Al-Baqarah 2:265
Verse 265 of 286
وَمَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ وَتَثْبِیْتًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍ بِرَبْوَةٍ اَصَابَهَا وَابِلٌ فَاٰتَتْ اُكُلَهَا ضِعْفَیْنِ ۚ فَاِنْ لَّمْ یُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ ؕ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ ۟
ترجمہ
بخلاف اس کے جو لوگ اپنے مال محض اللہ کی رضا جوئی کے لیے دل کے پورے ثبات و قرار کے ساتھ خرچ کرتے ہیں، ان کےخرچ کی مثال ایسی ہے، جیسے کسی سطح مرتفع پر ایک باغ ہو۔ اگر زور کی بارش ہو جائے تو دوگنا پھل لائے، اور اگر زور کی بارش نہ بھی ہو تو ایک ہلکی پھوارہی اس کے لیے کافی ہو جائے۔ تم جو کچھ کرتے ہو ، سب اللہ کی نظر میں ہے
English translation
The example of those who spend their wealth single-mindedly to please Allah is that of a garden on a high ground. If a heavy rain smites it, it brings forth its fruits twofold, and if there is no heavy rain, even a light shower suffices it. Allah sees all that you do.
تفہیم القرآن — حواشی
- 306
”زور کی بارش“ سے مراد وہ خیرات ہے ، جو انتہائی جذبہء خیر اور کمال درجے کی نیک نیتی کے ساتھ کی جائے۔اور ایک ہلکی پھوار سے مراد ایسی خیرات ہے ، جس کے اندر جذبہء خیر کی شدّت نہ ہو۔
