Al-A'raf 7:77
Verse 77 of 206
فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ وَقَالُوْا یٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ ۟
ترجمہ
پھر انہوں نے اس اُونٹنی کو مار ڈالا اور پُورے تمّرد کے ساتھ اپنے ربّ کے حکم کی خلاف ورزی کر گزرے ، اور صالح سے کہہ دیا کہ”لے آوہ عذاب جس کی تُو ہمیں دھمکی دیتا ہے اگر تُو واقعی پیغمبروں میں سے ہے۔“
English translation
Then they hamstrung the she-camel, disdainfuliy disobeyed the commandment of their Lord, and said: '0 Salih! Bring upon us the scourge with which you threatened us if you are truly a Messenger [of Allah].'
تفہیم القرآن — حواشی
- 61
اگرچہ مارا ایک شخص نے تھا، جیسا کہ سورہ قمر اور سورہ شمس میں ارشاد ہوا ہے ، لیکن چونکہ پوری قوم اُس مجرم کی پشت پر تھی اور وہ در اصل اِس جرم میں قوم کی مر ضی کا آلہ کار تھا اس لیے الزام پوری قوم پر عا ئد کیا گیا ہے۔ پر وہ گناہ جو قوم کی خواہش کے مطابق کیا جائے، یا جس کے ارتکاب کو قوم کی رضا اور پسندیدگی حاصل ہو ، ایک قومی گناہ ہے، خواہ اس کا ارتکاب کرنے والا ایک فردِ واحد ہو۔ صرف یہی نہیں ، بلکہ قرآن کہتا ہے کہ جو گناہ قوم کے درمیان علی الا علان کیا جائے اور قوم اسے گوارا کرے وہ بھی قومی گناہ ہے۔
