے تنو مند اور زور آور لوگ تھے : وَزَا دَ کُمْ فِی الْخَلْقِ بَصْطَۃً (الاعراف، آیت 69 ) اور تمہیں جسمانی ساخت میں خوب تنو مند کیا۔ اپنے دور میں یہ بے نظیر قوم تھی۔ کوئی دوسری قوم اس کی ٹکر کی نہ تھی: اَلَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُھَا فِی الْبِلَا دِ ۃ (الفجر، آیت 8) جس کے مانند ملوں میں کوئی قوم پیدا نہیں کی گئی۔ اس کا مدن بڑا شاندار تھا، اونچے اونچے ستونوں کی بلند و بالا عمارتیں بنانا اس کی وہ خصوصیت تھی جس کے لیے وہ اس وقت کی دنیا میں مشہور تھی : اَلَمْ تَرَ کَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِعَادٍ ہ اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِO (الفجر، آیات 6۔7 ) تو نے دیکھا نہیں کہ تیرے رب نے کیا کیا ستونوں والے عادِ ارم کے ساتھ؟ اس مادی ترقی اور جسمانی زور آوری نے ان کو سخت متکبر بنا دیا تھا اور انہیں اپنی طاقت کا بڑا گھمنڈ تھا: فَاَمَّا عَادٌ فَاسْتَکْبَرُوْ ا فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الحَقِّ وَقَالُوْ ا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّ ۃً۔ (حٰم السجدہ۔ آیت 15) رہے عاد، تو انہوں نے زمین میں حق کی راہ سے ہٹ کر تکبر کی روش اختیار کی اور کہنے لگے کہ کون ہے ہم سے زیادہ زور آور۔ ان کا سیاسی نظام چند بڑے بڑے جباروں کے ہاتھ میں تھا جن کے آگے کوئی دم نہ مار سکتا تھا : وَاتَّبَعُوْ آاَمْرَ کُلِّ جَبَّارً عَنِیْدً O (ہود۔ آیت 59) اور انہوں نے ہر جبار دشمن حق کے حکم کی پیروی کی۔ مذہبی حیثیت سے یہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کے منکر نہ تھے ، بلکہ شرک میں مبتلا تھے۔ ان کو اس بات سے نکار تھا کہ بندگی صرف اللہ کی ہونی چاہیے : قَالُوْ آ اَجِئْتَنَا لَنَعْبُدَ اللہَ وَحْدَہٗ وَنَذَرَ مَا کَا نَ یَعْبُدُ اٰبَآ ؤْنَا۔ (الاعراف آیت 70) انہوں نے (ہود سے ) کہا کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ ہم صرف ایک اللہ کی بندگی کریں اور ان کو چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے تھے ؟ ان خصوصیات کو نظر میں رکھنے سے حضرت ہودؑ کی یہ تقریر دعوت اچھی طرح سمجھ میں آ سکتی ہے۔
اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ
میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں
فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِیْعُوْنِ
لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو
وَمَاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰی رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ؕ
میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے
اَتَبْنُوْنَ بِكُلِّ رِیْعٍ اٰیَةً تَعْبَثُوْنَ
یہ تمہارا کیا حال ہے کہ ہر اُونچے مقام پر لاحاصل ایک یادگار عمارت بنا ڈالتے ہو90
یعنی محض اپنی عظمت و خوشحالی کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایسی علی شان عمارتیں تعمیر کرتے ہو جن کا کوئی مصرف نہیں ، جن کی کوئی حاجت نہیں ، جن کا کوئی فائدہ اس کے سوا نہیں ہ وہ بس تمہاری دولت و شوکت کی نمود کے لیے ایک نشانی کے طور پر کھڑی رہیں۔
وَتَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَ
اور بڑے بڑے قصر تعمیر کرتے ہو گویا تمہیں ہمیشہ رہنا ہے۔91
یعنی تمہاری دوسری قسم کی تعمیرات ایسی ہیں جو اگر چہ استعمال کے لیے ہیں ، مگر انکو شاندار، مزیَّن اور مستحکم بنانے میں تم اس طرح اپنی دولت، محنت اور قابلیتیں صرف کرتے ہو جیسے دنیا میں ہمیشہ رہنے کا سامان کر رہے ہو، جیسے تمہاری زندگی کا مقصد بس یہیں کے عیش کا اہتمام کرنا ہے اور اس کے ماوراء کوئی چیز نہیں ہے۔ جس کی تمہیں فکر ہو۔ اس سلسلے میں یہ بات ملحوظ خاطر رہنی چاہیے کہ بلا ضرورت یا ضرورت سے زیادہ شاندار عمارتیں بنانا کوئی منفرد فعلن ہیں ہے جس کا ظہور کسی قوم میں اس طرح ہو سکتا ہو کہ اس کی اور سب چیزیں تو ٹھیک ہوں اور بس یہی ایک کام وہ غلط کرتی ہو۔ یہ صورت حال تو ایک قوم میں رونما ہی اس وقت ہوتی ہے جب ایک طرف اس میں دولت کی ریل پیل ہوتی اور دوسری طرف اس کے اندر نفس پرستی و مادہ پرستی کی شدت بڑھتے بڑھتے جنون کی حد کو پہنچ جاتی ہے۔ اورت یہ حالت جب کسی قوم میں پیدا ہوتی ہے تو اس کا سارا ہی نظام تمدن فاسد ہو جاتا ہے۔ حضرت ہود علیہ السلام نے اپنی قوم کی تعمیرات پر جو گرفت کی اس سے مقصود یہ نہیں تھا کہ ان کے نزدیک صرف یہ عمارتیں ہی بجائے خود قابل اعتراض تھیں ، بلکہ در اصل وہ بحیثیت مجموعی ان کے فساد تمدن و تہذیب پر گرفت کر رہے تھے اور ان عمارتوں کا ذکر انہوں نے اس حیثیت سے کیا تھا کہ سارے ملک میں ہر طرف یہ بڑے بڑے پھوڑے اس فساد کی نمایاں ترین علامت کے طور پر ابھرے نظر آتے تھے۔
وَاِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَ
اور جب کسی پر ہاتھ ڈالتے ہو جبّار بن کر ڈالتے ہو۔92
یعنی اپنا معیار زندگی بلند کرنے میں تو تم اس قدر غلو کر گئے ہو کہ رہنے کے لیے تم کو مکان نہیں محل اور قصر درکار ہیں ، اور ان سے بھی جب تمہاری تسکین نہیں ہوتی تو بلا ضرورت عالی شان عمارتیں بنا ڈالتے ہو جن کا کوئی مصرف اظہار وقت و ثروت کے سوا نہیں ہے۔ لیکن تمہارا معیار انسانیت اتنا گرا ہوا ہے کہ کمزوروں کے لیے تمہارے دلوں میں کوئی رحم نہیں ، غریبوں کے لیے تمہاری سر زمین کوئی انصاف نہیں ، گرد و پیش کی ضعیف قومیں ہوں یا خود اپنے ملک کے پست طبقات، سب تمہارے جبر اور ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں اور کوئی تمہاری چیرہ دستیوں سے بچا نہیں رہ گیا ہے۔
فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِیْعُوْنِ
پس تم لوگ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو
وَاتَّقُوا الَّذِیْۤ اَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُوْنَ
ڈرو اُس سے جس نے وہ کچھ تمہیں دیا ہے جو تم جانتے ہو
اَمَدَّكُمْ بِاَنْعَامٍ وَّبَنِیْنَ
تمہیں جانور دیے، اولادیں دیں
وَجَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ
باغ دیے اور چشمے دیے
اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ ؕ
مجھے تمہارے حق میں ایک بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے"
قَالُوْا سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَوَعَظْتَ اَمْ لَمْ تَكُنْ مِّنَ الْوٰعِظِیْنَ
انہوں نے جواب دیا "تو نصیحت کر یا نہ کر، ہمارے لیے یکساں ہے
اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الْاَوَّلِیْنَ
یہ باتیں تو یونہی ہوتی چلی آئی ہیں۔93
اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ جو کچھ ہم کر رہے ہیں یہ آج کوئی نئی چیز نہیں ہے ، صدیوں سے ہمارے باپ ددا یہی کچھ کرتے چلے آ رہے ہیں۔ یہی ان کا دین تھا، یہی ن کا تمدن تھا اور ایسے ہی ان کے اخلاق اور معاملات تھے۔ کون سی آفت ان پر ٹوٹ پڑی تھی کہ اب ہم اس کے ٹوٹ پڑنے کا اندیشہ کریں۔ اس طرز زندگی میں کوئی خرابی ہوتی تو پہلے ہی وہ عذاب آ چکا ہوتا جس سے تم ڈراتے ہو۔ دوسرے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ جو باتیں تم کر رہے ہو ایسی ہی باتیں پہلے بھی بہت سے مذہبی خبطی اور اخلاق کی باتیں بگھارنے والے کرتے رہے ہیں ، مگر دنیا کی گاڑی جس طرح چل رہی تھی اسی طرح چلے جا رہی ہے۔ تم جیسے لوگوں کی باتیں نہ ماننے کا یہ نتیجہ کبھی بر آمد نہ ہوا کہ یہ گاڑی کسی صدمہ سے دو چار ہو کر الٹ گئی ہوتی۔
وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ
اور ہم عذاب میں مُبتلا ہونے والے نہیں ہیں"
فَكَذَّبُوْهُ فَاَهْلَكْنٰهُمْ ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً ؕ وَمَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ
آخر کار انہوں نے اُسے جھُٹلا دیا اور ہم نے ان کو ہلاک کر دیا۔94یقیناً اس میں ایک نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ ماننے والے نہیں ہیں
اس قوم کے ہلاک ہونے کی جو تفصیل قرآن مجید میں بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اچانک زور کی آندھی اُٹھی۔ یہ لوگ دور سے اس کو اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھ کر سمجھے کہ گھٹا چھائی ہے۔ خوشیاں منانے لگے کہ اب خوب بارش ہو گی۔ مگر وہ تھا خدا کا عذاب۔ آٹھ دن اور سات راتوں تک مسلسل ایسی طوفانی ہوا چلتی رہی جس نے ہر چیز کو تباہ کر ڈالا۔ اس کے زور کا یہ عالم تھا کہ اس نے آدمیوں کو اُٹھا اُٹھا کر پھینک دیا۔ اس کی گرمی و خشکی کا یہ حال تھا کہ جس چیز پر گزر گئی اسے بوسیدہ کر کے رکھ دیا۔ اور یہ طوفان اس وقت تک نہ تھا جب تک اس ظالم قوم کا ایک ایک متنفس ختم نہ ہو گیا۔ بس ان کی بستیوں کے کھنڈر ہی ان کے انجام کی داستان سنانے کے لیے کھڑے رہ گئے۔ اور آج کھنڈر بھی باقی نہیں ہیں۔ اَحقاف کا پورا علاقہ ایک خوفناک ریگستان بن چکا ہے۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہم القرآن، جلد چہارم، الاحقاف، حاشیہ 25 )۔
وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ
اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی
كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِیْنَ
ثمود نے رسُولوں کو جھُٹلایا۔95
تقابل کے لیے ملاحظہ ہو الاعراف، آیات 73 تا 79۔ ہود، 61۔ 68۔ الحجر، 80۔ 84۔ بنی اسرائیل 59۔ مزید تفصیلات کے لیے قرآن مجید کے حسب ذیل مقامات بھی پیش نظر رہیں : النمل، 45۔ 53۔الذاریات، 43۔ 45۔ القمر، 23۔ 31۔ الحاقہ، 4۔5۔ الفجر، 9۔ الشمس، 11۔ اس قوم کے متعلق قرآن مجید میں مختلف مقامات پر جو تصریحات کی گئی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ عاد کے بعد جس قوم کو عروج عطا کیا گیا وہ یہی تھی، جَعَلَکُمْ خُلَفَآءَ مَنْ؍ بَعْدِ عَادٍ (الاعراف آیت 74 ) مگر اس کی تمدنی ترقی نے بھی بالآخر وہی شکل اختیار کی جو عاد کی ترقی نے کی تھی، یعنی معیار زندگی بلند سے بلند تر اور معیار آدمیت پست سے پست تر ہوتا چلا گیا۔ ایک طرف میدانی علاقوں میں عالی شان قصر اور پہاروں میں ایلورا اور اجنٹہ کے غاروں جیسے مکان بن رہے تھے۔ دوسری طرف معاشرے میں شرک و بت پرستی کا زور تھا اور زمین ظلم و ستم سے لبریز ہو رہی تھی۔ قوم کے بد ترین مفسد لوگ اس کے لیڈر بنے ہوئے تھے۔ اونچے طبقے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں سرشار تھے۔ حضرت صالح کی دعوت حق نے اگر اپیل کیا تو نچلے طبقے کے کمزور لوگوں کو کیا۔ اونچے طبقوں نے اسے ماننے سے صرف اس لیے انکار کر دیا کہ اِنَّا بِالَّذِیْٓ اٰمَنْتُمْ بِہٖ کٰفِرُوْنَ، ’’ جس چیز پر تم ایمان لائے ہو اس کو ہم نہیں مان سکتے ‘‘۔
اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ صٰلِحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَ
یاد کرو جبکہ ان کے بھائی صالحؑ نے ان سے کہا "کیا تم ڈرتے نہیں؟
اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ
میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسُول ہوں۔96
حضرت صالحؑ کی امانت و دیانت اور غیر معمولی قابلیت کی شہادت خود اس قوم کے لوگوں کی زبان سے قرآن مجید ان الفاظ میں نقل کرتا ہے : قَالُوْ ا یٰصَالِحُ قَدْ کُنْتَ فِیْنَا مَرْجُوًّ ا قَبْلَ ھٰذَا۔ (ہود۔آیت 62 ) ’’ انہوں نے کہا اے صالحؑ، اس سے پہلے تو تم ہمارے درمیان ایسے آدمی تھے جس سے ہماری بڑی امیدیں وابستہ تھیں ‘‘۔
فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِیْعُوْنِ
لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو
وَمَاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰی رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ؕ
میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں، میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے
اَتُتْرَكُوْنَ فِیْ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِیْنَ
کیا تم اُن سب چیزوں کے درمیان ، جو یہاں ہیں ، بس یوں ہی اطمینان سے رہنے دیے جاوٴ گے؟97
یعنی کیا تمہارا خیال یہ ہے کہ تمہارا یہ عیش دائمی اور ابدی ہے ؟ کیا اس کو کبھی زوال آنا نہیں ہے ؟ کیا تم سے کبھی ان نعمتوں کا حساب نہ لیا جائے گا اور کبھی ان اعمال کی باز پرس نہ ہو گی جن کا تم ارتکاب کر رہے ہو؟
فِیْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ
اِن باغوں اور چشموں میں؟
وَّزُرُوْعٍ وَّنَخْلٍ طَلْعُهَا هَضِیْمٌ
اِن کھیتوں اور نخلستانوں میں جن کے خوشے رس بھرے ہیں؟98
اصل میں لفظ ھَض،یْم استعمال ہوا ہے جس سے مراد کھجور کے ایسے خوشے ہیں جو پھلوں سے لد کر جھک گئے ہوں اور جن کے پھل پکنے کے بعد نرمی اور رطوبت کی وجہ سے پھٹے پڑتے ہوں۔
وَتَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا فٰرِهِیْنَ
تم پہاڑ کھود کھود کر فخریہ اُن میں عمارتیں بناتے ہو۔99
جس طرح عاد کے تمدن کی نمایاں ترین خصوصیت یہ تھی کہ وہ اونچے اونچے ستونوں والی عمارتیں بناتے تھے ، اس طرح ثمود کے تمدن کی سب سے زیادہ نمایاں خصوصیت، جس کی بنا پر وہ قدیم زمانے کی قوموں میں مشہور تھے ، یہ تھی کہ وہ پہاڑوں کو تراش تراش کر ان کے اندر عمارتیں بناتے تھے۔ چنانچہ سورہ فجر میں جس طرح عاد کو ذَاتُ الْعِمَاد (ستونوں والے ) کا لقب دیا گیا ہے اسی طرح ثمود کا ذکر اس حوالے سے کیا گیا ہے کہ اَلَّذِیْنَ جَا بُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ، ’’ وہ جنہوں نے وادی میں چٹانیں تراشی ہیں ‘‘۔ اس کے علاوہ قرآن میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ اپنے ہاں میدانی علاقوں میں بھی بڑے بڑے قصر تعمیر کرتے تھے ، تَتَّخِذُوْ نَ مِنْ سُھُوْ لِھَا قُصُوْ راً۔ (الاعراف۔آیت 74)۔ اور ان تعمیرات کی غرض و غایت کیا تھی؟ قرآن اس پر لفظ فٰرِھِیْنَ سے روشنی ڈالتا ہے۔ یعنی یہ سب کچھ اپنی بڑائی، اپنی دولت و قوت اور اپنے کمالات فن کی نمائش کے لیے تھا، کوئی حقیقی ضرورت ان کے لیے داعی نہ تھی۔ ایک بگڑے ہوئے تمدن کی شان یہی ہوتی ہے۔ ایک طرف معاشرے کے غریب لوگ سر چھپانے تک کو ڈھنگ کی جگہ نہیں پا تے۔ دوری طرف امراء اور اہل ثروت رہنے کے لیے جب ضرورت سے زیادہ محل بنا چکتے ہیں تو بِلا ضرورت نمائشی یادگاریں تعمیر کرنے لگتے ہیں۔ ثمود کی ان عمارتوں میں سے کچھ اب بھی باقی ہیں جنہیں 1959 ء کے دسمبر میں میں نے خود دیکھا ہے۔ مقابل کے صفحات میں ان کی کچھ تصویریں دی جاری ہیں۔ یہ جگہ مدینہ طیبہ اور تبوک کے درمیان حجاز کے مشہور مقام العُلاء (جسے عہد نبوی وادی القریٰ کہا جاتا تھا) سے چند میل کے فاصلے پر بجانب شمال واقع ہے۔ آج بھی اس جگہ کو مقامی باشندے الحجر اور مدائنِ صالح کے ناموں ہی سے یاد کرتے ہیں۔ اس علاقے میں العُلاء تو اب بھی ایک نہایت سر سبز و شاداب وادی ہے جس میں کثرت سے چشمے اور باغات ہیں ، مگر الحجر کے درو پیش بڑی نحوست پائی جاتی ہے۔ آبادی بارے نام ہے۔ روئیدگی بہت کم ہے۔ چند کنوئیں ہیں۔ انہی میں سے ایک کنوئیں کے متعلق مقامی آبادی میں یہ روایت چلی آ رہی ہے کہ حضرت صالح کی اونٹنی اسی سے پانی پیتی تھی۔ اب وہ ترکی عہد کی ایک ویران چھوٹی سی فوجی چوکی کے اندر پایا جاتا ہے اور بالکل خشک پڑا ہے (اس کی تصویر بھی مقابل کے صفحات میں دی جا رہی ہے )۔ اس علاقے میں جب ہم داخل ہوئے تو العلاء کے قریب پہنچتے ہی ہر طرف ہمیں ایسے پہاڑ نظر آئے جو بالکل کھِیل کِھیل ہو گئے ہیں۔ صاف محسوس ہوتا تھا کہ کسی سخت ہولناک زلزلے نے انہیں سطح زمین سے چوٹی تک جھنجوڑ کر قاش قاش کر رکھا ہے (ان پہاڑوں کی بھی کچھ تصویریں مقابل کے صفحات پر دی جا رہی ہیں )۔ اسی طرح کے پہاڑ ہمیں مشرق کی طرف العلاء سے خیبر جاتے ہوئے تقریباً 50 میل تک اور شمال کی طرف ریاست اردن کے حدود میں 30۔40۔ میل اندر تک ملتے چلے گئے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ تین چار سو میل لمبا اور 100 میل فورا ایک علاقہ تھا جسے ایک زلزلہ عظیم نے ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ثمود کی جو عمارتیں ہم نے الحجر میں دیکھی تھیں ، اسی طرح کی چند عمارتیں ہم کو خلیج عقبہ کے کنارے مدین کے مقام پر، اور اردن کی ریاست میں پٹرا ( Petra) کے مقام پر بھی ملیں۔ خصوصیت کے ساتھ پٹرا میں ثمود کی عمارات اور نَبطیوں کی بنائی ہوئی عمارات پہلو بہ پہلو موجود ہیں اور ان کی تراش خراش اور طرز تعمیر میں اتنا نمایاں فرق ہے کہ ہر شخص ایک نظر دیکھ کر ہی سمجھ سکتا ہے کہ یہ دونوں نہ ایک زمانے کی ہیں اور نہ یہ ایک ہی قوم کا طرز تعمیر ہے (ان کے الگ الگ نمونوں کی تصویریں بھی ہم نے مقابل کے صفحات میں دی ہیں )۔ انگریز مستشرق ڈاٹی( ( Daughty قرآن کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے الحجر کی عمارات کے متعلق یہ دعویٰ کرتا ہے کہ یہ ثمود کی نہیں بلکہ، نبطیوں کی نائی ہوئی عمارات ہیں۔ لیکن دونوں قوموں کی عمارات کا فرق اس قدر واضح ہے کہ ایک اندھا ہی انہیں ایک قوم کی عمارات کہہ سکتا ہے۔ میرا اندازہ یہ ہے کہ پہاڑ تراش کر ان کے اندر عمارتیں بنانے کا فن ثمود سے شروع ہوا، اس کے ہزاروں سال بعد نبطیوں نے دوسری اور پہلی صدی قبل مسیح میں اسے عروج پر پہنچایا، اور پھر ایلورہ میں (جس کے غار پٹرا سے تقریباً سات سو برس بعد کے ہیں ) یہ فن اپنے کمال کو پہنچ گیا۔
فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِیْعُوْنِ
اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو
وَلَا تُطِیْعُوْۤا اَمْرَ الْمُسْرِفِیْنَ
اُن بے لگام لوگوں کی اطاعت نہ کرو
الَّذِیْنَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَلَا یُصْلِحُوْنَ
جو زمین میں فساد برپا کرتے ہیں اور کوئی اصلاح نہیں کرتے۔“100
یعنی اپنے ان امراء و رؤساء اور ان رہنماؤں اور حاکموں کی اطاعت چھوڑ دو جن کی قیادت میں تمہارا یہ فاسد نظام زندگی چل رہا ہے۔ یہ مُسرف لوگ ہیں ، اخلاق کی ساری حدیں پھاند کر شتر بے مہار بن چکے ہیں۔ ان کے ہاتھوں ے کوئی اصلاح نہیں ہو سکتی۔ یہ جس نظام کو چلائیں گے اس میں بگاڑ ہی پھیلے گا۔ تمہارے لیے فلاح کی کوئی صورت اگر ہے تو صرف یہ کہ اپنے اندر خدا ترسی پیدا کرو اور مفسدوں کی اطاعت چھوڑ کر میری اطاعت کرو، کیونکہ میں کدا کا رسول ہوں ، میری امانت و دیانت کو تم پہلے سے جانتے ہو، اور میں ایک بے غرض آدمی ہوں ، اپنے کسی ذاتی فائدے کے لیے اصلاح کا یہ کام کرنے نہیں اٹھا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ تھا وہ مختصر منشور جو حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس میں صرف مذہبی تبلیغ ہی نہ تھی، تمدنی و اخلاقی اصلاح اور سیاسی انقلاب کی دعوت بھی ساتھ ساتھ موجود تھی۔
قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَ
اُنہوں نے جواب دیا”تُو محض ایک سحر زدہ آدمی ہے۔101
’’سحر زدہ‘‘ یعنی دیوانہ و مجنون، جس کی عقل ماری گئی ہو۔ قدیم تصورات کے مطابق پال پن یا تو کسی جِن کے اثر سے لاحق ہوتا تھا یا جادو کے اثر سے۔ اس لیے وہ جسے پاگل کہنا چاہتے تھے اس کو یا تو ’’مجنون‘‘ کہتے تھے یا مسحور اور مستحّر۔
مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا فَاْتِ بِاٰیَةٍ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ
تُو ہم جیسے ایک انسان کے سوا اور کیا ہے۔ لا کوئی نشانی اگر تُو سچا ہے۔102“
یعنی بظاہر تو ہم میں اور تجھ میں کوئی فرق نظر نہیں آتا کہ ہم تجھے خدا کا فرستادہ مان لیں۔ لیکن اگر تو اپنے مامور من اللہ اور مرسل من جانت اللہ ہونے کے دعوے میں سچا ہے تو کوئی ایسا محسوس معجزہ پیش کر جس سے ہمیں یقین آ جائے کہ واقعی کائنات کے خالق اور زمین و آسمان کے مالک نے تجھ کو ہمارے پاس بھیجا ہے۔
قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّلَكُمْ شِرْبُ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ
معجزے کے مطالبے پر اونٹنی پیش کرنے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہو محض ایک عام اونٹنی نہ تھی جیسی ہر عرب کے پاس وہاں پانی جاتی تھی، بلکہ ضرور اس کی پیدائش اور اس کے ظہور میں یا اس کی خلقت میں کوئی ایسی چیز تھی جسے معجزے کی طلب پر پیش کرنا معقول ہوتا۔ اگر حضرت صالح اس مطالبے کے جواب میں یوں ہی کسی اونٹنی کو پکڑ کے کھڑا کر دیتے تو ظاہر ہے کہ یہ ایک نہایت فضول حرکت ہوتی جس کی کسی پیغمبر تو در کنار، ایک عام معقول آدمی سے بھی توقع نہیں کی جا سکتی۔ یہ بات یہاں تو صرف سیاق کلام ہی کے اقتضاء سے سمجھ میں آتی ہے ، لیکن دوسرے مقامات پر قرآن میں صراحت کے ساتھ اس اونٹنی کے وجود کو معجزہ کہا گیا ہے۔ سورہ اعراف اور سورہ ہود میں فرمایا گیا ھٰذِہٖ نَا قَۃُ اللہِ لَکُمْ ایٰۃً، ’’ یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے نشانی کے طور پر ہے ’’۔ اور سورہ بنی اسرائیل میں اس سے بھی زیادہ پر زور الفاظ میں ارشاد ہوا ہے : وَمَا مَنَعَنآ اَنْ نُّرْ سِلَ بِا لْایٰٰتٍ اِلَّا اَنْ کَذَّب َ بِھَا الْاَوَّلُوْ نَ، وَ اٰتَیْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَۃَ مُبْصِرَۃً فَظَلَمُوْ ا بِھَا وَمَا نُرْ سِلُ بِالْایٰٰتِ اِلَّا تَخْوِیْفاً ہ (آیت 59) ہم کو نشانیاں بھیجنے سے کسی چیز نے نہیں روکا مگر اس بات نے کہ پہلے لوگ ان کو جھٹلا چکے ہیں اور ہم ثمود کے سامنے آنکھوں دیکھتے اونٹنی لے آئے پھر بھی انہوں نے اس کے ساتھ ظلم کیا۔ نشانیاں تو ہم خوف دلانے ہی کے لیے بھیجتے ہیں (تماشا دکھانے کے لیے تو نہیں بھیجتے )۔ اس پر مزید وہ چیلنج ہے جو اونٹنی کو میدان میں لے آنے کے بعد اس کافر قوم کو دیا گیا۔ اس کی نوعیت ہی ایسی تھی کہ صرف ایک معجزہ ہی پیش کر کے ایسا چیلنج دیا جا سکتا تھا۔
یعنی ایک دن تنہا یہ اونٹنی تمہارے کنوؤں اور چشموں سے پانی پیے گے اور ایک دن ساری قوم کے آدمی اور جانور پیئیں گے۔ خبر دار، اس کی باری کے دن کوئی شخص پانی لینے کی جگہ پھٹکنے نہ پائے۔ یہ چیلنج بجائے خود نہایت سخت تھا۔ لیکن عرب کے مخصوص حالات میں تو کسی قوم کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی دوسرا چیلنج ہو نہیں سکتا تھا۔ وہاں تو پانی ہی کے مسئلے پر خون خرابے ہو جاتے تھے ، قبیلہ قبیلے سے لڑ جاتا تھا اور جان جوکھوں کی بازی لگا کر کسی کنوئیں یا چشمے سے پانی لینے کا حق حاصل کیا جاتا تھا۔ اس سر زمین میں کسی شخص کا اَٹھ کر یہ کہہ دینا کہ ایک دن میری اکیلی اونٹنی پانی پیے گی اور باقی ساری قوم کے آدمی اور جانور صرف دوسرے دن ہی پانی لے سکیں گے ، یہ معنی کہتا تھا کہ وہ در اصل پوری قوم کو لڑائی کا چیلنج دے رہا ہے۔ ایک زبر دست لشکر کے بغیر کوئی آدمی عرب میں یہ بات زبان سے نہ نکال سکتا تھا اور کوئی قوم یہ بات اس وقت تک نہ سن سکتی تھی جب تک وہ اپنی آنکھوں سے یہ نہ دیکھ رہی ہو کہ چیلنج دینے والے کی پشت پر اتنے شمشیر زن اور تیر انداز موجود ہیں جو مقابلے پر اُٹھنے والوں کو کچل کر رکھ دیں گے۔ لیکن حضرت صالح نے بغیر کسی لاؤ لشکر کے تنہا اٹھ کر یہ چیلنج اپنی قوم کو دیا اور قوم نے نہ صرف یہ کہ اس کو کان لٹکا کر سنا بلکہ بہت دنوں تک ڈر کے مارے وہ اس کی تعمیل بھی کرتی رہی۔ سورہ اعراف اور سورہ ہود میں اس پر اتنا اضافہ اور ہے کہ : ھٰذِہٖ نَاقَۃُ اللہِ لَکُمْ ایٰۃً فَذَرُوْھَا تَاْ کُلُ فِیْ اَرْضِ اللہِ وَ لَا تَمَسُّوَھَا بِسُوْٓءٍ، ’’ یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے نشانی کے طور پر ہے ، چھوڑ دو اسے کہ خدا کی زمین میں چرتی پھرے ، ہر گز اسے بُرے ارادے سے نہ چھونا‘‘۔ یعنی چیلنج صرف اتنا ہی نہ تھا کہ ہر دوسرے روز اکیلی یہ اونٹنی دن بھر سارے علاقے کے پانی کی اجارہ دار رہے گی، بلکہ اس پر مزید یہ چیلنج بھی تھا کہ یہ تمہارے کھیتوں اور باغوں اور نخلستانوں اور چراگاہوں میں دندناتی پھرے گی، جہاں چاہے گی جائے گی، جو کچھ چاہے گی کھائے گی، خبر دار جو کسی نے اسے چھیڑا۔
وَلَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَظِیْمٍ
اس کو ہرگز نہ چھیڑنا ورنہ ایک بڑے دن کا عذاب تم کو آ لے گا"
فَعَقَرُوْهَا فَاَصْبَحُوْا نٰدِمِیْنَ
یہ مطلب نہیں ہے کہ جس وقت انہوں نے حضرت صالح سے یہ چیلنج سنا اسی وقت وہ اونٹنی پر پل پڑے اور اس کونچیں کاٹ ڈالیں ، بلکہ کافی مدت تک یہ اونٹنی ساری قوم کے لیے ایک مسئلہ بنی رہی، لوگ اس پر رلوں میں اونٹتے رہے ، مشورے ہوتے رہے ، اور آخر کار ایک من چلے سردار نے اس کام کا بیڑا اٹھایا کہ وہ قوم کو اس سے نجات دلائے گا۔ سورہ شمس اس شخص کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے : اِذِنٰبَعَثَ اَشْقَا ھَا، ’’ جب کہ اٹھا اس قوم کا سب سے زیادہ شقی آدمی‘‘۔ اور سورہ قمر میں فرمایا گیا ہے : فَنَا دَوْا صَاحِبَھُمْ فَتَعَا طیٰ فَعَقَرَ ’’ انہوں نے اپنے رفیق سے اپیل کی، آخر کار وہ یہ کام اپنے ذمہ لے کر اٹھا اور اس نے کوچیں کاٹ ڈالیں ‘‘۔
قرآن میں دوسرے مقامات پر اس عذاب کی جو تفصیل بیان ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ جب اونٹنی مار ڈالی گئی تو حضرت صالحؑ نے اعلان کیا : تَمَتَّعُوْا فِیْ دَار ِ کُمْ ثَلٰثَۃَ اَیَّامٍ، ’’ تین دن اپنے گھروں میں مزے کر لو ‘‘(ہود، آیت 65 )۔ اس نوٹس کی مدت ختم ہونے پر رات کے پچھلے پہر صبح کے قریب ایک زبر دست دھماکا ہوا اور اس کے ساتھ ایسا سخت زلزلہ آیا جس نے آن کی آن میں پوری قوم کا تباہ کر کے رکھ دیا۔ صبح ہوئی تو ہر طرف اس طرح کچلی ہوئی لاشیں پڑی تھیں جیسے باڑے کی باڑھ میں لگی ہوئی سوکھی جانوروں کی آمد و رفت سے پا مال ہو کر رہ گئی ہوں۔ نہ ان کے سنگین قصر انہیں اس آفت سے بچا سکے نہ پہاڑوں میں کھو دے ہوئے غار۔ اِنَّآ اَر ْ سَلْنَا عَلَیْہِمْ صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً فَکَا نُوْ اَکَھَشِیْمِ الْمُحْتَظِرِ (القمر، آیت 31) فَاَخَذَتْھُمُ الرَّجْفَۃُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَا رِھِمْ جٰثِمِیْنَ (اعراف، آیت 78) فَاَ خَذَ ثھُمُ الصَّیْحَہُ مُصْبِحِنَ ہ فَمَآ اَغْنیٰ عَنْہُمْ مَّا کَا نُوْا یَکْسِبُوْنَ O (الحجر، آیات 83۔ 84 )۔
فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً ؕ وَمَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ
عذاب نے انہیں آ لیا یقیناً اس میں ایک نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر ماننے والے نہیں
وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ
اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی
كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطِ لْمُرْسَلِیْنَ
لُوطؑ کی قوم نے رسُولوں کو جھُٹلایا۔107
تقابل کے لیے ملاحظہ ہو الاعراف، آیات 80 تا 84۔ ہود، 74 تا 83۔ الحجر 57 تا 77۔ الانبیاء 71 تا 75 النمل 54 تا 58۔ العنکبوت 28۔35۔ الصافات 133 تا 138۔ القمر 33 تا 39۔
اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ لُوْطٌ اَلَا تَتَّقُوْنَ
یاد کرو جبکہ ان کے بھائی لوطؑ نے ان سے کہا تھا "کیا تم ڈرتے نہیں؟
اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ
میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں
فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِیْعُوْنِ
لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو
وَمَاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰی رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ؕ
میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں، میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے
اَتَاْتُوْنَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِیْنَ
کیا تم دنیا کی مخلوق میں سے مردوں کے پاس جاتے ہو108
اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں : ایک یہ کہ ساری مخلوق میں سے صرف مردوں کو تم نے اس غرض کے لیے چھانٹ لیا ہے کہ ان سے خواہش نفس پوری کرو حالانکہ دنیا میں بکثرت عورتیں موجود ہیں۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ دنیا بھر میں ایک تم ہی ایسے لوگ ہو جو شہوت رانی کے لیے مردوں کے پاس جاتے ہو، ورنہ انسانوں میں کوئی دوسری قوم ایسی نہیں ہے ، بلکہ حیوانات میں سے بھی کوئی جانور یہ کام نہیں کرتا۔ اس دوسرے مفہوم کی صراحت سورہ اعراف اور سورہ عنکبوت میں یوں کی گئی ہے : اَتَاْ تَوْنَ الْفَاحِشَۃَ مَا سَبَقَکُمْ بِھَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ O ’’ کیا تم وہ بے حیائی کا کام کرتے ہو جو دنیا کی مخلوق میں سے کسی نے تم سے پہلے نہیں کیا؟‘‘
وَتَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ عٰدُوْنَ
اس کے بھی دو مطلب ہو سکتے ہیں : ایک یہ کہ اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے جو بیویاں خدا نے پیدا کی تھیں انہیں چھوڑ کر تم غیر فطری ذریعے یعنی مردوں کا اس غرض کے لیے استعمال کرتے ہو۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خود ان بیویوں کے اندر خدا نے اس خواہش کی تکمیل کا جو فطری راستہ رکھا تھا اسے چھوڑ کر تم غیر فطری راستہ اختیار کرتے ہو۔ اس دوسرے مطلب میں یہ اشارہ نکلتا ہے کہ وہ ظالم لوگ اپنی عورتوں سے بھی خلاف وضع فطری فعل کا ارتکاب کرتے تھے۔ بعید نہیں کہ وہ یہ حرکت خاندانی منصوبہ بندی کی خاطر کرتے ہوں۔
یعنی تمہارا صرف یہی ایک جرم نہیں ہے۔ تمہاری زندگی کا تو سارا ہنجار ہی حد سے زیادہ بگڑ چکا ہے۔ قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر ان کے اس عام بگاڑ کی کیفیت اس طرح بیان کی گئی ہے : اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَۃَ وَاَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ O (النمل آیت 54)۔ ’’ کیا تمہارا یہ حال ہو گیا ہے کہ کھلم کھلا دیکھنے والوں کی نگاہوں کے سامنے فحش کام کرتے ہو؟’’ اَئِنَّکُمْ لَتَاْ تُوْنَ الرِّ جَالَ وَتَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ وَتَاْتُوْ نَ فِیْ نَا دِیْکُمُ الْمُنْکَرَ (العنکبوت آیت 29) ’’ کیا تم ایسے بگڑے گئے ہو کہ مردوں سے مباشرت کرتے ہو، راستوں پر ڈاکے مارتے ہو، اور اپنی مجلسوں میں علانیہ برے کام کرتے ہو؟‘‘(مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، الحجر، حاشیہ 39)۔
قَالُوْا لَىِٕنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰلُوْطُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِیْنَ
انہوں نے کہا”اے لُوطؑ ، اگر تُو اِن باتوں سے باز نہ آیا تو جو لوگ ہماری بستیوں سے نکالے گئے ہیں اُن میں تُو بھی شامل ہو کر رہے گا۔“111
یعنی تجھے معلوم ہے کہ اس سے پہلے جس نے بھی ہمارے خلاف زبان کھولی ہے یا ہماری حرکتوں پر احتجاج کیا ہے ،یا ہماری مرضی کے خلاف کام کیا ہے ، وہ ہماری بستیوں سے نکالا گیا ہے۔ اب اگر تو یہ باتیں کرے گا تو تیرا حشر بھی ایسا ہی ہو گا۔ سورہ اعراف اور سورہ نمل میں بیان ہوا ہے کہ حضرت لوطؑ کو یہ نوٹس دینے سے پہلے اس شریر قوم کے لوگ آپس میں یہ طے کر چکے تھے کہ اَخْرِجُوْٓ ا اٰلَ لُوْطٍ مِّنْ قَرْ یَتِکُمْ اِنَّھُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَھَّرُوْنَ O ’’لوطؑ اور اس کے خاندان والوں اور ساتھیوں کو اپنی بستی سے نکال باہر کرو۔ یہ لوگ بڑے پاک باز بنتے ہیں۔ ان ’’صالحین‘‘ کو باہر کا راستہ دکھاؤ‘‘۔
قَالَ اِنِّیْ لِعَمَلِكُمْ مِّنَ الْقَالِیْنَ ؕ
اس نے کہا "تمہارے کرتوتوں پر جو لوگ کُڑھ رہے ہیں میں اُن میں شامل ہوں
رَبِّ نَجِّنِیْ وَاَهْلِیْ مِمَّا یَعْمَلُوْنَ
اے پروردگار، مجھے اور میرے اہل و عیال کو ان کی بد کرداریوں سے نجات دے۔“112
اس کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ ہمیں ان کے اعمال بد کے بُرے انجام سے بچا۔ اور یہ مطلب بھی لیا جا سکتا ہے کہ اس بد کر دار بستی میں جو اخلاقی گندگیاں پھیلی ہوئی ہیں ان کی چھوٹ کہیں ہماری آل اولاد کو نہ لگ جائے ، اہل ایمان کی اپنی نسلیں کہیں اس بگڑے ہوئے ماحول سے متاثر نہ ہو جائیں ، اس لیے اے پروردگار، ہمیں اس ہر وقت کے عذاب سے نجات دے جو اس نا پاک معاشرے میں زندگی بسر کرنے سے ہم پر گزر رہا ہے۔
فَنَجَّیْنٰهُ وَاَهْلَهٗۤ اَجْمَعِیْنَ
آخرکار ہم نے اسے اور اس کے سب اہل و عیال کو بچا لیا
اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَ
بجز ایک بُڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی۔113
اس سے مراد حضرت لوطؑ کی بیوی ہے۔ سورہ تحریم میں حضرت نوحؑ اور حضرت لوط کی بیویوں کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ کَانَتَا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِ نَا صَالِحَیْنِ فَخَا نَتٰھُمَا (آیت 10)۔ ’’ یہ دونوں عورتیں ہمارے دو صالح بندوں کے گھر میں تھیں مگر انہوں نے ان کے ساتھ خیانت کی‘‘۔ یعنی دونوں ایمان سے خالی تھیں اور اپنے نیک شوہروں کا ساتھ دینے کے بجائے ان دونوں نے اپنی کافر قوم کا ساتھ دیا۔ اسی بنا پر جب اللہ تعالیٰ نے قوم لوطؑ پر عذاب نازل کرنے کا فیصلہ فرمایا اور حضرت لوطؑ کو حکم دیا کہ اپنے اہل و عیال کو لے کر اس علاقے سے نِکل جائیں تو ساتھ ہی یہ بھی ہدایت فرما دی کہ اپنی بیوی کو ساتھ نہ لے جاؤ، فَاَسْرِبِاَھْلِکَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَلَا یَلْتَفِتْ مِنْکُمْ اَحَدُ اِلَّا امْرَاَتَکَ اِنَّہٗ مُصِیْبُھَا مَآ اَصَابَھُمْ (ہود آیت 81 )۔ ‘‘پس تو کچھ رات رہے اپنے اہل و عیال کو ساتھ لے کر نکل جا اور تم میں سے کوئی پیچھے پلٹ کر نہ دیکھے۔ مگر اپنی بیوی کو ساتھ نہ لے جا، اس پر وہی کچھ گزرنی ہے جو ان لوگوں پر گزرنی ہے ‘‘۔
ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَ
پھر باقی ماندہ لوگوں کو ہم نے تباہ کر دیا
وَاَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ
اور ان پر برسائی ایک برسات، بڑی ہی بُری بارش تھی جو اُن ڈرائے جانے والوں پر نازل ہوئی۔114
اس بارش سے مراد پانی کی بارش نہیں بلکہ پتھروں کی بارش ہے۔ قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر اس عذاب کی جو تفصیل بیان ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت لوط جب رات کے پچھلے پہر اپنے بال بچوں کو لے کر نکل گئے تو صبح پو پھٹتے ہی یکایک ایک زور کا دھماکا ہوا (فَاَ خَذَ تْھُمُ الصَّیْحَۃُمُشْرِقِیْنَ O )، ایک ہولناک زلزلے نے ان کی بستیوں کو تل پٹ کر کے رکھ دیا (جَعَلْنَا عَالِیَھَا سَافِلَھَا )، ایک زبردست آتش فشانی اِنفجار سے ان پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر بر سائے گئے (وَاَمْطَرْ نَا عَلَیْھَا حِجَا رَ ۃً مِّنْ سِجِّیْلٍ مَّنْضُوْدٍ O ) اور ایک طوفانی ہو سے بھی ان پر پتھراؤ کیا گیا (اِنَّآ اَرْسَلْنَا عَلَیْھِمْ حَاصِباً)۔ بائیبل کے بیانات، قدیم یونانی اور لاطینی تحریروں ، جدید زمانے کی طبقات الارضی تحقیقات اور آثار قدیمہ کے مشاہدات سے اس عذاب کی تفصیلات پر جو روشنی پڑتی ہے اس کا خلاصہ ہم ذیل میں درج کرتے ہیں : بحیرہ مردار (Dead Sea) کے جنوب اور مشرق میں جو علاقہ آج انتہائی ویران اور سنسان حالت میں پڑا ہوا ہے ، اس میں بکثرت پرانی بستیوں کے کھنڈروں کی موجودگی پتہ دیتی ہے کہ یہ کسی زمانہ میں نہایت آباد علاقہ رہا تھا۔ آج وہاں سینکڑوں برباد شدہ قریوں کے آثار ملتے ہیں ، حالانکہ اب یہ علاقہ اتنا شاداب نہیں ہے کہ اتنی آبادی کا بوجھ سہار سکے۔ آثار قدیمہ کے ماہرین کا اندازہ ہے کہ اس علاقے کی آبادی و خوشحالی کا دور 2400 قبل مسیح سے 1900 قبل مسیح تک رہا ہے ، اور حضرت ابراہیمؑ کے متعلق مؤرخین کا اندازہ یہ ہے کہ وہ دو ہزار برس قبل مسیح کے لگ بھگ زمانے میں گزرے ہیں۔ اس لحاظ سے آثار کی شہادت اس بات کی تائید کرتی ہے کہ یہ علاقہ حضرت ابراہیمؑ اور ان کے بھتیجے حضرت لوطؑ کے عہد ہی میں برباد ہوا ہے۔ اس علاقے کا سب سے زیادہ آباد اور سر سبز و شاداب حصہ وہ تھا جسے بائیبل میں ’’ سِدّیم کی وادی‘‘ کہا گیا ہے ، جس کے متعلق بائیبل کا بیان ہے کہ ’’ وہ اس سے پیشتر خداوند نے سَدُوم اور عمورہ کو تباہ کیا، خداوند کے باغ (عدن) اور مصر کے مانند خوب سیراب تھی‘‘ (پیدائش، باب 13۔ آیت 10 )۔ موجودہ زمانے کے محققین کی عام رائے یہ ہے کہ وہ وادی اب بحیرہ مردار کے اندر غرق ہے ، اور یہ رائے مختلف آثار کی شہادتوں سے قائم کی گئی ہے۔ قدیم زمانہ میں ، بحیرہ مردار جنوب کی طرف اتنا وسیع نہ تھا جتنا اب ہے۔ شرق اُردن کے موجودہ شہر الکرک کے سامنے مغرب کی جانب اس بحیرے میں جو ایک چھوٹا سا جزیرہ نما’’اللّسان‘‘ پایا جاتا ہے ، قدیم زمانے میں جس یہی پانی کی آخری سرحد تھی۔ اس کے نیچے کا حصہ جہاں اب پانی پھیل گیا ہے (جسے ملحقہ نقشے میں ہم نے آڑی لکیروں سے نمایاں کیا ہے ) پہلے ایک س سبز وادی کی شکل میں آباد تھا اور یہی وہ وادی سدیم تھی جس میں قوم لوطؑ کے بڑے بڑے شہر سدوم، عمورہ، ادمہ، ضبوئیم اور ضُغر واقع تھے۔ دو ہزار برس قبل مسیح کے لگ بھگ زمانہ میں ایک زبردست زلزلے کی وجہ سے یہ وادی پھٹ کر دب گئی اور بحیرہ مردار کا پانی اس کے اوپر چھا گیا۔ آج بھی یہ بحیرے کا سب سے زیادہ اُتھلا حصہ ہے ، مگر رومی عہد میں یہ اتنا اُتھلا تھا کہ لوگ اللّسان سے مغربی ساحل تک چل کر پانی میں سے گزر جاتے تھے۔ اس وقت تک جنوبی ساحل کے ساتھ ساتھ پانی میں ڈوبے ہوئے جنگلات صاف نظر آتے ہیں۔ بلکہ یہ شبہہ بھی کیا جاتا ہے کہ پانی میں کچھ عمارات ڈوبی ہوئی ہیں۔ بائیبل اور قدیم یونانی و لاطینی تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس علاقہ میں جگہ جگہ نفط (پٹرول) اور اسفالٹ کے گڑھے تھے اور بعض بعض زمین سے آتش گیر گیس بھی نکلتی تھی۔ اب بھی وہاں زیر زمین پٹرول اور گیسوں کا پتہ چلتا ہے۔ طبقات الارض مشاہدات سے اندازہ کیا گیا ہے کہ زلزلے کے شدید جھٹکوں کے ساتھ پٹرول، گیس اور اسفالٹ زمین سے نکل کر بھڑک اٹھے اور سارا علاقہ بھک سے اڑ گیا۔ بائیبل کا بیان ہے کہ اس تباہی کی اطلاع پاکر حضرت ابراہیمؑ جب حبرون سے اس وادی کا حال دیکھنے آئے تو زمین سے دھواں اس طرح اٹھ رہا تھا جیسے بھٹی کا دھواں ہوتا ہے (پیدائش باب 19۔ آیت 28)۔
اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً ؕ وَمَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ
یقیناً اس میں ایک نشانی ہے، مگر اِن میں سے اکثر ماننے والے نہیں
وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ
اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی
كَذَّبَ اَصْحٰبُ لْـَٔیْكَةِ الْمُرْسَلِیْنَ
اصحابُ الایکہ نے رسُولوں کو جھُٹلایا۔115
اصحاب الایکہ کا مختصر ذکر سورہ الحجر آیت 78۔ 84 میں پہلے گزر چکا ہے۔ یہاں اس کی تفصیل بیان ہو رہی ہے۔ مفسرین کے درمیان اس امر میں اختلاف ہے کہ آیا مِدْیَن اور اصحاب الایکہ الگ الگ قومیں ہیں یا ایک ہی قوم کے دو نام ہیں۔ ایک گروہ کا خیال ہے کہ یہ دو الگ قومیں ہیں اور اس کے لیے سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ سورہ اعراف میں حضرت شعیبؑ کو اہل مدین کا بھائی فرمایا گیا ہے (وَاِلیٰ مَدْیَنَ اَخَا ھُمْ شُعَیْباً )، اور یہاں اصحاب الایکہ کے ذکر میں صرف یہ ارشاد ہوا ہے کہ اِذْقَالَ لَھُمْ شُعَیبٌ (جب کہ ان سے شعیب نے کہا)، ’’ان کے بھائی ‘‘ (اَخُوْ ھُمْ) کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا۔ اس کے بر عکس بعض مفسرین دونوں کو ایک ہی قوم قرار دیتے ہیں ، کیونکہ سورہ اعراف اور سورہ ہود میں جو امراض اور اوصاف اصحاب مدین کے بیان ہوئے ہیں وہی یہاں اصحاب الایکہ کے بیان ہو رہے ہیں ، حضرت شعیب کی دعوت و نصیحت بھی یکساں ہے ، اور آخر کار ان کے انجام میں بھی فرق نہیں ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں اقوال اپنی جگہ صحیح ہیں۔ اصحاب مدین اور اصحاب الایکہ بلا شبیہ دو الگ قبیلے ہیں مگر ہیں ایک ہی نسل کی دو شاخیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جو اولاد ان کی بیوی یا کنیز قطورا کے بطن سے تھی وہ عرب اور اسرائیل کی تاریخ میں بنی قطُورا کے نام سے معروف ہے۔ ان میں سے ایک قبیلہ جو سب سے زیادہ مشہور ہوا، مدیان بن ابراہیم کی نسبت سے مدیانی، یا اصحاب مدین کہلایا، اور اس کی آبادی شمالی حجاز سے فلسطین کے جنوب تک اور وہاں سے جزیرہ نمائے سینا کے آخری گوشے تک بحر قلزم اور خلیج عقبہ کے سوا حل پر پھیل گئی۔ اس کا صدر مقام شہر مدین تھا جس کی جائے وقوع ابوالفدا نے خلیج عقبہ کے مغربی کنارے اَیلَہ (موجودہ عقبہ) سے پانچ دن کی راہ پر بتائی ہے۔ باقی بنی قطورا جن میں بنی ودان (Dedanites)نسبۃً زیادہ مشہور ہیں ، شمالی عرب میں تَیماء اور تبوک اور العُلاء کے درمیان آباد ہوئے اور ان کا صدر مقام تبوک تھا جسے قدیم زمانے میں ایکہ کہتے تھے۔ (یا قوت نے معجم البلد ان میں لفظ ایکہ کے تحت بتایا ہے کہ یہ تبوک کا پرانا نام ہے اور اہل تبوک میں عام طور پر یہ بات مشہور ہے کہ یہی جگہ کسی زمانے میں ایکہ تھی)۔ اصحاب مدین اور اصحاب الایکہ کے لیے ایک ہی پیغمبر مبعوث کیے جانے کی وجہ غالباً یہ تھی کہ دونوں ایک ہی نسل سے تعلق رکھتے تھے ،ایک ہی زبان بولتے تھے ، اور ان کے علاقے بھی بالکل ایک دوسرے سے متصل تھے۔ بلکہ بعید نہیں کہ بعض علاقوں میں یہ ساتھ ساتھ آباد ہوں اور آپس کے شادی بیاہ سے ان کا معاشرہ بھی باہم گھل مل گیا ہو۔ اس کے علاوہ بنی قطور کی ان دونوں شاخوں کا پیشہ بھی تجارت تھا۔ اور دونوں میں ایک ہی طرح کی تجارتی بے ایمانیاں اور مذہبی و اخلاقی بیماریاں پائی جاتی تھیں۔ بائیبل کی ابتدائی کتابوں میں جگہ جگہ یہ ذکر ملتا ہے کہ یہ لوگ بعل فغور کی پرستش کرتے تھے اور بنی اسرائیل جب مصر سے نکل کر ان کے علاقے میں آئے تو ان کے اندر بھی انہوں نے شرک اور زنا کاری کی وبا پھیلا دی (گنتی، باب 25 آیت 1۔5، باب 31 آیت 16۔17)۔ پھر یہ لوگ بین الاقوامی تجارت کی ان دو بڑی شاہراہوں پر آباد تھے جو یمن سے شام اور خلیج فارس سے مصر کی طرف جاتی تھیں۔ ان شاہراہوں پر واقع ہونے کی وجہ سے انہوں نے بڑے پیمانے پر رہزنی کا سلسلہ چلا رکھا تھا۔ دوسری قوموں کے تجارتی قافلوں کو بھاری خراج لیے بغیر نہ گزرنے دیتے تھے ، اور بین الاقوامی تجارت پر خود قابض رہنے کی خاطر انہوں نے راستوں کا امن خطرے میں ڈال رکھا تھا۔ قرآن مجید میں ان کی اس پوزیشن کو یوں بیان کیا گیا ہے : اِنَّھُمَا لِبَاِ مَامٍ مُّبِیْنٍ O ’’ یہ دونوں (قوم لوط اور اصحاب الایکہ) کھلی شاہراہ پر آباد تھے ‘‘، اور ان کی رہزنی کا ذکر سورہ اعراف میں اس طرح کیا گیا ہے : وَلَا تَقْعُدُوْ ا بِکلِ صِرَاطٍ تُوْ عِدُوْنَ O ’’ اور ہر راستے پر لوگوں کو ڈرانے نہ بیٹھو‘‘۔ یہی اسباب تھے جن کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان دونوں قبیلوں کے لیے ایک ہی پیغمبر بھیجا اور ان کو ایک ہی طرح کی تعلیم دی۔ حضرت شعیبؑ اور اہل مدین کے قصے کی تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو الاعراف، آیات 85۔ 93۔ ہود 84۔ 95۔ العنکبوت 36۔ 37۔
اِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَیْبٌ اَلَا تَتَّقُوْنَ
یاد کرو جبکہ شعیبؑ نے ان سے کہا تھا "کیا تم ڈرتے نہیں؟
اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ
میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں
فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِیْعُوْنِ
لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو
وَمَاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰی رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ؕ
میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے
اَوْفُوا الْكَیْلَ وَلَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُخْسِرِیْنَ
پیمانے ٹھیک بھرو اور کسی کو گھاٹا نہ دو
وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِ
صحیح ترازو سے تولو
وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ
اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو
وَاتَّقُوا الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَالْجِبِلَّةَ الْاَوَّلِیْنَ ؕ
اور اُس ذات کا خوف کرو جس نے تمہیں اور گزشتہ نسلوں کو پیدا کیا ہے"
قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَ
انہوں نے کہا "تو محض ایک سحرزدہ آدمی ہے
وَمَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَاِنْ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَ
اور تو کچھ نہیں مگر ایک انسان ہم ہی جیسا، اور ہم تو تجھے بالکل جھوٹا سمجھتے ہیں
فَاَسْقِطْ عَلَیْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ ؕ
اگر تو سچا ہے تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دے"
قَالَ رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ
شعیبؑ نے کہا”میرا ربّ جانتا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو۔“116
یعنی عذاب نازل کرنا میرا کام نہیں ہے۔ یہ تو اللہ رب العالمین کے اختیار میں ہے اور وہ تمہارے کرتوت دیکھ ہی رہا ہے۔ اگر وہ تمہیں اس عذاب کا مستحق سمجھے گا تو خود نازل فرما دے گا۔ اصحاب الایکہ کے اس مطالبے اور حضرت شعیب کے اس جواب میں کفار قریش کے لیے بھی ایک تنبیہ تھی۔ وہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے یہی مطالبے کرتے تھے ، اَوْتُسْقِطَ السَّمَآءَ کَمَا زَعَمْتَ عَلَیْنَا کِسَفاً، ’’ یا پھر گرا دے ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا جیسا کہ تیرا دعویٰ ہے ‘‘۔ (بنی اسرائیل۔ آیت 92 )۔ اس لیے ان کو سنایا جا رہا کہ ایسا ہی مطالبہ اصحاب الایکہ نے اپنے پیغمبر سے کیا تھا، اس کا جو جواب انہیں ملا وہی محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف سے تمہاری طلب کا جواب بھی ہے۔
فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمْ عَذَابُ یَوْمِ الظُّلَّةِ ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ
انہوں نے اُسے جھُٹلا دیا، آخر کارچھتری والے دن کا عذاب ان پر آگیا117 ، اور وہ بڑے ہی خوفناک دن کا عذاب تھ
اس عذاب کی کوئی تفصیل قرآن مجید میں یا کسی صحیح حدیث میں مذکور نہیں ہے۔ ظاہر الفاظ سے جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے چونکہ آسمانی عذاب مانگا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک بادل بھیج دیا اور وہ چھتری کی طرح ان پر اس وقت تک چھایا رہا جب تک باران عذاب نے کو بالکل تباہ نہ کر دیا۔ قرآن سے یہ بات صاف معلوم ہوتی ہے کہ اصحاب مدین کے عذاب کی کیفیت اصحاب الایکہ کے عذاب سے مختلف تھی۔ یہ جیسا کہ یہاں بتایا گیا ہے ، چھتری والے عذاب سے ہلاک ہوئے ، اور ان پر عذاب ایک دھماکے اور زلزلے کی شکل میں آیا (فَاَخَذَ تْھُمُ الرَّجْفَۃُ فَاَصْبَحُوْ فِیْ دَارِھِمْ جٰثِمِیْنَ، اور وَاَخَذَ تِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا الصَّیْحَۃُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِ ھِمْ جٰثِمِیْنَ O )۔ اس لیے ان دونوں کو ملا کر ایک داستاں بنانے کی کوشش درست نہیں ہے۔ بعض مفسرین نے عذاب یوم الظُّلہ کی کچھ تشریحات بیان کی ہیں ، مگر ہمیں نہیں معلوم کہ ان کی معلومات کا ماخذ کیا ہے۔ ابن جریر نے حضرت عبداللہ بن عباس کا یہ قول نقل کیا ہے۔ کہ من حدث ک من العلماء ما عذاب یوم الظلۃ فکذبہ، ’’ علماء میں سے جو کوئی تم سے بیان کرے کہ یوم الظُّلہ کا عذاب کیا تھا اس کو درست نہ سمجھو‘‘۔
اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً ؕ وَمَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ
یقیناً اس میں ایک نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ ماننے والے نہیں
وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ
اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی
وَاِنَّهٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ؕ
p تاریخی بیان ختم کر کے اب سلسلہ کلام اسی مضمون کی طرف پھرتا ہے جس سے سورۃ کا آغاز فرمایا گیا تھا۔ اس کو سمجھنے کے لیے ایک دفعہ پھر پلٹ کر پہلے رکوع کو دیکھ لینا چاہیے۔/p
p یعنی یہ ’’ کتاب مبین ‘‘ جس کی آیات یہاں سنائی جا رہی ہیں ، اور یہ ’’ذکر ‘‘ جس سے لوگ منہ موڑ رہے ہیں کسی انسان کی من گھڑت چیز نہیں ہے ، اسے محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے خود تصنیف نہیں کر لیا ہے ، بلکہ یہ رب العالمین کی نازل کردہ ہے۔/p
نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُ
اسے لے کر تیرے دل پر امانت دار رُوح120 اُتری ہے
مراد ہیں جبریل علیہ السلام، جیسا کہ دوسری جگہ قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے : قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّہٗ نَزَّلَہٗ عَلیٰ قَلْبِکَ بِاِذْنِ اللہِ۔ (البقرہ۔ آیت 97)۔ ’’ کہہ دے کہ جو کوئی دشمن ہے جبریلؑ کا تو اسے معلوم ہو کہ اسی نے یہ قرآن اللہ کے حکم سے تیرے دل پر نازل کیا ہے۔‘‘ یہاں ان کا نام لینے کے بجائے ان کے لیے روح امین (امانت دار روح) کا لقب استعمال کرنے سے یہ بتانا مقصود ہے کہ رب العالمین کی طرف سے اس تنزیل کو لے کر کوئی مادی طاقت نہیں آئی ہے جس کے اندر تغیر و تبدل کا امکان ہو، بلکہ وہ ایک خالص روح ہے بلا شائبہ مادیت، اور وہ پوری طرح امین ہے ، خدا کا پیغام جیسا اس کے سپرد کیا جاتا ہے ویسا ہی بلا کم و کاست پہنچا دیتی ہے ، اپنی طرف سے کچھ بڑھانا یا گھٹا دینا بطور خود کچھ تصنیف کر لینا اس کے لیے ممکن نہیں ہے۔
عَلٰی قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ
تاکہ تو اُن لوگوں میں شامل ہو جو (خدا کی طرف سے خلق خدا کو) متنبّہ کرنے والے ہیں
بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْنٍ ؕ
صاف صاف عربی زبان میں۔121
اس فقرے کا تعلق ’’امانت دار روح اتری ہے ‘‘ سے بھی ہو سکتا ہے اور ’’متنبہ کرنے والے ہیں ‘‘ سے بھی۔ پہلی صورت میں اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ امانت دار روح اسے صاف صاف عربی زبان میں لائی ہے ، اوعر دوسری صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم ان انبیاء میں شامل ہوں جنہیں عربی زبان میں خلق خدا کو متنبہ کرنے کے لیے مامور فرمایا گیا تھا، یعنی ہود، صالح، اسماعیل اور شعیب علیہم السلام۔ دونوں صورتوں میں مقصود کلام ایک ہی ہے ، اور وہ یہ کہ رب العالمین کی طرف سے یہ تعلیم کسی مردہ یا جنّاتی زبان میں نہیں آئی ہے ، نہ اس میں کوئی معمے یا چیستاں کی سی گنجلک زبان استعمال کی گئی ہے ، بلکہ یہ ایسی صاف اور فصیح عربی زبان میں ہے جس کا مفہوم و مدعا ہر عرب اور ہر وہ شخص جو عربی زبان جانتا ہو، بے تکلف سمجھ سکتا ہ۔ اس لیے جو لوگ اس سے منہ موڑ رہے ہیں ان کے لیے یہ عذر کرنے کا کوئی موقع نہیں ہے کہ وہ اس تعلیم کو سمجھ نہیں سکے ہیں ، بلکہ ان کے اعراض و انکار کی وجہ صرف یہ ہے کہ یہ اسی بیماری میں مبتلا ہیں جس میں فرعون مصر اور قوم ابراہیم اور قوم نوح اور قوم لوط اور عاد و ثمود اور اصحاب الایکہ مبتلا تھے۔
وَاِنَّهٗ لَفِیْ زُبُرِ الْاَوَّلِیْنَ
اور اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی یہ موجود ہے۔122
یعنی یہ ذکر اور یہی تنزیل اور یہی الہٰی تعلیم سابق کتب آسمانی میں بھی موجود ہے۔ یہی خدائے واحد کی بندگی کا بلاوا، یہی آخرت کی زندگی کا عقیدہ، یہی انبیاء کی پیروی کا طریقہ ان سب میں بھی پیش کیا گیا ہے ، سب کتابیں جو خدا کی طرف سے آئی ہیں شرک کی مذمت ہی کرتی ہیں ، مادہ پرستانہ نظریہ حیات کو چھوڑ کر اسی بر حق نظریہ حیات کی طرف دعوت دیتی ہیں جس کی بنیاد خدا کے حضور انسان کی جواب دہی کے تصور پر ہے ، اور انسان سے یہی مطالبہ کرتی ہیں کہ وہ اپنی خود مختاری سے دست بردار ہو کر ان الہٰی احکام کی پیروی اختیار کرے جو انبیاء علیہم السلام لائے ہیں۔ ان باتوں میں سے کوئی بات بھی نرالی نہیں جو دنیا میں پہلی مرتبہ قرآن ہی پیش کر رہا ہو اور کوئی شخص یہ کہہ سکے تم وہ بات کر رہے ہو جو اگلوں پچھلوں میں سے کسی نے کبھی نہیں کی۔ یہ آیت منجملہ ان دلائل کے ہے جو امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی اس قدیم رائے کے حق میں پیش کیے جاتے ہیں کہ اگر کوئی شخص نماز میں قرآن کا ترجمہ پڑھ لے تو نماز ہو جاتی ہے ، خواہ وہ شخص عربی میں قرآن پڑھے کی قدرت رکھتا ہو نہ رکھتا ہو۔ بنائے استدلال علامہ ابو بکر جصاص کے الفاظ میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ یہاں ارشاد فرما رہا ہے کہ قرآن پچھلی کتابوں میں بھی تھا، اور ظاہر ہے کہ ان کتابوں میں وہ عربی الفاظ کے ساتھ نہ تھا۔ لہٰذا کسی دوسری زبان میں اس کے مضامین کو نقل کر دینا اسے قرآن ہونے سے خارج نہیں کر دیتا (احکام القرآن، جلد سوم، صفحہ 429)۔ لیکن اس استدلال کی کم زوری بالکل ظاہر ہے۔ قرآن مجید ہو یا کوئی دوسری آسمانی کتاب، کسی کے نزول کی کیفیت بھی یہ نہتھی کہ اللہ تعالیٰ نے صرف معانی نبی کے دل پر القا کر دیے ہوں اور نبی نے پھر انہیں اپنے الفاظ میں بیان کیا ہو۔ بلکہ ہر کتاب جس زبان میں بھی آئی ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے معنی اور لفظ دونوں کے ساتھ آئی ہے۔ اس لیے قرآن کی تعلیم جن پچھلی کتابوں میں تھی، انسانی الفاظ میں نہیں ، خدائی الفاظ ہی میں تھی، اور ان میں سے کسی کے ترجمہ کو بھی کتاب اللہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ اصل کا قائم مقام ٹھیرایا جا سکے۔ رہا قرآن تو اس کے متعلق بار بار بصراحت فرمایا گیا ہے کہ وہ لفظاً لفظاً عربی زبان میں نازل کیا گیا ہے : اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ قُرْاٰناً عَرَبِیًّا، (یوسف۔آیت 2) وَکَذٰلِکَ اَنْزَلْنٰہُ حُکْماً عَرَبِیًّا، (الرعد۔ آیت 37)۔ قُرْاٰناً عَرَبِیًّا غَیْرِ ذِیْ عِوَجٍ، (الزمر۔ آیت 28)۔ اور خود اسی آیت زیر بحث سے پہلے متصلاً فرمایا جا چکا ہے کہ روح الامین اسے زبان عربی میں لے کر اترا ہے۔ اب اس کے متعلق یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ اس کا کوئی ترجمہ جو کسی انسان نے دوسری زبان میں کیا ہو وہ بھی قرآن ہی ہو گا اور اس کے الفاظ اللہ تعالیٰ کے الفاظ کے قائم مقام ہوں گے۔ معلوم ہوتا ہے کہ استدلال کی اس کمزوری کو بعد میں خود امام ممدوح نے ہی محسوس فرما لیا تھا، چنانچہ معتبر روایات سے یہ بات نقل ہوئی ہے کہ انہوں نے اس مسئلے میں اپنی رائے سے رجوع کر رکے امام ابو یوسف اور امام محمد کی رائے قبول کر لی تھی، یعنی یہ کہ جو شخص عربی زبان میں قرأت پر قادر نہ ہو وہ اس وقت تک نماز میں قرآن پڑھ سکتا ہو وہ اگر قرآن کا ترجمہ پڑھے گا تو اس کی نماز نہ ہو گی۔ حقیقت یہ ہے کہ صاحبین نے یہ رعایت در اصل ان عجمی نو مسلموں کے لیے تجویز کی تھی جو اسلام قبول کرتے ہی فوراً عربی زبان میں نماز ادا کرنے کے قابل نہ ہو سکتے تھے۔ اور اس میں بنائے استدلال یہ نہ تھی کہ قرآن کا ترجمہ بھی قرآن ہے ، بلکہ ان کا استدلال یہ تھا کہ جس طرح اشارے سے رکوع و سجود کرنا اس شخص کے لیے جائز ہے جو رکوع اور سجدہ کرنے سے عاجز ہو، اسی طرح غیر عربی میں نماز پڑھنا اس شخص کے لیے جائز ہے جو عربی تلفظ پر قادر نہ ہو۔ اور علیٰ ہٰذا القیاس جس طرح عجز رفع ہو جانے کے بعد اشارے سے رکوع و سجود کرنے والے کی نماز نہ ہو گی اسی طرح قرآن کے تلفظ پر قادر ہو جانے کے بعد ترجمہ پڑھنے والے کی نماز بھی نہ ہو گی۔ (اس مسئلے پر مفصل بحث کے لیے ملاحظہ ہو مبسوط سَرَخْسی، جلد اول، صفحہ 37۔ فتح القدیر و شرح عنایہ علی الہدایہ جلد 1، صفحہ 190۔ 201 )۔
اَوَلَمْ یَكُنْ لَّهُمْ اٰیَةً اَنْ یَّعْلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ ؕ
کیا اِن (اہلِ مکّہ)کےلیے یہ کوئی نشانی نہیں ہے کہ اِسے علماءِ بنی اسرائیل جانتے ہیں؟123
یعنی علمائے بنی اسرائیل اس بات سے واقف ہیں کہ جو تعلیم قرآن مجید میں دی گئی ہے وہ ٹھیک وہی تعلیم ہے جو سابق کتب آسمانی میں دی گئی تھی۔ اہل مکہ خود علم کتاب سے نا آشنا سہپی، بنی اسرائیل کے اہل علم تو گرد و پیش کے علاقوں میں کثرت سے موجود ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ یہ کوئی انوکھا اور نرالا ’’ذکر‘‘ نہیں ہے جو آج پہلی مرتبہ محمدؐ بن عبد اللہ نے لا کر تمہارے سامنے رکھ دیا ہو، بلکہ ہزارہا برس سے خدا کے نبی یہی ذکر پے در پے لاتے رہے ہیں۔ کیا یہ بات اس امر کا اطمینان کرنے کے لیے کافی نہیں ہے کہ یہ تنزیل بھی اسی رب العالمین کی طرف سے ہے جس نے پچھلی کتابیں نازل کی تھیں ؟ سیرت ابن ہشام سے معلوم ہوتا ہے کہ ان آیات کے زمانہ نزول سے قریب ہی یہ واقعہ پیش آ چکا تھا کہ حبش سے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی دعوت سن کر 20 آدمیوں کا ایک وفد مکہ آیا اور اس نے مسجد حرام میں کفار قریش کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے مل کر دریافت کیا کہ آپ کیا تعلیم لائے ہیں۔ حضورؐ نے جواب میں ان کو قرآن کی کچھ آیات سنائیں۔ اس پر ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور وہ اسی وقت آپ کے رسول برحق ہونے کی تصدیق کر کے آپ پر ایمان لے آئے۔ پھر جب وہ حضورؐ کے پاس سے اٹھے تو ابو جہل قریش کے چند لوگوں کے ساتھ ان سے ملا اور انہیں سخت ملامت کی۔ اس نے کہا’’ تم سے زیادہ احمق قافلہ یہاں کبھی نہیں آیا۔ نامراد و، تمہارے ہاں کے لوگوں نے تو تمہیں اس لیے بھیجا تھا کہ اس شخص کے حالات کی تحقیق کر کے آؤ، مگر تم ابھی اس سے ملے ہی تھے کہ اپنا دین چھوڑ بیٹھے ‘‘۔ وہ شریف لوگ ابو جہل کی اس زجر و توبیخ پر الجھنے کے بجائے سلام کر کے ہٹ گئے اور کہنے لگے کہ ہم آپ سے بحث نہیں کرنا چاہتے ، آپ اپنے دین کے مختار ہیں اور ہم اپنے دین کے مختار ہمیں جس چیز میں اپنی خیر نظر آئی اسے ہم نے اختیار کر لیا (جلد دوم۔ صفحہ 32)۔ اسی واقعہ کا ذکر سورہ قصص میں آیا ہے کہ : اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰہُمُ الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِہٖ ھُمْ بِہٖ یُؤْ مِنُوْنَ ہ وَاِذَ ا یُتْلیٰ عَلَیْہِمْ قَا لُؤ آ اٰمَنَّا بِہٖٓ اَنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَا اِنَّا کُنَّا مِنْ قَبْلِہٖ مُسْلِمِیْنَ O .......... وَاِذَ سَمِعُوا الْلَّغْوَاَ عْرَضُوْا عَنْہُ وَقَا لُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَکُمْ، سَلَامٌ عَلَیْکُمْ ، لَا نَبْتَغِی الْجَاھِلِیْنَ O (آیات 52۔ 55)۔ ’’ جن لوگوں کو ہم نے اس سے پہلے کتاب دی تھی وہ اس قرآن پر ایمان لاتے ہیں اور جب وہ انہیں سنایا جاتا ہے تو کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے ، یہ حق ہے ہمارے رب کی طرف سے ، ہم اس سے پہلے بھی اسی دین اسلام پر تھے ................ اور جب انہوں نے بیہودہ باتیں سنیں تو الجھنے سے پرہیز کیا اور بولے ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لیے ، تم کو سلام ہو، ہم جاہلوں کا طریقہ پسند نہیں کرتے (کہ چار باتیں تم ہمیں سناؤ تو ہم تمہیں سنائیں )‘‘۔
وَلَوْ نَزَّلْنٰهُ عَلٰی بَعْضِ الْاَعْجَمِیْنَ
(لیکن اِن کی ہٹ دھرمی کا حال یہ ہے کہ) اگر ہم اسے کسی عجمی پر بھی نازل کر دیتے
فَقَرَاَهٗ عَلَیْهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ مُؤْمِنِیْنَ ؕ
اور یہ (فصیح عربی کلام)وہ ان کو پڑھ کر سُناتا تب بھی یہ مان کر نہ دیتے۔124
یعنی اب ان ہی کی قوم کا ایک آدمی انہیں عربی مبین میں یہ کلام پڑھ کر سنا رہا ہے تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اسے خود تصنیف کر لیا ہے ، عرب کی زبان سے عربی تقریر ادا ہونے میں آخر معجزے کی کیا بات ہے کہ ہم اسے خدا کا کلام مان لیں۔ لیکن اگر یہی فصیح عربی کلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی غیر عرب پر بطور معجزہ نازل کر دیا جاتا اور وہ ان کے سامنے آ کر نہایت صحیح عربی لہجہ میں اسے پڑھتا تو یہ ایمان نہ لانے کے لیے دوسرا بہانہ تراشتے ، اس وقت یہ کہتے کہ اس پر کوئی جن آ گیا ہے جو عجمی کی زبان سے عربی بولتا ہے۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، حٰم السجدہ، حواشی 54 تا 58 )۔ اصل چیز یہ ہے کہ جو شخص حق پسند ہوتا ہے وہ اس بات پر غور کرتا ہے جو اس کے سامنے پیش کی جا رہی ہو اور ٹھنڈے دل سے سوچ سمجھ کر رائے قائم کرتا ہے کہ یہ معقول بات ہے یا نہیں۔ اور جو شخص ہٹ دھرم ہوتا ہے اور نہ ماننے کا ارادہ کر لیتا ہے وہ اصل مضمون پر توجہ نہیں دیتا بلکہ اسے رد کرنے کے لیے طرح طرح کے حیلے بہانے تلاش کرتا ہے۔ اس کے سامنے بات خواہ کسی طریقے سے پیش کی جائے۔ وہ بہر حال اسے جھٹلانے کے لیے کوئی نہ کوئی وجہ پیدا کر لے گا۔ کفار قریش کی اس ہٹ دھرمی کا پردہ قرآن مجید میں جگہ جگہ فاش کیا گیا ہے اور ان سے صاف صاف کہا گیا ہے کہ تم ایمان لانے کے لیے معجزہ دکھانے کی شرط آخر کس منہ سے لگاتے ہو، تم تو وہ لوگ ہو کہ تمہیں خواہ کوئی چیز دکھا دی جائے تم اسے جھٹلانے کے لیے کوئی بہانہ نکال لو گے کیونکہ در اصل تمہیں حق بات مان کر نہیں دینی ہے : وَلَوْ نَزَّ لْنَا عَلَیْکَ کِتَا باً فِیْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْہُ بَاَیْدِ یْھِمْ لَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُ ؤٓ ا اِنْ ھٰذَ آ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ O (الانعام۔ آیت 7)۔ ’’ اگر ہم تیرے اوپر کاغذ میں لکھی ہوئی کوئی کتاب نازل کر دیتے اور یہ لوگ اسے اپنے ہاتھوں سے چھو کر بھی دیکھ لیتے تو جن لوگوں نے نہیں مانا وہ کہتے کہ یہ تو کھلا جادو ہے ‘‘۔ وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَیْھِمْ بَا باً مِّنَ السَّمَآءِ فَظَلُّوْ ا فِیْہِ یَعْرُجُوْنَ لَقَا لُوْ آ اِنَّمَا سُکِّرَتْ اَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُوْرُوْنَ (الحجر۔ آیات 14۔15)۔ ’’ اور اگر ہم ان پر آسمان کا کوئی دروازہ بھی کول دیتے اور یہ اس میں چڑھنے لگتے تو یہ کہتے کہ ہماری آنکھوں کو دھوکا ہو رہا ہے ، بلکہ ہم پر جادو کر دیا گیا ہے ‘‘۔
كَذٰلِكَ سَلَكْنٰهُ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَ ؕ
اِسی طرح ہم نے اس (ذکر)کو مجرموں کے دلوں میں گزارا ہے۔125
یعنی یہ اہل حق کے دلوں کی طرح تسکین روح اور شفائے قلب بن کر ان کے اندر نہیں اترتا بلکہ ایک گرم لوہے کہ سلاخ بن کر اس طرح گزر تا ہے کہ وہ سیخ پا ہو جاتے ہیں اور اس کے مضامین پر غور کرنے کے بجائے اس کی تردید کے لیے حربے دھونڈنے میں لگ جاتے ہیں۔
لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ حَتّٰی یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ
وہ اس پر ایمان نہیں لاتے جب تک کہ عذاب الِیم نہ دیکھ لیں۔126
ویسا ہی عذاب جیسا وہ قومیں دیکھ چکی ہیں جن کا ذکر اوپر اس سورے میں گزرا ہے۔
فَیَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً وَّهُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ
پھر جب وہ بے خبری میں ان پر آ پڑتا ہے
فَیَقُوْلُوْا هَلْ نَحْنُ مُنْظَرُوْنَ ؕ
اُس وقت وہ کہتے ہیں کہ”کیا اب ہمیں کچھ مہلت مِل سکتی ہے؟“127
یعنی عذاب سامنے دیکھ کر ہی مجرموں کو یقین آیا کرتا ہے کہ واقعی پیغمبر ے جو کچھ کہا تھا وہ سچ تھا۔ اس وقت وہ حسرت کے ساتھ ہاتھ مل مل کر کہتے ہیں کہ کاش اب ہمیں کچھ مہلت مل جائے ، حالانکہ مہلت کا وقت گزر چکا ہوتا ہے۔
اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ
تو کیا یہ لوگ ہمارے عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں؟
اَفَرَءَیْتَ اِنْ مَّتَّعْنٰهُمْ سِنِیْنَ
تم نے کچھ غور کیا، اگر ہم انہیں برسوں تک عیش کرنے کی مُہلت بھی دے دیں
ثُمَّ جَآءَهُمْ مَّا كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ
اور پھر وہی چیز ان پر آ جائے جس سے انہیں ڈرایا جا رہا ہے
مَاۤ اَغْنٰی عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یُمَتَّعُوْنَ ؕ
تو وہ سامانِ زیست جو ان کو ملا ہوا ہے اِن کے کس کام آئے گا؟128
اس فقرے اور اس سے پہلے کے فقرے کے درمیان ایک لطیف خلا ہے جسے سامع کا ذہن تھوڑا سا غور کر کے خود بھر سکتا ہے۔ عذاب کے لیے ان کے جلدی مچانے کی وجہ یہ تھی کہ وہ عذاب کے آنے کا کوئی اندیشہ نہ رکھتے تھے۔ انہیں بھروسا تھا کہ جیسی چین کی بنسری آج تک ہم بجاتے رہے ہیں اسی طرح ہمیشہ بجاتے رہیں گے۔ اسی اعتماد پر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو چیلنج دیتے تھے کہ اگر واقعی تم خدا کے رسول ہو اور ہم تمہیں جھٹلا کر عذاب الٰہی کے مستحق ہو رہے ہیں تو لو ہم نے تمہیں جھٹلا دیا، اب لے آؤ اپنا وہ عذاب جس سے تم ہمیں ڈراتے ہو۔ اس پر فرمایا جا رہا ہے ، اچھا اگر بالفرض ان کا یہ بھروسا صحیح ہی ہو، اگر ان پر فوراً عذاب نہ آئے ، اگر انہیں دنیا میں مزے کرنے کے لیے ایک لمبی ڈھیل بھی مل جائے جس کی توقع پر یہ پھول رہے ہیں ، تو سوال یہ ہے کہ جب بھی ان پر عاد و ثمود یا قوم لوط اور اصحاب الایکہ کی سی کوئی آفت ناگہانی ٹوٹ پڑی جس سے محفوظ رہنے کی کسی کے پاس کوئی ضمانت نہیں ہے یا اور کچھ نہیں تو موت کی آخری گھڑی آن پہنچی جس سے بہر حال کسی کو مفر نہیں ، تو اس وقت عیش دنیا کے یہ چند سال آخر ان کے لیے کیا مفید ثابت ہوں گے ؟
وَمَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ اِلَّا لَهَا مُنْذِرُوْنَ
(دیکھو) ہم نے کبھی کسی بستی کو اِس کے بغیر ہلاک نہیں کیا کہ اُس کے لیے خبردار کرنے والے حق نصیحت ادا کرنے کو موجود تھے
ذِكْرٰی ۫ وَمَا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ
اور ہم ظالم نہ تھے۔129
یعنی جب انہوں نے خبر دار کرنے والوں کی تنبیہ اور سمجھانے والوں کی نصیحت قبول نہ کی اور ہم نے انہیں ہلاک کر دیا، تو ظاہر ہے کہ یہ ہماری طرف سے ان پر کوئی ظلم نہ تھا۔ ظلم تو اس وقت ہوتا جب کہ ہلاک کرنے سے پہلے انہیں سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوئی کوشش نہ کی گئی ہوتی۔
وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّیٰطِیْنُ
اِس (کتابِ مبین)کو شیاطین لے کر نہیں اُترے ہیں،130
پہلے اس معاملے کا مثبت پہلو ارشاد ہوا تھا کہ یہ رب العالمین کی نازل کردہ ہے اور اسے روح الامین لے کر اترا ہے۔ اب اس کا منفی پہلو بیان کیا جا رہا ہے کہ اسے شیاطین لے کر نہیں اترے ہیں جیسا کہ حق کے دشمنوں کا الزام ہے۔ کفار قریش نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی دعوت کو نیچا دکھانے کے لیے جھوٹ کی جو مہم چلا رکھی تھی اس میں سب سے بڑی مشکل انہیں یہ پیش آ رہی تھی کہ اس حیرت انگیز کلام کی کیا توجیہ کی جائے جو قرآن کی شکل میں لوگوں کے سامنے آ رہا تھا اور دلوں میں اترتا چلا جا رہا تھا۔ یہ بات تو ان کے بس میں نہ تھی کہ لوگوں تک اس کے پہنچنے کو روک سکیں۔ اب پریشان کن مسئلہ ان کے لیے یہ تھا کہ لوگوں کو اس سے بد گمان کرنے اور اس کی تاثیر سے بچانے کے لیے کیا بات بنائیں۔ اس گھبراہٹ میں جو الزامات انہوں نے عوام میں پھیلائے تھے ان میں سے ایک یہ تھا کہ محمد صلی الہ علیہ و سلم معاذ اللہ کاہن ہیں اور عام کاہنوں کی طرح ان پر بھی یہ کلام شیاطین القا کرتے ہیں۔ اس الزام کو وہ اپنا سب سے زیادہ کار گر ہتھیار سمجھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ کسی کے پاس اس ات کو جانچنے کے لیے آخر کیا ذریعہ ہو سکتا ہے کہ یہ کلام کوئی فرشتہ لاتا ہے یا شیطان اور شیطانی القاء کی تردید آخر کوئی کرے گا تو کیسے۔
وَمَا یَنْۢبَغِیْ لَهُمْ وَمَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ؕ
یعنی یہ کلام اور یہ مضامین شیاطین کے منہ پر پھبتے بھی تو نہیں ہیں۔ کوئی عقل رکھتا ہو تو خود سمجھ سکتا ہے کہ کہیں یہ باتیں ، جو قرآن میں بیان ہو رہی ہیں ، شیاطین کی طرف سے بھی ہو سکتی ہیں ؟ کیا تمہاری بستیوں میں کاہن موجود نہیں ہیں اور شیاطین سے ربط ضبط رکھ کر جو باتیں وہ کرتے ہیں وہ تم نے کبھی نہیں سنیں ؟ کیا کبھی تم نے سنا ہے کہ کسی شیطان نے کسی کاہن کے ذریعہ سے لوگوں کو خد پرستی اور خدا ترسی کی تعلیم دی ہو؟ شرک و بت پرستی سے روکا ہو؟ آخرت کی باز پرس کا خوف دلایا ہو؟ ظلم اور بد کاری اور بد اخلاقیوں سے منع کیا ہو؟ نیکو کاری اور راستبازی اور خلق خدا کے ساتھ احسان کی تلقین کی ہو؟ شیاطین کا یہ مزاج کہا ہے ؟ ان کا مزاج تو یہ ہے کہ لوگوں میں فساد ڈلوائیں اور انہیں برائیوں کی طرف رغبت دلائیں۔ ان سے تعلق رکھنے والے کاہنوں کے پاس تو لوگ یہ پوچھنے جاتے ہیں کہ عاشق کو معشوق ملے گا یا نہیں ؟ جوئے میں کونسا داؤں مفید رہے گا؟ دشمن کو نیچا دکھانے کے لیے کیا چال چلی جائے ؟ اور فلاں شخص کا اونٹ کس نے چرایا ہے ؟ یہ مسائل اورع معاملات چھوڑ کر کاہنوں اور ان کے سرپرست شیاطین کو خلق خدا کی اصلاح، بھلائیوں کی تعلیم اور برائیوں کے استیصال کی کب سے فکر لاحق ہو گئی؟
یعنی شیاطین اگر کرنا چاہیں بھی تو یہ کام ان کے بس کا نہیں ہے کہ تھوڑی دیر کے لیے بھی اپنے آپ کو انسانوں کے سچے معلم اور حقیقی مزکّی کے مقام پر رکھ کر خالص حق اور خالص خیر کی وہ تعلیم دے سکیں جو قرآن دے رہا ہے۔ وہ دھوکا دینے کی خاطر بھی اگر یہ روپ دھاریں تو ان کا کام ایسی آمیزشوں سے خالی نہیں ہو سکتا جو ان کی جہالت اور ان کے اندر چھپی ہوئی شیطانی فطرت کی غمازی نہ کر دیں۔ نیت کی خرابی، ارادوں کی نا پاکی، مقاصد کی خباثت لازماً اس شخص کی زندگی میں بھی اور اس کی تعلیم میں بھی جھلک کر رہے گی جو شیاطین سے الہام حاصل کر کے پیشوا بن بیٹھا ہو۔ بے آمیز راستی اور خالص نیکی نہ شیاطین القاء کر سکتے ہیں اور نہ ان سے ربط ضبط رکھنے والے اس کے حمل ہو سکتے ہیں۔ پھر تعلیم کی بلندی و پاکیزگی پر مزید وہ فصاحت و بلاغت اور وہ علم حقائق ہے جو قرآن میں پایا جاتا ہے۔ اسی بنیاد پر قرآن میں ابر بار یہ چیلنج دیا گیا ہے کہ انسان اور جن مل کر بھی چاہیں تو اس کتاب کے مانند کوئی چیز تصنیف کر کے نہیں لا سکتے : قُلْ لَّائِنِ ا جْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلیٰٓ اَنْ یَّاْ تُوْ ا بِمِثْلِ ھٰذَ االْقُرْاٰنِ لَا یَاْ تُوْنَ بِمِثْلِہِ وَلَوْ کَانَ بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ ظَہِیْراً (بنی اسرائیل۔ آیت 88) قُلْ فَاْ تُوْ ابِسُوْرَۃٍ مِّنْ مِّثْلِہٖ وَادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ اِنْکُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ O (یونس۔ آیت 38)۔
اِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُوْلُوْنَ ؕ
وہ تو اس کی سماعت تک سے دُور رکھے گئے ہیں۔133
یعنی اس قرآن کے القاء میں دخیل ہونا تو در کنار، جس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف ے روح الامین اس کو لے کر چلتا ہے اور جس وقت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے دل پر وہ اس کو نازل کرتا ہے ، اس پورے سلسلے میں کسی جگہ بھی شیاطین کو کان لگا کر سننے تک کا موقع نہیں ملتا۔ وہ آس پاس کہیں پھٹکنے بھی نہیں پاتے کہ سن گن لے کر ہی کوئی بات اچک لے جائیں اور جا کر اپنے دوستوں کو بتا سکیں کہ آج محمد (صلی اللہ علیہ و سلم ) یہ پیغام سنانے والے ہیں ، یا ان کی تقریر میں فلاں بات کا بھی ذکر آنے والا ہے (مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، الحجر، حواشی 8 تا 12۔ جلد چہارم، الصافات، حواشی 5 تا 7 اور سورہ جن، آیات 8۔9۔27 )۔
فَلَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَكُوْنَ مِنَ الْمُعَذَّبِیْنَ
پس اے محمدؐ ، اللہ کے ساتھ کسی دُوسرے معبُود کو نہ پکارو، ورنہ تم بھی سزا پانے والوں میں شامل ہو جاوٴ گے۔134
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ معاذ اللہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے شرک کا کوئی خطرہ تھا اور اس بنا پر آپ کو دھمکا کر اس سے روکا گیا۔ در اصل اس سے مقصود کفار و مشرکین کو متنبہ کرنا ہے۔ کلام کا مدعا یہ ہے کہ قرآن مجید میں جو تعلیم پیش کی جا رہی ہے یہ چونکہ خالص حق ہے فرمانروائے کائنات کی طرف سے ، او ر اس میں شیطانی آلائشوں کا ذرہ برابر بھی دخل نہیں ہے ، اس لیے یہاں حق کے معاملے میں کسی کے ساتھ رو رعایت کا کوئی کام نہیں۔ خدا کو سب سے بڑھ کر اپنی مخلوق میں کوئی عزیز و محبوب ہو سکتا ہے تو وہ اس کا رسول پاک ہے۔ لیکن بالفرض اگر وہ بھی بندگی کی راہ سے بال برابر ہٹ جائے اور خدائے واحد کے سوا کسی اور کو معبود کی حیثیت سے پکار بیٹھے تو پکڑ سے نہیں بچ سکتا۔ تا بدیگراں چہ رسد۔ اس معاملہ میں جب خود محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ بھی کوئی رعایت نہیں تو اورع کون ہے جو خدا کی خدائی میں کسی اور کو شریک ٹھیرانے کے بعد یہ امید کر سکتا ہو کہ خود بچ نکلے گا یا کسی کے بچانے سے بچ جائے گا۔
وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَكَ الْاَقْرَبِیْنَ
اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو ڈراوٴ،135
یعنی خدا کے اس بے لاگ دین میں جس طرح نبی کی ذات کے لیے کوئی رعایت نہیں اسی طرح نبی کے خاندان اور اس کے قریب ترین عزیزوں کے لیے بھی کسی رعایت کی گنجائش نہیں ہے۔ یہاں جس کے ساتھ بھی کوئی معاملہ ہے اس کے اوصاف( (Merits کے لحاظ سے ہے۔ کسی کا نسب اور کسی کے ساتھ آدمی کا تعلق کوئی نفع نہیں پہنچا سکتا۔ گمراہی و بد عملی پرخاش کے عذاب کا خوف سب کے لیے یکساں ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اور سب تو ان چیزوں پر پکڑے جائیں ، مگر نبی کے رشتہ دار بچے رہ جائیں۔ اس لیے حکم ہوا کہ اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو بھی صاف صاف متنبہ کر دو۔ اگر وہ اپنا عقیدہ اور عمل درست نہ رکھیں گے تو یہ بات ان کے کسی کام نہ آ سکے گی کہ وہ نبی کے رشتہ دار ہیں۔ معتبر روایات میں آیا ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے سب سے پہلے اپنے دادا کی اولاد کو خطاب فرمایا اور ایک ایک کو پکار کر صاف صاف کہہ دیا کہ یا بنی عبد المطلب، یاعباس، یا صفیۃ عمۃ رسول اللہ، یا فاطمۃ بنت محمد، انقذوا انفسکم من النار، فانی لا املک لکم من اللہ شیئاً، سلونی من مالی ماشئتم۔ ’’ اے نبی عبد المطلب، اے عباس، اے صفیہ رسول اللہ کی پھوپھی، اے فاطمہ محمدؐ کی بیٹی، تم لوگ آگ کے عذاب سے اپنے آپ کو بچانے کی فکر کر لو، میں خدا کی پکڑ سے تم کو نہیں بچا سکتا، البتہ میرے مال میں سے تم لوگ جو کچھ چاہو مانگ سکتے ہو‘‘۔ پھر آپ نے صبح سویرے صفا کے سب سے اونچے مقام پر کھڑے ہو کر پکارا یا صباحاہ (ہائے صبح کا خطرہ)، اے قریش کے لوگو، اے بنی کعب بن لُؤَیّ، اے بنی مرّہ، اے آل قُصَیّ، اے بنی عبد مَناف، اے بنی عبدشمس، اے بنی ہاشم، اے آل عبد المطلب۔ اس طرح قریش کے ایک ایک قبیلے اور خاندان کا نام لے لے کر آپ نے آواز دی۔ عرب میں قاعدہ تھا کہ جب صبح تڑکے کسی اچانک حملے کا خطرہ ہوتا تو جس شخص کو بھی اس کا پت چل جاتا وہ اسی طرح پکارنا شروع کر دیتا اور لوگ اس کی آواز سنتے ہیں ہر طرف سے دوڑ پڑتے۔ چنانچہ حضورؐ کی اس آواز پر سب لوگ گھروں سے نکل آئے ، اور جو خود نہ آ سکا اس نے اپنی طرف سے کسی کو خبر لانے کے لیے بھیج دیا۔ جب سب لوگ جمع ہو گئے تو آپؐ نے فرمایا : ’’ لوگو، اگر میں تمہیں بتاؤں کہ اس پہاڑ کے دوسری طرف ایک بھاری لشکر ہے جو تم پر ٹوٹ پڑنا چاہتا ہے تو تم میری بات سچ مانو گے ؟ سب نے کہا ہان، ہمارے تجربے میں تم کبھی جھوٹ بولنے والے نہیں رہے ہو۔ آپ نے فرمایا، ’’ اچھا تو میں خدا کا سخت عذاب آنے سے پہلے تم کو خبردار کرتا ہوں۔ اپنی جانوں کو اس کی پکڑ سے بچانے کی فکر کرو۔ میں خدا کے مقابلے میں تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا۔ قیامت میں میرے رشتہ دار صرف متقی ہوں گے۔ ایسا نہ ہو کہ دوسرے لوگ نیک اعمال لے کر آئیں اور تم لوگ دنیا کا وبال سر پر اٹھائے ہوئے آؤ۔ اس وقت تم پکارو گے یا محمدؐ، مگر میں مجبور ہوں گا کہ تمہاری طرف سے منہ پھیر لوں۔ البتہ دنیا میں میرا اور تمہارا خون کا رشتہ ہے اور یہاں میں تمہارے ساتھ ہر طرح کی صلہ رحمی کروں گا ‘‘۔ (اس مضمون کی متعدد روایات بخاری، مسلم، مسند احمد، ترمذی، نسائی اور تفسیر ابن جریر میں حضرت عائشہ، حضرت ابو ہریرہ، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت زہیر بن عمرو اور حضرت قبیصہ بن مخارق سے مروی ہیں )۔ یہ معاملہ صرف اس حد تم نہ تھا کہ قرآن میں اَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ کا حکم آیا اور حضورؐ نے اپنے رشتہ داروں کو جمع کر کے بس اس کی تعمیل کر دی۔ در اصل اس میں جو اصول واضح کیا گیا تھا وہ یہ تھا کہ دین میں نبی اور اس کے خاندان کے لیے کوئی امتیازی مراعات نہیں ہیں جن سے دوسرے محروم ہوں۔ جو چیز زہر قاتل ہے وہ سب ہی کے لیے قاتل ہے ، نبی کا کام یہ ہے کہ سب سے پہلے اس سے خود بچے اور اپنے قریبی لوگوں کو اس سے ڈرائے ، پھر ہر خاص و عام کو متنبہ کر دے کہ جو بھی اسے کھائے گا، ہلاک ہو جائے گا۔ اور جو چیز نافع ہے وہ سب ہی کے لیے نافع ہے ، نبی کا منصب یہ ہے کہ سب سے پہلے اسے خود اختیار کرے اور اپنے عزیزوں کو اس کی تلقین کرے ، تاکہ ہر شخص دیکھ لے کہ یہ وعظ و نصیحت دوسروں ہی کے لیے نہیں ہے ، بلکہ نبی اپنی دعوت میں مخلص ہے۔ اسی طریقے پر نبی صلی اللہ علیہ و سلم زندگی بھر عامل رہے۔ فتح مکہ کے روز جب آپ شہر میں داخل ہوئے تو آپ نے اعلان کیا کہ کل ربانی الجاھلیۃ موضوع تحت قدمی ھاتین و اول ما اضعہ ربا العباس۔ ’’زمانہ جاہلیت کا ہر سود جو لوگوں کے ذمے تھا میرے ان قدموں تلے روند ڈالا گیا۔ اور سب سے پہلے جس سود کو میں ساقط کرتا ہوں وہ میرے چچا عباسؓ کا ہے ‘‘ (واضح رہے کہ سود کی حرمت کا حکم آنے سے پہلے حضرت عباس سود پر روپیہ چلاتے تھے اور ان کا بہت سا سود اس وقت لوگوں کے ذمے وصول طلب تھا )۔ ایک مرتبہ چوری کے جرم میں قریش کی ایک عورت فاطمہ نامی کا ہاتھ کاٹنے کا آپ نے حکم دیا۔ حضرت اسامہ بن زید نے اس کے حق میں سفارش کی۔ اس پر آپ نے فرمایا خدا کی قسم، اگر محمدؐ کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔
وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ
اور ایمان لانے والوں میں سے جو لوگ تمہاری پیروی اختیار کریں ان کے ساتھ تواضع سے پیش آؤ
فَاِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ
لیکن اگر وہ تمہاری نافرمانی کریں تو ان سے کہہ دو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اس سے میں بری الذّمّہ ہوں۔136
اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ تمہارے رشتہ داروں میں سے جو لوگ ایمان لا کر تمہاری پیروی اختیار کریں ان کے ساتھ نرمی اور ملاطفت اور تواضع کا رویہ اختیار کرو، اور جو تمہاری بات نہ مانیں ان سے اعلان براءت کر دو۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ ارشاد صرف ان رشتہ داروں سے متعلق نہ ہو جنہیں متنبہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا، بلکہ سب کے لیے عام ہو۔ یعنی جو بھی ایمان لا کر تمہارا اتباع کرے اس کے ساتھ تواضع برتو اور جو بھی تمہاری نا فرمانی کرے اس کو خبر دار کر دو کہ تیرے اعمال سے میں بری الذمّہ ہوں۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت قریش اور آس پاس کے اہل عرب میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی صداقت کے قائل ہو گئے تھے ، مگر انہوں نے عملاً آپ کی پیروی اختیار نہ کی تھی، بلکہ وہ بد ستور اپنی گمراہ سوسائٹی میں مل جل کر اسی طرح کی زندگی بس کر رہے تھے جیسی دوسرے کفار کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے ماننے والوں کو ان اہل ایمان سے الگ قرار دیا جنہوں نے حضورؐ کی صداقت تسلیم کرنے کے بعد آپ کا اتباع بھی اختیار کر لیا تھا۔ تواضع برتنے کا حکم صرف اسی مؤخر الذکر گروہ کے لیے تھا۔ باقی رہے وہ لوگ جو حضورؐ کی فرماں برداری سے منہ موڑے ہوئے تھے ، جن میں آپ کی صداقت کو ماننے والے بھی شامل تھے اور آپ کا انکار کر دینے والے بھی، ان کے متعلق حضورؐ کو ہدایت کی گئی کہ ان سے بے تعلقی کا اظہار کر دو اور صاف صاف کہہ دو کہ اپنے اعمال کا نتیجہ تم خود بھگتو گے ، تمہیں خبر دار کر دینے کے بعد اب مجھ پر تمہارے کسی فعل کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔
وَتَوَكَّلْ عَلَی الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِ
اور اُس زبر دست اور رحیم پر توکّل کرو137
یعنی دنیا کی کسی بڑی سے بڑی طاقت کی بھی پروا نہ کرو اور اس ذات کے بھروسے پر اپنا کام کیے چلے جاؤ جو زبردست بھی ہے اور رحیم بھی۔ اس کا زبردست ہونا اس بات کی ضمانت ہے کہ جس کی پشت پر اس کی تائید ہوا سے دنیا میں کوئی نیچا نہیں دکھا سکتا۔ اور اس کا رحیم ہونا اس اطمینان کے لیے کافی ہے کہ جو شخص اس کی خاطر اعلائے کلمۃ الحق کے کام میں جان لڑائے گا اس کی کوششوں کو وہ کبھی رائیگاں نہ جانے دے گا۔
الَّذِیْ یَرٰىكَ حِیْنَ تَقُوْمُ
جو تمہیں اُس وقت دیکھ رہا ہوتا ہے جب تم اُٹھتے ہو138
اٹھنے سے مراد راتوں کو نماز کے لیے اُٹھنا بھی ہو سکتا ہے اور فریضۂ رسالت ادا کرنے کے لیے اٹھنا بھی۔
وَتَقَلُّبَكَ فِی السّٰجِدِیْنَ
اور سجدہ گزار لوگوں میں تمہاری نقل و حرکت پر نگا ہ رکھتا ہے۔139
اس سے کئی مراد ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ آپ جب نماز با جماعت میں اپنے مقتدیوں کے ساتھ اُٹھتے اور بیٹھتے اور رکوع و سجود کرتے ہیں اس وقت اللہ تعالیٰ آپ کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔ دوسرے جب راتوں کو اٹھ کر آپ اپنے ساتھیوں کو (جن کے لیے ’’ سجدہ گزار‘‘ کا لفظ امتیازی صفت کے طور پر استعمال ہوا ہے ) دیکھتے پھرتے ہیں کہ وہ اپنی عاقبت سنوارنے کے لیے کیا کچھ کر رہے ہیں ، اس وقت آپ اللہ کی نگاہ سے پوشیدہ نہیں ہوتے۔ تیسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ اس تمام دوڑ دھوپ اور تگ و دو سے واقف ہے جو آپ اپنے سجدہ گزار ساتھیوں کی معیت میں اس کے بندوں کی اصلاح کے لیے کر رہے ہیں چوتھے یہ کہ سجدہ گزار لوگوں کے گروہ میں آپ کے تمام تصرفات اللہ کی نگاہ میں ہیں۔ وہ جانتا ہے کہ آپ کس طرح ان کی تربیت کر رہے ہیں ،کیسا کچھ ان کا تزکیہ آپ نے کیا ہے اور کس طرح مس خام کو کندن بنا کر رکھ دیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے صحابہ کرام کی ان صفات کا ذکر یہاں جس غرض کے لیے کیا گیا ہے اس کا تعلق اوپر کے مضمون سے بھی ہے اور آگے کے مضمون سے بھی اوپر کے مضمون سے اس کا تعلق یہ ہے کہ آپ حقیقت میں اللہ کی رحمت اور اس کی زبردست تائید کے مستحق ہیں ، اس لیے کہ اللہ کوئی اندھا بہرا معبود نہیں ہے ، دیکھنے اور سننے والا فرمانروا ہے ، اس کی راہ میں آپ کی دوڑ دھوپ اور اپنے سجدہ گزار ساتھیوں میں آپ کی سرگرمیاں ، سب کچھ اس کی نگاہ میں ہیں۔ بعد کے مضمون سے اس کا تعلق یہ ہے کہ جس شخص کی زندگی یہ کچھ ہو جیسی کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی ہے ، اور جس کے ساتھیوں کی صفات وہ کچھ ہوں جیسی کہ اصحاب محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی ہیں اس کے متعلق کوئی عقل کا اندھا ہی یہ کہہ سکتا ہے کہ اس پر شیاطین اترتے ہیں یا وہ شاعر ہے۔ شیطان جن کاہنوں پر اترتے ہیں اور شعراء اور ان کے ساتھ لگے رہنے والوں کے جیسے کچھ رنگ ڈھنگ ہیں ، وہ آخر کس سے پوشیدہ ہیں۔ تمہارے اپنے معاشرے میں ایسے لوگ کثرت سے پائے ہی جاتے ہیں۔ کیا کوئی آنکھوں والا ایمانداری کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہے کہ اسے محمد صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے اصحاب کی زندگی میں اور شاعروں اور کاہنوں کی زندگی میں کوئی فرق نظر نہیں آتا؟ ا ب یہ کیسی ڈھٹائی ہے کہ ان خدا کے بندوں پر کھلم کھلا کہانت اور شاعری کی پھبتی کسی جاتی ہے اور کسی کو اس پر شرم بھی نہیں آتی۔
اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ
وہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے
هَلْ اُنَبِّئُكُمْ عَلٰی مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیٰطِیْنُ ؕ
لوگو، کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیاطین کس پر اُترا کرتے ہیں؟
تَنَزَّلُ عَلٰی كُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍ
وہ ہر جعل ساز بدکار پر اُترا کرتے ہیں۔140
مراد ہیں کاہن، جوتشی، فال گیر، رمّال، اور ’’عامل‘‘ قسم کے لوگ جو غیب دانی کا ڈھونگ رچاتے پھرتے ہیں۔ گول مول لچھے دار باتیں بنا کر لوگوں کی قسمتیں بتاتے ہیں ، یا سیانے بن کر جنوں اور روحوں اور مؤکلوں کے ذریعہ سے لوگوں کی بگڑی بنانے کا کاروبار کرتے ہیں۔
یُّلْقُوْنَ السَّمْعَ وَاَكْثَرُهُمْ كٰذِبُوْنَ ؕ
سُنی سُنائی باتیں کانوں میں پھُونکتے ہیں اور ان میں سے اکثر جھُوٹے ہوتے ہیں۔141
اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ شیاطین کچھ سن گن لے کر اپنے اولیاء پر القاء کرتے ہیں اور اس میں تھوڑی سی حقیقت کے ساتھ بہت سا جھوٹ ملا دیتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ جھوٹے لپاٹیے کاہن شیاطین سے کچھ باتیں سن لیتے ہیں اور پھر اپنی طرف سے بہت سا جھوٹ ملا کر لوگوں کے کانوں میں پھونکتے پھرتے ہیں۔ اس کی تشریح ایک حدیث میں بھی آئی ہے جو بخاری نے حضرت عائشہ سے روایت کی ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ بعض لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے کاہنوں کے بارے میں سوال کیا۔ آپ نے فرمایا وہ کچھ نہیں ہیں۔ انہوں نے عرض کیا، یا رول اللہ بعض اوقات تو وہ ٹھیک بات بتا دیتے ہیں۔ حضورؐ نے فرمایا وہ ٹھیک بات جو ہوتی ہے اسے کبھی کبھار جن لے اڑتے ہیں اور جاکر اپنے دوست کے کان میں پھونک دیتے ہیں ، پھر وہ اس کے ساتھ جھوٹ کی بہت سی آمیزش کر کے ایک داستان بنا لیتا ہے۔
وَالشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَ ؕ
رہے شعراء، تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلا کرتے ہیں۔142
یعنی شاعروں کے ساتھ لگے رہنے والے لوگ اپنے اخلاق، عادات و خصائل اور اُفتادِ مزاج میں ان لوگوں سے بالکل مختلف ہوتے ہیں جو محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ تمہیں نظر آتے ہیں۔ دونوں گروہوں کا فرق ایسا کھلا ہوا فرق ہے کہ ایک نظر دیکھ کر ہی آدمی جان سکتا ہے کہ یہ کیسے لوگ ہیں اور وہ کیسے۔ ایک طرف انتہائی سنجیدگی، تہذیب، شرافت، راستبازی اور خدا ترسی ہے۔ بات بات میں ذمہ داری کا احساس ہے۔ برتاؤ میں لوگوں کے حقوق کا پاس و لحاظ ہے۔ معاملات میں کمال درجہ کی دیانت و امانت ہے اور زبان جب کھلتی ہے خیر ہی کے لیے کھلتی ہے ، شر کا کلمہ کبھی اس سے ادا نہیں ہوتا۔ سب سے زیادہ یہ کہ ان لوگوں کو دیکھ کر صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان کے سامنے ، ایک بلند اور پاکیزہ نصب العین ہے جس کی دھن میں یہ رات دن لگے ہوئے ہیں اور ان کی ساری زندگی ایک مقصد عظیم کے لیے وقف ہے۔ دوسری طرف حال یہ ہے کہ کہیں عشق بازی اور شراب نوشی کے مضامین بیان ہو رہے ہیں اور حاضرین اچھل اچھل کر ان پر داد دے رہے ہیں۔ کہیں کسی زن بازاری یا کسی گھر کی بہو بیٹی کا حسن موضوع سخن ہے اور سننے والے اس پر مزے لے رہے ہیں۔ کہیں جنسی مواصلت کی حکایت بیان ہو رہی ہے اور پورے مجمع پر شہوانیت کا بھوت مسلط ہے۔ کہیں ہزل بکا جا رہا ہے یا مسخرہ پن کی باتیں ہو رہی ہیں اور مجمع میں ہر طرف ٹھٹھے لگ رہے ہیں۔ کہیں کسی کی ہجو اڑائی جا رہی ہے اور لوگ اس سے لطف لے رہے ہیں۔ کہیں کسی کی بے جا تعریف ہو رہی ہے اور اس پر تحسین و آفرین کے ڈونگرے برسائے جا رہے ہیں۔ اور کہیں کسی کے خلاف نفرت، عداوت اور انتقام کے جذبات بھڑکائے جا رہے ہیں اور سننے والوں کے دلوں میں ان سے آگ سی لگی جاتی ہے۔ ان مجلسوں میں شاعروں کے کلام سننے کے لیے جو ٹھٹھ کے ٹھٹھ لگتے ہیں ، اور بڑے بڑے شاعروں کے پیچھے جو لوگ لگے پھرتے ہیں ان کو دیکھ کر کوئی شخص یہ محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ یہ اخلاق کی بندشوں سے آزاد، جذبات و خواہشات کی رو میں بہنے والے ، اور لطف و لذت کے پرستار، نیم حیوان قسم کے لوگ ہیں جن کے ذہن کو کبھی یہ خیال چھو بھی نہیں گیا ہے کہ دنیا میں انسان کے لیے زندگی کا کوئی بلند تر مقصد و نصب العین بھی ہو سکتا ہے۔ ان دونوں گروہوں کا کھلا کھلا فرق و امتیاز اگر کسی کو نظر نہیں آتا تو وہ اندھا ہے ، اور اگر سب کچھ دیکھ کر بھی کوئی محض حق کو نیچا دکھانے کے لیے ایمان نکل کر یہ کہتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم اور ان کے گرد جمع ہونے والے اسی قبیل کے لوگ ہیں جیسے شعراء اور ان کے پیچھے لگے رہنے والے لوگ ہوتے ہیں ، تو وہ جھوٹ بولنے میں بے حیائی کی ساری حدیں پار کر گیا ہے۔
اَلَمْ تَرَ اَنَّهُمْ فِیْ كُلِّ وَادٍ یَّهِیْمُوْنَ
کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے ہیں143
یعنی کوئی ایک متعین راہ نہیں ہے جس پر وہ سوچتے اور اپنی قوت گویائی صرف کرتے ہوں ، بلکہ ان کا تو سَنِ فکر ایک بے لگام گھوڑے کی طرح ہر وادی میں بھٹکتا پھرتا ہے اور جذبات یا خواہشات و اغراض کی ہر نئی رَو ان کی زبان سے ایک نیا مضمون ادا کراتی ہے جسے سوچنے اور بیان کرنے میں اس بات کا کوئی لحاظ سرے سے ہوتا ہی نہیں کہ یہ بات حق اور صدق بھی ہے۔ کبھی ایک لہر اٹھی تو حکمت و موعظت کی باتیں ہونے لگیں اور کبھی دوسری لہر آئی تو اسی زبان سے انتہائی گندے سفلی جذبات کا ترشح شروع ہو گیا۔ کبھی کسی سے خود ہوئے تو اے آسمان پر چڑھا دیا اور کبھی بگڑ بیٹھے تو اسی کو تحت الثریٰ میں جا گرایا۔ ایک بخیل کو حاتم اور ایک بزدل کو رستم و اسفندیار پر فضیلت دینے میں انہیں ذرا تامل نہیں ہوتا اگر اس سے کوئی غرض وابستہ ہو۔ اس کے برعکس کسی سے رنج پہنچ جائے تو اس کی پاک زندگی پر دھبہ لگانے اور اس کی عزت پر خاک پھینکنے میں ، بلکہ اس کے نسب پر طعن کرنے میں بھی ان کو شرم محسوس نہیں ہوتی۔ خدا پرستی اور دہریت، مادہ پرستی اور روحانیت، حسن اخلاق اور بد اخلاقی، پاکیزگی اور گندگی، سنجیدگی اور ہزل، قصیدہ اور ہجو سب کچھ ایک ہی شاعر کے کلام میں آپ کو پہلو بہ پہلو مل جائے گا۔ شعراء کی ان معروف خصوصیات سے جو شخص واقف ہو اس کے دماغ میں آخر یہ بے تکی بات کیسے اتر سکتی ہے کہ اس قرآن کے لانے والے پر شاعری کی تہمت رکھی جائے جس کی تقریر جچی تلی، جس کی بات دو ٹوک، جس کی راہ بالکل واضح اور متعین ہے اور جس نے حق اور راستی اور بھلائی کی دعوت سے ہٹ کر کبھی ایک کلمہ بھی زبان سے نہیں نکالا ہے۔ قرآن مجید میں ایک دوسرے مقام پر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ آپ کے مزاج کو تو شاعری کے ساتھ سرے سے کوئی مناسبت ہی نہیں ہے : وَمَا عَلَّمْنَا ہُ الشِّعْرَ وَمَا یَنْبَغِیْ لَہٗ، (یٰسٓ۔آیت 69 ) ’’ہم نے اس کو شعر نہیں سکھایا ہے نہ یہ اس کے کرنے کا کام ہے ‘‘۔ اور یہ ایک ایسی حقیقت تھی کہ جو لوگ بھی نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ذاتی واقفیت رکھتے تھے وہ سب اسے جانتے تھے۔ معتبر روایات میں آیا ہے کہ کوئی شعر حضورؐ کو پورا یاد نہ تھا۔ دوران گفتگو میں کبھی کسی شاعر کا کوئی اچھا شعر زبان مبارک پر آتا بھی تو غیر موزوں پڑھ جاتے تھے ، یا اس میں الفاظ کا الٹ پھیر ہو جاتا تھا۔ حضرت حسن بصری کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ دوران تقریر میں آپ نے شاعر کا مصرعہ یوں نقل کیا : کفی بالا سلام و الشیب اللمرء ناھیا حضرت ابو بکرؓ نے عرض کیا، یا رسول اللہ اصل مصرع یوں ہے : کفی الشیب والاسلام للمرء ناھیا ایک مرتبہ عباس بن مرداس سُلَمی سے آپ نے پوچھا، کیا تم ہی نے یہ شعر کہا ہے : اتجعل نھبی و نھب العبید و بین الاقرع و عیینہ انہوں نے عرض کیا آخری فقرہ یوں نہیں ہے بلکہ یوں ہے بینا عُیَیْنَۃَ والاقرء۔ آپ نے فرمایا معنی میں تو دونوں یکساں ہیں۔ حضرت عائشہؓ سے پوچھا گیا کہ حضورؐ کبھی اشعار بھی اپنی تقریروں میں استعمال فرماتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا شعر سے بڑھ کر آپ کو کسی چیز سے نفرت نہ تھی۔ البتہ کبھی کبھار بنی قیس کے شاعر کا یک شعر پڑھتے تھے مگر اول کو آخر اور آخر کو اول پڑھ جاتے تھے۔ حضرت ابو بکر عرض کرتے یا رسول اللہ یوں نہیں بلکہ یوں ہے ، تو آپ فرماتے کہ ’’ بھائی میں شاعر نہیں ہوں اور نہ شعر گوئی میرے کرنے کا کام ہے ‘‘ جس قسم کے مضامین سے عرب کی شاعری لبریز تھی وہ یا تو شہوانیت اور عشق بازی کے مضامین تھے ، یا شراب نوشی کے ، یا قبائلی منافرت اور جنگ و جدل کے ، یا نسلی فخر و غرور کے۔ نیکی اور بھلائی کی باتیں ان میں بہت ہی کم پائی جاتی تھیں۔ پھر جھوٹ، مبالغہ، بہتان، ہجو، بے جا تعریف، ڈینگیں ، طعن، پھبتیاں ، اور مشرکانہ خرافات تو اس شاعری کی رگ رگ میں پیوست تھیں۔ اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی رائے اس شاعری کے متعلق یہ تھی کہ : لان یمتلئ جوف احد کم قیحا خیر لہ من ان یمتلئ شعراً، ’’ تم میں سے کسی شخص کا خول پیپ سے بھر جانا اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھرے ‘‘۔ تا ہم جس شعر میں کوئی چھی بات ہوتی تھی آپ اس کی داد بھی دیتے تھے اور آپ کا ارشاد تھا کہ : ان من الشعر لحکمۃ۔’’بعض اشعار حکیمانہ ہوتے ہیں ‘‘۔ امیرین ابی الصلْٰت کا کلام سن کر آپ نے فرمایا : اٰمن شعرہ و کفر قلبہ۔ ’’اس کا شعر مومن ہے مگر اس کا دل کافر ہے ‘‘۔ ایک مرتبہ ایک صحابی نے سو (100) کے قریب عمدہ عمدہ اشعار آپ کو سنائے اور آپ فرماتے گئے ’’ اور سناؤ‘‘۔
وَاَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْنَ
اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو کرتے نہیں ہیں144
یہ شاعروں کی ایک اور خصوصیت ہے جو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے طرز عمل کی عین ضد تھی۔ حضورؐ کے متعلق آپ کا ہر جاننے والا جانتا تھا کہ آپ جو کہتے ہیں وہی کرتے ہیں اور جو کرتے ہیں وہی کہتے ہیں۔ آپ کے قول اور فعل کی مطابقت ایسی صریح حقیقت تھی جس سے آپ کے گرد و پیش کے معاشرے میں کوئی انکار نہ کر سکتا تھا۔ اس کے برعکس شعراء کے متعلق کس کو معلوم نہ تھا کہ ان کے ہاں کہنے کی باتیں اور ہیں اور کرنے کی اور۔ سخاوت کا مضمون اس زور شور سے بیان کریں گے کہ آدمی سمجھے شاید ان سے بڑھ کر دریا دل کوئی نہ ہو گا۔ مگر عمل میں کوئی دیکھے تو معلوم ہو گا کہ سخت بخیل ہیں۔ بہادری کی باتیں کریں گے مگر خود بزدل ہوں گے۔ بے نیازی اور قناعت و خود داری کے مضامین باندھیں گے مگر خود حرص و طمع میں ذلت کی آخری حد کو پار کر جائی گے۔ دوسروں کی ادنیٰ کمزوریوں پر گرفت کریں گے مگر خود بد ترین کمزوریوں میں مبتلا ہوں گے۔
اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّانْتَصَرُوْا مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا ؕ وَسَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ
یہاں شعراء کی اس عام مذمت سے جو اوپر بیان ہوئی، ان شعراء کو مستثنیٰ کیا گیا ہے جو چار خصوصیات کے حامل ہوں : اول یہ کہ وہ مومن ہوں ، یعنی اللہ اور اس کے رسول اور اس کی کتابوں کو سچے دل سے مانتے ہوں اور آخرت پر یقین رکھتے ہوں۔ دوسرے یہ کہ اپنی عملی زندگی میں صالح ہوں ، بد کار اور فاسق و فاجر نہ ہوں ، اخلاق کی بندشوں سے آزاد ہو کر جھک نہ مارتے پھریں۔ تیسرے یہ کہ اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے ہوں ، اپنے عام حالات اور اوقات میں بھی، اور اپنے کلام میں بھی۔ یہ نہ ہو کہ شخصی زندگی تو زہد و تقویٰ سے آراستہ ہے مگر کلام سراسر رندی و ہوسناکی سے لبریز۔ اور یہ بھی نہ ہو کہ شعر میں تو بڑی حکمت و معرفت کی باتیں بگھاری جا رہی ہیں مگر ذاتی زندگی کو دیکھیے تو یاد خدا کے سارے آثار سے خالی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں حالتیں یکساں مذموم ہیں۔ ایک پسندیدہ شاعر وہی ہے جس کی نجی زندگی بھی خدا کی یاد سے معمور ہو اور شاعرانہ قابلیتیں بھی اس راہ میں وقف رہیں جو خدا سے غافل لوگوں کی نہیں بلکہ خدا شناس، خدا دوست اور خدا پرست لوگوں کی راہ ہے۔ چوتھی صفت ان مستثنیٰ قسم کے شاعروں کی یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ شخصی اغراض کے لیے تو کسی کی ہجو نہ کریں ، نہ ذاتی یا نسلی و قومی عصبیتوں کی خاطر انتقام کی آگ بھڑکائیں ، مگر جب ظالموں کے مقابلے میں حق کی حمایت کے لیے ضرورت پیش آئے تو پھر زبان سے وہی کام لیں جو ایک مجاہد تیر و شمشیر سے لیتا ہے۔ ہر وقت گھگھیاتے ہی رہنا اور ظلم کے مقابلے میں نیاز مندانہ معروضات ہی پیش کرتے رہنا مومنوں کا شیوہ نہیں ہے۔ اسی کے متعلق روایات میں آتا ہے کہ کفار و مشرکین کے شاعر اسلام اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے خلاف الزامات کا جو طوفان اٹھاتے اور نفرت و عداوت کا جو زہر پھیلاتے تھے اس کا جوب دینے کے لیے حضورؐ خود شعرائے اسلام کی ہمت افزائی فرمایا کرتے تھے۔ چنانچہ کعب بن مالکؓ سے آپ نے فرمایا : اھجھم فوالذی نفسی بیدہ لہوا شد علیہم من النبل، ’’ ان کی ہجو کہا، کیونکہ اس خدا کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے ، تمہارا شعر ان کے حق میں تیر سے زیادہ تیز ہے ‘‘۔ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا اھجھم وجبریل معک، اور قلو روح القدس معک، ’’ ان کی خبر لو اور جبریل تمہارے ساتھ ہے ‘‘۔ ’’کہو اور روح القدس تمہارے ساتھ ہے ‘‘ آپ کا ارشاد تھا کہ : ان المؤمن یجاھدبہ بفہٖ و لسانہٖ۔ ’’مومن تلوار سے بھی لڑتا ہے اور زبان سے بھی‘‘۔
ظلم کرنے والوں سے مراد یہاں وہ لوگ ہیں جو حق کو نیچا دکھانے کے لیے سراسر ہٹ دھرمی کی راہ سے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر شاعری اور کہانت اور ساحری اور جنون کی تہمتیں لگاتے پھرتے تھے تاکہ نا واقف لوگ آپ کی دعوت سے بد گمان ہوں اور آپ کی تعلیم کی طرف توجہ نہ دیں۔
الله کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے <<سورة الشُّعَرَآء>> نام : آیت 224 <<وَالشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُھُمُ الْغَاوٗنَ O >> سے ماخوذ ہے ۔ زمانۂ نزول : مضمون اور انداز بیان سے محسوس ہوتا ہے اور روایات اس کی تائید کرتی ہیں کہ اس سورے کا زمانہ نزول مکہ کا دور متوسط ہے ۔ ابن عباس ؓ کا بیان ہے کہ پہلے سورہ طٰہٰ نازل ہوئی پھر واقعہ اور اس کے بعد الشعراء ( روح المعانی جلد 19 صفحہ 64 ) ۔ اور سورہ طٰہٰ کے متعلق یہ…