Al-Ahzab 33:58
Verse 58 of 73
وَالَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّاِثْمًا مُّبِیْنًا ۟۠
ترجمہ
ور جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو بے قصور اذیت دیتے ہیں اُنہوں نے ایک بڑے بہتان اور صریح گناہ کا وبال اپنے سر لے لیا ہے
English translation
Those who cause hurt to believing men and to believing women have invited upon themselves a calumny and a manifest sin.
تفہیم القرآن — حواشی
- 109
یہ آیت بہتان کی تعریف متعین کر دیتی ہے ، یعنی جو عیب آدمی میں نہ ہو، یا جو قصور آدمی نے نہ کیا ہو وہ اس کی طرف منسوب کرنا۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی اس کی تصریح فرمائی ہے۔ ابو داؤد اور ترمذی کی روایت ہے کہ حضورؐ سے پوچھا گیا غیبت کیا ہے ؟ فرمایا ذکرک اخاک بمَا یکرہ ۔’’ تیرا اپنے بھائی کا ذکر اس طرح کرنا جو اس ناگوار ہو۔‘‘ عرض کیا گیا اور اگر میرے بھائی میں وہ عیب موجود ہو۔ فرمایا ان کان فیہ ما تقول فقد اغتبتہٗ وان لم یکن فیہ ما تقول فقد بھتّہ۔’’ اگر اس میں وہ عیب موجود ہے جو تُو نے بیان کیا تو تُو نے اس کی غیبت کی۔ اور اگر وہ اس میں نہیں ہے تو تُو نے اس پر بہتان لگایا۔‘‘ یہ فعل صرف ایک اخلاقی گناہ ہی نہیں ہے جس کی سزا آخرت میں ملنے والی ہو۔ بلکہ اس آیت کا تقاضا یہ ہے کہ اسلامی ریاست کے قانون میں بھی جھوٹے الزامات لگانے یو جرم مستلزمِ سزا قرار دیا جائے۔
