Al-A'raf 7:171
Verse 171 of 206
وَاِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوْۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌ بِهِمْ ۚ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّاذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ ۟۠
ترجمہ
انہیں وہ وقت بھی کچھ یاد ہے جبکہ ہم نے پہاڑ کو ہلا کر اُن پر اس طرح چھا دیا تھا کہ گویا وہ چھتری ہےاور یہ گمان کر رہے تھے کہ وہ ان پر آ پڑے گا اور اُس وقت ہم نے اُن سے کہا تھا کہ جو کتاب ہم تمہیں دے رہے ہیں اسے مضبوطی کے ساتھ تھامو اور جو کچھ اس میں لکھا ہے اسے یاد رکھو،توقع ہے کہ تم غلط روی سے بچے رہو گے۔
English translation
And recall when We shook the mountain over them as though it were a canopy, and they thought that it was going to fall over them; and We said: 'Hold firmly to that which We have given you, and remember what is in it, that you may guard against evil.
تفہیم القرآن — حواشی
- 133
اشارہ ہے اُس واقعہ کی طرف جو موسیٰ علیہ السلام کو شہادت نامہ کی سنگین لوحیں عطا کیے جانے کے موقع پر کوہِ سینا کے دامن میں پیش آیا تھا۔ بائیبل میں اس واقعہ کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ”اور موسیٰ لوگوں کو خیمہ گاہ سے بارہ لایا کہ خدا سے ملائے اور وہ پہاڑ کے نیچے آ کھڑے ہوئے اور کوہِ سینا اُوپر سے نیچے تک دھوئیں سے بھر گیا کیونکہ خدا وند شعلہ میں ہو کر اس پر اُترر اور دھواں تنور کے دھوئیں کی طرح اوپر کو اُٹھ رہا تھا اور وہ سارا پہاڑ زور سے ہل رہا تھا“(خروج ١9: ١7۔١8) اس طرح اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے کتاب کی پابندی کا عہد لیا اور عہد لیتے ہوئے خارج میں ان پر ایسا ماحول طاری کر دیا جس سے انہیں خدا کے جلال اور اس کی عظمت و بر تری اور اس کے عہد کی اہمیت کا پورا پورا احساس ہو اور وہا س شہنشاہِ کائنات کے ساتھ میثاق استوار کرنے کو کوئی معمولی سی بات نہ سمجھیں۔ اس سے یہ گمان نہ کرنا چاہیے کہ وہ خدا کے ساتھ میثاق باندھنے پر آمادہ نہ تھے اور انہیں زبر دستی خوف زدہ کر کے اس پر آمادہ کیا گیا۔ واقعہ یہ ہے کہ وہ سب کے سب اہلِ ایمان تھے اور دامن کوہ میں میثاق باندھنے ہی کے لیے گئے تھے ، مگر اللہ تعالیٰ نے معمولی طور پر ان سے عہد و اقرار لینے کے بجائے مناسب جانا کہ اس عہد و اقرار کی اہمیت ان کو اچھی طرح محسوس کرادی جائے تا کہ اقرار کرتے وقت انہیں یہ احساس رہے کہ وہ کس قادرِ مطلق ہستی سے اقرار کر رہے ہیں اور اس کے ساتھ بد عہدی کرنے کا انجام کیا کچھ ہو سکتا ہے ۔ یہاں پہنچ کر بنی اسرائیل سے خطاب ختم ہو جاتا ہے اور بعد کے رکوعوں میں تقریر کا رُخ عام انسانوں کی طرف پھرتا ہے جن میں خصوصیت کے ساتھ روئے سخن ان لوگوں کی جانب ہے جو براہ راست نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطب تھے۔
