Al-Anbiya' 21:35
Verse 35 of 112
كُلُّ نَفْسٍ ذَآىِٕقَةُ الْمَوْتِ ؕ وَنَبْلُوْكُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَیْرِ فِتْنَةً ؕ وَاِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ ۟
ترجمہ
ہر جاندار کو موت کا مزّہ چکھنا ہے، اور ہم اچھے اور بُرے حالات میں ڈال کر تم سب کی آزمائش کر رہے ہیں۔ آخر کار تمہیں ہماری ہی طرف پلٹنا ہے
English translation
Every living being shall taste death and We shall subject you to ill and good by way of trial, and to Us shall all of you be eventually sent back.
تفہیم القرآن — حواشی
- 37
یہ مختصر جواب ہے اُن ساری دھمکیوں اور بددعاؤں اور کوسنوں اور قتل کی سازشوں کا جن سے ہر وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تواضع کی جاتی تھی۔ ایک طرف اکابرِ قریش تھے جو آئے دن آپ کو اِس تبلیغ کے خوفناک نتائج کی دھمکیاں دیتے رہتے تھے، اور ان میں سے بعض پُر جوش مخالفین بیٹھ بیٹھ کر یہ تک سوچا کرتے تھے کہ کسی طرح آپ کا کام تمام کر دیں۔ دوسری طرف ہر وہ گھر جس کا کوئی فرد اسلام قبول کر لیتا تھا، آپ کا دشمن بن جاتا تھا۔ اُس کی عورتیں آپ کو کلپ کلپ کر کوسنے اور بددعائیں دیتی تھیں اور اُس کے مرد آپ کو ڈراوے دیتے پھرتے تھے۔ خصوصًا ہجرت حبشہ کے بعد تو مکے بھر کے گھروں میں کہرام مچ گیا تھا ، کیونکہ مشکل ہی سے کوئی ایسا گھرانا بچا رہ گیا تھا جس کے کسی لڑکے یا لڑکی نے ہجرت نہ کی ہو۔ یہ سب لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی دوہائیاں دیتے تھے کہ اِس شخص نے ہمارے گھر برباد کیے ہیں۔ انہی باتوں کا جواب اس آیت میں دیا گیا ہے ، اور ساتھ ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تلقین کی گئی ہے کہ تم ان کی پروا کیے بغیر، بے خوف اپنا کام کیے جاؤ۔
- 38
یعنی راحت اور رنج ، مفلسی اور امیری، غلبہ اور مغلوبی، قوت اورضعف، صحت اور بیماری ، غرض تمام مختلف حالات میں تم لوگوں کی آزمائش کی جارہی ہے ، تاکہ دیکھیں تم اچھے حالات میں متکبّر، ظالم ، خدا فراموش، بندۂ نفس تو نہیں بن جاتے ، اور بُرے حالات میں کم ہمتی کے ساتھ پست اور ذلیل طریقے اور ناجائز راستے تو اختیار نہیں کرنے لگتے۔ لہٰذا کسی صاحبِ عقل آدمی کو اِن مختلف حالات کو سمجھنے میں غلطی نہیں کرنی چاہیے۔ جو حالت بھی اُسے پیش آئے ، اُس کے امتحانی اور آزمائشی پہلو کو نگاہ میں رکھنا چاہیے اور اس سے بخیریت گزرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ صرف ایک احمق اور کم ظرف آدمی کا کام ہے کہ جب اچھے حالات آئیں تو فرعون بن جائے اور جب بُرے حالات پیش آجائیں تو زمین پر ناک رگڑنے لگے۔
