Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Al-Jinn

سورة الجن

(72:1)

قُلْ اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوْۤا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًا 

اے نبیؐ ، کہو، میری طرف وحی بھیجی  گئی ہے کہ جِنّوں کے ایک گروہ نے غور سے سُنا1 پھر (جا کر  اپنی قوم کے لوگوں سے) کہا:”ہم نے ایک بڑا ہی عجیب قرآن سُنا ہے2

حاشیہ نمبر: 1

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جِن اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نظر نہیں آرہے تھے اور آپ کو یہ معلوم نہ تھا کہ وہ قرآن سن رہے ہیں، بلکہ بعد میں وحی کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کواس واقعہ کی خبر دی۔ حضرت عبداللہ بن عباس بھی اِس قصّے کو بیان کرتے  ہوئے صراحت فرماتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جِنوں کے سامنے قرآن نہیں پڑھا تھا، نہ آپ نے ان کو دیکھا تھا “(مسلم ۔ ترمذی۔ مُسند احمد۔ ابنِ جریر)۔

حاشیہ نمبر: 2

اصل الفاظ میں قُرُاٰناً عَجَبًا۔ قرآن کے معنی ہیں۔”پڑھی جانے والی چیز“اور یہ لفظ غالبًا جِنوں نے اِسی معنی میں ا ستعمال کیا ہوگا کیونکہ وہ پہلی مرتبہ اس کلام سے متعارف ہوئے تھے اور شاید اُس وقت اُن کو یہ معلوم نہ ہوگا کہ جو چیز وہ سُن رہے ہیں اس کا نام قرآن ہی ہے۔ عَجَب مبالغہ کا صیغہ ہے اور یہ لفظ عربی زبان میں بہت زیادہ حیرت انگیز چیز کے لیے بولا جاتا ہے۔ پس جِنوں کے قول کا مطلب یہ ہے کہ ہم ایک ایسا کلام سُن کر آئے ہیں جو اپنی زبان اور اپنے مضامین کے اعتبار سے بے نظیر ہے۔           اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جِن نہ صرف یہ کہ انسانوں کی باتیں سنتے ہیں بلکہ ان کی زبان بخوبی سمجھتے بھی ہیں۔ اگر چہ یہ ضروری نہیں ہے کہ تمام جِن تمام انسانی زبانیں جانتے ہوں۔ ممکن ہے کہ اُن میں سے جو گروہ زمین کے جس علاقے میں رہتے ہوں اُسی علاقے کے لوگوں کی زبان سے وہ واقف ہوں۔ لیکن قرآن کے اِس بیان سے بہر حال یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جِن جنہوں نے اُس وقت قرآن سنا تھا وہ عربی زبان اتنی اچھی جانتے تھے کہ انہوں نے اِس کلام کی بے مثل بلاغت کو بھی محسوس کیا اور اُس کے بلند پا یہ مضامین کو بھی خوب سمجھ لیا۔  

(72:2)

یَّهْدِیْۤ اِلَی الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِهٖ ؕ وَلَنْ نُّشْرِكَ بِرَبِّنَاۤ اَحَدًا 

راہِ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے اِس لیے ہم اُس پر ایمان لے آئے ہیں اور اب ہم ہرگز اپنے ربّ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے۔“3

حاشیہ نمبر: 3

اس سے کئی باتیں معلوم ہوئیں۔ ایک یہ کہ جن اللہ تعالیٰ کے وجوداور اس کے رب ہونے کے منکر نہیں ہیں۔ دوسرے یہ کہ ان میں بھی مشرکین پائے جاتے ہیں جو مشرک انسانوں کی طرح اللہ کے ساتھ دوسروں کوخدائی میں شریک ٹھیراتے ہیں ، چنانچہ جِنوں کی یہ قوم جس کے افراد قرآن سُن کر گئے تھے مُشرک ہی تھی۔تیسرے یہ کہ نبوت اور کتبِ آسمانی کے نزول کا سلسلہ جِنوں کے ہاں جاری نہیں ہوا ہے، بلکہ ان میں سے جو جِن بھی ایمان لاتے ہیں وہ انسانوں میں آنے والے انبیاء اور ان کی لائی ہوئی کتابوں پر ہی ایمان لاتے ہیں۔ یہی بات سورہ احقاف آیات29۔31 سے بھی معلوم ہوتی ہے جن میں بتایاگیا ہے کہ وہ جِن جنہوں نے اُس وقت قرآن سُنا تھا، حضرت موسیٰ کے پیرووں میں سے تھے اور انہوں نے قرآن سُننے کے بعد اپنی قوم کو دعوت دی تھی کہ اب جو کلام خدا کی  طرف سے پچھلی کتبِ آسمانی کی تصدیق کرتا ہوا آیا ہے اُس پر ایمان لاؤ۔ سورہ رحمان بھی اِسی بات پر دلالت کرتی ہے، کیونکہ اس کا پُورا مضمون ہی یہ ظاہر کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مخاطب انسان اور جِن دونوں ہیں۔

(72:3)

وَّاَنَّهٗ تَعٰلٰی جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَّلَا وَلَدًا 

اور یہ کہ”ہمارے ربّ کی شان بہت اعلیٰ و ارفع ہے ، اُس نے کسی کو بیوی یا بیٹا نہیں بنایا ہے۔“4

حاشیہ نمبر: 4

اِس سے دو باتیں معلوم ہوئیں۔ ایک یہ کہ یہ جِن یا تو عیسائی جِنوں میں سے تھے، یا ان کا کوئی اور مذہب تھا جس میں اللہ تعالیٰ کو بیوی بچوں والا سمجھا جاتا تھا۔ دوسرے یہ کہ اُس وقت رسول اللہ علیہ وسلم نماز میں قرآن پاک کا کوئی ایسا حصّہ پڑھ رہے تھے جسے سُن کر ان کو اپنے عقیدے کی غلطی معلوم ہوگئی اور انہوں نے یہ جان لیا کہ اللہ تعالیٰ کی بلند و برتر ذات کی طرف بیوی بچوں کو منسوب کرنا سخت جہالت اور گستاخی ہے۔

(72:4)

وَّاَنَّهٗ كَانَ یَقُوْلُ سَفِیْهُنَا عَلَی اللّٰهِ شَطَطًا 

اور یہ کہ”ہمارےنادان لوگ5 اللہ کے بارے میں بہت خلافِ حق باتیں کہتے رہے ہیں۔“

حاشیہ نمبر: 5

اصل میں لفظ سَفِیْھُنَا استعمال کیا گیا ہے جو ک فرد کے لیے بھی  بولا جا سکتا ہے اور ایک گروہ کے لیے بھی۔اگر اسے ایک نادان فرد کے معنی میں لیا جائے تو مراد ابلیس ہو گا۔ اور اگر ایک گروہ کے  معنی میں لیا جائے تو مطلب یہ ہو گا کہ جِنوں میں  بہت سے احمق اور بے عقل لوگ ایسی باتیں کہتے تھے۔

(72:5)

وَّاَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ تَقُوْلَ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَی اللّٰهِ كَذِبًا 

اور یہ کہ ”ہم نے سمجھا تھا کہ انسان اور جِن کبھی خدا کے بارے میں جھوٹ نہیں بول سکتے۔“6

حاشیہ نمبر: 6

یعنی اُن کی غلط باتوں سے ہمارے گمراہ ہونے  وجہ یہ تھی کہ ہم کبھی یہ سوچ ہی نہیں سکتے تھےکہ انسان یا جن اللہ کے بارے میں جھوٹ گھڑنے کی جرأ ت بھی  سکتے ہیں، لیکن اب یہ قرآن سُن کر ہمیں معلو م ہو گیا کہ فی الواقع وہ جھوٹے تھے۔

(72:6)

وَّاَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْهُمْ رَهَقًا 

اور یہ کہ”انسانوں میں سے کچھ لوگ جِنوں میں سے کچھ لوگوں کی پناہ مانگا کرتے تھے، اِس طرح اُنہوں نے جِنّوں کا غرور اور زیادہ بڑھا دیا۔“7

حاشیہ نمبر: 7

ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جاہلیت کے زمانے میں جب عرب کسی سُنسان وادی میں رات گزارتے تھے تو پُکار کر کہتے”ہم اِس وادی کے مالک جِن کی پناہ مانگتے ہیں“۔ عہدِ جاہلیت کی دوسری روایات میں بھی بکثرت اس بات کا ذکر ملتا ہے ۔ مثلاً اگر کسی جگہ پانی اور چارہ ختم ہو جاتا تو خانہ بدوش بدّو اپنا ایک آدمی کوئی دوسری جگہ تلاش کرنے کے لیے بھیجتے جہاں پانی اور چارہ مل سکتا ہو، پھر اُس کی نشان دہی پر جب یہ لوگ نئی جگہ پہنچتے تو وہاں اُترنے سے پہلے پکار پکار کر کہتے”کہ ہم اس وادی کے رب کی پناہ مانگتے ہیں تا کہ یہاں ہم ہر آفت سے محفوظ رہیں“۔ ان لوگوں کا عقیدہ یہ تھا کہ ہر غیر آباد جگہ کسی نہ کسی جن کے قبضے میں ہے اور اس کی پناہ مانگے بغیر وہاں کوئی ٹھیر جائے تو وہ جن یا تو خود ستا تا ہے یا دوسرے جِنوں کو ستانے دیتا ہے ۔ اسی بات کی طرف یہ ایمان لانے والے جِن اشارہ کر رہے ہیں۔ اُن کا مطلب یہ ہے کہ جب زمین کے خلیفہ انسان نے اُلٹا ہم سے ڈرنا شروع کر دیا اور خدا کو چھوڑ کر وہ ہم سے پناہ مانگنے لگا تو ہماری قوم کے لوگوں کا دماغ اور زیادہ خراب ہو گیا، ان کا کبروغرور اور کفر وظلم اور زیادہ بڑھ گیا، اور وہ گمراہی میں زیادہ جری ہو گئے۔

(72:7)

وَّاَنَّهُمْ ظَنُّوْا كَمَا ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ اَحَدًا 

اور یہ کہ”انسانوں نے بھی وہی گمان کیا جیسا تمھارا گمان تھا کہ اللہ کسی کو رسُول بنا کر نہ بھیجے گا۔“8

حاشیہ نمبر: 8

اصل الفاظ ہیں اَنْ لَّنْ یَّبْعَثَ اللہ ُ اَحَدًا۔ اِس فقرے کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک وہ جو ہم نے ترجمہ میں اختیار کیے ہیں۔ دوسرے یہ کہ ”اللہ کسی کو مرنے کے بعد دوبارہ نہ اٹھائے گا“۔ چونکہ الفاظ جامع ہیں اس لیے ان کا یہ مطلب لیا جا سکتا ہے کہ انسانوں کی طرح جِنوں میں بھی رسالت اور آخرت دونوں کا انکار پا یا جاتا تھا ۔ لیکن آگے کے مضمون کی مناسبت سے پہلا مفہوم ہی زیادہ قابلِ تر جیح ہے ، کیونکہ اس میں یہ ایمان لانے والے جِن اپنی قوم کے لوگوں کو بتاتے ہیں کہ تمہارا یہ خیال غلط نکلا کہ اللہ کسی رسول کو مبعوث کرنے والا  نہیں ہے، آسمانوں کے دروازے ہم پر اسی وجہ سے بند کیے گئے ہیں کہ اللہ نے ایک رسول بھیج دیا ہے۔

(72:8)

وَّاَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیْدًا وَّشُهُبًا 

اور یہ کہ "ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو دیکھا کہ وہ پہرے داروں سے پٹا پڑا ہے اور شہابوں کی بارش ہو رہی ہے"

(72:9)

وَّاَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ ؕ فَمَنْ یَّسْتَمِعِ الْاٰنَ یَجِدْ لَهٗ شِهَابًا رَّصَدًا 

اور یہ کہ”پہلے ہم سُن گُن لینے کے لیے آسمان میں بیٹھنے کی جگہ پالیتے تھے ، مگر اب جو چوری چھُپے سُننے کی کوشش کرتا ہے وہ اپنے لیے گھات میں ایک شہابِ ثاقب لگا ہوا پاتا ہے۔“9

حاشیہ نمبر: 9

یہ ہے وہ وجہ جس کی بنا  پر یہ جِن اِس تلاش میں نکلے تھے کہ آخر زمین پر ایسا کیا معاملہ پیش آیا ہے یا آنے والا ہے جس کی خبر وں کو محفوظ رکھنے کے لیے اس قدر سخت انتظا مات کیے گئے ہیں کہ اب ہم عالمِ بالا  میں سُن گُن لینے کا کوئی موقع نہیں پاتے اور جدھر بھی جاتے ہیں مار بگھائے جاتے ہیں۔

(72:10)

وَّاَنَّا لَا نَدْرِیْۤ اَشَرٌّ اُرِیْدَ بِمَنْ فِی الْاَرْضِ اَمْ اَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًا 

اور یہ کہ”ہماری سمجھ میں نہ آتا تھا کہ آیا زمین والوں کے ساتھ کوئی بُرا معاملہ کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے یا اُن کا ربّ اُنہیں راہِ راست دکھانا چاہتا ہے۔“10

حاشیہ نمبر: 10

اس سے معلوم ہوا کہ عالمِ بالا میں اِس قسم کے غیر معمولی انتظامات دو ہی حالتوں میں کیے جاتے تھے۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اہلِ زمین پر کوئی عذاب نازل کرنے کا فیصلہ کیا ہو اور منشائے الہیٰ یہ ہو کہ اس کے نزول سے پہلے جِن اُس کی بِھنَک پا کر اپنے دوست انسانوں کو خبردار نہ کر دیں۔ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے زمین میں کسی رسول کو مبعوث فرمایا ہو اور تحفظ کے اِن انتظامات سے مقصود یہ ہو کہ رسول کی طرف جو پیغامات بھیجے جا رہے ہیں اُن میں نہ تو شیاطین کسی قسم کی خلل اندازی کر سکیں اور نہ قبل از وقت یہ معلوم کر سکیں کہ پیغمبر کو کیا ہدایات دی جا رہی ہیں۔ پس جِنوں کے اِس قول کا مطلب یہ ہے کہ جب ہم نے اسمان میں یہ چوکی پہرے دیکھے اور شہابوں کی اِس بارش کا مشاہدہ کیا توہمیں  یہ معلوم کرنے کی فکر لاحق ہوئی کہ ان دونوں صورتوں میں سے کون سی صورت در پیش ہے۔ آیا اللہ تعالیٰ نے زمین میں کسی قوم پر یکایک عذاب نازل کر دیا ہے؟ یا کہیں کوئی رسول مبعوث ہوا ہے؟ اسی تلاش میں ہم نکلے تھے کہ ہم نے وہ حیرت انگیز کلام سنا جو راہ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور ہمیں معلوم ہو گیا کہ اللہ نے عذاب نازل نہیں کیا ہے بلکہ خلق کو راہِ راست دکھانے کے لیے ایک رسول مبعوث فرمادیا ہے(مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، الحجر، حواشی8تا 12۔جلد چہارم، الصّافّات، حا شیہ7،جلد ششم، المُلک، حاشیہ11)۔

(72:11)

وَّاَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوْنَ وَمِنَّا دُوْنَ ذٰلِكَ ؕ كُنَّا طَرَآىِٕقَ قِدَدًا 

اور یہ کہ”ہم میں سے کچھ لوگ صالح ہیں اور کچھ اس سے فرو تر ہیں، ہم مختلف طریقوں میں بٹے ہوئے ہیں۔“11

حاشیہ نمبر: 11

یعنی اخلاقی حیثیت سے بھی ہم میں اچھے اور بُرے دونوں طرح کے جِن پائے جاتے ہیں ، اور اعتقادات میں بھی ہمارا کوئی ایک مذہب نہیں ہے بلکہ ہم مختلف گروہوں میں منقسم ہیں۔ یہ بات کہہ کر یہ ایمان لانے والے جِن اپنی قوم کے جِنوں کو یہ سمجھا نا چاہتے ہیں کہ ہم راہِ راست معلوم کرنے کے یقیناً محتاج ہیں۔ اِس سے ہم بے نیاز  نہیں ہو سکتے ۔

(72:12)

وَّاَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ نُّعْجِزَ اللّٰهَ فِی الْاَرْضِ وَلَنْ نُّعْجِزَهٗ هَرَبًا 

اور یہ کہ”ہم سمجھتے تھے کہ نہ زمین میں ہم اللہ کو عاجز کر سکتے ہیں اور نہ بھاگ کر اُسے ہرا سکتے ہیں۔“12

حاشیہ نمبر: 12

مطلب یہ ہے کہ ہمارے اِسی خیال نے ہمیں نجات کی راہ دکھا دی۔ ہم چونکہ اللہ سے بے خوف نہ تھے اور ہمیں یقین تھا کہ اگر ہم نے اس کی نافرمانی کی تو اس کی گرفت سے کسی طرح بچ نہ سکیں گے، اس لیے جب وہ کلام ہم نے سُناجو اللہ تعالیٰ کی طرف سے راہِ راست بتانے آیا تھا تو ہم یہ جر أ ت نہ کر سکے کہ حق معلوم ہو جانے کے بعد بھی اُنہی عقائد پر جمے رہتے جو ہمارے نادان لوگوں نے ہم میں پھیلا رکھے تھے۔

(72:13)

وَّاَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدٰۤی اٰمَنَّا بِهٖ ؕ فَمَنْ یُّؤْمِنْ بِرَبِّهٖ فَلَا یَخَافُ بَخْسًا وَّلَا رَهَقًا 

اور یہ کہ”ہم نے جب ہدایت کی تعلیم سُنی تو ہم اس پر ایمان لے آئے۔ اب جو کوئی بھی اپنے ربّ پر ایمان لے آئے گا اسے کسی حق تلفی یا ظلم کا خوف نہ ہوگا۔“13

حاشیہ نمبر: 13

حق تلفی سے مراد  یہ ہے کہ اپنی نیکی پر وہ جتنے اجر کا مستحق ہو اُس سے کم دیا جائے۔ اور ظلم یہ ہے کہ اُسے نیکی کا کوئی اجر نہ دیا جائے او ر جو قصور اس سے سر زد ہوں ان کی زیادہ سزا دے ڈالی جائے۔ یا بلا قصور ہی کسی کو عذاب دے دیا جائے۔ کسی ایمان لانے والے کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں اِس قسم کی کسی بے انصافی کا خوف نہیں ہے۔

(72:14)

وَّاَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوْنَ وَمِنَّا الْقٰسِطُوْنَ ؕ فَمَنْ اَسْلَمَ فَاُولٰٓىِٕكَ تَحَرَّوْا رَشَدًا 

اور یہ کہ "ہم میں سے کچھ مسلم (اللہ کے اطاعت گزار) ہیں اور کچھ حق سے منحرف تو جنہوں نے اسلام (اطاعت کا راستہ) اختیار کر لیا انہوں نے نجات کی راہ ڈھونڈ لی

(72:15)

وَاَمَّا الْقٰسِطُوْنَ فَكَانُوْا لِجَهَنَّمَ حَطَبًا 

جو حق سے منحرف ہیں وہ جہنّم کا ایندھن بننے والے ہیں۔“14

حاشیہ نمبر: 14

سوال کیا جا سکتا ہے کہ قرآن کی رُو سے جن تو خود آتشیں مخلوق ہیں ، پھر جہنم کی آگ سے ان کو کیا تکلیف ہو  سکتی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن کی رُو سے تو آدمی بھی مٹی سے بنا ہے، پھر اگر اسے مٹی کا ڈھیلا کھینچ مارا جائے تو اس کو چوٹ کیوں لگتی ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ انسان کا پُورا جسم اگرچہ زمین کے مادوں سے بنا ہے، مگر جب اُن سے گوشت پوست کا زندہ انسان وجود میں آجاتا ہے تو وہ ان مادوں سے بالکل مختلف چیز بن جاتا ہے اور انہی مادوں سے بنی ہوئی دوسری چیزیں اس کے لیے اذیت کا ذریعہ بن جاتی  ہیں۔ ٹھیک اسی طرح جِن بھی اگرچہ اپنی ساخت کے اعتبار سے آتشیں مخلوق ہیں، لیکن آگ سے جب ایک زندہ اور صاحبِ احساس مخلوق وجود میں آجاتی ہے تو وہی آگ اس کے لیے تکلیف کی موجب بن جاتی ہے (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد پنجم، الرحمٰن، حاشیہ15)۔

(72:16)

وَّاَنْ لَّوِ اسْتَقَامُوْا عَلَی الطَّرِیْقَةِ لَاَسْقَیْنٰهُمْ مَّآءً غَدَقًا 

15 اور (اے نبیؐ) کہو، مجھ پر یہ وحی بھی کی گئی ہے کہ) لوگ اگر راہِ راست پر ثابت قدمی سے چلتے تو ہم اُنہیں خوب سیراب کرتے،16

حاشیہ نمبر: 15

pاوپر جِنوں کی بات ختم ہو گئی۔ اب یہاں سے اللہ تعالیٰ کے اپنے ارشادات شروع ہوتے ہیں۔/p

حاشیہ نمبر: 16

pیہ وہی بات ہے جو سورہ نوح میں فرمائی گئی ہے کہ اللہ سے معافی مانگو تو وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں بر سائے گا(تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد ششم، تفسیر سورہ نوح، حاشیہ12)۔ پانی کی کثرت کو نعمتوں کی کثرت کے لیے بطورِ کنا یہ استعمال کیا گیا ہے، کیونکہ پانی ہی آبادی کا انحصار ہے۔ پانی نہ ہو تو سرے سے کوئی بستی بس ہی نہیں سکتی، نہ انسان کی بنیادی ضروریات فراہم ہو سکتی ہیں، اور نہ انسان کی صنعتیں چل سکتی ہیں۔/p

(72:17)

لِّنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ ؕ وَمَنْ یُّعْرِضْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهٖ یَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًا 

تاکہ اس نعمت سے ان کی آزمائش کریں۔17 اور جو اپنے ربّ کے ذکر سے منہ موڑے گا18 اس کا ربّ اسے سخت عذاب میں مبتلا کر دے گا

حاشیہ نمبر: 17

یعنی یہ دیکھیں کہ وہ نعمت پا کر بھی شکر گزار رہتے ہیں یا نہیں، اور ہماری دی ہوئی نعمت کا صحیح استعمال کرتے ہیں یا غلط۔

حاشیہ نمبر: 18

ذکر سے مُنہ موڑنے کا مطلب یہ بھی ہے کہ آدمی اللہ کی بھیجی ہوئی نصیحت کو قبول نہ کرے، اور یہ بھی کہ وہ اللہ کا ذکر سننا ہی گوارا نہ کرے، اور یہ بھی کہ وہ اللہ کی عبادت سے رُوگردانی کرے۔

(72:18)

وَّاَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًا 

اور یہ کہ مسجدیں اللہ کے لیے ہیں، لہٰذا اُن میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔19

حاشیہ نمبر: 19

مفسرین نے بالعموم”مساجد“کو عبادت گاہوں کے معنی میں لیا ہے اور اس معنی کے لحاظ سے آیت کا مطلب یہ ہے کہ عبادت گاہوں میں اللہ کے ساتھ کسی اور کی عبادت نہ کی جائے۔ حضرت حسن بصری کہتے ہیں کہ زمین پوری کی پوری عباد ت گاہ ہے اور آیت کا منشا یہ ہے کہ خدا کی زمین پر  کہیں بھی شرک نہ کیا جائے۔ ان کا استدلال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے ہے کہ جعلت فی الارض مسجد اوطھورا۔”میرے لیے پُوری زمین عبادت کی جگہ اور طہارت حاصل کرنے کا ذریعہ بنائی گئی ہے“۔ حضرت سعید بن جُبَیر نے مساجد سے مراد وہ اعضاء لیے ہیں جن پر آدمی سجدہ کرتا ہے، یعنی ہاتھ ، گھٹنے، قدم اور پیشانی۔ اِس تفسیر کی رُو سے آیت کا مطلب یہ ہے کہ یہ اعضاء اللہ کے بنائے ہوئے ہیں۔ اِن پر اللہ کے سوا کسی اور کے لیے سجدہ نہ کیا جائے۔

(72:19)

وَّاَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ یَدْعُوْهُ كَادُوْا یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِ لِبَدًا ؕ

اور یہ کہ جب اللہ بندہ20 اُس کو پکارنے کے لیے کھڑا ہوا تو لوگ اُس پر ٹُوٹ پڑنے کے لیے تیار ہوگئے

حاشیہ نمبر: 20

اللہ کے بندے سے مراد یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔

(72:20)

قُلْ اِنَّمَاۤ اَدْعُوْا رَبِّیْ وَلَاۤ اُشْرِكُ بِهٖۤ اَحَدًا 

اے نبیؐ ، کہو کہ”میں تو اپنے ربّ کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔“21

حاشیہ نمبر: 21

یعنی خدا کو پکارنا تو کوئی قابلِ اعتراض کام نہیں ہے جس پر لوگوں کو اس قدر غصّہ آئے، البتہ بری بات اگر ہے تو یہ کہ کوئی شخص خدا کے ساتھ کسی اور کو خدائی میں شریک ٹھیرائے، اور یہ کام میں نہیں کرتا بلکہ وہ لوگ کرتے ہیں جو خدا کا نام سُن کر مجھ  پر ٹوٹے پڑ رہے ہیں۔

(72:21)

قُلْ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّلَا رَشَدًا 

کہو، "میں تم لوگوں کے لئے نہ کسی نقصان کا اختیار رکھتا ہوں نہ کسی بھلائی کا"

(72:22)

قُلْ اِنِّیْ لَنْ یُّجِیْرَنِیْ مِنَ اللّٰهِ اَحَدٌ ۬ وَّلَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا 

کہو، "مجھے اللہ کی گرفت سے کوئی نہیں بچا سکتا اور نہ میں اُس کے دامن کے سوا کوئی جائے پناہ پا سکتا ہوں

(72:23)

اِلَّا بَلٰغًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِسٰلٰتِهٖ ؕ وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَاِنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا ؕ

میرا کام اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ اللہ کی بات اور اس کے پیغامات پہنچا دوں۔22 اب جو بھی اللہ اور اس کے رسُول کی بات نہ مانے گا اس کے لیے جہنّم کی آگ ہے اور ویسے لوگ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔“23

حاشیہ نمبر: 22

یعنی میرا یہ دعویٰ ہر گز نہیں ہے کہ خدا کی خدائی میں میرا کوئی دخل ہے، یا لوگوں کی قسمتیں بنانے اور بگاڑنے کا کوئی اختیار مجھے حاصل ہے ۔ میں تو صرف ایک رسول ہوں اور جو خدمت میرے سپرد کی گئی ہے وہ اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پیغامات تمہیں پہنچادوں۔ باقی رہے خدا ئی اختیارات، تو وہ سارے کے سارے اللہ ہی کے ہاتھ میں ہیں۔ کسی دوسرے کو نفع یا نقصان پہنچانا تو درکنار، مجھے تو خود اپنے نفع و نقصان کا اختیار بھی حاصل نہیں۔ اللہ کی نافرمانی کروں تو اس کی پکڑ سے بچ کر کہیں پناہ نہیں لے سکتا، اور اللہ کے دامن کے سوا کوئی ملجا و ماویٰ میرے لیے نہیں ہے(مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد چہارم، الشوریٰ، حاشیہ7)۔

حاشیہ نمبر: 23

اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہر گنا ہ اور معصیت کی سزا ابدی جہنم ہے ، بلکہ جس سلسلہ کلام میں یہ بات فرمائی گئی ہے اس کے لحاظ سے آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے توحید کی جو دعوت دی گئی ہے اس کو جو شخص نہ مانے اور شرک سے باز نہ آئے اس کے لیے ابدی جہنم کی سزا ہے۔

(72:24)

حَتّٰۤی اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّاَقَلُّ عَدَدًا 

(یہ لوگ اپنی اِس روش سے باز نہ آئیں گے) یہاں تک کہ جب اُس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا اِن سے وعدہ کیا جا رہا ہے تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ کس کے مددگار کمزور ہیں اور کس کا جتھا تعداد میں کم ہے۔24

حاشیہ نمبر: 24

اِس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ اُس زمانے میں قریش کے جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت الی ٰ اللہ کو سنتے ہی آپ پر ٹوٹ پڑتے تھے وہ اس زعم میں مبتلا تھے کہ اُن کا جتھا بڑا زبر دست ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چند مٹھی بھر آدمی ہیں اس لیے وہ بآسانی آپ کو دبا لیں گے۔ اس پر فرمایا جا رہا ہے کہ آج یہ لوگ رسول کو بے یار و مدد گار اور اپنے آپ کو کثیر التعداد دیکھ کر حق کی آواز کو دبانے کے لیے بڑے دلیر ہو رہے ہیں، مگر جب وہ بُرا وقت آجائے گا جس سے اِن کو ڈرایا جا رہا ہے تو ان کو پتہ چل جائے گا کہ بے یارو مددگار حقیقت میں کون ہے۔

(72:25)

قُلْ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ اَمْ یَجْعَلُ لَهٗ رَبِّیْۤ اَمَدًا 

کہو”میں نہیں جانتا کہ جس چیز کا وعدہ تم سےکیا جارہا ہے وہ قریب ہے یا میرا ربّ اس کے لیے کوئی لمبی مدّت مقرر فرماتا ہے۔25

حاشیہ نمبر: 25

اندازِ بیان سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ ایک سوال کا جواب ہے جو سوال نقل کیے بغیر دیا گیا ہے ۔ غالباً اوپر کی بات سُن کر مخالفین نے طنز اور مذاق کے طور پر سوال کیا ہوگا کہ وہ وقت جس کا ڈراوا آپ دے رہے ہیں آخر کب آئے گا؟ اس کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ ان لوگوں سے کہو ، اُس وقت کا آنا تو یقینی ہے مگر اس کے آنے کی تاریخ مجھے نہیں بتائی گئی۔ یہ بات اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے کہ آیا وہ جلدی آنے والا ہے یا اس کے لیے ایک طویل مدت مقرر کی گئی ہے۔

(72:26)

عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰی غَیْبِهٖۤ اَحَدًا 

وہ عالم الغیب ہے، اپنے غیب پر کسی کو مطلّع نہیں کرتا،26

حاشیہ نمبر: 26

یعنی غیب کا پُورا علم اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ، اور یہ مکمل علمِ غیب وہ کسی کو بھی نہیں دیتا۔

(72:27)

اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ یَسْلُكُ مِنْ بَیْنِ یَدَیْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًا 

سوائے اُس رسُول کے جسے اُس نے (غیب کا کوئی علم دینے کے لیے) پسند کر لیا ہو،27 تو اُس کے آگے اور پیچھے وہ محافظ لگا دیتا ہے۔28

حاشیہ نمبر: 27

یعنی رسول بجائے خود عالم الغیب نہیں ہوتا کہ بلکہ اللہ تعالیٰ جب اس کورسالت کا فریضہ انجام دینے کے لیے منتخب فرماتا ہے تو غیب کے حقائق میں سے جن چیزوں کا علم وہ چاہتا ہے اسے عطا فرمادیتا ہے۔

حاشیہ نمبر: 28

محافظوں سے مرد فرستے ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعہ سے غیب کےحقائق کا علم رسول کے پاس بھیجتا ہے تو اس کی نگہبانی کرنے کے لیے ہر طرف فرشتے مقرر کر دیتا ہے تا کہ وہ علم نہایت محفوظ طریقے سے رسول تک پہنچ جائے اور اس میں کسی قسم کی آمیزش نہ ہونے پائے۔ یہ وہی بات ہے جو اوپر آیات 8 ۔9 میں بیان ہوئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد جِنوں نے اپنے لیے عالمِ بالا تک رسائی کے تمام دروازے بند پائے اور انہوں نے دیکھا کہ سخت چوکی پہرے لگ گئے ہیں جن کے باعث کہیں ذا سی سُن گُن لینے کا موقع بھی اُن کو نہیں ملتا ۔

(72:28)

لِّیَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّهِمْ وَاَحَاطَ بِمَا لَدَیْهِمْ وَاَحْصٰی كُلَّ شَیْءٍ عَدَدًا 

تاکہ وہ جان لے کہ انہوں نے اپنے ربّ کے پیغامات پہنچا دیے،29 اور اُن کے پُورے ماحول کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور ایک ایک چیز کو اس نے گِن رکھا ہے۔“30

حاشیہ نمبر: 29

اس کے تین معنی ہو سکتے ہیں ۔ ایک یہ کہ رسول یہ جان لے کر فرشتوں نے اُس کو اللہ تعالیٰ کے پیغامات ٹھیک ٹھیک پہنچا دیے ہیں۔ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ یہ جان لے کر فرشتوں نے اپنے رب کے پیغامات اس کے رسول تک صحیح صحیح پہنچا دیے ہیں۔ تیسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ یہ جان لے کہ رسولوں نے اس کے بندوں تک اپنے رب کے پیغامات ٹھیک ٹھیک پہنچا دیے ۔ آیت کے الفاظ اِن تینوں معنوں پر حاوی ہیں اور بعید نہیں کہ تینوں ہی مراد ہوں۔ اس کے علاوہ یہ آیت دو مزید باتوں پر بھی دلالت کرتی ہے ۔ پہلی بات یہ کہ رسول کو وہ علمِ غیب عطا کیا جاتا ہے جو فریضہ رسالت کی انجام دہی کے لیے اس کو دینا ضروری ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ جو فرشتے نگہبانی کے لیے مقرر کیے جاتے ہیں وہ صرف اِس بات کی نگہبانی نہیں کرتے کہ رسول تک وحی محفوظ طریقے سے پہنچ جائے بلکہ اِس بات کی نگہبانی بھی کرتے ہیں کہ رسول اپنے رب کے پیغامات اس کے بندوں تک بے کم و کاست پہنچا دے۔

حاشیہ نمبر: 30

یعنی رسول پر بھی اور فرشتوں پر بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت اس طرح محیط ہے کہ اگر بال برابر بھی اس کی مرضی کے خلاف جنبش کریں تو فوراً گرفت میں آجائیں۔ اور جو پیغامات اللہ تعالی ٰ بھیجتا ہے ان کا حرف حرف گِنا ہوا ہے ، رسولوں اور فرشتوں کی یہ مجال نہیں ہے کہ ان میں ایک حرف کی کمی بیشی بھی کر سکیں۔

Read Maududi
Read • Reflect • Reform

Your Complete Learning App

A complete experience—reading, tafseer, audio, and more, all in one app. Available on iOS and Android.

Get the app

Frequently asked questions FAQs

Yes, you can download content and access it anytime without an internet connection.