Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Al-A'raf 7:32

Verse 32 of 206

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَةَ اللّٰهِ الَّتِیْۤ اَخْرَجَ لِعِبَادِهٖ وَالطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ ؕ قُلْ هِیَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا خَالِصَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ ۟

ترجمہ

اے محمد ؐ ، اِن سے کہو کس نے اللہ کی اُس زینت کو حرام کر دیا ہے جسے اللہ نے اپنے بندوں کے لیے نکالا تھا اور کس نے خدا کی بخشی ہوئی پاک چیزیں ممنوع کر دیں؟ کہو، یہ ساری چیزیں دنیا کی زندگی میں بھی ایمان لانے والوں کے لیے ہیں، اور قیامت کے روز تو خالصتًہ انہی کے لیے ہوں گی۔ اِس طرح ہم اپنی باتیں صاف صاف بیان کرتے ہیں اُن لوگوں کے لیے جو علم رکھنے والے ہیں

English translation

Say (O Muhammad): 'Who has forbidden the adornment which Allah has brought forth for His creatures or the good things from among the means of sustenance?' Say: 'These are for the enjoyment of the believers in this world, and shall be exclusively theirs on the Day of Resurrection.' Thus do We clearly expound Our revelations for those who have knowledge.

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 22

    مطلب یہ ہے کہ اللہ نے تو دنیا کی ساری زینتیں اور پاکیزہ چیزیں بندوں ہی کے لیے پیدا کی ہیں،اس لیے اللہ کا منشاء تو بہر حال یہ نہیں ہو سکتا کہ انہیں بندوں کے لیے حرم کر دے۔  اب اگر کوئی مذہب یا کوئی نظامِ اخلاق و معاشرت ایسا ہے جو نہیں حرام ، یا قابلِ نفرت، یا ارتقائے روحانی  میں  سدِّ راہ قرار دیتا ہے تو اس کا یہ فعل خود ہی اس بات کا کُھلا ثبوت ہے کہ وہ خدا  کی طرف سے نہیں ہے ۔ یہ بھی اُن حجتوں میں سے ایک اہم حجت ہے جو قرآن نے مذاہب باطلہ کے رد میں پیش کی ہیں، اور اس کو سمجھ لینا قرآن کے طرزِ استدلال کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے۔

  2. 23

    یعنی حقیقت کے اعتبار سے تو خدا کی پیدا کردہ تمام چیزیں دنیا کی زندگی میں بھی اہل ایمان ہی کے لیےہیں، کیونکہ وہی خدا کی وفادار رعایا ہیں اور حقَ نمک صرف نمک حلالوں ہی کو پہچانتا ہے۔ لیکن دنیا کا موجودہ انتظام چونکہ آزمائش اور مہلت کے اصول پر قائم کیا گیا ہے، اس لیے یہاں اکثر خدا کی نعمتیں نمک حراموں پر بھی تقسیم  ہوتی رہتی ہیں اور بسا اوقات نمک حلالوں سے بڑھ کر انہیں  نعمتوں سے نواز دیا جاتا ہے۔ البتہ آخرت میں (جہاں کا سارا  انتظام خالص حق کی بنیا دپر ہوگا) زندگی کی آرائشیں اور رزق  کے طیبات سب کے سب محض نمک حلالوں کے لیے مخصوص ہوں گے اور وہ نمک حرام ان میں سے کچھ نہ پا سکیں گے جنہوں نے اپنے رب کے رزق پر پلنے کے بعد اپنے رب ہی کے خلاف سر کشی کی۔

Al-A'raf 7:32 — Translation & Tafsir | Read Maududi