Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Al-A'raf 7:89

Verse 89 of 206

قَدِ افْتَرَیْنَا عَلَی اللّٰهِ كَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِكُمْ بَعْدَ اِذْ نَجّٰىنَا اللّٰهُ مِنْهَا ؕ وَمَا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّعُوْدَ فِیْهَاۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّنَا ؕ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا ؕ عَلَی اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا ؕ رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَاَنْتَ خَیْرُ الْفٰتِحِیْنَ ۟

ترجمہ

ہم اللہ پر جھوٹ گھڑنے والے ہوں گے اگر تمہاری مِلّت میں پلٹ آئیں جبکہ اللہ ہمیں اس سے نجات دے چکا ہے۔ ہمارے لیے تو اس کی طرف پلٹنا اب کسی طرح ممکن نہیں اِلّا یہ کہ خدا ہمارا ربّ ہی ایسا چاہے،ہمارے ربّ کا علم ہر چیز پر حاوی ہے، اُسی پر ہم نے اعتماد کر لیا، اے ربّ! ہمارےاور ہماری قوم کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دے اور تُو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔“

English translation

If we return to your faith after Allah has delivered us from it we would be fabricating a lie against Allah. nor can we return to it again unless it be by, the will of Allah, our Lord. Our Lord has knowledge of all things, and in Allah we put our trust. Our Lord! Judge rightly between us and our people, for You are the best of those who judge.'

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 73

    یہ فقرہ اُسی  معنی میں ہے جس میں اِن شاء اللہ کا لفظ بولا جاتا ہے، اور جس کے متعلق سورة کہف (آیات 23۔24) میں ارشاد ہوا ہے کہ کسی چیز کے متعلق دعوے کے ساتھ یہ نہ کہہ دیا کرو کہ میں ایسا کروں گا بلکہ اس طرح کہا کرو کہ اگر اللہ چاہے گا تو ایسا  کروں گا۔ اس لیے کہ مومن ، جو اللہ تعالیٰ کی سلطانی و بادشاہی کا اور اپنی بندگی و تا بعیت کا ٹھیک ٹھیک اور اک رکھتا ہے، کبھی اپنے بل بوتے پر یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ میں فلاں بات کر کے رہوں گا یا فلاں حرکت ہر گز نہ کروں گا، بلکہ وہ جب کہے گا تو یوں کہے گا کہ میرا  ارادہ ایسا کرنے کا یا نہ کرنے کا ہے لیکن میرے اس ارادے کا پورا ہونا میرے مالک کی مثییت پر موقوف ہے، وہ توفیق بخشے گا تو اس میں کامیا ب ہو جاؤں گا ورنہ ناکام رہ جاؤں گا۔

Al-A'raf 7:89 — Translation & Tafsir | Read Maududi