Al-Jinn 72:27
Verse 27 of 28
اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ یَسْلُكُ مِنْ بَیْنِ یَدَیْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًا ۟ۙ
ترجمہ
سوائے اُس رسُول کے جسے اُس نے (غیب کا کوئی علم دینے کے لیے) پسند کر لیا ہو، تو اُس کے آگے اور پیچھے وہ محافظ لگا دیتا ہے۔
English translation
other than to a Messenger whom He chooses (for the bestowal of any part of the knowledge of the Unseen), whereafter He appoints guards who go before him and behind him,
تفہیم القرآن — حواشی
- 27
یعنی رسول بجائے خود عالم الغیب نہیں ہوتا کہ بلکہ اللہ تعالیٰ جب اس کورسالت کا فریضہ انجام دینے کے لیے منتخب فرماتا ہے تو غیب کے حقائق میں سے جن چیزوں کا علم وہ چاہتا ہے اسے عطا فرمادیتا ہے۔
- 28
محافظوں سے مرد فرستے ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعہ سے غیب کےحقائق کا علم رسول کے پاس بھیجتا ہے تو اس کی نگہبانی کرنے کے لیے ہر طرف فرشتے مقرر کر دیتا ہے تا کہ وہ علم نہایت محفوظ طریقے سے رسول تک پہنچ جائے اور اس میں کسی قسم کی آمیزش نہ ہونے پائے۔ یہ وہی بات ہے جو اوپر آیات 8 ۔9 میں بیان ہوئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد جِنوں نے اپنے لیے عالمِ بالا تک رسائی کے تمام دروازے بند پائے اور انہوں نے دیکھا کہ سخت چوکی پہرے لگ گئے ہیں جن کے باعث کہیں ذا سی سُن گُن لینے کا موقع بھی اُن کو نہیں ملتا ۔
