Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Nuh 71:7

Verse 7 of 28

وَاِنِّیْ كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوْۤا اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَاسْتَغْشَوْا ثِیَابَهُمْ وَاَصَرُّوْا وَاسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًا ۟ۚ

ترجمہ

اور جب بھی میں نے اُن کو بلایا تاکہ تُو انہیں معاف کر دے، انہوں نے کانوں میں اُنگلیاں ٹھونس لیں اور اپنے کپڑوں سے منہ ڈھانک لیے اور اپنی روش پر اَڑ گئے اور بڑا تکبّر کیا۔

English translation

And every time I called them so that You might forgive them, they thrust their fingers into their ears and wrapped up their faces with their garments and obstinately clung to their attitude, and waxed very proud.

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 9

    اس میں خود بخود یہ مضمون شامل ہے کہ وہ نافرمانی کی روش چھوڑ کر معافی کے طلب گارہوں ، کیونکہ اسی صورت میں اُن کو اللہ تعالیٰ سے معافی مل سکتی تھی۔

  2. 10

    منہ ڈھانکنے کی غرض یا تو یہ تھی کہ وہ حضرت نوح ؑ کی بات سننا تو درکنار، آپ کی شکل بھی دیکھنا پسند نہ کرتے تھے، یا پھر یہ حرکت وہ اس لیے کرتے تھے کہ آپ کے سامنے سے گزرتے ہوئے منہ چھپا کر نکل جائیں اور اس کی نوبت ہی نہ آنے دیں کہ آپ اُنہیں پہچان کر اُن سے بات کرنے لگیں۔ یہ ٹھیک وہی طرزِ عمل تھا جو کفار مکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اختیار کر رہے تھے۔ سورہ ہود آیت 5 میں اُن کے اِس رویے کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے۔”دیکھو یہ لوگ اپنے سینوں کو موڑتے ہیں تا کہ رسول سے چُھپ جائیں۔ خبر دار!جب یہ اپنے آپ کو کپڑوں سے ڈھانکتے ہیں تو اللہ  ان کے کھلے کو بھی جانتا ہے اور چھپے کو بھی، وہ تو دلوں کی پوشیدہ باتوں سے بھی واقف ہے، (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد دوم،ہود،حواشی5۔۶)۔

  3. 11

    تکبُّر سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے حق کے آگے سر جھکا دینے اور خدا کے رسول کی نصیحت قبول کرلینے کو اپنی شان سے گری ہوئی بات سمجھا۔ مثال کے طور پر اگر کوئی بھلا آدمی کسی بگڑے ہوئے شخص کو نصیحت کرے اور وہ جواب میں جھٹک کر اٹھ کھڑا ہو اور پاؤں پٹختا ہوا نکل جائے تو یہ تکبُّر کے ساتھ کلامِ نصیحت کو رد کرنا ہوگا۔

Nuh 71:7 — Translation & Tafsir | Read Maududi