Al-A'raf 7:145
Verse 145 of 206
وَكَتَبْنَا لَهٗ فِی الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْعِظَةً وَّتَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ ۚ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّاْمُرْ قَوْمَكَ یَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا ؕ سَاُورِیْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِیْنَ ۟
ترجمہ
اس کے بعد ہم نے موسیٰ کو ہر شعبہٴ زندگی کے متعلق نصیحت اور ہر پہلو کے متعلق واضح ہدایت تختیوں پر لکھ کر دے دی اور اس سے کہا”اِن ہدایات کو مضبوط ہاتھوں سے سنبھال اور اپنی قوم کو حکم دے کہ ان کے بہتر مفہوم کی پیروی کریں۔عنقریب میں تمہیں فاسقوں کے گھر دکھاوٴں گا۔
English translation
And We ordained for Moses in the Tablets all manner of admonition, and instruction concerning all things, and said to him: Hold to these, with all your strength. and bid your people to follow them in accord with their best understanding. I shall soon show you the habitation of the wicked.
تفہیم القرآن — حواشی
- 102
بائیبل میں تصریح ہے کہ یہ دونوں تختیاں پھتر کی سلیں تھیں، اور ان تختیوں پر لکھنے کا فعل بائیبل اور قرآن دونوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف منسُوب کیا گیا ہے۔ ہمارے پاس کوئی ذریعہ ایسا نہیں جس سے ہم اس بات کا تعیُّن کر سکیں کہ آیا ان تختیوں پر کتابت کا کام اللہ تعالیٰ نے براہِ راست اپنی قدرت سے کیا تھا، یا کسی فرشتے سے یہ خدمت لی تھی، یا خود حضرت موسیٰ کا ہاتھ استعمال فرمایا تھا۔(تقابل کے لیے ملاحضہ ہو بائیبل، کتاب خروج، باب 3١، آیت١8۔باب 32،آیت ١5،١6 و استثناء باب 5 آیت 6۔22)
- 103
یعنی احکامِ الہٰی کا وہ صاف اور سیدھا مفہوم لیں جو عقل ِعام سے ہر وہ شخص سمجھ لے گا جس کی نیت میں فساد، یا جس کے دل میں ٹیڑھ نہ ہو۔ یہ قید اس لیے لگائی گئی کہ جو لوگ احکام کے سیدھے سادھے الفاظ میں سے قانونی اینچ پینچ اورحیلوں کے راستے اور فتنوں کی گنجائشیں نکالتے ہیں ، کہیں ان کی موشگافیوں کو کتاب اللہ کی پیروی نہ سمجھ لیا جائے۔
- 104
یعنی آگے چل کر تم لوگ اُن قوموں کے آثار قدیمہ پر سے گزروگے جنہوں نےخدا کی بندگی و اطاعت سے منہ موڑا اور غلط روی پر اصرار کیا۔ ان آثار کو دیکھ کر تمہیں خود معلوم ہو جائے گا کہ ایسی روش اختیار کرنے کا کیا انجام ہوتا ہے۔
