اس کتاب میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے ایک انتہائی اہم اور وقتی موضوع پر روشنی ڈالی ہے: تہذیبی کشمکش کے دوران علم و تحقیق کا کردار۔ مولانا کا بنیادی دعویٰ یہ ہے کہ کسی بھی قوم کی تہذیبی زندگی، اس کی فکری خودمختاری اور ثقافتی انفرادیت صرف اسی صورت باقی رہ سکتی ہے جب وہ علم حاصل کرنے، تحقیق کرنے اور معلومات کو اپنے نقطۂ نظر سے مرتب کرنے کا عمل جاری رکھے۔ اگر کوئی قوم اس عمل سے دستبردار ہوجائے تو وہ جمود کا شکار ہوجاتی ہے، ج…