یہ مضمون دراصل مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کا ایک اداریہ ہے جو ستمبر 1939ء میں ترجمان القرآن کے لیے لکھا گیا تھا، جب دنیا جنگ عظیم ثانی کے آغاز کے ہولناک سائے میں داخل ہو رہی تھی۔ حکومت پنجاب نے اس وقت اس اداریے کی اشاعت کی اجازت نہ دی، کیونکہ اس میں مغربی اقوام پر شدید تنقید کی گئی تھی۔ چنانچہ یہ تحریر انیس سال تک ترجمان القرآن کی فائلز میں محفوظ رہی اور بالآخر فروری 1958ء میں شائع ہو سکی۔ اس تحریر کا بنیادی مقصد مغربی تمدن…