Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Al-A'raf 7:80

Verse 80 of 206

وَلُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ ۟

ترجمہ

اور لوطؑ کو ہم نے پیغمبر بنا کر بھیجا ، پھر یاد کرو جب اُس نے اپنی قوم سے کہا ”کیا تم ایسے بے حیا ہوگئے ہو کہ وہ فحش کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کیا؟

English translation

And remember when We sent Lot [as a Messeng to his people and he said to them: 'Do you realize you practise an indecency of which no other people in the world were guilty of before you?

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 63

    یہ قوم اس علاقہ میں رہتی تھی جسے آج کل شرق اردن(Trans Jordan ) کہا جاتا ہے اور عراق و فلسطین کے درمیان واقع ہے۔ بائیبل میں اس قوم کے صدر مقام کا نام”سدوم“ بتا یا گیا ہے جو یا  تو بحیرہ مردار کے قریب کسی جگہ واقع تھا یا اب بحیرہ مردار میں غرق ہو چکاہے۔تَلمود میں لکھا ہے کہ سدوم کے علاوہ  ان کے چار بڑے بڑے شہر اور بھی تھے اور ان شہروں کے درمیان کا علاقہ ایسا گلزار بنا  ہوا تھا کہ میلوں تک بس ایک باغ ہی باغ تھا جس کے جمان کو دیکھ کر انسان پر مستی طاری ہو نے لگتی تھی۔ مگر آج اس قوم کا نام و نشان دنیا سے بالکل نا پید ہو چکا ہے اور یہ بھی متعین نہیں ہے کہ اس کی بستیاں ٹھیک کس مقام پر واقع تھیں ۔ اب صرف بحیرہ مردار ہی اس کی ایک یادگا باقی رہ گیا ہے جسے آج تک بحِر لوط کہا جاتا ہے۔ حضرت لوط علیہ السلام حضرت ابرہیم  علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ اپنے چچا کے ساتھ عراق سے نکلے اور کچھ مدت تک شام و فلسطین و مصر میں گشت  لگا کر دعوت تبلیغ کا تجربہ حاصل کرتے رہے۔ پھر مستقل پیغمبری کے منصب پر سرفراز ہو کر اس بگڑی ہوئی قوم کی اصلاح پر مامور ہوئے۔ اہل سدوم کو ان کی قوم اس لحاظ سے کہا گیا ہے کہ شاید ان کیا رشتہ داری کا تعلق اس قوم سے ہوگا۔ یہودیوں کی تحریف کردہ بائیبل میں حضرت لوط کی سیرت پر جہاں اور بہت سے سیاہ دھبے لگائے گئے ہیں وہاں ایک دھبہ یہ بھی ہے کہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے لڑ کر سدوم کے علاقے میں چلے گئے  تھے(پیدائش، باب ١3۔آیت١۔١2)۔ مگر قرآن اس غلط بیانی کی تردید کر تا ہے۔ اس کا بیان یہ ہے کہ اللہ نے انہیں رسول بنا کر اس قوم کی طرف بھیجا تھا۔

Al-A'raf 7:80 — Translation & Tafsir | Read Maududi