Al-Anbiya' 21:48
Verse 48 of 112
وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰی وَهٰرُوْنَ الْفُرْقَانَ وَضِیَآءً وَّذِكْرًا لِّلْمُتَّقِیْنَ ۟ۙ
ترجمہ
پہلے ہم موسیٰؑ اور ہارونؑ کو فرقان اور روشنی اور ”ذکر“ عطا کر چکے ہیں اُن متقی لوگوں کی بھلائی کے لیے
English translation
Surely We had granted to Moses and Aaron the Criterion (between right and wrong), and Light and Admonition for the good of the God-fearing,
تفہیم القرآن — حواشی
- 49
یہاں سے انبیاء علیہم السّلام کا ذکر شروع ہوتا ہے اور پے در پے بہت سے انبیاء کی زندگی کے مفصل یا مختصر واقعات کی طرف اشارے کیے جاتے ہیں۔ یہ ذکر جس سیاق و سباق میں آیا ہے اُس پر غور کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس سے حسب ِ ذیل باتیں ذہن نشین کرنی مقصود ہیں:اوّل یہ کہ تمام پچھلے انبیاء بھی بشر ہی تھے، کوئی نِرالی مخلوق نہ تھے۔ تاریخ میں یہ کوئی نیا واقعہ آج پہلی مرتبہ ہی پیش تھا اور یہی ان کی تعلیم تھی۔دوم یہ کہ پہلے انبیاء بھی اسی کام کے لیے آئے تھے جو کام اب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کر رہے ہیں۔ یہی ان کا مشن تھا اور یہی ان کی تعلیم تھی۔سوم یہ کہ انبیاء علیہم السّلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا خاص معاملہ رہا ہے ۔ بڑے بڑے مصائب سے رہ گزرے ہیں ۔ سالہا سال مصاءً میں مبتلا رہے ہیں۔ شخصی اور ذاتی مصائب میں بھی اور اپنے مخالفوں کے ڈالے ہوئے مصائب میں بھی، مگر آخر کار اللہ کی نصرت و تائید ان کو حاصل ہوئی ہے ، اس نے اپنے فضل و رحمت سے اُن کو نوازا ہے، ان کی دعاؤں کو قبول کیا ہے، ان کی تکلیفوں کو رفع کیا ہے ، ان کے مخالفوں کو نیچا دکھایا ہے، اور معجزانہ طریقوں پر ان کی مدد کی ہے۔چہارم یہ کہ اللہ تعالیٰ کے محبوب اور مقبول ِ بارگاہ ہونے کے باوجود ، اور اس کی طرف سے بڑی بڑی حیرت انگیز طاقتیں پانے کے باوجود، تھے وہ بندے اور بشر ہی۔ الوہیّت ان میں سے کسی کو حاصل نہ تھی۔ رائے اور فیصلے میں ان سے غلطی بھی ہو جاتی تھی۔ بیمار بھی وہ ہوتے تھے۔ آزمائشوں میں بھی ڈالے جاتے تھے ۔ حتّٰی کہ قصور بھی ان سے ہو جاتے تھے اور ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مواخذہ بھی ہوتا تھا۔
- 50
تینوں الفاظ توراۃ کی تعریف میں استعمال ہوئے ہیں ۔ یعنی وہ حق و باطل کافرق دکھانے والی کسوٹی تھی، وہ انسان کو زندگی کا سیدھا راستہ دکھانے والی روشنی تھی، اور وہ اولادِ آدم کو اس کا بھُولا ہوا سبق یاد دلانے والی نصیحت تھی۔
- 51
یعنی اگرچہ بھیجی گئی تھی وہ تمام انسانوں کے لیے، مگر اس سے فائدہ عملًا وہی لوگ اُٹھا سکتے تھے جو اِن صفات سے متصف ہوں۔
