Fussilat 41:19
Verse 19 of 54
وَیَوْمَ یُحْشَرُ اَعْدَآءُ اللّٰهِ اِلَی النَّارِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ ۟
ترجمہ
اور ذرا اُس وقت کا خیال کرو جب اللہ کے دشمن دوزخ کی طرف جانے کے لیے گھیر لائے جائیں گے۔ اُن کے اگلوں کو پچھلوں کے آنے تک روک رکھا جائے گا،
English translation
Imagine the Day when Allah's enemies will be mustered to the Fire, and the people of the former times will be detained until the arrival of people of the later times,
تفہیم القرآن — حواشی
- 23
اصل مدعا یہ کہنا ہے کہ جب وہ اللہ کی عدالت میں پیش ہونے کے لیے گھیر لاٴئے جائیں گے۔ لیکن اس مضمون کو ان الفاظ میں بین کیا گیا ہے کہ دوزخ کی طرف جانے کے لیے گھیر لاٴئے جائیں گے۔ کیونکہ ان انجام آخر کار دوزخ ہی میں جانا ہے۔
- 24
یعنی ایسا نہیں ہو گا کہ ایک ایک نسل اور ایک ایک پشت کا حساب کر کے اس کا فیصلہ یکے بعد دیگرے کیا جاتا رہے، بلکہ تمام اگلی پچھلی نسلیں بیک وقت جمع کی جائیں گی اور ان سب کا اکٹھا حساب کیا جاٴئے گا۔ اس لیے کہ ایک شخص اپنی زندگی میں جو کچھ بھی اچھے اور برے اعمال کرتا ہے اس کے اثرات اس کی زندگی کے ساتھ ختم نہیں ہو جاتے بلکہ اس کے مرنے کے بعد بھی مدت ہاٴئے دراز تک چلتے رہتے ہیں اور وہ ان اثرات کے لیے ذمہ دار ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک نسل اپنے دور میں جو کچھ بھی کرتی ہے اس کے اثرات بعد کی نسلوں میں صدیوں جاری رہتے ہیں اور اپنے اس ورثے کے لیے وہ ذمہ دار ہوتی ہے۔ محاسبے اور انصاف کے لیے ان سارے ہی آثار و نتائج کا جائزہ لینا اور ان کی شہادتیں فراہم کرنا نا گزیر ہے۔ اسی وجہ سے قیامت کے روز نسل پر نسل آتی جاٴئے گی اور ٹھیرائی جاتی رہے گی۔ عدالت کا کام اس وقت شروع ہو گا جب اگلے پچھلے سب جمع ہو جائیں دے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، ص 26 تا 29)
