Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

At-Tawbah 9:117

Verse 117 of 129

لَقَدْ تَّابَ اللّٰهُ عَلَی النَّبِیِّ وَالْمُهٰجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ فِیْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْ بَعْدِ مَا كَادَ یَزِیْغُ قُلُوْبُ فَرِیْقٍ مِّنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ ؕ اِنَّهٗ بِهِمْ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ ۟ۙ

ترجمہ

اللہ نے معاف کر دیا نبی کو اور اُن مہاجرین و انصار کو جنہوں نے بڑی تنگی کے وقت میں نبی ؐ کا ساتھ دیا۔ اگرچہ اُن میں سے کچھ لوگوں کے دل کَجی کی طرف مائل ہو چلے تھے، (مگر جب اُنہوں نے اُس کجی کا اتباع نہ کیا بلکہ نبی ؐ کا ساتھ ہی دیا تو ) اللہ نے اُنہیں معاف کر دیا ، بےشک اُس کا معاملہ ان لوگوں کے ساتھ شفقت و مہربانی کا ہے

English translation

[9:117] Surely Allah has relented towards the Prophet, and towards the Muhajirun (Emigrants) and the Ansar (Helpers) who stood by him in the hour of hardship, although the hearts of a party of them had well-nigh swerved. (But when they gave up swerving from the Right Course and followed the Prophet), Allah relented towards them. Surely to them He is the Most Tender, the Most Merciful.

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 115

    یعنی غزوۂ تبوک کے سلسلہ میں جو چھوٹی چھوٹی لغزشیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ سے ہوئیں ان سب کو اللہ نے ان کی اعلیٰ خدمات کا لحاظ کرتے ہوئے معاف فرما دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو لغزش ہوئی تھی اس کا ذکر آیت 43 میں گزر چکا ہے ، یعنی یہ کہ جن لوگوں نے استطاعت رکھنے کے باوجود جنگ سے پیچھے رہ جانے کی اجازت مانگی تھی ان کو آپ ؐ نے  اجادت دے دی تھی۔

  2. 116

    یعنی بعض مخلص صحابہ بھی اس سخت وقت میں جنگ پر جانے سے کسی نہ کسی حد تک جی چرانے لگے تھے، مگر چونکہ ان کے دلوں میں ایمان تھا اور وہ سچے  دل سے دینِ حق کے ساتھ محبت رکھتے تھے اس لیے آخر کار وہ اپنی اس کمزوری پر غالب آگئے۔

  3. 117

    یعنی اب اللہ اس بات پر ان سے مؤاخذہ نہ کرے گا کہ ان کے دلوں میں کجی کی طرف یہ میلان کیوں پیدا ہوا تھا۔ اس لیے کہ اللہ اُس کمزوری پر گرفت  نہیں کرتا جس کی انسان نے خود اصلاح کر لی ہو۔

At-Tawbah 9:117 — Translation & Tafsir | Read Maududi