مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "کیشِ مرداں نہ کہ مذہبِ گوسفنداں" ایک ایسی تحریر ہے جو مسلمانوں کے سامنے موجودہ دور کے حقائق کو بے نقاب کرتی ہے اور ان کی ذہنی غلامی، عملی بے بسی اور فکری تضاد کو بے دردی سے اُجاگر کرتی ہے۔ یہ کتاب محض معاشی مسائل—خاص طور پر سود کے مسئلے—تک محدود نہیں رہتی، بلکہ اس کا دائرہ وسیع ہے اور وہ تمام شعبۂ حیات کو اپنی گرفت میں لیتی ہے جہاں مسلمانوں نے اسلامی نظامِ زندگی کو چھوڑ کر غیر اسلامی روایا…