Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Al-Baqarah 2:266

Verse 266 of 286

اَیَوَدُّ اَحَدُكُمْ اَنْ تَكُوْنَ لَهٗ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّاَعْنَابٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ ۙ لَهٗ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ ۙ وَاَصَابَهُ الْكِبَرُ وَلَهٗ ذُرِّیَّةٌ ضُعَفَآءُ ۪ۖ فَاَصَابَهَاۤ اِعْصَارٌ فِیْهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ ۟۠

ترجمہ

کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے پاس ایک ہرا بھرا باغ ہو، نہروں سے سیراب، کھجوروں اور انگوروں اور ہر قسم کے پھلوں سے لدا ہوا ہو، اور وہ عین اس وقت ایک تیز بھگولے کی زد میں آکر جھلس جائے، جبکہ وہ خود بوڑھا ہو اور اس کے کمسن بچے ابھی کسی لائق نہ ہوں؟ اس طرح اللہ اپنی باتیں تمہارے سامنے بیان کرتا ہے، شاید کہ تم غور وفکر کرو

English translation

Would any of you desire that he should have a garden of palms and vines with rivers flowing beneath it – a garden in which he has every manner of fruit – and that it should then be struck by a fiery whirlwind and be utterly burnt down at a time when old age has overtaken him, and his offspring are still too small to look after their affairs? Thus does Allah make His teachings clear to you that you may reflect.

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 307

    یعنی اگر تم یہ پسند کرتے  کہ تمہاری عمر بھر کی کمائی  ایک یسے نازک موقع پر تباہ ہوجائے، جبکہ تم اُس سے فائدہ اُٹھانے کے سب سے زیادہ محتاج ہو اور  ازسرِ نو کما ئی کرنے کا موقع بھی باقی نہ رہا ہو، تو یہ بات تم کیسے پسند کر رہے ہو کہ دُنیا میں مدّت العمر کام   کرنے کے بعد آخرت کی زندگی میں تم اِس طرح قدم رکھو کہ وہاں پہنچ کر یکایک تمہیں معلوم ہو کہ تمہارا پُورا کارنامہء حیات یہاں کوئی قیمت نہیں رکھتا، جو کچھ تم نے دُنیا کے لیے کماتا تھا، وہ دُنیا ہی میں رہ گیا، آخرت کے لیے کچھ کما کر لائے ہی نہیں کہ یہاں اُس کے پھل کھا سکو۔ وہاں تمہیں اس کا کوئی موقع نہ ملے گا کہ ازسرِ نو اب آخرت کے لیے کمائی کرو۔ آخرت کے لیے کام کرنے کا جو کچھ بھی موقع ہے، اِسی دُنیا میں ہے۔ یہاں اگر تم آخرت کی فکر کیے بغیر ساری عمر دُنیا ہی کی دُھن میں لگے رہے اور اپنی تمام قوتیں اور کوششیں دُنیوی فائدے تلاش کرنے ہی میں کھپاتے رہے ، تو آفتابِ زندگی کے غروب ہونے پر تمہاری حالت بعینہ١اُس بڈھے کی طرح حسرت ناک ہوگی، جس کی عمر بھر کی کمائی اور جس کی زندگی کا سہارا ایک باغ تھا اور وہ باغ عین عالمِ پیری میں اُس وقت جل گیا، جبکہ نہ وہ خود نئے سرے سے باغ لگا سکتا ہے اور نہ اُس کی اولاد ہی اس قابل ہے کہ اس کی مدد کر سکے۔

Al-Baqarah 2:266 — Translation & Tafsir | Read Maududi