مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی یہ تحریر، جو اصل میں مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ کی مجلسِ اصلاحِ نصابِ دینیات کے استفسار کے جواب میں مرتب کی گئی تھی، دراصل تمام مسلمان تعلیمی اداروں کے لیے ایک جامع اور فوری ضرورت کا اعلان ہے۔ مولانا واضح الفاظ میں کہتے ہیں کہ موجودہ تعلیمی نظام—چاہے وہ علی گڑھ ہو، دیوبند ہو، ندوۃالعلماء ہو یا جامعہ ملیہ—اب زائد المیعاد ہو چکا ہے، اور اگر ان اداروں نے اپنی تعلیمی پالیسی پر نظرثانی نہ کی تو وہ اپنی…