كٓهٰیٰعٓصٓ ۫
ک، ہ، ی، ع، ص
Maryam
سورة مريم
سورة مريم
كٓهٰیٰعٓصٓ ۫
ک، ہ، ی، ع، ص
ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهٗ زَكَرِیَّا
تقابل کے لئے سورہ آل عمران رکوع 4 پیش نظر رہے جس میں یہ قصہ دوسرے الفاظ میں بیان ہو چکا ہے ۔ تفہیم القران ج 1۔ص 246۔ 250)
یہ حضرت زکریا جن کا ذکر یہاں ہو رہا ہے حضرت ہارون کے خاندان سے تھے ۔ ان کو پوزیشن ٹھیک ٹھیک سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ بنی اسرائیل کے نظام کہانت (Priesthood ) کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے فلسطین پر قابض ہونے کے بعد بنی اسرائیل نے ملک کا انتظام اس طرح کیا تھا کہ حضرت یعقوب کی اولاد کے 12قبیلوں میں تو سارا ملک تقسیم کر دیا گیا ، اور تیرھواں قبیلہ (یعنی لاوی بن یعقوب کا گھرانا ) مذہبی خدمات کے لئے مخصوص رہا پھر بنی لاوی میں سے بھی اصل وہ خاندان جو ،مقدس میں خداوند کے آگے بخور جلا نے کی خدمت ' اور پاک ترین چیزوں کی تقدیس کا کام '' کرتا تھا، حضرت ہارون کا خاندان تھا۔ باقی دوسرے بنی لاوی مقدس کے اندر نہیں جا سکتے تھے بلکہ خداوند کے گھر کی خدمت کے وقت صحنوں اور کوٹھڑیوں میں کام کرتے تھے، سبت کے دن اور عیدوں کے موقع پر سوختنی قربانیاں چڑھاتے تھے ، اور مقدس کی نگرانی میں بنی ہارون کا ہاتھ بٹاتے تھے۔ بنی ہارون کے چوبیس خاندان تھے جو باری باری سے مقدس کی خدمت کے لئے حاضر ہوتے ۔ انہی خاندانوں میں سے ایک ابیاہ کا خاندان تھا جس کے سردار حضرت زکریا تھے۔ اپنے خاندان کی باری کے دنوں میں یہی مقدس میں جاتے اور بخور جلا نے کی خدمت انجام دیتے تھے۔ (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو بائیبل کی کتاب توار یخ اول ۔باب 23(24)
اِذْ نَادٰی رَبَّهٗ نِدَآءً خَفِیًّا
جبکہ اُس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا
قَالَ رَبِّ اِنِّیْ وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّیْ وَاشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَیْبًا وَّلَمْ اَكُنْ بِدُعَآىِٕكَ رَبِّ شَقِیًّا
اُس نے عرض کیا "اے پروردگار، میری ہڈیاں تک گھل گئی ہیں اور سر بڑھاپے سے بھڑک اٹھا ہے اے پروردگار، میں کبھی تجھ سے دعا مانگ کر نامراد نہیں رہا
وَاِنِّیْ خِفْتُ الْمَوَالِیَ مِنْ وَّرَآءِیْ وَكَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا فَهَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّا
مجھے اپنے پیچھے اپنے بھائی بندوں کی برائیوں کا خوف ہے3 ، اور میری بیوی بانجھ ہے۔ تو مجھے اپنے فضلِ خاص سے ایک وارث عطا کر دے
مطلب یہ کہ ابیاہ کے خاندان میں میرے بعد کوئی ایسا نظر نہیں آتا جو دینی اور اخلاقی حیثیت سے اس منصب کا اہل ہو جسے میں سنبھالے ہوئے ہوں ۔ آگے جو نسل اٹھتی نظر آ رہی ہے جو اس کے لچھن بگڑے ہوئے ہیں ۔
یَّرِثُنِیْ وَیَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِیًّا
جو میرا وارث بھی ہو اور آلِ یعقوبؑ کی میراث بھی پائے،4 اور اے پروردگار، اس کو ایک پسندیدہ انسان بنا۔“
یعنی مجھے صرف اپنی ذات ہی کا وارث مطلوب نہیں ہے بلکہ خانوادۂ یعقوب کی بھلائیوں کا وارث مطلوب ہے۔
یٰزَكَرِیَّاۤ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمِ سْمُهٗ یَحْیٰی لَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ سَمِیًّا
(جواب دیا گیا)”اے زکریا، ہم تجھے ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہو گا۔ ہم نے اِس نام کا کوئی آدمی اس سے پہلے پیدا نہیں کیا۔“5
لوقا کی انجیل میں الفاظ یہ ہیں: ”تیرے کنبے میں کسی کا یہ نام نہیں“(1:۶1)۔
قَالَ رَبِّ اَنّٰی یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّكَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا وَّقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِیًّا
عرض کیا، "پروردگار، بھلا میرے ہاں کیسے بیٹا ہوگا جبکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بوڑھا ہو کر سوکھ چکا ہوں؟"
قَالَ كَذٰلِكَ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ وَّقَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَلَمْ تَكُ شَیْـًٔا
جواب مِلا”ایسا ہی ہوگا۔ تیرا ربّ فرماتا ہے کہ یہ تو میرے لیے ایک ذرا سی بات ہے، آخر اس سے پہلے میں تجھے پیدا کر چکا ہوں جب کہ تو کوئی چیز نہ تھا۔“6
حضرت زکریا کے اس سوال اور فرشتے کے جواب کو نگاہ میں رکھیے ، کیونکہ آگے چل کر حضرت مریم کے قصّے میں پھر یہی مضمون آرہا ہے اور اس کا جو مفہُوم یہاں ہے وہیی وہاں بھی ہونا چاہیے ۔ حضرت زکریا نے کہا کہ میں بوڑھا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے ، میرے ہاں لڑکا کیسے ہو سکتا ہے ۔ فرشتے نے جواب دیا کہ ”ایسا ہی ہوگا“ ، یعنی تیرے بڑھاپے اور تیری بیوی کے بانجھ ہونے کے باوجود تیرے ہاں لڑکا ہوگا ۔ اور پھر اس نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کا حوالہ دیا کہ جس خدا نے تجھے نیست و ہست کیا اُس کی قدرت سے یہ بات بعید نہیں ہے کہ تجھ جیسے شیخ فانی سے ایک ایسی عورت کے ہاں اولاد پیدا کر دے جو عمر بھر بانجھ رہی ہے۔
قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً ؕ قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَیَالٍ سَوِیًّا
زکریاؑ نے کہا، "پروردگار، میرے لیے کوئی نشانی مقرر کر دے" فرمایا "تیرے لیے نشانی یہ ہے کہ تو پیہم تین دن لوگوں سے بات نہ کر سکے"
فَخَرَجَ عَلٰی قَوْمِهٖ مِنَ الْمِحْرَابِ فَاَوْحٰۤی اِلَیْهِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُكْرَةً وَّعَشِیًّا
محراب کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد اوّل ، آلِ عمران، حاشیہ 3۶۔
اس واقعے کی جو تفصیلات لوقا کی انجیل میں بیان ہوئی ہیں انہیں ہم یہاں نقل کر دیتے ہیں تاکہ لوگوں کے سامنے قرآن کی روایت کے ساتھ مسیحی روایت بھی رہے۔ درمیان میں قوسین کی عبارتیں ہماری اپنی ہیں: ”یہودیہ کے بادشاہ ہیرو دیس کے زمانے میں ( ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد دوم ، بنی اسرائیل، حاشیہ 9) ابیاہ کے فریق سےزکریا ہ نام کا ایک کاہن تھا اور اس کی بیوی ہارون کی اولاد میں سے تھی اور اس کا نام الیشبع (Elizabeth ) تھا۔ اور وہ دونوں خدا کے حضور راستباز اور خداوند کے سب احکام و قوانین پر بے عیب چلنے والے تھے۔ اور ان کے اولاد نہ تھی کیونکہ لیشبع بانجھ تھی اور وہ دونوں عمر رسیدہ تھے۔ جب وہ خدا کے حضور اپنے فریق کی باری پر کہانت کا کام انجام دیتا تھا تو ایسا ہوا کہ کہانت کے دستور کے موافق اس کے نام کا قرعہ نکلا کہ خداوند کے مَقدِس میں جا کر خوشبو جلائے ۔ اور لوگوں کی ساری جماعت خوشبو جلاتے وقت باہر دعا کر رہی تھی کہ خداوند کا فرشتہ خوشبو کے مذبح کی دہنی طرف کھڑا ہوا اس کو دکھائی دیا۔ اور زکریا دیکھ کر گھبرایا اوراس پر دہشت چھا گئی۔ مگر فرشتے نے اس سے کہا اے زکریا! خوف نہ کر کیونکہ تیری دُعا سُن لی گئی (حضرت زکریا کی دُعا کا ذکر بائیبل میں کہیں نہیں ہے) اور تیرے لیے تیری بیوہ الیشبع کے بیٹا ہوگا۔ تُو اُس کا نام یوحنّا ( یعنی یحییٰ) رکھنا اور تجھے خوشی و خر می ہوگی اور بہت سے لوگ اس کی پیدائش کے سبب سے خوش ہوں گے کیونکہ وہ خدا وند کے حضور میں بزرگ ہوگا (سورۂ آلِ عمران میں اس کے لیے لفظ سَیِّدًا استعمال ہوا ہے ) اور ہرگز نہ مَے اور نہ کوئی شراب پیے گا (تَقِیًّا ) اور اپنی ماں کے بطن ہی سے روح القدس ے بھر جائے گا ( واٰ تَیْنٰہُ الْحُکْمَ صَبِیًّا) اور بہت سے بنی اسرائیل کو خداوند کی طرف جو اُن کا خدا ہے پھیرے گا۔ اور وہ ایلیاہ (الیاس علیہ السّلام) کی روح اور قوت میں اس کےآگے اگے چلے گا کہ والدوں کے دل اولاد کی طرف اور نافرمانوں کو راستبازوں کی دانائی پر چلنے کی طرف پھیرے اور خداوند کے لیے ایک مستند قوم تیار کرے“۔ ”زکریا نے فرشتے سے کہا کہ میں اس بات کو کس طرح جانوں؟ کیونکہ میں بوڑھا ہوں اور میری بیوی عمر رسیدہ ہے ۔ فرشتے نے اس سے کہا میں جبرائیل ہوں جو خدا کے حضور کھڑا رہتا ہوں اور اس لیے بھیجا گیا ہوں کہ تجھ سے کلام کروں اور تجھے اِن باتوں کی خوشخبری دوں۔ اور دیکھ جس دن تک یہ باتیں واقع نہ ہو لیں تو چپکا رہے گا اور بول نہ سکے گا اس لیے کہ تو نے میری باتوں کا جو اپنے وقت پر پوری ہوں گی یقین نہ کیا۔ (یہ بیان قرآن سے مختلف ہے۔ قرآن اسے نشانی قرار دیتا ہے اور لوقا کی روایت اسے سزا کہتی ہے۔ نیز قرآن صرف تین دن کی خاموشی کا ذکر کرتا ہے اور لوقا کہتا ہے کہ اس وقت سے حضرت یحییٰ کی پیدائش تک حضرت زکریا گونگے رہے) اور لوگ زکریا کی راہ دیکھتے اور تعجب کرتے تھے کہ اسے مقدس میں کیوں دیر لگی۔ جب وہ باہر آیا تو ان سے بو ل نہ سکا ۔ پس انہوں نے معلوم کیا کہ اس نے مقدس میں رویا دیکھی ہے اور وہ ان سے اشارے کرتا تھا اور گونگا ہی رہا “۔
یٰیَحْیٰی خُذِ الْكِتٰبَ بِقُوَّةٍ ؕ وَاٰتَیْنٰهُ الْحُكْمَ صَبِیًّا
بیچ میں یہ تفصیل چھوڑ دی گئی ہے کہ اس فرمانِ الہٰی کے مطابق حضرت یحییٰ پیدا ہوئے اور جوانی کی عمر کو پہنچے۔ اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ جب وہ سن رشد کو پہنچے تو کیا کام اُن سے لیا گیا۔ یہاں صرف ایک فقرے میں اس مشن کو بیان کر دیا گیا ہے جو منصب نبوت پر مامور کرتے وقت ان کے سپرد کیا گیا تھا۔ یعنی وہ توراۃ پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہوں اور بنی اسرائیل کو اس پر قائم کرنے کی کوشش کریں۔
”حکم“ یعنی قوتِ فیصلہ، قوتِ اجتہاد، تفقہ فی الدین، معاملات میں صحیح رائے قائم کرنے کی صلاحیت ، اور اللہ کی طرف سے معاملات میں فیصلہ دینے کا اختیار۔
وَّحَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا وَزَكٰوةً ؕ وَكَانَ تَقِیًّا
اور اپنی طرف سے اس کو نرم دلی11 اور پاکیزہ عطا کی، اور وہ بڑا پرہیز گار
اصل میں لفظ حَنَان استعمال ہوا ہے جو قریب قریب مامتا کا ہم معنی ہے۔ یعنی ایک ماں کو جو غایت درجے کی شفقت اپنی اولاد پر ہوتی ہے ، جس کی بنا پر وہ بچے کی تکلیف پر تڑپ اُٹھتی ہے ، وہ شفقت حضرت یحییٰ کے دل میں بندگانِ خدا کے لیے پیدا کی گئی تھی۔
وَّبَرًّا بِوَالِدَیْهِ وَلَمْ یَكُنْ جَبَّارًا عَصِیًّا
اور اپنے والدین کا حق شناس تھا وہ جبّار نہ تھا اور نہ نافرمان
وَسَلٰمٌ عَلَیْهِ یَوْمَ وُلِدَ وَیَوْمَ یَمُوْتُ وَیَوْمَ یُبْعَثُ حَیًّا
سلام اُس پر جس روز کہ وہ پیدا ہوا اور جس دن وہ مرے اور جس روز وہ زندہ کر کے اُٹھا یا جائے۔12
حضرت یحییٰ کے حو حالات مختلف انجیلوں میں بکھرے ہوئے ہیں انہیں جمع کر کے ہم یہاں ان کی سیرت پاک کا ایک نقشہ پیش کرتے ہیں جس سے سُورۂ آلِ عمران اور اس سورے کے مختصر اشارات کی توضیح ہو گی۔ لوقا کے بیان کے مطابق حضرت یحییٰ ، حضرت عیسیٰ سے ۶ مہینے بڑے تھے۔ ان کی والدہ اور حضرت عیسیٰ کی والدہ آپس میں قریبی رشتہ دار تھیں۔ تقریباً 3۰ سال کی عمر میں وہ نبوت کے منصب پر عملاً مامور ہوئے اور یوحنا کی روایت کے مطابق انہوں نے شرقِ اُرْدُن کے علاقے میں دعوت الی اللہ کا کام شروع کیا ۔ وہ کہتے تھے: ”میں بیابان میں ایک پکارنے والے کی آواز ہوں کہ تم خداوند کی راہ کو سیدھا کرو“۔(یوحنا 23:1) مرقس کا بیان ہے کہ وہ لوگوں سے گناہوں کی توبہ کراتے تھے اور توبہ کرنے والوں کو بپتسمہ دیتے تھے، یعنی توبہ کے بعد غسل کراتے تھے تاکہ روح اور جسم دونوں پاک ہو جائیں ۔ یہودیہ اور یروشلم کے بکثرت لوگ ان کے معتقد ہو گئے تھے اور ان کے پاس جا کر بپتسمہ لیتے تھے ( مرقس 4:1-5) ۔ اسی بنا پر ان کا نام بپتسمہ دینے والا( John The Baptiest ) مشہور ہو گیا تھا۔ عام طور پر بنی اسرائیل ان کی نبوت تسلیم کر چکے تھے (متی 2۶:21) مسیح علیہ السّلام کا قول تھا کہ ” جو عورتوں سے پیدا ہوئے ہیں ان میں یوحنا بپتسمہ دینے والے سے بڑا کوئی نہیں ہوا۔“ (متی 11:11) وہ اونٹ کے بالوں کو پوشاک پہنے اور چمڑے کا پٹکا کمر سے باندھے رہتے تھے اور ان کی خوراک ٹڈیاں اور جنگلی شہد تھا (متی 4:3)۔ اس فقیرانہ زندگی کے ساتھ وہ منادی کرتے پھرتے تھے کہ ”توبہ کرو کیونکہ آسمان کی بادشاہی قریب آگئی ہے“ (متی 2:3) یعنی مسیح علیہ السّلام کی دعوتِ نبوت کا آغاز ہونے والا ہے۔ اسی بنا پر ان کو عموماً حضرت مسیح کا ”ارہاص“ کہا جاتا ہے ، اور یہی بات ان کے متعلق قرآن میں کہی گئی ہے کہ مُصَدِّ قًا بِکَلِمَۃٍ مِّنَ اللہِ (آلِ عمران 4)۔ وہ لوگوں کو روزے اور نماز کی تلقین کرتے تھے (متی 14:9 – لوقا 33:5 – لوقا 1:11) ۔ وہ لوگوں سےکہتے تھے کہ ”جس کے پا س دو کرتے ہوں وہ اُس کو جس کے پاس نہ ہو بانٹ دے اور جس کے پاس کھانا ہو وہ بھی ایسا ہی کرے۔ “ محصول لینے والوں نے پوچھا کہ اُستاد ، ہم کیا کریں تو انہوں نے فرمایا” جو تمہارے لیے مقرر ہے اس سے زیادہ نہ لینا۔“ سپاہیوں نے پوچھا ہمارے لیے کیا ہدایت ہے ؟ فرمایا” نہ کسی پر ظلم کرو اور نہ نا حق کسی سے کچھ لو اور اپنی تنخواہ پر کفایت کرو“ (لوقا 3:1۰ – 14)۔ بنی اسرائیل کے بگڑے ہوئے علماء، فریسی اور صَدُوتی ان کے پاس بپتسمہ لینے آئے تو ڈانٹ کر فرمایا” اے سانپ کے بچو! تم کو کس نے جتا دیا کہ آنے والے غضب سے بھاگو؟ ۔۔۔۔۔۔ اپنے دلوں میں یہ کہنے کا خیال نہ کرو کہ ابراہام ہمارا باپ ہے ۔۔۔۔۔۔ اب درختوں کی جڑوں پر کلہاڑا رکھا ہوا ہے، پس جو درخت اچھا پھل نہیں لاتا ہو کاٹا اور آگ میں ڈالا جاتا ہے“(متی 7:3 – 1۰)۔ ان کے عہد کا یہودی فرمانروا ، ہیرو د اینٹی پاس، جس کی ریاست میں وہ دعوتِ حق کی خدمت انجام دیتے تھے، سرتاپارومی تہذیب میں غرق تھا اور اس کی وجہ سے سارے ملک میں فسق و فجور پھیل رہا تھا۔ اس نے خود اپنے بھائی فِلپ کی بیوی ہیرودیاس کو اپنے گھر میں ڈال رکھا تھا۔ حضرت یحییٰ نے اس پر ہیرود کو ملامت کی اور اس کی فاسقانہ حرکات کے خلاف آواز اُٹھائی۔ اس جرم میں ہیرود نے ان کو گرفتار کر کےجیل بھیج دیا۔ تاہم وہ ان کو ایک مقدس اور راستباز آدمی جان کر ان کا احترام بھی کرتا تھا اور پبلک میں ان کے غیرمعمولی اثر سے ڈرتا بھی تھا۔ لیکن ہیرودیاس یہ سمجھتی تھی کہ یحییٰ علیہ السّلام جو اخلاقی روح قوم میں پھونک رہے ہیں وہ لوگوں کی نگاہ میں اُس جیسی عورتوں کو ذلیل کیے دے رہی ہے۔ اس لیے وہ ان کی جان کے درپے ہوگئی۔ آخر کار ہیرود کی سالگرہ کے جشن میں اس نے وہ موقع پا لیا کہ جس کی وہ تاک میں تھی۔ جشن کے دربار میں اس کی بیٹی نے خوب رقص کیا جس پر خوش ہو کر ہیرود نے کہا مانگ کیا مانگتی ہے ۔ بیٹی نے اپنی فاحشہ ماں سے پوچھا کیا مانگوں ؟ ماں نے کہا کہ یحیی ٰ کا سر مانگ لے۔ چنانچہ اس نے ہیرود کے سامنے ہاتھ باندھ کر عرض کیا مجھے یوحنا بپتسمہ دینے والے کا سر ایک تھال میں رکھوا کر ابھی منگوا دیجیے۔ ہیرود یہ سُن کر بہت غمگین ہوا ، مگر محبوبہ کی بیٹی کا تقاضا کیسے رد کر سکتا تھا ۔ اس نے فوراً قید خانے سے یحییٰ علیہ السّلام کا سرکٹوا کر منگوایا اور ایک تھا ل میں رکھوا کر رقاصہ کی نذر کر دیا (متی 3:14 – 12 ۔ مرقس 17:۶ – 29۔ لوقا 19:3 – 2۰)۔
وَاذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مَرْیَمَ اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِیًّا
ور اے محمدؐ ، اس کتاب میں مریم کا حال بیان کرو،13 جبکہ وہ اپنے لوگوں سے الگ ہو کر شرقی جانب گوشہ نشین ہو گئی تھی
تقابل کے لیے تفہیمُ القرآن ، جلد اول ، آل عمران ، حاشیہ نمبر 42، 55 ۔ النساء حاشیہ نمبر 19۰- 191۔
فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِهِمْ حِجَابًا ۪۫ فَاَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِیًّا
اور پردہ ڈال کر اُن سے چھُپ بیٹھی تھی۔14 اس حالت میں ہم نے اس کے پاس اپنی رُوح کو (یعنی فرشتے کو)بھیجا اور وہ اس کے سامنے ایک پورے انسان کی شکل میں نمودار ہو گیا
سُورۂ آلِ عمران میں یہ بتایا جا چکا ہے کہ حضرت مریم کی والدہ نے اپنی مانی ہوئی نذر کے مطابق ان کو بیتُ المَقدِس میں عبادت کے لیے بٹھا دیا تھا اور حضرت زکریا نے ان کی حفاظت و کفالت اپنے ذمہ لے لی تھی۔ وہاں یہ ذکر بھی گزر چکا ہے کہ حضرت مریم بیت المَقدِس کی ایک محراب میں معتکف ہو گئی تھیں۔ اب یہاں یہ بتایا جا رہا ہے کہ وہ محراب جس میں حضرت مریم معتکف تھیں بیت المَقدِس کے شرقی حصّے میں واقع تھی اور انہوں نے معتکفین کے عام طریقے کے مطابق کا ایک پردہ لٹکا کر اپنے آپ کو دیکھنے والوں کی نگاہوں سے محفوظ کر لیا تھا ۔ جن لوگوں نے محض بائیبل کی موافقت کی خاطر مکانًا شرقیًا سے مراد ناصرہ لیا ہے انہوں نے غلطی کی ہے ، کیونکہ ناصرہ یروشلم کے شمال میں ہے نہ کہ مشرق میں۔
قَالَتْ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْكَ اِنْ كُنْتَ تَقِیًّا
مریم یکایک بول اٹھی کہ"اگر تو کوئی خدا ترس آدمی ہے تو میں تجھ سے رحمٰن کی پناہ مانگتی ہوں"
قَالَ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّكِ لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِیًّا
اُس نے کہا "میں تو تیرے رب کا فرستادہ ہوں اور اس لیے بھیجا گیا ہوں کہ تجھے ایک پاکیزہ لڑکا دوں"
قَالَتْ اَنّٰی یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّلَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ وَّلَمْ اَكُ بَغِیًّا
مریم نے کہا "میرے ہاں کیسے لڑکا ہوگا جبکہ مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں ہے اور میں کوئی بدکار عورت نہیں ہوں"
قَالَ كَذٰلِكِ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ وَلِنَجْعَلَهٗۤ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَرَحْمَةً مِّنَّا وَكَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا
فرشتے نے کہا”ایسا ہی ہوگا، تیرا ربّ فرماتا ہے کہ ایسا کرنا میرے لیے بہت آسان ہے اور ہم یہ اس لیے کر یں گے کہ اُس لڑکے کو لوگوں کے لیے ایک نشانی بنائیں15 اور اپنی طرف سے ایک رحمت اور یہ کام ہو کر رہنا ہے۔“
جیسا کہ ہم حاشیہ نمبر ۶ میں اشارہ کر آئے ہیں ، حضر ت مریم کے استعجاب پر فرشتے کا یہ کہنا کہ ”ایسا ہی ہو گا“ ہر گز اس معنی میں نہیں ہو سکتا کہ بشر تجھ کو چھوئے گا اور اس سے تیرے ہاں لڑکا پیدا ہو گا، بلکہ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ تیرے ہاں لڑکا ہو گا باوجود اس کے کہ تجھے کسی بشر نے نہیں چھُوا ہے ۔ اوپر انہی الفاظ میں حضرت زکریا کا استعجاب نقل ہو چکا ہے اور وہاں بھی فرشتے نے یہی جواب دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ جو مطلب اس جواب کا وہاں ہے وہی یہاں بھی ہے۔ اسی طرح سورۂ ذاریات ، آیات 28 – 3۰ میں جب فرشتہ حضرت ابراہیم کو بیٹے کی بشارت دیتا ہے اور حضرت سارہ کہتی ہیں کہ مجھ بوڑھی بانجھ کے ہاں بیٹا کیسے ہو گا تو فرشتہ اُن کو جواب دیتا ہے کہ کذٰلک۔”ایسا ہی ہو گا“۔ ظاہر ہے کہ اس سے مُراد بڑھاپے اور بانجھ پن کے باوجود ان کے ہاں اولاد ہونا ہے۔ علاوہ بریں اگر کذٰلک کا مطلب یہ لے لیا جائے کہ بشر تجھے چھوئے گا اور تیرے ہاں اسی طرح لڑکا ہو گا جیسے دنیا بھر کی عورتوں کے ہاں ہوا کرتا ہے ، تو پھر بعد کے دونوں فقرے بالکل بے معنی ہو جاتے ہیں۔ اس صورت میں یہ کہنے کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے کہ تیرا رب کہتا ہے کہ ایسا کرنا میرے لیے بہت آسان ہے ، اور یہ کہ ہم اس لڑکے کو ایک نشانی بنانا چاہتے ہیں۔ نشانی کا لفظ یہاں صریحًا معجزے کے معنی میں استعمال ہوا ہے، اور اسی معنی پر یہ فقرہ بھی دلالت کرتا ہے کہ ”ایسا کرنا میرے لیے بہت آسان ہے ۔“ لہٰذا اس ارشاد کا مطلب بجز اس کے اور کچھ نہیں ہے کہ ہم اس لڑکے کی ذات ہی کو ایک معجزے کی حیثیت سے بنی اسرائیل کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں۔ بعد کی تفصیلات اس بات کی خود تشریح کر رہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کی ذات کو کس طرح معجزہ بنا کر پیش کیا گیا۔
فَحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهٖ مَكَانًا قَصِیًّا
مریم کو اس بچے کاحمل رہ گیا اور وہ اس حمل کو لیے ہوئے ایک دُور کے مقام پر چلی گئی۔16
دُور کے مقام سے مراد بیت لحم ہے۔ حضرت مریم کا اپنے اعتکاف سے نکل وہاں جانا ایک فطری امر تھا۔ بنی اسرائیل کے مقدس ترین گھرانے بنی ہارون کی لڑکی، اور پھر وہ بیت المقدِس میں خدا کی عبادت کے لیے وقف ہو کر بیٹھی تھی، یکایک حاملہ ہو گئی ۔ اس حالت میں اگر وہ اپنی جائے اعتکاف پر بیٹھی رہتیں اور ان کا حمل لوگوں پر ظاہر ہو جاتا تو خاندان والے ہی نہیں ، قوم کے دوسرے لوگ بھی ان کا جینا مشکل کر دیتے ۔ اس لیے بیچاری اس شدید آزمائش میں مبتلا ہونے کے باوجود خاموشی کے ساتھ اپنے اعتکاف کا حجرہ چھوڑ کر نکل کھڑی ہوئیں تاکہ جب تک اللہ کی مرضی پوری ہو، قوم کی لعنت ملامت اور عام بدنامی سے تو بچی رہیں۔ یہ واقعہ بجائے خود اس بات کی بہت بڑی دلیل ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام باپ کے بغیر پیدا ہوئے تھے۔ اگر ہو شادی شدہ ہوتیں اور شوہر ہی سے ان کے ہاں بچہ پیدا ہو رہا ہوتا توکوئی وجہ نہ تھی کہ میکے اور سسرال ، سب کو چھوڑ چھاڑ کر وہ زچگی کے لیے تن تنہا ایک دور دراز مقام پر چلی جاتیں۔
فَاَجَآءَهَا الْمَخَاضُ اِلٰی جِذْعِ النَّخْلَةِ قَالَتْ یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا وَكُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا
پھر زچگی کی تکلیف نے اُسے ایک کھجُور کے درخت کے نیچے پہنچا دیا۔ وہ کہنے لگی”کاش میں اس سے پہلے ہی مر جاتی اور میرا نام و نشان نہ رہتا۔“17
ان الفاظ سے اُس پریشانی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ جس میں حضرت مریم اس وقت مبتلا تھیں۔ موقع کی نزاکت ملحوظ رہے تو ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ ان کی زبان سے یہ الفاظ دردِ زہ کی تکلیف کی وجہ سے نہیں نکلے تھے ، بلکہ یہ فکر اُن کو کھائے جا رہی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے جس خطر ناک آزمائش میں انہیں ڈالا ہے اس سے کس طرح بخیریت عہدہ برآ ہوں۔ حمل کو تو اب تک کسی نہ کسی طرح چھپا لیا۔ اب اس بچے کو کہاں لے جائیں۔ بعد کا یہ فقرہ کہ فرشتے نے اُن سے کہا ”غم نہ کر“ اس بات کو واضح کررہا ہے کہ حضرت مریم نے یہ الفاظ کیوں کہے تھے۔ شادی شدہ لڑکی کے ہاں جب پہلا بچہ پیدا ہو رہا ہو تو وہ چاہے تکلیف سے کتنی ہی تڑپے ، اُسے رنج و غم کبھی لاحق نہیں ہوا کرتا۔
فَنَادٰىهَا مِنْ تَحْتِهَاۤ اَلَّا تَحْزَنِیْ قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِیًّا
فرشتے نے پائنتی سے اس کو پکار کر کہا "غم نے کر تیرے رب نے تیرے نیچے ایک چشمہ رواں کر دیا ہے
وَهُزِّیْۤ اِلَیْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسٰقِطْ عَلَیْكِ رُطَبًا جَنِیًّا ؗ
اور تو ذرا اِس درخت کے تنے کو ہلا، تیرے اوپر تر و تازہ کھجوریں ٹپک پڑیں گی
فَكُلِیْ وَاشْرَبِیْ وَقَرِّیْ عَیْنًا فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًا فَقُوْلِیْۤ اِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُكَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیًّا
پس تُو کھا اور پی اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر۔ پھر اگر کوئی تجھے نظر آئے تو اس سے کہہ دے کہ میں نے رحمان کے لیے روزے کی نذر مانی ہے، اس لیے آج میں کسی سے نہ بولوں گی۔“18
مطلب یہ ہے کہ بچے کے معاملے میں تجھے کچھ بولنے کی ضرورت نہیں۔ اس کی پیدائش پر جو کوئی بھی معترض ہو اس کا جواب اب ہمارے ذمّے ہے (واضح رہے کہ بنی اسرائیل میں چپ کا روزہ رکھنے کا طریقہ رائج تھا)۔ یہ الفاظ بھی صاف بتا رہے ہیں کہ حضرت مریم کو اصل پریشانی کیا تھی۔ نیز یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ شادہ شدہ لڑکی کے ہاں پہلو نٹی کا بچہ اگر دنیا کے معروف طریقہ پر پیدا ہو تو آخر اُسے چپ کا روزہ رکھنے کی کیا ضرورت پیش آسکتی ہے؟
فَاَتَتْ بِهٖ قَوْمَهَا تَحْمِلُهٗ ؕ قَالُوْا یٰمَرْیَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَیْـًٔا فَرِیًّا
پھر وہ اس بچے کو لیے ہوئے اپنی قوم میں آئی لوگ کہنے لگے " اے مریم، یہ تو تُو نے بڑا پاپ کر ڈالا
یٰۤاُخْتَ هٰرُوْنَ مَا كَانَ اَبُوْكِ امْرَاَ سَوْءٍ وَّمَا كَانَتْ اُمُّكِ بَغِیًّا
“ان الفاظ کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ انہیں ظاہری معنی میں لیا جائے اور یہ سمجھ لیا جائے کہ حضرت مریم کا کوئی بھائی ہارون نامی ہو۔ دوسرے یہ کہ عربی محاورے کے مطابق اُختِ ہارون کے معنی”ہارون کے خاندان کی لڑکی“ لیے جائیں ، کیونکہ عربی یں یہ ایک معروف طرزِ بیان ہے ۔ مثلاً قبیلۂ مُضَر کے آدمی کو یا اخامضر (اے مضر کے بھائی) اور قبیلۂ ہمدان کے آدمی کو یا اخا ھمد ان (اے ہمدان کے بھائی) کہہ کر پکارتے ہیں۔ پہلے معنی کے حق میں دلیلِ ترجیح یہ ہے کہ بعض روایات میں خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ معنی منقول ہوئے ہیں۔ اور دوسرے معنی کی تائید میں دلیل یہ ہے کہ موقع و محل اِس معنی کا تقاضا کرتا ہے۔ کیونکہ اس واقعہ سے قوم میں جو ہیجان برپا ہوا تھا اس کی وجہ بظاہر یہ نہیں معلوم ہوتی کہ ہارون نامی ایک گمنام شخص کی کنواری بہن گود میں بچہ لیے ہوئے آئی تھی ، بلکہ جس چیز نے لوگوں کا ایک ہجوم حضرت مریم کے گرد جمع کر دیا تھا وہ یہی ہو سکتی تھی کہ بنی اسرائیل کے مقدس ترین گھرانے ، خانوادۂ ہارون کی ایک لڑکی اس حالت میں پائی گئی۔ اگرچہ ایک حدیث مرفوع کی موجودگی میں کوئی دوسری تاویل اصولاً قابلِ لحاظ نہیں ہو سکتی ، لیکن مسلم ، نَسائی اور ترمذی وغیرہ میں یہ حدیث جن الفاظ میں نقل ہوئی ہے اس سےیہ مطلب نہیں نکلتا کہ ان الفاظ کے معنی لازماً ”ہارون کی بہن“ ہی ہیں۔ مُغیرہؓ بن شُعبہ کی روایت میں جو کچھ بیان ہوا ہے وہ یہ ہے کہ نَجران کے عیسائیوں نے حضرت مُغیرہ کے سامنے یہ اعتراض پیش کیا کہ قرآن میں حضرت مریم کو ہارون کی بہن کہا گیا ہے ، حالانکہ حضرت ہارون ان سے سینکڑوں برس پہلے گزر چکے تھے۔ حضرت مغیرہ ان کے اس اعتراض کا جواب نہ دے سکے اور انہوں نے آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ ماجرا عرض کیا۔ اس پر حضور ؐ نے فرمایا کہ ” تم نے یہ جواب کیوں نہ دیا کہ بنی اسرائیل اپنے نام انبیاء اور صلحا ء کے نام پر رکھتے تھے؟“ حضور کے اس ارشاد سے صرف یہ بات نکلتی ہے کہ لاجواب ہونے کے بجائے یہ جواب دے کر اعتراض رفع کیا جا سکتا تھا۔
“ان الفاظ کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ انہیں ظاہری معنی میں لیا جائے اور یہ سمجھ لیا جائے کہ حضرت مریم کا کوئی بھائی ہارون نامی ہو۔ دوسرے یہ کہ عربی محاورے کے مطابق اُختِ ہارون کے معنی”ہارون کے خاندان کی لڑکی“ لیے جائیں ، کیونکہ عربی یں یہ ایک معروف طرزِ بیان ہے ۔ مثلاً قبیلۂ مُضَر کے آدمی کو یا اخامضر (اے مضر کے بھائی) اور قبیلۂ ہمدان کے آدمی کو یا اخا ھمد ان (اے ہمدان کے بھائی) کہہ کر پکارتے ہیں۔ پہلے معنی کے حق میں دلیلِ ترجیح یہ ہے کہ بعض روایات میں خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ معنی منقول ہوئے ہیں۔ اور دوسرے معنی کی تائید میں دلیل یہ ہے کہ موقع و محل اِس معنی کا تقاضا کرتا ہے۔ کیونکہ اس واقعہ سے قوم میں جو ہیجان برپا ہوا تھا اس کی وجہ بظاہر یہ نہیں معلوم ہوتی کہ ہارون نامی ایک گمنام شخص کی کنواری بہن گود میں بچہ لیے ہوئے آئی تھی ، بلکہ جس چیز نے لوگوں کا ایک ہجوم حضرت مریم کے گرد جمع کر دیا تھا وہ یہی ہو سکتی تھی کہ بنی اسرائیل کے مقدس ترین گھرانے ، خانوادۂ ہارون کی ایک لڑکی اس حالت میں پائی گئی۔ اگرچہ ایک حدیث مرفوع کی موجودگی میں کوئی دوسری تاویل اصولاً قابلِ لحاظ نہیں ہو سکتی ، لیکن مسلم ، نَسائی اور ترمذی وغیرہ میں یہ حدیث جن الفاظ میں نقل ہوئی ہے اس سےیہ مطلب نہیں نکلتا کہ ان الفاظ کے معنی لازماً ”ہارون کی بہن“ ہی ہیں۔ مُغیرہؓ بن شُعبہ کی روایت میں جو کچھ بیان ہوا ہے وہ یہ ہے کہ نَجران کے عیسائیوں نے حضرت مُغیرہ کے سامنے یہ اعتراض پیش کیا کہ قرآن میں حضرت مریم کو ہارون کی بہن کہا گیا ہے ، حالانکہ حضرت ہارون ان سے سینکڑوں برس پہلے گزر چکے تھے۔ حضرت مغیرہ ان کے اس اعتراض کا جواب نہ دے سکے اور انہوں نے آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ ماجرا عرض کیا۔ اس پر حضور ؐ نے فرمایا کہ ” تم نے یہ جواب کیوں نہ دیا کہ بنی اسرائیل اپنے نام انبیاء اور صلحا ء کے نام پر رکھتے تھے؟“ حضور کے اس ارشاد سے صرف یہ بات نکلتی ہے کہ لاجواب ہونے کے بجائے یہ جواب دے کر اعتراض رفع کیا جا سکتا تھا۔
فَاَشَارَتْ اِلَیْهِ ؕ قَالُوْا كَیْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِی الْمَهْدِ صَبِیًّا
مریم نے بچے کی طرف اشارہ کر دیا۔لوگوں نے کہا”ہم اِس سے کیا بات کریں گے جو گہوارے میں پڑا ہوا ایک بچہ ہے؟“21
قرآن کی معنوی تحریف کرنے والوں نے اس آِت کا یہ مطلب لیا ہے کہ ”ہم اس سے کیا بات کریں کو کل کا بچہ ہے۔“ یعنی ان کے نزدیک یہ گفتگو حضرت عیسیٰ کی جوانی کے زمانے میں ہوئی اور بنی اسرائیل کے بڑے بوڑھوں نے کہا کہ بھلا اس لڑکے سے کیا بات کریں جو کل ہمارے سامنے گہوارے میں پڑا ہوا تھا۔ مگر جو شخص موقع و محل اور سیاق و سباق پر کچھ بھی غور کرے گا وہ محسوس کر لے گا کہ یہ محض ایک مہمل تاویل ہے جو معجزے سے بچنے کے لیے کی گئی ہے۔ اور کچھ نہیں تو ظالموں نے یہی سوچا ہوتا کہ جس بات پر اعتراض کر نے کے لیے وہ لوگ آئے تھے وہ تو بچے کی پیدائش کے وقت پیش آئی تھی نہ کہ اس کے جوان ہونے کے وقت۔ علاوہ بریں سورۂ آلِ عمران کی آیت 4۶ ، اور سورۂ مائدہ کی آیت 11۰ دونوں اس بات کی قطعی صراحت کرتی ہیں کہ حضرت عیسیٰ نے یہ کلام جوانی میں نہیں بلکہ گہوارے میں ایک نوزائیدہ بچے کی حیثیت ہی سے کیا تھا۔ پہلی آیت میں فرشتہ حضرت مریم کو بیٹے کی بشارت دیتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ لوگوں سے گہوارے میں بھی بات کرے گا اور جوان ہو کر بھی۔ دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ خو د حضرت عیسیٰ سے فرماتا ہے کہ تولوگوں سے گہوارے میں بھی بات کرتا تھا ور جوانی میں بھی۔
قَالَ اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰهِ ؕ۫ اٰتٰىنِیَ الْكِتٰبَ وَجَعَلَنِیْ نَبِیًّا
بچہ بول اٹھا "میں اللہ کا بندہ ہوں اُس نے مجھے کتاب دی، اور نبی بنایا
وَّجَعَلَنِیْ مُبٰرَكًا اَیْنَ مَا كُنْتُ ۪ وَاَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوةِ وَالزَّكٰوةِ مَا دُمْتُ حَیًّا ۪
اور بابرکت کیا جہاں بھی میں رہوں، اور نماز اور زکوٰۃ کی پابندی کا حکم دیا جب تک میں زندہ رہوں
وَّبَرًّا بِوَالِدَتِیْ ؗ وَلَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّارًا شَقِیًّا
اور اپنی والدہ کا حق ادا کرنے والا بنایا،22 اور مجھ کو جبّار اور شقی نہیں بنایا
یہ نہیں فرمایا کہ والدین کا حق اداکرنے والا۔ صرف والدہ کا حق ادا کرنے والا فرمایا ہے۔ یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت عیسیٰ کا باپ کو ئی نہ تھا۔ اور اسی کی ایک صریح دلیل یہ ہے کہ قرآن میں ہر جگہ اُن کو عیسیٰ ابنِ مریم کہا گیا ہے۔
وَالسَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَیَوْمَ اَمُوْتُ وَیَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا
سلام ہے مجھ پر جبکہ میں پیدا ہوا اور جبکہ میں مروں اور جبکہ زندہ کر کےاُٹھایا جاوٴں۔“23
“یہ ہے وہ”نشانی“ جو حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کی ذات میں بنی اسرائیل کے سامنے پیش کی گئی ۔ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی مسلسل بدکرداریوں پر عبرتناک سزا دینے سے پہلے ان پر حجت تمام کرنا چاہتا تھا۔اس کے لیے اس نے یہ تدبیر فرمائی کہ بنی ہارون کی ایک ایسی زاہدہ و عابدہ لڑکی کو جو بیت المقدس میں معتکف اور حضرت زکریّا کے زیرِ تربیت تھی، دوشیزگی کی حالت میں حاملہ کر دیا تاکہ جب وہ بچہ لیے ہوئے آئے تو ساری قوم میں ہیجان برپا ہو جائے اور لوگوں کی توجہات یکلخت اس پر مرکوز ہو جائیں۔ پھر اس تدبیر کے نتیجے میں جب ایک ہجوم حضرت مریم پر ٹوٹ پڑا تو اللہ تعالیٰ نے اس نوزائیدہ بچے سے کلام کرایا تاکہ جب یہی بچہ بڑا ہو کر نبوت کے منصب پر سرفراز ہو تو قوم میں ہزاروں آدمی اس امر کی شہادت دینے والے موجود رہیں کہ اس کی شخصیت میں وہ اللہ تعالیٰ کا ایک حیرت انگیز معجزہ دیکھ چکے ہیں۔ اس پر بھی جب یہ قوم اس کی نبوت کا انکار کر ے اور اس کی پیروی قبول کرنے کے بجائے اسے مجرم بنا کر صلیب پر چڑھانے کی کوشش کرے تو پھر اس کو ایسی عبرتناک سزا دی جائے جو دنیا میں کسی قوم کو نہیں دی گئی ۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جدل اوّل ، آلِ عمران ، حاشیہ نمبر 44، 53۔ 1، نساء حاشیہ نمبر 212، 213 ۔ جلد ِ سوم، الانبیاء ، حاشیہ نمبر 88 – 89 – 9۰۔ المومنون، حاشیہ نمبر 43)۔
ذٰلِكَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِیْ فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ
یہ ہے عیسٰی ابن مریم اور یہ ہے اُس کے بارے میں وہ سچی بات جس میں لوگ شک کر رہے ہیں
مَا كَانَ لِلّٰهِ اَنْ یَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ سُبْحٰنَهٗ ؕ اِذَا قَضٰۤی اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ ؕ
اللہ کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے۔ وہ پاک ذات ہے۔ وہ جب کسی بات کا فیصلہ کرتا ہے تو کہتا ہے کہ ہو جا، اور بس وہ ہو جاتی ہے۔24
یہاں تک جو بات عیسائیوں کے سامنے واضح کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کے متعلق ابن اللہ ہونے کا جو عقیدہ انہوں نے اختیار کر رکھا ہے وہ باطل ہے۔ جس طرح ایک معجزے سے حضرت یحییٰ کی پیدائش نے اُن کو خدا کا بیٹا نہیں بنا دیا اُسی طرح ایک دوسرے معجزے سے حضرت عیسیٰ کی پیدائش بھی کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کی بنا پر انہیں خدا کا بیٹا قرار دے دیا جائے ۔ عیسائیوں کی اپنی روایات میں بھی یہ بات موجود ہے کہ حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ ، دونوں ایک ایک طرح کے معجزے سے پیدا ہوئے تھے۔ چنانچہ لوقا کی انجیل میں قرآن ہی کی طرح ان دونوں معجزوں کا ذکر ایک سلسلہ ٔ بیان میں کیا گیا ہے۔ لیکن یہ عیسائیوں کا غلّو ہے کہ وہ ایک معجزے سے پیدا ہونے والے کو اللہ کا بندہ کہتے ہیں اور دوسرے معجزے سے پیدا ہونے والے کو اللہ کا بیٹا بنا بیٹھے ہیں۔
وَاِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ
(اور عیسیٰ ؑ نے کہا تھا کہ)”اللہ میرا ربّ بھی ہے اور تمہارا ربّ بھی ، پس تم اس کی بندگی کرو، یہی سیدھی راہ ہے۔“25
یہاں عیسائیوں کو بتایا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کی دعوت بھی وہی تھی جو تمام دوسرے انبیاء علیہم السّلام لے کر آئے تھے۔ انہوں نے اس کے سوا کچھ نہیں سکھایا تھا کہ صرف خدائے واحد کی بندگی کی جائے ۔ اب یہ جو تم نے ان کو بندے کے بجائے خدا بنا لیا ہے اور اُنہیں عبادت میں اللہ کے ساتھ شریک کر رہے ہو ، یہ تمہاری اپنی ایجاد ہے۔ تمہارے پیشوا کی یہ تعلیم ہر گز نہیں تھی۔ (مزید تفصیل کے لیےملاحظہ ہو تفہیم القرآن جدل اوّل ، آلِ عمران، حاشیہ نمبر ۶8، مائدہ ، حاشیہ نمبر 1۰۰ – 1۰1 – 13۰۔جلد چہارم الزخرف حواشی نمبر 57 – 58۔
فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْ بَیْنِهِمْ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ مَّشْهَدِ یَوْمٍ عَظِیْمٍ
مگر پھر مختلف گروہ26 باہم اختلاف کرنے لگے۔ سو جن لوگوں نے کُفر کیا ان کے لیے وہ وقت بڑی تباہی کا ہوگا
یعنی عیسائیوں کے گروہ۔
اَسْمِعْ بِهِمْ وَاَبْصِرْ یَوْمَ یَاْتُوْنَنَا لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْیَوْمَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ
جب کہ وہ ایک بڑا دن دیکھیں گے جب وہ ہمارے سامنے حاضر ہوں گے اُس روز تو اُن کے کان بھی خوب سُن رہے ہوں گے اور اُن کی آنکھیں بھی خوب دیکھتی ہوں گی، مگر آج یہ ظالم کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں
وَاَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُ وَهُمْ فِیْ غَفْلَةٍ وَّهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ
اے نبیؐ، اِس حالت میں جبکہ یہ لوگ غافل ہیں اور ایمان نہیں لا رہے ہیں، اِنہیں اس دن سے ڈرا دو جبکہ فیصلہ کر دیا جائے گا اور پچھتاوے کے سوا کوئی چارہ کار نہ ہوگا
اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَمَنْ عَلَیْهَا وَاِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ
آخر کار ہم ہی زمین اور اور اس کی ساری چیزوں کے وارث ہوں گے اور سب ہماری طرف ہی پلٹائے جائیں گے۔27
یہاں وہ تقریر ختم ہوتی ہے جو عیسائیوں کو سنانے کے لے نازل فرمائی گئی تھی۔ اِس تقریر کی عظمت کا صحیح اندازہ اُسی وقت ہو سکتا ہے جبکہ آدمی اس کو پڑھتے وقت وہ تاریخی پس منظر نگاہ میں رکھے جو ہم نے اِس سُورے کے دیباچے میں بیان کیا ہے۔ یہ تقریر اُس موقع پر نازل ہوئی تھی جبکہ مکے کے مظلوم مسلمان ایک عیسائی سلطنت میں پناہ لینے کےلیے جارہے تھے، اور اس غرض کے لیے نازل کی گئی تھی کہ جب وہاں مسیح کے متعلق اسلامی عقائد کا سوال چھڑے تو یہ ”سرکاری بیان“ عیسائیوں کو سنا دیا جائے۔ اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت اس امر کا ہو سکتا ہے کہ اسلام نے مسلمانوں کو کسی حال میں بھی حق و صداقت کے معاملے میں مداہنت برتنا نہیں سکھایا ہے ۔ پھر وہ سچے مسلمان جو حبش کی طرف ہجرت کر کے گئے تھے، اُن کی قوتِ ایمانی بھی حیرت انگیز ہے کہ انہوں نے عین دربار ِ شاہی میں ایسے نازک موقع پر اُٹھ کر یہ تقریر سنادی جبکہ نجاشی کے تمام اہلِ دربار رشوت کھا کر اُنہیں ان کے دشمنوں کے سپرد کر دینے پر تُل گئے تھے۔ اُس وقت اس امر کا پورا خطرہ تھا کہ مسیحیت کے بنیادی عقائد پر اسلام کا یہ بے لاگ تبصرہ سُن کر نجاشی بھی بگڑ جائے گا اور ان مظلوم مسلمانوں کو قریش کے قصائیوں کے حوالے کر دے گا مگر اس کے باوجود انہوں نے کلمۂ حق پیش کرنے میں ذرّہ برابر تامّل نہ کیا۔
وَاذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِبْرٰهِیْمَ ؕ۬ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا
ور اس کتاب میں ابراہیم ؑ کا قصہ بیان کرو ،28 بے شک وہ ایک راست باز انسان اور ایک نبی تھا
یہاں سے خطاب کا رُخ اہلِ مکہ کی طرف پھر رہا ہے جنہوں نے اپنے نوجوان بیٹوں، بھائیوں اور دوسرے رشتہ داروں کو اُسی طرح خدا پرستی کے جرم میں گھر چھوڑ نے پر مجبور کر دیا تھا جس طرح حضرت ابراہیم ؑ کو ان کے باپ اور بھائی بندوں نے دیس نکالا دیا تھا۔ اس غر ض کے لیے دوسرے انبیاء کو چھوڑ کر خاص طور پر حضرت ابراہیم ؑ کے قصّے کا انتخاب اس لیے کیا گیا کہ قریش کے لوگ ان کو اپنا پیشوا مانتے تھے اور انہی کی اولاد ہونے پر عرب میں اپنا فخر جتا یا کرتے تھے۔
اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا یَسْمَعُ وَلَا یُبْصِرُ وَلَا یُغْنِیْ عَنْكَ شَیْـًٔا
(انہیں ذرا اُس موقع کی یاد دلاؤ) جبکہ اُس نے اپنے باپ سے کہا کہ "ابّا جان، آپ کیوں اُن چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ سنتی ہیں نہ دیکھتی ہیں اور نہ آپ کا کوئی کام بنا سکتی ہیں؟
یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ قَدْ جَآءَنِیْ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ یَاْتِكَ فَاتَّبِعْنِیْۤ اَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِیًّا
ابّا جان، میرے پاس ایک ایسا عِلم آیا ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا، آپ میرے پیچھے چلیں، میں آپ کو سیدھا راستہ بتاؤں گا
یٰۤاَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّیْطٰنَ ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ عَصِیًّا
ابّا جان، آپ شیطان کی بندگی نہ کریں،29 شیطان تو رحمٰن کا نافرمان ہے
اصل الفاظ ہیں لَا تَعْبُدِ الشَّیْطٰن ، یعنی”شیطان کی عبادت نہ کریں“۔ اگرچہ حضرت ابراہیم ؑ کے والد اور قوم کے دوسرے لوگ عبادت بُتوں کی کرتے تھے، لیکن چونکہ اطاعت وہ شیطان کی کر رہے تھے ، اس لیے حضرت ابراہیم نے ان کی اِس اطاعتِ شیطان کو بھی عبادتِ شیطان قرار دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ عبادت محض پوجا اور پرستش ہی کا نام نہیں بلکہ اطاعت کا نام بھی ہے۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص کسی پر لعنت کرتے ہوئے بھی اس کی بندگی بجا لائے تو وہ اُس کی عبادت کا مجرم ہے ، کیونکہ شیطان بہر حال کسی زمانے میں بھی لوگوں کا ”معبود“ (بمعنی معروف) نہیں رہا ہے بلکہ ان کے نام پر ہر زمانے میں لوگ لعنت ہی بھیجتے رہے ہیں۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد سوم، الکہف، حاشیہ 49 – 5۰)۔
یٰۤاَبَتِ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ فَتَكُوْنَ لِلشَّیْطٰنِ وَلِیًّا
ابّا جان، مجھے ڈر ہے کہ کہیں آپ رحمان کے عذاب میں مُبتلا نہ ہو جائیں اور شیطان کے ساتھی بن کر رہیں"
قَالَ اَرَاغِبٌ اَنْتَ عَنْ اٰلِهَتِیْ یٰۤاِبْرٰهِیْمُ لَىِٕنْ لَّمْ تَنْتَهِ لَاَرْجُمَنَّكَ وَاهْجُرْنِیْ مَلِیًّا
باپ نے کہا "ابراہیمؑ، کیا تو میرے معبُودوں سے پھر گیا ہے؟ اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسار کر دوں گا بس تو ہمیشہ کے لیے مجھ سے الگ ہو جا"
قَالَ سَلٰمٌ عَلَیْكَ سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّیْ ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِیْ حَفِیًّا
ابراہیم ؑ نے کہا”سلام ہے آپ کو۔ میں اپنے ربّ سے دُعا کروں گا کہ آپ کو معاف کردے،30 میرا ربّ مجھ پر بڑا مہربان ہے
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، التوبہ، حاشیہ 112۔
وَاَعْتَزِلُكُمْ وَمَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَاَدْعُوْا رَبِّیْ ؗ عَسٰۤی اَلَّاۤ اَكُوْنَ بِدُعَآءِ رَبِّیْ شَقِیًّا
میں آپ لوگوں کو بھی چھوڑتا ہوں اور اُن ہستیوں کو بھی جنہیں آپ لوگ خدا کو چھوڑ کر پکارا کرتے ہیں میں تو اپنے رب ہی کو پکاروں گا، امید ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کے نامراد نہ رہوں گا"
فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَمَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ ؕ وَكُلًّا جَعَلْنَا نَبِیًّا
پس جب وہ اُن لوگوں سے اور اُن کے معبُودانِ غیر اللہ سے جُدا ہو گیا تو ہم نے اُس کو اسحاقؑ اور یعقوبؑ جیسی اولاد دی اور ہر ایک کو نبی بنایا
وَوَهَبْنَا لَهُمْ مِّنْ رَّحْمَتِنَا وَجَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِیًّا
اور ان کو اپنی رحمت سے نوازا اور ان کو سچی نام وری عطا کی۔31
یہ حرفِ تسلّی ہے اُن مہاجرین کے لیے جو گھروں سے نکلنے پر مجبور ہوئے تھے۔ ان کو بتایا جارہا ہے کہ جس طرح ابراہیم علیہ السّلام اپنے خاندان سےکٹ کر برباد نہ ہوئے بلکہ اُلٹے سر بلند و سرفراز ہو کر رہے اُسی طرح تم بھی برباد نہ ہو گے بلکہ وہ عزّت پاؤ گے جس کا تصوّر بھی جاہلیت میں پڑے ہوئے کفارِ قریش نہیں کر سکتے۔
وَاذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مُوْسٰۤی ؗ اِنَّهٗ كَانَ مُخْلَصًا وَّكَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّا
اصل میں لفظ مُخْلَص استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں”خالص کیا ہوا“۔ مطلب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ ایک ایسے شخص تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے خالص اپنا کر لیا تھا۔
”رسول“ کے معنی ہیں”فرستادہ“ ،” بھیجا ہوا“۔ اس معنی کے لحاظ سے عربی زبان میں قاصد، پیغام بر ، ایلچی اور سفیر کے لیے یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ اور قرآن میں یہی لفظ یا تو ان ملائکہ کے لیے استعمال ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی کارِ خاص پر بھیجے جاتے ہیں ، یا پھر اُن انسانوں کو اس نام سے موسوم کیا گیا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے خلق کی طرف اپنا پیغام پہنچانے کے لیے مامور فرمایا ۔ ”نبی“ کے معنی میں اہلِ لغت کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض اس کو لفظ نَبَا سے مشتق قرار دیتے ہیں جس کے معنی خبر کے ہیں، اور اس اصل کے لحاظ سے نبی کے معنی ”خبر دینے والا“ کے ہیں۔ بعض کے نزدیک اس کا مادّہ نبُو ہے، یعنی رفعت اور بلندی۔ اور اس معنی کے لحاظ سے نبی کا مطلب ہے ”بلند مرتبہ“ اور ”عالی مقام“۔ ازہری نے کسائی سے ایک تیسرا قول بھی نقل کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ لفظ دراصل نبیٔ ہے جس کے معنی طریق اور راستے کے ہیں ، اور انبیاء کو نبی اس لیے کہا گیا ہے کہ وہ اللہ کی طرف جانے کا راستہ ہیں۔ پس کسی شخص کو ”رسول نبی“ کہنے کا مطلب یا تو ”عالی مقام پیغمبر“ ہے ، یا ”اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبریں دینے والا پیغمبر“، یا پھر”وہ پیغمبر جو اللہ کا راستہ بتانے والا ہے“۔ قرآن مجید میں یہ دونوں الفاظ بالعموم ہم معنی استعمال ہوئے ہیں۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ہی شخصیت کو کہیں صرف رسول کہا گیا ہے اور کہیں صرف نبی اور کہیں رسول اور نبی ایک ساتھ۔ لیکن بعض مقامات پر رسول اور نبی کے الفاظ اس طرح بھی استعمال ہوئے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان دونوں میں مرتبے یا کام کی نوعیت کے لحاظ سے کوئی اصطلاحی فرق ہے ۔ مثلاً سُورۂ حج، رکوع 7 میں فرمایا وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّلَا نَبِیٍّ اِلَّا ۔۔۔۔۔۔” ہم نے تم سے پہلے نہیں بھیجا کوئی رسول اور نہ نبی مگر ۔۔۔۔۔“ یہ الفاظ صاف ظاہر کرتے ہیں کہ رسول اور نبی دو الگ اصطلاحیں ہیں جن کے درمیان کوئی معنوی فرق ضرور ہے۔ اسی بنا پر اہلِ تفسیر میں یہ بحث چل پڑی ہے کہ اس فرق کی نوعیت کی اہے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ قطعی دلائل کے ساتھ کوئی بھی رسول اور نبی کی الگ الگ حیثیتوں کو تعین نہیں کر سکا ہے۔ زیادہ سے زیادہ جو بات یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ رسول کا لفظ نبی کی بہ نسبت خاص ہے ، یعنی ہر رسول نبی بھی ہوتاہے، مگر ہر نبی رسول نہیں ہوتا، یا بالفاظِ دیگر انبیاء میں سے رسول کا لفظ اُن جلیل القدر ہستیوں کے لیے بولا گیا ہے جن کو عام انبیاء کی بہ نسبت زیادہ اہم منصب سپرد کیا گیا تھا۔ اِسی کی تائید اُس حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ جو امام احمد نے حضرت ابو اُمامہ سے اور حاکم نے حضرت ابو ذر سے نقل کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے رسولوں کی تعداد پوچھی گئی تو آپ نے 313 یا 315 بتائی اور انبیاء کی تعداد پوچھی گئی تو آپ نے ایک لاکھ 24 ہزار بتائی۔ اگرچہ اس حدیث کی سندیں ضعیف ہیں ، مگر کئی سندوں سے ایک بات کا نقل ہونا اس کے ضعف کو بڑی حد تک دور کر دیتا ہے۔
وَنَادَیْنٰهُ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ الْاَیْمَنِ وَقَرَّبْنٰهُ نَجِیًّا
کوہِ طور کے داہنی جانب سے مراد اس کا مشرقی دامن ہے۔ چونکہ حضرت موسیٰ مَدْیَنْ سے مصر جاتے ہوئے اُس راستہ سے گزر رہے تھے جو کوہِ طور کے جنوب سے جاتا ہے ، اور جنوب کی طرف سے اگر کوئی شخص طور کو دیکھے تو اس کے دائیں جانب مشرق اور بائیں جانب مغرب ہو گا، اس لیے حضرت موسیٰؑ کی نسبت سے طور کے مشرقی دامن کو ”داہنی جانب“ فرمایا گیا ۔ ورنہ ظاہر ہے کہ بجائے خود پہاڑ کا کوئی دایاں یا بایاں رُخ نہیں ہوتا۔
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اوّل، النساء ، حاشیہ نمبر 2۰۶۔
وَوَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَاۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ نَبِیًّا
اور اپنی مہربانی سے اس کے بھائی ہارونؑ کو نبی بنا کر اُسے (مدد گار کے طور پر) دیا
وَاذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَ ؗ اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَكَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّا
اور اس کتاب میں اسماعیلؑ کا ذکر کرو وہ وعدے کا سچا تھا اور رسُول نبی تھا
وَكَانَ یَاْمُرُ اَهْلَهٗ بِالصَّلٰوةِ وَالزَّكٰوةِ ۪ وَكَانَ عِنْدَ رَبِّهٖ مَرْضِیًّا
وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتا تھا اور اپنے رب کے نزدیک ایک پسندیدہ انسان تھا
وَاذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِدْرِیْسَ ؗ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا
اور اِس کتاب میں ادریسؑ36 کا ذکر کرو۔ وہ ایک راستباز انسان اور ایک نبی تھا
حضرت ادریس کے متعلق اختلاف ہے۔ بعض کے نزدیک وہ بنی اسرائیل میں سے کوئی نبی تھے۔ مگر اکثریت اس طرف گئی ہے کہ وہ حضرت نوح ؑ سے بھی پہلے گزر ے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی صحیح حدیث ہم کو ایسی نہیں ملی جس سے ان کی شخصیت کے تعیّن میں کوئی مدد ملتی ہو۔ البتہ قرآن کا ایک اشارہ اس خیال کی تائید کرتا ہے کہ وہ حضرت نوح ؑ سے متقدم ہیں۔ کیونکہ بعد والی آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ یہ انبیاء جن کا ذکر اوپر گزرا ہے ، آدم کی اولاد، نوح کی اولاد، ابراہیم کی اولاد اور اسرائیل کی اولاد سے ہیں۔ اب یہ ظاہر ہے کہ حضرت یحییٰ ، عیسیٰ اور موسیٰ علیہم السّلام تو بنی اسرائیل میں سے ہیں ، حضرت اسماعیل ؑ، حضرت اسحاق ؑ اور حضرت یعقوب ؑ اولادِ ابراہیم ؑ سے ہیں اور حضرت ابراہیم ؑ اولادِ نوحؑ سے، اس کے بعد صرف حضرت ادریسؑ ہی رہ جاتے ہیں جن کے متعلق یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ وہ اولادِ آدم ؑ سے ہیں۔ مفسّرین کا عام خیال یہ ہے کہ بائیبل میں جن بزرگ کا نام حنوک( Enoch ) بتایا گیا ہے ، وہی حضرت ادریس ؑ ہیں ۔ ان کے متعلق بائیبل کا بیان یہ ہے: ”اور حنوک پینسٹھ برس کا تھا جب اس سے متوسلح پیدا ہوا اور متوسلح کی پیدائش کے بعد حنوک تین سو برس تک خدا کے ساتھ ساتھ چلتا رہا۔۔ ۔۔۔۔ اور وہ غائب ہو گیا کیونکہ خدا نے اسے اُٹھا لیا“۔( پیدائش، باب 5 – آیت 21 – 24)۔ تلمود کی اسرائیلی روایات میں ان کے حالات زیادہ تفصیل کے ساتھ بتائے گئے ہیں ۔ ان کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت نوح ؑ سے پہلے جب بنی آدم میں بگاڑ کی ابتدا ہوئی تو خدا کے فرشتے نے حنوک کو، جو لوگوں سے الگ تھلگ زاہدانہ زندگی بسر کرتے تھے، پکارا کہ”اے حنوک، اُٹھو، گوشۂ عزلت سے نکلو اور زمین کے باشندوں میں چل پھر کر ان کو وہ راستہ بتاؤ جس پر ان کو چلنا چاہیے اور وہ طریقے بتاؤ جن پر انہیں عمل کرنا چاہیے“۔ یہ حکم پا کر وہ نکلے اور انہوں نے جگہ جگہ لوگوں کو جمع کر کے وعظ و تلقین کی اور نسلِ انسانی نے ان کی اطاعت قبول کر کے اللہ کی بندگی اختیار کر لی۔ حنوک 353 برس تک نسلِ انسانی پر حکمراں رہے۔ ان کی حکومت انصاف اور حق پرستی کی حکومت تھی۔ ان کے عہد میں زمین پر خدا کی رحمتیں برستی رہیں۔ The Talmud Selections, PP. 18-21
وَّرَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِیًّا
اور اُسے ہم نے بلند مقام پر اُٹھایا تھا۔37
اس کا سیدھا سادھا مطلب تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ادریس ؑ کو بلند مرتبہ عطا کیا تھا ، لیکن اسرائیلی روایات سے منتقل ہو کر یہ بات ہمارے ہاں بھی مشہور ہو گئی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ادریس ؑ کو آسمان پر اُٹھا لیا۔ بائیبل میں تو صرف اسی قدر ہے کہ وہ غائب ہو گئے کیونکہ”خدا نے ان کو اُٹھا لیا“، مگر تلمود میں اس کاایک طویل قصّہ بیان ہوا ہے جس کا خاتمہ اس پر ہوتا ہے کہ ”حنوک ایک بگولے میں آتشیں رتھ اور گھوڑوں سمیت آسمان پر چڑھ گئے“۔
اُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ مِنْ ذُرِّیَّةِ اٰدَمَ وَمِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ ؗ وَّمِنْ ذُرِّیَّةِ اِبْرٰهِیْمَ وَاِسْرَآءِیْلَ ؗ وَمِمَّنْ هَدَیْنَا وَاجْتَبَیْنَا ؕ اِذَا تُتْلٰی عَلَیْهِمْ اٰیٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّبُكِیًّا
یہ وہ پیغمبر ہیں جن پر اللہ نے انعام فرمایا آدمؑ کی اولاد میں سے، اور اُن لوگوں کی نسل سے جنہیں ہم نے نوحؑ کے ساتھ کشتی پر سوار کیا تھا، ا ور ابراہیمؑ کی نسل سے اور اسرائیلؑ کی نسل سے اور یہ ان لوگوں میں سے تھے جن کو ہم نے ہدایت بخشی اور برگزیدہ کیا ان کا حال یہ تھا کہ جب رحمان کی آیات ان کو سنائی جاتیں تو روتے ہوئے سجدے میں گر جاتے تھے
فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّا
یعنی نماز پڑھنی چھوڑ دی، یا نماز سے غفلت اور بے پروائی برتنے لگے۔ یہ ہر اُمت کے زوال و انحطاط کا پہلا قدم ہے۔ نماز وہ اوّلین رابطہ ہے جو مومن کا زندہ اور عملی تعلق خدا کے ساتھ شب و روز جوڑے رکھتا ہے اور اسے خدا پرستی کے مرکز و محور سے بچھڑنے نہیں دیتا۔ یہ بندھن ٹوٹتے ہی آدمی خدا سے دور اور دُور تر ہوتا چلا جاتا ہے حتیٰ کہ عملی تعلق سے گزر کر اس کا خیالی تعلق بھی خدا کے ساتھ باقی نہیں رہتا ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ بات ایک قاعدہ ٔ کلیہ کے طور پر بیان فرمائی ہے کہ پچھلے تمام انبیاء کی اُمتوں کا بگاڑ نماز ضائع کرنے سے شروع ہو ا ہے۔
یہ تعلق باللہ کی کمی اور اس کے فقدان کا لازمی نتیجہ ہے ۔ نماز کی اضاعت سے جب دل خدا کی یاد سے غافل رہنے لگے تو جوں جوں یہ غفلت بڑھتی گئی، خواہشاتِ نفس کی بندگی میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا یہاں تک کہ ان کے اخلاق اور معاملات کا ہر گوشہ احکامِ الہٰی کے بجائے اپنے من مانے طریقوں کا پابند ہو کر رہا۔
اِلَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاُولٰٓىِٕكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَلَا یُظْلَمُوْنَ شَیْـًٔا
البتہ جو توبہ کر لیں اور ایمان لے آئیں اور نیک عملی اختیار کر لیں وہ جنّت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرّہ برابر حق تلفی نہ ہو گی
جَنّٰتِ عَدْنِ لَّتِیْ وَعَدَ الرَّحْمٰنُ عِبَادَهٗ بِالْغَیْبِ ؕ اِنَّهٗ كَانَ وَعْدُهٗ مَاْتِیًّا
ان کے لیے ہمیشہ رہنے والی جنّتیں ہیں جن کا رحمٰن نے اپنے بندوں سے درپردہ وعدہ کر رکھا ہے40 اور یقیناً یہ وعدہ پُورا ہو کر رہنا ہے
یعنی جس کا وعدہ رحمان نے اس حالت میں کیا ہے کہ وہ جنتیں ان کی نگاہ سے پوشیدہ ہیں۔
لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا ؕ وَلَهُمْ رِزْقُهُمْ فِیْهَا بُكْرَةً وَّعَشِیًّا
وہاں وہ کوئی بےہُودہ بات نہ سُنیں گے،جو کچھ بھی سُنیں گے ٹھیک ہی سُنیں گے۔41 اور ان کا رزق انہیں پیہم صبح و شام ملتا رہے گا
اصل میں لفظ”سلام“ استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں عیب اور نقص سے محفوظ ۔ جنت میں جو نعمتیں انسان کو میسّر ہوں گی ان میں سے ایک بڑی نعمت یہ ہوگی کہ وہاں کوئی بیہودہ اور فضول اور گندی بات سننے میں نہ آئے گی۔ وہاں کا پورا معاشرہ ایک ستھرا اور سنجیدہ اور پاکیزہ معاشرہ ہو گا جس کا ہر فرد سلیم الطبع ہو گا۔ وہاں کے رہنے والوں کو غیبتوں اور گالیوں اور فحش گانوں اور دوسری بُری آوازوں کی سماعت سے پوری نجات مِل جائے گی۔ وہاں آدمی جو کچھ بھی سُنے گا ،بھلی اور معقول اور بجا باتیں ہی سنے گا۔ اِس نعمت کی قدر وہی شخص سمجھ سکتا ہے جو اس دنیا میں فی الواقع ایک پاکیزہ اور ستھرا ذوق رکھتا ہو۔ کیونکہ وہی یہ محسوس کر سکتا ہے کہ انسان کے لیے ایک ایسی گندی سوسائیٹی میں رہنا کتنی بڑی مصیبت ہے جہاں کسی وقت بھی اس کے کان جھوٹ، غیبت ، فتنہ وفساد، شرارت، گندگی اور شہوانیت کی باتوں سے محفوظ نہ ہوں۔ “
تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِیًّا
یہ ہے وہ جنت جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اُس کو بنائیں گے جو پرہیزگار رہا ہے
وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ لَهٗ مَا بَیْنَ اَیْدِیْنَا وَمَا خَلْفَنَا وَمَا بَیْنَ ذٰلِكَ وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِیًّا
اے محمدؐ42 ، ہم تمہارے ربّ کے حکم کے بغیر نہیں اُترا کرتے۔ جو کچھ ہمارے آگے ہے اور جو کچھ پیچھے ہے اور جو کچھ اس کے درمیان ہے ہر چیز کا مالک وہی ہے اور تمہارا ربّ بھُولنے والا نہیں ہے
یہ پورا پیراگراف ایک جملۂ معترضہ ہے جو ایک سلسلہ ٰ کلام کو ختم کر کے دوسرا سلسلہ ٔ کلام شروع کرنے سے پہلے ارشاد ہوا ہے۔ اندازِ کلام صاف بتا رہا ہے کہ یہ سورۃ بڑی دیر کے بعد ایسے زمانے میں نازل ہوئی ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے صحابہ بڑے اضطراب انگیز حالات سے گر رہے ہیں۔ حضور کو اور آپؐ کے صحابیوں کو ہر وقت وحی کا انتظار ہے تاکہ اس سے رہنمائی بھی ملے اور تسلی بھی حاصل ہو۔جوں جوں وہی آنے میں دیر ہو رہی ہے اضطراب بڑھتا جاتا ہے۔ اس حالت میں جبریل علیہ السّلام فرشتوں کے جھرمٹ میں تشریف لاتے ہیں ۔ پہلے وہ فرمان سُناتے ہیں جو موقع کی ضرورت کے لحاظ سے فوراً درکا ر تھا۔ پھر آگے بڑھنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے اشارے سے یہ چند کلمات اپنی طرف سے کہتے ہیں جن میں اتنی دیر تک اپنے حاضر نہ ہونے کی معذرت بھی ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے حرفِ تسلی بھی، اور ساتھ ساتھ صبر و ضبط کی تلقین بھی۔ یہ صرف کلام کی اندرونی شہادت ہی نہیں ہے بلکہ متعدّد روایات بھی اس کی تصدیق کرتی ہیں جنہیں ابنِ جریر ، ابنِ کثیر اور صاحب رپوح المعانی وغیرہم نے اس آیت کی تفسیر میں نقل کیا ہے۔
رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَهُمَا فَاعْبُدْهُ وَاصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهٖ ؕ هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِیًّا
یعنی اس کی بندگی کے راستے پر مضبوطی کے ساتھ چلو اور اس راہ میں جو مشکلات اور مصائب بھی پیش آئیں ان کا صبر کے ساتھ مقابلہ کرو۔ اگر اس کی طرف سے یاد فرمائی اور مدد اور تسلی میں کبھی دیر لگ جایا کرے تو اس پر گھبراؤ نہیں۔ ایک مطیع فرمان بندے کی طرح ہر حال میں اس کی مشیت پر راضی رہو اور پورے عزم کے ساتھ وہ خدمت انجام دیے چلے جاؤ جو ایک بندے اور رسول کی حیثیت سے تمہارے سپرد کی گئی ہے۔
اصل میں لفظ سَمِی استعمال ہوا ہے جس کے لغوی معنی ”ہم نام“ کے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ اللہ تو الٰہ ہے ، کیا کوئی دوسرا لٰہ بھی تمہارے علم میں ہے؟ اگر نہیں ہے اور تم جانتے ہو کہ نہیں ہے تو پھر تمہارے لیے اس کے سوا اور راستہ ہی کونسا ہے کہ اس کی بندگی کرو اور اس کے حکم کے بندے بن کر رہو۔
وَیَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ءَاِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ اُخْرَجُ حَیًّا
انسان کہتا ہے کیا واقعی جب میں مر چکوں گا تو پھر زندہ کر کے نکال لایا جاؤں گا؟
اَوَلَا یَذْكُرُ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ وَلَمْ یَكُ شَیْـًٔا
کیا انسان کو یاد نہیں آتا کہ ہم پہلے اس کو پیدا کر چکے ہیں جبکہ وہ کچھ بھی نہ تھا؟
فَوَرَبِّكَ لَنَحْشُرَنَّهُمْ وَالشَّیٰطِیْنَ ثُمَّ لَنُحْضِرَنَّهُمْ حَوْلَ جَهَنَّمَ جِثِیًّا
تیرے ربّ کی قسم ، ہم ضرور اِن سب کو اور ان کے ساتھ شیاطین کو بھی45 گھیر لائیں گے، پھر جہنّم کے گِرد لا کر انھیں گُھٹنوں کے بل گرا دیں گے
یعنی اُن شیاطین کو جن کے یہ چیلے بنے ہوئے ہیں، اور جن کے سکھائے پڑھائے میں آکر انہوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ زندگی جو کچھ بھی ہے بس یہی دنیا کی زندگی ہے ، اس کے بعد کوئی دوسری زندگی نہیں جہاں ہمیں خدا کے سامنے حاضر ہونا اور اپنے اعمال کا حساب دینا ہو۔
ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِیْعَةٍ اَیُّهُمْ اَشَدُّ عَلَی الرَّحْمٰنِ عِتِیًّا
پھر ہر گروہ میں سے ہر اُس شخص کو چھانٹ لیں گے جو رحمٰن کے مقابلے میں زیادہ سرکش بنا ہوا تھا،46
یعنی باغی گروہ کا لیڈر۔
ثُمَّ لَنَحْنُ اَعْلَمُ بِالَّذِیْنَ هُمْ اَوْلٰی بِهَا صِلِیًّا
پھر یہ ہم جانتے ہیں کہ ان میں سے کون سب سے بڑھ کر جہنم میں جھونکے جانے کا مستحق ہے
وَاِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا كَانَ عَلٰی رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِیًّا
تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو جہنّم پر وارد نہ ہو،47 یہ تو ایک طے شدہ بات ہے جسے پُورا کرنا تیرے ربّ کا ذِمّہ ہے
وارد ہونے کے معنی بعض روایات میں داخل ہونے کے بیان کیے گئے ہیں ، مگر ان میں سے کسی کی سند بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک قابلِ اعتماد ذرائع سے نہیں پہنچتی۔ اور پھر یہ بات قران مجید اور اُن کثیر التعداد صحیح احادیث کے بھی خلا ف ہے جن میں مومنین صالحین کے دوزخ میں جانے کی قطعی نفی کی گئی ہے۔ مزید برآں لغت میں بھی درود کے معنی دخول کے نہیں ہیں۔ اس لیے اس کا صحیح مطلب یہی ہے کہ جہنم پر گزر تو سب کا ہو گا مگر ،جیسا کہ بعد والی آیت بتا رہی ہے ، پرہیز گار لوگ اس سے بچا لیے جائیں گے اور ظالم اس میں جھونک دیے جائیں گے۔
ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّنَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْهَا جِثِیًّا
پھر ہم اُن لوگوں کو بچا لیں گے جو (دنیا میں) متقی تھے اور ظالموں کو اُسی میں گرا ہُوا چھوڑ دیں گے
وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ خَیْرٌ مَّقَامًا وَّاَحْسَنُ نَدِیًّا
اِن لوگوں کو جب ہماری کھُلی کھُلی آیات سُنائی جاتی ہیں تو انکار کرنے والے ایمان لانے والوں سے کہتے ہیں”بتاوٴ ہم دونوں گروہوں میں کون بہتر حالت میں ہے اور کس کی مجلسیں زیادہ شاندار ہیں؟“48
یعنی ان کا استدلال یہ تھا کہ دیکھ لو، دنیا میں کون اللہ فضل اور اس کی نعمتوں سے نوازا جا رہا ہے۔ کس کے گھر زیادہ شاندا ر ہیں؟ کس کا معیارِ زندگی زیادہ بلند ہے؟ کس کی محفلیں زیادہ ٹھاٹھ سے جمتی ہیں؟ اگر یہ سب کچھ ہمیں میسّر ہے اور تم اس سے محروم ہو تو خود سوچ لو کہ آخر یہ کیسے ممکن تھا کہ ہم باطل پر ہوتے اور یوں مزے اُڑاتے اور تم حق پر ہوتے اور اس طرح خستہ و درماندہ رہتے؟ مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ،جلد سوم، الکہف حواشی 37، 38۔
وَكَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَحْسَنُ اَثَاثًا وَّرِءْیًا
حالانکہ ان سے پہلے ہم کتنی ہی ایسی قوموں کو ہلاک کر چکے ہیں جو اِن سے زیادہ سر و سامان رکھتی تھیں اور ظاہری شان و شوکت میں اِن سے بڑھی ہوئی تھیں
قُلْ مَنْ كَانَ فِی الضَّلٰلَةِ فَلْیَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمٰنُ مَدًّا ۬ حَتّٰۤی اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ اِمَّا الْعَذَابَ وَاِمَّا السَّاعَةَ ؕ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّاَضْعَفُ جُنْدًا
اِن سے کہو، جو شخص گمراہی میں مُبتلا ہوتا ہے اُسے رحمان ڈھیل دیا کرتا ہے یہاں تک کہ جب ایسے لوگ وہ چیز دیکھ لیتے ہیں جس کا اُن سے وعدہ کیا گیا ہے خواہ وہ عذاب الٰہی ہو یا قیامت کی گھڑی تب انہیں معلوم ہو جاتا ہے کہ کس کا حال خراب ہے اور کس کا جتھا کمزور!
وَیَزِیْدُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا هُدًی ؕ وَالْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّخَیْرٌ مَّرَدًّا
اِس کے برعکس جو لوگ راہِ راست اختیار کرتے ہیں اللہ ان کو راست روی میں ترقی عطا فرماتا ہے49 اور باقی رہ جانے والی نیکیاں ہی تیرے ربّ کے نزدیک جزا اور انجام کے اعتبار سے بہتر ہیں
یعنی ہر آزمائش کے موقع پر اللہ تعالیٰ ان کو صحیح فیصلے کرنے اور صحیح راستہ اختیار کرنے کی توفیق بخشتا ہے ، اُن کو بُرائیوں اور غلطیوں سے بچاتا ہے اور اس کی ہدایت و رہنمائی سے وہ برابر راہِ راست پر بڑھتے چلے جاتے ہیں۔
اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ كَفَرَ بِاٰیٰتِنَا وَقَالَ لَاُوْتَیَنَّ مَالًا وَّوَلَدًا ؕ
پھر تُو نے دیکھا اُس شخص کو جو ہماری آیات کو ماننے سے انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تو مال اور اولاد سے نوازا ہی جاتا رہوں گا؟50
یعنی وہ کہتا ہے کہ تم مجھے خواہ کتنا ہی گمراہ و بدکار کہتے رہو اور عذابِ الہٰی کے ڈراوے دیا کرو ، میں تو آج بھی تم سے زیادہ خوشحال ہوں اور آئندہ بھی مجھ پر نعمتوں کی بارش ہوتی رہے گی۔ میری دولت دیکھو، میری وجاہت اور ریاست دیکھو، میرے نا مور بیٹوں کو دیکھو، میری زندگی میں آخر تمہیں کہاں یہ آثار نظر آتے ہیں کہ میں خدا کا مغضوب ہوں؟ ۔۔۔۔۔۔ یہ مکّے میں کسی ایک شخص کے خیالات نہ تھے ، بلکہ کفارِ مکّہ کا ہرشیخ اور سردار اسی خبط میں مبتلا تھا۔
اَطَّلَعَ الْغَیْبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًا
کیا اسے غیب کا پتہ چل گیا ہے یا اس نے رحمان سے کوئی عہد لے رکھا ہے؟
كَلَّا ؕ سَنَكْتُبُ مَا یَقُوْلُ وَنَمُدُّ لَهٗ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّا
ہر گز نہیں، جو کچھ یہ بکتا ہے اسے ہم لکھ لیں گے51 اور اس کے لیے سزا میں اور زیادہ اضافہ کریں گے
یعنی اس کے جرائم کے ریکارڈ میں اس کا یہ کلمہ ٔ غرور بھی شامل کر لیا جائے گا اور اس کا مزا بھی اسے چکھنا پڑے گا۔
وَّنَرِثُهٗ مَا یَقُوْلُ وَیَاْتِیْنَا فَرْدًا
جس سر و سامان اور لاؤ لشکر کا یہ ذکر کر رہا ہے وہ سب ہمارے پاس رہ جائے گا اور یہ اکیلا ہمارے سامنے حاضر ہوگا
وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّیَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّا
اِن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے کچھ خدا بنا رکھے ہیں تاکہ وہ اِن کے پُشتیبان ہوں۔52
اصل میں لفظ عِزًّا استعمال ہوا ہے، یعنی وہ ان کے لیے سببِ عزّت ہوں۔ مگر عزّت سے مراد عربی زبان میں کسی شخص کا ایسا طاقت ور اور زبردست ہونا ہے کہا س پر کوئی ہاتھ نہ ڈال سکے اور ایک شخص کا دوسرے شخص کے لیے سببِ عزت بننا یہ معنی رکھتا ہے کہ وہ اس کی حمایت پر ہو جس کی وجہ سے اس کا کوئی مخالف اس کی طرف آنکھ اُٹھا کر نہ دیکھ سکے۔
كَلَّا ؕ سَیَكْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِهِمْ وَیَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِمْ ضِدًّا
وہ سب ان کی عبادت کا انکار کریں گے53 اور اُلٹے اِن کے مخالف بن جائیں گے
یعنی وہ کہیں گے کہ نہ ہم نے کبھی اِن سے کہا تھا کہ ہماری عبادت کرو ، اور نہ ہمیں یہ خبر تھی کہ یہ احمق لوگ ہماری عبادت کر رہے ہیں۔
اَلَمْ تَرَ اَنَّاۤ اَرْسَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ عَلَی الْكٰفِرِیْنَ تَؤُزُّهُمْ اَزًّا
کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ ہم نے اِن منکرین حق پر شیاطین چھوڑ رکھے ہیں جو اِنہیں خُوب خُوب (مخالفتِ حق پر) اکسا رہے ہیں؟
فَلَا تَعْجَلْ عَلَیْهِمْ ؕ اِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمْ عَدًّا
اچھا، تو اب اِن نُزوُلِ عذاب کے لیے بےتاب نہ ہو۔ ہم اِن کے دن گِن رہے ہیں۔54
مطلب یہ ہے کہ اِن کی زیادتیوں پر تم بے صبر نہ ہو۔ اِن کی شامت قریب آلگی ہے ۔ پیمانہ بھرا چاہتا ہے ۔ اللہ کی دی ہوئی مہلت کے کچھ دن باقی ہیں ، اُنہیں پورا ہو لینے دو۔
یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیْنَ اِلَی الرَّحْمٰنِ وَفْدًا
وہ دن آنے والا ہے جب متقی لوگوں کو ہم مہمانوں کی طرح رحمان کے حضور پیش کریں گے
وَّنَسُوْقُ الْمُجْرِمِیْنَ اِلٰی جَهَنَّمَ وِرْدًا
اور مجرموں کو پیاسے جانوروں کی طرح جہنم کی طرف ہانک لے جائیں گے
لَا یَمْلِكُوْنَ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًا
اُس وقت لوگ کوئی سفارش لانے پر قادر نہ ہوں گے بجز اُس کے جس نے رحمٰن کے حضور سے پروانہ حاصل کر لیا ہو۔55
یعنی سفارش اسی کے حق میں ہو گی جس نے پروانہ حاصل کیا ہو، اور وہی سفارش کر سکے گا جسے پروانہ ملا ہو۔ آیت کے الفاظ ایسے ہیں جو دونو ں پہلو ؤں پر یکساں روشنی ڈالتے ہیں۔ یہ بات کہ سفارش صرف اسی کے حق میں ہو سکے گی جس نے رحمان سے پروانہ حاصل کر لیا ہو، اس کا مطلب یہ ہےکہ جس نے دنیا میں ایمان لا کر اور خدا سے کچھ تعلق جوڑ کر اپنے آپ کو خدا کے عفو و درگزر کا مستحق بنا لیا ہو۔ اور یہ بات کہ سفارش وہی کر سکے گا جس کو پروانہ ملا ہو، اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں نے جن جن کو اپنا شفیع اور سفارشی سمجھ لیا ہے وہ سفارشیں کرنے کے مجاز نہ ہوں گے بلکہ خدا خود جس کو اجازت دے گا وہی شفاعت کے لیے زبان کھول سکے گا۔
وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا ؕ
وہ کہتے ہیں کہ رحمان نے کسی کو بیٹا بنایا ہے
لَقَدْ جِئْتُمْ شَیْـًٔا اِدًّا
سخت بیہودہ بات ہے جوتم لوگ گھڑ لائے ہو
تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا
قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑیں، زمین شق ہو جائے اور پہاڑ گر جائیں
اَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمٰنِ وَلَدًا
اس بات پر کہ لوگوں نے رحمان کے لیے اولاد ہونے کا دعویٰ کیا!
وَمَا یَنْۢبَغِیْ لِلرَّحْمٰنِ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا ؕ
رحمان کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے
اِنْ كُلُّ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اِلَّاۤ اٰتِی الرَّحْمٰنِ عَبْدًا ؕ
زمین اور آسمان کے اندر جو بھی ہیں سب اس کے حضور بندوں کی حیثیت سے پیش ہونے والے ہیں
لَقَدْ اَحْصٰىهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا ؕ
سب پر وہ محیط ہے اور اس نے اُن کو شمار کر رکھا ہے
وَكُلُّهُمْ اٰتِیْهِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فَرْدًا
سب قیامت کے روز فرداً فرداً اس کے سامنے حاضر ہوں گے
اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا
یقیناً جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور عملِ صالح کر رہے ہیں عنقریب رحمٰن اُن کے لیے دلوں میں محبت پیدا کر دے گا۔56
یعنی آج مکّے کی گلیوں میں وہ ذلیل و رسوا کیے جا رہے ہیں، مگر یہ حالت دیرپا نہیں ہے۔ قریب ہے وہ وقت جبکہ اپنے اعمالِ صالحہ اور اخلاقِ حسنہ کی وجہ سے وہ محبوبِ خلائق ہو کر رہیں گے۔ دل ان کے طرف کھنچیں گے۔ دنیا ان کے آگے پلکیں بچھائے گی ۔ فسق و فجور ، رعونیت اور کبر ، جھوٹ اور ریاکاری کے بل پر جو سیادت و قیادت چلتی ہو وہ گردنوں کے چاہے جھکالے ، دلوں کو مسخر نہیں کر سکتی۔ اس کے برعکس جو لوگ صداقت ، دیانت ، اخلاص اور حس اخلاق کے ساتھ راہِ راست کی طرف دعوت دیں ، ان سے اوّل اوّل چاہے دنیا کتنی ہی اُپر ائے ، آخر کار وہ دلوں کو موہ لیتے ہیں اور بد دیانت لوگوں کا جھوٹ زیادہ دیر تک ان کا راستہ روکے نہیں رہ سکتا۔
فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِیْنَ وَتُنْذِرَ بِهٖ قَوْمًا لُّدًّا
پس اے محمدؐ، اِس کلام کو ہم نے آسان کر کے تمہاری زبان میں اسی لیے نازل کیا ہے کہ تم پرہیز گاروں کو خوشخبری دے دو اور ہٹ دھرم لوگوں کو ڈرا دو
وَكَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ ؕ هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًا
ان سے پہلے ہم کتنی ہی قوموں کو ہلاک کر چکے ہیں، پھر آج کہیں تم ان کا نشان پاتے ہو یا اُن کی بھنک بھی کہیں سنائی دیتی ہے؟
الله کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے <<سورة مَرْیَم>> نام : اس سورت کا نام آیت << واذکر فی الکتب مریم >> سے ماخوذ ہے ۔ مراد یہ ہے کہ وہ سورہ جس میں حضرت مریم کا ذکر آیا ہے ۔ زمانہ نزول : اس کا زمانہ نزول ہجرت حبشہ سے پہلے کا ہے ۔ معتبر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مہاجرین اسلام جب نجاشی کے دربار میں بلائے گئے تھے اس وقت حضرت جعفر نے یہی سورۃ بھرے دربار میں تلاوت کی تھی ۔ تاریخی پس منظر : جس دور میں یہ س…