Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

At-Tawbah 9:28

Verse 28 of 129

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا ۚ وَاِنْ خِفْتُمْ عَیْلَةً فَسَوْفَ یُغْنِیْكُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۤ اِنْ شَآءَ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ ۟

ترجمہ

اے ایمان لانے والو، مشرکین ناپاک ہیں لہٰذا اس سال کے بعد یہ مسجدِ حرام کے قریب نہ پھٹکنے پائیں۔ اور اگر تمہیں تنگ دستی کا خوف ہے تو بعید نہیں کہ اللہ چاہے تو تمہیں اپنے فضل سے غنی کر دے، اللہ علیم و حکیم ہے

English translation

[9:28] Believers, those who associate others with Allah in His Divinity are unclean. So, after the expiry of this year, let them not even go near the Sacred Mosque. And should you fear poverty, Allah will enrich you out of His bounty, if He wills. Surely Allah is All-Knowing, All-Wise.

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 25

    یعنی آئندہ کےلیے ان کا حج اور ان کی زیارت ہی بند نہیں بلکہ مسجد حرام کے حدود میں ان کا داخلہ بھی بند ہے تاکہ شرک و جاہلیت کے اعادہ کا کوئی امکان باقی نہ رہے۔”ناپاک“ ہونے سے مراد یہ نہیں ہے کہ وہ بذاتِ خود ناپاک ہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے اعتقادات ، ان کے اخلاق، ان کے اعمال اور ان کے جاہلانہ طریق ِ زندگی ناپاک ہیں اور اسی نجاست کی بنا پر حدود ِحرم میں ان کا داخلہ بند کیا گیا ہے۔ امام ابو حنیفہ  کے نزدیک اس سے مراد صرف یہ ہے کہ وہ حج اور عمرہ اور مراسم جاہلیت ادا کرنے کے لیے حدود حرم میں نہیں جا سکتے۔ امام شافعی کے نزدیک اس حکم کا منشا یہ ہے کہ یہ مسجد حرام میں جاہی نہیں سکتے۔ اور امام مالک یہ رائے رکھتے ہیں کہ صرف مسجد حرام ہی نہیں بلکہ کسی مسجد میں بھی ان کا داخل ہونا درست نہیں۔ لیکن یہ آخری رائے درست نہیں ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود مسجد نبوی میں ان لوگوں کو آنے کی اجازت دی تھی۔

At-Tawbah 9:28 — Translation & Tafsir | Read Maududi