Al-Anfal 8:42
Verse 42 of 75
اِذْ اَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْیَا وَهُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوٰی وَالرَّكْبُ اَسْفَلَ مِنْكُمْ ؕ وَلَوْ تَوَاعَدْتُّمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِی الْمِیْعٰدِ ۙ وَلٰكِنْ لِّیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا ۙ۬ لِّیَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَیِّنَةٍ وَّیَحْیٰی مَنْ حَیَّ عَنْ بَیِّنَةٍ ؕ وَاِنَّ اللّٰهَ لَسَمِیْعٌ عَلِیْمٌ ۟ۙ
ترجمہ
یاد کرو وہ وقت جبکہ تم وادی کے اِس جانب تھے اور وہ دُوسری جانب پڑاوٴ ڈالے ہوئے تھے اور قافلہ تم سے نیچے (ساحل ) کی طرف تھا۔ اگر کہیں پہلے سے تمہارے اور ان کے درمیان مقابلہ کی قرار داد ہو چکی ہوتی تو تم ضرور اس موقع پر پہلو تہی کرجاتے، لیکن جو کچھ پیش آیا وہ اس لیے تھا کہ جس بات کا فیصلہ اللہ کر چکا تھا اسے ظہور میں لے آئے تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیلِ روشن کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیلِ روشن کے ساتھ زندہ رہے، یقیناً خدا سُننے اور جاننے والا ہے۔
English translation
And recall when you were encamped at the nearer end of the valley (of Badr) and they were at the farther end and the caravan below you (along the seaside). Had you made a mutual appointment to meet in encounter, you would have declined. But encounter was brought about so that Allah might accomplish what He had decreed, and that he who was to perish should perish through a clear proof, and who was to survive might survive through a clear proof. Surely Allah is All-Hearing, All-Knowing.
تفہیم القرآن — حواشی
- 34
یعنی ثابت ہو جائے کہ جو زندہ رہا اسے زندہ ہی رہنا چاہیے تھا اور جو ہلاک ہوا اسے ہلاک ہی ہونا چاہیے تھا۔ یہاں زندہ رہنے والے اور ہلاک ہونے والے سے مراد افراد نہیں ہیں بلکہ اسلام اور جاہلیت ہیں۔
- 35
یعنی خدا اندھا، بہرا، بے خبر خدا نہیں ہے بلکہ دانا و بینا ہے ۔ اس کی خدا ئی میں اندھا دُھند کام نہیں ہو رہا ہے۔
