Al-Anfal 8:8
Verse 8 of 75
لِیُحِقَّ الْحَقَّ وَیُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ ۟ۚ
ترجمہ
تاکہ حق حق ہو کر رہے اور باطِل باطِل ہو کر رہ جائے خواہ مجرموں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔
English translation
that He might prove the truth to be true and the false to be false, however averse the evil-doers might be to it.
تفہیم القرآن — حواشی
- 7
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت فی الواقع صورت حال کیا رونما ہوگئی تھی۔ جیسا کہ ہم نے سورہ کے دیباچہ میں بیا ن کیا ہے، لشکر قریش کے نکل آنے سے دراصل سوال یہ پیدا ہو گیا تھا کہ دعوتِ اسلامی اور نظام جاہلیت دونوں میں سے کس کو عرب میں زندہ رہنا ہے۔ اگر مسلمان اس وقت مردانہ وار مقابلہ کے لیے نہ نکلتے تو اسلام کے لیے زندگی کا کوئی موقع باقی نہ رہتا ۔ بخلاف اس کے مسلمانوں کے نکلنے اور پہلے ہی بھر پور وار میں قریش کی طاقت پر کاری چوٹ لگا دینے سے وہ حالات پیدا ہوئے جن کی بدولت اسلام کو قدم جمانے کا موقع مل گیا اور پھر اس کے مقابلہ میں نظام جا ہلیت پیہم شکست کھاتا ہی چلا گیا۔
