Welcome to

Read Maududi

Log In

Don't have an account? Sign Up

Al-A'raf 7:127

Verse 127 of 206

وَقَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰی وَقَوْمَهٗ لِیُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَیَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ ؕ قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَآءَهُمْ وَنَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ ۚ وَاِنَّا فَوْقَهُمْ قٰهِرُوْنَ ۟

ترجمہ

فرعون سے اُس کی قوم کے سرداروں نے کہا”کیا تُو موسیٰ اور اس کی قوم کو یونہی چھوڑ دے گا کہ ملک میں فساد پھیلائیں اور وہ تیری اور تیرے معبُودوں کی بندگی چھوڑ بیٹھے؟“ فرعون نے جواب دیا”میں اُن کے بیٹوں کو قتل کراوٴ ں گا اور اُن کی عورتوں کو جیتا رہنے دوںگا۔ ہمارے اقتدار کی گرفت ان پر مضبوط ہے

English translation

The elders of Pharaoh's people said: 'Will you leave alone Moses and his people to spread mischief in the land, and forsake you and your gods?' Pharaoh replied: 'We will kill their male children and spare their female ones. For indeed we hold irresistible sway over them.'

تفہیم القرآن — حواشی

  1. 93

    واضح رہے کہ  ایک دورِ ستم  وہ تھا جو حضرت موسیٰ ؑ کی پیدائش سے پہلے رعمسیس ثانی کے زمانہ میں جاری ہوا تھا، اور دوسرا دورِ ستم یہ ہے جو حضرت موسیٰ ؑ  کی بعثت کے بعد شروع ہوا۔ دونوں میں یہ بات مشترک ہے کہ بنی اسرائیل کے بیٹوں کو قتل کرایا گیا  اور ان  کی بیٹیوں کو جیتا چھوڑ دیا گیا  تا کہ بتدریج ان کی نسل کا خاتمہ ہو جائے اور یہ  قوم دوسری قوموں میں گم ہو کر رہ جائے۔ غالباً اسی دور کا ہے وہ کتبہ جو سن 189۶ء میں قدیم مصری آثار کی کھدائی کے دوران میں ملا تھا اور جس میں یہی فرعون منفتاح اپنے کارناموں اور فتوحات کا ذکر کرنے کے بعد لکھتا ہے کہ ”اور اسرائیل کو مٹا دیا گا ، اس کا بیج تک باقی نہیں۔“(مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو المومن، آیت 25)

Al-A'raf 7:127 — Translation & Tafsir | Read Maududi