Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Al-A'raf 7:204

Verse 204 of 206

وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ ۟

ترجمہ

جب قرآن تمہارے سامنے پڑھا جائے تو اسے توجہ سے سُنو اور خاموش رہو ، شاید کہ تم پر بھی رحمت ہوجائے۔“

English translation

So when the Qur'an is recited, listen carefully to it, and keep silent so that you may, be shown mercy.'

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 154

    یعنی یہ جو تعصب اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے تم لوگ قرآن کی آواز سنتے ہی کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے ہو اور شور و غل برپا کرتے ہو تا کہ نہ خود سنو اور نہ کوئی دوسرا سن سکے، اس روش کو چھوڑ دو اور غور سے سنو تو سہی کہ اس میں  تعلیم کیا دی گئی ہے ۔ کیا عجب کہ اس کی تعلیم سے واقف ہو جانے کے بعد تم خود بھی اُسی رحمت کے  حصہ دار بن جاؤ جو ایمان لانے والوں کو نصیب ہو چکی ہے۔ مخالفین کی طعن آمیز بات کے جواب میں یہ ایسا لطیف و شیریں اور ایسا دلوں کو مسخر کرنے والا انداز تبلیغ ہے کہ اس کی خوبی کسی طرح بیان کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ جو شخص حکمتِ تبلیغ سیکھنا چاہتا ہو وہ اگر غور کرے تو اس جواب میں بڑے سبق پاسکتا ہے۔ اس آیت کا اصل مقصود تو وہی ہے جو ہم نے اوپر  بیان کیا ہے لیکن ضمناً  اس سے یہ حکم بھی نکلتا ہے کہ جب خدا کا کلام پڑھا جا رہا ہو تو لوگوں کو ادب سے خاموش ہو جانا چاہیے اور توجہ کے ساتھ اسے سننا چاہیے۔ اسیہ سے یہ بات بھی مُستَنبَط ہوتی ہے کہ امام جب نماز میں قرآن کی تلاوت کر رہا ہو تو مقتدیوں کو خاموشی کے ساتھ اس کی سماعت کرنی چاہیے۔ لیکن اس مسئلہ میں ائمہ کے درمیان اختلاف واقع ہوگیا ہے۔ امام ابو حنیفہؒ  اور ان کے اصحاب کا مسلک یہ ہے کہ جبری قرأت خواہ جہری ہو یا سِرّی، مقتدیوں کو خاموش ہی رہنا چاہیے۔ امام مالکؒ  اور امام احمدؒ کی رائے یہ ہے کہ صرف جہری قرأت کی صورت میں مقتدیوں کو خاموش رہنا چاہیے۔ لیکن امام شافعیؒ اس طرف گئے ہیں کہ جہری اور سرّی دونوں  صورتوں میں مقتدی کو قرأت کرنی چاہیے کیونکہ بعض احادیث کی بنا پر وہ سمجھے ہیں کہ جو شخص نماز میں سورہ فاتحہ نہ پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی۔

Al-A'raf 7:204 — Translation & Tafsir | Read Maududi