Sad 38:6
Verse 6 of 88
وَانْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ اَنِ امْشُوْا وَاصْبِرُوْا عَلٰۤی اٰلِهَتِكُمْ ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ یُّرَادُ ۟ۖۚ
ترجمہ
اور سردارانِ قوم یہ کہتے ہوئے نِکل گئے کہ ”چلو اور ڈٹے رہو اپنے معبُودوں کی عبادت پر۔ یہ بات تو کسی اور ہی غرض سے کہی جارہی ہے۔
English translation
And the elders among them went forth saying: “Go ahead and be steadfast in adhering to your deities. What is being said is with a design.”
تفہیم القرآن — حواشی
- 6
اشارہ ہے ان سرداروں کی طرف جو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بات سن کر اب طالب کی مجلس سے اٹھ گئے تھے ۔
- 7
یعنی حضورؐ کا یہ کہنا کہ کلمہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ کے قائل ہو جاؤ تو عرب و عجم سب تمہارے تابع فرمان ہو جائیں گے ۔
- 8
ان مطلب یہ تھا کہ اس دال میں کچھ کالا نظر آتا ہے ، دراصل یہ دعوت اس غرض سے دی جا رہی ہے کہ ہم محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) کے تابع فرمان ہو جائیں اور یہ ہم پر اپنا حکم چلائیں ۔
