Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Al-A'raf 7:155

Verse 155 of 206

وَاخْتَارَ مُوْسٰی قَوْمَهٗ سَبْعِیْنَ رَجُلًا لِّمِیْقَاتِنَا ۚ فَلَمَّاۤ اَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَهْلَكْتَهُمْ مِّنْ قَبْلُ وَاِیَّایَ ؕ اَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا ۚ اِنْ هِیَ اِلَّا فِتْنَتُكَ ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنْ تَشَآءُ وَتَهْدِیْ مَنْ تَشَآءُ ؕ اَنْتَ وَلِیُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَاَنْتَ خَیْرُ الْغٰفِرِیْنَ ۟

ترجمہ

اور اُس نے اپنی قوم کے ستّر آدمیوں کو منتخب کیا تاکہ وہ (اُس کے ساتھ) ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر حاضر ہوں۔ جب اِن لوگوں کو ایک سخت زلزلے نے آپکڑا تو موسٰی نے عرض کیا”اے میرے سرکار، آپ چاہتے تو پہلے ہی اِن کو اور مجھے ہلاک کر سکتے تھے۔کیا آپ اُس قصور میں جو ہم میں سے چند نادانوں نے کیا تھا ہم سب کو ہلاک کر دیں گے؟ یہ تو آپ کی ڈالی ہوئی ایک آزمائش تھی جس کے ذریعہ سے آپ جسے چاہتےہیں گمراہی میں مبتلاکر دیتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں ہدایت بخش دیتے ہیں۔ ہمارے سر پرست تو آپ ہی ہیں۔ پس ہمیں معاف کر دیجیے اور ہم پر رحم فرمائیے، آپ سب سے بڑھ کر معاف فر مانے والے ہیں

English translation

And out of his people Moses singled out seventy men for Our appointment. Then, when violent shaking seized them, he addressed his Lord: 'Had You willed, O my Lord, You could have destroyed them and me long ago. Will You destroy us for what the fools amongst us did? That was nothing but a trial from You whereby You mislead whom You will and guide whom You will. You alone are our guardian. Forgive us, then, and have mercy upon us. You are the best of those who forgive.

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 110

    یہ طلبی اس غرض کے لیے ہوئی تھی کہ قوم کے 7۰ نمائندے کوہ ِ سینا پر پیشی ِ خدا وندی میں حاضر ہو کر قوم کی طرف سے گوسالہ پرستی کے جرم کی معافی مانگیں اور از سرِ نو اطاعت کا عہد استوارکر یں۔ بائیبل اور تلمود میں ا س بات کا ذکر نہیں ہے۔ البتہ یہ ذکر ہے کہ جو تختیاں حضرت موسیٰ ؑ نے پھینک کر توڑ دی تھیں ان کے بدلے دوسری تختیاں عطاکرنے کے لیے آپ کو سینا پر بلایا گیا تھا(خروج۔باب34)۔

  2. 111

    مطلب یہ ہے کہ ہر آزمائش کا موقع انسانوں کے درمیان فیصلہ کن ہوتا ہے۔ وہ چھاج کی طرح ایک مخلوط گروہ میں سے کارآمد آدمیوں اور ناکارہ آدمیوں کو پھٹک کر الگ کر دیتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا عین مقتضیٰ ہے کہ ایسے مواقع وقتاً فوقتاً آتے رہیں۔ ان مواقع پر جو کامیابی کی راہ پاتا ہے وہ  اللہ ہی کی توفیق و رہنمائی سے پاتا ہے اور جو ناکام ہوتا ہے وہ اُس کی توفیق ورہنمائی سے محروم ہونے کی بدولت ہی ناکام ہوتا ہے۔ اگرچہ اللہ کی طرف سے توفیق اور رہنمائی ملنے اور نہ ملنے کے لیے بھی ایک ضابطہ ہے جو سراسر حکمت اور عدل پر مبنی ہے، لیکن بہر حال یہ حقیقت اپنی جگہ ثابت ہے کہ آدمی کا آزمائش کے مواقع پر کامیا بی کی رہ پانا یا نہ پانا اللہ کی توفیق ہو ہدایت پر منحصر ہے۔

Al-A'raf 7:155 — Translation & Tafsir | Read Maududi