Al-A'raf 7:33
Verse 33 of 206
قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْاِثْمَ وَالْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَاَنْ تُشْرِكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّاَنْ تَقُوْلُوْا عَلَی اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ۟
ترجمہ
اے محمد ؐ ، اِن سے کہو کہ میرے ربّ نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ تو یہ ہیں: بے شرمی کے کام۔۔۔۔خواہ کھُلے ہوں یا چھُپے۔۔۔۔ اور گُناہاور حق کے خلاف زیادتیاور یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرو جس کے لیے اُس نے کوئی سند نازل نہیں کی اور یہ کہ اللہ کے نام پر کوئی ایسی بات کہو جس کے متعلق تمہیں علم نہ ہو کہ وہ حقیقت میں اُس نے فرمائی ہے
English translation
Tell them (O Muhammad): 'My Lord has only forbidden indecent acts, whether overt or hidden; all manner of sin; wrongful transgression; and [He has forbidden] that you associate with Allah in His divinity that for which He has sent down no sanction; and that you ascribe to Allah things of which you have no sure knowledge that they are from Him.'
تفہیم القرآن — حواشی
- 24
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ انعام ، حواشی 131 و 127
- 25
اصل میں لفظ اِثْمٌ استعمال ہوا ہے جس کے اصل معنی کوتا ہی کے ہیں۔ اٰثِمَہ اُس اونٹنی کو کہتے ہیں جو تیز چل سکتی ہو مگر جان بوجھ کو سُست چلے۔ اسی سے اس لفظ میں گناہ کا مفہوم پیدا ہوا ہے، یعنی انسان کا اپنے رب کی اطاعت و فرماں بر دا ری میں قدرت و استطاعت کے باوجود ، کوتاہی کرنا اور اس کی رضا کو پہنچنے میں جان بوجھ کر قصور دکھانا۔
- 26
یعنی اپنی حد سے تجاوز کرکے ایسے حدود میں قدم رکھنا جن کے اندر داخل ہونے کا آدمی کو حق نہ ہو۔ اس تعریف کی رو سے وہ لوگ بھی باغی قرار پاتے ہیں جو بندگی کی حد سے نکل کر خدا کے ملک میں خود مختیارانہ رویّہ اختیار کرتے ہیں، اور وہ بھی جو خد ا کی خدائی میں اپنی کبریائی کے ڈنکے بجاتے ہیں، اور وہ بھی جو بندگانِ خدا کے حقوق پردست درازی کرتے ہیں۔
