Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Al-A'raf 7:137

Verse 137 of 206

وَاَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیْنَ كَانُوْا یُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا ؕ وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰی عَلٰی بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ ۙ۬ بِمَا صَبَرُوْا ؕ وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ یَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهٗ وَمَا كَانُوْا یَعْرِشُوْنَ ۟

ترجمہ

اور اُن کی جگہ ہم نے اُن لوگوں کو جو کمزور بنا کر رکھے گئے تھے، اُس سرزمین کے مشرق و مغرب کاوارث بنا دیا جسے ہم نے برکتوں سے مالامال کیا تھا۔ اس طرح بنی اسرائیل کے حق میں تیرے ربّ کا وعدہٴِ خیر پورا ہوکیونکہ اُنہوں نے صبر سے کام لیا تھا اور فرعون اور اُ س کی قوم کا وہ سب کچھ برباد کر دیا گیا جو وہ بناتے اور چڑھاتے تھے

English translation

And We made those who had been persecuted inherit the eastern and western lands which We had blessed. Thus your Lord's gracious promise was fulfilled to the Children of Israel, for they had endured with patience; and We destroyed all that Pharaoh and his people had wrought, and all that they had built.

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 97

    یعنی بنی اسرائیل  کو فلسطین کی سر زمین کا وارث بنا دیا۔ بعض لوگوں نے اس کا مفہوم یہ لیا ہے کہ بنی اسرائیل خود سر زمین  مصر کے مالک بنادیے گئے۔ لیکن اس کے معنی کو تسلیم کرنے کے لیے نہ تو قرآنِ کریم کے اشارات کافی واضح ہیں اور نہ تاریخ و آثارہی سے اس کی کوئی قوی شہادت ملتی ہے، اس لیے اس معنی کو تسلیم کرنے میں ہمیں تامل ہے۔(ملاحظہ ہو الکہف حاشیہ 57 ۔ الشعراء حاشیہ 45)۔

Al-A'raf 7:137 — Translation & Tafsir | Read Maududi