Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Al-Anfal 8:11

Verse 11 of 75

اِذْ یُغَشِّیْكُمُ النُّعَاسَ اَمَنَةً مِّنْهُ وَیُنَزِّلُ عَلَیْكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً لِّیُطَهِّرَكُمْ بِهٖ وَیُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّیْطٰنِ وَلِیَرْبِطَ عَلٰی قُلُوْبِكُمْ وَیُثَبِّتَ بِهِ الْاَقْدَامَ ۟ؕ

ترجمہ

اور وہ وقت جبکہ اللہ اپنی طرف سے غنودگی کی شکل میں تم پر اطمینان و بے خوفی کی کیفیت طاری کر رہا تھا، اور آسمان سے تمہارے اوپر پانی برسا رہا تھا تاکہ تمہیں پاک کرے اور تم سے شیطان کی ڈالی ہوئی نجاست دُور کرے اور تمہاری ہمّت بندھائے اور اس کے ذریعہ سے تمہارے قدم جمادے۔

English translation

And recall when Allah brought on you drowsiness, giving you a feeling of peace and security from Him, and He sent down rain upon you from the sky that He might cleanse you through it and take away from you the pollution of Satan and strengthen your hearts, and steady your feet through it.

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 8

    یہی تجربہ مسلمانوں کو اُحد کی جنگ میں پیش آیا جیسا کہ سورہ آل عمران آیت ١54 میں گزر چکا ہے۔ اور دونوں مواقع پر وجہ ویہ ایک تھی کہ جو موقع شدت خوف اور گھبراہٹ کا تھا اس وقت اللہ نے مسلمانوں کے دلوں کو ایسے اطمینان سے بھر دیا کہ ان پر غنودگی طاری ہونے لگی۔

  2. 9

    یہ اُس رات کا واقعہ ہے  جس کی صبح کو بدر کی لڑائی پیش آئی۔ اس بارش کے تین فائدے ہوئے۔ ایک یہ کہ مسلمانوں کو پانی کا کافی مقدار مل گئی اور انہوں نے فوراً حوض بنا بنا کر بارش کا پانی روک لیا۔ دوسرے  یہ کہ مسلمان چونکہ وادی کے بالائی حصے پر تھے اس لیے بارش کی وجہ سے ریت جم گئی اور زمین اتنی مضبوط ہو گئی کہ قدم اچھی طرح جم سکیں اور نقل و حرکت بآسانی ہو سکے۔ تیسرے یہ کہ لشکر  کفار نشیب کی جانب تھا اس لیے وہاں اس بارش کی بدولت کیچڑ ہو گئی اور  پاؤں دھنسنے لگے۔                 شیطان کی ڈالی ہوئی نجاست سے مراد وہ ہر اس اور گھبراہٹ کی کیفیت تھی جس میں مسلمان ابتداءً مبتلا تھے۔

Al-Anfal 8:11 — Translation & Tafsir | Read Maududi