At-Tawbah 9:3
Verse 3 of 129
وَاَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖۤ اِلَی النَّاسِ یَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ اَنَّ اللّٰهَ بَرِیْٓءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ ۙ۬ وَرَسُوْلُهٗ ؕ فَاِنْ تُبْتُمْ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ ۚ وَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ ؕ وَبَشِّرِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ۟ۙ
ترجمہ
اطلاعِ عام ہے اللہ اور کے رسول ؐ کی طرف سے حجِ اکبر کے دن تمام لوگوں کے لیے کہ اللہ مشرکین سے بری الذمّہ ہے اور اُس کا رسول ؐ بھی۔ اب اگر تم لوگ توبہ کر لو تو تمہارے ہی لیے بہتر ہے اور جو منہ پھیرتے ہو تو خوب سمجھ لو کہ تم اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں ہو۔ اور اے نبی ؐ ، انکار کرنے والوں کو سخت عذاب کی خوشخبری سُنا دو
English translation
[9:3] This is a public proclamation by Allah and His Messenger to all people on the day of the Great Pilgrimage: "Allah is free from all obligation to those who associate others with Allah in His Divinity; and so is His Messenger. If you repent, it shall be for your own good; but if you turn away, then know well that you will not be able to frustrate Allah. So give glad tidings of a painful chastisement to those who disbelieve.
تفہیم القرآن — حواشی
- 4
یعنی 1۰ ذی الحجہ جسے یو م النحر کہتے ہیں۔ حدیث صحیح میں آیا ہے کہ حجۃ الوداع میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے حاضرین سے پوچھا یہ کونسا دین ہے؟ لوگوں نے عرض کیا یوم النحر ہے۔ فرمایا ھٰذا یوم الحج الاکبر۔” یہ حج اکبر کا دن ہے“۔ حج اکبر کا لفظ حج اصغر کے مقابلہ میں ہے۔ اہلِ عرب عمرے کو چھوٹا حج کہتے ہیں۔ اس کے مقابلہ میں وہ حج جو ذوالحجہ کی مقرر ہ تاریخوں میں کیا جاتا ہے، وہ حج اکبر کہلاتا ہے۔
