بیسویں صدی کے اُس تاریخی اور فکری بحران میں، جب امتِ مسلمہ سیاسی ذلت، اخلاقی انحطاط اور فکری الجھاؤ کا شکار تھی، اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے چند عظیم شخصیات کو جلا دیا، جن میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا نام سرِ فہرست آتا ہے۔ ان کی تحریریں، خصوصاً خطوط، نہ صرف ان کی ذاتی شخصیت کا آئینہ ہیں بلکہ اسلامی احیا کے اس عظیم فکری و عملی منصوبے کی زندہ تصویر پیش کرتی ہیں جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو نئی سوچ، نئی جہت اور نئی ذمہ دار…